لِیَوْمِ الْفَصْلِ ۟ۚلِيَوۡمِ الۡفَصۡلِۚ
فیصلے کے دن کے لئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
For the Day of Judgement.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
لِیَوْمِ الْفَصْلِ ۟ۚلِيَوۡمِ الۡفَصۡلِۚ
فیصلے کے دن کے لئے
— Fateh Muhammad Jalandhari
For the Day of Judgement.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
فیصلے کے روز کے لیے
فیصلے کے دن کے لئے
فیصلے کے دن کے لیے
(تو جواب یہ ہے کہ) فیصلے کے دن کے لیے۔
روز فیصلہ کے لیے،
فیصلہ کے دن کے لئے،
فیصلے کے دن کے لیے۔
فیصلہ کے دن کے لیے
فیصلہ کے دن کے لئے !
فیصلے کے دن کے لئے
فیصلہ کے دن کے لئے
فیصلے کے دن کے لیے۔
فیصلے کے دن کے لیے
To the Day of Judgement.
For the Day of Decision!
For the Day of Decision!
For the Day of Sorting Out (the men of Paradise from the men destined for Hell).
For the Day of Decision.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
For the Day of Judgement.
one will be told,"To the Day of Distinction".
To the day of decision.
For the Day of Decision.
For the Day of Sorting out.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
سورة الْمُرْسَلٰت 7 یعنی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دن کے آنے کی خبر کو جھوٹ سمجھا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
جب اس دن کے ذکر تک بات پہنچ گئی تو اس کی عظمت و ہیبت کے بیان کے لیے یہ سوال مخاطبوں کے سامنے رکھ دیا کہ کچھ سمجھے کہ کس عظیم دن پر ہم نے ان رسولوں کی پیشی کو ٹالا ہے! اس کے بعد خود ہی جواب دیا ہے کہ نہ جانتے ہو تو کان کھول کر سن لو کہ ’لِیَوْمِ الْفَصْلِ‘ فیصلہ کے دن پر ٹالا ہے یعنی وہ دن ہماری عدالت کا دن ہو گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 1 یعنی جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا کوئی جنت میں اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
5: یہ کافروں کا وہی سوال ہے جو وہ اکثر کیا کرتے تھے کہ اگر عذاب وثواب ہونا ہے تو ابھی کیوں نہیں ہوجاتا، دیر کیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
8 یعنی جانتے ہو ؟ ان امور کو کس دن کے لیے اٹھا رکھا ہے ؟ اس دن کے لیے جس میں ہر بات کا بالکل اور دو ٹوک فیصلہ ہوگا۔ بیشک اللہ چاہتا تو ابھی ہاتھوں ہاتھ ہر چیز کا فیصلہ کردیتا۔ لیکن اس کی حکمت مقتضی نہیں ہوئی کہ ایسا کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت 13{ لِیَوْمِ الْفَصْلِ۔ } ”فیصلے کے دن کے لیے۔“ یعنی انبیاء و رسل - کی اپنی اپنی قوموں کے خلاف گواہی کہ اے اللہ ! ہم نے تیرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ لوگ خود جوابدہ ہیں اور خود متعلقہ اقوام کے افراد سے پوچھ گچھ جیسے معاملات اسی فیصلے کے دن کے لیے موخر کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →8 یہ تاخیر اس لیے کی جاتی رہی کہ جتنی مدت اللہ کے ہاں دارالامتحان کے لیے مقرر تھی وہ پوری ہوجائے۔ اور تمام لوگوں کے امتحان کا نتیجہ بولنے کا وقت آجائے۔ یوم الفصل کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمام لوگوں کو ان کے امتحان کا نتیجہ اور فیصلہ سنا دیا جائے کہ کون جنت کا مستحق قرار پاتا ہے اور کون دوزخ کا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس دن اللہ کے فرمانبرداروں اور اللہ کے نافرمانوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ کیونکہ وہ دونوں الگ الگ انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
4۔ سوال مزید تہویل و تخویف کے لئے ہے۔ یعنی وہ دن کتنا ہولناک، کیسا ہیبت ناک ہوگا۔ جوش واثر کے موقع پر تقریر میں خطیبانہ سوالات، خطبات عرب ہی میں نہیں، یونانی، انگریزی، اردو، کہنا چاہے کہ سب ہی زبانوں میں مسلم و متعارف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
