وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ۟ۙوَاِذَا الۡجِبَالُ نُسِفَتۡۙ
اور جب پہاڑ اُڑے اُڑے پھریں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the mountains are blown away
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ۟ۙوَاِذَا الۡجِبَالُ نُسِفَتۡۙ
اور جب پہاڑ اُڑے اُڑے پھریں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And when the mountains are blown away
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے
اور جب پہاڑ اُڑے اُڑے پھریں
اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں گے
اور جب پہاڑ ریزہ ریزہ کردئے جائیں گے۔
اور جب پہاڑ غبار کرکے اڑا دیے جا ئیں،
اور جب پہاڑ (ریزہ ریزہ کر کے) اُڑا دیے جائیں گے،
اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے۔
اور پہاڑ ریزہ ریزہ کرکے اڑا دیئے جائیں گے
پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے
اور جب دھنک ڈالا جائے گا ان (دیو ہیکل) پہاڑوں کو
اور جس وقت پہاڑ اڑتے پھریں گے۔
اور جب پہاڑ (ریت بنا کر) اُڑا دیے جائیں گے۔
اور جب پہاڑ اڑتے پھریں
and the mountains are blown away,
and when the mountains will be blown away as dust,
and when the mountains will be blown away as dust,
And when the mountains are blown away.
And when the mountains are blown away,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And when the mountains are blown away
The mountains will be blown away as dust.
And when the mountains are carried away as dust,
And when the mountains are carried away by wind.
When the mountains are scattered (to the winds) as dust;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الْمُرْسَلٰت 6 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ میدان حشر میں جب نوع انسانی کا مقدمہ پیش ہوگا تو ہر قوم کے رسول کو شہادت کے لیے پیش کیا جائے گا تاکہ وہ اس امر کی گواہی دے کہ اس نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ یہ گمراہوں اور مجرموں کے خلاف اللہ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی حجت ہوگی جس سے یہ ثابت کیا جائے گا کہ وہ اپنی غلط روش کے خود ذمہ دار ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خبردار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی تھی۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، آیات 172، 173۔ حواشی 134، 135۔ جلد چہارم، الزمر، آیت 69،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →’وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ‘۔ ’نَسْفٌ‘ کے معنی ریزہ ریزہ کر دینے، پیس دینے، پراگندہ کر دینے کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ متعدد مقامات میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ’وَانْظُرْ إِلٰٓی إِلٰہِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا لَّنُحَرِّقَنَّہُ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّہُ فِی الْیَمِّ نَسْفًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۹۷) (اور اپنے اس دیوتا کو، جس پر تو معتکف رہا ہے، دیکھ، ہم اس کو جلائیں گے پھر اس کو ریزی ریزہ کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے)۔ خود پہاڑوں سے متعلق، منکرین قیامت کے سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے: ’وَیَسْئَلُوۡنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنۡسِفُہَا رَبِّیْ نَسْفًا ۵ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفْصَفًا‘ (طٰہٰ…
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
3: اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فاذا النجوم ............................ للمکذبین جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور ان کی روشنی چلی جائے گی۔ اور جب آسمان میں دراڑیں پڑجائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑادیئے جائیں گے۔ اس قسم کے مناظر اور مشاہد کو قرآن کی مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ نظر آنے والی کائنات ایسی نہ رہے گی اور اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ یہ کر ات سماوی ریزہ ریزہ ہوں گے۔ بہت عظیم دھماکے ہوں گے ، یہ عظیم دھماکے ایسے ہی ہوں گے جس طرح کے دھماکے معمولی پیمانے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے معمولی پیمانے…
Read the full tafseer →6 یعنی روئی کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں۔
