اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۟ۙاِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍۙ
ایک وقت معین تک
— Fateh Muhammad Jalandhari
For a known extent.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۟ۙاِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍۙ
ایک وقت معین تک
— Fateh Muhammad Jalandhari
For a known extent.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟
ایک وقت معین تک
ایک مقرره وقت تک
مقررہ وقت تک
ایک معلوم اندازہ تک
(وقت کے) ایک معیّن اندازے تک،
ایک معلوم اندازے تک۔
ایک معین وقت تک
ایک معین مدت تک۔
ایک مقررہ مدت تک
غرض ہم نے ایک اندازہ ٹھہرایا
ایک طے شدہ مدت تک۔
ایک معین وقت تک
until an appointed time?
for a known period.
for a known period.
For a known period
For a known term?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
For a known extent.
for an appointed time?
Till an appointed term,
Till a limit known?
For a period (of gestation), determined (according to need)?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 16–28
حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کردیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کردیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہوگی، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورة یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کرسکے گا میں نے تو تجھے اسی…
Read the full tafseer →سورة الْمُرْسَلٰت 12 یعنی رحم مادر، جس میں استقرار حمل ہوتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی کے ساتھ جمایا جاتا ہے اور اتنے انتظامات اس کی حفاظت اور پرورش کے کیے جاتے ہیں کہ کسی شدید حادثے کے بغیر اس کا اسقاط نہیں ہو سکتا، اور مصنوعی اسقاط کے لیے بھی غیر معمولی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں جو فن طب کی جدید ترقیات کے باوجود خطرے اور نقصان سے خالی نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →’اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوۡمٍ‘۔ یعنی ایک معین وقت تک ہم اس کو ایک محفوظ گوشہ میں رکھواتے ہیں تاکہ جو صلاحیتیں اس کے اندر پیدا کرنی مقصود ہیں وہ اپنے لیے جگہ بنا لیں۔ پھر یہ ہماری ہی قدرت و حکمت ہے کہ اس مدت معین کے بعد اس کو اس گوشۂ مامون سے باہر لاتے ہیں۔
Read the full tafseer →یعنی مدت حمل تک نو یا چھ مہینے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
7: اس سے مراد ماں کا پیٹ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
الم نخلقکم ............................ للمکذبین اس سے مراد جنین کا طویل اور عجیب سفر ہے۔ اس طویل نامیاتی سفر کو قرآن کریم چند جھلکیوں کے اندر بیان کردیتا ہے۔ ایک حقیر پانی کی بوند ، پھر قرار مکین اور محفوظ جگہ میں رکھنا ، ایک متعین وقت تک ایک واضح نظام اور اندازے کے مطابق ، اور اس نظام اور اندازے کے بارے میں یہ تبصرہ۔
Read the full tafseer →13 اکثر وہاں ٹھہرنے کی مدت نو مہینے ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت 21{ فَجَعَلْنٰــہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ۔ } ”پھر ہم نے اس نطفے کو رکھ دیا ایک محفوظ مقام میں۔“ یعنی اس حقیر پانی کی بوند کو مختلف مراحل سے گزارنے کے لیے ہم نے اسے ایک محفوظ مقام یعنی رحم مادر میں رکھا جو اس کے لیے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →13 یہ معین وقت اگرچہ عموماً نو ماہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں کمی و بیشی بھی ممکن ہے۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ عورت اور مرد کے نطفہ میں کس قدر قوت یا کمزوری ہے۔ یا ان دونوں میں سے کسی ایک میں ہے تو اسی نسبت سے اس مدت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بچہ کی نشوونما جب رحم مادر میں مکمل ہوجاتی ہے تو وضع حمل کا وقت آجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
