Ayah 5:11 عہود و مواثیق کی پابندی کا حکم : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ پورا کرو اپنے عہدوں کو۔ " عقود " دراصل جمع ہے " عقد " کی۔ جس کے معنیٰ آتے ہیں گانٹھنے، باندھنے اور گرہ لگانے کے۔ اور عہد و پیماں بھی چونکہ درحقیقت بندھن ہی ہوتے ہیں اس لئے یہاں ان کو " عقود " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو " عقود " سے مراد ہیں جملہ عہود۔ خواہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہوں یا تمہارے آپس میں ایک دوسرے کے درمیان۔ کہ لفظ کا عموم و اطلاق سب کو شامل ہے۔ بہرکیف ان سب کو پورا کرنا تم پر تمہارے ایمان و عقیدے کی بنا پر لازم و ضروری ہے۔ اس لئے ان کے پورا کرنے کا حکم و ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ تمام احکام اور تکالیف شرعیہ کو شامل ہے۔ (معارف، صفوہ، ابن کثیر، محاسن التاویل، روح وغیرہ) ۔ عہود و مواثیق کی پابندی اور ان کے التزام کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ یہاں اس سورة کریمہ کا آغاز ہی اسی حکم و ارشاد سے فرمایا گیا ہے۔ اس لئے عہد شکنی اور غدرو بےوفائی کو منافق کی نشانی قرار دیا گیا۔ چناچہ صحیح حدیث میں منافق کی جو تین نشانیاں بیان فرمائی گئی ہیں ان میں سے ایک ہے ۔ " اِذَاعَاھَدَ غَدَرَ " ۔ کہ " جب وہ کوئی عہد و پیمان کرتا ہے تو اس کو توڑتا اور عہد شکنی و غداری کا ارتکاب کرتا ہے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
2 چوپایہ جانوروں کی حلت کا بیان :ــ یعنی یہ اضافت بیانیہ ہے جو کہ اصل میں " مِنْ " کے معنیٰ میں ہوتی ہے۔ جیسے " ثَوْبُ خزٍّ " اور " خَاتَمُ فِضَّۃٍ " وغیرہ میں ہے۔ (المحاسن، الروح وغیرہ) ۔ اور مراد اس سے وہ گھریلو پالتو جانور ہیں جن کو عام طور پر گھریلو ضرورتوں کے لئے پالا جاتا ہے۔ جیسے اونٹ، گائے، بیل اور بھیڑ، بکری۔ اور یہ کل آٹھ قسمیں ہوگئیں۔ اور انہی کے حکم میں ہیں وہ سب جنگلی جانور بھی جو انہی کے مانند ہیں۔ جیسے ہرن اور نیل گائے وغیرہ۔ (معارف، المراغی، الصفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف " انَعام " کا اطلاق خاص گھریلو پالتو جانوروں پر ہوتا ہے۔ یعنی بھیڑ بکری اونٹ اور گائے بیل۔ جیسا کہ آگے سورة اَنعام کی آیت نمبر 143 اور نمبر 144 میں اس کی تصریح فرما دی گئی ہے اور اس کی طرف " بَہِیْمَۃ " کی اضافت سے واضح فرما دیا گیا کہ اس قبیل کے سارے چوپائے تمہارے لئے حلال کردیے گئے خواہ وہ گھریلو ہوں یا وحشی اور جنگلی۔ اور حلال کردیے گئے کا مطلب یہ ہے کہ ان سب پابندیوں کو ختم کردیا گیا جو تم لوگوں نے از خود اپنے اوپر اپنے اوہام اور خرافات کی بنا پر لگا رکھی تھیں یا گزشتہ صحیفوں کی روایات کے باعث اپنے اوپر عائد کر رکھی تھیں۔ سو اب ان سب کو تم سے اٹھا لیا گیا۔ اور ایسے تمام جانوروں کو تمہارے لئے حلال کردیا گیا۔ سو ان کو کھاؤ برتو اور اللہ کا شکر ادا کرو ۔ وباللہ التوفیق -
3 حرام جانوروں کا استثنائ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ چوپایہ قسم کے سب جانوروں کو تمہارے لئے حلال قرار دیا گیا سوائے ان کے جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یعنی مردار اور دم مسفوح وغیرہ۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ (ابن کثیر، معارف اور محاسن وغیرہ) ۔ سو ایسے تمام جانور حرام ہیں اس خباثت کی بنا پر جو کہ ان کے اندر پائی جاتی ہے خواہ وہ ان کی فطرت اور طبیعت میں پائی جاتی ہو یا انسان کے کسی عمل وغیرہ کی وجہ سے ان میں سرایت کرگئی ہو۔ سو ایسے جانوروں کو چھوڑ کر باقی سب تمہارے لیے حلال اور مباح ہیں کہ یہ سب پاکیزہ اور ان طیبات میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے اپنے بندوں کی بہتری اور بھلائی اور ان کی خدمت و ضرورت کے لئے پیدا فرمایا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود وقیود کے اندر رہ کر تم لوگ اس کی پیدا کردہ اور عطا فرمودہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اس واہب مطلق ۔ جَلَّ جَلَالُہٗ ۔ کا شکرادا کرو جس نے تم کو ان سے نوازا ہے تاکہ اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن جائیں ۔ وباللہ التوفیق -
4 اللہ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے : کہ حاکم حقیقی اور مالک مطلق وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ اور احکام خداوندی کے امتثال اور ان کی پابندی ہی میں اس کے بندوں کے لئے دارین کی فوزو فلاح کا راز مضمر ہے۔ کیونکہ وہ حاکم بھی ہے اور حکیم بھی۔ حاکم ہونے کے اعتبار سے وہ جو چاہے حکم فرمائے اس کو اسکا پورا حق بھی ہے اور اختیار بھی۔ اور حکیم ہونے کے اعتبار سے اس کا ہر حکم کمال علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ پس کامیابی اور فوز و فلاح سب کی سب اسی کے احکام ماننے اور انکو اپنانے میں مضمر ہے کہ اس کا ہر حکم و ارشاد کمال علم و حکمت اور رحمت و عنایت پر مبنی ہے۔ کیونکہ وہ حاکم و حکیم ہونے کے ساتھ ساتھ رحمن و رحیم اور علیم وخبیر بھی ہے۔ اور یہ عظمت شان اس وحدہ لاشریک کے حکم و ارشاد کے سوا اور کسی بھی حکم و ارشاد میں ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ پس صحت و سلامتی اور صلاح و فلاح اسی کے اوامرو ارشادات سے وابستہ اور انہی پر مبنی ومو قوف ہے۔ جو لوگ اس سے محروم و منحرف ہیں وہ سراسر اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس حکیم مطلق اور رحیم مطلق کے اوامرو ارشادات میں سراسر اس کے بندوں ہی کا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس لئے بندوں کا کام ہے کہ وہ صدق دل سے اس کی فرمانبرداری کریں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 5:25 " شعائر اللہ " سے مراد اور اہل بدعت کی ایک تحریف کا جواب : " شعائر اللہ " سے مراد وہ خاص چیزیں ہیں جو اسلام کی خاص نشانیاں اور اس کی علامتیں قرار پاتی ہوں۔ اور ان سے اسلام کی عظمت و خصوصیت اور اس کی شان و شوکت ظاہر ہوتی ہو۔ جیسے اذان، نماز، حج، عمرہ اور قربانی وغیرہ۔ ( معارف ازکاندھلوی، محاسن التاویل للدمشقی، جامع البیان للحسینی وغیرہ) ۔ اسی لئے حضرت حسن بصری نے اسلام کے جملہ احکام و شرائع کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ نیز فرمایا گیا ۔ " شعائر اللّٰہ مَحَارِمُہُ " ۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی " شعائر اللہ " سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کو اللہ پاک نے حرام فرمایا ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں سے کسی کو بھی حلال نہ سمجھنا۔ ( ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ ) ۔ اور ابن جریر طبری نے اسی کو راحج قرار دیا ہے۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ پس اہل بدعت کے بعض بڑے تحریف پسندوں کا بزرگوں کے مزارات کو بھی اس میں شامل کرنا دین حق کی تعلیمات مقدسہ کے خلاف محض ان کی اپنی ایک خانہ ساز منطق اور سخن طرازی ہے جو کہ دین کی تحریف کے زمرے میں آتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ مزارات اور پختہ قبریں تو بنانا ہی سرے سے ممنوع اور اسلام کی سچی تعلیمات کے خلاف ہے۔ تو پھر ان کے شعائرِ دین میں سے ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ حضور نے صاف وصریح طور پر اس سے منع فرمایا ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے ۔ " نَہٰی رَسُوْلُ اللہ اَنْ یُّجََّصَّصَ الْقَبْرُ وَاَنْ یُّبْنٰی عَلَیْہِ وَاَنْ یُّقْعَدَ عَلَیْہِ " ۔ کہ " آنحضرت ﷺ نے قبر کو پختہ کرنے، اس پر عمارت بنانے اور اس پر بیٹھنے اور میلہ لگانے سے منع فرمایا ہے "۔ (صحیح مسلم : ج 1 ص 262، مشکوۃ : ج 1 ص 48 عن جابر ؓ) ۔ امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ " قبر پر بنائی جانے والی عمارت اگر بانی کی اپنی ملکیت میں ہو تو مکروہ ہے۔ اور اگر عام قبرستان میں ہو تو حرام ہے۔ امام شافعی اور دوسرے حضرات نے اس کی تصریح کی ہے اور امام شافعی " کتاب الام " میں تحریر فرماتے ہیں کہ " میں نے خود مکہ مکرمہ میں اماموں کو قبر پر بنی عمارت کو ڈھا دینے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے۔ اور " وَلاقَبْرًا مُشْرِفًا " والی حدیث اس کی تائید کرتی ہے " (شرح امام نووی حدیث مذکورہ بالا) ۔ اس میں " وَلا قَبْرًا مُشْرِفًا " سے اشارہ اس واقعے کی طرف ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ۔ ؓ ۔ کو اس کام پر مامور فرمایا تھا کہ " جاؤ اور جو قبہ دیکھو اسے گرا دو ۔ اور جو اونچی قبر نظر آئے اسے برابر کردو "۔ (مسلم : ج 1 ص 313، مشکوۃ : ج 1 ص 148 وغیرہ) ۔ اسی لئے ثقہ حضرات اہل علم، فقہاء و محدثین اور کبار علماء و مفسرین نے قبروں پر عمارتیں اور جبے قبے بنانے کو ممنوع اور حرام لکھا ہے۔ اور ان کے ھدم یعنی گرا دینے کا حکم و فتویٰ دیا ہے کہ یہ صاف وصریح نصوص کی خلاف ورزی اور ان کا معارضہ ہے۔ اور یہ شرک کا بڑا ذریعہ اور دروازہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ حضرت امام محمد فرماتے ہیں کہ " ہم قبروں کو پختہ بنانے اور ان کی لپائی کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں " کیونکہ آنحضرت ﷺ نے قبر کو پختہ کرنے اور اس کو مربع شکل بنانے سے منع فرمایا ہے۔ یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی حضرت امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ (کتاب الآثار امام محمد ص 96 ۔ 97) ۔ علامہ حلبی الحنفی لکھتے ہیں کہ قبر کو پختہ بنانا اور اس کی لپائی کرنا مکروہ ہے۔ اور یہی قول ہے تینوں ائمہ کا۔ پھر آگے فرماتے ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ سے روایت ہے کہ " قبر پر مکان یا قبہ یا اس کی مانند کوئی اور عمارت بنانا مکروہ ہے۔ اور حدیث مذکور اس کی دلیل ہے۔ (الکبیری : ص 599) ۔ امام سراج الدین اودی الحنفی (المتوفی فی حدودسہ 00 7 ھ) لکھتے ہیں " وَیَکْرَہُ الْبِنائُ عَلَی القبُور " ۔ " قبروں پر عمارت بنانا مکروہ ہے "۔ ( فتاویٰ سراجیہ : ص 24) ۔ اسی طرح کی تصریحات امام قاضی خان الحنفی ۔ المتوفی سنہ 93 ۔ نے اپنے فتاویٰ ج 1 ص 93 میں، علامہ ابن الہمام الحنفی ۔ المتوفی سہ 861 ھ۔ نے فتح القدیر ج 4 ص 472 میں، علامہ ابن عابدین الحنفی نے فتاویٰ شامیہ ج 1 ص 101 میں، فتاوی عالمگیری ج 1 ص 176 میں، ملا علی قاری الحنفی نے مرقات ج 1 ص 246 میں اور علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی الحنفی ۔ المتوفی سنۃ 1225 ھ۔ نے اپنی مشہور فارسی کتاب " مالا بدمنہ " ص 95 میں اور علامہ محمود آلوسی الحنفی نے اپنی شہرئہ آفاق تفسیر روح المعانی ج 5 ھ ص 219 میں فرمائی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ایسے مواقع پر مکروہ سے مراد حرام ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو ابو المکارم ج 3 ص 159، دلیل الطالب ص 502 وغیرہ۔ سو ان صاف وصریح نصوص اور ثقہ علماء و فقہائِ کرام کی تصریحات کے مطابق تو قبر پر کوئی عمارت بنانا ہی سرے سے منع اور حرام ہے، چہ جائے کہ پختہ قبروں اور ان غیر مشروع مزاروں کو شعائر اللہ میں شمار کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سوا لاکھ انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ اور اتنے ہی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ صحابہ کرام ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ میں سے چند ایک ہستیوں کے سوا اوروں کی قبروں کا کوئی نام و نشان بھی کہیں نہیں ملتا۔ اور یہ تک پتہ نہیں کہ وہ کہاں فوت ہوئے تھے اور انہیں کہاں دفن کیا گیا تھا۔ اب آپ دیکھئے کہ اسلام کا مزاج کیا ہے اور اس کی تعلیمات کیا کہتی ہیں اور اہل بدعت کے ایسے مفتی صاحبان کیا فتوے جڑتے اور کیا درس دیتے ہیں ! !۔ اور وہ بھی قرآن حکیم کے حواشی میں اور تفسیر قرآن کے نام سے۔ سو یہ اللہ پر جرأت اور جسارت کی کس قدر شرمناک اور کتنی ہولناک مثال ہے۔ اور اس سے بڑھ کر تحریف اور کیا ہوسکتی ہے ؟ کیا ان لوگوں کے دل خوف خدا سے اس حد تک عاری ہوگئے ہیں ؟ ۔ فالی اللہ المشتکیٰ وَھُوَ الْمُستَعَانُ فِیْ کُلِّ حیْنٍ وَّ اٰن ۔ بہرکیف شعائر اللہ کے ادب و احترام کا لحاظ و پاس ضروری ہے کہ یہ دین حق کی تعظیم و تکریم کا مقتضی ہے ۔ وباللہ التوفیق -
