Ayah 5:12 ۔ (آیت) ” العقود “۔ عقد کا لفظ عام ہے۔ اور ہر عہد شرعی کو شامل، خواہ اس کا تعلق خالق سے خواہ مخلوق سے۔ العھود التی بینکم وبین اللہ اوبین الناس (ابن عباس ؓ والظاھر عموم العقود فی کل ربط یوافق الشرع سواء کان اسلام یا اور جاھلیا (بحر) عبادات کے علاوہ بھی جتنے عہد سیاسیات، تجارت، معاشرت وغیرہ معاملات واخلاقیات سے متعلق ہوسکتے ہیں، سب اس میں آگئے، قال الحسن یعنی بذلک عقود الدین وھو ماعقدہ المرء علی نفسہ من بیع وشراء اجارۃ وکراء ومناکحۃ و طلاق ومزارعۃ ومصالحۃ وتملیک وتخییر وعتق وتدبیر وغیر ذلک من الامور ماکان ذلک غٰر خارج عن الشریعتہ وکذلک ما عقدہ علی نفسہ للہ من الطاعات (قرطبی)
3 ۔ اور وہ ذکر کہیں دور نہیں۔ آیت نمبر 3 ہی میں آرہا ہے۔ (آیت) ” حرمت علیکم المیتۃ الخ “۔ کے تحت میں (آیت) ” بھیمۃ الانعام “۔ اضافت تشبیہ کے لیے ہے، یعنی مویشیوں سے ملتے جلتے ہوئے چوپائے، جو نہ درندے ہوں نہ شکاری، اضاف تھا الی الانعام لملا بسۃ الشبہ (بیضاوی) ای ممایماثل الانعام فی الاجتراء وعدم الانیاب (بیضاوی) مراد ہیں، ہرن، نیل گائے وغیرہ ایسے چوپائے جو شکاری اور درندے نہ ہونے میں مویشیوں (گائے، بیل، اونٹ، بھیڑ، بکری) سے مشابہ ہوں، البتہ خچر، گدھے، وغیرہ جن کی حرمت حدیث صحیح سے ثابت ہے، اس قاعدہ سے مستثنی ہیں،
4 ۔ یعنی شکار حلال چوپایوں کا بھی (آیت) ” الصید “۔ شکار سے یہاں مراد صرف ان جانوروں کا شکار ہے جن کا کھانا جائز ہے۔ الصید فی ھذا الموضع مختص بما یوکل لحمہ (راغب) باقی سانپ، بچھو وغیرہ موذی جانوروں کا اس ممانعت سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ انکے ہلاک کرنے پر شکار کا اطلاق ہوتا ہے۔ صیدہی کے لفظ نے اسے بھی واضح کردیا کہ شکار ان جانوروں کا مراد ہے جو وحشی ہوتے ہیں، اور جن کے پکڑنے میں کسی تدبیر یا حیلہ کی ضرورت پڑتی ہے، عام گھریلو جانور بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ وغیرہ جو عادۃ شکار کرکے نہیں لائے جاتے، اور روزانہ محض ذبح کرکے کھانے کے کام میں لائے جاتے ہیں، ان کے ذبح کی کوئی ممانعت نہیں۔ ای ما کان صیدا فھو حلال فی الاحلال دون الاحرام ومالم یکن صیدا فھو حلال فی حالین (قرطبی) (آیت) ” وانتم حرم “۔ حالت احرام میں ہو یا حدود حرم کین اندر داخل ہو۔ خواہ بلااحرام ہی سہی، ممانعت کا اصل مدار صید کا حدود حرم کے اندر موجود ہونا ہے۔
5 ۔ (کہ وہی حکم ہمیشہ عین مطابق مصلحت ہوگا) ارادۂ الہی سے بالاتر کوئی قانون نہیں، جس کے وہ ماتحت ہو، وہ خود ہی سب سے بالاتر ہے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں اسرار احکام کی تفتیش کی ممانعت کا اشارہ ہے۔
Ayah 5:26 ۔ (اپنے زعم وپندار میں) (آیت) ” فضلا من ربھم ورضوانا “۔ مشرکین عرب بھی اس وقت حج وعمرہ کی نیت سے بیت اللہ کا قصد کرتے رہتے تھے، فضل سے مراد تو ان کی منفعت دنیوی ہوسکتی ہے۔ (حج کے موقع پر تجارت بھی خوب زوروں پر ہوتی تھی) رضوان سے مراد ان کے حسب پندار رضاء الہی ہے، قال فیہ جمھور المفسرین معناہ یبتغون الفضل والا رباح فی التجارۃ ویبتغون مع ذلک رضوانہ فی ظنھم وطمعھم (قرطبی) (آیت) ” شعآئر اللہ۔ شعآئر۔ جمع شیعرہ کی ہے، مراد اعلام الہی ہیں یعنی وہ چیزیں جن کے ادب واحترام کے تحفظ کے لیے اللہ نے کچھ احکام مقرر کردیئے ہیں۔ جمیع معالم دین اللہ (جصاص) ان احکام وآداب کی خلاف ورزی کرنا ان شعائر کی بےحرمتی کرنا ہے، مثلا حدود حرم اور جامہ احرام کا ایک ادب یہ ہے کہ ان میں شکار بند کیا جائے۔ اب اس کی خلاف ورزی کرنا شعائر حرم واحرام سے بےادبی کرنا ہے۔ (آیت) ” والشھرالحرام “۔ بہ طور اسم جنس آیا ہے۔ لفظ واحد معنی جمع۔ یعنی سارے حرمت والے مہینے۔ الشھر مفرد محلی باللام الجنسیۃ فالمراد بہ عموم الاشھر الحرم (بحر) مطلب یہ ہوا کہ ان چاروں متبرک مہینوں میں قتال کی ابتدا نہ کرو۔ (آیت) ” الھدی “۔ لفظ ان قربانیوں کے لیے مخصوص ہے جو کعبہ مقدس کو لے جائی جاتی ہیں۔ الھدی مختص بما یھدی الی البیت (راغب) ھی اسم ما اشعرای جعل شعارا وعلما (مدارک) ان کی بےحرمتی یہ ہوگی کی ان قربانیوں سے تعرض کیا جائے (آیت) ” القلآئد “۔ یہ پٹے اسی نشانی کیلئے گلے میں پڑے رہتے تھے کہ یہ اللہ کی نذر ہیں، حرم ہی میں ذبح ہوں گی، (آیت) ” القلآئد “۔ سے مراد ذوات القلائد ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے تبرکات کی تعظیم یہ وجہ تعلق ذات واجب التعظیم کے مفہوم میں ہوتی ہے۔ پھر چونکہ فضل ورضوان کا تعلق مشرکین سے ہے، اس لیے یہ مفہوم بھی ہوا کہ طالب رضائے حق قابل رعایت ہے اگرچہ اخذ طریق میں اس نے غلطی کی ہو، اسی طرح (آیت) ” ربھم “۔ اشارہ رحمت الہی کے عموم ووسعت کی جانب نکلتا ہے۔
7 ۔ (جب کہ خود وہ شکار حدود حرم میں نہ ہو) (آیت) ” فاصطادوا “۔ صیغہ امر ہے، لیکن وجوب کے معنی میں نہیں، بلکہ صرف اجازت کے مفہوم میں۔ ای فلاجناح علیکم بالاصطیاد لزوال المانع (روح) فالامرللاباحۃ بعد الحظر (روح) ھو اطلاق من حضر (جصاص) اباحۃ للاصطیاط بعد حظرہ علیہم (مدارک) ای فقد ابحنالکم ماکان محرما علیکم فی حال الاحرام من الصید (ابن کثیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ محض ایک امر مباح کے لیے صیغہ امر کا وارد ہونا اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس مباح کے ترک سے ممنوع ہونے کا شبہ ہونے لگے، اس مباح کرنا ہی مطلوب ہوتا ہے۔ اور یہیں سے ان متشددین کی غلطی بھی واضح ہوجاتی ہے، جو مباحات کے ترک کردینے میں حرام ہی کی طرح تشدد وغلو رکھتے ہیں۔