Read the full tafseer →آیت 10{ وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ۔ } ”اور جب پہاڑ ریت بنا کر اُڑا دیے جائیں گے۔“ قیامت کے زلزلے کے باعثپہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ریت کے ٹیلوں کی مانند ہوجائیں گے اور ان ٹیلوں کے ذرّات ہوا میں اڑتے پھریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
5 ان تین آیات میں قیامت کے واقع ہونے کے دن کی تین علامات بتائیں۔ ایک یہ کہ ستارے جو تمہیں آسمان پر جگ مگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا نور سلب کرلیا جائے گا۔ یہ دھندلا جائیں گے اور گدلے گدلے سے داغ نظر آئیں گے اور ایک دوسرے مقامات پر فرمایا کہ وہ جھڑ پڑیں گے ایسے جیسے کسی نے جھٹک کر پرے پھینک دیا ہو۔ دوسری علامت یہ ہے کہ یہ آسمان کی نیلگوں چھت جو تمہیں اپنے سروں پر نظر آرہی ہے۔ اور اس کی ہمواری اور یکسانی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، اس نیلی چھت میں دراڑیں اور شگاف پڑجائیں گے۔ ستاروں اور سیاروں کی باہمی کشش جس سے یہ کائناتی نظام قائم ہے ختم ہوجائے گی۔ یہ دو علامتیں تو آسمان پر ضرور ہوں گی اور تیسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
2۔ خلاصہ یہ کہ اس گھڑی یہ سارا معلوم ومعروف نظام کائنات تمامتر درہم برہم ہو کر رہے گا۔ اور اس کی ایک سے ایک بڑھ کر ثابت اور ٹھوس چیز اپنی جگہ پر نہ باقی رہنے پائے گی۔ ستارے، آسمان، پہاڑ، یہ سب عام فہم مثالیں زیادہ سے زیادہ ثابت اور ٹھوس موجودات کی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
انما توعدون لواقع، تمام قسموں کا مقسم ہے، کہ تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب کا وعدہ بذریعہ ٔ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا، آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے، واذا الرسل اقتت مطلب یہ کہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے لئے جو میعاد اور وقت مقرر کیا گیا تھا کہ اس وقت میں اپنی اپنی امتوں کے معاملہ میں شہادت کے لئے حاضر ہوں، وہ اس میعاد کو پہنچ گئے اور ان کی حاضری کا وقت آگیا۔
Read the full tafseer →واذا الجبال نسفت . اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
(8۔ 15) اب اللہ تعالیٰ اس کا وقت بیان فرماتے ہیں کہ جب ستارے بےنور ہوجائیں گے اور جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور جب تمام پیغمبر جمع کیے جائیں گے اور تمام وقت معینہ پر ہوں گے اور کسی دن کے لیے یہ معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے مخلوقات کے فیصلہ کے دن کے لیے اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا ہے تو اس روز یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
فاذا النجوم طمست…:”اقتت“ اصل میں ”وقتت“ تھا۔ ”التوقیت“ وقت مقرر کرنا۔ یہاں سے اس دن کی کچھ نشانیاں بیان فرمئایں کہ اس دن ت اورں کی روشنی جاتی رہے گی۔ (دیکھیے انشقاق : 1 انفطار : 1۔ نبا : 1819 فرقان : 25) اور پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا۔ (دیکھیے طہ : 105 واقعہ : 1 تا 6۔ حاقہ ؎ 13 تا 15۔ مزمل : 14۔ قارعہ : 5) اور وہ وقت آجائے گا جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا کہ ایک دن انہیں جمع کیا جائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کو دین حق پہنچانے کی شہادت دیں گے۔ (دیکھیے نسائ 41: مائدہ : 109) یہ سب چیزیں کس دن کے لئے موخر کی گئی ہیں ؟ فیصلے کے دن کے لئے۔ پھر اس دن کی عظمت وہیبت بیان کرنے کیلئے فرمایا :”اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فاذا النجوم طمست۔ واذالسماء فرجت، واذالجبال نسفت۔ جب ستاروں کی روشنی اور ان کا نور ختم ہوجائے گا جس طرح لکھی ہوئی چیز کو مٹا دیا جائے گا کہا جاتا ہے، طمس الشئی جب وہ اس چیز کو مٹا دے اس سے طمس آتا ہے اس سے اسم مفعول مطموس ہے۔ جب آسمانوں کو کھول دیا جائے گا اور انہیں پھاڑ دیا جائے گا اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وفتحت السماء فکانت ابوابا۔ النبائ) اور آسمانوں کو کھول دیا جائے گا اور وہ دروازے دروازے ہوجائیں گے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے انہیں لپیٹنے کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اور جب پہاڑوں کو جلدی سے لے جایاجائے گا کہا جاتا ہے، نسفت الشئی انسفتہ، جب تو نے سب کو تیزی سے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
21۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذ النجوم طمست۔ اور جب ستارے مٹادئیے جائیں گے۔ یعنی ستارے مٹ جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →[وَاِذَا الْجبالُ نُسِفَتْ : اور جب پہاڑوں کو اکھاڑ کر اڑا دیا جائے گا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