انما توعدون لواقع، تمام قسموں کا مقسم ہے، کہ تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب کا وعدہ بذریعہ ٔ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا، آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے، واذا الرسل اقتت مطلب یہ کہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے لئے جو میعاد اور وقت مقرر کیا گیا تھا کہ اس وقت میں اپنی اپنی امتوں کے معاملہ میں شہادت کے لئے حاضر ہوں، وہ اس میعاد کو پہنچ گئے اور ان کی حاضری کا وقت آگیا۔
Read the full tafseer →لیوم الفصل . لِاَیِّ یُوْمٍ سے بدل ہے۔ یعنی حوادث مذکورہ کی تاخیر و تاجیل فیصلہ کے دن کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
(8۔ 15) اب اللہ تعالیٰ اس کا وقت بیان فرماتے ہیں کہ جب ستارے بےنور ہوجائیں گے اور جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور جب تمام پیغمبر جمع کیے جائیں گے اور تمام وقت معینہ پر ہوں گے اور کسی دن کے لیے یہ معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے مخلوقات کے فیصلہ کے دن کے لیے اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا ہے تو اس روز یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
فاذا النجوم طمست…:”اقتت“ اصل میں ”وقتت“ تھا۔ ”التوقیت“ وقت مقرر کرنا۔ یہاں سے اس دن کی کچھ نشانیاں بیان فرمئایں کہ اس دن ت اورں کی روشنی جاتی رہے گی۔ (دیکھیے انشقاق : 1 انفطار : 1۔ نبا : 1819 فرقان : 25) اور پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا۔ (دیکھیے طہ : 105 واقعہ : 1 تا 6۔ حاقہ ؎ 13 تا 15۔ مزمل : 14۔ قارعہ : 5) اور وہ وقت آجائے گا جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا کہ ایک دن انہیں جمع کیا جائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کو دین حق پہنچانے کی شہادت دیں گے۔ (دیکھیے نسائ 41: مائدہ : 109) یہ سب چیزیں کس دن کے لئے موخر کی گئی ہیں ؟ فیصلے کے دن کے لئے۔ پھر اس دن کی عظمت وہیبت بیان کرنے کیلئے فرمایا :”اور…
Read the full tafseer →لیوم الفصل۔ فیصلہ کے دن تک اسے موخر کردیا گیا ہے سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ اس رز لوگوں کے درمیان جنت میں بھیجنے یا جہنم میں بھیجنے کا فیصلہ فرمائے گا، حدیث طیبہ میں ہے جب قیامت کے روز لوگوں کو اٹھایاجائے گا وہ چالیس سال تک اسی طرح کھڑے رہیں گے کہ ان کے سروں پر سورج ہوگا ان کی آنکھیں آسمان کی طرف لگی ہوں گی وہ فیصلہ کے انتظار میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ الرسل اقتت۔ اور جب رسول وقت معین پر جمع کیے جائیں گے۔ یعنی جب رسولوں سے وعدہ لیاجائے گا۔ 23۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے اجلت یعنی جبکہ رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ 24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے جب رسول جمع کیے جائیں گے۔ 25۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوم الفصل “ سے مراد وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان ان کے اعمال کے بدلے میں جنت یا دوزخ کی طرف فیصلہ…
Read the full tafseer →[لِيَوْمِ الْفَصْلِ : فیصلہ کرنے کے دن کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
﴿لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْؕ0012﴾ (كس دن کے لیے پیغمبروں کا معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے) اس کے جواب میں فرمایا کہ ﴿لِيَوْمِ الْفَصْلِۚ0013﴾ (کہ فیصلے کے دن کے لیے معاملہ ملتوی کیا گیا ہے) یعنی دنیا میں جو کفار ایمان قبول نہیں کرتے اور خاتم النّبیین ﷺ اور ان سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ دنیا میں سزا نہیں مل رہی ہے تو ہمارا چھٹکارا ہی رہے گا ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا فیصلہ، فیصلے کے دن کے لیے موخر کیا گیا ہے اور فیصلہ کا دن کیسا ہے اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
