5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو پورا کرو عہدوں کو9 حلال ہوئے تمہارے لئے چوپائے مویشی10 سوائے ان کے جو تم کو آگے سنائے جاویں گے11 مگر حلال نہ جانو شکار کو احرام کی حالت میں12 اللہ حکم کرتا ہے جو چاہے1

9 ایمان شرعی دو چیزوں کا نام ہے صیحح معرفت اور تسلیم وانقیاد۔ یعنی خدا اور رسول کے جملہ ارشادات کو صحیح و صادق سمجھ کر تسلیم و قبول کے لئے اخلاص سے گردن جھکا دینا۔ اس تسلیمی جزء کے لحاظ سے ایمان فی الحقیقت تمام قوانین و احکام الٰہیہ کے ماننے اور جملہ حقوق ادا کرنے کا ایک مضبوط عہد و اقرار ہے گویا حق تعالیٰ کی ربوبیت کاملہ کا وہ اقرار جو عہد الست کے سلسلہ میں لیا گیا تھا جس کا نمایاں اثر انسان کی فطرت اور سرشت میں آج تک موجود ہے اسی کی تجدید و تشریح ایمان شرعی سے ہوتی ہے۔ پھر ایمان شرعی میں جو کچھ اجمالی عہد و پیمان تھا اسی کی تفصیل پورے قرآن و سنت میں دکھلائی گئی ہے۔ اس صورت میں دعویٰ ایمان کا مطلب یہ ہوا کہ بندہ تمام احکام الٰہیہ میں خواہ ان کا تعلق براہ راست خدا سے ہو یا بندوں سے جسمانی تربیت سے ہو یا روحانی اصلاح سے دنیاوی مفاد سے ہو یا اخروی فلاح سے شخصی زندگی سے ہو یا حیات اجتماعی سے، صلح سے ہو یا جنگ سے، اس کا عہد کرتا ہے کہ ہر نہج سے اپنے مالک کا وفادار رہے گا۔ نبی کریم ﷺ جو عہد و پیمان اسلام، جہاد، سمع وطاعت، یا دوسرے عمدہ خصال اور امور خیر کے متعلق صحابہ سے بشکل بیعت لیتے تھے وہ اسی عہد ایمانی کی ایک مخصوص صورت تھی۔ اور چونکہ ایمان کے ضمن میں بندہ کو حق تعالیٰ کے جلال و جبروت کی صیحح معرفت اور اس کی شان انصاف و انتقام اور وعدوں کی سچائی کا پورا پورا یقین بھی حاصل ہوچکا ہے، اس کا مقتضا یہ ہے کہ وہ بد عہدی اور غداری کے مہلک عواقب سے ڈر کر اپنے تمام عہدوں کو جو خدا سے یا بندوں سے یا خود اپنے نفس سے کئے ہوں اس طرح پورا کرے کہ مالک حقیقی کی وفاداری میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ اس تقریر کے موافق عقود (عہدوں) کی تفسیر میں جو مختلف چیزیں سلف سے منقول ہیں ان سب میں تطبیق ہوجاتی ہے اور آیت میں " ایمان والو " کے لفظ سے خطاب فرمانے کا لطف مزید حاصل ہوتا ہے۔ 10 " سورة نساء " میں گزر چکا ہے کہ یہود کو ظلم و بدعہدی کی سزا میں بعض حلال و طیب چیزوں سے محروم کردیا گیا تھا۔ ( فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ ) 4 ۔ النسآء :160) جن کی تفصیل " سورة انعام " میں ہے اس امت مرحومہ کو ایفائے عہد کی ہدایت کے ساتھ ان چیزوں سے بھی منتفع ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری، اور اسی جنس کے تمام اہلی اور وحشی (پالتو اور جنگلی) چوپائے مثلاً ہرن، نیل گائے وغیرہ تمہارے لیے ہر حالت میں حلال کئے گئے، بجز ان حیوانات یا حالات کے جن کے متعلق حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں یا نبی کریم ﷺ کی زبانی تمہارے جسمانی یا روحانی یا اخلاقی مصلحت کے لئے ممانعت فرما دی ہے۔ 11 غالباً اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو اسی رکوع کی تیسری آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ یعنی " حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ " سے "ۭذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۭ" تک۔ 12 محرم کو صرف خشکی کے جانور کا شکار جائز نہیں دریائی شکار کی اجازت ہے۔ اور جب حالت احرام کی رعایت اس قدر ہے کہ اس میں شکار کرنا ممنوع ٹھہرا تو خود حرم شریف کی حرمت کا لحاظ اس سے کہیں زیادہ ہونا چاہئے۔ یعنی حرم کے جانور کا شکار محرم وغیر محرم سب کے لئے حرام ہوگا جیسا کہ لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ کے عموم سے مترشح ہوتا ہے۔ 1 جس خدا نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر کمال حکمت سے ان میں باہم فرق مراتب رکھا ہر نوع میں اس کی استعداد کے موافق جدا جدا فطری خواص و قویٰ ودیعت کئے۔ زندگی اور موت کی مختلف صورتیں تجویز کیں بلاشبہ اسی خدا کو اپنی مخلوقات میں یہ حق حاصل ہے کہ اپنے اختیار کامل علم محیط اور حکمت بالغہ کے اقتضا سے جس چیز کو جس کسی کے لئے جن حالات میں چاہے حلال یا حرام کر دے لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

اے ایمان والو حلال نہ سمجھو اللہ کی نشانیوں کو2 اور نہ ادب والے مہینہ کو3 اور نہ اس جانور کو جو نیاز کعبہ کی ہو اور نہ جن کے گلے پٹا ڈال کر لیجاویں کعبہ کو4 اور نہ آنے والوں کو حرمت والے گھر کی طرف جو ڈھونڈتے ہیں فضل اپنے رب کا اور اس کی خوشی5 اور جب احرام سے نکلو تو شکار کرلو6 اور باعث نہ ہو تم کو اس قوم کی دشمنی جو کہ تم کو روکتی تھی حرمت والی مسجد سے اس پر کہ 10 زیادتی کرنے لگو7 اور آپس میں مدد کرو نیک کام پر اور پرہیزگاری پر اور مدد نہ کرو گناہ پر اور ظلم پر8 اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے9