6 اشہر حرم کی بےحرمتی کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی تم بےحرمتی کرنا حرمت والے مہینوں کی۔ـ یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب کی، کہ ان میں زمانہ جاہلیت میں لڑائی کرنا ممنوع تھا۔ اب اگرچہ جمہور کے نزدیک یہ حرمت ختم اور منسوخ ہوچکی ہے، جیسا کہ اس کا ذکر وبیان آگے سورة توبہ میں آئے گا، لیکن اولیٰ اور بہتر اب بھی یہی ہے کہ ان میں جنگ و قتال کا آغاز نہ کیا جائے۔ (ابن کثیر، معارف، محاسن وغیرہ) ۔ جبکہ اہل علم کے ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ اشہر حرم کی یہ حرمت اب بھی باقی ہے اور اسلام نے اس کو منسوخ نہیں کیا بلکہ اس کو اور پکا کیا ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ مگر جمہور کے نزدیک ان کی حرمت ختم ہوچکی ہے۔ البتہ ان میں جنگ کی پہل کرنا اب بھی درست نہیں۔ بہرکیف شروع میں اور ملت ابراہیمی میں ان مہینوں کا ایک خاص احترام تھا۔ اور ان میں جنگ وجدال اور لڑائی بھڑائی بہرحال ممنوع و محظور تھی۔ اور اسطرح ان کے اندر لوگوں کو امن وامان کی فضا نصیب ہوتی تھی۔ اور ان مہینوں کی یہ حرمت دراصل حج اور عمرہ ہی کے احرام کی بنا پر تھی تاکہ اس طرح لوگ ان مہینوں کے اندر حج اور عمرہ کی یہ مقدس عبادتیں امن و سکون کے ساتھ ادا کرسکیں۔
7 اِحرام سے فراغت کے بعد شکار کی اجازت و اباحت کا بیان : یعنی { فاَصْطَادُوْا } کا یہ امر اباحت کے لئے ہے نہ کہ لزوم و وجوب کے لئے۔ یعنی احرام سے فارغ ہونے کے بعد شکار نہ کرنے کی پابندی تم سے اٹھا لی گئی۔ اب اگر تم چاہو تو شکار کرسکتے ہو۔ یہ نہیں کہ شکار کرنا ضروری اور مامور بہ ہے۔ کیونکہ شکار کی حرمت تو صرف ارض حرم میں اور حالت اِ حرام میں تھی۔ اور جب تم لوگ مناسک پورے کرکے احرام سے فارغ ہوچکے ہو تو اب تمہارے لیے شکار کی حرمت بھی ختم ہوگئی۔ کیونکہ شکار کی ممانعت اور یہ پابندی عارضی اور وقتی تھی جو کہ احرام کے باعث تھی۔ اور جب وہ باعث ختم ہوگیا تو اب شکار کی ممانعت بھی ختم ہوگئی۔ اور شکار کی اجازت بحال ہوگئی۔ سو شکار کی حرمت حرم میں اور حالت احرام میں تھی اور بس۔ لہذا اس کے بعد اگر تم لوگ شکار کرنا چاہو تو کرسکتے ہو (المراغی، الصفوۃ وغیرہ ) ۔
8 زیادتی کے جواب میں زیادتی نہ کرنے کی ہدایت : سبحان اللّہ ! ۔ کیسی عمدہ اور پاکیزہ تعلیم ہے کہ دوسروں کی زیادتی کے جواب میں تم زیادتی پر نہ اتر آنا بلکہ ہمیشہ ضبط و تحمل اور عدل و انصاف ہی سے کام لینا کہ تمہارا دین بدلہ و انتقام کا نہیں حق و انصاف کا دین ہے۔ جس میں عفو و درگزر اہم مکارم میں سے ہے۔ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تھا اور آپ ﷺ سب کو حدیبیہ کے مقام سے ہی واپس ہونا پڑا تھا۔ تو اس بنا پر اہل ایمان کو یہ تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ کہیں اس کے بدلہ و انتقام میں تم لوگ ان پر زیادتی نہیں کرنا کہ زیادتی بہرحال بری اور ممنوع ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عدل و انصاف پر مبنی پاکیزہ تعلیمات ہیں اس دین حنیف کی جن میں انتقام اور جذباتیت کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اسلام عفو و درگزر کی تعلیم دیتا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَر اِنَّ ذَالِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْر } ۔ ( الشوریٰ : 43) یعنی " جس نے صبر و برداشت اور عفو و درگزر سے کام لیا تو یقینا یہ بڑے عزم و ہمت کے کاموں میں سے ہے " ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَعلٰی مَا یُرِیْد وَھُوَ فَعَّالٌ لِمَا یُرِیْد ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
9 باہمی تعاون کے بارے میں ایک عظیم الشان اصول و ضابطہ : کہ " ایک دوسرے کا تعاون، نیکی اور تقویٰ کی بنیاد پر کرو نہ کہ گناہ اور زیادتی کی بنیاد پر " ۔ سبحان اللہ !۔ کتنا عمدہ اور جامع اصول ہے کہ نیکی اور تقویٰ کی بنیاد پر ایک دوسرے کا تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی کی بنیاد پر نہیں۔ اگر اسی ایک ارشاد ربانی کو آج کے مسلمان پورے طور پر اپنا دستور اور نصب العین بنالیں تو معاشرے کی بگڑی کس قدر بن سکتی ہے۔ مگر واضح رہے کہ یہ باہمی تعاون اور مدد اسباب کے درجے میں ہے کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب۔ لہذا اس سے اس خلاف اسباب اور خرق عادت مدد و امداد کے جواز پر استدلال نہیں کیا جاسکتا جو کہ مشرک لوگ کرتے ہیں۔ بس اس موقع پر اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کا یہ کہنا بالکل ایک لغو اور بےتکی بات ہے " کہ اس سے معلوم ہوا کہ غیر خدا سے مدد لینا جائز ہے "۔ کیونکہ یہاں مردوں سے یا خلاف اسباب مانگنے کی تعلیم نہیں دی جا رہی۔ بلکہ دنیاوی اسباب و وسائل کے درجے میں باہمی تعاون و امداد کے لئے فرمایا جا رہا ہے۔ جس میں کسی کا بھی کوئی اختلاف نہیں۔ پس استمداد و استعانت کی جو قسم ممنوع و محظور ہے اس کے ثبوت و وجود کا یہاں کوئی سوال ہی نہیں۔ اور جس کا ذکر و ثبوت یہاں پر موجود ہے اس کا نہ کسی کو انکار ہوسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی اختلاف ہے۔ سو اہل بدعت کی مت مار دی گئی جو اس طرح کی نصوص کریمہ سے اپنے شرکیہ عقائد اور مافوق الاسباب استمداد و استعانت کے جواز کیلئے دلیل کشید کرنے کی سعی مذموم کرتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان بون بعید ہے ۔ اللہ تعالیٰ فکر و نظر کی کجی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 5:310 نذر و نیاز کے بارے میں اہم اور بنیادی تعلیم : یعنی غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز کی حرمت اور کلمہ " مَا " کے عموم و شمول کا بیا ن۔ یعنی " مَا " کا کلمہ عام ہے جو کہ غیر اللہ کی نذر و نیاز کی ہر شکل کو شامل ہے۔ خواہ وہ کوئی جانور ہو یا کوئی غلہ اور شیرینی اور مٹھائی وغیرہ۔ کیونکہ کلمہ " مَا " کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ اور اصل یہی ہے کہ لفظ کو اپنے ظاہر اور عموم پر رکھا جائے۔ الا یہ کہ ایسا کرنا متعذر ہو یا کوئی قرینہئِ صارفہ ایسا پایا جاتا ہو جس کی بنا پر ظاہر اور متبادر معنیٰ مراد نہ لیا جا سکتا ہو۔ اور یہاں ایسی کوئی بھی بات موجود نہیں۔ اور دوسرے اس لئے کہ غیر اللہ کے نام کے ذبیحے کا ذکر اس کے کچھ ہی بعد اسی آیت کریمہ میں اس صراحت سے موجود و مذکور ہے ۔ { وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُب } ۔ اب اگر { مَا اُہِلَّ } میں بھی یہی مراد لیا جائے تو پھر { وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ } کا کوئی فائدہ نہیں رہ جاتا۔ اسی لئے حضرت شاہ عبد العزیز وغیرہ جیسے ثقہ حضرات اہل علم نے بھی " مَا " کو اپنے ظاہر اور عموم ہی پر رکھا ہے۔ سو جو بھی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی خوشنودی کیلئے نامزد کی جائے گی وہ حرام ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز کی اس حرمت کی وجہ یہ ہے کہ یہ غیر اللہ کی عبادت و بندگی ہے جو کہ شرک اور حرام ہے۔ اور اس سے کھانا ان کے اس شرک میں حصہ دار بننا ہے۔ اور اس سے راضی ہونا ہے جو کہ ممنوع و حرام ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف نذر و نیاز چونکہ عبادت ہی کا حصہ اور اسی کی ایک شکل ہے، لہٰذا یہ اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کا حق ہے۔ اس کے سوا کسی اور کے لئے ایسا کرنا شرک ہوگا جو کہ ممنوع اور حرام ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَعلاَ ۔ کیونکہ عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
