Explained with ayahs 1–12
حاقہ
قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
سورة الْحَآقَّة 5
سورة اعراف، آیت 78 میں اس کو الرجفہ (زبردست زلزلہ) کہا گیا ہے۔ سورة ہود، آیت 67 میں اس کے لیے الصیحہ (زور کے دھماکے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سورة حمٰ السجدہ، آیت 17 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کو صاعقۃ العذاب (عذاب کے کڑکے) نے آ لیا۔ اور یہاں اسی عذاب کو الطاغیہ (حد سے زیادہ سخت حادثہ) سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیات کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ، بعض روایات میں ہے کہ بدھ کی صبح سے یہ آندھی کا عذاب شروع ہو کر دوسرے بدھ کی شام تک رہا اس طرح دن تو آٹھ ہوگئے اور راتیں سات آئیں۔
حسوماً حاسم کی جمع ہے جس کے معنی قطع کرنے اور استیصال کرنے یعنی بالکل فنا کردینے والے کے ہیں
وَالْمُؤْتَفِكٰت۔ کے معنے باہم مختلط اور ملے جلے کے ہیں۔ حضرت لوط ؑ کی بستیوں کو مؤتفکات یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب آپس میں ملی ہوئی بستیاں تھیں اور یا اس لئے کہ عذاب آنے کے وقت جب ان کا تختہ الٹا گیا تو سب گڈ مڈ ہوگئیں۔
Read the full tafseer →عذاب الٰہی کی بے پناہی:
اس کا عطف اوپر والے ’فَتَرٰی‘ پر ہے۔ گویا قوم عاد کی بستیوں کو مخاطب کی چشم تصور کے سامنے کر کے یہ سوال فرمایا ہے کہ ذرا دور دور تک نگاہ دوڑا کے دیکھو کوئی متنفس بھی پوری قوم میں سے زندہ بچا ہوا نظر آتا ہے؟۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس طرح اس کا ستھراؤ کر کے رکھ دیتا ہے! احمق ہیں وہ جو اس کے دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ چیز دیکھنے کی نہیں بلکہ پناہ مانگنے کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ 1 جسم کے معنی کاٹنے اور جدا جدا کرنے کے ہیں اور بعض نے حسوما کے معنی پے درپے کیے ہیں۔ اس سے ان کی درازی کی طرف اشارہ ہے کھوکھلے بےروح جسم کو کھوکھلے تنے سے تشبیہ دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
3: قوم عاد کا تعارف بھی سورة اعراف (7: 65) میں گزر گیا ہے، ان پر زبردست آندھی مسلط کی گئی تھی جو آٹھ دن جاری رہی۔
4: قوم عاد کے لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اس لئے ان کی زمین پر گری ہوئی لاشوں کو کھجور کے تنوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سخرھا ................ حسوما (96 : 7) ” اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیا “۔ الحسوم کے معنی مسلسل کاٹ دینے والی۔ یہ شدید چلنے والی ، دھاڑتی چنگھارتی اور تباہی مچاتی ہوئی ، اس طویل عرصے کے لئے مسلسل جاری تھی۔ جس وقت قرآن تعین کے ساتھ کررہا ہے۔
فتری .................... خاویة (96 : 7) ” تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے “۔ گویا یہ منظر اسکرین پر پیش ہورہا ہے یا سامنے ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ پردہ احساس پر منظر نمودار ہوجاتا ہے۔ صرعی ۔ وہ گرے پڑے اور بکھرے ہوئے۔ گویا وہ ایسے ہیں جیسے اعجاز نخل۔ (کھجور کے تنے جڑوں اور تنوں کے ساتھ) خاویہ…
Read the full tafseer →11 یعنی ان قوموں کا بیج بھی باقی رہا ؟ اس طرح صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردی گئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت 7{ سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًالا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ۔ } ”اللہ نے مسلط کردیا اسے ان پر مسلسل سات راتوں اور آٹھ دنوں تک ‘ ان کی بیخ کنی کے لیے ‘ تو تم دیکھتے ان لوگوں کو کہ وہاں ایسے پچھڑے پڑے ہیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔“
