Al-Mursalaat 77:12

Al-Mursalaat · from ayah 12

77:12

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ ۟ؕلِاَىِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡؕ

بھلا (ان امور میں) تاخیر کس دن کے لئے کی گئی؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

For what Day was it postponed?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat

All translations of 77:12

کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا (ان امور میں) تاخیر کس دن کے لئے کی گئی؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

(کوئی پوچھے کہ) اس معاملے کو کس دن کے لیے ملتوی کیا گیا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا کس دن کے لئے (ان سب اُمور کی) مدت مقرر کی گئی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

(یہ سب چیزیں) کس دن کے لیے مؤخر کی گئی ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا کس دن کے لیے (ان امور میں) تاخیر کی گئی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کس دن کے لئے وہ ٹالے گئے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کس دن کے لئے اٹھا رکھا گیا ہے ان سب امور (و احوال) کو

— مولانا اسحاق مدنی

کس دن کے لئے یہ ملتوی رکھا گیا ہے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(یہ معاملہ) کس دن کے لیے موخر کیا گیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا ان کاموں میں تاخیر کس لیے کی گئی ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

To which Day has this task been deferred?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Do you know) for which day has all this been delayed?

— Muhammad Taqi Usmani

(Do you know) for which day has all this been delayed?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For what Day are these signs postponed

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For what Day was it postponed?

— Saheeh International

If one asks, "To which day have such calamitous events been postponed?"

— Muhammad Sarwar

To what day is the doom fixed?

— Muhammad Habib Shakir

For what day is it timed?

— Abdul Majid Daryabadi

For what Day are these (portents) deferred?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 77:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–15

سورة الْمُرْسَلٰت 7 یعنی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دن کے آنے کی خبر کو جھوٹ سمجھا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–24

عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–13

جب اس دن کے ذکر تک بات پہنچ گئی تو اس کی عظمت و ہیبت کے بیان کے لیے یہ سوال مخاطبوں کے سامنے رکھ دیا کہ کچھ سمجھے کہ کس عظیم دن پر ہم نے ان رسولوں کی پیشی کو ٹالا ہے! اس کے بعد خود ہی جواب دیا ہے کہ نہ جانتے ہو تو کان کھول کر سن لو کہ ’لِیَوْمِ الْفَصْلِ‘ فیصلہ کے دن پر ٹالا ہے یعنی وہ دن ہماری عدالت کا دن ہو گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یعنی کیسے عظیم دن کے لئے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لئے سخت تعجب انگیز ہوگی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

5: یہ کافروں کا وہی سوال ہے جو وہ اکثر کیا کرتے تھے کہ اگر عذاب وثواب ہونا ہے تو ابھی کیوں نہیں ہوجاتا، دیر کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–14

واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–13

8 یعنی جانتے ہو ؟ ان امور کو کس دن کے لیے اٹھا رکھا ہے ؟ اس دن کے لیے جس میں ہر بات کا بالکل اور دو ٹوک فیصلہ ہوگا۔ بیشک اللہ چاہتا تو ابھی ہاتھوں ہاتھ ہر چیز کا فیصلہ کردیتا۔ لیکن اس کی حکمت مقتضی نہیں ہوئی کہ ایسا کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 11–12

آیت 1 1{ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ۔ } ”اور جب رسولوں علیہ السلام کے کھڑے ہونے کا وقت آپہنچے گا۔“ جب انبیاء ورسل - اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 کافر لوگ عذاب کے لیے اور قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہی رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبہ کی کچھ پروا نہ کرتے ہوئے اس دن کے وقوع میں اتنی تاخیر کردی جتنی اس کے اپنے اندازے کے مطابق پہلے سے طے شدہ تھی۔ اور جب وہ طے شدہ وقت یا دن آپہنچا تو پھر اس میں مزید تاخیر ناممکن تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

4۔ سوال مزید تہویل و تخویف کے لئے ہے۔ یعنی وہ دن کتنا ہولناک، کیسا ہیبت ناک ہوگا۔ جوش واثر کے موقع پر تقریر میں خطیبانہ سوالات، خطبات عرب ہی میں نہیں، یونانی، انگریزی، اردو، کہنا چاہے کہ سب ہی زبانوں میں مسلم و متعارف ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–15