11 غیر اللہ کے نام کی نامزدگی کی حرمت کا بیان اور اہل بدعت کے مغالطے کی تردید : یعنی اس کے تقرب کے لئے۔ جیسا کہ مشرکین عرب اپنے بتوں کے نام پر سانڈ چھوڑ دیتے تھے اور ہندوستان میں ہندو اپنے دیوتاؤں کے نام چھوڑتے ہیں۔ اور جاہل مسلمان اپنے بزرگوں کے نام پر۔ جیسے " شیخ سدو کا بکرا "، " سید احمد کبیر کے نام کی گائے " وغیرہ وغیرہ۔ پس غیر اللہ کے نام سے نامزدگی اور اس شرک کی بنا پر وہ جانور ایسا ناپاک ہوجاتا ہے جیسا کہ خنزیر۔ اسی لئے یہاں اس کا ذکر { لحم الخنزیر } یعنی " خنزیر کے گوشت " کے ساتھ ملا کر فرمایا گیا ہے۔ لہذا جس طرح خنزیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے سے پاک نہیں ہوسکتا، اسی طرح ایسا جانور بھی ذبح کرنے سے پاک نہیں ہوسکتا جو غیر اللہ کے نام پر چھوڑا گیا ہو اور اس کیلئے نامزد کیا گیا ہو۔ اور غیر اللہ کے نام پر اور اس کے تقرب کے لئے ایسا کرنے والا مرتد اور اس کا ذبح حرام ہوگا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : اکلیل ج ا ص 81 للعلامہ شیخ زادہ، الدرالمختار ص 399، البحرالرائق ج 2 ص 298، الشامی ج 3 ص 175، فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 229، شرح النووی لصحیح مسلم ج 2 ص 161، البحر المحیط ج ص 489 تفسیر عزیزی ج 2 ص 38 و فتاویٰ عزیزیہ ج 1 ص 56 وغیرہ وغیرہ) ۔ اور " اِہلال " کا لفظ دراصل ماخوذ و مشتق ہے " ہلال " سے۔ اور " ہلال " شروع میں طلوع ہونے والے نئے چاند کو کہا جاتا ہے۔ کیونکہ عربوں کا طریقہ تھا کہ وہ نئے چاند کو دیکھ کر خوشی اور مبارک بادی کے انداز میں کہا کرتے تھے " الہلال الہلال واللہ " ۔ " چاند چاند، نیا چاند اللہ کی قسم ! "۔ سو اسی سے یہ لفظ یعنی " اِہلال " مطلق رفع صوت یعنی آواز اٹھانے کے معنیٰ میں استعمال ہونے لگا۔ سو { مَا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہ } کا معنیٰ ہوگا " وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے "۔ اور اس سے مقصود اس کی تعظیم ہو۔ کیونکہ یہ سب چیزیں جب مخلوق اللہ پاک کی ہیں تو پھر ان پر نام بھی اسی وحدہٗ لاشریک کا لیا جائے۔ اور اس سے تقرب و خوشنودی بھی اسی کی مقصود ہونی چاہیئے۔ ورنہ ایسا ذبیحہ خنزیر کی طرح حرام ہوجائے گا۔ لہٰذا اہل بدعت کا اپنی مطلب برآوری کے لئے اس کو " عبد اللہ کی گائے "، " عقیقے کا بکرا " اور " ولیمہ کے جانور " جیسی نسبتوں پر قیاس کرنا باطل و مردود اور قیاس قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ ان میں سے کسی بھی نسبت میں غیر اللہ کے لئے تقرب کا کوئی سوال نہیں۔ بلکہ ایسی تمام مثالوں میں نسبت دین کے کسی خاص حکم کی تکمیل و تعمیل کے اعتبار سے ہے کہ " عبداللہ کی گائے " میں نسبت ملکیت کے اعتبار سے ہے۔ اور دوسری دونوں مثالوں میں عقیقہ اور ولیمہ کے دو مسنون حکموں کے اعتبار سے ہے۔ پس نہ اس میں عبد اللہ کے تقرب کا کوئی سوال ہے اور نہ عقیقے والے مولود اور ولیمہ والے زوجین یا ان میں سے کسی ایک کے تقرب یا کوئی پاس ولحاظ کا۔ پس اہل بدعت کا یہ قیاس قیاس مع الفارق ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کی یہ بات بھی سراسر باطل و مردود ہے کہ ۔ { اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ } ۔ کا استثناء { مَا اُہِلَّ بِہ } کو لاحق ہوگا۔ کیونکہ جمہور مفسرین کرام کا اجماع و اتفاق ہے کہ یہ استثناء شروع کی چار چیزوں کو چھوڑ کر اس کے بعد والی اشیاء یعنی " مُنْخَنِقَۃ "، " مَوْقُوْذَۃ " وغیرہ کے ساتھ ہے نہ کہ اس سے پہلے ذکر فرمودہ اشیاء کے ساتھ۔ ورنہ ان لوگوں کی یہ نرالی منطق اگر تسلیم کرلی جائے تو پھر " مَیْتَۃ "، " دم " اور " لَحْمُ الْخِنْزِیر " کے بارے میں بھی وہی کچھ ماننا پڑے گا جو وہ { مَا اُہِلَّ بِہ } کے بارے میں مانتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایساتو یہ لوگ بھی نہیں مان سکتے ۔ وَمَزِید التَّفصِیْلِ فی المُفَصَُّل اِنْ شَاء اللّٰہُ العزیــــز وبیدہ ازمۃ التوفیق -
12 تذکیہ شرعی کے ذریعے حلت کا استثنا : سو ارشاد فرمایا گیا " مگر جس کو تم ذبح کرلو "۔ یعنی اس کے مرنے سے پہلے شرعی طریقہ ذبح کے مطابق تو وہ حلال و پاک ہے۔ یعنی " مُنْخَنِقَۃ "، " مُـوْقُوْذَۃ "، " مُتَرَدِّیَۃ " اور " نَطِیْحَۃ " میں سے جس کو بھی تم زندہ پالو اور اس میں زندگی کی رمق باقی ہو۔ مثلاً ذبح سے پہلے ان میں کوئی ایسی حرکت پائی جائے جس سے اس کے زندہ ہونے کا ثبوت مل سکے۔ جیسا کہ مختلف آثار و روایات میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلاً حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ " مُنْخَنِقَۃ "، " مُـوْقُوْذَۃ "، " مُتَرَدِّیَۃ " اور " نَطِیْحَۃ " میں سے جسکو بھی ذبح کرنے کا موقع تم کو ملے کہ وہ اپنے ہاتھ پاؤں کو ہلا رہا ہو تو تم اس کو ذبح کر کے کھالو۔ (محاسن التاویل، المراغی اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو ایسا جانور حلال ہے اور اس کا کھانا جائز ہے کہ اس کو مرنے سے پہلے شرعی طریقہ سے ذبح کردیا گیا اور اس سے دم مسفوح نکل گیا اور باعث حرمت کا ازالہ ہوگیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
