Al-Mursalaat 77:14

Al-Mursalaat · from ayah 14

77:14

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِؕ

اور تمہیں کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what can make you know what is the Day of Judgement?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:14

اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہیں کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا چیز ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تو کیا جانے وہ روز فیصلہ کیا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کو کس نے بتایا کہ فیصلہ کا دن کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کیا جانیں کہ فیصلہ کا دن کیا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم کیا سمجھے کیا ہے فیصلہ کا دن !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے فیصلے کا وہ دن ؟

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کو معلوم ہے کہ فیصلہ کا دن کیسا کچھ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم لوگ کیا سمجھتے ہو کہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہیں کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

What do you know what the Day of Judgement is?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And what may let you know what the Day of Decision is?

— Muhammad Taqi Usmani

And what may let you know what the Day of Decision is?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what will explain to you what is the Day of Sorting Out

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And what will convey unto thee what the Day of Decision is! -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what can make you know what is the Day of Judgement?

— Saheeh International

Would that you knew about the Day of Judgment!

— Muhammad Sarwar

And what will make you comprehend what the day of decision is?

— Muhammad Habib Shakir

And what knowest thou what the Day of Decision is?

— Abdul Majid Daryabadi

And what will explain to thee what is the Day of Sorting out?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–15

سورة الْمُرْسَلٰت 7 یعنی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دن کے آنے کی خبر کو جھوٹ سمجھا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–24

عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اسلوب کلام، جگہ جگہ ہم وضاحت کر چکے ہیں کہ کسی چیز کی عظمت و ہیبت کے اظہار کے لیے آتا ہے۔ جس طرح ’لِأَیِّ یَوْمٍ أُجِّلَتْ‘ کے سوال سے اس کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح اس سوال سے اس دن کے فیصلہ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا اس کی عظمت دو بار یاد دلا دی گئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–14

13۔ 1 یعنی جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا کوئی جنت میں اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

5: یہ کافروں کا وہی سوال ہے جو وہ اکثر کیا کرتے تھے کہ اگر عذاب وثواب ہونا ہے تو ابھی کیوں نہیں ہوجاتا، دیر کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–14

واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 14–15

9 یعنی کچھ مت پوچھو، فیصلہ کا دن کیا چیز ہے۔ بس یہ سمجھ لو کہ جھٹلانے والوں کو اس روز سخت تباہی اور مصیبت کا سامنا ہوگا۔ کیونکہ جس چیز کی انہیں امید نہ تھی جب وہ یکایک اپنی ہولناک صورت میں آن پہنچے گی تو ہوش پر اں ہوجائیں گے، اور حیرت و ندامت سے حواس باختہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–14

آیت 13{ لِیَوْمِ الْفَصْلِ۔ } ”فیصلے کے دن کے لیے۔“ یعنی انبیاء و رسل - کی اپنی اپنی قوموں کے خلاف گواہی کہ اے اللہ ! ہم نے تیرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ لوگ خود جوابدہ ہیں اور خود متعلقہ اقوام کے افراد سے پوچھ گچھ جیسے معاملات اسی فیصلے کے دن کے لیے موخر کیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

9 تباہی اس لیے کہ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے لیے یہ ایک ناگہانی آفت ہوگی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ قیامت فی الواقع آجائے گی اور جب آجائے گی تو انہیں اپنی ہلاکت کے سوا کوئی راہ دکھائی نہ دے گی۔ واضح رہے کہ اس سورت میں یہ آیت متعدد بار ذکر کی گئی ہے اور ہر مقام پر اس کی مناسبت کی وجہ الگ الگ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

4۔ سوال مزید تہویل و تخویف کے لئے ہے۔ یعنی وہ دن کتنا ہولناک، کیسا ہیبت ناک ہوگا۔ جوش واثر کے موقع پر تقریر میں خطیبانہ سوالات، خطبات عرب ہی میں نہیں، یونانی، انگریزی، اردو، کہنا چاہے کہ سب ہی زبانوں میں مسلم و متعارف ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–15