7۔ (تو ممکن نہیں کہ ہمارے اندازہ میں کسی خطاوغلطی یا بھول چوک کی گنجائش ہو) (آیت) ” من مآء مھین یعنی نطفہ منی سے۔ باغی و سرکش انسان کی تحقیر تو اس بیان سے ظاہری ہی ہے۔ باقی یہ بھی مستحضر رہے کہ دنیا میں بعض مشرک قومیں نطفہ منی کے تقدس واحترام کی بھی قائل ہوئی ہیں۔ اور قرآن مجید ضمنا اس جہل کی بھی تردید کرتا جارہا ہے۔ (آیت) ” فی قرار مکین “۔ یعنی رحم مادر میں۔ (آیت) ” فقدرنا “۔ یعنی ان سارے تصرفات کا ایک اندازہ ٹھہرالیا۔ (آیت) ” الی قدر معلوم “۔ یعنی وقت کی ایک مقدار معلوم تک۔ (آیت) ” فنعم القدرون “۔ قادرون یہاں مقدرون کے معنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین، کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے کفر وعناد کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا ؟ ثم نتبعھم مشہور قرأت کی رو سے عین پر جزم کے ساتھ ہے، اور نھلک پر عطف ہے معنی یہ ہیں کہ کیا ہم نے اولین کے بعد آخرین کو ان کے پیچھے ہلاک نہیں کردیا ؟ اس لئے آخرین سے مراد بھی سابقہ امتوں ہی کے آخرین مراد ہوں گے، جن کی ہلاکت نزول قرآن سے پہلے ہوچکی ہے، دوسری ایک قرأت میں عین کے ضمہ کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق یہ جملہ اور آخرین سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے کفار ہیں، پچھلی امتوں کی ہلاکت کی خبر دینے کے بعد موجودہ کفار اہل مکہ کو آئندہ ان پر آنے والے عذاب کی خبر دینا مقصود ہے جیسا کہ غزوہ ٔ بدر…
Read the full tafseer →الی قدر معلوم . یعنی ہم نے اس کو رحم میں رکھا ‘ اتنے وقت تک جس کی مقدار عرفاً (عام لوگوں کو) معلوم ہے۔ کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ دو سال ‘ یا معلوم سے مراد ہے ‘ اللہ کو معلوم ہونا۔ یعنی اس وقت تک اسکو رحم میں رکھا جسکی مقدار اللہ کو معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(22۔ 23) غرض کہ ہم نے اس کی خلقت کا اندازہ ٹھہرایا یا یہ کہ ہم اس کے پیدا کرنے پر قادر ہیں یا یہ کہ شکم عورت میں ہم نے اس کا نقشہ بنایا تو ہم کیسے اچھے اندازہ ٹھہرانے والے اور نقشہ بنانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
(1) الم نخلقکم من مآء مھین…: اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر پانی یعنی منی کے قطرے سے پیدا فرمایا، پھر اسے ایک محفوظ ٹھکانے یعنی ماں کے رحم میں رکھا، جو تین اطراف سے ہڈیوں سے گھبرا ہوا ہے۔ حمل قرار پاتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی سے رحم میں جمایا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کا اتنا انتظام ہوتا ہے کہ شدید حادثے کے بغیر اس کا سقاط نہیں ہوسکتا۔ (2) الی قدر معلوم :“ اس اندازے تک جو معلوم ہے“ یعنی نو ماہ یا اس سے کم یا زیادہ، جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ وہ اتنے مہینوں، دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں پیدا ہوگا، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں۔ (3) فقدرنا فنعم القدرون : یعنی ہم نے ایک اسی مدت مقرر کی جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
الی قدر معلوم۔ اتنے عرصہ تک جس میں ہم اس کی تصویر بنادیں لیکن قول یہ کیا گیا ہے، ولادت کے عرصہ تک۔ فقدرنا نافع اور کسائی نے اسے فقدرنا مشدد پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے مخفف پڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ کسائی، فراء اور قتیبی نے یہی کہا ہے قتبی نے کہا، قدرنا بھی قدرناہ کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے، قدرت کذا، قدرتہ، اس معنی میں چاند کے متعلق جو نبی کریم کا ارشاد ہے، اذا غم علیکم فاقدوالہ۔ یعنی اس کی رفتار اور منازل کی اندازہ لگاؤ، محمد بن جہیم نے فراء سے روایت نقل کی ہے، فقدرنا، حضرت علی شیر خدا نے اسے مشدد اور مخفف دونوں طرح روایت کیا ہے۔ کہا، یہ بعید نہیں مشدد اور مخفف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الم نخلقکم من ماء مہین۔ کیا ہم نے تمہیں ایک ذلیل پانی سے نہیں پیدا کیا۔ یعنی ” بالمہین “ سے مراد ہے کمزور اور حقیر پانی۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من ماء مہین یعنی ایسا پانی جو ٹھہرانے کی محفوظ جگہ میں ضعیف اور کمزور ہے۔
