وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ ۟وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Woe, that Day, to the deniers.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mursalaat
تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
بڑی خرابی ہوگی اس دن ایسے لوگوں کی جو حق کو جھٹلاتے ہیں۔
جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی
اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی (و تباہی) ہے،
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے
تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی !
بڑی تباہی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے
بڑی خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے
(ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے
Woe on that Day to those that give the lie to the Truth!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers!
Woe that Day to the deniers (of the Day of Resurrection)!
Woe unto the repudiators on that day!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Woe, that Day, to the deniers.
On that day, woe will be to those who have rejected God's revelations!
Woe on that day to the rejecters.
Woe on that day Unto the beliers
Ah woe, that Day, to the Rejecters of Truth!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی اقسام بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے، بعض نے توقف کیا ہے کہ والمرسلات سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں (والعاصفات) میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض عاصفات میں یہ فرماتے ہیں اور (ناشرات) میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ ناشرات سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرسلات سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری (وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
سورة الْمُرْسَلٰت 7 یعنی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دن کے آنے کی خبر کو جھوٹ سمجھا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–24
عُذْرًا اَوْ نُذْرًا یہ فالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا سے متعلق ہے کہ یہ ذکر اور وحی انبیاء (علیہم السلام) پر اس لئے نازل کی جائے گی کہ وہ اہل حق مومنین کے لئے ان کی کوتاہیوں سے معذرت کا سبب بنے اور اہل باطل کفار کے لئے نذیر اور عذاب سے ڈرانے والا ثابت ہو۔ ہواؤں یا فرشتوں یا دونوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِـع یعنی تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب اجزاء و سزا کا وعدہ بذریعہ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا۔ آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے اول یہ کہ سب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ جس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب بالکلیہ فنا ہی…
Read the full tafseer →یہ اس دن کے فیصلہ کے نتیجے کا بیان ہے کہ اس دن ان لوگوں کی تباہی ہے جو اس کے جھٹلانے والے بنے رہے! زبان کا ایک اسلوب: یہ آیت، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، اس سورہ میں بار بار آئے گی اور ہر جگہ اپنے ماسبق سے گہرے ربط کے باوصف، اس کی حیثیت بالکل مستقل ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو اس شرط کا جواب قرار دیا ہے جو اوپر مذکور ہوئی ہے لیکن یہ رائے عربیت کے خلاف ہے۔ اگر یہ جواب شرط کے محل میں ہوتی تو اس پر ’ف‘ آنی تھی (الّا آنکہ جواب جملہ فعلیہ یا ظرفیہ ہو) مثلاً فرمایا ہے: ’فَإِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ ۵ فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَوْمٌ عَسِیْرٌ‘ (المدثر ۷۴: ۸-۹) دوسرے مقام میں ہے: ’یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15۔ 1 یعنی ہلاکت ہے بعض کہتے ہیں جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہوگا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