13 غیر اللہ کے تقرب کیلئے ذبح کی جانے والی چیز حرام ہے : سو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نیز جس کو ذبح کیا گیا ہو آستانوں پر غیر اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کہ یہ بھی حرام ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ۔ { وَمَا اُہِلَّ لِغَیْرِاللّٰہِ } ۔ میں ذبح کی قید لگانا صحیح نہیں۔ ورنہ پھر۔ { وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ } ۔ کے ذکر کا کوئی خاص فائدہ باقی نہیں رہ جاتا۔ " نُصُب " کا لفظ یا تو مفرد ہے اور جمع اس کی " اَنْصَاب " ہے۔ جیسے " عنق " کی جمع " اَعناق " اور " قفل " کی جمع " اَقفال " کی اور یا یہ لفظ جمع ہے۔ مفرد اس کا " نِصَاب " ہے۔ جیسے " کُتُب " جمع ہے " کتاب " کتاب کی۔ بہرکیف " نصب " ہر ایسے پتھر وغیرہ کو کہا جاتا ہے جس کو بطور نشانی کسی جگہ گاڑ دیا جائے اور اس کی پوجا اور تقرب کے لیے لوگ اس کے پاس آئیں اور وہاں قربانیاں کریں اور بھینٹ چڑھائیں۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے۔ اور اسی بنا پر ان لوگوں نے بیت اللہ کے پاس تین سو ساٹھ بت گاڑ رکھے تھے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور مشرکین مکہ اپنے ان خود ساختہ معبودوں اور من گھڑت بتوں کے لئے طرح طرح کی قربانیاں دیتے اور بھینٹ چڑھایا کرتے تھے۔ اور ایسی قربانیاں اور بھینٹیں چونکہ غیر اللہ کے تقرب کے لئے ہوتی ہیں اس لئے ایسا کرنا شرک ہے۔ اور اس طرح کی نذر و نیاز سے کھانا حرام ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم مِنْ اَنْوَاع الشِّرْکِ وَشَوَائِبِہ ۔
14 " اِحْداث فی الدِّین " کی ممانعت اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : اس آیت شریفہ کے بارے میں جب یہود کے ایک گروہ نے حضرت عمر۔ ؓ ۔ وغیرہ بعض صحابہ کرام سے عرض کیا کہ اگر یہ آیت ہمارے دین میں نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو عید اور جشن کے طور پر مناتے۔ تو حضرت عمر۔ ؓ ۔ نے فرمایا کہ مجھے وہ دن بھی خوب معلوم ہے جس دن یہ آیت اتری۔ اور وہ وقت بھی کہ جس میں یہ نازل ہوئی۔ وہ دن جمعہ کا تھا اور وقت عرفہ کی شام کا۔ مطلب یہ کہ ہمیں ازخود کسی جشن اور عید کی بدعت نکالنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ہمارے لئے ہمارے دین نے پہلے سے ہی عرفہ اور جمعہ کی جن دو عیدوں کو جمع فرما دیا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ یعنی چونکہ ہم اتباع کرنے والی امت ہیں ابتداع ۔ بدعتیں نکالنے ۔ والی نہیں، اس لئے ہم ایسے کسی جشن کی بدعت کے قائل اور روادار نہیں۔ سو کتنا سیدھا صاف اور واضح مطلب ہے حضرت عمر۔ ؓ کے اس ارشاد کا۔ لیکن اہل بدعت کے بعض رؤساء و زعماء نے حسب عادت مالوفہ اس سے عید میلاد کے جواز پر استدلال کیا ہے کہ ان لوگوں کو یہاں پر لفظ عید نظر آگیا۔ حالانکہ یہ ارشاد ان کی بدعت پرستی کی بیخ کنی کرتا ہے۔ مگر وہ ہیں کہ اس سے اس کے جواز کا استدلال کرتے ہیں کہ ساون کے اندھے کو ہمیشہ اور ہر جگہ ہریالی ہی نظر آتی ہے۔ جب کھوپڑی الٹی ہوجائے اور مت مار دی جائے تو یہی حال ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پھر ان سے کوئی پوچھے کہ یہ استدلال حضرت عمر فاروق ۔ ؓ ۔ اور دوسرے صحابہ کرام کو آخر کیوں نہ سوجھا ؟ اور ان حضرات میں سے کسی نے بھی عید میلاد منانے کا فتویٰ آخر کیوں نہ دیا ؟ اور خیر القرون کے اس زمانہ ئِ خیر و برکت میں کبھی بھی عید میلاد آخر کیوں نہ منائی گئی۔ اور اگر یہ دین کا ایسا ہی کوئی حکم اور تقاضا تھا تو اس سے وہ سب حضرات آخر اس طرح غافل کیوں رہے ؟ اور ہمیشہ دو ہی عیدوں یعنی " عید الفطر " اور " عید الاضحی " پر اکتفا کیوں کرتے رہے ؟ اور حدیث و فقہ کی تمام کتابوں میں " کتاب العیدین " ۔ دو عیدوں ۔ ہی کا عنوان آج تک کیوں قائم ہے ؟ کسی تیسری عید کا کوئی ذکر وبیان ان میں آخر کیوں نہیں ملتا ؟ سو ان تمام واضح دلائل اور جلی حقائق سے یہ امر پوری طرح واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے کہ اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ہیں۔ اس کے سوا کسی اور عید کو دین میں شامل کرنا " اِحْداث فِی الِدّیْن " ہوگا جو کہ بڑا سنگین جرم اور گناہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ زَیْغٍ وَّ ضَلَالٍ ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین۔
15 تکمیل دین کا مژدئہ بےمثال و جانفزا : سو تکمیل دین کی بشارت ایک عظیم الشان اور بےمثال بشارت ہے۔ اور اس جیسی دوسری کوئی بشارت ممکن ہی نہیں ۔ فللّٰہِ الحمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے واضح فرما دیا گیا کہ اس دین کی تکمیل کردی گئی۔ احکام و مسائل، اصول و کلیات، بنیادی قواعد و ضوابط اور فرائض و واجبات کے اعتبار سے۔ اور اس درجہ مکمل کہ اب قیامت تک نہ تمہیں کسی اور وحی و کتاب کی کوئی ضرورت ہوگی نہ کسی نبی اور شریعت کی۔ دین و ہدایت سے متعلق تمہیں جو بھی ضرورت پیش آئے گی اس کا حل اور جواب و علاج تم اس کتاب میں موجود پاؤ گے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم اور کتنی بڑی اعجازی شان ہے اس دین حنیف کی جس سے قدرت کی طرف سے ہمیں نوازا گیا ہے ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ سو اس دین حق اسلام کو اس کے اصول و کلیات کے اعتبار سے ایسا اور اس حد تک مکمل کردیا گیا کہ لاکھوں کروڑوں، بلکہ اربوں کھربوں انسانوں سے تعلق رکھنے والے لاتعداد و بیشمار اور بےحد و حساب مسائل اور قیامت تک پھیلے جملہ زمانوں اور تمام ادوار کے تقاضوں کا کافی و شافی حل اور واضح جواب اس میں موجود ہے۔ اور عقائد و عبادات، مسائل و معاملات، امن و جنگ، حرب و ضرب، سیاست و سماج، اَخلاق و عادات، اِجتماع و انفراد، تمدن و معاشرت، مصالحت و مسالمت، معیشت و اقتصاد، نکاح و طلاق، تطہیر و تزکیہ، حلال و حرام، عدل و انصاف، صحت و فساد، غرضیکہ دن و رات، ماہ و سال اور دنیا و آخرت سے متعلق ہر گوشے کے بارے میں اس دین متین میں ایسی صاف وصریح اور واضح و جلی اور اعلیٰ وارفع اور مجلیٰ و منقیٰ تعلیمات مقدسہ اور علم و حکمت پر مبنی ارشاد ات عالیہ موجود ہیں جن کی کوئی نظیر و مثال تو کیا اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے دین و مذہب میں نہیں پایا جاسکتا۔ روئے زمین پر پائے جانے والے مختلف مذاہب و اَدیان کی اکثریت تو انسانی فکر و کاوش اور خیالات و تصورات اور دوسرے مختلف عوامل اور احوال و ظروف کا ثمرہ و نتیجہ ہے سوائے یہودیت و نصرانیت کے۔ جو کہ بنیادی طور پر اور اپنی اصل کے اعتبار سے آسمانی دین ہیں۔ ان کے بارے میں بھی ان کے حاملین اور پیروکاروں کا کہنا ہے کہ مذہب انسان کا پرائیویٹ معاملہ ہے اور بس۔ پس ان کے یہاں دین و مذہب کے نام سے کچھ رسم و رواج اور تقالید و عادات ہیں جن کو ان لوگوں کے یہاں لگے بندھے طریقوں سے اپنے گھروں یا گرجاؤں میں بجا لایا جاتا ہے اور بس۔ باقی سیاست و سماج، معیشت و معاشرت اور نظام حکومت وغیرہ وغیرہ سب اس سے آزاد اور اس کی گرفت و کنٹرول سے خارج اور باہر ہیں۔ اور یہ ان لوگوں کے یہاں گویا حکومت و عوام دونوں کے درمیان ایک طے شدہ پالیسی ہے۔ اور جب ان آسمانی دینوں کا یہ حال ہے تو پھر باقیوں کا کہنا ہی کیا۔ ان کا معاملہ تو سرے سے ہی خارج ازبحث ہے۔ سو اس پس منظر میں دیکھنے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ دین حق اسلام کس قدر عظیم، کتنا جامع اور قدرت کا کتنا بڑا عدیم النظیر اور بےمثال عطیہ و احسان ہے۔ اسی لئے ایک انگریز جب اسلام میں داخل ہوا تو اس سے پوچھا گیا کہ تم کیوں مسلمان ہوئے ہو ؟ تم نے اسلام میں ایسا کیا دیکھا جس نے تمہارے دامن دل کو اپنی طرف کھینچا ؟ تو اس نے جواب میں اسی حقیقت عظمیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا " اس لئے کہ اسلام میں ہر سوال کا جواب موجود ہے " ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذَا الدِّیْنِ الْعَظِیْمِ الْمُبَارِکِ ، بِمَحْضِ مَنِّہٖ وَکَرَمِہ جَلَّ وَعَلَاٗ ۔ فَاِیَّاہُ نَسْاَلُ الثَّبَاتَ عَلَیْہِ وَ الاِسْتَقَامَۃَ ۔ نیز اس موقع پر ذرا اس جانب بھی ایک نظر ڈال لیجئے اور ایک لمحے کے لئے سوچئے اور غور کیجئے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی حیات نبوت کے صرف تئیس -23 ۔ سالوں کے مختصر و محدود عرصے میں اپنی امت کو کیا کچھ دے گئے اور پوری نوع انسانیت کے لئے کتنے عظیم الشان اور مقدس وبے مثل خزانے چھوڑ گئے جو قیامت تک دنیا جہاں کو فیضیاب کرتے رہیں گے ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلامُہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَمَنِ اہْتَدٰی بِہَدْیِہ وَدَعَا بِدَعْوَتِہ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ وَجَزَاہُ عَنَّا وَعَنْ سَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ خَیْرَ مَا جُوْزِیَ بِہٖ نَبِیٌّ عَنْ اُمَّتِہٖ وَاَنْزَلَہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَہ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف دین حنیف ایک ایسا کامل اور مکمل دین ہے جو ہر انسان کی تمام ضروریات کی تکمیل کا کفیل وضامن ہے کہ یہ دین دین فطرت ہے جو فطرت کے تمام تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے ۔ فَالحمد لِلّـہِ ربِّ العالمین -
16 اِتمام نعمت کا مژدہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا اور میں نے پورا کردیا تم لوگوں پر ـ یعنی تم پر اپنے اس دین کو مکمل کردیا جو کہ حضرت آدم سے شرع ہوا تھا اور تمہاری اس شریعت کی تکمیل کرکے جس کا آغاز غار حراء میں اترنے والی پہلی وحی سے ہوا تھا۔ نیز تم کو سیاسی غلبہ سے نوازا کہ مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور اس سے بتوں کی نجاست کا ازالہ کردیا گیا۔ (معارف، محاسن، تدبر وغیرہ) ۔ اور تکمیل دین کی یہ نعمت سب سے بڑی نعمت ہے کہ دین حق کی نعمت سے بڑھ کر کوئی نعمت ممکن ہی نہیں کہ نور حق و ہدایت کی یہ نعمت ہی وہ نعمت ہے جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہیں منور اور روشن کرتی ہے ۔ فِللّـہ الحمدُ ربِّ العالمین ۔ سو دین حنیف جس کا آغاز ابو البشر حضرت آدم پر وحی سے ہوا تھا جو ہر زمانے کی ضرورتوں اور مشیت الٰہی کے تقاضوں کے مطابق نازل ہوتا رہا یہاں تک کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر اس کی تکمیل اور خاتمہ ہوگیا۔ اور قیامت تک کی دنیا کو دین کامل نصیب ہوگیا۔ جبکہ اس سے پہلے آنے والے تمام دینوں کی حیثیت اسی دین کامل کے مختلف اجزا کی سی ہے۔ اور اتمام نعمت سے مراد اس وحی کی تکمیل ہے جس کا آغاز تئیس برس قبل غار حرا میں ہوا تھا۔ سو اس موقع پر اس کی بھی تکمیل ہوگئی۔ اس طرح اس روز اہل ایمان کو دو انعام یکجا مل گئے کہ حضرت آدم سے شروع ہونے والا سلسلہ وحی بھی مکمل ہوگیا اور اس سلسلہ وحی کی بھی تکمیل ہوگئی جس کا آغاز اس سے تئیس سال قبل حضرت امام الانبیاء ﷺ پر غار حرا میں ہوا تھا۔
17 خداوند قدوس کا پسندیدہ دین، اسلام : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ میں نے پسند کرلیا تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر۔ پس اسلام کے سوا اور کوئی بھی دین اس کے یہاں قابل قبول نہیں۔ لہذا جس نے اسلام کے سوا کسی بھی دوسرے دین کو اپنایا وہ اس سے قبول نہیں ہوگا۔ اور ایسا شخص سراسر خسارے میں ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ۔ { وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الاِسْلامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الاٰخٰرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْن } ۔ (آل عمران : 85) ۔ اور دین حنیف اسلام ہی وہ دین ہے جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور انسان کو حقیقی کامیابی اور ابدی سعادتوں سے بہرہ مند و سرفراز کرنے والا دین ہے۔ اور اسلام کا حاصل اور اس کا خلاصہ ہے اپنے آپ کو اپنے خالق ومالک اللہ وحدہ لاشریک کے حوالے کردینا جیسا کہ حضرت ابراہیم نے کہا تھا ۔ { اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ } ۔ (البقرۃ : 131) یعنی " میں نے اپنے آپ کو حوالے کردیا پروردگار عالم کے "۔ اور یہی دین ہے اس پوری کائنات کا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَہُ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْہًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ } ۔ (آل عمران : 83) یعنی " اسی کے آگے سرنگوں ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے یا مجبوری سے۔ اور سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے "۔