8 ۔ (بلکہ اس عقلی ناگواری اور طبعی انقباض کے باوجود معاملہ ان سے بھی حق و انصاف ہی کا رکھو) مراد کفار قریش ہیں، جنہوں نے 6 ھ میں مسلمانوں کو بیت اللہ تک پہننے اور عمرہ کرنے سے حدیبیہ میں روک دیا تھا، ارشاد ہورہا ہے کہ ایسے موذی اور خداناترس دشمنوں سے بھی باوجود ہر غصہ واشتعال کے برتاؤ عدل ہی کا رکھو۔۔۔ اللہ اللہ ! کیا ٹھکانا ہے اس فراخ ولی کا ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس سے بعض فی اللہ ہو اس کے معاملات میں بھی حدود شرعی سے تجاوز جائز نہیں۔
9 ۔ کیسے زریں اصول کی تعلیم مل رہی ہے ! نیکی میں سب کے شریک رہو، بدی اور فسق میں کسی کا ساتھ نہ دو !” مہذب “ قوموں کا ساشیوہ نہ رکھو، کہ اپنی قوم سب پر مقدم، اور اپنی پارٹی بہرحال اپنی پارٹی ! ادھرقاعدے اور اصول غیروں سے معاملت کے بتائے تھے، اب یہاں ارشاد آپس کی معاملت سے متعلق ہوگیا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہیں سے معلوم ہوا کہ حسن وقبح میں مقدمات کا دیا جاتا ہے، اور مشائخ اہل تربیت کے ہاں اسی قاعدہ پر عمل ہے، یہیں سے وجوب ان مجلسوں میں شرکت کا نکل آیا جن کا مقصد اشاعت دین ونصرت دین ہے، اور حرمت ان اجتماعی اداروں میں شرکت کی نکل آئی جن سے بےدینی یا بدعملی کی تائید ہوتی ہو۔
10 ۔ (نافرمانوں اور سرکشوں کے حق میں) اتقوا اللہ خشیت الہی ہی ایسی چیز ہے، جو ہر مجاہد کو آسان اور ہر پابندی کو سہل بنا سکتی ہے۔
Ayah 5:31 1 ۔ آیت نمبر ایک میں (آیت) ” الا ما یتلی “۔ گزر چکا ہے، اب اسی کی تفصیل بیان ہورہی ہے۔ (آیت) ” المیتۃ “۔ یعنی وہ جانور جو بلا ذبح شرعی مرجائے (آیت) ” الدم “۔ دم مسفوح یعنی بہتا ہوا خون مراد ہے (آیت) ” لحم الخنزیر “۔ اسی میں سورة کی چربی وغیرہ اس کے جسم کے دوسرے اجزاء بھی شامل ہیں۔ اکلہ نجس وانما خص اللحم لانہ معظم المقصود (مدارک) فانہ قد تناول شحمہ وعظمہ وسائر اجزاۂ ولا خلاف بین الفقہاء فی ذلک (جصاص) سؤر کے گوشت کی جسمانی مضرتوں سے طبی لٹریچر بھرا پڑا ہے۔ اخلاقی وروحانی نقصانات کا ذکر ہی کیا۔
12 ۔ (بہ خیال تقرب اور بہ نیت عبادت) حرمت کا اصل مدار ذابح کی نیت پر ہے۔ اور یہ غیر اللہ کی طرف نامزدگی خواہ عین ذبح کے وقت ہو یا اس سے قبل، قبروں، درگاہوں پر چڑھاوے چڑھانے والے ذرا اپنے لیے بھی سوچ لیں۔
13 ۔ (عام اس سے کہ نامزدگی غیر اللہ کی جانب زبان سے بھی کی جائے یا محض دل میں نیت رکھی جائے) حرمت کی اصل بنا اعتقاد خبیث ہے، خواہ زبان سے اس کا اظہار کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔ پتھروں پر ذبح فی نفسہ حرام نہیں، حرام یہ نیت خبیث ہے۔ ما ذبح علی اعتقاد تعظیم النصب (کبیر) والنیۃ فیھا تعظیم النصب لاان الذبح علیھا غیر جائز (قرطبی) (آیت) ” علی “۔ ہوسکتا ہے کہ یہاں، ل، کے مرادف ہو، یعنی تھانوں پر چڑھائے جانے کی غرض سے۔ قال قطرب علی بمعنی اللام ای وما ذبح لاجل النصب (معالم) قیل علی بمعنی اللام ای لاجلھا (قرطبی) (آیت) ” الموقوذۃ یہ وہ جانور ہے جو کسی ضرب سے مرجائے۔ المقتولۃ بالضرب (راغب) فقہاء نے ایسے جانور کو بھی جو محض غلہ یا گولی سے بلاذبح مرجائے اسی حکم میں داخل کیا ہے۔ ویدخل فی الموقوذۃ ما رمی بالبندق فمات۔ (کبیر) (آیت) ” المتردیۃ “ پہاڑی سے گر کرمر جانا یا کنوئیں میں گر کر مرجانا سب اسی کے تحت میں آجاتا ہے (آیت) ” وما اکل السبع “ یعنی وہ جانور جسے درندے کھانے لگیں اور وہ اسی صدمہ سے مرجائے۔ (آیت) ” الاما ذکیتم “۔ یعنی تم اسے ذبح کرڈالو قبل اس کے کہ اس کا دم نکلے، اس استثناء کا تعلق اوپر کی لکھی ہوئی سب صورتوں سے ہے۔ یعنی گردن سے مووڑے ہوئے، چوٹ کھائے ہوئے وغیرہ سب حلال جانور بھی حرام ہیں، بشرطیکہ ابھی جانور کا دم نہ نکلا ہو اور وہ مطابق شرع ذبح کرلیا جائے، ایسا جانور حکم حرمت سے مستثنی اور حلال ہے۔ نصب علی الاستثناء المتصل عند الجمھور من العماء والفقھاء وھو راجع علی کل ماادرک ذکانۃ من المذکورات وفیہ حیاۃ (قرطبی) (آیت) ” ذکیتم “۔ ذکاۃ۔ ذبح کے معنی میں ہے۔ الذکاۃ فی کلام العرب الذبح قالہ قطرب (قرطبی) التذکیۃ الذبح (نہر)
14 ۔ (آیت) ” ازلام “۔ ایک ستور اہل جاہلیت کا یہ ہے کہ تیروں پر اجازت وممانعت کے الفاظ لکھ رکھتے تھے، اور بعض خالی چھوڑتے تھے، اور سفر تجارت جنگ وغیرہ کے اہم موقعوں پر یہ کرتے کہ انہی تیروں سے جا کر فال لیتے، اور جو حکم نکل آتا، اسی پر عمل کرتے۔ خود صحیح بخاری، کتاب التفسیر میں ایک روایت اسی مضمون کی ہے۔ والاستقسام ان یحیل القداح فان نھتہ انتھی وان امرتہ فعل ما امرہ وقد اعملوا القداح اعلاما بضروب یستقسمون بھا، صحابہ تابعین اور اکثر مفسرین سے یہی معنی منقول ہیں۔ یعنی القداح کانوا یستقسمون بھا فی الامور (ابن جریر عن ابن عباس ؓ وکذا روی عن مجاھد و ابراہیم النخعی والحسن البصری ومقاتل بن حیان (ابن کثیر) فمعنی الاستقسام بالازلام طلب معرفۃ الخیر والشربواسطۃ ضرب القداح وھو اختیار الجمھور (کبیر) مجاہد تابعی (رح) کے ایک قول سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرعہ اندازی، فال گیری اور وہم پرستی کی یہ شکل اہل عرب کے ساتھ مخصوص نہ تھی، ایران اور رومہ کی بڑی بڑی مہذب ومتمدن قومیں اس میں مبتلا تھیں۔ قال سھام العرب وکعاب الفارس والروم کانوا یتقامرون بھا، (ابن جریر، ابن کثیر۔ قرطبی، عن مجاہد) مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ آج کل چھٹی ڈالنے کا جو دستور نکلا ہے، وہ اسی سے ملتی جلتی ہوئی ایک شکل قمار کی ہے۔
15 ۔ (اور اللہ کے مقرر کیے ہوئے دین وآئیں کی خلاف ورزی) (آیت) ” ذلکم “ کا اشارہ ممکن ہے کہ استقسام بالازلام تک محدود ہو۔ لیکن زیادہ قابل قبول یہ ہے کہ ان سب چیزوں کی طرف ہو جن کی ممانعت اوپر آچکی ہے۔ یرجع الی جمیع ما ذکر من الاستحلال لجمیع ھذہ المحرمات وکل شیء منھا فسق وخروج من الحلال الی الحرام (قرطبی) راجعا الی جمیع ما تقدم ذکرہ من التحلیل والتحریم (کبیر) (آیت) ” ذلک “۔ اشارۂ بعید ہے۔ یہاں کنایہ ان افعال کی بعد منزلت سے ہے۔ ومعنی البعد فیہ الاشارۃ الی بعد منزلتہ فی الشر (روح۔ ابو سعود)
