وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ۟ؕوَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡؕ
اور جب پیغمبر فراہم کئے جائیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the messengers' time has come...
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ ۟ؕوَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡؕ
اور جب پیغمبر فراہم کئے جائیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the messengers' time has come...
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
اور رسولوں کی حاضری کا وقت آ پہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہو جائے گی)
اور جب پیغمبر فراہم کئے جائیں
اور جب رسولوں کو وقت مقرره پر ﻻیا جائے گا
اور جب پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت آجائے گا۔
اور جب رسولوں کا وقت آئے
اور جب پیغمبر وقتِ مقررہ پر (اپنی اپنی اُمتوں پر گواہی کے لئے) جمع کئے جائیں گے،
اور جب (وہ وقت آجائے گا) جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا۔
اور رسولوں (کی حاضری) کا وقت آپہنچے گا
اور رسولوں کے لئے وقت مقرر ہوگا…
اور جب آپہنچے گا رسولوں کی حاضری کا وقت (تو اس وقت تم خود دیکھ لو گے زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا انجام)
اور جب (سب) پیغمبر وقت (معین) پر جمع کئے جائیں گے (وہ وقت فیصلہ کا ہوگا)۔
اور جب رسولوں ؑ (کے کھڑے ہونے) کا وقت آپہنچے گا۔
اور جب پیغمبروں کا وقت مقرر ہوجائے
and the appointed time to bring the Messengers together arrives, (then shall the promised event come to pass).
and when the messengers will be assembled at the appointed time, (then all matters will be decided.)
and when the messengers will be assembled at the appointed time, (then all matters will be decided.)
And when the Messengers are Uqqitat.
And when the messengers are brought unto their time appointed -
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when the messengers' time has come...
The Messengers will receive their appointments.
And when the apostles are gathered at their appointed time
And when the apostles are collected at the appointed time,
And when the messengers are (all) appointed a time (to collect);-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الْمُرْسَلٰت 6 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ میدان حشر میں جب نوع انسانی کا مقدمہ پیش ہوگا تو ہر قوم کے رسول کو شہادت کے لیے پیش کیا جائے گا تاکہ وہ اس امر کی گواہی دے کہ اس نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ یہ گمراہوں اور مجرموں کے خلاف اللہ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی حجت ہوگی جس سے یہ ثابت کیا جائے گا کہ وہ اپنی غلط روش کے خود ذمہ دار ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبردار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی تھی۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، آیات 172، 173۔ حواشی 134، 135۔ جلد چہارم، الزمر، آیت 69،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →رسولوں اور ان کی قوموں کے مقدمہ کی روبکاری: یہ اس اصل ہولناکی کا بیان ہے جس کی تمہید کے طور پر اوپر کی ہولناکیاں بیان ہوئی ہیں یعنی اس دن رسولوں کے لیے وقت مقرر ہو گا۔ ان کے لیے وقت مقرر کرنے سے مقصود ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ ایک مقررہ وقت پر وہ دربار الٰہی میں حاضر ہو کر اپنی قوموں کی موجودگی میں یہ بتائیں کہ جس فریضۂ انذار پر وہ مامور کیے گئے تھے وہ انھوں نے انجام دیا یا نہیں؟ اگر انجام دیا تو قوموں نے ان کو کیا جواب دیا؟ قرآن کے دوسرے مقامات میں رسولوں کے اس مقصد کے لیے جمع اور بارگاہ الٰہی میں ان کی قوموں کے رویہ سے متعلق سوال کیے جانے اور ان کے گواہی دینے کا ذکر تفصیل سے ہوا ہے۔ سورۂ مائدہ…
