Explained with ayahs 96–99
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے حضرت ابوبکر صدیق حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اجمعین، حضرت عکرمہ، حضرت ابو سلمہ، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت حسن بصری رحمم اللہ سے بھی یہی مروی ہے، خلیفہ بلا فصل ؓ سے روایت ہے کہ پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ) آپ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 112
چونکہ سمندر کے سفر میں بسا اوقات زاد راہ ختم ہوجاتا ہے اور غذا کی فراہمی کے لیے بجز اس کے کہ آبی جانوروں کا شکار کیا جائے اور کوئی تدبیر ممکن نہیں ہوتی اس لیے بحری شکار حلال کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
ربط آیات
لباب میں مسند احمد سے بروایت ابی ہریرہ ؓ منقول ہے کہ جب اوپر کی آیت میں تحریم خمرو میسر نازل ہوچکی تو بعض لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ بہت سے آدمی جو کہ شراب پیتے تھے اور قمار کا مال کھاتے تھے تحریم سے پہلے مر گئے، اور اب معلوم ہوا کہ وہ حرام ہے ان کا کیا حال ہوگا، اس پر آیت ليْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الخ نازل ہوئی۔
اور پیچھے (آیت) یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت میں تحریم طیبات کی ممانعت کا ذکر تھا، اب آیت يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْء الخ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ خاص حالات میں خاص خاص چیزوں کو حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
تفسیر آیات 94 تا 96:۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْم یاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭ وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَــزَاۗءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ ۭعَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ۭ…
Read the full tafseer →96۔ 1 صَیْدُ ، سے مراد زندہ جانور اور۔ طعَامُہُ سے مراد وہ مردہ (مچھلی وغیرہ) جسے سمندر یا دریا باہر پھینک دے یا پانی کے اوپر آجائے۔ جس طرح کے حدیث میں وضاحت ہے کہ سمندر کا مردار حلال ہے۔ (تفصیل ملاحظہ ہو ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
66: اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں شکار کرنے کا گناہ کرلے تو اس کا کفارہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس جانور کا شکار کیا ہے اگر وہ جانور حلال ہو تو اسی علاقے کے دو تجربہ کار دین دار آدمیوں سے اس جانور کی قیمت لگائی جائے، پھر چوپایوں یعنی گائے بیل بکری وغیرہ میں سے اس قیمت کے کسی جانور کی قربانی حرم میں کردی جائے یا اس کی قیمت فقراء میں تقسم کردی جائے، اور اگر کسی ایسے جانور کا شکار کیا تھا جو حلال نہیں ہے مثلاً بھیڑیا تو اس کی قیمت ایک بکری سے زیادہ نہیں سمجھی جائے گی، اور اگر کسی شخص کو مالی اعتبار سے قربانی دینے یا قیمت فقراء میں تقسیم کرنے کی گنجائش نہ ہو تو وہ روزے…
Read the full tafseer →(آیت) ” أُحِلَّ لَکُمْ صَیْْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ مَتَاعاً لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ ۔
” تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ‘ جہاں تم ٹھہرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لئے زاد راہ بھی بنا سکتے ہو ۔
سمندری حیوانات محرم اور غیر محرم دونوں کیلئے جائز ہیں ۔ شکار بھی کیا جاسکتا ہے اور سٹاک بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں چونکہ سمندری حیوانات کے شکار اور استعمال کی اجازت دی گئی تھی اس لئے بری حیوانات کے شکار کی دوبارہ ممانعت کردی گئی ۔
(آیت) ” وَحُرِّمَ عَلَیْْکُمْ صَیْْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُماً ۔ البتہ خشکی کا شکار ‘ جب تک تم احرام کی حالت میں ہو ‘ تم پر حرام کیا…