2 یعنی جو چیزیں حق تعالیٰ کی عظمت و معبودیت کے لئے علامات اور نشانات خاص قرار دی گئی ہیں ان کی بےحرمتی مت کرو۔ ان میں حرم، محترم بیت اللہ شریف، جمرات، صفا ومروہ، ہدی، احرام، مساجد، کتب سماویہ وغیرہ تمامی حدود و فرائض اور احکام دینیہ شامل ہیں۔ آگے ان نشانیوں میں سے بعض مخصوص چیزوں کو جو مناسک سے متعلق ہیں ذکر فرماتے ہیں جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں بھی محرم کے بعض احکام ذکر کئے گئے تھے۔ 3 ادب والے مہینے چار ہیں مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ (توبہ رکوع 5) ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب ان کی تعظیم و احترام یہ ہے کہ دوسرے مہینوں سے بڑھ کر ان میں نیکی اور تقویٰ کو لازم پکڑے اور شرو فساد سے بچنے کا اہتمام کیا جائے خصوصاً حجاج کو ستا کر اور دق کر کے حج بیت اللہ سے نہ روکا جائے۔ گویا یہ امور سال کے بارہ مہینوں میں واجب العمل ہیں لیکن ان محترم مہینوں میں بالخصوص بہت زیادہ مؤکد قرار دیے گئے۔ باقی دشمنان اسلام کے مقابلہ میں ہاجمانہ اقدام ہو تو جمہور کا مذہب یہ ہی ہے بلکہ ابن جریر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس کی ان مہینوں میں ممانعت نہیں رہی اس کا بیان سورة توبہ میں آئے گا۔ انشاء اللہ 4 قلائد قلادہ کی جمع ہے جس سے مراد وہ ہار یا پٹا ہے جو ہدی کے جانور کے گلے میں نشان کے طور پر ڈالتے تھے تاکہ ہدی کا جانور سمجھ کر اس سے تعرض نہ کیا جائے اور دیکھنے والوں کو اسی جیسا عمل کرنے کی ترغیب بھی ہو قرآن کریم نے ان چیزوں کی تعظیم و حرمت کو باقی رکھا اور ہدی یا اس کی علامات سے تعرض کرنے کو ممنوع قرار دیا۔ 5 بظاہر یہ شان صرف مسلمانوں کی ہے۔ یعنی جو مخلص مسلمان حج وعمرہ کے لئے جائیں ان کی تعظیم و احترام کرو۔ اور ان کی راہ میں روڑے مت اٹکاؤ اور جو مشرکین حج بیت اللہ کے لئے آتے تھے اگر وہ بھی اس آیت کے عموم میں داخل ہوں کیونکہ وہ بھی اپنے زعم اور عقیدہ کے موافق خدا کے فضل و قرب اور خوشنودی کے طالب ہوتے تھے تو کہنا پڑے گا کہ یہ حکم اس وقت سے پہلے کا ہے جب کہ ( اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا) 9 ۔ التوبہ :160) کی منادی کرائی گئی۔ 6 یعنی حالت احرام میں شکار کی جو ممانعت کی گئی تھی وہ احرام کھول دینے کے بعد باقی نہیں رہی۔ 7 پچھلی آیت میں جن شعائر کو حق تعالیٰ نے معظم و محترم قرار دیا تھا 6 ھ ہجری میں مشرکین مکہ نے ان سب کی اہانت کی۔ نبی کریم ﷺ اور تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ ماہ ذیقعدہ میں محض عمرہ ادا کرنے کیلئے مدینہ طیبہ سے روانہ ہوئے حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر مشرکین نے اس مذہبی وظیفہ کی بجا آوری سے روک دیا نہ حالت احرام کا خیال کیا نہ کعبہ کی حرمت کا نہ محترم مہینہ کا نہ ہدی و قلائد کا، مسلمان شعائر اللہ کی اس توہین اور مذہبی فرائض سے روک دیے جانے پر ایسی ظالم اور وحشی قوم کے مقابلہ میں جس قدر بھی غیظ و غضب اور بغض و عداوت کا اظہار کرتے وہ حق بجانب تھے اور جوش انتقام سے برافروختہ ہو کر جو کاروائی بھی کر بیٹھتے وہ ممکن تھی۔ لیکن اسلام کی محبت و عداوت دونوں جچی تلی ہیں۔ قرآن کریم نے ایسے جابر و ظالم دشمن کے مقابلہ پر بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کا حکم دیا۔ عموماً آدمی زیادہ محبت یا زیادہ عداوت کے جوش میں حد سے گزر جاتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ سخت سے سخت دشمنی تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہو کہ تم زیادتی کر بیٹھو اور عدل و انصاف کو ہاتھ سے چھوڑ دو ۔ 8 اگر کوئی شخص بالفرض جوش انتقام میں زیادتی کر بیٹھے تو اس کے روکنے کی تدبیر یہ ہے کہ جماعت اسلام اس کے ظلم وعدوان کی اعانت نہ کرے۔ بلکہ سب مل کر نیکی اور پرہیزگاری کا مظاہرہ کریں اور اشخاص کی زیادتیوں اور بےاعتدالیوں کو روکیں۔ 9 یعنی حق پرستی، انصاف پسندی اور تمام عمدہ اخلاق کی جڑ خدا کا خوف ہے اور اگر خدا سے ڈر کر نیکی سے تعاون اور بدی سے ترک تعاون نہ کیا تو عام عذاب کا اندیشہ ہے۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

حرام ہوا تم پر مردہ جانور10 اور لہو11 اور گوشت سور کا اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اور جو مرگیا ہو گلا گھونٹنے سے یا چوٹ سے یا اونچے سے گر کر یا سینگ مارنے سے اور جس کو کھایا ہو درندہ نے مگر جس کو تم نے ذبح کرلیا اور حرام ہے جو ذبح ہوا کسی تھان پر12 اور یہ کہ تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے13 یہ گناہ کا کام ہے آج ناامید ہوگئے کافر تمہارے دین سے سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو14 آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا15 اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا1 6 اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین17 پھر جو کوئی لاچار ہوجاوے بھوک میں لیکن گناہ پر مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے18