اس کے بعد قیامت کے دن کی کیفیت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا۔ پہاڑ اڑتے پھریں گے اور حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) وقت مقرر پر جمع کیے جائیں گے اس وقت فیصلہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
3:۔ ” فاذ النجوم “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کا ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے اور یہ ” انما توعدون “ سے متعلق ہے حاصل یہ کہ جزاء اور سزا ضرور ہوگی۔ یہ معاندین اب تو نہیں مانتے لیکن جب قیامت قائم ہوگی تو ان کا کیا حال ہوگا جب تارے بےنور کردئیے جائیں گے اور آسمان ٹکڑے ٹکڑے کردئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے اور انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو میعاد مقررہ پر جمع کیا جائے گا۔ ان کو یہ میعاد کس دن کے لیے دی گئی تھی ؟ لیوم الفصل یہ ماقبل کا بیان ہے یعنی ان کو یہ میعاد مخلق کے درمیان فیصلہ کے دن کے لیے دی گئی تھی۔ یہی وہ دن ہے جس کے وہ منتظر تھے۔ ” وما ادراک ما یوم الفصل “ یہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ 10 ۙ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا " ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ نسف نَسَفَتِ الرِّيحُ الشَّيْءَ : اقتلعتْه وأزالَتْهُ. يقال نَسَفْتَهُ وانْتَسَفْتَهُ. قال تعالی: يَنْسِفُها رَبِّي نَسْفاً [ طه/ 105] ونَسَفَ البعیرُ الأرضَ بمُقَدَّمِ رِجْلِهِ : إذا رَمَى بترابه . يقال : ناقة نَسُوفٌ. قال تعالی: ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهُ فِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ترکیب : فاذا ھذہ ومابعدھا کلھا شرط وجوابھا محذوف تقدیرہ بان الامراو فصل طمست یقال طمس الشیء اذادس و ذہب اثرہ نسفت یقال نسفت الشیء وانسفۃ اذا اخذتہ بسرعۃ وقیل جعلت کالحب الذی ینسف بالمنسف 1 ؎ قال المبرد نسفت قلعت من مواضعہا اقتت الھمزۃ بدل من الواوا المضمومۃ وکل واو مضمومۃ بضمۃ لازمہ یجوزا ابدالھا بالھمزۃ وقدقریٔ بالوا ولاھیّ یوم اجلت الامور اوالرسل الجملۃ استفھامیۃ والاستفھام للتعظیم والتعجب مقولۃ یقول مقدر اے یقال۔ قبل ھو جواب لاذاللمکذبین خبرہ و کر رت ھذہ الآیۃ فی ھذہ السورۃ عشر مرات علی تعداد مستحقی الویل ثم نبتعھما لجمھور علی الرفع ای ثم نحن نبتعھم ولیس بمعطوف لان العطف یوجب ان یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ ۔ وَاِذَا السَّمَـآئُ فُرِجَتْ ۔ وَاِذَالْجِبَالُ نُسِفَتْ ۔ (المرسلات : 8 تا 10) (پس جب ستارے مٹا دیئے جائیں گے۔ اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا۔ اور جب پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ ) نفخہ اولیٰ کے بعد کی ہلچل قیامت کے پہلے مرحلے میں جو نفخہ اولیٰ کے بعد وقوع پذیر ہوگا جس طرح کی ہلچل مچے گی اور جو ہمہ گیر تباہی بروئے کار آئے گی ان میں سے چند ایسے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں کائنات کی بہت عظیم اور بڑی ہی پرشوکت مخلوقات کی تباہی کا منظر پیش کیا گیا ہے جن کے بارے میں مشرکین کا عام تأثر یہ تھا کہ یہ چیزیں اپنے حجم اور اپنے استحکام میں اس قدر عظیم ہیں کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔ ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت…
Read the full tafseer →10 : وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ (اور جب پہاڑاڑتے پھریں گے) ان کو ان کے مقامات سے اکھاڑ دیا جائیگا۔
Read the full tafseer →9 ۔” واذالسماء فرجت “ پھاڑ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
(اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ ) یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا وسزا کا جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( لَوَاقِـعٌ) اس کا وقوع کسی شک وریب کے بغیر حتمی ہے۔ جب قیامت کا دن واقع ہوگا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہوگا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہوجائے ستارے بےنور ہوجائیں گے یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گا جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس دن مقرر وقت رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس لیے فرمایا…