Read the full tafseer →1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں احرام میں دریا کا شکار یعنی مچھلی حلال اور دریا کا کھانا یعنی جو مچھلی پانی سے جدا ہو کر مرگئی اس نے نہیں پکڑی وہ بھی حلال ہے۔ فرمایا یہ تمہارے فائدہ کو رخصت دی۔ پھر کوئی نہ سمجھے کہ حج کے طفیل سے حلال ہے۔ فرمایا کہ اور سب مسافروں کے فائدہ کو مچھلی اگر تالاب میں ہو وہ بھی شکار دریا ہے۔ یہ حکم شکار کا معلوم ہوا احرام کے اندر، اور احرام میں قصد ہے مکہ کا۔ اس شہر مکہ اور گرد و پیش میں ہمیشہ شکار مارنا حرام ہے بلکہ شکار کو ڈرانا اور بھگانا بھی۔
Read the full tafseer →آیت 96 اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ
سمندر اور دریا کا شکار حالت احرام میں بھی حلال ہے۔ حاجی لوگ اگر کشتیوں اور بحری جہازوں کے ذریعے سے سفر کر رہے ہوں تو وہ احرام کی حالت میں بھی مچھلی وغیرہ کا شکار کرسکتے ہیں۔
مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ ج سمندر کی خوراک sea food تو یوں سمجھ لیجیے کہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے غذا کا ایک نیا خزانہ ہے جو سامنے آیا ہے۔ یہ بہت سی خرابیوں اور بیماریوں سے بچانے والی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں یہ آج کل بہت مقبول ہو رہی ہے۔
وَحُرِّم عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ
تم سب اس…
Read the full tafseer →143 یہ اجازت محرم اور غیر محرم سب کو ہے۔ محرم صرف خشکی کے جانوروں کا شکار نہیں کرسکتا۔ سمندر کے شکار کی اجازت میں غالباً مصلحت یہ ہے کہ اگر سمندر میں زاد راہ ختم ہوجائے تو سمندر میں مزید زاد راہ کا حصول خشکی کی نسبت بہت مشکل ہوتا ہے۔
ہر طرح کا سمندری جانور حلال ہے :۔ اس آیت کی رو سے تمام سمندری جانور حلال ہیں۔ البتہ مینڈک اور مگر مچھ یا اسی قبیل کا کوئی اور جانور جو پانی اور خشکی دونوں جگہ زندہ رہ سکتا ہو ان کی حلت میں اختلاف ہے۔ مزید یہ کہ ان سمندری جانوروں کو ذبح کرنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیونکہ وہ پانی سے جدا ہوتے ہی مرجاتے ہیں اور اگر چند لمحے زندہ بھی رہیں تو بھی انہیں ذبح کرنے کی…
Read the full tafseer →303 ۔ بحری مسافروں کے لئے دریائی جانوروں کے شکار کی اجازت ان کے حق میں رحمت خاص ہے۔ یہ ہدایتیں حالت احرام کے بارے میں مل رہی ہیں۔ وانتم حرم کے تحت میں (آیت) ” صید البحر “۔ بحر سے صرف سمندر مراد نہیں، ہر قسم کے دریا، ندی جھیل، تالاب وغیرہ غرض پانی کا ہر ذخیرہ اس کے تحت میں آجاتا ہے۔ عنی بالبحر فی ھذا الموضع الانھار کلھا والعرب تسمی الانھار بحارا (ابن جریر) اصل البحر کل مکان واسع جامع للماء الکثیر (راغب) المقصد فیہ صید الماء فسائر حیوان الماء یجوز للمحرم اصطیادہ ولا نعلم خلافا فی ذلک بین الفقھاء (جصاص) والمراد بالبحر جمیع المیاہ والانھار (کبیر) والمراد بالبحر جمیع المیاہ (معالم) اور دریائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت نمبر 94 تا 100
ترجمہ : اے ایمان والو ! الہ تعالیٰ تم کو ایک چیز سے ضرور آزمائیگا جس کو وہ تمہارے لئے بھیجے گا، اور وہ چھوٹا شکار ہے، جس تک تمہاری رسائی ہوگی اور ان میں سے بڑے (شکار) تمہارے نیزوں کی زد میں ہوں گے، اور ایسا حدیبیہ کے مقام پر ہوا حال یہ ہے کہ وہ حالت احرام میں تھے، وحشی جانور اور پرندے ان کے خیموں میں ان کے پاس بکثرت آتے تھے تاکہ اللہ علم ظہور کے اعتبار سے یہ دیکھے کہ کون اس سے غائبانہ طور پر ڈرتا ہے (بالغیب) یخافہ کی ضمیر سے حال ہے کہ وہ اس کو بغیر دیکھے اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ شکار سے اجتناب کرتا ہے پھر جس نے اس کی (یعنی) شکار کی ممانعت کے بعد حد سے تجاوز…
Read the full tafseer →احل لکم صید البحر تمہارے لئے سمندر سے شکار کرنا حلال کردیا گیا ہے۔