Read the full tafseer →[اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ : ایک طے شدہ اندازے (مدت) تک ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
پہلی امتیں ہلاک ہوچکی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو، اللہ کی نعمتوں کی قدر دانی کرو، جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے جب تکذیب پر عذاب میں مبتلا کیے جانے کی وعید سنائی جاتی تھی تو مکذبین و منکرین کہتے تھے کہ یہ ایسی ہی باتیں ہیں عذاب وزاب کچھ آنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کیا دنیا میں ہم نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ اسے تو تم مانتے ہو کہ تم سے پہلی قومیں ہلاک ہوئی ہیں اور ان پر عذاب آیا ہم نے انہیں ہلاک کیا ان کے بعد والوں کو بھی ان کے ساتھ کردیں گے یعنی بعد والوں کو بھی عذاب دیں گے اور ہلاک کریں گے اور ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں یعنی کافروں کے کفر پر سزا دینا طے شدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
5:۔ ” الم نخلقکم “ یہ حشر و نشر پر عقلی دلیل ہے۔ ان سے پوچھو تو سہی کیا ہم نے ان کو ایک حقیر اور ناپاک پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ اس نطفہ کو ایک میعاد معین تک جائے قرار (رحم) میں رکھا۔ پھر اس کے بارے میں ہر چیز کا نداز مقرر کیا۔ رحم مادر میں اس کے ٹھہرنے کی مدت، اس کی عمر، اس کا عمل، اس کا رزق اور اس کی سعادت و شقاوت وغیرہ۔ ہم کیسے ہی قادر ہیں کہ کوئی چیز ہماری قدرت اور دسترس سے باہر نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم حشر و نشر پر بھی قادر ہیں تو ان لوگوں کے لیے ہے اس دن ہلاکت اور بربادی ہوگی جو حشر و نشر کا یا اس پر ہماری قدرت کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ 22 ۙ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ترکیب : الیٰ قدر الجارمتعلق یجعلنا بمعنی اثبناہ فقدرنا قرء نافع و عبداللہ بن عامر بالتشدید والباقون بالتخفیف علی الاول من التقدیر (اندازہ کردن) وعلی الثانی من القدرۃ کفاتا قیل ھو جمع کا فت کالصائم و الصیام وقیل مصدر مثل کتاب و حساب و التقدیر ذات کفت ای جمع۔ و معنی الکفت فی اللغۃ الضم والجمع یقال کفت الشیء اے ضممۃ ویقال جراب کفیت ٌ و کفت ٌ اذاکان لایضیع شیئا ممایجعل فیہ وقال صاحب الکشاف ھواسم مایکفت کقولھم الصمام والجماع لمایضم ویجمع احیائً وامواتًا منصوبات اماعلی انھما مفعول کفات ای الم نجعل الارض کفات احیائٍ و امواتٍ فاذانون نصب مابعدہ واماعلی انھما المفعول الثانی لجعلنا ای جعلنا بعض الارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّـآئٍ مَّھِیْنٍ ۔ فَجَعَلْنٰـہُ فِیْ قَرَارٍمَّکِیْنٍ ۔ اِلٰی قَدَرٍمَّعْلُوْمٍ ۔ فَقَدَرْنَا صلے ق فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 20 تا 24) (کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا۔ پھر ہم نے اس کو رکھا ایک محفوظ جگہ میں۔ ایک معین مدت تک۔ پس ہم نے اس کو ٹھہرایا، ہم کیا ہی اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) قیامت کے وقوع پر ایک انفسی دلیل گزشتہ آیت کریمہ میں قیامت کے وقوع اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر آفاقی دلیل قائم کی تھی۔ پیش نظر آیات میں انفسی دلیل سے کام لیا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت۔ سور ۃ الدّھر کی ابتدائی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ اس کا کائنات میں ذکر تک نہیں تھا۔ اب ارشاد فرمایا ہے کہ کیا لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے انہیں ایک حقیر پانی سے پیدا کیا اور اپنی قدرت سے اسے ایک محفوظ مقام پر ٹھہرایا اور ہم پوری قدرت رکھنے والے ہیں یعنی انسان کی پوری زندگی اور اسے دوبارہ زندہ کرنے پھر اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہیں۔ گویا کہ انسان اپنے رب کے سامنے بےبس ہے نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے جیتا اور مرتا ہے۔ لیکن اس…
Read the full tafseer →22 : اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (ایک وقت مقررہ تک) نحو : یہ محلاً حال ہے۔ اس کو وقت کی ایک مقدارتک مؤخر کیا۔ معلومؔ اللہ تعالیٰ کو وہ معلوم ہے اور اسی نے ہی فیصلہ فرمایا ہے۔ اور وہ نو ماہ یا اس سے اوپر یا اس سے کم۔
Read the full tafseer →21 ۔” فجعلناہ فی قرار مکین “ یعنی رحم میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
16۔ 28۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ) یعنی ایک مقررہ وقت تک۔ (فقدرنا) یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام کیا ہم نے اسے نطفے سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مرجاتے ہیں (فنعم القادرون) پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
13 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے بڑی ہی خرابی و ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہوگی اس روز جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے تاریخ اقوام او واقعات عالم کے اس دستور سے بھی کوئی سبق نہ لیا، اس سے بھی ان کی آنکھیں نہ کھل سکیں اور وہ حق اور حقیقت کو جھٹلاتے ہی گئے یہاں تک کہ فرصت حیات جو ان کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے دراصل آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کو بنانے سنوارنے ہی کے لئے دی گئی تھی، وہ تمام ہوئی اور یہ کفر و تکذیب اور انکار وعناد کی ظلمتوں ہی کے ساتھ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے اور اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں یہ اس دائمی خسران و ہلاکت سے ہمکنار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–40
ہر زمانے کا اللہ ہی بادشاہ ہے تشریح : دنیا کا نظام جس خوبصورتی اور کامل طریقے سے چل رہا ہے وہ اللہ کی حکمت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ فرد اور قومیں آتی ہیں جاتی ہیں اچھائی برائی کے بدلے عبرت کے طور پر اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جاتی ہیں اور یوں نئے آنے والوں کے لیے سچی حقیقتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ سبق سکھیں اور زندگی گزاریں۔ انسان کی پیدائش اور ہر مخلوق کی پیدائش کا طریقہ جو اللہ نے بنا رکھا ہے بےحد حیرت انگیز ہے۔ انسان کی پیدائش ایک قطرے سے ہوتی ہے جو بڑے خاص طریقہ سے عورت کے رحم کے اندر تین پردوں میں بحفاظت نشوونما پانے لگتا ہے اور مقررہ وقت پر پورا انسان بن کر باہر آجاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
ف 12 یعنی ہم نے ایک ایسی مدت مقرر کی جس میں بچہ کی ساخت مکمل ہوجاتی ہے، نہ کوئی چیز ضرورت سے زائد بنتی ہے اور نہ کوئی ضروری چیز رہ جاتی ہے۔ جب تک اس کے لئے رحم کے اندر رہنا ضروری ہوتا ہے وہ اس میں رہتا ہے اور جب باہر آنا ضروری ہوتا ہے تو وہ باہر آجاتا ہے۔ یہ مدت ہم نے مقرر کی اور ہم کتنا ٹھیک اندازہ کرنے والے ہیں۔ ” قدرنا “ کا دوسرا ترجمہ ” ہم قادر ہوئے “ بھی ہوسکتا ہے یعنی ہم نے پانی کی ایک بوند کو بتدریج ترقی دیتے دیتے کامل وعاقل انسان بنایا۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہم کیا خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →(77:22) الی قدر معلوم ایک معینہ مدت تک۔ یعنی ایک اتنے وقت تک جس کی مقدار عرفا (عام لوگوں کو) معلوم ہے۔ یا ایک ایسی مدت تک جو اللہ کو معلوم ہے۔ قدر معلوم موصوف و صفت۔ ایک معلوم مقدار۔ ایک معلوم مدت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