16 ۔ (کہ یہ دین کبھی بھی مغلوب یا گمنام ہوسکے گا) آیت کے نزول کا وقت یوم جمعہ (ذی الحجہ 9 ھ ، 15، 16؍مارچ 632 ء۔ ) بعد عصر، مقام عرفات ہے، نزلت فی یوم عیدین فی یوم الجمعۃ ویوم عرفۃ (ترمذی ابواب تفسیر القرآن، عن ابن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ نے اس کے نزول کے کل دو مہینے 2 1 دن بعد انتقال فرمایا۔ نکتہ رس ودقیقہ سنج اصاب نبی آیت کے مضمون ہی سے سمجھ گئے تھے کہ اب دین ہر طرح مکمل ومستحکم ہوچکا نبی کے مشن کی ہر طرح تکمیل ہوچکی، نبی کو اب دنیا میں مزید قیام کی ضرورت کیا رہی، زمانہ مفارقت نبوی کا قریب آگیا، چناچہ حدیث وسیر کی کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ آیت کو سن کر رو پڑے تھے۔
17 ۔ یعنی میرے احکام کی مخالفت نہ کرو۔ یہ گویا وعدۂ الہی ہے کہ اب تشویش وتردد کی چیز غلبہ کفر واستیلاء کفار نہیں۔ بلکہ احکام شریعت سے تجاوز وتزلزل ہے، یہی چیز ایسی ہے جو مسلمانوں کو ضرر پہنچا سکتی ہے، اور ان کے ملی وجود کے لیے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے۔ خشیت الہی ہی ایک ایسی چیز ہے، جس کی کمی مسلمانوں میں ضعف پیدا کرسکتی ہے، نہ کہ کفر وغیرہ کی کوئی خارجی قوت۔
18 ۔ (قیامت تک کے لیے) (آیت) ” اکملت لکم دینکم “۔ یہ اکمال دین بہ لحاظ قوت بھی ہے اور بہ لحاظ احکام وقواعد بھی۔ (آیت) ” اتممت علیکم نعمتی “۔ یہ اتمام نعمت اسی دین کی تکمیل سے ہوا۔ اس اکمال دین واتمام نعمت کے بعد ظاہر ہے کہ اب دین میں کسی ترمیم، اضافہ، تصرف کی گنجائش نہ رہی، نہ کسی نبی کی بعثت کی حاجت، ختم نبوت پر اگر دلائل صریحہ موجود ہوتے، تو یہاں سے بھی مسئلہ کا استباط ہوسکتا تھا۔ شیعی عقیدۂ امامت کا، جو درحقیقت اجزاء نبوت ہی کی ایک شکل ہے، رد بھی یہیں سے نکل آتا ہے۔ البتہ ہر دور میں نئے نئے مسائل کا انکشاف اہل علم و اجتہاد اپنی بصیرت سے کتاب وسنت کے اصول وقواعد کے مطابق وماتحت قیامت تک کرتے رہیں گے۔ اشیاء کی حلت و حرمت کا ذکر اوپر سے چلا آرہا تھا۔ تو یہ مسئلہ بھی اسی کتاب واضح کے اندر آگیا اور اس میں بھی اب کسی تغیر و تصرف کی گنجائش نہ رہی۔ (آیت) ” الیوم “۔ دین الہی چلا تو شروع ہی سے آرہا تھا، لیکن ہر نبی کے عہد میں زمان ومکان کے مصالح ومقتضیات کے لحاظ سے احکام شریعت وقت ومقام کے ساتھ محدود ومخصوص رہتے تھے، دین اب پہلی بار عالمگیر اپنے جزئیات وتفصیلات کے ساتھ ہورہا ہے۔ (آیت) ” الیوم “۔ میں اشارہ اسی جانب ہے کہ اب خدائی پروگرام میں وحدت نسل انسانی کا زمانہ شروع ہونے کو ہے دنیا اب تک مختلف جغرافی حصوں اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی، ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر نہایت دشوار تھا، اور اس میں نامہ وپیام کی بھی کوئی آسان راہ نہ تھی۔ ہر علاقہ کہنا چاہیے اپنے جغرافی و طبعی سرحدوں کے اندرمحفوظ تھا، دریا، پہاڑ، سمندر وغیرہ جو راہ میں حائل رہتے، ان کا عبور کرنا گویا محال تھا۔ ریل، موٹر، لاری، تار، ٹیلیفون وغیرہ خواب و خیال میں بھی نہ تھے، اب کائنات ارضی کی تاریخ میں پہلی بار اس کا وقت آرہا تھا کہ انسانیت کے ٹکڑے ایک دوسرے سے ملیں، رسل و رسائل کے ذرئع وسیع ہوں۔ اور جس طرح نظام تکوینی میں ہر فرد کے لیے، اس کے وجود میں آنے سے قبل ہی اس کے لیے ہوا کا، اور روشنی کا اور پانی کا سامان حکمت الہی موجود رکھتی ہے اسی طرح نظام تشریعی میں رحمت حق نے چاہا کہ نوع انسان کی انفرادی واجتماعی دونوں زندگیوں کی روحانی واخلاقی تربیت کا انتظام پیشتر سے موجود رہے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ فقہاء ظاہر اور حکماء باطن نصوص سے جو مستنبط کرتے ہیں، وہ بھی سب دین ہی میں داخل ہے، ورنہ اکمال دین کے بعد اس کی اجازت نہ ہوتی۔
19 ۔ (اور حرام ماکولات میں کسی شے کو کھاپی لے) فاباح اللہ عند الضرورۃ اکل جمیع مانص علی تحریمہ فی الایۃ (جصاص) (آیت) ” مخمصۃ “۔ کے معنی شدید بھوک کے ہیں۔ المخمصۃ المجاعۃ (جصاص) قال اھل اللغۃ الخمص والمخمصۃ خلو البطن من الطعام عند الجوع (کبیر) (آیت) ” غیر متجانف الاثم “۔ یعنی حرام شے محض بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر کھالی جائے، حصول لذت کی نیت نہ ہو، اور نافرمانی یا قانون شکنی مقصود نہ ہو، ای غیر متعمد لمعصیۃ فی قصدہ قالہ قتادۃ والشافعی رحمھما اللہ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس چیز کی اجازت بہ ضرورت دی جائے، اس سے حظ نفس کا قصد جائز نہیں۔ جیسے طیبب یا گواہ عورت یا اس کے جسم کو بہ ضرورت دیکھے، تو بہ قصد شہوت نظر کرم حرام ہے۔
20 ۔ صفت غفر لا کر یہ یاد دلا دیا کہ اگر قدر ضرورت سے کوئی ایک آدھ لقمہ زیادہ کھا گیا، جب بھی معاف کردیا جائے گا اور صفت رحمت سے یہ اشارہ ہے کہ قانون ایسے موقع کے لیے دیکھو کیسا نرم وآسان رکھ دیا۔
Ayah 5:421 ۔ (کتے اور باز کے شکار کیے ہوئے جانوروں میں سے) یہ سوال کرنے والے منکرین نہ تھے مومینن و صحابہ ہی تھے۔ اور حلت و حرمت اشیاء کے سلسلہ میں اس مسئلہ کا حل بھی ضروری تھا۔ یسئلک یا محمد اصحابک ما الذی احل لھم (ابن جریر) (آیت) ” لھم یعنی مسلمانوں پر۔ صحابہ کا اصل سوال یہ تھا کہ شکاری جانوروں (مثلا کتے اور باز) کے ذریعہ سے شکار کیے ہوئے جانوروں میں سے کون کون حلال ہیں ؟ آیا سب ہی حلال جانور اس طریق شکار کے بعد بھی حلال رہتے ہیں، یا کچھ مخصوص جانور حلال رہ جاتے ہیں، اور وہ بھی مخصوص شرائط کے ماتحت ؟ اللہ حضرات صحابہ پر بیشمار رحمتیں نازل کرے، امت کے کام کی کیسی کیسی چیزیں خدا اور رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرڈالیں ! یہ معلومات پیشتر سے نہ موجود ہوتے تو آج کتنی دقتیں ہوتیں !