قومِ عاد کے لوگ بہت قد آور تھے ‘ اس لیے انہیں کھجور کے تنوں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6 یہ لوگ بڑے مضبوط جسم والے، طاقتور اور طویل القامت تھے۔ جب ان کو ہود (علیہ السلام) نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے : (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15) 41 ۔ فصلت :15) (ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ ) لیکن جب ہم نے ان پر ہوا کو چھوڑ دیا تو یہ لوگ اس کا بھی مقابلہ نہ کرسکے۔ تندو تیز ہوا نے ان کو یوں چاروں شانے چت گرا دیا کہ طویل القامت ہونے کی وجہ سے ان کے سر گرتے ہی تن سے جدا ہوجاتے تھے۔ اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ کھجوروں کے بےجان اور کھوکھلے تنے پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
3۔ یہ منظر ہلاکت وتباہی کے بعد اس قوم کی مردہ لاشوں کا دکھایا ہے۔ (آیت) ” کانھم ..... خاویۃ، کٹے ہوئے درختوں کے تنہ کے ساتھ یہ تشبیہ قوم عاد کی جسمانی تنومندی اور قد آوری کے لحاظ سے نہایت موزوں اور برمحل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…
Read the full tafseer →فھل تری . استفہام تقریری ہے مخاطب کو اقرار پر آمادہ کیا ہے۔
لھم من باقیۃ . کیا تم کو عاد کی کوئی نشانی باقی نظر آتی ہے۔
Read the full tafseer →سو کیا تجھ کو ان میں کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے ان میں کوئی بھی نہیں بچا سب کو اس تند ہوا نے ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(سخر ھا علیھم سبع لیال …:”حسوماً“ کا معنی ابن عباس ؓ عنہمانے ”پے در پے“ کیا ہے۔ (ابن جریر) اس صورت میں یہ ”حسمت الدابۃ“ (میں نے جانور کو پے در پے داغ لگائے) سے مشتق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ آندھی ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھی، ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں رکی۔”حسم یحسم“ (ض) کا معنی ”جڑ سے کاٹنا“ بھی ہے۔ اس صورت میں یہ ”حاسم“ کی جمع ہے ، جیسے ”شاھد“ کی جمع ”شھود“ ہے، معنی ہوگا ”ان پر وہ آندھی جڑ سے کاٹ ڈالنے والی سات راتوں اور آٹھ دنوں تک چلائے رکھی۔“”حسوماً“ مصدر بھی ہوسکتا ہے، جیسے ”شکور“ اور ”کفور“ ہے، اس صورت میں یہ مفعول لہ ہوگا، یعنی ان پر وہ آندھی سات راتیں اور آٹھ دن جڑ سے…
Read the full tafseer →یہاں باقیہ سے پہلے فرقۃ یا نفس محذوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں باقیۃ بقیہ کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ بقاء کے معنی میں ہے، یہ فاعلۃ کا وزن ہے۔ مصدر کے منی میں ہے جس طرح عافبہ اور عافیہ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اسم ہو کیا تم ان میں سے کسی کو باقی پاتے ہو۔ ابن جریج نے کہا : وہ سات راتیں اور آٹھ دن تھے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا کی صورت میں جو عذاب آیا اس میں وہ زندہ رہے جب آٹھویں دن کی صبح کی تو وہ مر گئے۔ ہوا نے انہیں اٹھایا اور سمندر میں پھینک دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان، فھل تری لھم من باقیۃ۔ اور فاصبحوا لایری الا مسکنھم (الاحقاف : 25 )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
13۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت سخرہا علیہم سبع لیال وثمنیۃ۔ ان پر مسلط کردیا سات راتیں اور آٹھ دن۔ اور ان میں سے پہلا دن جمعہ کا تھا۔
14۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” حسوما “ سے مراد ہے لگاتار۔
15۔ عبد بن حمید وابن جریر نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ” حسوما “ سے مراد ہے مسلسل اور دوسرے لفظ میں ہے کہ اس کا معنی ہے ” متتابعات “ یعنی لگاتار۔
16۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” حسوما “ کے بارے میں…
Read the full tafseer →[فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ : تو کیا تو دیکھتا ہے ان لوگوں کی ][ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ : کوئی بھی باقی رہنے والی (جان)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