10 اس آیت سے جن چیزوں کا کھانا حرام ہوا ان میں اول میتہ (مردار جانور) ہے جو واجب الذبح جانور ذبح کئے بدون خود اپنی موت سے مرجائے اس کا خون اور حرارت غلیظ یہ گوشت ہی میں محتقن اور جذب ہو کر رہ جاتی ہے جس کی سمیت اور گندگی سے کئی قسم کے بدنی اور دینی مضار لاحق ہوتے ہیں (ابن کثیر) شاید اسی تعلیل پر متنبہ فرمانے کے لئے میتہ (مردہ جانور) کے بعد دم (خون) کی حرمت مذکور ہوئی اس کے بعد حیوانات کی ایک خاص نوع (خنزیر) کی تحریم کا ذکر کیا۔ جس کی بےانتہا نجاست خوری اور بےحیائی مشہور عام ہے شاید اسی لئے شریعت حقہ نے دم (خون) کی طرح اس کو نجس العین قرار دیا ان تین چیزوں کے ذکر کے بعد جن کی ذوات میں مادی گندگی اور خباثت پائی جاتی تھی، محرمات کی ایک اور قسم کا ذکر فرمایا یعنی وہ جانور جو اپنی ذات کے اعتبار سے حلال و طیب ہے، مگر مالک حقیقی کے سوا کسی اور کی نیاز کے طور پر نامزد کردیا گیا ہو اس کا کھانا بھی نیت کی خباثت اور عقیدہ کی گندگی کی بنا پر حرام ہے۔ کسی جاندار کی جان صرف اسی مالک و خالق کے حکم اور نام پر لی جاسکتی ہے جس کے حکم اور ارادہ سے اس پر موت وحیات طاری ہوتی ہے۔ باقی " مُنْخَنِقَہ " وغیرہ غیر مذبوح جانور سب میتہ کے حکم میں داخل ہیں جیسا کہ " مَاذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ "، " مَااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ " کے ساتھ ملحق ہے۔ جاہلیت میں ان سب چیزوں کے کھانے کی عادت تھی اس لئے اس قدر تفصیل سے ان کا بیان فرمایا۔ 11 یعنی بہتا ہوا خون ( اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا) 6 ۔ الانعام :145) 12 تھوڑا سا پہلے ہدی کے ادب و احترام کا ذکر فرمایا تھا یعنی وہ جانور جو تقرب الی اللہ کی غرض سے خدائے واحد کی سب سے پہلی عبادت گاہ کی نیاز کے طور پر ذبح کیا جاتا ہے اس کے بالمقابل اس جانور کا بیان فرمانا جسے خدا کے سوا کسی دوسرے کے نام پر یا خانہ خدا کے سوا کسی دوسرے مکان کی تعظیم کے لئے ذبح کیا جائے (موضح القرآن) اس دوسری صورت میں بھی فی الحقیقت نیت نذر غیر اللہ ہی کی ہوتی ہے گو ذبح کے وقت زبان سے " بسم اللّٰہ اللّٰہ اکبر " کہا جائے۔ اس تقریر کے موافق " مَااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ " اور " وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ " کا فرق واضح ہوگیا (ابن کثیر) 13 بعض مفسرین نے ازلام سے تقسیم کے تیر مراد لئے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں لحم ذبیحہ وغیرہ کے بانٹنے میں استعمال ہوتے تھے اور وہ ایک صورت قمار (جوئے) کی تھی جیسے آجکل چٹھی ڈالنے کی رسم ہے لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر وغیرہ محقیقین کے نزدیک راجح یہ ہے کہ ازلام سے مراد وہ تیر ہیں جن سے مشرکین مکہ کسی اشکال اور تردد کے وقت اپنے ارادوں اور کاموں کا فیصلہ کرتے تھے یہ تیر خانہ کعبہ میں قریش کے سب سے بڑے بت " ہبل " کے پاس رکھتے تھے۔ ان میں سے کسی پر امرنی ربی، لکھا تھا (میرے پروردگار نے حکم دیا) کسی پر " نھانی ربی " اسی طرح ہر تیر پر یوں ہی اٹکل پچو باتیں لکھ چھوڑی تھیں۔ جب کسی کام میں تذبذب ہوا تو تیر نکال کر دیکھ لئے۔ اگر " امرنی ربی " والا تیر نکل آیا تو کام شروع کردیا اور اس کے خلاف نکلا تو رک گئے وعلیٰ ہذا القیاس گویا بتوں سے یہ ایک قسم کا مشورہ اور استعانت تھی۔ چونکہ اس رسم کا مبنیٰ خالص جہل، شرک، اوہام پرستی اور افتراء علی اللہ پر تھا اس لئے قرآن کریم نے متعدد مواقع میں نہایت تغلیظ و تشدید کے ساتھ اس کی حرمت کو ظاہر فرمایا ہے اس تقریر کے موافق " ازلام " کا ذکر " نصب " کی مناسبت سے ہوا اور مردار، خون، خنزیر وغیرہ نہایت ہی خبیث اور گندی چیزوں کی تحریم کے سلسلہ میں منسلک کر کے بتلا دیا کہ اس کی معنوی اور اعتقادی نجاست و خباثت ان چیزوں سے کم نہیں جیسا کہ ایک دوسری آیت میں " رجس " کے اطلاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ 14 یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کہ زندگی کے ہر شعبہ اور علوم ہدایت کے ہر باب کے متعلق اصول و قواعد ایسی طرح ممہد ہوچکے تھے اور فروع و جزئیات کا بیان بھی اتنی کافی تفصیل اور جامعیت سے کیا جا چکا تھا کہ پیروان اسلام کے لئے قیامت تک قانون الٰہی کے سوا کوئی دوسرا قانون قابل التفات نہیں رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی تربیت سے ہزاروں سے متجاوز خدا پرست، جانباز اور سرفروش ہادیوں اور معلموں کی ایسی عظیم الشان جماعت تیار ہوچکی تھی جس کو قرآنی تعلیم کا مجسم نمونہ کہا جاسکتا تھا مکہ معظمہ فتح ہوچکا تھا صحابہ ؓ کامل وفاداری کے ساتھ خدا سے عہد و پیمان پورے کر رہے تھے نہایت گندی غذائیں اور مردار کھانے والی قوم مادی اور روحانی طیبات کے ذائقہ سے لذت اندوز ہو رہی تھی۔ شعائر الہٰیہ کا ادب و احترام قلوب میں راسخ ہوچکا تھا۔ ظنون و اوہام اور انصاب و ازلام کا تار و پود بکھر چکا تھا۔ شیطان جزیرۃ العرب کی طرف سے ہمیشہ کے لئے مایوس کردیا گیا تھا کہ دوبارہ وہاں اس کی پرستش ہو سکے ان حالات میں ارشاد ہوا اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۔ یعنی آج کفار اس بات سے مایوس ہوگئے ہیں کہ تم کو تمہارے دین قیم سے ہٹا کر پھر " انصاب " و " ازلام " وغیرہ کی طرف لے جائیں یا دین اسلام کو مغلوب کرلینے کی توقعات باندھیں یا احکام دینیہ میں کسی تحریف و تبدیل کی امید قائم کرسکیں آج تم کو کامل و مکمل مذہب مل چکا جس میں کسی ترمیم کا آئندہ امکان نہیں خدا کا انعام تم پر پورا ہوچکا جس کے بعد تمہاری جانب سے اس کے ضائع کردینے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ خدا نے ابدی طور پر اسی دین اسلام کو تمہارے لئے پسند کرلیا اس لئے اب کسی ناسخ کے آنے کا بھی احتمال نہیں۔ ایسے حالات میں تم کو کفار سے خوف کھانے کی کوئی وجہ نہیں وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ البتہ اس محسن جلیل اور منعم حقیقی کی ناراضی سے ہمیشہ ڈرتے رہو جس کے ہاتھ میں تمہاری ساری نجاح و فلاح اور کل سود و زیاں ہے۔ گویا (فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ ) 2 ۔ البقرۃ :150) میں اس پر متنبہ فرما دیا کہ آئندہ مسلم قوم کو کفار سے اس وقت تک کوئی اندیشہ نہیں جب تک ان میں خشیت الہٰی اور تقویٰ کی شان موجود رہے۔ 15 یعنی اس کے اخبار و قصص میں پوری سچائی بیان میں پوری تاثیر اور قوانین و احکام میں پورا توسط و اعتدال موجود ہے۔ جو حقائق کتب سابقہ اور دوسرے ادیان سماویہ میں محدود و ناتمام تھے ان کی تکمیل و تعمیم اس دین قیم سے کردی گئی۔ قرآن و سنت نے " حلت " و " حرمت " وغیرہ کے متعلق تنصیصاً یا تعلیلاً جو احکام دیے ان کا اظہار و ایضاح تو ہمیشہ ہوتا رہے گا لیکن اضافہ یا ترمیم کی مطلق گنجائش نہیں چھوڑی۔ 1 6 سب سے بڑا احسان تو یہ ہی ہے کہ اسلام جیسا مکمل اور ابدی قانون اور خاتم الانبیاء جیسا نبی تم کو مرحمت فرمایا۔ مزید برآں اطاعت اور استقامت کی توفیق بخشی۔ روحانی غذاؤں اور دنیاوی نعمتوں کا دستر خوان تمہارے لئے بچھا دیا، حفاظت قرآن، غلبہ اسلام اور اصلاح عالم کا سامان مہیا فرما دیا۔ 17 یعنی اس عالمگیر اور مکمل دین کے بعد اب کسی اور دین کا انتظار کرنا سفاہت ہے " اسلام " جو تفویض و تسلیم کا مرادف ہے اس کے سوا مقبولیت اور نجات کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں (تنبیہ) اس آیت " ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ " الخ کا نازل فرمانا بھی منجملہ نعمائے عظیمہ کے لیے ایک نعمت ہے۔ اسی لئے بعض یہود نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا کہ امیر المومنین ! اگر یہ آیت ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید منایا کرتے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا تجھے معلوم نہیں کہ جس روز یہ ہم پر نازل کی گئی مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئی تھیں۔ یہ آیت 10 ہجری میں " حجتہ الوداع " کے موقع پر " عرفہ " کے روز " جمعہ " کے دن " عصر " کے وقت نازل ہوئی جب کہ میدان عرفات میں نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اتقیا و ابرار ؓ کا مجمع کثیر تھا۔ اس کے بعد صرف اکیاسی روز حضور اس دنیا میں جلوہ افروز رہے۔ 18 یعنی حلال و حرام کا قانون تو مکمل ہوچکا اس میں اب کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا البتہ مضطر جو بھوک پیاس کی شدت سے بیتاب اور لاچار ہو وہ اگر حرام چیز کھا پی کر جان بچا لے بشرطیکہ مقدار ضرورت سے تجاوز نہ کرے اور لذت مقصود نہ ہو (غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ) تو حق تعالیٰ اس تناول محرم کو اپنی بخشش اور مہربانی سے معاف فرما دے گا۔ گویا وہ چیز تو حرام ہی رہی مگر اسے کھا پی کر جان بچانے والا خدا کے نزدیک مجرم نہ رہا یہ بھی اتمام نعمت کا ایک شعبہ ہے۔
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز ان کے لئے حلال ہے کہہ دے تم کو حلال ہیں ستھری چیزیں5 اور جو سدھاؤ شکاری جانور شکار پر دوڑانے کو کہ ان کو سکھاتے ہو اس میں جو اللہ نے تم کو سکھایا ہے سو کھاؤ اس میں سے جو پکڑ رکھیں تمہارے واسطے اور اللہ کا نام لو اس پر6 اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ جلد لینے والا حساب7