Ayah 5:418 حِلّتِ شکار کے بارے میں سوال کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے کہ کیا حلال ہے ان کے لیے "۔ یعنی کتے اور باز وغیرہ کے ذریعے کئے گئے شکار میں سے کیا حلال ہے ؟۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ حضرت عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل وغیرہ بعض حضرات نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ ہم شکار کرنے والے لوگ ہیں۔ کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو ان میں سے کس جانور کا شکار ہمارے لئے حلال ہے ؟ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، ابن جریر، محاسن التاویل، خازن، معارف وغیرہ) ۔ سو یہ سوال اگرچہ اپنے الفاظ اور قرآن حکیم کے اپنے معروف اسلوب کے مطابق عام ہے لیکن اس بارے واردشدہ روایات اور اسی سوال کے جواب سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ سوال خاص طور پر شکار کے بارے میں ہے کہ اگر شکاری جانور کا شکار ذبح سے پہلے ہی ہلاک ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ بہرکیف شکار چونکہ انسان کی ایک اہم ضرورت ہے اور ایسی اہم کہ بعض لوگوں کا گزارہ ہی شکار پر ہوتا تھا اور ہوتا ہے۔ اس لئے سدھائے اور سکھائے ہوئے جانور کے شکار کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوا کہ یہ حلال ہے کہ نہیں۔ تو اس کے جواب میں اس بارے یہ ہدایات اور تعلیمات ارشاد فرمائی گئیں جن میں اس بارے بھرپور ہدایت و راہنمائی ہے۔ اور واضح فرمایا دیا گیا کہ سکھائے ہوئے شکاری جانوروں کا کیا ہوا شکار کھانا جائز ہے ۔ والحمد للہ -
19 شکاری جانور اور ان کے شکار : یعنی مضاف مخدوف ہے۔ اصل میں ہے " وَصَیْدَ مَا عَلَّمْتُمُوْہُ "۔ (صفوۃ، محاسن، جواہر وغیرہ) ۔ " جوارح " جمع ہے " جارحۃ " کی۔ جو کہ مشتق و ماخوذ ہے " جرح " سے۔ جسکے اصل معنیٰ زخمی کرنے کمانے اور بنانے کے آتے ہیں۔ اسی لیے اعضاء کو " جوارح " کہا جاتا ہے۔ اور ہتھیاروں کو بھی اسی لیے " جوارح " کہا جاتا ہے۔ اور اسی بنا پر شکاری جانوروں کو بھی " جوارح " کہا جاتا ہے خواہ وہ درندوں میں سے ہوں جیسے کتے، شیر، چیتے وغیرہ۔ یا پرندوں میں سے ہوں جیسے باز اور شکرے وغیرہ۔ کیونکہ یہ سب چیزیں کمائی کا ذریعہ ہیں۔ سو ایسے سکھائے سدھائے ہوئے جانوروں میں سے جس کو اپنے ارادئہ و اختیار سے اور اللہ کا نام لے کر شکار کے لئے چھوڑا جائے اور وہ شکار کر کے لائے اور وہ ذبح کرنے سے پہلے مرجائے تو اس کا کھانا جائز ہے کہ ایسے میں وہ سکھایا سدھایا ہوا جانور چھری چاقو کی طرح کا ایک آلہ ذبح ہوجائیگا۔ اس لیے اس کے ذریعے کیا گیا شکار حلال اور جائز ہے۔
20 شکاری جانوروں کے شکار کی حلت کا بیان : یعنی تم لوگوں نے ان کو سکھایا ہو ان طریقوں کے مطابق جو اللہ نے تم لوگوں کو سکھلائے اپنے فضل و کرم اور لطف و عنایت سے۔ خواہ یہ سکھلانا القاء والہام کے ذریعے ہو یا عقل و فکر کے واسطے سے۔ جس کی دولت سے اس واہب مطلق نے تم لوگوں کو ازخود نوازا ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ یہ شرط بہرحال ملحوظ رہے کہ اس کو سکھایا پڑھایا تم لوگوں نے ہو۔ جیسا کہ ۔ { تُعَلِّمُوْنَہَنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ } ۔ سے واضح ہوتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ہر تربیت میں اس کے مربی کی طبیعت، اس کے ذوق اور اس کے مقصد تربیت کا اثر پایا جاتا ہے۔ اور یہ تربیت کا ایک طبعی تقاضا ہے۔ اس بنا پر ایک مسلمان کی تربیت و ٹریننگ یافتہ کتے کی حیثیت ایک غیرمسلم کے سکھائے ہوئے کتے سے الگ ہوگی۔ اور شکاری جانور چونکہ اپنے مربی اور مالک کے آلہ اور جارحہ کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے مسلمان کے سدھائے اور سکھائے ہوئے جانور کا شکار ایسے ہی ہوجائیگا جیسا کہ اس نے اپنے قصد و ارادے سے اپنی کسی چھری یا چاقو سے اس کو خود ذبح کیا ہو۔ سو اس سے دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی لطافتوں اور نزاکتوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ کہ مسلمان کس قدر پاکیزہ انسان ہوتا ہے۔ اور ربِّ ذو الجلال اس کو کس درجہ پاکیزہ انسان دیکھنا چاہتا ہے۔ اور ایسے ہی پاکیزہ لوگ اس دنیا میں حیات طیبہ کی نعمت سے سرفراز ہوں گے اور آخرت میں جنت کی سدا بہار نعمتوں سے مالا مال ہوں گے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
21 شکاری جانور کے شکار کی حلت کیلئے ایک شرط کا بیان : { مُکِلّبِیْن } بنا ہے " تَکْلِیْب " سے۔ جو کہ اصل میں ماخوذ ہے " کلب " سے۔ جس کے معنیٰ کتے کے بھی آتے ہیں اور مطلق درندے کے بھی۔ اور " تَکْلِیْب " کے معنیٰ ہوں گے کتے وغیرہ شکاری جانوروں کو سکھانا سدھانا۔ یا تو تغلیب کی بنا پر یا " کَلْب " کو مطلق درندے کے معنیٰ میں لینے کی اساس پر۔ جس کے اصل اور لغوی معنیٰ چیرنے پھاڑنے کے آتے ہیں۔ (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ پھر " تَکْلِیْب " کے لفظ کو توسع کے طور پر ارسال یعنی چھوڑنے اور بھیجنے کے معنیٰ میں استعمال کیا جانے لگا۔ جیسا کہ جلالین وغیرہ میں موجود ہے۔ اور قرطبی سے بھی منقول ہے۔ اسی بنا پر شکاری جانور کے مارے ہوئے شکار کی حلت کی شروط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کو اس کا مالک اپنے ارادئہ و اختیار سے شکار کرنے کے لئے چھوڑے۔ (معارف القرآن للدیوبندی وللکاندھلوی، محاسن التاویل للقاسمی وغیرہ) ۔ کیونکہ اس صورت میں اس کتے وغیرہ شکاری جانور کی حیثیت اس آلے کی سی ہوجائے گی جسکے ذریعے کسی جانور کو ذبح کیا جاتا ہے۔ جیسے چھری چاقو وغیرہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے شکاری جانور کے شکار کی حلت کے لئے ایک اہم شرط کو بیان فرما دیا گیا ہے کہ شکاری جانور کا مالک اس کو خود شکار کے لیے چھوڑے ورنہ حلال نہیں ہوگا۔
Ayah 5:522 اہل ایمان کیلئے پاکیزہ چیزوں کی حلت کا اعلان :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ حلال کردی گئیں تم لوگوں کے لیے سب پاکیزہ چیزیں۔ یعنی وہ چیزیں جو کہ یہود وغیرہ کے لئے حرام تھیں۔ سو اب وہ تمہارے لئے ہمیشہ کے لئے حلال کردی گئیں کہ تم کھاؤ پیؤ ان حلال اور پاکیزہ چیزوں میں سے۔ اے پاکیزہ دین کی پاکیزہ تعلیمات کو ماننے والو۔ تاکہ تمہیں دنیا میں اس سے پاکیزہ زندگی ۔ حیات طیبہ ۔ نصیب ہو سکے اور آخرت میں تمہیں جنت کی سدا بہار نعمتوں کے اس پاکیزہ جہاں میں رہنا نصیب ہو سکے جہاں سے تمہیں کبھی نکالا نہیں جائے گا۔ اور اس طرح تم حقیقی معنوں میں دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوزو فلاح سے بہرہ ور ہو سکو ۔ سبحان اللہ !۔ کیا عظمت شان ہے مومن صادق کی کہ اس کا ظاہر پاک، اس کا باطن پاک، اس کا کھانا پاک، اس کا پینا پاک، اس کا دل و دماغ پاک، اس کا رہن سہن اور بود و پاش سب کچھ پاک۔ فَسبحان اللّٰہ وَبِحَمدِہٖ سُبْحان اللہ العظیم ۔ اور کیسی دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو انسان کو ایک پاکیزہ انسان بنا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے ۔ اَللّٰہُمَّ فَزِدْنَا مِنْہُ وَ ثَبِّتْنَا عَلَیْہِ-