﴿ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى1ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ007﴾ (سو ان لوگوں نے گر پڑنے کا جو منظر تھا اسے مخاطب اگر تو اسے دیکھتا تو یوں معلوم ہوتا کہ وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے ہیں) ۔ اسی تیز ہوا کے چلنے سے سب مرگئے ان میں سے ایک بھی نہ بچا اسی لیے بعد میں فرمایا ﴿ فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ 008﴾ (اے مخاطب کیا تو ان میں سے کسی کو دیکھ رہا ہے جو بچا ہوا ہو) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
4:۔ ” فاما ثمود “ الطاغیۃ، موصوف مقدر کی صفت ہے ای بالصیحۃ الطاغیۃ، یعنی ایسی سخت چنگھاڑ جو شدت و فظاعت میں حد سے گذر چکی ہو۔ ای بالصیحۃ المجاوزۃ للحد فی الشدۃ (جلالین) ۔ ” واما عاد فاھلکوا “ یہ قوم عاد کی ہلاکت کی تفصیل ہے۔ ” صرصر “ سخت ٹھنڈی، شدت برودت سے جلانے والی۔ ” عاتیۃ “ شخت تند و تیز اور قابو سے باہر۔ ” حسوم “ متواتر یا جڑوں سے اکھاڑنے والی یا اس کے منعی ہیں مشئوم یعنی نحس بدلیل فی ایام نحسات (حم السجدہ رکوع 2) مطلب یہ ہوگا کہ یہ ایام اس قوم کے حق میں نحس تھے، کیونکہ تمام دن برابر ہیں ان میں سعدو نحس کی کوئی تفریق نہیں۔ ” خاویۃ “ بوسید، کھوکھلی، اندر سے خالی۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
کوائف سورة :
اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ :
سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…
Read the full tafseer →فَہَلْ تَرٰى لَہُمْ مِّنْۢ بَاقِيَۃٍ 8
بقي
البَقَاء : ثبات الشیء علی حاله الأولی، وهو يضادّ الفناء، وقد بَقِيَ بَقَاءً ، وقیل : بَقَي في الماضي موضع بقي، وفي الحدیث : «بقینا رسول الله» أي : انتظرناه وترصّدنا له مدة كثيرة، والباقي ضربان : باق بنفسه لا إلى مدّة وهو الباري تعالی، ولا يصحّ عليه الفناء، وباق بغیره وهو ما عداه ويصح عليه الفناء .
والباقي بالله ضربان :
- باق بشخصه إلى أن يشاء اللہ أن يفنيه، کبقاء الأجرام السماوية .
- وباق بنوعه وجنسه دون شخصه وجزئه، كالإنسان والحیوان .
وكذا في الآخرة باق بشخصه كأهل الجنة، فإنهم يبقون علی التأبيد لا إلى مدّة، كما قال عزّ وجل : خالِدِينَ فِيها […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : الحاقۃ الساعۃ والحالۃ التی بحق فیھا الامور مبتداء ما الحاقۃ خبرھا واصلہ ماھی فوضع الظاہر موضع المضمر للتھویل وما مبتداء ادراک خبرہ ما الحاقۃ الجملۃ فی محل النصب لکونھا مفعولاثانیا لادراک واماثمود مبتداء فاھلکو الخ خبرہ طاغیۃ مصدر کالعافیۃ قیل الصحیۃ التی جاوزت الحد وھی صحیۃ جبرئیل وقیل الرجفۃ ای لزلزتہ صرصر الشدید الصوت لھاصرصرۃ عاتیۃ من العتوفقیل عتت الریح علی الخزان فلم یکن لھم علیھا سبیل وقیل عتت علی عادفما قدروا واعلیٰ ردھا بحیلۃ من استنادبنباء اواستنا دالی جبل وقیل لیس من العتوبمعنی العصیاں بل بمعنی بلوغ الشیء وانتہا بہ کما فی قولہ تعالیٰ (وقدبلغت من الکبر عتیا) عاتیۃ ای بالفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
وَاَمَّا عَادٌ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۔ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّـامٍ لا حُسُوْمًا لا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعٰی لا کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃ۔ فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِنْ م بَاقِیَۃٍ ۔ (الحآقۃ : 6 تا 8)
(رہے عاد، تو وہ ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے۔ اس کو اللہ نے سات رات اور آٹھ دن ان کی بیخ کنی کے لیے ان پر مسلط رکھا، تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح بچھاڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ تو کیا تم دیکھتے ہو ان میں سے کوئی بچ رہنے والا۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح : رِیْحٍ صَرْصَرٍ … اس سخت ہوا کو کہا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والی اقوام میں سر فہرست قوم ثمود اور قوم عاد تھیں دونوں قوموں کا دنیا میں بدترین انجام ہوا۔