5 پچھلی آیات میں بہت سی حرام چیزوں کی فہرست دی گئی تو قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حلال چیزیں کیا کیا ہیں ؟ اس کا جواب دے دیا کہ حلال کا دائرہ تو بہت وسیع ہے۔ چند چیزوں کو چھوڑ کر جن میں کوئی دینی یا بدنی نقصان تھا دنیا کی تمام ستھری اور پاکیزہ چیزیں حلال ہی ہیں اور چونکہ شکاری جانور سے شکار کرنے کے متعلق بعض لوگوں نے خصوصیت سے سوال کیا تھا۔ اس لئے آیت کے اگلے حصہ میں اس کو تفصیلاً بتلا دیا گیا۔ 6 شکاری کتے یا باز وغیرہ سے شکار کیا ہوا جانور ان شروط سے حلال ہے (1) شکاری جانور سدھا ہوا ہو (2) شکار پر چھوڑا جائے (3) اسے اس طریقہ سے تعلیم دی گئی ہو جس کو شریعت نے معتبر رکھا ہے یعنی کتے کو سکھلایا جائے کہ شکار کو پکڑ کر کھائے نہیں اور باز کو یہ تعلیم دی جائے کہ جب اس کو بلاؤ گو شکار کے پیچھے جا رہا ہو فوراً چلا آئے۔ اگر کتا شکار کو خود کھانے لگے یا باز بلانے سے نہ آئے تو سمجھا جائے گا کہ جب اس کے کہنے میں نہیں تو شکار بھی اس کے لئے نہیں پکڑا بلکہ اپنے لئے پکڑا ہے۔ اسی کو حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جب اس نے آدمی کی تعلیم سیکھی تو گویا آدمی نے ذبح کیا " (4) چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لو یعنی بسم اللّٰہ کہہ کر چھوڑو۔ ان چار شرطوں کی تصریح تو نص قرآنی میں ہوگئی۔ (5) شرط جو امام ابوحنیفہ کے نزدیک معتبر ہے کہ شکاری جانور اگرچہ شکار کو زخمی بھی کر دے کہ خون بہنے لگے۔ اس کی طرف لفظ " جوارح " اپنے مادہ " جرح " کے اعتبار سے مشعر ہے۔ ان میں سے اگر ایک شرط بھی مفقود ہوئی تو شکاری جانور کا مارا ہوا شکار حرام ہے۔ ہاں اگر مرا نہ ہوا اور ذبح کرلیا جائے تو وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣکے قاعدہ سے حلال ہوگا۔ 7 یعنی ہر حالت میں خدا سے ڈرتے رہو، کہیں " طیبات کے استعمال اور شکار وغیرہ سے منتفع ہونے میں حدودو قیود شرعیہ سے تجاوز نہ ہوجائے۔ عموماً آدمی دنیاوی لذتوں میں منہمک ہو کر اور شکار وغیرہ مشاغل میں پڑ کر خدا اور آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اس لئے تنبیہ کی ضرورت تھی کہ خدا کو مت بھولو اور یاد رکھو کہ حساب ہونے والا ہے۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج حلال ہوئیں تم کو سب ستھری چیزیں8 اور اہل کتاب کا کھانا تم کو حلال ہے9 اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے10 اور حلال ہیں تم کو پاک دامن عورتیں مسلمان11 اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جن کو دی گئی کتاب12 تم سے پہلے جب دو ان کو مہر ان کے قید میں لانے کو13 نہ مستی نکالنے کو اور نہ چھپی آشنائی کرنے کو14 اور جو منکر ہوا 12 ایمان سے تو ضائع ہوئی محنت اس کی اور آخرت میں وہ ٹوٹے والوں میں ہے15

8 یعنی جیسے آج دین کامل تم کو دیا گیا دنیا کی تمام پاکیزہ نعمتیں بھی تمہارے لئے دائمی طور پر حلال کردی گئیں جو کبھی منسوخ نہ ہونگی۔ 9 یہاں طعام (کھانے) سے مراد " ذبیحہ " ہے یعنی کوئی یہودی یا نصرانی (بشرطیکہ اسلام سے مرتد ہو کر یہودی یا نصرانی نہ بنا ہو) اگر حلال جانور ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام نہ لے تو اس کا کھانا مسلمان کو حلال ہے مرتد کے احکام جدا گانہ ہیں۔ 10 اس مقام پر اس کا ذکر بطور مجازات و مکانات کے استطراداً فرما دیا۔ یعنی بعض احادیث میں جو آیا ہے " لَا یَاْ کُلُ طَعَامَکَ الاَّ تَقِیٌّ" (تیرا کھانا نہ کھائے مگر پرہیزگار) اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر پرہیزگاروں کے لئے تمام کھانا حرام ہے۔ جب مسلمان کے لئے کافر کتابی کے ذبیحہ کی اجازت ہوگئی تو ایک موحد مسلم کا ذبیحہ اور کھانا دوسروں کیلئے کیوں حرام ہوگا۔ 11 " پاک دامن " کی قید شاید ترغیب کے لئے ہو یعنی ایک مسلمان کو چاہیے کہ نکاح کرتے وقت پہلی نظر عورت کی عفت اور پاک دامنی پر ڈالے۔ یہ مطلب نہیں کہ پاک دامن کے سوا کسی اور سے نکاح صحیح نہیں ہوگا۔ 12 اہل کتاب کے ایک مخصوص حکم کے ساتھ دوسرا مخصوص حکم بھی بیان فرما دیا۔ یعنی یہ کہ کتابی عورت سے نکاح کرنا شریعت میں جائز ہے۔ مشرکہ سے اجازت نہیں (وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ ) 2 ۔ البقرۃ :221) مگر یہ یاد رہے کہ ہمارے زمانہ کے " نصاریٰ " عموماً برائے نام نصاریٰ ہیں ان میں بکثرت وہ ہیں جو نہ کسی کتاب آسمانی کے قائل ہیں نہ مذہب کے نہ خدا کے، ان پر اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ لہذا ان کے ذبیحہ اور نساء کا حکم اہل کتاب کا سا نہ ہوگا نیز یہ ملحوظ رہے کہ کسی چیز کے حلال ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں فی حد ذاتہ کوئی وجہ تحریم کی نہیں۔ لیکن اگر خارجی اثرات و حالات ایسے ہوں کہ اس حلال سے منتفع ہونے میں بہت سے حرام کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے بلکہ کفر میں مبتلا ہونے کا احتمال ہو تو ایسے حلال سے انتفاع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ موجودہ زمانہ میں یہود نصاریٰ کے ساتھ کھانا پینا بےضرورت اختلاط کرنا، ان کی عورتوں کے جال میں پھنسنا، یہ چیزیں جو خطرناک نتائج پیدا کرتی ہیں وہ مخفی نہیں۔ لہذا بدی اور بد دینی کے اسباب و ذرائع سے اجتناب ہی کرنا چاہئے۔ 13 یعنی قید نکاح میں لانے کو۔ گویا اس طرف اشارہ ہوگیا کہ نکاح بظاہر قید ہے لیکن یہ قید ان آزادیوں اور ہوس رانیوں سے بہتر ہے جن کی طلب میں انسان نما بہائم سلسلہ ازدواج ہی کو معدوم کردینا چاہتے ہیں۔ 14 جس طرح پہلے عورت کی پاکدامنی کا ذکر کیا تھا، یہاں مرد کو پاک باز اور عفیف رہنے کی ہدایت فرما دی (وَالطَّيِّبٰتُ للطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ للطَّيِّبٰتِ ) 24 ۔ النور :26) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کی نظر میں نکاح کی غرض گوہر عصمت کو محفوظ اور مقصد تزویج کو پورا کرنا ہے شہوت رانی اور ہوا پرستی مقصود نہیں۔ 15 جن کتابی عورتوں سے نکاح کی اجازت ہوئی اس کا فائدہ یہ ہونا چاہیے کہ مومن قانت کی حقانیت عورت کے دل میں گھر کر جائے۔ نہ یہ کہ کتابیات پر مفتون ہو کر الٹا اپنی متاع ایمانی ہی کو گنوا بیٹھے اور " خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۭ" کا مصداق ہو کر رہ جائے۔ چونکہ کافر عورت سے نکاح کرنے میں اس فتنہ کا قوی احتمال ہوسکتا ہے اس لئے " وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ " کی تہدید نہایت ہی برمحل ہے یہ میرا خیال ہے۔ باقی حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " اہل کتاب کو کفار سے دو حکم میں مخصوص کیا یہ فقط دنیا میں ہے اور آخرت میں ہر کافر خراب ہے اگر عمل نیک بھی کرے تو قبول نہیں۔ "
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے ایمان والو16 جب تم اٹھو17 نماز کو تو دھو لو اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک اور مل لو اپنے سر کو1 اور پاؤں ٹخنوں تک2 اور اگر تم کو جنابت ہو تو خوب طرح پاک ہو3 اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا کوئی تم میں آیا ہے جائے ضرور سے یا پاس گئے ہو عورتوں کے پھر نہ پاؤ تم پانی تو قصد کرو مٹی پاک کا اور مل لو اپنے منہ اور ہاتھ اس سے4 اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی کرے5 لیکن چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے6 اور پورا کرے اپنا احسان تم پر تاکہ تم احسان مانو7

