Al-Haaqqa 69:9

Al-Haaqqa · from ayah 9

69:9

وَجَآءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهٗ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِ ۟ۚوَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَنۡ قَبۡلَهٗ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ بِالۡخَـاطِئَةِ‌ۚ‏

اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there came Pharaoh and those before him and the overturned cities with sin.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:9

اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تل پٹ ہو جانے والی بستیوں نے کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی، انہوں نے بھی خطائیں کیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور (لوط ؑ کی) الٹی ہوئی بستیوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرعون اور اس سے اگلے اور الٹنے والی بستیاں خطا لائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فرعون اور جو اُس سے پہلے تھے اور (قومِ لوط کی) اُلٹی ہوئی بستیوں (کے باشندوں) نے بڑی خطائیں کی تھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے اور الٹ جانے والی بستیوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور جو الٹائی ہوئی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور فرعون اور اس سے پہلے والوں اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور ان الٹی ہوئی بستیوں (کے باشندوں) نے بھی ارتکاب کیا اسی بڑی (اور ہولناک) خطا کا

— مولانا اسحاق مدنی

اور فرعون اور اس کے قبل والوں نے اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے (بڑے بڑے) قصور کئے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اسی طرح) فرعون اور اس سے پہلے والوں نے اور الٹ دی جانے والی بستیوں (کے باسیوں) نے بھی خطاکاری کی روش اختیار کی تھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh and those before him and the people of the overturned habitations all engaged in the same great sin.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Fir'awn (Pharaoh) and those before him and the overthrown towns came up with evil,

— Muhammad Taqi Usmani

And Firawn (Pharaoh) and those before him and the overthrown towns came up with evil,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Fir`awn, and those before him, and the cities overthrown committed Al-Khati'ah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Pharaoh and those before him, and the communities that were destroyed, brought error,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there came Pharaoh and those before him and the overturned cities with sin.

— Saheeh International

The Pharaoh, those who lived before him and the people of the Subverted Cities all persisted in doing evil.

— Muhammad Sarwar

And Firon and those before him and the overthrown cities continuously committed sins.

— Muhammad Habib Shakir

And Fir'awn and those before him and the overturned cities committed sin.

— Abdul Majid Daryabadi

And Pharaoh, and those before him, and the Cities Overthrown, committed habitual Sin.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

حاقہ قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الْحَآقَّة 6 مراد ہیں قوم لوط کی بستیاں جن کے متعلق سورة ہود (آیت 82) اور سورة حجر (آیت 74) میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–12

سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ، بعض روایات میں ہے کہ بدھ کی صبح سے یہ آندھی کا عذاب شروع ہو کر دوسرے بدھ کی شام تک رہا اس طرح دن تو آٹھ ہوگئے اور راتیں سات آئیں۔ حسوماً حاسم کی جمع ہے جس کے معنی قطع کرنے اور استیصال کرنے یعنی بالکل فنا کردینے والے کے ہیں وَالْمُؤْتَفِكٰت۔ کے معنے باہم مختلط اور ملے جلے کے ہیں۔ حضرت لوط ؑ کی بستیوں کو مؤتفکات یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب آپس میں ملی ہوئی بستیاں تھیں اور یا اس لئے کہ عذاب آنے کے وقت جب ان کا تختہ الٹا گیا تو سب گڈ مڈ ہوگئیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون اور قوم لوط کا حوالہ: ’مُؤْتَفِکَۃٌ‘ کے معنی ہیں ’الٹی ہوئی‘۔ اس سے مراد یہاں قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ وہ زلزلہ سے الٹ دی گئی تھیں اور ’حاصب‘ یعنی کنکر برسانے والی ہوا نے ان کو ریت اور کنکروں سے ڈھانک دیا تھا۔ اوپر اقوام بائدہ میں سے دو قوموں کا ذکر ہوا تھا اب یہ فرعون اور قوم لوط وغیرہ کی بستیوں کی طرف اشارہ فرمایا جن کے آثار کے مشاہدہ کے مواقع قریش کو اکثر ملتے رہتے تھے۔ فرمایا کہ انھوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب عاد و ثمود نے کیا اور ان کے سامنے بھی وہی انجام آیا جو ان کے سامنے آیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–10

3: قوم عاد کا تعارف بھی سورة اعراف (7: 65) میں گزر گیا ہے، ان پر زبردست آندھی مسلط کی گئی تھی جو آٹھ دن جاری رہی۔ 4: قوم عاد کے لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اس لئے ان کی زمین پر گری ہوئی لاشوں کو کھجور کے تنوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–11