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی فصل وقضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →4: اللہ تعالیٰ نے آخرت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے ہوا ہے جس میں تمام پیغمبر جمع ہو کر اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے، یہاں وہی وقت مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “ اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔
Read the full tafseer →7 تا آگے پیچھے وقت مقرر کے موافق اپنی اپنی امتوں کے ساتھ رب العزت کی سب سے بڑی پیشی میں حاضر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 1 1{ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ۔ } ”اور جب رسولوں علیہ السلام کے کھڑے ہونے کا وقت آپہنچے گا۔“ جب انبیاء ورسل - اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔
Read the full tafseer →6 اس طرح موجودہ ارضی و سماوی نظام درہم برہم ہونے کے ساتھ ہی قیامت قائم ہوجائے گی۔ تمام مرے ہوئے لوگوں کو زندہ کرکے زمین سے نکال لایا جائے گا۔ اور سب سے پہلے رسولوں سے اپنی اپنی امت کے متعلق شہادت طلب کی جائے گی کہ جب تم نے لوگوں کو میرا پیغام پہنچایا تھا تو انہوں نے کیسا ردعمل اختیار کیا تھا ؟
Read the full tafseer →3۔ پیغمبروں کا یہ جمع ہونا اپنی اپنی امت کے متعلق اظہار دینے اور ان پر شہادت پیش کرنے کے لئے ہوگا۔ وھویوم القیامۃ لیشھدوا علی الامم (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
انما توعدون لواقع، تمام قسموں کا مقسم ہے، کہ تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب کا وعدہ بذریعہ ٔ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا، آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے، واذا الرسل اقتت مطلب یہ کہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے لئے جو میعاد اور وقت مقرر کیا گیا تھا کہ اس وقت میں اپنی اپنی امتوں کے معاملہ میں شہادت کے لئے حاضر ہوں، وہ اس میعاد کو پہنچ گئے اور ان کی حاضری کا وقت آگیا۔
Read the full tafseer →واذا الرسل اقتت . ابو عمر کی روایت میں وُقِّتَتْ آیا ہے اُقِّتَتْ کی اصل بھی وُقِّتَتْ تھی۔ یعنی پیغمبروں کو اپنی اپنی امتوں پر شہادت دینے اور یکجا ہونے کے لیے ظاہر کیا جائے گا (اور قبروں سے باہر لایا جائے گا۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
(8۔ 15) اب اللہ تعالیٰ اس کا وقت بیان فرماتے ہیں کہ جب ستارے بےنور ہوجائیں گے اور جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور جب تمام پیغمبر جمع کیے جائیں گے اور تمام وقت معینہ پر ہوں گے اور کسی دن کے لیے یہ معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے مخلوقات کے فیصلہ کے دن کے لیے اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا ہے تو اس روز یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
فاذا النجوم طمست…:”اقتت“ اصل میں ”وقتت“ تھا۔ ”التوقیت“ وقت مقرر کرنا۔ یہاں سے اس دن کی کچھ نشانیاں بیان فرمئایں کہ اس دن ت اورں کی روشنی جاتی رہے گی۔ (دیکھیے انشقاق : 1 انفطار : 1۔ نبا : 1819 فرقان : 25) اور پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا۔ (دیکھیے طہ : 105 واقعہ : 1 تا 6۔ حاقہ ؎ 13 تا 15۔ مزمل : 14۔ قارعہ : 5) اور وہ وقت آجائے گا جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا کہ ایک دن انہیں جمع کیا جائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کو دین حق پہنچانے کی شہادت دیں گے۔ (دیکھیے نسائ 41: مائدہ : 109) یہ سب چیزیں کس دن کے لئے موخر کی گئی ہیں ؟ فیصلے کے دن کے لئے۔ پھر اس دن کی عظمت وہیبت بیان کرنے کیلئے فرمایا :”اور…