22 ۔ جواب یہ ملا کہ جو حلال جانور ہیں، وہ اس طریق شکار کے بعد بھی حلال رہتے ہیں، البتہ خود شکار کے شرائط آگے آتے ہیں۔ طیب کی تعریف میں ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ وہ وہ پاک اور لذیذ غذا ہے جسے طبع سلیم قبول کرلے۔
23 ۔ دو شرطیں اتنے ہی جواب سے نکل آئیں۔ پہلی شرط تو یہ نکلی کہ وہ شکاری جانور سکھائے ہوئے، سدھائے ہوئے ہوں۔ اور فقہاء نے بات سے بات یہ پیدا کی ہے کہ یہ قید صرف وحشی جانوروں کے لیے نہیں، بلکہ گھریلوجانوروں کے لیے بھی ہے، چناچہ گھریلوجانور اگر ٹریننگ پایا ہوا نہ وہ تو اس کا کیا ہوا شکار حلال نہ ہوگا۔ البتہ جو جانور (وحشی ہو یا گھریلو) سکھایا ہوا ہوگا، اس کا فعل خود شکاری کا فعل سمجھا جائے گا۔ دوسری شرط یہ پیدا ہوئی کہ وہ جانور تمہارے چھوڑے ہوئے جھپٹیں، یہ نہیں کہ از خود شکار پکڑ کر لائیں، اور تمہارے سامنے ڈال دیں۔ (آیت) ” الجوارح “۔ جارحہ کی جمع ہے۔ معنی ہیں ہر شکاری جانور کے خواہ وہ پرندہ ہو یا درندہ۔ تسمی الصائدہ من الکلاب والفھود والطیور جارحۃ (راغب) جارحہ کا نام ہی اس لیے جارحہ پڑا ہے کہ وہ شکار کو زخمی کرتا ہے قیل فی الجوارح انھا ماتجرح بناب او مخلب (جصاص) سمیت جوارح من الجرح لانھا تجرح الصید عند امسا کہ (خازن) (آیت) ” وما علمتم من الجوارح “۔ ترکیب میں اس کا عطف (آیت) ” الطیبت “۔ پر ہے۔ اور صید مضاف محذوف ہے۔ عطف علی الطیبات ای احل لکم الطیبات وصید ما علمتم فحذف المضاف (کشاف) ای وصید ماعلمتم (قرطبی) ”(آیت) ” مکلبین “۔ مکلب “۔ کے ایک معنی تو ہیں کتے کو تعلیم دینے والا، اور دوسرے معنی ہیں شکار پر جھپٹنے والا۔ دونوں میں کوئی منافات نہیں، اور اہل لغت نے دونوں کی گنجائش رکھی ہے۔ المکلب معلم الکلاب الصید مضرلھا علیہ وقد یکون التکلیب واقعا علی الفھد وسباح الطیر (تاج) مکلب مضرللکلاب علی الصید معلم لھا وقد یکون التکلیب واقعا علی الفھد وسباع الطیر (لسان) لمکلب الذی یعلم الکلب (راغب) التکلی بھی التضریۃ بالشیء والتسلیط علیہ لغۃ (ابن العربی) (آیت) ” مکلبین “۔ کے لفظ سے یہ دھوکا نہ ہو کہ یہ تعلیم وتربیت صرف کتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ شکاری پرندے بھی بلااختلاف فقہاء سب اسی حکم میں داخل ہیں۔ لایخصص ذلک بالکلاب دون غیرھا فوجب حملہ علی العموم ولا نعلم خلافا بین فقھاء الامصار فی اباحۃ صید الطیر (جصاص) گویا یہ پہلی شرط کی تفصیل ہوگئی (ملاحظہ ہو اسی حاشیہ کی پہلی سطر)
24 ۔ فقہاء نے تعلیم (ٹریننگ) کا معیار کتے کے حق میں یہ رکھا ہے کہ سکھایا ہوا کتا شکار کو پکڑ کر خود نہ کھاجائے اور باز کے حق میں یہ رکھا ہے کہ سدھے ہوئے باز کو جب آواز دی جائے، تو وہ شکار کا پیچھا چھوڑ کر واپس چلا آئے۔
25 ۔ (آیت) ” امسکن علیکم “ یعنی وہ شکار مسلمان شکاری ہی کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ جانور کے اپنے لیے۔ اس نص نے اسے صاف کردیا جو فقہاء قبل کے الفاظ سے استنباط سمجھے تھے۔ اور اس کا میعار وہی ہے، جو اوپر کے حاشیہ میں بیان ہوچکا تھا اگر کتا اس شکار کو خود کھانے لگے یا باز شکاری کے بلانے سے واپس نہ آئے تو یہی سمجھا جائے گا کہ جانور نے شکار مالک کے لیے نہیں، اپنے لیے پکڑا ہے (آیت) ” علیکم “۔ میں علی، ل، کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” امسکن علیکم “۔ سے مراد یہ ہے کہ وہ جانور خود اس شکار کو نہ کھائے، اور اسے شکاری کے لیے روکے رکھے، ای جس لکم ولم یا کل (قرطبی) الامساک علی صاحبہ ان لایاکل منہ (مدارک) اور قرطبی نے اس معنی پر صحابیوں میں سے ابن عباس، ابوہریرہ ؓ اور تابعین میں سے عکرمہ وقتادہ، ابن جبیر اور عطاء کا اور ائمہ فقہ میں سے نخعی، شافعی، احمد، اسحق، ابو ثور اور ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں کا اتفاق نقل کیا ہے۔ والیہ ذھب اکثر الفقہاء (بیضاوی) البتہ باز، شکرہ وغیرہ شکاری پرندوں کی تادیب اس حد تک ذرا دشوار ہی ہے۔ اس لیے فقہاء کے دقیقہ سنج گروہ نے انہیں اس قاعدہ سے مستثنی رکھا۔ وقال بعھم لایشترط ذلک فی سباع الطیر لان تادیبا الی ھذہ الحد متعذر (بیضاوی) قال ابوحنیفۃ وابویوسف ومحمد وزفر یوکل صید البازی وان اکل (جصاص) واما البازی فانہ معلوم انہ لایمکن تعلیمہ بترک الاکل وانہ لایقبل التعلیم من ھذہ الجھۃ (جصاص) فان اکل منہ لم یوکل اذا کان صید کلب ونحوہ فاما صید البازی ونحوہ فاکلہ لایحرمہ (مدارک)
26 ۔ یعنی شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت بسم اللہ کہہ لیا کرو، یعنی اذا ارسلت جارحک فقل بسم اللہ (ابن عباس ؓ ای سموا علیہ عند ارسالہ (مدارک) ومن شرائط ذکاۃ الصید التسمیۃ علی الارسال (جصاص) حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے :۔ عن عدی بن حاتم قال قال رسول اللہ ﷺ اذا ارسلت کلابک المعلمۃ وذکرت اسم اللہ فکل مما امسکن علیک (صحیح بخاری) عدی بن حاتم ؓ صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سکھایا ہوا کتا اللہ کا نام لے کر چھوڑو تو پھر وہ جو تمہارے لیے پکڑے رکھے، اسے کھا سکتے ہو۔ فقہاء نے حدیث بالاہی سے یہ قاعدہ اخذ کیا ہے، کہ ذبح حیوانات کے وقت جو بسم اللہ پڑھی جاتی ہے، اسی کے قائم مقام وہ بسم اللہ ہے جو شکار پر شکار پر شکاری جانور کے چھوڑتے وقت پڑھی جائے، ھذا یدل علی ان حال الارسال بمنزلۃ حال الذبح فی وجوب التسمیۃ علیہ (جصاص) وتشترط التسمیۃ من الذابح حالۃ الذبح اوالرمی بصید اوالارسال (درمختار)
27 ۔ (ہر معاملہ کی طرح اس معاملہ میں بھی اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے) ذرا موقع کی تصویر چشم تصور میں لائیے، خوب بھوک لگی ہوئی ہے، بڑے لذیذ گوشت کا جانور شکرہ یا کتا پکڑ کر لایا ہے، شوق بےقرار ہے کہ جلد سے جلد اس کے کباب لگیں، اور بھنے ہوئے شکار سے جی بھر کر لذت حاصل کی جائے، اب کون اس موقعہ پر یاد دلائے کہ شرائط حلت ذرا مستحضر کرلیجئے، جانور سدھا ہوا ہے یا نہیں، اسے چھوڑے وقت بسم اللہ کہہ دی گئی تھی یا نہیں، وغیرہا۔ بجز تقوی الہی کے اور کس میں اس وقت یہ یاد دلانے کی قوت ہے ؟
28 ۔ اور یہی مراقبہ ہر دشوار حکم کی تعمیل کو آسان بنادے گا) خوب خیال کرکے دیکھ لیا جائے کہ قرآن حکیم میں احکام جہاں جہاں بھی آئے ہیں، ان کے متصل ہی کوئی اس قسم کا فقرہ بھی ضرور مل جاتا ہے، جس سے یاد آخرت یا اللہ کے علم کل کا استحضار ہوجائے، ہر دشواری کو آسان بنادینے کا، ہر پتھر کو پانی کردینے کا نسخہ اس سے بڑھ کر اور ہو کیا سکتا ہے۔