1 6 امت محمدیہ پر جو عظیم الشان احسانات کئے گئے ان کا بیان سن کر ایک شریف اور حق شناس مومن کا دل شکر گزاری اور اظہار وفاداری کے جذبات سے لبریز ہوجائے گا اور فطری طور پر اس کی یہ خواہش ہوگی کہ اس منعم حقیقی کی بارگاہ رفیع میں دست بستہ حاضر ہو کر جبین نیاز خم کرے اور اپنی غلامانہ منت پذیری اور انتہائی عبودیت کا عملی ثبوت دے۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ جب ہمارے دربار میں حاضری کا ارادہ کرو یعنی نماز کے لئے اٹھو تو پاک و صاف ہو کر آؤ۔ جن لذائذ دینوی اور مرغوبات طبیعی سے متمتع ہونے کی آیت وضو سے پہلی آیت میں اجازت دی گئی (یعنی طیبات اور محصنات) وہ ایک حد تک انسان کو ملکوتی صفات سے دور اور بہیمیت سے نزدیک کرنے والی چیزیں ہیں اور کل احداث (موجبات وضو و غسل) ان ہی کے استعمال سے لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا مرغوبات نفسانی سے یکسو ہو کر جب ہماری طرف آنے کا قصد کرو تو پہلے بہیمیت کے اثرات اور " اکل و شرب " وغیرہ کے پیدا کئے ہوئے تکدرات سے پاک ہوجاؤ یہ پاکی " وضو " اور " غسل " سے حاصل ہوتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ وضو کرنے سے مومن کا بدن پاک و صاف ہوجاتا ہے بلکہ جب وضو باقاعدہ کیا جائے تو پانی کے قطرات کے ساتھ گناہ بھی جھڑتے جاتے ہیں۔ 17 یعنی سو کر اٹھو یا دنیا کے مشاغل چھوڑ کر نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہو تو پہلے وضو کرلو لیکن وضو کرنا ضروری اس وقت ہے جب کہ پیشتر سے باوضو نہ ہو۔ آیت کے آخر میں ان احکام کی جو غرض وغایت " وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ " سے بیان فرمائی ہے اس سے معلوم ہوگیا کہ ہاتھ منہ دھونے وغیرہ کا وجوب اسی لئے ہے کہ حق تعالیٰ تم کو پاک کر کے اپنے دربار میں جگہ دے۔ اگر یہ پاکی پہلے سے حاصل ہے اور کوئی ناقص وضو پیش نہیں آیا تو پاک کو پاک کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کو ضروری قرار دینے سے امت " حرج " میں پڑتی ہے جس کی نفی " مَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ " میں کی گئی۔ ہاں مزید نظافت، نورانیت اور نشاط حاصل کرنے کے لئے اگر تازہ وضو کرلیا جائے تو مستحب ہوگا۔ شاید اسی لئے " اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ " الآیہ میں سطح کلام کی ایسی رکھی ہے جس سے ہر مرتبہ نماز کی طرف جانے کے وقت تازہ وضو کی ترغیب ہوتی ہے۔ 1 یعنی تر ہاتھ سر پر پھیر لو۔ نبی کریم ﷺ سے مدت العمر میں مقدار ناصیہ سے کم کا مسح ثابت نہیں ہوتا " مقدار ناصیہ " چوتھائی سر کے قریب ہے۔ ابوحنیفہ اس قدر مسح کو فرض کہتے ہیں۔ باقی اختلافات اور دلائل کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ 2 مترجم محقق نے پاؤں کے بعد لفظ " کو " نہ لکھ کر نہایت لطیف اشارہ فرما دیا کہ " اَرْجُلَكُمْ " کا عطف مغسولات پر ہے یعنی جس طرح منہ، ہاتھ دھونے کا حکم ہے، پاؤں بھی ٹخنوں تک دھونے چاہئیں سر کی طرح مسح کافی نہیں چناچہ اہلسنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے اور احادیث کثیرہ سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر پاؤں میں موزے نہ ہوں تو دھونا فرض ہے۔ ہاں " موزوں " پر ان شرائط کے موافق جو کتب فقہ میں مذکور ہیں مقیم ایک دن رات اور مسافر تین دن تک مسح کرسکتا ہے۔ 3 یعنی جنابت سے پاک ہونے میں صرف اعضائے اربعہ کا دھونا اور مسح کرنا کافی نہیں۔ سطح بدن کے جس حصہ تک پانی بدون تضرر کے پہنچ سکتا ہو وہاں تک پہنچانا ضروری ہے اسی لئے حنفیہ غسل میں " مضمضہ " اور " استنشاق " (کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا) کو بھی ضروری کہتے ہیں وضو میں ضروری نہیں سنت ہے۔ 4 یعنی مرض کی وجہ سے پانی کا استعمال مضر ہو یا سفر میں پانی بقدر کفایت نہ ملے یا مثلاً کوئی قضائے حاجت کر کے آیا اور وضو کی ضرورت ہے یا جنابت کی وجہ سے غسل ناگزیر ہے مگر پانی کے حاصل کرنے یا استعمال کرنے پر کسی وجہ سے قادر نہیں تو ان صورتوں میں وضو یا غسل کی جگہ تیمم کرلے۔ وضو اور غسل دونوں کے تیمم کی مشروعیت سے جو غرض ہے وہ بہر صورت یکساں طور پر حاصل ہوتی ہے " تیمم " کے اسرار و مسائل اور اس آیت کے فوائد " سورة نسآء " کے ساتویں رکوع میں مفصل گزر چکے۔ (تنبیہ) مترجم محقق قدس سرہ نے " لَمَسْتُمُ النِّسَآئَ " کا جو ترجمہ کیا ہے (پاس گئے ہو عورتوں کے) وہ محاورہ کے اعتبار سے حالت جنابت ہی پر دلالت کرتا ہے۔ یہ ترجمہ ابن عباس اور ابو موسیٰ اشعری کی تفسیر کے موافق ہے جسے ابن مسعود نے بھی سکوتاً تسلیم کیا ہے (کمافی البخاری) نیز مترجم علام نے " فَتَیَمَّمُوْا " کے ترجمہ میں " قصد کرو " کہہ کر اشارہ فرما دیا کہ اصل لغت کے اعتبار سے " تیمم " کے معنی میں " قصد " معتبر ہے۔ اور اس لغوی معنی کی مناسبت کا خیال رکھتے ہوئے " تیمم شرعی " میں بھی قصد یعنی نیت کو علماء نے ضروری قرار دیا ہے۔ 5 اس لئے جو احداث کثیر الوقوع تھے ان میں سارے جسم کا دھونا ضروری نہ رکھا صرف اور اعضاء (منہ، ہاتھ، پاؤں، سر) جن کو اکثر بلاد متمد نہ کے رہنے والے عموماً کھلا رکھنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے ان کا دھونا اور مسح کرنا ضروری بتلایا تاکہ کوئی تنگی اور دقت نہ ہو۔ ہاں " حدث اکبر " بمعنی " جنابت " جو احیاناً پیش آتی ہے اور اس حالت میں نفس کو ملکوتی خصال کی طرف ابھارنے کے لئے کسی غیر معمولی تنبیہ کی ضرورت ہے، اس کے ازالہ کے لئے تمام بدن کا دھونا فرض کیا۔ پھر " مرض " اور " سفر " وغیرہ حالات میں کس قدر آسانی فرما دی۔ اول تو پانی کی جگہ " مٹی " کو مطہر بنادیا۔ پھر اعضائے وضو میں سے نصف کی تخفیف اس طرح کردی کہ جہاں پہلے ہی سے تخفیف تھی یعنی سر کا مسح اسے بالکل اڑا دیا اور پاؤں کو شاید اس لئے ساقط کردیا کہ وہ عموماً مٹی میں یا مٹی کے قریب رہتے ہیں اور تمام اعضائے بدن کی نسبت سے گرد و غبار میں ان کا تلوث شدید تر ہے۔ لہذا ان پر مٹی کا ہاتھ پھیرنا بیکار سا تھا۔ بس دو عضو رہ گئے " منہ " اور " ہاتھ " ان ہی کو ملنے سے وضو اور غسل دونوں کا " تیمم " ہوجاتا ہے۔ 6 کیونکہ وہ خود پاک ہے تو پاکی ہی پسند کرتا ہے۔ 7 پچھلے رکوع میں جو نعمائے عظیمہ بیان ہوئی تھیں انکو سن کر بندہ کے دل میں جوش اٹھا کہ اس منعم حقیقی کی بندگی کے لئے فوراً کھڑا ہوجائے۔ اسے بتلا دیا کہ ہماری طرف آؤ تو کس طریقہ سے پاک ہو کر آؤ۔ یہ بتلانا خود ایک نعمت ہوئی اور بدن کی سطح ظاہر پر پانی ڈالنے یا مٹی ڈالنے یا مٹی لگانے سے اندرونی پاکی عطا فرما دینا یہ دوسری نعمت ہوئی۔ بندہ ابھی پچھلی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکا تھا قصد ہی کر رہا تھا کہ یہ جدید انعامات فائض ہوگئے۔ اس لئے ارشاد ہوا للَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ یعنی ان پہلی نعمتوں کو یاد کرنے سے پہلے ان جدید نعمتوں کا جو " احکام وضو " وغیرہ کے ضمن میں مبذول ہوئیں شکر ادا کرنا چاہئے۔ شاید اسی لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن سے حضرت بلال نے تحیۃ الوضو کا سراغ لگایا ہو۔ اس درمیانی نعمت کے شکریہ پر متوجہ کرنے کے بعد اگلی آیت میں ان سابق نعمتوں اور احسانات عظیمہ کو پھر اجمالاً یاد دلاتے ہیں جن کی شکر گزاری کے لئے بندہ اپنے مولا کے حضور میں کھڑا ہونا چاہتا تھا۔ چناچہ فرماتے ہیں (۠وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۔ الخ) 3 ۔ آل عمران :103) ۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر اور عہد اس کا جو تم سے ٹھرایا تھا جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا8 اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات9