انما توعدون لواقع، تمام قسموں کا مقسم ہے، کہ تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب کا وعدہ بذریعہ ٔ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا، آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے، واذا الرسل اقتت مطلب یہ کہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے لئے جو میعاد اور وقت مقرر کیا گیا تھا کہ اس وقت میں اپنی اپنی امتوں کے معاملہ میں شہادت کے لئے حاضر ہوں، وہ اس میعاد کو پہنچ گئے اور ان کی حاضری کا وقت آگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لای یوم اجلت . لِاَیِّ یَوْمٍ کا تعلق اُجِّلَتْ سے ہے۔ یہ استفہام (نامعلوم چیز کو معلوم کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ) مجازاً تعجب اور روز قیامت کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ یعنی مذکورہ حوادث میں تاخیر کیوں ہے اور ان کے واقع ہونے کا کونسا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–15

(8۔ 15) اب اللہ تعالیٰ اس کا وقت بیان فرماتے ہیں کہ جب ستارے بےنور ہوجائیں گے اور جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور جب تمام پیغمبر جمع کیے جائیں گے اور تمام وقت معینہ پر ہوں گے اور کسی دن کے لیے یہ معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے مخلوقات کے فیصلہ کے دن کے لیے اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا ہے تو اس روز یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–15

فاذا النجوم طمست…:”اقتت“ اصل میں ”وقتت“ تھا۔ ”التوقیت“ وقت مقرر کرنا۔ یہاں سے اس دن کی کچھ نشانیاں بیان فرمئایں کہ اس دن ت اورں کی روشنی جاتی رہے گی۔ (دیکھیے انشقاق : 1 انفطار : 1۔ نبا : 1819 فرقان : 25) اور پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا۔ (دیکھیے طہ : 105 واقعہ : 1 تا 6۔ حاقہ ؎ 13 تا 15۔ مزمل : 14۔ قارعہ : 5) اور وہ وقت آجائے گا جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا کہ ایک دن انہیں جمع کیا جائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کو دین حق پہنچانے کی شہادت دیں گے۔ (دیکھیے نسائ 41: مائدہ : 109) یہ سب چیزیں کس دن کے لئے موخر کی گئی ہیں ؟ فیصلے کے دن کے لئے۔ پھر اس دن کی عظمت وہیبت بیان کرنے کیلئے فرمایا :”اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لای یوم اجلت۔ یعنی اسے موخر کیا گیا ہے یہ اس دن کی عظمت شان کو بیان کرنا یہ تعظیم بیان کرنے کے لیے استفہام کا اندازہ اپنایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–19

22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ الرسل اقتت۔ اور جب رسول وقت معین پر جمع کیے جائیں گے۔ یعنی جب رسولوں سے وعدہ لیاجائے گا۔ 23۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے اجلت یعنی جبکہ رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ 24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے جب رسول جمع کیے جائیں گے۔ 25۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوم الفصل “ سے مراد وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان ان کے اعمال کے بدلے میں جنت یا دوزخ کی طرف فیصلہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

﴿لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْؕ0012﴾ (كس دن کے لیے پیغمبروں کا معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے) اس کے جواب میں فرمایا کہ ﴿لِيَوْمِ الْفَصْلِۚ0013﴾ (کہ فیصلے کے دن کے لیے معاملہ ملتوی کیا گیا ہے) یعنی دنیا میں جو کفار ایمان قبول نہیں کرتے اور خاتم النّبیین ﷺ اور ان سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ دنیا میں سزا نہیں مل رہی ہے تو ہمارا چھٹکارا ہی رہے گا ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا فیصلہ، فیصلے کے دن کے لیے موخر کیا گیا ہے اور فیصلہ کا دن کیسا ہے اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–50

اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–15

3:۔ ” فاذ النجوم “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کا ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے اور یہ ” انما توعدون “ سے متعلق ہے حاصل یہ کہ جزاء اور سزا ضرور ہوگی۔ یہ معاندین اب تو نہیں مانتے لیکن جب قیامت قائم ہوگی تو ان کا کیا حال ہوگا جب تارے بےنور کردئیے جائیں گے اور آسمان ٹکڑے ٹکڑے کردئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے اور انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو میعاد مقررہ پر جمع کیا جائے گا۔ ان کو یہ میعاد کس دن کے لیے دی گئی تھی ؟ لیوم الفصل یہ ماقبل کا بیان ہے یعنی ان کو یہ میعاد مخلق کے درمیان فیصلہ کے دن کے لیے دی گئی تھی۔ یہی وہ دن ہے جس کے وہ منتظر تھے۔ ” وما ادراک ما یوم الفصل “ یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْ۝ 12 ۭ لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–19