وطعامہ اور اس کی غذا (حلال کردی گئی ہے) طعامہ کی ضمیر یا صید کی طرف راجع ہے یعنی شکار سے بنا ہوا کھانا یا البحر کی طرف راجع ہے یعنی سمندر سے حاصل کیا ہوا کھانا۔ (1) [ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا صید البحر وہ (خوردنی) اشیاء ہیں جو سمندر کے اندر موجود ہوں اور طعام سے مراد وہ (خوردنی) اشیاء ہیں جن کو سمندر نے اگل کر باہر پھینک دیا ہو۔ حارث بن نوفل ؓ راوی ہیں کہ دورانِ حج میں حضرت عثمان ؓ بن عفان کی خدمت میں اس شکار کا گوشت پیش کیا گیا جس کو غیر محرم نے شکار کیا تھا۔ آپ نے اس میں سے…
Read the full tafseer →(96) قوم بنی مدلج دریائی شکار کرتی تھی، انہوں نے دریائی شکار کے بارے میں اور اس کے بارے میں جو دریا پھینک دے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ تمہارے لیے دریائی شکار اور وہ شکار جس کو پانی اوپر پھینک دے، سب حلال کردیا گیا ہے (احرام کی حالت میں) تمہارے اور راہ گزروں کے فائدہ کے لیے البتہ خشکی کا شکار حالت حدود احرام میں اور حرم میں تمہارے اوپر حرام کیا گیا ہے ان باتوں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
Read the full tafseer →اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ۔۔ :”الْبَحْرِ“ سے مراد پانی ہے، اس میں سمندر اور غیر سمندر سب پانی برابر ہیں اور اس میں وہ تمام جانور شامل ہیں جو پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتے، وہ مچھلی ہو یا کوئی اور جانور۔ زندہ بھی پکڑے جائیں تو ذبح کی ضرورت ہی نہیں۔ قرآن و حدیث میں پانی کے شکار کو حلال کہا گیا ہے اور کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں کہ مچھلی کے سوا سب حرام ہیں۔ ”صَيْدُ الْبَحْرِ“ سے مراد پانی کا ہر وہ جانور ہے جو زندہ پکڑا جائے اور ”طَعَام“ سے مراد پانی کا وہ جانور ہے جو وہیں مرجائے اور سمندر یا دریا اسے باہر پھینک دے، یا مر کر پانی کے اوپر آجائے۔ نبی ﷺ سے بھی یہ تفسیر آئی ہے۔ ابن جریر ؓ نے آپ ﷺ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 96
اس میں تیرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) احل لکم صید البحریہ حکم دریائی شکار کو حلال کرنے کا ہے اس سے مراد مچھلیوں کا شکار ہے یہاں بھی الصید بمعنی المصید ہے البحر کی طرف مضاف کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس کے سبب سے ہے۔ البحر کے متعلق گفتگوسورئہ بقرہ میں گزرچکی ہے۔ متاعا مصدر کی بنا پر منصوب ہے یعنی متعتم بہ متاعا۔
مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وطعامہ کا لفظ مشترک ہے اس کا اطلاق ہر کھانے پر ہوتا ہے اور خاص کھانے پر بھی ہوتا ہے جیسے صرف پانی اور گندم، صرف کھجور، صرف دودھ۔ کبھی اس کا اطلاق نیند پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے یہاں اس مراد وہ ہے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت احل لکم صید البحر وطعامہ متاعا لکم سے مراد ہے کہ سمندر جس چیز کو مردہ حالت میں باہر پھینک دیتا ہے۔ تو وہ سمندر کا کھانا ہے۔
(2) امام ابو الشیخ نے قتادہ ؓ کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے اس کی مثل موقوف روایت نقل کی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا سمندر کا شکار سے مراد وہ چیز ہے جو تم خود پکڑو۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ نے لفظ آیت احل لکم صید البحر وطعامہ متاعا لکم کے بارے میں فرمایا صید البحر وہ ہے جو ہم ہاتھوں سے…
Read the full tafseer →اُحِلَّ [ حلال کیا گیا ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] [ صَيْدُ الْبَحْرِ ] [ سمندر کا شکار ] [ وَطَعَامُهٗ ] [ اور اس کا کھانا ] مَتَاعًا لَّكُمْ [ فائدہ مند ہے تمہارے لیے ] [ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ [ اور قافلے والوں کے لیے ] وَحُرِّمَ [ اور حرام کیا گیا ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] صَيْدُ الْبَرِّ [ خشکی کا شکار ] مَا دُمْتُمْ [ جب تک تم لوگ رہو ] حُرُمًا ۭ [ احرام میں ] وَاتَّقُوا [ اور تقوی کرو ] اللّٰهَ الَّذِيْٓ [ اس اللہ کا ] اِلَيْهِ [ جس کی طرف ] تُحْشَرُوْنَ [ تم لوگ جمع کیے جاؤگے ]