Read the full tafseer →6 ۔ قیامت کے روز پہاڑوں کا حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز دھنک ڈالا جائے گا ان دیوہیکل پہاڑوں کو : اور یہ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے اور اس زمین کو ایک چٹیل میدان بنادیا جائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا قل ینسفھا ربی نسفا قیدرھا قاعا صفصفا الاتری فیھا عوجا ولا امتا " (طحہ 105-107) نشکف کے معنی کسی چیز کو پیس ڈالنے اور ریزہ ریزہ کردینے کے ہیں اور اس کو پراگندہ کرنے اور بکھیر دینے کے آتے ہیں، سو جب ان دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑوں کا یہ حال ہوگا جو کہ اپنی پختگی اور مضبوطی میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کو یہ لوگ بہت اٹل اور بڑا مضبوط سمجھتے ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ف 10 یعنی وہ فیصلہ کے لئے اپنی اپنی امتوں کو لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور باری باری حاضر ہوں۔
Read the full tafseer →(77:10) واذا الجبال نسفت (جملہ شرطیہ) نسفت ماضی مجہول (بمعنی مستقبل) صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ نسف (باب ضرب) مصدر۔ اور آسمان ریزہ ریزہ کرکے بکھیر دئیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →[3] یعنی روئی کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
سورة المرسلات 2: اس سورة میں قیامت کے اثبات کے لئے اس انداز بیان کو اختیار کیا ہے ۔ تاکہ سننے والے اور پڑھنے والے کے دل میں غوروفکر کی استعداد پیدا ہو ۔ اور وہ جو رائے بھی قائم کرے ۔ وہ توں کر اور جانچ کر کرے ۔ دعویٰ یہ ہے ۔ کہ انما توعدون لواقع ۔ اور ثبوت میں نہیں کیا ہے ۔ ان مذکورہ بالا چیزوں کو ان کی تاویل اور ان کے ترجمے ہیں ۔ اہل علم کا اختلاف ہے ۔ بعض کی رائے میں ہوائیں ہیں ۔ اور امام رازی نے ایک احتمال یہ پیدا کیا ہے ۔ کہ اس سے قرآن کی آیتیں مراد ہیں ۔ اور واقعہ یہ ہے ۔ کہ یہ احتمال زیادہ صحیح ہے ۔ کیونکہ اس طرح دعویٰ اور دلائل میں پوری نطبیق پیدا ہوجاتی ہے ۔ ترجمہ یوں ہوگا ۔ کہ قرآن…
Read the full tafseer →(10) اور جب پہاڑ اڑا دیئے جائیں۔ یعنی ریت بن کر اڑتے پھریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
ف 2۔ مطلب اس سوال و جواب کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار جو رسولوں کی تکذیب کرتے آئے ہین، اور اب بھی اس امت کے کفار رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں، اور جب اس تکذیب پر عذاب آخرت سے ڈرائے جاتے ہیں تو آخرت کی بھی تکذیب کرتے ہیں اس وقت یہ تکذیب فی نفسہ مقتضی اس کو ہے کہ رسولوں کا جو قصہ کفار سے پیش آرہا ہے اس کا فیصلہ بھی ہوجاوے اور اس کی تاخیر سے کفار کو انکار استعجال اور مسلمانوں کو طبعی استعجال ہوتا ہے، اس آیت میں اس استعجال کا جواب ہے کہ حق تعالیٰ نے بعض حکمتوں سے اس کو موخر کر رکھا ہے لیکن واقع ضرور ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
(کہ جو وعدہ دیے جاتے ہو یقینا ہو کر رہنے والا ہے) یعنی قیامت اور اس کے متعلقات کا ظہور یقینی طور پر ہوگا۔ (تو جب تارے میٹ دیے گئے) یعنی ان کا نور لے لیا جائے گا۔ (اور جب آسمان میں رخنہ ڈال دیا گیا) یعنی آسمان کو پھاڑ دیا گیا۔ (اور جب پہاڑ پھونک اڑائے گئے) ۔ یعنی اپنی جگہوں سے پراگندہ کردیے گئے اور ریزہ ریزہ کرکے اڑا دیے گئے (اور جب رسولوں کا وقت آگیا) تو جمع کیے جائیں گے اس وقت اور اس جگہ پر جہاں اپنی امتوں کا ان کا گواہی دینا مقرر ہوگا۔ پھر کہیں گے کہ ۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ ( …that which you are promised is sure to happen…77:7) This is the subject of these oaths. It means that the Day of Judgment, Reckoning, and Reward and Punishment that is promised by the Prophets (علیہم السلام) has certainly to be fulfilled. Allah then describes some of the events that will occur on the Day of Judgment. The stars will be extinguished, which could mean that they will be completely destroyed, or they will exist, but their lights will be lost. In this way the entire world will be plunged in absolute darkness. The second event to occur is the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6 At several places in the Qur'an it has been stated that when the case of mankind will be presented before Allah on the Day of Resurrection, the Messenger of every nation will be called upon to testify that he had conveyed Allah's Messages intact to his people. This will be Allah's first and major argument against the culprits and the wicked people to prove that they were themselves responsible for their wrong attitude and conduct in life, for there had been no negligence on the part of Allah to show guidance and administer warnings . For instance, see AI-A`raf: 172, 173 and E.N.'s 134, 135,…
Read the full tafseer →