ترکیب : فاذا ھذہ ومابعدھا کلھا شرط وجوابھا محذوف تقدیرہ بان الامراو فصل طمست یقال طمس الشیء اذادس و ذہب اثرہ نسفت یقال نسفت الشیء وانسفۃ اذا اخذتہ بسرعۃ وقیل جعلت کالحب الذی ینسف بالمنسف 1 ؎ قال المبرد نسفت قلعت من مواضعہا اقتت الھمزۃ بدل من الواوا المضمومۃ وکل واو مضمومۃ بضمۃ لازمہ یجوزا ابدالھا بالھمزۃ وقدقریٔ بالوا ولاھیّ یوم اجلت الامور اوالرسل الجملۃ استفھامیۃ والاستفھام للتعظیم والتعجب مقولۃ یقول مقدر اے یقال۔ قبل ھو جواب لاذاللمکذبین خبرہ و کر رت ھذہ الآیۃ فی ھذہ السورۃ عشر مرات علی تعداد مستحقی الویل ثم نبتعھما لجمھور علی الرفع ای ثم نحن نبتعھم ولیس بمعطوف لان العطف یوجب ان یکون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–13

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ ۔ لِیَوْمِ الْفَصْلِ ۔ (المرسلات : 12 13) (کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا۔ فیصلے کے دن کے لیے۔ ) فیصلے کے دن کی اہمیت گزشتہ آیت میں رسولانِ گرامی کی حاضری کا وقت مقرر کرنے کی جو بات کہی گئی ہے اس کا تعلق نفخہ ثانیہ کے بعد سے ہے۔ مکمل تباہی کے بعد دوسرا مرحلہ میدانِ حشر کے قائم ہونے سے تعلق رکھتا ہے جس میں تمام انسانوں کو جوابدہی کے لیے طلب کیا جائے گا اور یہ وہ مرحلہ ہوگا جو جزاء و سزا کے اعتبار سے انسانوں کے لیے سب سے مشکل ہوگا۔ اس میں افراد کا حساب بھی ہوگا اور قوموں کا بھی۔ قوموں کے انجام کا آخری فیصلہ رسولانِ گرامی کی گواہی سے وابستہ ہوگا۔ اس لیے اس واقعہ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–19

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔ ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12 : لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ (کس دن کیلئے پیغمبروں کا معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے) مؤخر کیا گیا اور مہلت دے دی گئی۔ اس میں اس دن کی عظمت کو بتلایا اور اس کی ہولناکی پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ جیسا کہ وقت میں کوئی وقت ٹھہرا لیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” واذا الرسل اقتت “ اہل بصرہ نے ” وقتت “ وائو کے ساتھ پڑھا ہے اور ابوجعفر نے وائو اور قاف کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے الف اور قاف کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں اور عرب وائو اور ہمزہ کو ایک دوسرے کی جگہ لاتے رہتے ہیں۔ جیسے ان کا قول ”…وکدت “ اور اکدت ورخت “ اور ارخت ہے اور ان دونوں کا معنی جمع کرنا معلوم دن کے وقت کے لئے اور وہ قیامت کا دن ہے تاکہ وہ امتوں پر گواہی دیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

(اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ ) یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا وسزا کا جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( لَوَاقِـعٌ) اس کا وقوع کسی شک وریب کے بغیر حتمی ہے۔ جب قیامت کا دن واقع ہوگا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہوگا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہوجائے ستارے بےنور ہوجائیں گے یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گا جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس دن مقرر وقت رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس لیے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

8 ۔ قیام قیامت کے اصل مقصد کا ذکر وبیان : سو اس وقت کوئی اپنے زندگی بھر کے لئے کرانے کا نتیجہ و انجام خود دیکھ لیگا۔ سو یہ " اذا " کے جواب مقدر کی طرف اشارہ ہے (التحریر ولتنویر لابن عاشور) پس جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو اس وقت تم لوگ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا نتیجہ و انجام خود دیکھ لو گے اور اس سب کا تم پورا پورا صلہ و بدلہ پا سکو گے، سو اس روز وہ سب کچھ تمہارے سامنے موجود ہوگا، جو کہ آج پردہ غیب میں ہونے کے سبب تم سے مخفی ہے اور نگاہوں سے اوجھل ہونے اور دائرہ حواس و ادراک سے خارج و وراء ہونے کی وجہ سے تمہیں اس پر یقین نہیں آ رہا، وہ سب کچھ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان غیب میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–40

سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(77:12) لای یوم اجلت۔ لام حرف جار علت کے لئے ہے ای استفہامیہ ہے۔ لای یوم۔ کس دن کے لئے۔ کون سے دن کے لئے۔ اجلت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب : تاجیل (تفعیل) مصدر ۔ دیر کی گئی ملتوی کیا گیا۔ لای یوم کا تعلق اجلت سے ہے یہ استفہام (نا معلوم چیز کو معلوم کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ) مجازا تعجب اور روز قیامت کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لئے ہے یعنی حوادث میں تاخیر کیوں ہے۔ اور ان کے واقع ہونے کا کونسا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–50

لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–17

[4] پیغمبروں کا جمع کیا جانا ان کا اپنی اپنی امت کے متعلق بیان دینے اور ان پر شہادت پیش کرنے کے لئے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام انہوں نے لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–13

سورة المرسلات 2: اس سورة میں قیامت کے اثبات کے لئے اس انداز بیان کو اختیار کیا ہے ۔ تاکہ سننے والے اور پڑھنے والے کے دل میں غوروفکر کی استعداد پیدا ہو ۔ اور وہ جو رائے بھی قائم کرے ۔ وہ توں کر اور جانچ کر کرے ۔ دعویٰ یہ ہے ۔ کہ انما توعدون لواقع ۔ اور ثبوت میں نہیں کیا ہے ۔ ان مذکورہ بالا چیزوں کو ان کی تاویل اور ان کے ترجمے ہیں ۔ اہل علم کا اختلاف ہے ۔ بعض کی رائے میں ہوائیں ہیں ۔ اور امام رازی نے ایک احتمال یہ پیدا کیا ہے ۔ کہ اس سے قرآن کی آیتیں مراد ہیں ۔ اور واقعہ یہ ہے ۔ کہ یہ احتمال زیادہ صحیح ہے ۔ کیونکہ اس طرح دعویٰ اور دلائل میں پوری نطبیق پیدا ہوجاتی ہے ۔ ترجمہ یوں ہوگا ۔ کہ قرآن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) ان چیزوں میں کس دن کے واسطے تاخیر کی گئی ہے - یعنی جانتے ہو یہ پیغمبروں کے معاملے میں یا ان سب مذکورہ چیزوں میں کس دن کے لئے تاخیر کی جارہی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–12

ف 2۔ مطلب اس سوال و جواب کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار جو رسولوں کی تکذیب کرتے آئے ہین، اور اب بھی اس امت کے کفار رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں، اور جب اس تکذیب پر عذاب آخرت سے ڈرائے جاتے ہیں تو آخرت کی بھی تکذیب کرتے ہیں اس وقت یہ تکذیب فی نفسہ مقتضی اس کو ہے کہ رسولوں کا جو قصہ کفار سے پیش آرہا ہے اس کا فیصلہ بھی ہوجاوے اور اس کی تاخیر سے کفار کو انکار استعجال اور مسلمانوں کو طبعی استعجال ہوتا ہے، اس آیت میں اس استعجال کا جواب ہے کہ حق تعالیٰ نے بعض حکمتوں سے اس کو موخر کر رکھا ہے لیکن واقع ضرور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 12–13

(کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے) یعنی یہ ستاروں کا بےنور ہونا ، آسمان کا پھٹ جانا ، اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جانا۔۔ الغرض۔۔ قیامت کے بڑے بڑے آثار کے ظہور کے لیے کون سا دن مقرر فرمایا گیا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ سب کچھ (فیصلہ کے دن کے لیے) ٹھہرائے گئے تھے۔ یعنی جدا کرنے کے دن کے واسطے کہ وہ دن آج ہے۔ مومن اور کافر مطیع اور عاصی کے درمیان جدا کرنا مکافات میں ہوگا۔ یا اس دن کے واسطے جب خلق کے درمیان حکم کرنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

وَإِذَا الرُّ‌سُلُ أُقِّتَتْ (and when the messengers will be assembled at the appointed time, [ then all matters will be decided.] [ 77:11] ' The word uqqitat is derived from tauqit which primarily means 'appointment of time'. According to Zamakhshari, it signifies 'to arrive at an appointed time' [ as cited in Ruh ]. In this context, the second meaning appears to be more appropriate. The verse signifies that the appointed time for the Prophets and Messengers to assemble with their communities will arrive, so that all matters concerning them may be decided. The verses further describe the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–15

7 "Deniers of Truth": those people who took the news of the coming of Resurrection as a lie, and spent their lives in the world under the delusion that the time would never come when they would have to present themselves before their God and render an account of their deeds.

Read the full tafseer →