Read the full tafseer →احرام میں سمندر کا شکار کرنے کی اجازت
آخر میں فرمایا (اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَ للسَّیَّارَۃِ ) مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے اس میں محرم اور غیر محرم دونوں برابر ہیں پہلے سے دریائی شکار کر کے سفر میں جاتے وقت ساتھ لے گئے یا سفر میں دریائی شکار کرلیں، یہ مسافروں کے لئے درست ہے محرم ہوں یا غیر محرم۔ اور خشکی کا شکار محرم کے لئے حرام قرار دیا گیا خواہ کسی قسم کے احرام میں ہو (احرام عمرہ ہو یا احرام حج یا احرام قرآن ) ۔
(وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ) یعنی جملہ احکام کی پابندی کرو اللہ سے ڈرو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
حکم ہشدہم متعلق بہ شکار درحالت احرام۔
قال اللہ تعالی، یا ایھالذین آمنو لیبلونکم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔
ربط) ۔ پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے ممانعت فرما کر بعض چیزوں یعنی شراب اور جوئے سے اجتناب کا حکم دیا اور اب اس رکوع میں ان بعض چیزوں کے ارتکاب سے منع فرماتے ہیں جن کی حرمت دائمی نہیں بلکہ بعض احوال کے ساتھ مخصوص ہے جیسے شکار کہ وہ صرف حالت احرام اور حدود حرم کے اندر حرام ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ احرام میں اور حرم کے اندر شکار کو حلال نہ سمجھو اور اس کا ارتکاب نہ کرو شکار کی حرمت سے احرام کا احترام اور حرم محترم اور بیت اللہ کی تعظیم و تکریم مقصود ہے نیز شروع سورت میں بھی احرام…
Read the full tafseer →160: شکار کی دو قسمیں تھیں۔ پانی کا شکار یعنی مچھلی اور خشکی کا شکار یعنی پرندے اور چوپاے۔ یہاں تفصیل کردی گئی کہ پانی کا شکار احرام کی حالت میں بھی جائز ہے۔ لیکن جب تک تم احرام میں رہو گے۔ اس وقت تک خشکی کے جانور کا شکار کرنا حرام ہے۔ وَاتَّقُوْا اللہَ الَّذِیْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ اللہ سے ڈرو اور اس کے حکم کی نافرمانی مت کرو آخرت میں اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے اس تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے طیبات کا ذکر کر کے فرمایا کہ پاک اور حلال چیزوں کو از خود حرام نہ ٹھہرائو اور اس سلسلہ میں قسم بھی اٹھا لی ہے تو اسے توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرو اور حلال چیزوں کو استعمال کرتے رہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے محرمات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ جن چیزوں کو دائمی حرام قرار دیا گیا ہے ان سے اجتناب کرو ، شراب جو ائ ، بت اور جوئے کے تیر گندی چیزیں ہیں۔ یہ سب شیطانی افعال ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو سورة کے ابتدائی حصہ میں بھی محرمات اور محاملات کا ذکر تھا اور گزشتہ دروس میں بھی موضوع سخن یہی رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی ہے کہ حلال چیزوں سے استفادہ حاصل کرتے رہو کیونکہ اسی میں تمہاری…
Read the full tafseer →اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّـيَّارَۃِ 0ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا 0ۭ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ 96
حلَال
حَلَّ الشیء حلالًا، قال اللہ تعالی: وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] ، وقال تعالی: هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116]
( ح ل ل ) الحل
اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ حل ( ض ) اشئی حلا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز کے حلال ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] اور جو حلال طیب…