فرعون مصر میں تھا۔ یہ حضرت موسیٰ کے دور کا فرعون تھا۔ اس سے قبل اس کی تفصیلات نہیں آئیں۔ الموتفکت سے وہ بستیاں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں ، تباہ ہوئیں ، تلپٹ ہوئیں۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں تھیں ، جن کو ہلاک کیا گیا اور یوں کہ انہیں الٹ دیا گیا ۔ لفظ موتفکت کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں آتی ہیں۔ ان سب لوگوں کے کام اور بدعملی کو الخاطئہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی انہوں نے غلط فعل کا ارتکاب کیا۔ یہ الخطیئة سے ماخوذ ہے یعنی عظیم غلطی۔ یہاں فعصوارسول ربھم (96 : 01) ” ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی “۔ حالانکہ انہوں نے کئی رسولوں کی بات نہ مانی تھی۔ ایک رسول نہ تھا لیکن اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 9–10

1 یعنی " عاد " و " ثمود " کے بعد فرعون بہت بڑھ چڑھ کر باتیں کرتا ہوا آیا اور اس سے پہلے اور کئی قومیں گناہ سمیٹتی ہوئی آئیں (مثلاً قوم نوح، قوم شعیب، اور قوم لوط، جن کی بستیاں الٹ دی گئی تھیں) ان سبھوں نے اپنے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی، اور خدا سے مقابلے باندھے۔ آخر سب کو خدا نے بڑی سخت پکڑ سے پکڑا، اس کے آگے کسی کی کچھ بھی پیش نہ چلی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

آیت 9 { وَجَآئَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَہٗ وَالْمُؤْتَفِکٰتُ بِالْخَاطِئَۃِ۔ } ”اور اسی طرح فرعون اور اس سے پہلے والوں نے ‘ اور الٹ دی جانے والی بستیوں کے باسیوں نے بھی خطاکاری کی روش اختیار کی تھی۔“ الٹائی جانے والی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

7 قوم عاد نے تو یہ نعرہ لگایا تھا کہ (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15؀) 41 ۔ فصلت :15) اور فرعون وہ تھا جس نے ( فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى 24؀ڮ) 79 ۔ النازعات :24) کا نعرہ لگایا تھا۔ فرعون اور آل فرعون کو اللہ نے سمندر میں ڈبو دیا تو اس وقت اسے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ اپنے خدائی کے دعوے میں کس حد تک سچا تھا اور آج کس قدر مجبور ہے۔ فرعون کی قوم کے علاوہ بھی کئی قوموں نے آخرت کے عقیدہ سے انکار کیا۔ پھر سرکشی کی راہ اختیار کی تو نتیجتاً انہیں بھی تباہ و برباد کردیا گیا۔ ان سب قوموں میں سے کوئی ایک شخص بھی زندہ نہ بچا۔ سب کے سب ہلاک کردیئے گئے۔ اور ان سب کا سب سے بڑا گناہ جو ان میں قدر مشترک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (اور سب سے بڑھ کر انکار آخرت) فرعون کا ذکر بار بار آچکا ہے۔ (آیت) ” المؤتفکت “۔ یہ الٹی ہوئی بستیاں قوم لوط کی تھیں، حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–16

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجاء فرعون و من قبلہ . یعنی فرعون اور فرعون سے پہلے کافر قومیں آئیں۔ والموتفکات . اور الٹی بستیاں یعنی قوم لوط کے دیہات جن کو الٹ دیا گیا تھا۔ یہ افک سے ماخوذ ہے۔ افک کا معنی ہے الٹا بستیوں سے مراد ہیں ان کے باشندے یا الٹ جانے والی قومیں یعنی قوم لوط مراد ہے۔ بالخاطءۃ . خطا اور گناہ یعنی شرک کی وجہ سے یا بدکرداری کی وجہ سے یا خطا اور گناہ کے کاموں کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) اور اسی طرح فرعون اور اس کا لشکر سمندر کی طرف آیا اور سب غرق کردیے گئے یا یہ کہ فرعون نے اور اس سے پہلے جو قومیں گزری ہیں سب نے شرک کیا اس زمرہ میں ہلاک کردیے گئے اور قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیوں نے بھی شرک کیا سو ان لوگوں نے موسیٰ کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سخت سزا دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 9–10