5: یہ کافروں کا وہی سوال ہے جو وہ اکثر کیا کرتے تھے کہ اگر عذاب وثواب ہونا ہے تو ابھی کیوں نہیں ہوجاتا، دیر کیا ہے ؟
Read the full tafseer →ویل ................ للمکذبین (15:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور یہ ڈراوا اللہ عزیز اور جبار کی طرف سے ہے اور ان حالات کے بعد ہے جو اس کائنات پر طاری کردیئے گئے۔ اور رسول حاضر ہوگئے اور ان سے بھی کارکردگی کی رپورٹ طلب ہونے لگی۔ اور وہ ایک ایک کرکے حساب پیش کرنے لگے ، تو ایسے حالات میں یہ ڈراوا بہرحال بےحد موثر ہوتا ہے۔ اور واقعی ایک احساس انسا پر مارے خوف کے غشی آنے لگتی ہے۔ اب یوم الفصل اور یوم الحساب کی ان خوفناکیوں سے کھینچ کر انسان کو خود اس دنیا کی انسانی تاریخ کی طرف لایا جاتا ہے کہ اسے مبہوت انسان ذرا اپنی تاریخ پر غور کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
9 یعنی کچھ مت پوچھو، فیصلہ کا دن کیا چیز ہے۔ بس یہ سمجھ لو کہ جھٹلانے والوں کو اس روز سخت تباہی اور مصیبت کا سامنا ہوگا۔ کیونکہ جس چیز کی انہیں امید نہ تھی جب وہ یکایک اپنی ہولناک صورت میں آن پہنچے گی تو ہوش پر اں ہوجائیں گے، اور حیرت و ندامت سے حواس باختہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت 15{ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ۔ } ”ہلاکت اور بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔“ لفظ ”ویل“ کے معنی تباہی اور بربادی کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے ‘ جس کی سختیوں سے خود جہنم بھی پناہ مانگتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
9 تباہی اس لیے کہ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے لیے یہ ایک ناگہانی آفت ہوگی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ قیامت فی الواقع آجائے گی اور جب آجائے گی تو انہیں اپنی ہلاکت کے سوا کوئی راہ دکھائی نہ دے گی۔ واضح رہے کہ اس سورت میں یہ آیت متعدد بار ذکر کی گئی ہے اور ہر مقام پر اس کی مناسبت کی وجہ الگ الگ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
5۔ (ان کے عذاب میں) (آیت) ” الاولین “۔ یعنی پرانی سرکش قومیں جو عذاب سے ہلاک ہوچکی ہیں۔ قوم عاد، قوم ثمود، وقوم فرعون، وغیرہ۔ (آیت) ” الاخرین “۔ یعنی خود مشرکین قریش اور ان کے بعد کی نسلیں جو کفر تکذیب کے لحاظ سے انہیں اولین کے نقش قدم پر تھیں۔ اے ممن اشبھھم (ابن کثیر) اے سالکین سبیلھم فی الکفر والتکذیب (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
انما توعدون لواقع، تمام قسموں کا مقسم ہے، کہ تم سے جس قیامت اور حساب و کتاب کا وعدہ بذریعہ ٔ انبیاء کیا جا رہا ہے وہ ضرور پورا اور واقع ہو کر رہے گا، آگے اس کے واقع ہونے کے وقت کے چند حالات کا ذکر ہے، واذا الرسل اقتت مطلب یہ کہ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے لئے جو میعاد اور وقت مقرر کیا گیا تھا کہ اس وقت میں اپنی اپنی امتوں کے معاملہ میں شہادت کے لئے حاضر ہوں، وہ اس میعاد کو پہنچ گئے اور ان کی حاضری کا وقت آگیا۔
Read the full tafseer →ویل . ویل مصدر ہے۔ اصل میں اس کا معنی ہے تباہی اور خرابی پیدا ہوجانا۔ یہ جملہ فعلیہ تھا اور ویلاً مفعول مطلق ہونے کی بناء پر منصوب تھا اور فعل محذوف تھا ‘ مفعول کی بجائے ویل کو بصورت مبتداء مرفوع لایا گیا تاکہ تباہی اور خرابی کے دو ام پر دلالت ہوجائے۔ (کیونکہ فعل سے عدول کر کے جملہ اسمیہ کو ذکر کرنا ثبات و دوام فعل پر دلالت کرتا ہے) یہ جملہ بددعائیہ ہے۔ حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ویل جہنم میں ایک و ادی ہے ‘ کافر اس کے اندر چالیس برس تک تک تک پہنچے بغیر لڑھکتا چلا جائے گا۔ احمد ‘ ترمذی ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ حاکم ‘ بیہقی ‘ ابن ابی الدنیا ‘ ہناد ‘ حاکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