Read the full tafseer →ترکیب : احلّ فعل مجہول صید البحر معطوف علیہ وطعامہ معطوف مجموعہ مفعول مالم یسم فاعلہ متاعا مفعول لہ ہے احل کا۔ حرم جمع حرام کتاب و کتب اے ذو حرم اے احرام الکعبۃ مفعول اول قیاما مفعول ثانی اور اگر جعل بمعنی خلق ہو تو قیاما حال ہوگا۔ اور بیت الحرام بدل ہے الکعبۃ سے والشہر الحرام والہدی والقلائد معطوف میں الکعبۃ پر۔
تفسیر : یہ چار باتیں اس کے فعل کا تاوان ہیں۔ جیسا کہ فرمایا لیذوق وبال امرہ امام مالک و ابوحنیفہ و شافعی و جمہور کے نزدیک اس کو ان تین باتوں میں اختیار ہے جو چاہے کرے سب میں سزا محقق ہے۔ امام احمد دزفر (رح) کہتے ہیں نہیں بلکہ ہر ایک بات اپنے موقع پر کرے اول ہدی مثل بھیجے اور نہ ہو…
Read the full tafseer →اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَ لِلسَّیَّارَۃِ ج وَ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًاط وَاتَّقُوا اللہ َ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (المائدہ : 96)
” اور تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا ‘ جائز کیا گیا ‘ تمہارے اور قافلوں کے زاد راہ کے لیے اور خشکی کا شکار جب تک تم احرام میں ہو تم پر حرام کیا گیا۔ اس اللہ سے ڈرتے رہو ‘ جس کے حضور میں سب حاضر کیے جاؤ گے “۔
احرام کی حالت میں بحری شکار جائز ہے
اللہ تعالیٰ نے دریا اور سمندر کا شکار مُحرِم کے لیے حلال فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس کا کھانا بھی حلال ہے۔ یہ اس لیے فرمایا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
پہلے زمانے میں بحری سفر بڑا طویل اور مشکل ہوا کرتا تھا جیسا کہ کچھ ملکوں کے لیے آج بھی یہ سفر بڑا طویل اور دشوارہوتا ہے ان ملکوں کے لوگ کئی کئی ہفتے بحری سفر کرنے میں مجبور ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زائر اپنے ساتھ ایک حد تک ہی زاد راہ لے سکتا ہے۔ کبھی کبھار بحری سفر کے دوران جہاز کا اپنے راستہ سے بھٹکنے یا کسی بھنور میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سفر کے ایام غیر معینہ مدت تک بڑھ جاتے ہیں اور پہلے زمانے میں یہ اکثر ہوا کرتا تھا کہ باد مخالف کی وجہ سے بحری جہاز کئی کئی دن تک ٹھہرے رہتے تھے اور بسا اوقات جہاز اپنے راستے سے کئی میل دور ہٹ جایا کرتا تھا۔ ان وجوہات کی…
Read the full tafseer →سمندری شکار کی حلّت :
آیت 96: اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ ۔ (حلال کیا گیا تمہارے لئے سمندری شکار) سمندری شکار جس کا کھانا حلال ہے اور وہ بھی جس کا کھانا حلال نہیں۔ وَطَعَامُہٗاور وہ جو اس کے شکار میں سے کھایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے تمام سمندری شکاروں سے انتفاع تمہارے لیے حلال ہے اور اس میں سے جو کھایا جاتا ہے اس کا کھانا درست ہے اور وہ فقط مچھلی ہے۔ مَتَاعًا لَّکُمْیہ مفعول لہ ہے یعنی اس کو تمہارے نفع اٹھانے کے لئے حلال کردیا گیا۔ وَلِلسَّیَّارَۃِ اور مسافروں کے لیے مطلب یہ ہے کہ اس کا کھانا تمہارے فائدہ کے لئے حلال کیا گیا۔ تاکہ رہائشی تو تازہ کھائیں اور مسافروں کے لئے بھی۔ تاکہ وہ زاد راہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 96
تفسیر : (احل لکم صید البحر وطعامہ متاعا لکم وللسیارۃ حلال ہوا تمہارے لیے دریا کا شکار اور دریا کا کھانا تمہارے فائدہ کے واسطے اور سب مسافروں کے ) آیت میں بحر سے تمام پانی مراد ہیں۔
سمندری مخلوق میں کون کون سا شکار حلال ہے
حضرت عمر ؓ نے فرمایا سمندر کا شکار وہ ہے جو شکار کیا جائے اور سمندر کا کھانا وہ ہے جو اس کے ساتھ پھینکا جائے اور ابن عباس ؓ ، ابن عمر، ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ سمندر کا کھنا وہ ہے جس کو پانی ساحل کی طرف مردہ حالت میں پھینک دے اور پانی کے تمام حیوانات دو قسم پر ہیں۔ 1 ۔ مچھلی۔ 2 ۔ اس کے علاوہ جانور۔ مچھلی کی تمام اقسام مری ہوئی ہوں تو بھی حلال ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