وجآء فرعون ومن قبلہ…:”الموتفکت ‘”ائکف“ (افتعال) سے اسم فاعل ہے اور محذوف لفظ ”القری“ (بستیوں) کی صفت ہے، یعنی الٹ جانے والی بستیاں۔ مراد لوط ؑ کی قوم کی بستیاں ہیں جن کا اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا اوپر کردیا گیا اور پھر ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسا دی گئی۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (77 تا 83) اور سورة حجر (61 تا 74)۔ الخاطئۃ“ (عافیہ“ کے وزن پر مصدر ہے ، گناہ خطا۔ ”رابیۃ“ ”ربا یربو“ (ن) (زیادہ ہونا، بڑھنا) سے اسم فاعل ہے، یعنی وہ گرفت اپنی شدت میں دوسری گرفتوں سے بہت بڑھی ہوئی تھی، یعنی فرعون نے اور اس ہلے کے لوگوں نے اور قوم لوط نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وجآء فرعون ومن قبلہ ابو عمرو اور کسائی نے ومن قبلہ پڑھا ہے، یعنی قاف کے نیچے کسرہ اور رباء پر زبر۔ معنی ہوگا جو اس کے ساتھ تھے اور لشکروں میں سے جو اس کے پیرو کار تھے۔ ابوعبید اور ابو حاتم نے حضرت عبداللہ اور حضرت ابی کی قرأت و من معہ پر اعتبار کرتے ہوئے اسے پسند کیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے اسے ومن تلقاء قرأت کی باقی قراء نے قبلہ قرأت کی مراد ہے جو سابقہ قومیں گزر چکی تھیں (1) والموتفکت اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کے لوگ ہیں۔ عام قرأت الف کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری اور حجدری نے والمئوتفکۃ قرأت کی ہے۔ قتادہ نے کہا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کو موتفکات کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

21۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا وجاء فرعون ومن قبلہ قاف کے نصب کے ساتھ۔ 22۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجاء فرعون ومن قبلہ یعنی فرعون اور فرعون سے پہلے کافر قوتیں آئیں۔ یعنی فرعون اور جو اس کے ساتھ تھا۔ 23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولموتفکت اور الٹی بستیاں اور وہ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے کہ ان کے ساتھ ان کی زمین کو الٹ دیا گیا۔ 24۔ عبدبن حمید وابن المنذر نے مجاہدد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بالخاطءۃ سے مراد خطائیں ہیں آیت اخذۃ رابیۃ یعنی شدت اور سختی کے ساتھ پکڑنا آیت انا لما طغا الماء جب پانی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَجَاۗءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهٗ : اور آیا فرعون اور وہ لوگ جو اس سے پہلے تھے ][ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ : اور الٹنے والی بستیوں (والے)][ بِالْخَاطِئَةِ : (ہر ایک) خطا کرنے والی (جان) کے ساتھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

فرعون کی بغاوت اور ہلاکت : اس کے بعد فرعون اور اس سے پہلے باغیوں اور ان بستیوں کا ذکر فرمایا جو برے افعال کرنے کی وجہ سے لپٹ دی گئی تھیں۔ ارشاد فرمایا ﴿ وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بالْخَاطِئَةِۚ009﴾ (اور فرعون اور اس سے پہلے لوگ اور الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والوں نے گناہ کیے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

5:۔ ” وجاء فرعون و من قبلہ “ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ۔ ” والمؤتفکات “ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ۔ وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں مراد اھل المؤتفکات ہیں یعنی ان بستیوں کے باشندے، مراد قوم لوط ہے کیونکہ ان کی بستیوں کو تہ وبالا کردیا گیا تھا (قرطبی، بیضاوی، روح) الخاطئۃ مصدر ہے بمعنی الخطا اور اس سے تکذیب رسل مراد ہے جیسا کہ فعصوا رسول ربھم سے اس کی تفصیل کی گئی ہے۔ رابیۃ فائق اور بڑھ کر یعنی قوم فرعون اور اس سے پہلے مکذبین اور قوم لوط (علیہ السلام) نے اپنے وقت کے پیغمبروں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی سخت گرفت کی جو بہت سی سرکش قوموں کی گرفت سے زیادہ شدید اور ہولناک تھی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

کوائف سورة : اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ : سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَاۗءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَہٗ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَۃِ۝ 9 ۚ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–12