Ayah 5:529 ۔ (اور یہ جواز قیامت تک رہے گا، کوئی نئی شریعت اسے منسوخ کرنے والی اب نہیں آنے کی)
30 ۔ (بہ شرطی کہ ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام نہ لے دیا گیا ہو) ” تثلیث مقدس “ کے نام پر اگر کوئی جانور ذبح ہوا ہوگا تو وہ محققین حنفیہ کے ہاں حلال نہیں، حرام ہوگا۔ قال ابو حنیفۃ وابو یوسف ومحمد وز فرمن کان یھودیا اونصرانیا من العرب والعجم فذبیحتہ مذکاۃ اذا سمی اللہ علیہا وان سمی النصرانی علیھا اسم المسیح لم توکل (جصاص) (آیت) ” طعام “۔ سے مراد حلال جانور ہیں، جو اہل کتاب کے ہاتھ کے ذبح کیے ہوئے ہوں، جیسا کہ صحابیوں، تابعین اور ائمہ تفسیر نے سمجھا ہے ورنہ مطلق کھانا تو دوسرے غیر مسلموں کے ہاں کا بھی جائز ہے۔ کچھ اہل کتاب کی تخصیص نہیں۔ وفی المراد بالطعام ھھنا وجوہ الثلاثۃ والاول انہ الذبائح والاکثرون علی القول الاول (کبیر) ھوھنا خاص بالذبائح عند کثیر من اھل العلم بالتاویل (قرطبی) وعلیہ اکثر المفسرین (روح) روی عن ابن عباس وابی الدرداء والحسن ومجاہد و ابراہیم وقتادہ والسدی انہ ذبائحھم وظاہرہ یقتضی ذلک (جصاص) بعض فقہاء امت نے تصریح اور تاکید کی ہے کہ جن اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے، انہیں واقعۃ اور عملا یہودی یا نصرانی ہونا چاہیے، محض اسما یا نسلا ان کا ” قوم “ اہل کتاب سے ہونا کافی نہیں۔ ورنہ جو علت مشرکین کے ذبیحہ کی حرمت کی ہے وہی یہاں بھی مشترک ہے۔ حضرت علی ؓ اور دوسرے صحابیوں کے فتوے اس باب میں موجود ہیں۔ اس وقت جو نصرانی محض نام کے تھے، ان کے ذبیحہ کین کھانے سے آپ نے روک دیا۔ حضرت عائشہ ؓ حضرت ابن عمر ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، اور بعض تابعین سے بھی ایسا منقول ہے، عن علی ؓ قال لاتاکلوا اذبائح نصاری بنی تغلب فانھم لم یتمسکوا بشیء من النصرانیۃ الا بشرب الخمر (ابن جریر) عن ابن عباس ؓ قال لا تکلوا ذبائح نصاری العرب وذبائح نصاری ارمینیہ (ابن جریر) وقال بھذا من الصحابۃ علی ؓ وعائشہ ؓ وابن عمر ؓ وھو قول طاؤس والحسن (قرطبی) امام مالک کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ وقال مالک اکرہ ذلک ولم یحرمہ (قرطبی) لیکن اس کے مقابل بہت سے اکابر تابعین اور ائمہ فقہ کا قول یہ بھی موجود ہے کہ کتابیوں کا ذبیحہ جائز ہے۔ وذھب اکثر اھل العلم الی انہ یحل وھو قول الشعبی وعطاء والزھری ومکحول (معالم) حسن بصری تابعی کا یہ قول دل کو بہت زیادہ لگتا معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہودی یا نصرانی کے ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام خود سن لو، جب تو نہ کھاؤ، ورنہ کھا لینے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ وقال الحسن اذا ذبح الیھود والنصرانی فذکر اسم غیر اللہ وانت تسمع فلا تاکلہ واذا غاب عنک فکل فقد احل اللہ لک (معالم۔ روح) لیکن واضح رہے کہ یہ سارے اختلافات اس صورت حال کے موقعہ پر ہیں۔ جب جانور بہرحال ذبح ہوا ہو۔ لیکن جب ذبح ہی کی نوبت سرے سے نہ آئے، مثلا مرغ کو گردن مروڑ کر ہلاک کردیا گیا تو ایسے غیر مذبوح جانور کے جواز کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اور آج کے برائے مسیحی قوموں میں جو عام دستور ہے، سب پر ظاہر ہے۔
31 ۔ (سو تم اپنے کھانے انہیں بلاتکلف کھلا سکتے ہو) مسلمان رک رہے تھے، کہ معلوم نہیں ہمارے لئے جائز بھی ہے یا نہیں کہ ہم کتابیوں کو اپنے کھانے میں سے کھلا سکیں، یہاں تصریح کردی گئی کہ بےتکلف جائز ہے۔ فلاجناح علیکم ان تطعموھم (مدارک) ای ویحل لکم ان تطعموھم من طعامکم (کبیر) یہ صراحت اس لیے بھی ضروری تھی کہ نکاح کا بیان معا بعد آرہا ہے۔ ذبیحہ تو طرفین سے حلال ہے۔ لیکن مناکحت کا قیاس اس پر درست نہ ہوگا نکاح صرف ان کی عورتوں سے مسلمان مرد کا جائز ہے۔ مسلمان عورت کا نکاح ان کے مرد سے جائز نہیں۔ لاجرم ذکر اللہ تعالیٰ ذلک تنبیھا علی التمییز بین النوعین (کبیر)
32 ۔ ابھی ذکر کھانے کی حلال چیزوں کا تھا، اب ذکر عورتوں کا ہے، کہ زن مسلم اور زن کتابی تمہارے لیے حلال ہے۔۔۔۔ مواکلت کی طرح مناکحت بھی انسان کی ایک طبعی خواہش ہے، اس لیے دونوں کے احکام اگر اگر اکٹھے لائے گئے تو یہ عین باہمی مناسبت کا تقاضہ ہے۔ (آیت) ” من المومنت۔ من الذین اوتو الکتب “۔ مسلمات اور کتابیات دونوں کے درمیان اصلا قدر مشترک سلسلہ وحی ونبوت پر ایمان ہے۔ یہود اور نصرانیوں کے اعمال کیسے ہی فاسقانہ ہوں، اور بعض عقائد کیسے ہی غالیانہ ہوں، بہرحال اصلا وہ لوگ توحید ہی کے قائل ہیں اور سلسلہ وحی ونبوت کے ماننے والے، اور عقائد کے باب میں یہی دو عنوانات اہم ترین ہیں۔ البتہ یہ خیال رہے کہ ” نصرانیت “ موجودہ یوروپی قوموں کی مسیحیت کے مرادف نہیں۔ نکاح کتابیوں کے ساتھ بالکل جائز ہے، نفس جواز میں کوئی گفتگو اس نص کے بعد چل ہی نہیں سکتی۔ البتہ فقہاء نے مفسدوں پر نظر کرکے اور مصلحت شرعی کا لحاظ کرکے فتوی یہ دیا ہے۔ کہ بلاضرورت ایسے نکاحوں سے بچنا چاہیے، یجوز تزوج الکتابیات والاولی ان لایفعل (فتح القدیر) وصح نکاح کتابیۃ وان کرہ تنزیھا (درمختار) اور کتابیہ حربیہ کے ساتھ نکاح کی کراہت میں تو شبہ نہیں۔ وتکرہ الکتابیۃ الحربیۃ اجماعا لا فتتاح باب الفتنۃ (فتح القدیر) واصحابنا یکرھون مناکحات اھل الحرب من اھل الکتاب (جصاص) یجوز للمسلم ان یتزوج کتابیۃ فی دارالحرب ولکنہ یکرہ (مبسوط) حنفیہ کے اس قول کا ماخذ حضرت علی ؓ کا ایک اثر ہے، جس میں آپ ؓ نے کتابیہ مقیم دارالحرب سے نکاح پر کراہت ظاہر کی ہے۔ بلغنا عن علی ؓ بن ابی طالب انہ سئل عن مناکحۃ اھل الحرب من اھل الکتاب فکرہ ذلک وبہ ناخذ (مبسوط) علامہ شامی نے فیصلہ کیا ہے کہ نکاح غیر حربیہ کے ساتھ تو محض مکروہ تنزیہ ہے، لیکن حربیہ کے ساتھ مکروہ تحریمی، قولہ والاولی ان لایفعل یفید کراھیۃ التنزیہ فی غیر الحربیۃ وما بعدہ یفید کراھیۃ التحریم فی الحربیۃ (رد المختار) (آیت) ” والمحصنت “۔ ترکیب میں عطف ہے الطیبات پر اوپر کی آیت میں، المصنات۔ پر حاشیہ پارۂ پنجم کی ابتداء میں گزر چکا۔ یہاں مراد ہے کہ قید عصمت کی پابند اور پارسا ہوں، یہ نہ ہو کہ ادھر کسی کے عقد میں بھی آئیں۔ اور ادھر بدچلنی اور عصمت فروشی بھی جاری رکھیں، ای حصان فی النساء ھی العفۃ عن الزنا (ابن کثیر) لفظ کے لانے سے مقصود عصمت کی عظمت کو بڑھانا اور اس کی ترغیب دینا ہے، ورنہ قانونی حیثیت سے نکاح منعقد تو ہر نیک چلن، بدچلن اور بیوی وباندی سب کا ہوسکتا ہے۔ ھی الحرائر والعفائف ولیس ھذا بشرط لصحۃ النکاح بل ھو للاستحباب لانہ یصح نکاح الاماء من المسلمات ونکاح غیر العفائف (مدارک) روی عن الحسن والشعبی وابراھیم والسدی انھم العفائف (جصاص) قال ابو عبید یعنی العواھر فھذا یدل علی ان معنی الحصان عقدہ ھھنا کان علی العفۃ (جصاص) (آیت) ” اذا اتیتموھن اجورھن “۔ مہر شرط نکاح نہیں، لیکن مہر کی عظمت اور اہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید بار بار اس کا ذکر تصریحا کرتا ہے۔ تتقیید التحلیل بایتاء الاجور یدل علی تاکد وجوبھا (کبیر) وتقیید الحل بایتاءھا لتاکید وجوبھا (روح)