(96 ۔ 99) ۔ اوپر ذکر تھا کہ احرام کی حالت میں جنگلی جانوروں کا شکار منع ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں بھی جائز ہے۔ دریا کے لفظ معنوں میں یہاں ندیاں نالے تالاب سب داخل ہیں کیونکہ ان سب جگہ کا مچھلی کا شکار احرام کی حالت میں جائز ہے۔ دریائی جانوروں میں سے کون کون سے جانور حلال ہیں یہ بڑا اختلافی مسئلہ ہے جس کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں ہے 2 ؎۔ جو مچھلی کسی طرح کے شکار میں مری ہوئی ہاتھ آوے اس کے حلال ہونے میں علماء کا اختلاف نہیں ہے ہاں جو مچھلی خود مر کر پانی کے اوپر آجاتی ہے اس کے حلال ہونے میں اختلاف ہے جس کی تفصیل ہر ایک مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہے 3 ؎۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت 94
اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سر انجام دے گا، تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا : (یایھا الذین امنوا) ” اے ایمان والو ! “ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کا امتحان لے (لیبلونکم اللہ بشیء من الصید) ” البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں “ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے…
Read the full tafseer →سمندر کا شکار
قول باری ہے (احل لکم صید البحر و طعامہ ، تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا) حضرت ابن عباس ، حضرت زید بن ثابت، سعید بن جبیر، سعید بن المسیب، قتادہ ، سدی اور مجاہد کا قول ہے کہ سمندر کے شکار سے مراد وہ شکار ہے جو جال کے ذریعے تازہ پکڑا جائے۔
قول باری (وطعامہ) کے متعلق حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ مردہ جانور ہے جسے سمندر باہر پھینک دے۔ حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، سعید بن المسیب، قتادہ اور مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نمکین شکار ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ واضح ہے اس لئے کہ یہ دونوں صنف یعنی شکار شدہ اور غیر…
Read the full tafseer →253 بحری شکار کی حلت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بحری شکار تمہارے لئے حلال کردیا گیا تاکہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ ورنہ اگر تمہیں یہ اجازت نہ ملتی تو تمہیں بڑی مشکل پیش آتی۔ سو اپنے خالق ومالک کی اس عنایت سے فائدہ اٹھاؤ اور دل و جان سے اس کا شکر بجاؤ لاؤ۔ بہرکیف حالت احرام میں خشکی کا شکار تو حرام کردیا گیا لیکن بحری شکار حلال ہے۔ اس کا اگر کوئی موقع ملے تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
254 حالت احرام میں خشکی کے شکار کی حرمت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حرام کردیا تم لوگوں پر خشکی کا شکار جب تک تم حالت احرام میں ہوؤ۔ اس سورة کریمہ میں یہ تیسری مرتبہ خشکی کے شکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور کفارہ
تشریح : احرام کی حالت میں شکار کرنا منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح رب العزت انہیں آزمانا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی حکم عدولی کرے گا تو اس پر جرمانہ ہے اور دردناک سزا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص شکار کرے تو کفارہ لازم ہوگا۔ کفارے کی حد کے لیے فرمایا کہ شکار کئے گئے جانور کے برابر جس کا فیصلہ تم میں سے دو آدمی کریں نذر کے طور پر خانہ کعبہ بھیج دیا جائے اور اسی طرح دو آدمیوں کی رائے کے مطابق مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا روزے رکھے جائیں پہلے یعنی اسلام سے پہلے جو کچھ ہوچکا معاف کردیا گیا ہے مگر خبردار کیا جا رہا ہے کہ اس حکم کے آنے کے بعد اگر کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 94 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