ترکیب : من موصلۃ قبلہ قراء الجمہور بفتح القاف و سکون الباء ای ومن حقدومن الامم و قراء ابوعمرو و عاصم والکسائی بکسر القاف وفتح الباء معناہ من جہتہ وطرفہ وعلی الوجہین ھو صلۃ والمجموع معطوف علی فرعون وھو فاعل جاء و۔ المؤتفکات معطوف علیہ بالخاطئۃ مفعول جاء و ‘ الباء للتعدیۃ والخاطئۃ امامصدر کالحظاء واما الفعلۃ ای بالفعلۃ الخاطئۃ رسول ربہم مفعول عصوا ای عصیٰ کلواحد رسول ربہ اخذۃً مفعول مطلق رابیۃً صفۃ من ربا الشیء اذا زاد انا مبتداء حملنا کم خبرہ فی الجاریۃ حال من مفعولہ اذ فی متعلقہ بمحذوف لیست بصلۃ للحمل لماطغا الماء ظرف لحملنا دخلت بین المبتداء وخبرہ لنجعلہا واللام متعلقہ بمحذوف ای…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

وَجَـآئَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَـہٗ وَالْمُؤْتَفِکٰتُ بِالْخَاطِئَۃِ ۔ فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّہِمْ فَـاَخَذَھُمْ اَخْذَۃً رَّابِیَۃً ۔ (الحآقۃ : 9، 10) (اور اسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے کیا۔ انھوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی، تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : مُؤْتَفِکٰتُ … کے معنی باہم مختلط اور ملے جلے کے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو مُؤْتَفِکٰتُ یا تو اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ سب آپس میں ملی ہوئی بستیاں تھیں۔ اور یا اس لیے کہ عذاب آنے کے وقت جب ان کا تختہ الٹا گیا تو سب گڈمڈ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد اور قوم ثمود کے انجام کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں کا بدترین انجام۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے بعد کئی اقوام ایسی گزریں ہیں جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور قیامت کے دن کو جھٹلا یا اس جرم کی پاداش میں انہیں تہہ وبالا کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح ان کی پکڑ کی کہ کوئی بھی انہیں بچانے اور چھڑانے والا نہ تھا۔ ان کے بعد فرعون نے سرکشی اور بغاوت کی انتہا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو دریا میں ڈبکیاں دے دے کر ہلاک کیا فرعون بھی اپنے سے پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح دہائی دیتا رہا مگر اسے آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنادیا گیا۔ فرعون نے دعویٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : وَجَآ ئَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَہٗ (اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے) قبلہ سے مراد جو امتیں اس سے پہلے ہو گزریں۔ قراءت : بصری اور علی نے من قِبَلِہٖ پڑھا ہے۔ یعنی اس کی طرف اور اس کے پیروکاروں کی طرف۔ قوم لوط کی بستیاں : وَالْمُؤْتَفِکٰتُ (اور الٹی جانے والی بستیاں) قوم لوط کی بستیاں انہی کو الٹ دیا گیا یعنی پلٹ دیا گیا۔ بِالْخَاطِئَۃِ (غلطیوں کے سبب) نمبر 2۔ اس بدکرداری والی حرکت کے سبب۔ نمبر 3۔ گناہوں والے کاموں کے سبب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” فھل تریٰ لھم من باقیۃ “ یعنی کوئی نفس باقی یعنی ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد وثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو مبعوث کیا اور انہیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انہیں حق کا یقین آگیا مگر انہوں نے ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 فرعون اور اس سے پہلے کے منکروں کے انجام کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا۔ قوم نوح وغیرہ کافر و سرکش قومیں، کہ وہ سب ہی قومیں انکار حق اور تکذیب رسل کے اس سنگین اور ہولناک جرم کی مرتکب ہوئی تھیں، جس کا بھگتان ان کو آخر کار بھگتنا پڑا، والعیاذ باللہ العظیم کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے یکساں اور بہرحال سب پر لاگو ہے کہ واں پر مدار فلاں ابن فلاں پر نہیں بلکہ عمل و کردار پر ہے، سو ان سب منکر و باغی اور کافر و سرکش قوموں نے جب تکذیب و انکار حق کے اسی جرم کا ارتکاب کیا جو کہ جرموں کا جرم اور ہلاکتوں کی ہلات ہے تو آخر کار یہ سب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔ اصل میں مسلمان کے یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:9) وجاء فرعون والمؤتفکت بالخاطئۃ۔ واؤ عاطفہ ہے بالخاطئہ ب تعدیہ کا ہے۔ اس نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ (1) فرعون۔ (2) من قبلہ۔ (3) والمؤتفکت فاعل ہیں فعل جاء ب کے۔ جاء (باب ضرب) فعل لازم ہے۔ ب کے صلہ کے ساتھ فعل متعدی ہوجاتا ہے جاء بمعنی وہ آیا۔ اور جاء ب وہ لایا۔ خاطئۃ گناہ۔ گنہگار۔ خطیء یخطا کا مصدر بھی ہے اور اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بھی۔ جاء بالخاطئۃ اس نے گناہ کیا۔ من موصولہ ہے۔ اور قبلہ مضاف مضاف الیہ مل کر من کا صلہ۔ اور جو اس سے پہلے گزر چکے ۔ یعنی فرعون سے پہلے۔ والمؤتفکت : اسم فاعل جمع مؤنث الموتفکۃ واحد۔ ائتفاک (افتعال) مصدر (اک مادہ) الٹی ہوئی منقلب، مراد حضرت لوط (علیہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[4] مراد ہیں قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں۔ ان کا ذکر سورة ہود آیت 77 تا 83 صفحہ 508 اور سورة حجر آیت 57 تا 77 صفحہ 592 میں گزر چکا ہے۔ [5] یعنی جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کر کے اس دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور اس بات کو جھٹلایا کہ ایک دن اللہ کی عدالت میں حساب دینا ہوگا، وہ سخت اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوئی یہاں تک کہ اللہ کے عذاب نے آ کر دنیا کو اس کے وجود سے پاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–12