(8۔ 15) اب اللہ تعالیٰ اس کا وقت بیان فرماتے ہیں کہ جب ستارے بےنور ہوجائیں گے اور جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور جب تمام پیغمبر جمع کیے جائیں گے اور تمام وقت معینہ پر ہوں گے اور کسی دن کے لیے یہ معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے مخلوقات کے فیصلہ کے دن کے لیے اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیسا ہے تو اس روز یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
فاذا النجوم طمست…:”اقتت“ اصل میں ”وقتت“ تھا۔ ”التوقیت“ وقت مقرر کرنا۔ یہاں سے اس دن کی کچھ نشانیاں بیان فرمئایں کہ اس دن ت اورں کی روشنی جاتی رہے گی۔ (دیکھیے انشقاق : 1 انفطار : 1۔ نبا : 1819 فرقان : 25) اور پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا۔ (دیکھیے طہ : 105 واقعہ : 1 تا 6۔ حاقہ ؎ 13 تا 15۔ مزمل : 14۔ قارعہ : 5) اور وہ وقت آجائے گا جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا کہ ایک دن انہیں جمع کیا جائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کو دین حق پہنچانے کی شہادت دیں گے۔ (دیکھیے نسائ 41: مائدہ : 109) یہ سب چیزیں کس دن کے لئے موخر کی گئی ہیں ؟ فیصلے کے دن کے لئے۔ پھر اس دن کی عظمت وہیبت بیان کرنے کیلئے فرمایا :”اور…
Read the full tafseer →ویل یومئذ للمکذبین۔ جو اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں، اس کی کتابوں اور یوم قیامت کو جھٹلائے اس کے لیے عذاب ہے اور رسوائی ہے یہ وعید ہے اس سورت میں ہر آیت میں جھٹلانے والوں کا ذکر کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کے حساب سے ان کے درمیان عذاب کو تقسیم کردیا، کیونکہ ایک شی کو جھٹلانے والے کے ایک عذاب ہے جو دوسری چیز کے جھٹلانے والے کے عذاب سے مختلف ہے کیونکہ بعض چیزوں کی تکذیب جرم میں دوسری شے کی تکذیب سے بڑھ کر ہوتی ہیں کیونکہ وہ تکذیب میں بہت ہی قبیح اور اللہ تعالیٰ کا رد کرنے میں بڑھ جاتی ہیں تو ہلاکت اسی حساب سے ان پر تقسیم کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، جزاء وفاقا۔ النباء)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ الرسل اقتت۔ اور جب رسول وقت معین پر جمع کیے جائیں گے۔ یعنی جب رسولوں سے وعدہ لیاجائے گا۔ 23۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے اجلت یعنی جبکہ رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ 24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقتت سے مراد ہے جب رسول جمع کیے جائیں گے۔ 25۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” یوم الفصل “ سے مراد وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان ان کے اعمال کے بدلے میں جنت یا دوزخ کی طرف فیصلہ…
Read the full tafseer →[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے جس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
﴿لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْؕ0012﴾ (كس دن کے لیے پیغمبروں کا معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے) اس کے جواب میں فرمایا کہ ﴿لِيَوْمِ الْفَصْلِۚ0013﴾ (کہ فیصلے کے دن کے لیے معاملہ ملتوی کیا گیا ہے) یعنی دنیا میں جو کفار ایمان قبول نہیں کرتے اور خاتم النّبیین ﷺ اور ان سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ دنیا میں سزا نہیں مل رہی ہے تو ہمارا چھٹکارا ہی رہے گا ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا فیصلہ، فیصلے کے دن کے لیے موخر کیا گیا ہے اور فیصلہ کا دن کیسا ہے اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