در اصل حرام اور حلال مقرر کرنے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کریم کو اس کا اختیار ہے وہ چاہے جس چیز سے منع کردے یہ اس کی شوکت کا اظہار بھی ہے مگر اس نے امت مرحومہ پر صرف وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو یا تو جسمانی لا ظ سے نقصان دہ تھیں یا روحانی اعتبار سے یا پھر دونوں طرح سے بیک وقت نقصان دہ تھیں ورنہ پہلی امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اچھی اور حلال چیزیں بھی بطور سزا حرام کی جاتی رہیں یہاں بھی حرمت کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں مسلمانوں پر اچھی اور مفید چیز بھی حرام کردی جاتی ہے مگر عذاب یا سزا کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اور نہ لمبے عرصے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
ف 11 اوپر کی آیت میں محرم کے لیے شکار کو حرام قرار دیا اب اس آیت میں بتایا کہ جس طرح حرم کو اللہ تعالیٰ نے وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے سبب امن قرار دیا ہے اسی طرح اسے لوگوں کے لیے جائے امن بنادیا ہے اور دینوی اور اخروی سعادتوں کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے (کبیر) یعنی اہل مکہ کی معاش کا مدار اسی پر ہے کہ لوگ دور دراز سے حج اور تجارت کے ارادے سے یہاں پہنچے ہیں اور ہر قسم کی ضروریات ساتھ لاتے ہیں جس سے اہل مکہ رزق حاصل کرتے ہیں او لوگ یہاں پہنچ کر امن وامان پاتے ہیں حتی کہ جاہلیت میں بھی حرم کے اندر کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے کے قاتل تک کو کچھ نہ کہتا تھا اور عبادت وثواب کے اعتبار سے بہترین جگہ…
Read the full tafseer →(5:96) طعامہ۔ اس کا کھانا۔ اس میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب صید البحر کی طرف راجع ہے۔ یعنی تمہارے لئے پانی کے جانوروں کا کھانا بھی جائز۔ یعنی ان کا جن کو تم شکار نہیں کرتے بلکہ انہیں سمندر خود بخود زندہ یا مردہ خود بخود باہر پھینک دے۔
وللسیارۃ۔ مسافروں کے لئے۔ یعنی تمہارے لئے بھی جو حالت احرام میں ہو اور ان کے لئے بھی جو مسافر ہیں اور حالت احرام میں نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت نمبر 94 تا 96
لغات القرآن : لیبلون (البتہ وہ آزمائے گا) ۔ الصید (شکار) ۔ تنال (پہنچتی ہے۔ پہنچتے ہیں) ۔ رماح (رمح) ۔ نیزے لیعلم (تاکہ وہ جان لے) ۔ من یخاف (کون ڈرتا ہے ؟ ) ۔ لا تقتلوا (تم قتل نہ کرو) ۔ انتم حرم (تم احرام کی حالت میں ہو) ۔ متعمدا (جان بوجھ کر) ۔ لانعم (مویشی۔ جانور) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ ذواعدل (دو انصاف والے) ۔ ھدیا (نیاز۔ منت جو مسجد الحرام بھیجی جائے) ۔ بلغ الکعبۃ (کعبہ تک پہنچنے والا) ۔ عدل (برابر) ۔ لیذوق (تاکہ وہ چکھ لے) ۔ وبال (عذاب۔ سزا) ۔ امرہ (اس کا کام ) ۔ عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا) ۔ سلف (گزر گیا) ۔ عاد (جو پلٹا) ۔ ینتقم (بدلہ لیتا ہے) ۔ عزیز (زبردست ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ان آیتوں میں فرمایا کہ دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں بھی جائز ہے۔ دریا کے لفظ کے معنوں میں یہاں ندیاں، نالے، تالاب سب میں داخل ہیں، ان سب جگہ کا شکار جائز ہے دریائی جانور وہ ہیں جو دریاؤں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ہر قسم کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور نفع پاتے ہیں یہاں حرم واحرام کی حرمت کا لحاظ رکھو۔ پھر فرمایا ظاہر پوشیدہ نیک بد لوگوں کے سب عمل اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں، اور نیک بد کی سزا کا حال اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیا ہے۔ اب ہر ایماندار شخص کو یہ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ نافرمانی کے جرم میں جس کسی کی پکڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی بہت سخت ہے اور جس کسی پر فرمانبرداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