3:۔ ” فاذ النجوم “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کا ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے اور یہ ” انما توعدون “ سے متعلق ہے حاصل یہ کہ جزاء اور سزا ضرور ہوگی۔ یہ معاندین اب تو نہیں مانتے لیکن جب قیامت قائم ہوگی تو ان کا کیا حال ہوگا جب تارے بےنور کردئیے جائیں گے اور آسمان ٹکڑے ٹکڑے کردئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے اور انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو میعاد مقررہ پر جمع کیا جائے گا۔ ان کو یہ میعاد کس دن کے لیے دی گئی تھی ؟ لیوم الفصل یہ ماقبل کا بیان ہے یعنی ان کو یہ میعاد مخلق کے درمیان فیصلہ کے دن کے لیے دی گئی تھی۔ یہی وہ دن ہے جس کے وہ منتظر تھے۔ ” وما ادراک ما یوم الفصل “ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
لِيَوْمِ الْفَصْلِ 13 ۚ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ 14 ۭ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] (ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ترکیب : فاذا ھذہ ومابعدھا کلھا شرط وجوابھا محذوف تقدیرہ بان الامراو فصل طمست یقال طمس الشیء اذادس و ذہب اثرہ نسفت یقال نسفت الشیء وانسفۃ اذا اخذتہ بسرعۃ وقیل جعلت کالحب الذی ینسف بالمنسف 1 ؎ قال المبرد نسفت قلعت من مواضعہا اقتت الھمزۃ بدل من الواوا المضمومۃ وکل واو مضمومۃ بضمۃ لازمہ یجوزا ابدالھا بالھمزۃ وقدقریٔ بالوا ولاھیّ یوم اجلت الامور اوالرسل الجملۃ استفھامیۃ والاستفھام للتعظیم والتعجب مقولۃ یقول مقدر اے یقال۔ قبل ھو جواب لاذاللمکذبین خبرہ و کر رت ھذہ الآیۃ فی ھذہ السورۃ عشر مرات علی تعداد مستحقی الویل ثم نبتعھما لجمھور علی الرفع ای ثم نحن نبتعھم ولیس بمعطوف لان العطف یوجب ان یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ ۔ لِیَوْمِ الْفَصْلِ ۔ (المرسلات : 12 13) (کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا۔ فیصلے کے دن کے لیے۔ ) فیصلے کے دن کی اہمیت گزشتہ آیت میں رسولانِ گرامی کی حاضری کا وقت مقرر کرنے کی جو بات کہی گئی ہے اس کا تعلق نفخہ ثانیہ کے بعد سے ہے۔ مکمل تباہی کے بعد دوسرا مرحلہ میدانِ حشر کے قائم ہونے سے تعلق رکھتا ہے جس میں تمام انسانوں کو جوابدہی کے لیے طلب کیا جائے گا اور یہ وہ مرحلہ ہوگا جو جزاء و سزا کے اعتبار سے انسانوں کے لیے سب سے مشکل ہوگا۔ اس میں افراد کا حساب بھی ہوگا اور قوموں کا بھی۔ قوموں کے انجام کا آخری فیصلہ رسولانِ گرامی کی گواہی سے وابستہ ہوگا۔ اس لیے اس واقعہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔ ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت…
Read the full tafseer →13 : لِیَوْمِ الْفَصْلِ (فیصلہ کے دن کیلئے) یہ یوم مؤجل کا بیان ہے۔ وہ دن ہے جس میں مخلوقات کا باہمی فیصلہ ہوگا۔
Read the full tafseer →12 ۔” لای یوم اجلت “ یعنی موخر کیے گئے ان کے جمع کرنے کے لئے اجل مقرر کی گئی ہے تو بندے اس دن سے تعجب میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
(اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ ) یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا وسزا کا جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( لَوَاقِـعٌ) اس کا وقوع کسی شک وریب کے بغیر حتمی ہے۔ جب قیامت کا دن واقع ہوگا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہوگا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہوجائے ستارے بےنور ہوجائیں گے یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گا جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس دن مقرر وقت رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس لیے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