اعلان پراگند کی نظام عالم برائے تکمیل وعدۂ قیامت و بربادی مجرمین وانعام والطاف بر مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والمرسلت عرفا ...... الی ........ فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں انسانی ہستی کا بیان تھا کہ کائنات کی تخلیق اور دنیا میں انسانوں کی آبادی اس طرح پیش آئی کہ ایک وقت تھا کہ انسان کا کوئی وجود ہی نہ تھا اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس کو عدم سے وجود بخشا اور اسی کے لئے یہ کارخانہ قائم کیا جیسے کہ فرمان ہے (آیت) ” وخلق لکم مافی الارض جمیعا “۔ اور ظاہر ہے کہ تخلیق انسان اور نظام کائنات قائم کرنے کی غرض ہے اللہ کی عبادت و بندگی ہے جس پر انسانوں کے دو گروہ بٹ گئے ایک گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
3:۔ ” فاذ النجوم “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کا ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے اور یہ ” انما توعدون “ سے متعلق ہے حاصل یہ کہ جزاء اور سزا ضرور ہوگی۔ یہ معاندین اب تو نہیں مانتے لیکن جب قیامت قائم ہوگی تو ان کا کیا حال ہوگا جب تارے بےنور کردئیے جائیں گے اور آسمان ٹکڑے ٹکڑے کردئیے جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے اور انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو میعاد مقررہ پر جمع کیا جائے گا۔ ان کو یہ میعاد کس دن کے لیے دی گئی تھی ؟ لیوم الفصل یہ ماقبل کا بیان ہے یعنی ان کو یہ میعاد مخلق کے درمیان فیصلہ کے دن کے لیے دی گئی تھی۔ یہی وہ دن ہے جس کے وہ منتظر تھے۔ ” وما ادراک ما یوم الفصل “ یہ…
Read the full tafseer →وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ 15 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–19
ترکیب : فاذا ھذہ ومابعدھا کلھا شرط وجوابھا محذوف تقدیرہ بان الامراو فصل طمست یقال طمس الشیء اذادس و ذہب اثرہ نسفت یقال نسفت الشیء وانسفۃ اذا اخذتہ بسرعۃ وقیل جعلت کالحب الذی ینسف بالمنسف 1 ؎ قال المبرد نسفت قلعت من مواضعہا اقتت الھمزۃ بدل من الواوا المضمومۃ وکل واو مضمومۃ بضمۃ لازمہ یجوزا ابدالھا بالھمزۃ وقدقریٔ بالوا ولاھیّ یوم اجلت الامور اوالرسل الجملۃ استفھامیۃ والاستفھام للتعظیم والتعجب مقولۃ یقول مقدر اے یقال۔ قبل ھو جواب لاذاللمکذبین خبرہ و کر رت ھذہ الآیۃ فی ھذہ السورۃ عشر مرات علی تعداد مستحقی الویل ثم نبتعھما لجمھور علی الرفع ای ثم نحن نبتعھم ولیس بمعطوف لان العطف یوجب ان یکون…
Read the full tafseer →وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (المرسلات : 15) (تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ ) قیامت کا نتیجہ اس آیت کریمہ میں ایک تو اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ قیامت کو جو فیصلے کا دن بنایا گیا ہے اس فیصلے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اور دوسرا اس میں قریش اور اہل مکہ کو وارننگ دی گئی ہے کہ تم اگر اس قیامت کا مذاق اڑاتے رہو گے اور اسے بعیداز عقل سمجھتے ہوئے تذبذب کا شکار رہو گے اور یا اپنے عیش و عشرت میں مست ہو کر زندگی لاپرواہی کی نذر کردو گے تو اس دن کا آنا تو اٹل ہے، اسے تو بہرحال آنا ہے، تمہیں ہم خبردار کیے دیتے ہیں کہ وہ دن جس طرح اپنے ماننے والوں کے لیے کامیابیوں، کامرانیوں اور راحتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–19
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔ ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت…
Read the full tafseer →15 : وَیْلٌ (بڑی خرابی ہے) نحو : نکرہ ہونے کے باوجود مبتدأ ہے کیونکہ اصل کے اعتبار سے مصدر منصوب ہے۔ جو اپنے فعل کے قائم مقام آگیا۔ لیکن نصب سے رفع کی طرف عدول کیا گیا۔ کیونکہ ہلاکت کے دوام و ثبات کو ظاہر کرتا ہے جس کے لئے یہ بددعا کی جائے۔ اور اس کی مثال سلامٌ علیکم ] القصص : 55[ اس کی خبر للمکذبین ہے۔ یَّوْمَپذٍ (اس دن) نحو : یہ اس کا ظرف ہے۔ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (جھٹلانے والوں کیلئے) جو اس دن کو جھٹلاتے ہیں۔ نحو : یہ ویلٌ کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
13 ۔ پھر بیان کرتے ہوئے فرمایا ” لیوم الفصل “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رحمن کے مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کے دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب…