Read the full tafseer →واذا الرسل اقتت۔ جب رسولوں کو قت مقررہ یعنی قیامت کے دن اکٹھا کیا جائے گا وقت سے مراد وہ وقت ہے جس تک کسی کام کو موخر کیا جاتا ہے معنی یہ ہوگا رسولوں اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے وقت مقرر کردیا گیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم یجمع اللہ الرسل۔ المائدہ 109) جس روز اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دنیا میں ہوگا یعنی رسولوں کو اس مخصوص وقت میں جمع کیا جائے گا جو کفار کے عذاب کے لیے مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار کو مہلت دی گئی قیامت کے روز تمام شکوک زائل کردیے جائیں گے پہلی تعبیر سب سے اچھی ہے کیونکہ توقیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ الرسل اقتت۔ اور جب رسول وقت معین پر جمع کیے جائیں گے۔ یعنی جب رسولوں سے وعدہ لیاجائے گا۔ 23۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے اجلت یعنی جبکہ رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ 24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے جب رسول جمع کیے جائیں گے۔ 25۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوم الفصل “ سے مراد وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان ان کے اعمال کے بدلے میں جنت یا دوزخ کی طرف فیصلہ…
Read the full tafseer →[وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ : اور جب تمام رسول اکٹھا کیے جائیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
اس کے بعد قیامت کے دن کی کیفیت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا۔ پہاڑ اڑتے پھریں گے اور حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) وقت مقرر پر جمع کیے جائیں گے اس وقت فیصلہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
3:۔ ” فاذ النجوم “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کا ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے اور یہ ” انما توعدون “ سے متعلق ہے حاصل یہ کہ جزاء اور سزا ضرور ہوگی۔ یہ معاندین اب تو نہیں مانتے لیکن جب قیامت قائم ہوگی تو ان کا کیا حال ہوگا جب تارے بےنور کردئیے جائیں گے اور آسمان ٹکڑے ٹکڑے کردئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے اور انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو میعاد مقررہ پر جمع کیا جائے گا۔ ان کو یہ میعاد کس دن کے لیے دی گئی تھی ؟ لیوم الفصل یہ ماقبل کا بیان ہے یعنی ان کو یہ میعاد مخلق کے درمیان فیصلہ کے دن کے لیے دی گئی تھی۔ یہی وہ دن ہے جس کے وہ منتظر تھے۔ ” وما ادراک ما یوم الفصل “ یہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ 11 ۭ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] وقال : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ترکیب : فاذا ھذہ ومابعدھا کلھا شرط وجوابھا محذوف تقدیرہ بان الامراو فصل طمست یقال طمس الشیء اذادس و ذہب اثرہ نسفت یقال نسفت الشیء وانسفۃ اذا اخذتہ بسرعۃ وقیل جعلت کالحب الذی ینسف بالمنسف 1 ؎ قال المبرد نسفت قلعت من مواضعہا اقتت الھمزۃ بدل من الواوا المضمومۃ وکل واو مضمومۃ بضمۃ لازمہ یجوزا ابدالھا بالھمزۃ وقدقریٔ بالوا ولاھیّ یوم اجلت الامور اوالرسل الجملۃ استفھامیۃ والاستفھام للتعظیم والتعجب مقولۃ یقول مقدر اے یقال۔ قبل ھو جواب لاذاللمکذبین خبرہ و کر رت ھذہ الآیۃ فی ھذہ السورۃ عشر مرات علی تعداد مستحقی الویل ثم نبتعھما لجمھور علی الرفع ای ثم نحن نبتعھم ولیس بمعطوف لان العطف یوجب ان یکون…