ف 2: ان آیات میں یہ قانون واضح فرمایا ہے ۔ کہ کوئی قوم زندگی کا اس وقت تک استحقاق نہیں رکھتی ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت نہ کرے ۔ اور اپنی خواہشات کو اس کے ارادہ اور منسا کے تابع نہ کردے ۔ کیونکہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ کوئی نفس اس سرچشمہ حیات وور سے الگ رہ کر اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھ سکتا ۔ چناچہ جب کسی قوم نے اس اصول کو نہیں سمجھا ۔ اور اللہ کے حکموں کی پرواہ نہیں کی ۔ اس کا غصہ بھڑکا ۔ اور اس کو زندگی سے محروم کردیا ۔ ثمود وحاد کی قوم مٹادی گئی ۔ فرعون اور اس کا لاؤ لشکر قلزم میں اپنی عزت و حکمت سمیت ڈبودیا گیا ۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح جب بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اور فرعون اور اس سے پہلی قومیں اور الٹی ہوئی بستیاں بڑے بڑے قصوروں کا ارتکاب کرتے ہوئے آئے۔ یعنی فرعون آیا اور گناہوں کا ارتکاب کیا اور کچھ لوگ اس سے پہلے تھے وہ بھی خطا کار تھے شاید ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے اور الٹی ہوئی بستیاں اس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور اٹھائی گئی بستیوں والے سب ہی خطاکار تھے 9 ؎ فرعون مصر کے بادشاہ کا لقب تھا کہ جو شخص بھی اس دور میں مصر کے تخت پر تخت نشین ہوتا تھا اس کو فرعون کہا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ جس بادشاہ کے زمانہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور جس کے دور میں مدین سے واپس آ کر مصر میں بطور نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے دونوں کو فرعون ہی کہا گیا ہے اگرچہ وہ دو مختلف شخصیتیں ہوں کیونکہ اس بات کا زیادہ احتمال ہے اور فرعون سے پہلے کے لوگوں میں وہی قومیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے عاد ، ثمود ، لوط (علیہ السلام) کی قوم ، ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور بہت سی قومیں گزر چکی تھیں جن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–12

سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ (seven nights and eight consecutive days'... 69:7). According to some of the narratives, the punishment of windstorm started on Wednesday morning, and lasted till the following Wednesday evening. In this way, it makes up eight days and seven nights. The word husuman (in verse 7) is the plural of hasim and means 'cutting them off entirely' or 'causing them to perish completely'. The word مُؤْتَفِكَاتُ mu'tafikat (in verse 9) means 'adjacent to one another'. The towns of Sayyidna Lut Sodom and Gomorrah, are so called because they were adjacent to each…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

6 The reference is to the towns and settlements of the people of the Prophet Lot, about which it has been said in Surah Hud: 82 and AI-Hijr: 74: "We turned them upside down. "

Read the full tafseer →