Read the full tafseer →پھر اللہ تبارک وتعالی نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا (وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ یعنی انہیں کتنی حسرت ہوگی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا ہی برا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی، مگر انہوں نے اسے سچ نہ جانا۔ اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
Read the full tafseer →10 ۔ منکرین و مکذبین کے لئے اور اس بڑی ہی خرابی و ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی ہلاکت اور خرابی ہوگی اس دن جھٹلانے والوں کے لئے جنہوں نے عمر رواں کی اپنی انمول فرصت کو یہ سمجھتے ہوئے گنوا دیا تھا کہ آخرت وغیرہ کوئی نہیں ہوگی اور حساب کتاب کچھ نہیں ہونے کا، بلکہ یہی دنیا اور اس کی لذتیں اور منافع سب کچھ ہیں اور بس۔ پس اپنے اس جرم تکذیب کی بناء پر اب ان لوگوں کو دائمی عذاب بھگتنا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم اس آیت کریمہ کو اس سورة کریمہ میں دس مرتبہ دہرایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ تکذیب حق کا جرم بہت بڑا اور سنگین جرم ہے کہ درحقیقت یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
فرشتوں اور ہواؤں کی قسم قیامت یقینی امر ہے تشریح : یہاں بھی گزشتہ سورتوں کی طرح قیامت کے دن کا یقین دلانے کے لیے الہ العٰلمین دو انتہائی محکم اور ضروری موجودات کی قسم کھا رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے۔ ہوائیں کائنات کے عناصر میں سے ایک اہم ترین عنصر ہے یہ نظام کائنات اور ہر قسم کی مخلوقات کی زندگیوں کی بقا کے لیے انتہائی ضروری چیز ہیں۔ ان کے چلنے کا یہاں انداز یوں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کبھی تو نرم نرم انداز میں چلتی ہیں اور کبھی آندھی اور طوفان بن کر چلتی ہیں غرض اللہ کی مصلحت حکم اور قدرت کے مطابق چلتی ہیں۔ جیسے جیسے نظام کائنات میں ضرورت ہوتی ہے یہ چلتی ہیں بہرحال ہر صورت میں رحمت ہی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
سورة المرسلات۔ آیات 1 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ و ہ ہوائیں جو انسانی زندگی کی بقا کا سبب بن کر بہت بڑا نفع پہنچاتی ہیں اور پھر وہ ہوائیں جو زور زور سے چلتی ہیں وہ بھی بیشمار ذروں کو ادھر ادھر پہنچا کر زندگی کی بہار کا باعث بنتی ہیں اور وہ ہوائیں جو بارش کے بعد بادلوں کو منتشر کردیتی ہیں یعنی مادی زندگی کے اسباب وعلل کا نظام اور پھرو ہ فرشتے جو وحی لاکر حق و باطل کی تمیز کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور دلوں تک یادالٰہی کے پہنچانے کا سبب بنتے ہیں نیز مومن کے یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور اس نظام کا تقاضا ہے کہ حساب کا دن مقرر ہوتولوگو تم سے جس روز حساب کا وعدہ کیا گیا ہے قرآن جس کی خبر دے رہا ہے یقینا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ف 11 یعنی انہیں سخت تباہی اور مصیبت کا سامنا ہوگا۔
Read the full tafseer →(77:15) ویل یومئذ للمکذبین : ویل باوجودنکرہ ہونے کے مبتدا ہے اصل میں مصدر منصوب قائم مقام فعل محذوف کے تھا۔ عدول کرکے اس کو رفع دیا گیا تاکہ اس کے معنی (ہلاکت) کے ثبات اور دوام پر دلالت ہوجائے (مدارک التنزیل والکشاف) مثال اس کی سلام علیکم ہے۔ علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ ویل مصدر ہے اصل میں اس کا معنی ہے تباہی اور خرابی پیدا ہوجانا۔ یہ جملہ فعلیہ تھا۔ اور ویلا مفعول مطلق ہونے کی بنا پر منصوب تھا۔ اور فعل محذوف تھا۔ مفو ول کی بجائے ویل کو بصورت مبتداء مرفوع لایا گیا۔ تاکہ تباہی اور خرابی کے دوام پر دلالت ہوجائے (کیونکہ فعل سے عدول کرکے جملہ اسمیہ کو ذکر کرنا ثبات و دوام فعل پر دلدلت کرتا ہے) یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–50