Read the full tafseer →وَاَذَا الرُّسُلُ اُقِّـتَتْ ۔ (المرسلات : 11) (اور جب رسولوں کا وقت مقرر کردیا جائے گا۔ ) نفخہ ثانیہ کے بعد کی کیفیت اُقِّـتَتْ… اصل میں وُقِّـتَتْ ہے، تعلیل کے بعد اُقِّـتَتْہوگیا۔ یہ توقیت سے مشتق ہے جس کے اصلی معنی تعیینِ وقت اور تحدیدِ وقت کے ہیں۔ اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ ” وقت مقرر کیا جائے گا “ سے کیا ہے۔ علامہ زمخشری کا خیال ہے کہ اس کے معنی ہوتے ہیں ” کسی مقررہ وقت پر پہنچ جانا۔ “ لیکن انجام کے اعتبار سے دونوں معنی میں کوئی فرق نہیں۔ رسولوں کا وقت مقرر کیا جائے گا، تو مفہوم اس کا یہ ہے کہ وہ وقت مقرر پر پہنچیں گے۔ اور اگر یہ معنی کیا جائے کہ رسول اپنے مقررہ وقت پر پہنچ گئے تو مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔ ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت…
Read the full tafseer →11 : وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ (اور جب پیغمبروقت معین پر جمع کیے جائیں گے) اقتت اصل میں وقتت ہے جیسا کہ ابو عمرو کی قراءت میں ہے وائو کو ہمزہ سے بدل دیا گیا۔ توقیت رسل کا مطلب اس وقت کا واضح کردینا جس میں ان کو شہا دت کیلئے حاضر ہونا ہے تاکہ وہ اپنی امتوں کے متعلق گواہی دیں۔
Read the full tafseer →10 ۔” واذا الجبال نسفت “ اپنی جگہوں سے اکھیڑ دیئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
(اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ ) یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا وسزا کا جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( لَوَاقِـعٌ) اس کا وقوع کسی شک وریب کے بغیر حتمی ہے۔ جب قیامت کا دن واقع ہوگا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہوگا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہوجائے ستارے بےنور ہوجائیں گے یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گا جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس دن مقرر وقت رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس لیے فرمایا…
Read the full tafseer →7 ۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی روبکاری کا ذکر وبیان : سو اس یوم حساب میں رسولوں اور ان کی قوموں کی روبکاری کی ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور جب رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا۔ تاکہ ان کی گواہی سے ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم الایۃ (المائٓدۃ ۔ 9 " " اقتت " " وقت " سے ماخوذ ہے اور یہ اصل میں " وقتت " تھا۔ واؤ کو حمزہ سے بدل دیا گیا، تسہیل و تحفیف کی غرض سے، اور عربی زبان میں یہ طریقہ شائع و ذائع اور مشہور و معروف ہے، بہرکیف اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز حضرات انبیاء و رسل کرام علیھم الصلوۃ والسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ف 10 یعنی وہ فیصلہ کے لئے اپنی اپنی امتوں کو لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور باری باری حاضر ہوں۔
Read the full tafseer →(77:11) واذ الرسل اقتت (جملہ شرطیہ) اقتت ماضی (بمعنی مستقبل) مجہول واحد مؤنث غائب۔ توقیت (تفعیل) مصدر بمعنی وقت مقرر کرنا۔ اور جب پیغمبروں (کو اکٹھا کرنے) کا وقت مقرر کیا جائے گا۔ اقتت اصل میں وقتت تھا۔ واؤ مضموم کو ہمزہ سے بدل لیا کیونکہ ہر وہ واؤ جو کہ مضموم ہو اور اس کا ضمہ لازم ہو اس کو ہمزہ سے بدلنا جاء ہے۔ وقت مادہ۔ ان چاروں جملوں (آیات 8، 9، 10، 11) کا جواب شرط ” تو اس روز اہل جنت اور اہل دوزخ کو جدا جدا کردیا جائے گا “ محذوف ہے۔ (تفسیر مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
[4] پیغمبروں کا جمع کیا جانا ان کا اپنی اپنی امت کے متعلق بیان دینے اور ان پر شہادت پیش کرنے کے لئے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام انہوں نے لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