23 اہل کتاب کے طعام کی حلت کا بیان :ـسو ارشاد فرمایا گیا اور کھانا ان لوگوں کا جن کو کتاب دی گئی تم لوگوں سے پہلے حلال ہے تمہارے لیے اور تمہارا کھانا حلال ہے ان کے لیے۔ یہاں پر طعام ۔ کھانا ۔ سے مراد اہل کتاب۔ یہود و نصاریٰ ۔ کا ذبیحہ ہے۔ ورنہ ان کی اس تخصیص اور ذکر کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ کیونکہ مطلق اور خشک کھانا پینا تو دوسروں کا بھی جائز ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور حضرت مجاہد جیسے اکابر کا اس سے متعلق کہنا ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب کا ذبیحہ ہے۔ یعنی " ذَبَائحُہُمْ " اور ابن کثیر کہتے ہیں کہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، خازن وغیرہ) ۔ لیکن اہل کتاب کے ذبیحہ کی اس حلت کے لئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ اہل کتاب واقعی اہل کتاب ہوں۔ وہ اپنے دین پر واقعی ایمان و یقین رکھتے ہوں۔ اور دوسری یہ کہ وہ جانور بھی فی نفسہ حلال ہو۔ خنزیر وغیرہ جیسا کوئی حرام جانور نہ ہو۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ ذبح بھی صحیح طریقے سے اور اللہ کے نام پر کیا ہو کہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والاجانور { مَا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ } میں داخل ہوگا اور وہ حرام ہے۔ پس ذبح کرنے والا کتابی ہو۔ کوئی کمیونسٹ یا دہریہ قسم کا لا دین نہ ہو۔ نیز یہ کہ ذبح بھی معروف طریقے سے ہو جھٹکا وغیرہ کی کوئی صورت نہ ہو۔ (صفوۃ البیان، معاف از کاندھلوی وغیرہ ) ۔ بہرکیف اس سے اہل کتاب کے ذبیحہ کی اہل ایمان کے لیے حلت بیان فرما دی گئی کہ ان لوگوں کی حیثیت دوسرے کھلے مشرکوں سے مختلف ہے۔
24 پاک دامن عورتوں سے نکاح کیلئے ایک بنیادی شرط : کہ نکاح سے محض مستی نکالنا مقصود نہ ہو، جیسا کہ متعہ میں ہوتا ہے، کہ اس میں نہ تو قید نکاح میں لانا اور بیوی بنا کر رکھنا مقصود ہوتا ہے اور نہ نکاح و طلاق کے دوسرے احکام جاری کرنا۔ بلکہ محض مستی نکالنا اور حیوانی اور نفسانی تقاضے پورا کرنا مقصود ہوتا ہے۔ پس اس میں اور دوسرے کھلے زنا میں کوئی فرق نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس کے باوجود شیعوں کے مذہب میں متعہ کے نام سے کیا جانے والا یہ زنا نہ صرف یہ کہ جائز و مباح ہے بلکہ ان لوگوں کے یہاں یہ ایک بڑا کار ثواب ہے۔ اور اس کے لئے انہوں نے بڑے بڑے ثواب گھڑ رکھے ہیں۔ اور ایران میں آج کل " صیغہ “ کے نام سے زنا و بدکاری کا یہ کاروبار عام ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایسی پاکدامن عورتوں سے نکاح کی حلت اور اس کے جواز کیلئے یہ ایک بنیادی شرط ہے کہ مقصود اس نکاح سے عفت و پاکدامنی کا حصول ہو نہ کہ محض شہوت رانی اور مستی نکالنا۔ " اَخدْان " جمع ہے " خِدْن " کی اور اس کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے۔ سو نہ مرد ایسا ہو جو خفیہ طور پر عورتوں سے دوستی لگانے والا اور مستی نکالنے والا ہو اور نہ عورت ایسی ہو جو اس طرح کی کسی خفیہ یاری دوستی کا ارتکاب کرنے والی ہو۔ بلکہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا مقصد پاکدامنی کا حصول اور ایک دوسرے کیلئے عفت و پاکدامنی کا ذریعہ بننا ہو۔ اور " احِصْان "، " حِصْن " سے ماخوذ ہے جس کا معنیٰ قلعہ ہوتا ہے۔ سو ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کیلئے ایسا قلعہ بن جائے جو اس کی متاع عفت و پاکدامنی کو پوری طرح محفوظ کر دے۔ اور ایسا کہ اس کے بعد نہ وہ مرد کسی طرح کی بدکاری کا ارتکاب کرے نہ عورت۔ نہ اعلانیہ اور ظاہری طور پر اور نہ مخفی اور پوشیدہ طور پر۔ زمانہ جاہلیت میں اعلانیہ زنا کو تو برا سمجھا جاتا تھا لیکن چوری چھپے کیے جانے والے زنا کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا، جیسا کہ آج کل یورپ و امریکہ کی مادہ پرست دنیا اور مادر پدر آزاد معاشروں میں زنا اگر بالجبر یعنی زور زبردستی سے ہو تو وہ جرم اور قابل دست درازی پولیس ہے۔ لیکن اگر باہمی رضامندی سے ہو تو اس میں کوئی جرم اور مضائقہ نہیں۔ سو ان لوگوں کے یہاں اصل جرم زنا نہیں جبر واکراہ ہے۔ جبکہ دین حنیف نے جرم کو بہرحال ایک سنگین جرم اور ہولناک گناہ قرار دیا۔ خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو۔ پس " سفاح " کی اس قید و ممانعت سے ہر قسم کے زنا کو ممنوع و محذور قرار دے دیا گیا کہ " سفاح "، " نکاح " کی ضد ہے۔ پس اس سے متعہ وغیرہ ہر قسم کے وقتی نکاح کی حرمت واضح ہوجاتی ہے۔ لیکن افسوس کہ اس کے باوجود یہ حرام کام اسلام کا نام لینے والے اور ایمان کا دعوی کرنے اور دم بھرنے والے ایک فرقے کے یہاں آج بھی موجود ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر شکل اور نفس و شیطان کے ہر دھوکے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔
25 کفر بالایمان کا مطلب اور اس کی خطورت ؟:ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے کفر کیا ایمان کے ساتھ تو اکارت چلے گئے اس کے سب عمل اور وہ آخرت میں سخت خسارے والوں میں سے ہوگیا۔ سو کفر بالایمان کا مطلب ان احکام اور اوامرو ارشادات کا انکار کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے حلال و حرام سے متعلق ارشاد فرمائے ہیں۔ جن میں سے وہ احکام بھی ہیں جن کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے۔ سو جس کسی نے بھی اس کا ارتکاب کیا وہ بڑا ہی محروم اور بدنصیب انسان ہے کہ اس سے وہ دنیا میں ایمان جیسی دولت و نعمت سے محروم ہوگیا اور اس کے تمام عمل اکارت چلے گئے۔ جبکہ اصل خسارہ آخرت کا خسارہ ہے کہ وہاں کے اس خسارہ و نقصان کی تلافی اور اس کے تدارک کی کوئی صوت ممکن نہ ہوگی۔ سو وہ سب سے بڑا اور ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان یہاں پر مومن بہ کے معنیٰ میں ہے۔ اور اس سے مراد ہیں اسلام کے شرائع و اَحکام۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور ان کے ساتھ کفر کا مطلب ہے ان کا انکار کرنا اور ان سے اعراض و روگردانی برتنا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس موقع پر اس کے ذکر سے اسلام کے احکام حلال و حرام کی عظمت شان اور ان کی اہمیت و عظمت کو اجاگر فرما دیا گیا ہے۔ (محاسن وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے ارشاد فرمودہ احکام کی تعمیل اور پابندی کی توفیق بخشے اور نفس و شیطان کی ہر شرارت و شرانگیزی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