33 ۔ نکاح اسلام میں کوئی ضمنی اور ثانوی حیثیت کی چیز نہیں، ایک اہم اور زبردست اخلاقی، اجتماعی، روحانی ادارہ ہے اس کے منافع ومصالح فرد کے، خاندان کے، معاشرہ کے، سب کیلیے بیشمار ہیں، نکاح یا شادی کے لیے اسی لیے اردو میں بھی دوسرا لفظ ” خانہ آبادی “ کا ہے۔۔ اجڑئے ہوئے سنسان اور ویران گھر گھرانے اسی ذریعہ سے آبادہوتے ہیں، مردوزن کے باہمی تعلق کو اسلام نے صرف اسی صورت میں جائز رکھا ہے، کہ زوجین کا اس سے اصل مقصود ایک خاندان کی بنیاد رکھنا، ایک مستقل معاشرہ قائم کرنا ہو، اپنے کو مہذب ومتمدن کہلانے والی، لیکن حقیقۃ جاہلی قوموں میں اس صورت مناکحت کے علاوہ دو اور صورتیں بھی مرد وزن کے تعلق کی پہلے بھی جاری رہی ہیں، اور اب بھی جاری ہیں، ایک شکل تو کھلم کھلا بدکاری کی ہے۔ عورت زنا کے لیے آزاد رہے، اس کو باقاعدہ اپنا پیشہ بنا لے۔ نہ سوسائٹی اسے اس سے روک سکے نہ حکومت، جو مرد جب چاہے، اس کے ہاں جا کر ایک خاص کرایہ دے کر اپنے جسم کا پانی بہا آئے، اور منہ کالا کرکے چلا آئے، دوسری صورت چوری چھپے آشنائی کی ہے۔ یعنی عصمت کے معنی ہی مٹ جائیں اور شریف وبیسوا میں کوئی فرق نہ رہ جائے، البتہ اس سے پبلک فضیحتا (Scandal) نہ پھیلتا ہو، یعنی جانتے اپنی جگہ سب ہوں، لیکن عام زبانوں پر چرچے نہ پھیلیں، اسلام نے ان دونوں مہذب جرموں کو ایک لعنت قرار دیا اور جائز صورت مرد و عورت کو جنسی شہوانی تعلق کی صرف نکاح بتائی، نکاح چوری چھپے نہیں، اعلان کے ساتھ ہوتا ہے، اس میں خدا کا نام درمیان میں لا کر، خالق کائنات کا واسطہ ڈال کر، مرد عورت کی راحت، آسائش کا ذمہ لیتا ہے اور عورت مرد کی خدمت کی ذمہ داریوں قبول کرلیتی ہے۔ دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق قائم ہوتے ہیں، فرائض عائد ہوتے ہیں، دونوں اپنے کو مستقل نباہ کے لیے عمر کے ہر دور، مال واقبال کے ہر اتار چڑھاؤ کے لیے حتی الامکان تیار کرتے ہیں، اور یہ سب کچھ گواہوں کی موجودگی میں ہوتا ہے۔ (آیت) ” محصنین غیر مسفحین ولا متخذی اخدان “۔ لا کر قرآن مجید نے ازدواجی وخانگی زندگی کا وہ بلند ترین معیار پیش کردیا، جہاں کوئی مادی تہذیب آج تک نہیں پہنچ سکی ہے۔
34 ۔ گو اس کا حال اور مستقبل قریب بہ ظاہر کیسا ہی خوش نما ہو) (آیت) ” بالایمان “۔ یعنی مقتضیات ایمان سے، ان چیزوں سے جو ایمان لانے سے واجب ہوجاتی ہیں۔ اور انہی میں حلت و حرمت کے مسائل بھی آجاتے ہیں۔ ای بشرائع الاسلام وما احل اللہ وما حرم (کشاف) قال الزجاج معناہ من احل ما حرم اللہ او حرم ما احل اللہ فھو کافر (بحر) (آیت) ” حبط عملہ “۔ کوئی عمل، کیسا ہی خوشنما ہو، اگر روح سے خالی ہے، تو اس کا شمار نیکی میں ہرگز نہیں ہوسکتا، ایمان نام اسی روح عمل کا ہے، تو جس کی نیت ہی سرے سے درست نہیں، اور جو ایمان کی دولت سے یکسر محروم ہے ظاہر ہے کہ اس کے اعمال صرف صورۃ نیک ہوسکتے ہیں، نہ کہ معنی و حقیقت کے لحاظ سے، نیکی کی اور۔
Ayah 5:635 ۔ یعنی نماز کا ارادہ کرو اور حالت وضو میں نہ ہو، ای اذا اردتم (قرطبی) ای اذا ارتم القیام عبرعن ارادۃ الفعل بالفعل المسبب عنھا للایجاز (بیضاوی) اتنا فقرہ کہ حالت وضو میں نہ ہو، یا محدث ہو، محذوف مانا گیا ہے، اجمالا، اسی لیے وضو پر وضو نماز کے نماز کے لیے ضروری نہیں، وظاہر الایۃ یوجب الوضوء علی کل قائم الی الصلوۃ وان لم یکن محدثا والاجماع علی خلافہ (بیضاوی) مطلق ارید بہ التقیید والمعنی اذا قمتم الی الصلوۃ محدثین (بیضاوی) وقدروی نفی ایجاب الوضوء بکل صلاۃ من غیر حدث عن ابن عمر وابی موسیٰ و جابر بن عبداللہ وعبیدۃ السلمانی وابی العالیۃ و سعید بن المسیب و ابراہیم والحسن ولا خلاف بین الفقہاء فی ذلک (جصاص) گو تازہ وضو کی فضیلت بہت زائدوارد ہوئی ہے، اور رسول اللہ ﷺ اور خلفائے ؓ کا عام تعامل بھی یہی تھا، چانچہ وضو پر وضو کرنے کے استحباب کے سب قائل ہیں، وقدروی عن النبی ﷺ اخبار فی تجدید الوضوء (جصاص) وقدروی عن ابی بکر وعمر وعثمان وعلی انھم کانوا یتوضؤن لکل صلاۃ وھذا محمول علی ان فعلوہ استحبابا (جصاص) قال ابن سیرین کان الخلفاء یتوضؤن لکل صلاۃ (قرطبی) حملوا الامر علی الندب وکان کثیر من الصحابۃ منھم ابن عمر یتوضؤن لکل صلاۃ طلبا للفضل وکان (علیہ السلام) یفعل ذلک (قرطبی)
36 ۔ اب تعلیم ارکان وضو کی ہورہی ہے اسلام بخلاف دوسرے مذہبوں کے، باطنی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ ظاہری وجسمانی صفائی کا بھی بہت قائل ہے۔ اور اس نے اپنی مرکزی عبادت نماز سے قبل وضو کو لازمی ٹھیرایا ہے کہ بغیر اس کے نماز درست ہی نہیں۔ آیت احکام قرآنی کی اہم ترین آیتوں میں سے ہے۔ (آیت) ” ذکر العلماء ان ھذہ الایۃ من اعظم ایات القران مسائل واکثرھا احکاما فی العبادات ویحق ذلک (ابن العربی) یہاں تک کہ اس ایک آیت کے اندر سے بعض بعض علماء وفقہاء نے آٹھ آٹھ سو اور ہزار ہزار مسئلے مستخرج اور مستنبط کیے ہیں۔ ولقد قال بعض العلماء ان فیھا الف مسئلۃ واجتمع اصحابنا بمدینۃ السلام فتتبعوھافبلغوھا ثمان ماءۃ مسئلۃ ولم یقدروا ان یبلغوھا الالف (ابن العربی) وضو میں فرض صرف چار چیزیں ہیں، اور انہی کا آیت میں بیان ہے۔ ( 1) (آیت) ” فاغسلوا وجوھکم “۔ چہرہ کا دھونا۔ (2) (آیت) ” وایدیکم الی المرافق “۔ ہاتھوں کا کہنیوں سمیت دھونا۔ (3) (آیت) ” وامسحوا برء وسکم “۔ سر کا مسح کرنا، یا پانی میں تر کیا ہوا ہاتھ اس پر پھیرنا۔ (4) (واغسلوا) (آیت) ” ارجلکم الی الکعبین “۔ پیروں کا ٹخنوں سمیت دھونا۔ ان کے علاوہ اور جو چیزیں ہیں، کلی کرنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی، لینا، غرغرہ کرنا، وقس علی ھذا، ان میں سے بعض امور مسنون ہیں، اور بعض مستحب۔ تفصیل فقہ کی کتابوں میں ملے گی، تفسیر سے اس کا تعلق نہیں اعضائے وضو پر پانی بہانا، انہیں دھونا، ملنا صاف کرنا، اپنے اندر جتنی بھی حکمتیں اور جسمانی مصلحتیں رکھتا ہے اور حضور قلب میں جس حد تک معین ہوسکتا ہے ان پہلوؤں پر تفصیل سے لکھنے کے لیے ایک مستقل مقالہ کی ضرورت ہوگی، (آیت) ’ ’ فاغسلوا وجوھکم “۔ مالکیہ کے ہاں چہرہ دھونے کے معنی یہ ہیں کہ پانی اس پر بہایا جائے اور ہاتھ اس پر پھیرا جائے، لیکن حنفیہ کے ہاں محض پانی کا اس پر بہہ جانا کافی ہے، ہاتھ سے ملنا اور رگڑنا لازمی نہیں۔ ولا بد فی غسل الوجہ من نقل الماء الیہ وامرار الیدعلیہ وھذہ حقیقۃ الغسل عندنا (قرطبی) قال اخرون وھو قول اصحابنا وعامۃ الفقھاء علیہ اجراء الماء علیہ ولیس علیہ تل کہ بیدہ (جصاص) (آیت) ” وایدیکم الی الفرافق “۔ الی اظہار غایت و انتہاء کے لیے آتا ہے اور اس فیصلہ کا تعلق سیاق سے ہے کہ (آیت) ” الی “۔ کا مابعد بھی الی کے ماقبل کے ساتھ شامل رکھا جائے گا یا اس سے الگ سمجھا جائے بعض ماہرین نحو نے یہ بھی کہا ہے کہ مابعد اگر ہم جنس ہے تو ماقبل کے ساتھ شامل سمجھا جائے گا، اور اگر غیر جنس ہے تو اس سے خارج رہے گا۔ لان ما بعد الی اذا کان من نوع ما قبلھا دخل فیہ قالہ سیبویہ وغیرہ (قرطبی) قال الخلیل فی قولہ تعالیٰ الی المرافق ان المرافق فیما یغسل (تاج) القول الثانی ان الی حد والحد اذا کان من جنس المحدود دخل فیہ (ابن العربی) (آیت) ” الی “۔ کبھی معیت کے معنی کے بھی دیتا ہے اور مع کا مرادف ہوتا ہے۔ وتاتی للمعیۃ (تاج) چناچہ قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں اس معنی میں آیا ہے۔ (آیت) ” واذا خلوا الی شیطینھم۔ من انصاری الی اللہ “۔ ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم “۔ وغیرھا۔ اور بہت سے نحویین نے یہاں بھی الی اسی معنی میں لیا ہے۔ فان جماعۃ النحویین جعلوا الی بمعنی مع ھھنا واوجبوا غسل المرافق والکعبین (تاج) رسول اللہ ﷺ نے اسے دفع کردیا ہے۔ روی جابر ؓ بن عبد اللہ ان النبی ﷺ کان اذا بلغ المرفقین فی الوضوء ادا رالماء علیھما وفعلہ ذلک عندنا علی الوجوب لورودہ موردالبیان (جصاص) عن النبی ﷺ انہ کان یدیر الماء علی مرفقیہ (مدارک) حنفیہ کے ہاں تو کہنی کا اعضاء وضو میں داخل ہونا ایک متفقہ مسئلہ ہے ہی (اختلاف صرف امام زفر سے منقول ہے) والذی ذکرنا من دخول المرافق فی الوضوء ھو قول اصحابنا جمع یا الازفر (جصاص) باقی دوسرے مذاہب فقہ نے بھی کہنی کا دھونا لازم قراردیا ہے۔ وجمھور الفقھاء علی دخولھا وحکی عن الشافعی (رح) انہ قال لا اعلم خلافا فی ان المرافق یجب غسلھا (روح) فقد نقل ابن ھبیرۃ اجماع الائمۃ الاربعۃ علی فرضیۃ غسل الیدین مع المرفقین (روح) قال الجمہور غسل الیدین الی المرفقین واجب معھما (کبیر) (آیت) ” وامسحوا برء و سکم “۔ مسح سے مراد بھیگے ہوئے ہاتھ کے پھیر لینے سے ہے۔ جملہ کی ترکیب (آیت) ” برء و سکم “ اس کی مقتضی ہے کہ مراد پورے سر کا مسح نہیں، بلکہ اس کے کسی حصہ کا ہے، چناچہ حنفیہ کے ہاں سر کے چوتھائی حصہ کا مسح کافی ہے اور ب تبعیض کے لیے ہے۔ یقتضی مسح بعضہ (جصاص) روی عن اصحابنا فیہ روایتان احدھما ربع الرأس والاخری مقدار ثلاثۃ اصابع (جصاص) اخبر ابراھیم ان الباء مزیدۃ وقیل للتبعیض وکونھا للتبعیض ینکرہ اکثر النحاۃ حتی قال بعض وقال من لاخبرۃ لہ بالعربیۃ الباء فی مثل ھذا للتبعیض ولیس بشیء یعرفہ اھل العلم (بحر) تاہم ربع سر کے لیے حنفیہ کے ہاں دلیل سنت رسول سے ہے۔ آپ ﷺ کا تعامل پیشانی پر مسح کا تھا اور پیشانی کی مقدار ربع سر کے برابر ہوتی ہے۔ واخذنا ببیان نبی ﷺ وھو ماروی انہ مسح علی ناصیتہ وقدرت الناصیۃ بربع العرأس (مدارک) (آیت) ” وارجلکم “۔ شامی وعلی وحفص سب سے اس کی قرأت نصب کے ساتھ ارجل مروی ہے، جس سے (آیت) ” ارجلکم “۔ فاغسلوا کا مفعول ٹھہرتا ہے۔ اور وجوھکم اور ایدکم پر عطف ہوتا ہے اور معنی یہ ہوتے ہیں کہ اپنے چہروں اور ہاتھوں اور پیروں کو دھوؤ بالنصب شامی ونافع وعلی وحفص والمعنی فاغسلوا وجوھکم وایدکم وارجلکم (مدارک) قرأ نافع ابن عامر والکسائی ارجلکم بالنصب (قرطبی) عن ابی عبدالرحمن قال قرأ علی الحسن والحسین ؓ فقرار وارجلکم الی کعبین تسمع علی ؓ ذلک وکان یقضی بین الناس فقال وارجلکم وھذا من المقدم والمؤخر من الکلام (ابن جریر) قرأ علی وعبداللہ بن مسعود وابن عباس فی روایۃ و ابراہیم والضحاک ونافع وابن عامر والکسائی وحفص عن عاصم بالنصب وکانوا یرون غسلھا واجبا (جصاص) دونوں پیروں کا دھونا ہی نہ کہ ان پر مسح کرنا، سنت رسول ﷺ سے بھی ثابت ہے اور تعامل صحابہ سے بھی۔ اور عطاء تابعی کا قول ہے کہ صحابہ کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ ھذا مذھب الجمھور والکافۃ من العلماء وھو الثابت من فعل النبی ﷺ (قرطبی) عن علی ؓ قالا اغسلوا الاقدام الی الکعبین (ابن جریر) وعن عطاء قال واللہ ما علمت ان احدا من اصحب رسول اللہ ﷺ مسح علی القدمین وانما امر بغسل ھذہ الاعضاء (مدارک) ولنا ان النبی ﷺ واظب علی غسل الرجلین وبہ امر من علمہ الوضوء ورأی رجلا یلوح عقبہ فقال ویل للاعقاب من النار (مبسوط) النبی ﷺ غسل وما مسح قط (ابن العربی) یؤیدہ السنۃ الشائعۃ وعمل الصحابۃ وقول اکثر الائمۃ (بیضاوی) قال جمھور الفقھاء والمفسرین فرضھما الغسل (کبیر) والجواب بان وجوب واحدۃ بالعبارۃ واخری بالدلالۃ لا طائل تحتہ بعد انعقاد الاجماع القطعی علی افتراضھما۔۔۔ فان الاجماع انعقد علی غسلھما (بحر الرائق) (آیت) ” الی الکعبین “۔ یعنی تخنوں کو شامل کرکے۔ وحکم الکعبین کالمرفقین (بحرالرائق) الی کے مفہوم سے متعلق یہاں بھی وہی مبحثیں ہوئی ہیں، جو الی المرافق کے تحت میں گزر چکی ہیں۔ ؛ وضو ہی کے سلسلہ میں فقہاء کے درمیان ایک طویل بحث نیت کی آجاتی ہے۔ حنفیہ کے ہاں نیت واجب نہیں، دوسرے ائمہ کی بابت روایتیں مختلف آئی ہیں۔ وقال کثیر من الشافعیۃ لا حاجۃ الی نیۃ وھو قول الحنفیۃ (قرطبی) النیۃ فی الطھارۃ واجبۃ فیہ وبہ قال مالک والشافعی و اکثر العلماء وروی الولیدبن مسلم عن مالک انھا غیر واجبۃ فیہ وبھا قال ابو حنفیۃ والاوزاعی۔ سواء قارنتہ النیۃ اولم تقارنہ (جصاص) قال ابوحنیفۃ وابو یوسف ومحمد کل طھارۃ بماء تجوز بغیرنیۃ وھو قول الثوری وقال الاوزاعی یجزی الوضوء بغیرنیۃ (جصاص) قال الشافعی (رح) النیۃ شرط لصحۃ الوضوء والغسل وقال ابو حنیفۃ (رح) لیس کذلک (کبیر) اختلف علماء الامصار ھل النیۃ شرط صحۃ الوضوء ام لا فذھب فریق منھم الی انھا شرط وھو مذھب الشافعی ومالک واحمد وذھب فریق اخرالی انھا لیست بشرط وھو مذھب ابی حنیفۃ والثوری (ہدایۃ المجتہد)