لغات القرآن۔ المرسلات۔ چلنے والیاں۔ عرف۔ فائدہ پہنچانا۔ عصفت۔ تیز چلنے والیاں۔ نشرات۔ پھیلانے والیاں۔ فرقت۔ پھارنے والیاں۔ الملقیت۔ لانے والیاں۔ طمست۔ مٹا دی گئی۔ نسفت۔ ریزہ ریزہ کردی گئی۔ اقتت ۔ مقرر کی گئی۔ اجلت۔ ملتوی کردی گئی۔ یوم الفصل۔ فیصلے کا دن۔ ویل۔ خرابی ۔ بربادی۔ ماء مھین۔ حقیر پانی۔ کفات۔ اکٹھا کرنے والاشمخت۔ اونچے۔ فرات۔ میٹھا پانی ۔ ذی ثلث شعب۔ تین شاخوں والا ۔ ترمی۔ وہ پھینکتی ہے۔ جملت، صفر، ۔ زرد اونٹ۔ لا ینطقون۔ وہ نہ بولیں گے۔ یعتذرون۔ وہ عذر پیش کریں گے۔ ظلل۔ سائے۔ عیون (عین) ۔ چشمے۔ ای حدیث۔ کونسی بات۔ تشریح : سورة المرسلات کی ابتدائی چھ آیتوں میں ہواؤں اور ان پر متعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
[4] پیغمبروں کا جمع کیا جانا ان کا اپنی اپنی امت کے متعلق بیان دینے اور ان پر شہادت پیش کرنے کے لئے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام انہوں نے لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
یوم الفضل 1: قیامت کو یوم الفضل کے لفظ سے تعبیر کرکے خود اس کی ضرورت اور اہمیت کو اسی طرح واضح کردیا ہے ۔ کہ شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے ۔ یعنی وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں ۔ جو اس بات کو نہیں تسلیم کرتے ۔ کہ مرنے کے بعد کسی دوسری زندگی کا آغاز ہونے والا ہے ۔ اور کوئی دن ایسا مقرر ہے ۔ جس میں مکافات عمل کے اصول کے مطابق سزا اور جزا تجویز ہونے والی ہے ۔ وہ بتائیں ۔ کہ انکی رائے اس دنیا کے نظام کے متعلق کیا ہے ۔ کیا وہ اس کو اتنا کامل سمجھتے ہیں ۔ کہ اس کے بعد کسی دنیا کو فرض کرنا غیر ضروری قرار دیتے ہیں ۔ اگر جواب اثبات میں ہے ۔ تو پھر اس کی کیا وجہ ہے ۔ کہ یہاں اکثر اور بیشتر ظالم وسفاک تو…
Read the full tafseer →(15) کہ اس دن دین حق کی تکذیب کرنے والوں کو بڑی خرابی ہے۔ یعنی اور تو جو کچھ ہوگا وہ ہوگا یعنی اس دن حق کو جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی اور خرابی ہوگی آگے اس تباہی کی ایک نظیر کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–30
ف 1۔ مراد اس سائبان سے ایک دھواں ہے جو جہنم سے نکلے گا اور چونکہ کثرت سے ہوگا اس لئے بلند ہو کر پھٹ کر کئی ٹکڑے ہوجاوے گا فراغ حساب تک کفار اسی دھوئیں کے احاطہ میں رہیں گے جب مقبولین ظل عرش میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
(اور کیا اٹکل ہو تمہیں کہ کیا ہے فیصلہ کا دن) ؟ اس لیے کہ اس کی کنہ کو بذات خود کوئی نہیں جان سکتا۔ (ہلاکی ہے اس دن ) اس دن کے (جھٹلانے والوں کی) غور کرو کہ (کیا نہیں برباد کردیا ہم نے اگلوں کو) جیسے قوم نوح ، قوم ھود ، اور قوم ثمود کو۔ (پھر پیچھے لگا دیں گے ہم) ہلاکت میں (ان کے ان پچھلوں کو) یعنی کفار مکہ کو ۔ (اسی طرح کرتے ہیں ہم مجرموں کے ساتھ) جو کفر و شرک کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (ہلاکی ہے اس دن) اس وعید کے (جھٹلانے والوں کی) ہم قادر مطلق ہیں جو چاہا کیا ، جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ، اور جو چاہیں گے کریں گے۔
Read the full tafseer →وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ (Woe, that Day, to the deniers!...77:15) The word wail means 'destruction'. According to certain Hadith narratives, the word wail is a 'valley of Hell where the pus of the wounds of the inmates of Hell will be collected. This is the place where the deniers will live. After this, the present-day people are asked to learn a lesson from [ the destruction ] of the former generations, thus:
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
7 "Deniers of Truth": those people who took the news of the coming of Resurrection as a lie, and spent their lives in the world under the delusion that the time would never come when they would have to present themselves before their God and render an account of their deeds.
Read the full tafseer →