انسان کی پیدائش اور نیک وبد کا ہونا۔ (ف 1) قوم نوح سے لے کر فرعون تک ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اسی واسطے فرمایا ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کفار مکہ نبی ﷺ کے زمانہ کے منکر لوگوں کو آخرین فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخرزمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
[8] یعنی رحم مادر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ف 2: اس قانون مکافات کا ذکر ہے ۔ جو اس دنیا میں جاری وساری ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ گو افراد کو تو برے اور اچھے عمل کی آزادی حاصل ہے ۔ مگر جب پوری قوم بدکار ہوجائے ۔ اس وقت ان کو گوارا نہیں کیا جاتا ۔ اس وقت اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے ۔ اور زندگی کے حق سے ان کو محروم کردیتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا ۔ کہ پہلوں کو دیکھو ۔ کہ ان کو ان کے اعمال کی کیا سزا ملی ۔ پھر پچھلے کیوں ۔ اپنی سرکشی اور بداعمال پر نازاں ہیں ؟ ۔ باقی صفحہ حل لغات :۔ ریل ۔ اظہار تاسف کے لئے ہے ۔ فی پر مکین ۔ یعنی عورت کا رحم ۔ یہ قرآن کی لطافت بیان ہے ۔ کہ وہ نازک سے نازک مسائل کی تشیرح میں بھی انچیزوں کا اس طرح سے نام نہیں لیتا ۔…
Read the full tafseer →(22) ایک مقررہ انداز سے تک رکھا۔ مضبوط اور جما ہوا ٹھکانا فرمایا ماں کے رحم کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–30
ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
(کیا نہیں پیدا فرمایا ہم نے تمہیں ایک بےقدر قطرہ سے) ؟ یعنی ذلیل و خوار بےمقدار منی سے ۔ (پھر کردیا ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ میں) یعنی مضبوط قرار گاہ میں اور وہ رحم ہے (وقت معلوم تک) کے لیے ، اور وہ پیدا ہونے کا زمانہ ہے۔ (تو اندازہ مقرر کیا ہم نے۔ تو کتنے اچھے ہم قادر ہیں) کہ کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بچہ کی پیدائش کے لیے جس مدت کا اندازہ فرماتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے۔ عام طور پر حمل کی مدت نو ماہ ہوتی ہے ۔ اس مدت میں پیٹ میں بچہ بتدریج نشو ونما کے مراحل طے کرتا ہے ، اور اس کی ماں بتدریج اس کا بوجھ اٹھانے کی عادی ہوجاتی ہے۔ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ (Then We will cause the later ones to follow them....77:17) According to popular reading, Verse 17 purports to say that the present-day infidels, the people of Makkah, will receive punishment soon. They were punished and destroyed by Muslims in the Battle of Badr and so on. The difference between the punishment of former nations and the community of the Holy Prophet ﷺ is as follows: The former nations used to be destroyed by celestial punishment with all their habitations. The infidels in the community of the Holy Prophet ﷺ do not receive celestial punishment,…
Read the full tafseer →12 The words qadar im-malum do not only mean that the term is appointed and fixed but they also contain the sense that it is known to Allah alone. About no child can man know by any means how many months, days, hours, minutes and seconds it will remain in the mothers womb and what will be its exact and precise time of birth. AIlah alone has fixed a specific term for every child and He alone knows it.
Read the full tafseer →