8 غالباً یہ عہد وہ ہی ہے جو سورة بقرہ کے آخر میں مومنین کی زبان سے نقل فرمایا تھا۔ (وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ ) 2 ۔ البقرۃ :285) جب صحابہ ؓ آنحضرت ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کرتے تھے اس وقت بھی یہ اقرار کرتے تھے کہ ہم اپنی استطاعت کے موافق آپ کی ہر بات کو سنیں گے اور مانیں گے خواہ ہمارے منشاء اور طبیعت کے موافق ہو یا خلاف۔ یہ تو عام عہد تھا۔ اس کے بعد بعض ارکان اسلام یا مناسب حال اہم چیزوں کے متعلق خصوصیت سے بھی عہد لیا جاتا تھا گویا اس سورت کے شروع میں جو " اَوْفُوْا بِا لْعُقُوْدِ " فرمایا تھا، درمیان میں بہت سے احسانات کا ذکر کر کے جن کو سن کر ایفائے عہد کی مزید ترغیب ہوتی ہے پھر وہ ہی اصلی سبق یاد دلایا گیا۔ 9 ایک شریف اور حیا دار آدمی کی گردن اپنے محسن اعظم کے سامنے جھک جانی چاہئے۔ مروت و شرافت اور آئندہ مزید احسانات کی توقع اسی کو مقتضی ہے کہ بندہ اس منعم حقیقی کا بالکل تابع فرمان بن جائے، خصوصاً جب کہ زبان سے اطاعت و وفاداری کا پختہ عہد و اقرار بھی کرچکا ہے ممکن ہے حق تعالیٰ کی بےانتہا مہربانیاں دیکھ کر بندہ مغرور ہوجائے اس کی نعمتوں کی قدر اور اپنے قول وقرار کی کوئی پروا نہ کرے اس لئے فرمایا " وَاتَّقُوْ اللّٰہَ " یعنی خدا سے ہمیشہ ڈرتے رہو۔ وہ ایک لمحہ میں تم سے سب نعمتیں چھین سکتا ہے اور ناشکری اور بد عہدی کی سزا میں بہت سخت پکڑ سکتا ہے۔ بہرحال مروت، شرافت، امید اور خوف ہر چیز کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی مخلصانہ اطاعت اور وفاداری میں پوری مستعدی دکھلائیں۔ آگے وہ " عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ " ہے ہم جو کچھ کریں گے وہ ہمارے اخلاص یا نفاق، ریاکاری یا قلبی نیاز مندی کو خوب جانتا ہے۔ فقط زبان سے " سمعنا واطعنا " کہنے یا شکر گزاری کی رسمی اور ظاہری نمایش سے ہم اس کو دھوکا نہیں دے سکتے۔
Ayah 5:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی10 اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو11 عدل کرو یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقویٰ سے12 اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو13