قرآن مجید نے قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے مختلف مراحل کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ قیامت کے مراحل میں ایک مرحلہ اتنا شدید ہوگا کہ ہر چیز آپس میں ٹکرا جائے گی یہاں تک کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ یہی بات صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار بتلائی اور سمجھائی۔ مگر دونوں اقوام نے اپنے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور قیامت کے برپا ہونے کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود اور قوم عاد کو نیست و…
Read the full tafseer →8 : فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِّنْم بَاقِیَۃٍ (پس کیا تجھ کو ان میں سے کوئی بچا ہو انظر آتا ہے) یعنی من نفس باقیہ کوئی باقی رہنے والا شخص یا من بقاء باقی رہنا۔ گویا مصدر کے معنی میں ہے جیسا کہ طاغیہ بمعنی طغیان۔
Read the full tafseer →7 ۔” سخرھا علیھم “ اس کو ان پر بھیجا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان پر مسلط کردیا۔ ” سبع لیال وثمانیۃ ایام “ وہب (رح) فرماتے ہیں یہ وہ دن ہیں جن کا نام عرب ایام العجوز رکھتے ہیں ٹھنڈا اور سخت ہوائوں والے۔ کہا گیا ہے ان کا نام عجوز رکھا گیا اس لئے کہ یہ سردی کی وجہ سے عاجز کردیتے ہیں اور کہا گیا ہے اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ قوم عاد کی ایک بوڑھی عورت ایک سوراخ میں داخل ہوگئی تو ہوا اس کے پیچھے لگی رہی، پھر عذاب اترنے کے آٹھویں دن اس کو قتل کردیا اور عذاب ختم ہوگیا۔
” حسوما “ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں لگاتار اس میں کوئی وقفہ نہ تھا۔ پس اس پر یہ زخم کو داغنا ہے وہ یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…
Read the full tafseer →(فھل تری لھم من باقیہ) ۔ پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے ؟ یہ استفہام نفی متقرر کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →8 ۔ عذاب الٰہی کی بےپناہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہیں ان میں سے کوئی بھی بچا ہوا نظر آتا ہے ؟ : استفہام انکاری ہے یعنی نہیں، اب ان میں کا کوئی بھی متنفس زندہ نہیں رہ گیا بس اب ان کے قضے ہی ہیں جو عبرت انگیزی کے لئے باقی ہیں وجعلناھم احادیث جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ھل تحس من احد او تسمع لھم رکزا ؟ " (مریم : 98) سو وہ قومیں ہمیشہ ہمیش کے لئے مٹ گئیں اور ایسی مٹیں کہ ہمیشہ کے لئے اور دائمی طور پر لقمہ عذاب بن گئیں، سو یہ ہوتا ہے نتیجہ و انجام حق کے انکار کا، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے عذاب الٰہی کی ہولناکی اور بےپناہی کا ذکر فرمایا گیا ہی کہ وہ جب آتا ہی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام
تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔
اصل میں مسلمان کے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →ف 2 مطلب یہ ہے کہ سب تباہ کردیئے گئے اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہ بچا۔
Read the full tafseer →(69:8) فہل تری لہم من باقیۃ۔ استفہام انکاری ہے مخاطب کو اقرار پر آمادہ کیا جا رہا ہے یعنی کوئی بھی باقی نہیں۔ باقیۃ صفت ہے موصوف مقدرہ کی ای من نفس باقیۃ۔ کیا تو ان میں سے کوئی جان باقی دیکھتا ہے ؟ کیا تمہیں ان کا کوئی فرد نظر آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
الحاقۃ۔ سچ مچ ہونے والی۔ یقینی۔ القارعۃ۔ کوٹنے والی۔ اھلکوا۔ ہلاک کئے گئے۔ الطاغیۃ۔ زلزلہ۔ صرصر۔ زبردست آندھی۔ عاتیۃ۔ قابو سے باہر۔ سبع لیال۔ سات رات۔ ثمینۃ آیام۔ آٹھ دن۔ حسوما۔ متواتر۔ مسلسل۔ صرعی۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ اعجاز نخل ۔ تنے کھجور کے۔ خاویۃ۔ کھوکھلے۔
تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بتہ سے نام آئے ہیں ” حاقہ “ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قیامت کفار کے لئے ایک ہولناک دن بھی ہے اس لئے اس کی طرف پوری توجہ دلانے کے لئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا۔ حاقہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا آنا اور واقع ہونا یقینی ہے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھنے والا ذہنی پستی، اخلاقی بگاڑ اور گناہوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
[3] قارعہ کے معنی کھڑکھڑانے والی چیز کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لئے استعمال ہوا ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کو مضطرب اور بےچین کرنے والی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
ف 2: ان آیات میں یہ قانون واضح فرمایا ہے ۔ کہ کوئی قوم زندگی کا اس وقت تک استحقاق نہیں رکھتی ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت نہ کرے ۔ اور اپنی خواہشات کو اس کے ارادہ اور منسا کے تابع نہ کردے ۔ کیونکہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ کوئی نفس اس سرچشمہ حیات وور سے الگ رہ کر اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھ سکتا ۔ چناچہ جب کسی قوم نے اس اصول کو نہیں سمجھا ۔ اور اللہ کے حکموں کی پرواہ نہیں کی ۔ اس کا غصہ بھڑکا ۔ اور اس کو زندگی سے محروم کردیا ۔ ثمود وحاد کی قوم مٹادی گئی ۔
فرعون اور اس کا لاؤ لشکر قلزم میں اپنی عزت و حکمت سمیت ڈبودیا گیا ۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح جب بھی…
Read the full tafseer →(8) سو کیا اے مخاطب تجھ کو اب ان میں سے کوئی بھی باقی اور بچا ہوا نظر آتا ہے۔ یعنی عاد کی پوری پوری قوم نیست ونابود کردی گئی آگے اور چند گزشتہ قوموں کی تباہی کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–11
ف 2۔ مقصود اس سے تقطیع شان قیامت ہے کہ وہ سخت ہولناک چیز ہے۔
Read the full tafseer →کیا آپ نے ان میں سے کسی ایک کو باقی بچا ہوا دیکھا ہے ؟
8 ؎ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی پوری نسل کی نسل ہی کو ختم کردیا گیا اور ان میں اس وقت ایک بھی باقی نہ بچا جو ان کے کردار و اخلاق کا ہو اور وہی لوگ باقی بچے جو اس وقت کے رسول سیدنا ہد (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے تھے۔ ہم نے (لھم) سے مراد ان کی نسل یعنی حسب و نسب مراد نہیں لیا بلکہ ان کے پیروکار ہی مراد لئے ہیں کہ جس کردار و اخلاق کے وہ مالک تھے اس کردار و اخلاق کے لوگوں میں سے ہم نے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا اور یہ بات ہم نے اس لئے کی ہے کہ قوم ثمود کے لوگ دراصل حسب و نسب کے لحاظ سے قوم عاد ہی کے لوگ تھے لیکن یہ سیدنا ہود (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ (seven nights and eight consecutive days'... 69:7). According to some of the narratives, the punishment of windstorm started on Wednesday morning, and lasted till the following Wednesday evening. In this way, it makes up eight days and seven nights.
The word husuman (in verse 7) is the plural of hasim and means 'cutting them off entirely' or 'causing them to perish completely'.
The word مُؤْتَفِكَاتُ mu'tafikat (in verse 9) means 'adjacent to one another'. The towns of Sayyidna Lut Sodom and Gomorrah, are so called because they were adjacent to each…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
5 In Surah Al-A'raf: 78, it has been called ar-rajfah (a terrible earthquake) ; in Surah Hud: 67 as-sayhah (a violent blast) ; in Surah Ha Mim As-Sajdah: 17, it has been said: "They were overtaken by sa`iqa-tul-'adhab (a humiliating scourge) ; and here the same punishment has been described as at-taghiyah (a violent catastrophe) . These words describe different aspects of the same calamity.
Read the full tafseer →