انما توعدون لواقع، تمام قسموں کا مقسم ہے، کہ تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب کا وعدہ بذریعہ ٔ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا، آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے، واذا الرسل اقتت مطلب یہ کہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے لئے جو میعاد اور وقت مقرر کیا گیا تھا کہ اس وقت میں اپنی اپنی امتوں کے معاملہ میں شہادت کے لئے حاضر ہوں، وہ اس میعاد کو پہنچ گئے اور ان کی حاضری کا وقت آگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ادراک ما یوم الفصل . فعل تعجب اظہار تعجب کے لیے ہے یہ تعجب بالائے تعجب یوم الفصل کی عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یوم الفصل عظیم الشان چیز ہے تم کو اس کی حقیقت معلوم نہیں ‘ نہ اس کی مثل کوئی دن تم نے دیکھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–15

(8۔ 15) اب اللہ تعالیٰ اس کا وقت بیان فرماتے ہیں کہ جب ستارے بےنور ہوجائیں گے اور جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور جب تمام پیغمبر جمع کیے جائیں گے اور تمام وقت معینہ پر ہوں گے اور کسی دن کے لیے یہ معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے مخلوقات کے فیصلہ کے دن کے لیے اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا ہے تو اس روز یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–15

فاذا النجوم طمست…:”اقتت“ اصل میں ”وقتت“ تھا۔ ”التوقیت“ وقت مقرر کرنا۔ یہاں سے اس دن کی کچھ نشانیاں بیان فرمئایں کہ اس دن ت اورں کی روشنی جاتی رہے گی۔ (دیکھیے انشقاق : 1 انفطار : 1۔ نبا : 1819 فرقان : 25) اور پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا۔ (دیکھیے طہ : 105 واقعہ : 1 تا 6۔ حاقہ ؎ 13 تا 15۔ مزمل : 14۔ قارعہ : 5) اور وہ وقت آجائے گا جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا کہ ایک دن انہیں جمع کیا جائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کو دین حق پہنچانے کی شہادت دیں گے۔ (دیکھیے نسائ 41: مائدہ : 109) یہ سب چیزیں کس دن کے لئے موخر کی گئی ہیں ؟ فیصلے کے دن کے لئے۔ پھر اس دن کی عظمت وہیبت بیان کرنے کیلئے فرمایا :”اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وما ادراک مایوم الفصل۔ تعظیم کے بعد تعظیم کا ذکر کیا ہے یعنی آپ کو کس نے بتایا کہ یوم فصل کیا ہے ؟۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–19

22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ الرسل اقتت۔ اور جب رسول وقت معین پر جمع کیے جائیں گے۔ یعنی جب رسولوں سے وعدہ لیاجائے گا۔ 23۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے اجلت یعنی جبکہ رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ 24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے جب رسول جمع کیے جائیں گے۔ 25۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوم الفصل “ سے مراد وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان ان کے اعمال کے بدلے میں جنت یا دوزخ کی طرف فیصلہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ : اور تو کیا جانے کیا ہے فیصلہ کرنے کا دن ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

﴿لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْؕ0012﴾ (كس دن کے لیے پیغمبروں کا معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے) اس کے جواب میں فرمایا کہ ﴿لِيَوْمِ الْفَصْلِۚ0013﴾ (کہ فیصلے کے دن کے لیے معاملہ ملتوی کیا گیا ہے) یعنی دنیا میں جو کفار ایمان قبول نہیں کرتے اور خاتم النّبیین ﷺ اور ان سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ دنیا میں سزا نہیں مل رہی ہے تو ہمارا چھٹکارا ہی رہے گا ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا فیصلہ، فیصلے کے دن کے لیے موخر کیا گیا ہے اور فیصلہ کا دن کیسا ہے اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–15