8 ۔ قیام قیامت کے اصل مقصد کا ذکر وبیان : سو اس وقت کوئی اپنے زندگی بھر کے لئے کرانے کا نتیجہ و انجام خود دیکھ لیگا۔ سو یہ " اذا " کے جواب مقدر کی طرف اشارہ ہے (التحریر ولتنویر لابن عاشور) پس جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو اس وقت تم لوگ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا نتیجہ و انجام خود دیکھ لو گے اور اس سب کا تم پورا پورا صلہ و بدلہ پا سکو گے، سو اس روز وہ سب کچھ تمہارے سامنے موجود ہوگا، جو کہ آج پردہ غیب میں ہونے کے سبب تم سے مخفی ہے اور نگاہوں سے اوجھل ہونے اور دائرہ حواس و ادراک سے خارج و وراء ہونے کی وجہ سے تمہیں اس پر یقین نہیں آ رہا، وہ سب کچھ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان غیب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ف 11 یعنی انہیں سخت تباہی اور مصیبت کا سامنا ہوگا۔
Read the full tafseer →(77:13) لیوم الفصل : لای یوم سے بدل ہے یعنی حوادث مذکور کی تاخیر و تعجل فیصلہ کے دن کے لئے ہے۔ یوم الفصل مضاف مضاف الیہ۔ فیصلہ کا دن۔ جس دن تمام مقدمات و اختلافات کا فیصلہ کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
[4] پیغمبروں کا جمع کیا جانا ان کا اپنی اپنی امت کے متعلق بیان دینے اور ان پر شہادت پیش کرنے کے لئے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام انہوں نے لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
سورة المرسلات 2: اس سورة میں قیامت کے اثبات کے لئے اس انداز بیان کو اختیار کیا ہے ۔ تاکہ سننے والے اور پڑھنے والے کے دل میں غوروفکر کی استعداد پیدا ہو ۔ اور وہ جو رائے بھی قائم کرے ۔ وہ توں کر اور جانچ کر کرے ۔ دعویٰ یہ ہے ۔ کہ انما توعدون لواقع ۔ اور ثبوت میں نہیں کیا ہے ۔ ان مذکورہ بالا چیزوں کو ان کی تاویل اور ان کے ترجمے ہیں ۔ اہل علم کا اختلاف ہے ۔ بعض کی رائے میں ہوائیں ہیں ۔ اور امام رازی نے ایک احتمال یہ پیدا کیا ہے ۔ کہ اس سے قرآن کی آیتیں مراد ہیں ۔ اور واقعہ یہ ہے ۔ کہ یہ احتمال زیادہ صحیح ہے ۔ کیونکہ اس طرح دعویٰ اور دلائل میں پوری نطبیق پیدا ہوجاتی ہے ۔ ترجمہ یوں ہوگا ۔ کہ قرآن…
Read the full tafseer →(13) اس معاملے کو فیصلے کے دن کے لئے ملتوی رکھا گیا ہے - یعنی سن لو اس معاملہ کو یا ان تمام معاملات کو یوم الفصل کے لئے ملتوی کیا گیا ہے آگے اس کی تھویل اور اس کی عظمت کے لئے فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–30
ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے) یعنی یہ ستاروں کا بےنور ہونا ، آسمان کا پھٹ جانا ، اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جانا۔۔ الغرض۔۔ قیامت کے بڑے بڑے آثار کے ظہور کے لیے کون سا دن مقرر فرمایا گیا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ سب کچھ (فیصلہ کے دن کے لیے) ٹھہرائے گئے تھے۔ یعنی جدا کرنے کے دن کے واسطے کہ وہ دن آج ہے۔ مومن اور کافر مطیع اور عاصی کے درمیان جدا کرنا مکافات میں ہوگا۔ یا اس دن کے واسطے جب خلق کے درمیان حکم کرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ (and when the messengers will be assembled at the appointed time, [ then all matters will be decided.] [ 77:11] ' The word uqqitat is derived from tauqit which primarily means 'appointment of time'. According to Zamakhshari, it signifies 'to arrive at an appointed time' [ as cited in Ruh ]. In this context, the second meaning appears to be more appropriate. The verse signifies that the appointed time for the Prophets and Messengers to assemble with their communities will arrive, so that all matters concerning them may be decided. The verses further describe the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
7 "Deniers of Truth": those people who took the news of the coming of Resurrection as a lie, and spent their lives in the world under the delusion that the time would never come when they would have to present themselves before their God and render an account of their deeds.
Read the full tafseer →