سورة المرسلات 2: اس سورة میں قیامت کے اثبات کے لئے اس انداز بیان کو اختیار کیا ہے ۔ تاکہ سننے والے اور پڑھنے والے کے دل میں غوروفکر کی استعداد پیدا ہو ۔ اور وہ جو رائے بھی قائم کرے ۔ وہ توں کر اور جانچ کر کرے ۔ دعویٰ یہ ہے ۔ کہ انما توعدون لواقع ۔ اور ثبوت میں نہیں کیا ہے ۔ ان مذکورہ بالا چیزوں کو ان کی تاویل اور ان کے ترجمے ہیں ۔ اہل علم کا اختلاف ہے ۔ بعض کی رائے میں ہوائیں ہیں ۔ اور امام رازی نے ایک احتمال یہ پیدا کیا ہے ۔ کہ اس سے قرآن کی آیتیں مراد ہیں ۔ اور واقعہ یہ ہے ۔ کہ یہ احتمال زیادہ صحیح ہے ۔ کیونکہ اس طرح دعویٰ اور دلائل میں پوری نطبیق پیدا ہوجاتی ہے ۔ ترجمہ یوں ہوگا ۔ کہ قرآن…
Read the full tafseer →(11) اور جب رسولوں کے پیش ہونے کا وقت مقرر کردیا جائے - مطلب یہ کہ ہر پیغمبر پیش ہوکر اپنی امت کا حال بیان کرے یعنی اس وقت سب کا فیصلہ ہوگا اور جو کچھ ہونا ہے وہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
ف 2۔ مطلب اس سوال و جواب کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار جو رسولوں کی تکذیب کرتے آئے ہین، اور اب بھی اس امت کے کفار رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں، اور جب اس تکذیب پر عذاب آخرت سے ڈرائے جاتے ہیں تو آخرت کی بھی تکذیب کرتے ہیں اس وقت یہ تکذیب فی نفسہ مقتضی اس کو ہے کہ رسولوں کا جو قصہ کفار سے پیش آرہا ہے اس کا فیصلہ بھی ہوجاوے اور اس کی تاخیر سے کفار کو انکار استعجال اور مسلمانوں کو طبعی استعجال ہوتا ہے، اس آیت میں اس استعجال کا جواب ہے کہ حق تعالیٰ نے بعض حکمتوں سے اس کو موخر کر رکھا ہے لیکن واقع ضرور ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(کہ جو وعدہ دیے جاتے ہو یقینا ہو کر رہنے والا ہے) یعنی قیامت اور اس کے متعلقات کا ظہور یقینی طور پر ہوگا۔ (تو جب تارے میٹ دیے گئے) یعنی ان کا نور لے لیا جائے گا۔ (اور جب آسمان میں رخنہ ڈال دیا گیا) یعنی آسمان کو پھاڑ دیا گیا۔ (اور جب پہاڑ پھونک اڑائے گئے) ۔ یعنی اپنی جگہوں سے پراگندہ کردیے گئے اور ریزہ ریزہ کرکے اڑا دیے گئے (اور جب رسولوں کا وقت آگیا) تو جمع کیے جائیں گے اس وقت اور اس جگہ پر جہاں اپنی امتوں کا ان کا گواہی دینا مقرر ہوگا۔ پھر کہیں گے کہ ۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ (and when the messengers will be assembled at the appointed time, [ then all matters will be decided.] [ 77:11] ' The word uqqitat is derived from tauqit which primarily means 'appointment of time'. According to Zamakhshari, it signifies 'to arrive at an appointed time' [ as cited in Ruh ]. In this context, the second meaning appears to be more appropriate. The verse signifies that the appointed time for the Prophets and Messengers to assemble with their communities will arrive, so that all matters concerning them may be decided. The verses further describe the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6 At several places in the Qur'an it has been stated that when the case of mankind will be presented before Allah on the Day of Resurrection, the Messenger of every nation will be called upon to testify that he had conveyed Allah's Messages intact to his people. This will be Allah's first and major argument against the culprits and the wicked people to prove that they were themselves responsible for their wrong attitude and conduct in life, for there had been no negligence on the part of Allah to show guidance and administer warnings . For instance, see AI-A`raf: 172, 173 and E.N.'s 134, 135,…
Read the full tafseer →