3:۔ ” فاذ النجوم “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کا ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے اور یہ ” انما توعدون “ سے متعلق ہے حاصل یہ کہ جزاء اور سزا ضرور ہوگی۔ یہ معاندین اب تو نہیں مانتے لیکن جب قیامت قائم ہوگی تو ان کا کیا حال ہوگا جب تارے بےنور کردئیے جائیں گے اور آسمان ٹکڑے ٹکڑے کردئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے اور انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو میعاد مقررہ پر جمع کیا جائے گا۔ ان کو یہ میعاد کس دن کے لیے دی گئی تھی ؟ لیوم الفصل یہ ماقبل کا بیان ہے یعنی ان کو یہ میعاد مخلق کے درمیان فیصلہ کے دن کے لیے دی گئی تھی۔ یہی وہ دن ہے جس کے وہ منتظر تھے۔ ” وما ادراک ما یوم الفصل “ یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 13–14

لِيَوْمِ الْفَصْلِ۝ 13 ۚ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ۝ 14 ۭ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] (ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–19

ترکیب : فاذا ھذہ ومابعدھا کلھا شرط وجوابھا محذوف تقدیرہ بان الامراو فصل طمست یقال طمس الشیء اذادس و ذہب اثرہ نسفت یقال نسفت الشیء وانسفۃ اذا اخذتہ بسرعۃ وقیل جعلت کالحب الذی ینسف بالمنسف 1 ؎ قال المبرد نسفت قلعت من مواضعہا اقتت الھمزۃ بدل من الواوا المضمومۃ وکل واو مضمومۃ بضمۃ لازمہ یجوزا ابدالھا بالھمزۃ وقدقریٔ بالوا ولاھیّ یوم اجلت الامور اوالرسل الجملۃ استفھامیۃ والاستفھام للتعظیم والتعجب مقولۃ یقول مقدر اے یقال۔ قبل ھو جواب لاذاللمکذبین خبرہ و کر رت ھذہ الآیۃ فی ھذہ السورۃ عشر مرات علی تعداد مستحقی الویل ثم نبتعھما لجمھور علی الرفع ای ثم نحن نبتعھم ولیس بمعطوف لان العطف یوجب ان یکون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَایَوْمُ الْفَصْلِ ۔ (المرسلات : 14) (اور تم کیا جانو کہ کیا ہے فیصلے کا دن۔ ) یہ اسلوبِ کلام کسی چیز کی عظمت وہیبت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں بھی اس کی عظمت کو نمایاں کیا گیا اور پیش نظر آیت میں بھی سوال کی صورت میں اس کی عظمت کو مزید اجاگر کیا گیا تاکہ جس دل میں اپنے انجام کی کچھ بھی فکر ہے اسے گہرائی نصیب ہو۔ اور جو آج تک اس سے بےفکر رہا ہے، اسے سوچنے کا موقع ملے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–19

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔ ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فیصلے کا دن : 14 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَایَوْمُ الْفَصْلِ ( اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیا کچھ ہے) اس میں پھر تعجب کا اظہار کیا گیا اور اس کے معاملے کی بڑائی کو ظاہر کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 14–16

13 ۔ پھر بیان کرتے ہوئے فرمایا ” لیوم الفصل “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رحمن کے مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کے دن۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ ) یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا وسزا کا جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( لَوَاقِـعٌ) اس کا وقوع کسی شک وریب کے بغیر حتمی ہے۔ جب قیامت کا دن واقع ہوگا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہوگا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہوجائے ستارے بےنور ہوجائیں گے یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گا جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس دن مقرر وقت رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس لیے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 ۔ استفہام برائے تعظیم و تہویل : سو جب بات اس یوم عظیم کے ذکر تک جا پہنچی تو اس کی عظمت وہیبت کے اظہار وبیان کے لئے مخاطبوں کے سامنے یہ سوال رکھ دیا کہ تمہیں کچھ خبر ہے کہ کس دن کے لئے اٹھا رکھا گیا ہے ان سب امور کو۔ اسفہام خواب غفلت میں پڑے لوگوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے اور اس یوم عظیم کی ہیبت و ہولناک کو واضح اور آشکارا کرنے کے لئے ہے اور اس یوم عظیم و مہیب کی عظمت وہیبت کو مزید نکھارنے اور آشکارا کرنے کے لئے اور اس یوم الفصل (فیصلے کے دن) کے بارے میں پھر استفہام کے ذریعے جھنجھوڑا گیا ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے نیز اس سے ان منکرین و مکذبین کے انکار واستبعاد کی جڑ بھی کاٹ دی گئی ہے، جو بار بار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–40

سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:14) وما ادرک ما یوم الفصل : ما استفہامیہ ہے بمعنی کیا۔ کون، کس نے۔ ادرک : ماضی واحد مذکر۔ ادراء (افعال) مصدر بمعنی واقف کرنا۔ بتانا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اور کس چیز نے تجھے بتایا کہ یوم الفصل کیا ہے۔ مطلب یہ کہ تجھے کیا علم کہ یوم الفصل کیا ہے۔ فعل تعجب اظہار تعجب کے لئے ہے۔ تعجب بالائے تعجب یوم الفصل کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ مطلب یہ کہ یوم الفصل عظیم الشان چیز ہے تم کو اس کی حقیقت معلوم نہیں نہ اس کی مثل تم نے کوئی دن دیکھا۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–17

[4] پیغمبروں کا جمع کیا جانا ان کا اپنی اپنی امت کے متعلق بیان دینے اور ان پر شہادت پیش کرنے کے لئے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام انہوں نے لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–17

یوم الفضل 1: قیامت کو یوم الفضل کے لفظ سے تعبیر کرکے خود اس کی ضرورت اور اہمیت کو اسی طرح واضح کردیا ہے ۔ کہ شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے ۔ یعنی وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں ۔ جو اس بات کو نہیں تسلیم کرتے ۔ کہ مرنے کے بعد کسی دوسری زندگی کا آغاز ہونے والا ہے ۔ اور کوئی دن ایسا مقرر ہے ۔ جس میں مکافات عمل کے اصول کے مطابق سزا اور جزا تجویز ہونے والی ہے ۔ وہ بتائیں ۔ کہ انکی رائے اس دنیا کے نظام کے متعلق کیا ہے ۔ کیا وہ اس کو اتنا کامل سمجھتے ہیں ۔ کہ اس کے بعد کسی دنیا کو فرض کرنا غیر ضروری قرار دیتے ہیں ۔ اگر جواب اثبات میں ہے ۔ تو پھر اس کی کیا وجہ ہے ۔ کہ یہاں اکثر اور بیشتر ظالم وسفاک تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اور اے پیغمبر آپ کو کیا معلوم کہ وہ فیصلے کا دن کیسا کچھ ہے۔ یعنی اسکی ہولناکی کو نہ پوچھو اور اس دن کے خطرات کو دریافت نہ کرو اتنا سمجھ لو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–30

ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 14–19

(اور کیا اٹکل ہو تمہیں کہ کیا ہے فیصلہ کا دن) ؟ اس لیے کہ اس کی کنہ کو بذات خود کوئی نہیں جان سکتا۔ (ہلاکی ہے اس دن ) اس دن کے (جھٹلانے والوں کی) غور کرو کہ (کیا نہیں برباد کردیا ہم نے اگلوں کو) جیسے قوم نوح ، قوم ھود ، اور قوم ثمود کو۔ (پھر پیچھے لگا دیں گے ہم) ہلاکت میں (ان کے ان پچھلوں کو) یعنی کفار مکہ کو ۔ (اسی طرح کرتے ہیں ہم مجرموں کے ساتھ) جو کفر و شرک کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (ہلاکی ہے اس دن) اس وعید کے (جھٹلانے والوں کی) ہم قادر مطلق ہیں جو چاہا کیا ، جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ، اور جو چاہیں گے کریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

وَإِذَا الرُّ‌سُلُ أُقِّتَتْ (and when the messengers will be assembled at the appointed time, [ then all matters will be decided.] [ 77:11] ' The word uqqitat is derived from tauqit which primarily means 'appointment of time'. According to Zamakhshari, it signifies 'to arrive at an appointed time' [ as cited in Ruh ]. In this context, the second meaning appears to be more appropriate. The verse signifies that the appointed time for the Prophets and Messengers to assemble with their communities will arrive, so that all matters concerning them may be decided. The verses further describe the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–15

7 "Deniers of Truth": those people who took the news of the coming of Resurrection as a lie, and spent their lives in the world under the delusion that the time would never come when they would have to present themselves before their God and render an account of their deeds.

Read the full tafseer →