10 اس سے پہلی آیت میں مومنین کو حق تعالیٰ کے احسانات اور اپنا عہد و پیمان یاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہاں بتلا دیا کہ صرف زبان سے یاد کرنا نہیں بلکہ عملی رنگ میں ان سے اس کا ثبوت مطلوب ہے اس آیت میں اسی پر تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تم نے خدا کے بیشمار احسانات اور اپنے عہد و اقرار کو بھلا نہیں دیا تو لازم ہے کہ اس محسن حقیقی کے حقوق ادا کرنے اور اپنے عہد کو سچا کر دکھانے کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہو اور جب کوئی حکم اپنے آقائے ولی نعمت کی طرف سے ملے فوراً تعمیل حکم کے لئے کھڑے ہوجاؤ اور خدا کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق ادا کرنے میں بھی پوری جدو جہد اور اہتمام کرو۔ چناچہ " قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ " میں " حقوق اللہ کی " اور " شُھَدَآء بالْقِسْطِ " میں " حقوق العباد " کی طرف اشارہ ہے۔ اسی قسم کی آیت والْمُحْصَنٰتِ کے آخر میں گزر چکی ہے۔ صرف اس قدر فرق ہے وہاں " بالقسط " کی اور یہاں " للّٰہ " کی تقدیم مناسب ہوئی۔ نیز یہاں لحاق میں مبغوض دشمن سے معاملہ کرنے کا ذکر ہے جس کے ساتھ " قسط " کو یاد دلانے کی ضرورت ہے اور " سورة نساء " کے لحاق میں محبوب چیزوں کا ذکر ہے اس لئے وہاں سب سے بڑے محبوب (اللہ) کو یاد دلایا گیا۔ 11 " عدل " کا مطلب ہے کسی شخص کے ساتھ بدون افراط وتفریط کے وہ معاملہ کرنا جس کا وہ واقعی مستحق ہے۔ عدل و انصاف کی ترازو ایسی صحیح اور برابر ہونی چاہیے کہ عمیق سے عمیق محبت اور شدید سے شدید عداوت بھی اس کے دونوں پلوں میں سے کسی پلہ کو جھکا نہ سکے۔ 12 جو چیزیں شرعاً مہلک یا کسی درجہ میں مضر ہیں اس سے بچاؤ کرتے رہنے سے جو ایک خاص نورانی کیفیت آدمی کے دل میں راسخ ہوجاتی ہے اس کا نام " تقویٰ " ہے۔ تحصیل تقویٰ کے اسباب قریبہ وبعیدہ بہت سے ہیں۔ تمام اعمال حسنہ اور خصال خیر کو اس کے اسباب و معدات میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ " عدل و قسط " یعنی دوست و دشمن کے ساتھ یکساں انصاف کرنا اور حق کے معاملہ میں جذبات محبت و عداوت سے قطعاً مغلوب نہ ہونا یہ خصلت حصول تقویٰ کے موثر ترین اور قریب ترین اسباب میں سے ہے۔ اسی لئے " ھُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوَیٰ " فرمایا (یعنی یہ عدل جس کا حکم دیا گیا تقویٰ سے نزدیک تر ہے) کہ اس کی مزاولت کے بعد تقویٰ کی کیفیت بہت جلد حاصل ہوجاتی ہے۔ 13 یعنی ایسا عدل و انصاف جسے کوئی دوستی یا دشمنی نہ روک سکے اور جس کے اختیار کرنے سے آدمی کو متقی بننا سہل ہوجاتا ہے اس کے حصول کا واحد ذریعہ خدا کا ڈر اور اس کی شان انتقام کا خوف ہے۔ اور یہ خوف " اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ " کے مضمون کا بار بار مراقبہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جس کسی مومن کے دل میں یہ یقین مستحضر ہوگا کہ ہماری کوئی چھپی یا کھلی حرکت حق تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں تو اس کا قلب خشیتہ الہٰی سے لرزنے لگے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تمام معاملات میں عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرے گا۔ اور احکام الہٰیہ کے امتثال کے لئے غلامانہ تیار رہے گا۔ پھر اس نتیجہ پر ثمرہ وہ ملے گا جسے اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔ وَعْدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الخ۔
Ayah 5:9

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

وعدہ کیا اللہ نے ایمان والوں سے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ ان کے واسطے بخشش اور بڑا ثواب ہے1

1 یعنی نہ صرف یہ کہ ان کوتاہیوں کو معاف کردیں گے جو بمقتضائے بشریت رہ جاتی ہیں بلکہ عظیم الشان اجر وثواب بھی عطا فرمائیں گے۔
Ayah 5:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلائیں ہماری آیتیں وہ ہیں دوزخ والے2

2 یہ پہلے فریق کے بالمقابل اس جماعت کی سزا ذکر کی گئی جس نے قرآن کریم کے ان صاف وصریح حقائق کو جھٹلایا یا ان نشانات کی تکذیب کی جو سچائی کی طرف راہنمائی کرنے کے لئے خدا کی طرف سے دکھلائے جاتے ہیں۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو یاد رکھو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب قصد کیا لوگوں نے کہ تم پر ہاتھ چلاویں پھر روک دئیے تم سے ان کے ہاتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ ہی پر چاہیے بھروسہ ایمان والوں کو3

3 عمومی احسانات یاد دلانے کے بعد بعض خصوصی احسان یاد دلاتے ہیں۔ یعنی قریش مکہ اور ان کے پٹھوؤں نے حضور پر نور ﷺ کو صدمہ پہنچانے اور اسلام کو مٹانے کے لئے کس قدر ہاتھ پاؤں مارے مگر حق تعالیٰ کے فضل و رحمت نے انکا کوئی داؤ چلنے نہ دیا۔ اس احسان عظیم کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ مسلمان غلبہ اور قابو حاصل کرلینے کے باوجود اپنے دشمنوں کو ہر قسم کے ظلم اور زیادتی سے محفوظ رکھیں اور جوش انتقام میں عدل و انصاف کا رشتہ ہاتھ سے نہ چھوڑیں جیسا کہ پچھلی آیات میں اس کی تاکید کی گئی ہے ممکن ہے کسی کو یہ شبہ گزرے کہ ایسے معاند دشمنوں کے حق میں اس قدر رواداری کی تعلیم کہیں اصول سیاست کے خلاف تو نہ ہوگی۔ کیونکہ ایسا نرم برتاؤ دیکھ کر مسلمانوں کے خلاف شریروں اور بد باطنوں کی جرأت بڑھ جانے کا قوی احتمال ہے اس کا ازالہ (وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ :11) سے فرما دیا۔ یعنی مومن کی سب سے بڑی سیاست " تقویٰ " اور " توکل علی اللہ " (خدا سے ڈرنا اور اسی پر بھروسہ کرنا) ہے۔ خدا سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہر و باطن میں اس سے اپنا معاملہ صاف رکھو اور جو عہد و اقرار کئے ہیں ان میں پوری وفاداری دکھلاتے رہو۔ پھر بحمد اللہ کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ اگلی آیت میں ہماری عبرت کے لئے ایک ایسی قوم کا ذکر فرما دیا جس نے خدا سے نڈر ہو کر بد عہدی اور غداری کی تھی وہ کس طرح ذلیل و خوار ہوئی۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور لے چکا ہے اللہ عہد بنی اسرائیل سے4 اور مقرر کئے ہم نے ان میں بارہ سردار5 اور کہا اللہ نے میں تمہارے ساتھ ہوں6 اگر تم قائم رکھو گے نماز اور دیتے رہو گے زکوٰۃ اور یقین لاؤ گے میرے رسولوں پر اور مدد کرو گے ان کی7 اور قرض دو گے اللہ کو8 اچھی طرح کا قرض9 تو البتہ دور کرونگا میں تم سے گناہ تمہارے اور داخل کروں گا تم کو باغوں میں کہ جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں10 پھر جو کوئی کافر ہوا تم میں سے اس کے بعد تو وہ بیشک گمراہ ہوا سیدھے راستہ سے11