[54] اللہ کا علم تو ہمیشہ ہی سے ہے۔ ایسے موقعوں پر مراد یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے عمل سے بھی یہ کیفیت ظاہر ہوجائے۔
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات میں اور اس قبیل کی آیات میں آداب حرم کا ذکر ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کے لئے تعرض ناجائز ہے ،
البتہ دریا کا شکار یعنی مچھلی پکڑنا اور کھانا درست ہے ، اس میں اختلاف ہے کہ اگر غیر محرم شکار کرے ، تو احرام والے کے لئے کھانا جائز ہے ، یا نہیں ۔
حضرت علی ؓ ، ابن عباس ؓ ، ابن عمر ؓ ، سعد بن جبیر ؓ ، اور طاؤس قطعی حرمت کے قائل ہیں ، امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ محرم اس دقت کھا سکتا ہے ، جبکہ وہ خود شکار نہ کرے اور اس کے ایماء پر شکار کیا جائے ،
امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ محرم بالواسطہ اعانت نہ کرے ‘ تو جائز ہے ، بصورت اعانت ناجائز ۔
Read the full tafseer →-96 حالت احرام میں تمہارے لئے پانی کا شکار کرنا اور اس کا کھانا خود تمہارے اورت مہارے قافلہ کے مسافروں کے فائدہ کی غرض سے حلال کردیا گیا ہے اور جنگل اور خشکی کے وحشی جانوروں کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں ہو تم پر حرام کردیا گیا ہے یعنی دریائی جانوروں کا شکار احرام کی حالت میں حلال ہے اور جنگل کے و حوش کا شکار حرام ہے اور اے اہل ایمان اس اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرتے رہو جس کے حضور میں تم جمع کئے جائو گے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ دریائی جانور وہ ہے کہ جس طرح پانی اس کا مسکن ہے اسی طرح پانی مولد ہو پس بطخ و مرغابی وغیرہ اس سے خارج اور صید بر میں داخل ہے۔
Read the full tafseer →جو شکار منع کیا گیا وہ بری تھا اور احرام کی حالت میں تم بحری شکار کرسکتے ہو :
228: بری شکار محرم کے لئے حرام ہے شکار کرنا بھی اور اس کا کھانا بھی جب کہ خود اس نے کیا ہو یہ شکار کی طرف اشارہ کنایہ کیا ہو اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ شکار کھانے کی غرض سے کیا جائے یا شغل کی وجہ سے جس طرح حرام چیزوں کا شکار دونوں کی ممانعت ہے۔ ہاں شکار کرنے اور تنگ کرنے والی چیزوں کو قتل کرنے میں جو فرق ہے اس کو ہر ایک انسان اچھی طرح سمجھتا ہے۔ یہ بات اس لئے کہی گئی ہے کہ بعض چیزوں کو مار لینے کی آپ (علیہ السلام) نے اجازت دی ہے جن کا ذکر احادیث میں موجود ہے چناچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ ابن عمر ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
Sequence of Verses
A report from Sayyidna Abu Hurairah ؓ appearing in the Musnad of Ahmad, quoted in Al-Lubab, says: When the Verse forbidding drinking and gambling had been revealed, some people asked the Holy Prophet ﷺ that there were many people who drank wine and lived off earnings from gambling and then died before these were forbidden. What would happen to them, now that we know about these being حَرَام haram? Thereupon, the verse : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا (On those who believe and do good deeds, there is no sin ...) was revealed.
In a verse appearing earlier (87): يَا أَيُّهَا…
Read the full tafseer →112. Since one often runs out of provisions during a voyage and is left with no alternative but to catch sea creatures, fishing in the sea has been made lawful.
Read the full tafseer →