37 ۔ یعنی غسل کرلو، یا سارے جسم کو پانی سے دھوڈالو۔ ای فاغتسلوا (معالم۔ بیضاوی) امربالاغتسال بالمآء (قرطبی) (آیت) ” جنبا “۔ جنابت پر حاشیہ سورة النساء میں گزر چکا۔ (آیت) ” فاطھروا “۔ تطھیر باب تفعیل سے ہے یہیں سے نکتہ سنج فقہاء نے سارے جسم کے دھونے کا حکم نکالا ہے، اور محض بعض اعضاء کے دھو ڈالنے کو کافی نہیں سمجھا ہے، اور غسل واجب میں کلی، غرغرہ اور ناک میں پانی لینے کا حکم بھی یہیں سے پیدا ہوا ہے۔ عموم سائر البدن فلایجوز الاختصار علی بعض (جصاص) یقتضی تطھیر داخل الفم والانف (جصاص)
38 ۔ (یا کسی اور طریقہ سے غسل ٹوٹ چکا ہو اور اب غسل کی ضرورت ہو) (آیت) ” لمستم “۔ ملامست سے کنایہ جماع سے ہے، صحابہ تابعین، لغت سب سے یہی ثابت ہے۔ الملامسۃ ھنا الجماع (قرطبی) یکنی بالملامسۃ عن الجماع (راغب) قال علی وابن عباس اوبو موسیٰ ؓ والحسن وعبیدہ والشعبیھی کنایۃ عن الجماع (جصاص) فمن قرأ اولمستم فظاہرہ الجماع لاغیر لان المفاعلۃ لاتکون الا من اثنین الا فی اشیاء نادرۃ (جصاص)
39 ۔ اس کا تعلق ضرورت وضو وغسل کی سب شکلوں سے ہے، یعنی پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو، خواہ یہ بسبب مرض کے، خواہ بہ سبب فاصلہ کے، یا کسی اور سبب سے معناہ فلم تقدروا علی الماء (راغب) سردی لگ جانے کا خوف، بیماری بڑھ جانے کا اندیشہ، پانی لانئے میں بہت زیادہ دشواریاں، یہ ساری چیزیں پانی نہ ملنے ہی کے حکم میں داخل ہیں، حدیث میں تصریح موجود ہے کہ عمرو بن العاص ؓ نے پانی ہوتے ہوئے تمیم کرلیا، اس لیے کہ پانی سے انہیں سردی لگ جانے کا اندیشہ تھا، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے جائز رکھا۔ قدروی فی حدیث عمر وبن العاص انہ تیمم مع وجود الماء لخوف البرد فاجازہ النبی ﷺ ولم ینکرہ (جصاص) حنفیہ کے ہاں سردی کے عذر پر بجائے غسل کے تیمیم کرلینا بالکل جائز ہے، قال ابوحنیفۃ (رح) ومحمد (رح) ومن خاف برد الماء ان اغتسل جازلہ التیمم لما یخاف من الضرر (جصاص) تیمم کے ساتھ نماز جماعت میں بھی شرکت کی پوری اجازت حدیث میں موجود ہے۔ و حدیث عمران بن حصین نص فی ذلک وھو ان رسول اللہ ﷺ رای رجلا معتزلا لم فی القوم فقال یافلاں مامنعک ان تصلی فی القوم فقال یارسول اللہ یارسول اللہ اصابتنی جنابۃ ولا ماء قال علیک بالصعید فانہ یکفیک، اخرجہ البخاری (قرطبی) فقہاء امت نے جنہیں حقیقۃ حکمائے امت کہنا چاہیے اسے خوب صاف کردیا ہے، کہ پانی مل سکتا تو ہو لیکن بہت گراں قیمت پر، یا موجود تو ہو لیکن اتنی کم مقدار میں کہ پینے کے لیے نہ بچ سکے گا، تو ایسے ہر موقع پر پانی کا وجود اس کے عدم ہی کے برابر ہے اور تیمم بالکل درست ہوگا، والجملۃ التی اتفق اصحابنا علیھا ان الوجود امکانالماء الذی یکفیہ لطھارتہ من غیرضرر فلو کان معہ ماء وھو یخاف العطش اولم یجدہ الابثمن کثیرتیمم ولیس علیہ ان یغالی فیہ (جصاص)
40 ۔ تیمم کا بیان اور اس کا طریقہ سب سورة نساء کی آیت متعلقہ کے ماتحت گزر چکا ہے۔ (آیت) ” صعیدا طیبا “۔ صعید سے مراد مٹی کی جنس ہے، جس چیز میں بھی اجزاء ارضی شامل ہوں، اس حکم میں آجائے گی، وکان الصعید اسما للارض اقتضی ذلک جواز التیمم بکل ماکان من الارض (جصاص) قال ابوحنیفۃ (رح) یجزی التیمم بکل ماکان من الارض التراب والرمل والحجارۃ والزرنیخ والنورۃ والطین الاحمر والمراد اسنج واما اشبہہ وھو قول محمد وزفر۔
41 ۔ (احکام شریعت کے ذریعہ سے۔ بلکہ وہ تو تنگی رفع کرتا رہتا ہے۔ جیسا کہ احکام تیمم سے ابھی ابھی ظاہر ہوگا) آیت میں ایک بہت بڑی اصل کا بیان آگیا۔ یعنی یہ کہ اللہ نے شریعت میں مشقت وتعب نہیں رکھی ہے۔ اور اس ایک اصل سے بیسیوں مسائل نکل سکتے ہیں۔ اور محقق رازی (رح) کی نظر اس نکتہ تک خوب پہنچی ہے۔ اعلم ان ھذہ الایۃ اصل کبیر معتبر فی الشرع وھو ان الاصل فی المضار ان لا تکون مشروعۃ (کبیر) احکام کا وہ مجموعہ جس پر شریعت کا اطلاق ہوتا ہے، وہ تو نام ہی بہترین نقشہ زندگی کا ہے۔ اور اس کا مقصود بھی یہ ہے کہ جو کوئی اس ہدایت نامہ پر عمل کرے، وہ زندگی کی دشواریوں کو بہترین اور سہل ترین طریقہ پر عبور کرسکے۔ احکام شریعت کو سخت سمجھ لینا ایسا ہے جیسے کوئی بچہ اپنے شفیق اور تجربہ کار باپ کی ہدایتوں کو، یا کوئی مریض اپنے دلسوز اور حاذق طبیب کے احکام کو ظالم وجبر سے تعبیر کرنے لگے، بلکہ ان دونوں مثالوں سے بھی کہیں بڑھ کر احمقانہ۔
42 ۔ (معنوی وظاہری ہر اعتبار سے) طہارت کا لفظ صفائے قلب اور جسمانی پاکیزگی دونوں کے لیے عام ووسیع ہے۔ چناچہ شریعت کے احکام دونوں اقسام کے جامع ہیں۔ مایرید۔ یرید، متکلمین نے آیت کے ان الفاظ سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب ارادہ ہے۔ دلت الایۃ علی انہ تعالیٰ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب ارادہ ہے، دلت الایۃ علی انہ تعالیٰ مریدوھذا متفق علیہ بین الائمۃ (کبیر) یہی الفاظ ان نیم مشرک نیم ملحد قوموں کی تردید کے بھی کافی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کو صفت ارادہ سے محروم محض مشین کی طرح چندقاعدوں کا پابندومحکوم سمجھے ہوئے ہیں، تطھیر، باب تفعیل سے ہے۔ یعنی خوب اچھی طرح تمہیں پاک وصاف کردے۔ یہاں یہ نکتہ بھی خوب سمجھ لینا چاہیے، کہ ایک طرف صوفیہ محققین اور دوسری طرف فقہاء امت نے کتاب وسنت ہی سے جو جزئیات اعمال نکال نکال کر پیش کیے ہیں، ان سے مقصود بھی تمامتر اسی تطہیر ظاہری وباطنی کی راہ میں سہولتیں پیدا کرنا ہے نہ کہ اور مشقتیں بڑھانا۔
43 ۔ (اور ادائے شکر کی اعلی ترین فرد ان احکام کی تعمیل ہے) (آیت) ” لیتم نعمتہ “۔ اور وہ اتمام نعمت یہی ہے کہ وہ اپنے قرب اور رضا کے راستے سہل ترین اور کامل ترین صورت میں تمہیں بتا دے، نعمتہ بالاسلام وببیان شرائع الدین (جلالین) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شرعی رخصتوں سے تنگدل اور ان پر نفس کا شبہ کرنا جیسا کہ عمل میں غلو رکھنے والے کرتے رہتے ہیں، مزاحمت حق ہے۔