4 یعنی کچھ امت محمدیہ ہی کی خصوصیت نہیں پہلی امتوں سے بھی عہد لئے جا چکے ہیں۔ 5 بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے بارہ سردار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چن لئے تھے جن کے نام بھی مفسرین نے تورات سے نقل کئے ہیں، ان کا فرض یہ تھا کہ وہ اپنی قوم پر عہد پورا کرنے کی تاکید اور ان کے احوال کی نگرانی رکھیں۔ عجب اتفاق یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے جب " انصار " نے " لیلۃ العقبہ " میں نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تو ان میں سے بھی بارہ ہی " نقیب " نامزد ہوئے۔ ان ہی بارہ آدمیوں نے اپنی قوم کی طرف سے حضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔ جابر بن سمرہ کی ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اس امت کے متعلق جو بارہ خلفاء کی پیشین گوئی فرمائی ان کا عدد بھی " نقبائے بنی اسرائیل " کے عدد کے موافق ہے اور مفسرین نے تورات سے نقل کیا ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ " میں تیری ذریت میں سے بارہ سردار پیدا کروں گا۔ " غالباً یہ وہی " بارہ " ہیں جن کا ذکر جابر بن سمرہ کی حدیث میں ہے۔ 6 یا تو یہ خطاب بارہ سرداروں کو ہے یعنی تم اپنا فرض ادا کرو میری حمایت اور امداد تمہارے ساتھ ہے۔ یا سب بنی اسرئیل کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں یعنی کسی وقت تم مجھے اپنے سے دور مت سمجھو۔ جو کچھ معاملہ تم سرا یا اعلانیۃ کرو گے وہ ہر جگہ اور ہر وقت میں دیکھ رہا اور سن رہا ہوں۔ اس لئے جو کچھ کرو خبردار ہو کر کرو۔ 7 یعنی جو رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آتے رہیں گے ان سب کی تصدیق کرو گے اور دلی تعظیم سے پیش آؤ گے اور دشمنان حق کے مقابلہ پر ان کا پورا ساتھ دو گے۔ جان سے بھی اور مال سے بھی۔ 8 خدا کو قرض دینے سے مراد اس کے دین اور اس کے پیغمبروں کی حمایت میں مال خرچ کرنا ہے۔ جس طرح روپیہ قرض لینے والا اس امید پر دیتا ہے کہ اس کا روپیہ واپس مل جائے گا اور قرض لینے والا اس کے ادا کرنے کو اپنے ذمہ پر لازم کرلیتا ہے، اسی طرح خدا ہی کی دی ہوئی جو چیز یہاں اسی کے راستہ میں خرچ کی جائے گی وہ ہرگز گم یا کم نہیں ہوگی، حق تعالیٰ نے کسی مجبوری سے نہیں محض اپنے فضل و رحمت سے اپنے ذمہ لازم کرلیا ہے کہ وہ چیز تم کو عظیم الشان نفع کی صورت میں واپس کر دے۔ 9 " اچھی طرح " سے مراد یہ ہے کہ اخلاص سے دو اور اپنے محبوب و مرغوب اور پاک و صاف مال میں سے دو ۔ 10 یعنی نیکیاں جب کثرت سے ہوں تو وہ برائیوں کو دبا لیتی ہیں۔ جب آدمی خدا کے عہد کو پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہے تو حق تعالیٰ اس کی کمزوریوں کو دور کر کے اپنی خوشنودی اور قرب کے مکان میں جگہ دیتا ہے۔ 11 یعنی ایسے صاف اور پختہ عہد و پیمان کے بعد بھی جو شخص خدا کا وفادار ثابت نہ ہوا اور غدر و خیانت پر کمر بستہ ہوگیا تو سمجھ لو کہ اس نے کامیابی اور نجات کا سیدھا راستہ گم کردیا۔ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ہلاکت کے کس گڑھے میں جا کر گرے گا۔ بنی اسرائیل سے جن باتوں کے عہد لینے کا یہاں ذکر ہے وہ یہ ہیں نماز، زکوٰۃ، پیغمبروں پر ایمان لانا، ان کی جان و مال سے مدد کرنا۔ ان میں سے پہلی عبادت بدنی ہے، دوسری عبادت مالی، تیسری قلبی مع لسانی، چوتھی فی الحقیقت تیسری کی اخلاقی تکمیل ہے۔ گویا ان چیزوں کو ذکر کر کے اشارہ فرما دیا کہ جان ومال اور قلب و قالب ہر چیز سے خدا کی اطاعت اور وفا شعاری کا اظہار کرو۔ لیکن بنی اسرائیل نے چن چن کر ایک ایک عہد کی خلاف ورزی کی۔ کسی قول وقرار پر قائم نہ رہے۔ ان عہد شکنیوں کا جو نتیجہ ہوا اسے اگلی آیت میں بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

سو ان کے عہد توڑنے پر ہم نے ان پر لعنت کی12 اور کردیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت 15 پھیرتے ہیں کلام کو اس کے ٹھکانے سے13 اور بھول گئے نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی1 اور ہمیشہ تو مطلع ہوتا رہتا ہے ان کی کسی دغا پر2 مگر تھوڑے لوگ ان میں سے3 سو معاف کر اور درگزر کر ان سے اللہ دوست رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو4

12 " لَـــعْـــن " کے معنی طرد و ابعاد کے ہیں۔ یعنی عہد شکنی اور غداری کی وجہ سے ہم نے اپنی رحمت سے انہیں دور پھینک دیا۔ اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ ) 5 ۔ المائدہ :13) کے لفظ سے ظاہر فرما دیا کہ ان کے ملعون اور سنگدل ہونے کا سبب عہد شکنی اور بےوفائی ہے جو خود انہی کا فعل ہے۔ اسباب پر مسبب کا مرتب کرنا چونکہ خدا ہی کا کام تھا اس لحاظ سے ( وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ) 5 ۔ المائدہ :13) کی نسبت اسی کی طرف کی گئی۔ 13 یعنی خدا کے کلام میں تحریف کرتے ہیں کبھی اس کے الفاظ میں، کبھی معنی میں، کبھی تلاوت میں۔ تحریف کی یہ سب اقسام قرآن کریم اور کتب حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ جس کا قدرے اعتراف آجکل بعض یورپین عیسائیوں کو بھی کرنا پڑا ہے۔1 یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ ان قیمتی نصیحتوں سے فائدہ اٹھاتے جو مثلاً نبی آخرالزمان کی آمد اور دوسرے مہمات دینیہ کے متعلق ان کی کتابوں میں موجود تھیں مگر اپنی غفلتوں اور شرارتوں میں پھنس کر یہ سب بھول گئے بلکہ نصیحتوں کا وہ ضروری حصہ ہی گم کردیا اور اب بھی جو نصیحتیں اور مفید باتیں خاتم النبیین ﷺ کی زبان سے ان کو یاد دلائی جاتی ہیں ان کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔ حافظ ابن رجب حنبلی نے لکھا ہے کہ " نقض عہد " کے سبب سے ان میں دو باتیں آئیں۔ " ملعونیت " اور " قسوت قلب " ان دونوں کا نتیجہ یہ دو چیزیں ہوئیں " تحریف کلام اللہ " اور " عدم انتفاع بالذکر " یعنی لعنت کے اثر سے ان کا دماغ ممسوخ ہوگیا حتیٰ کہ نہایت بےباکی اور بدعقلی سے کتب سماویہ کی تحریف پر آمادہ ہوگئے۔ دوسری طرف جب عہد شکنی کی نحوست سے دل سخت ہوگئے تو قبول حق اور نصیحت سے متاثر ہونے کا مادہ نہ رہا اس طرح علمی اور عملی دونوں قسم کی قوتیں ضائع کر بیٹھے۔ 2 یعنی دغا بازی اور خیانت کا سلسلہ آج تک چل رہا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ اسی لئے ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی دغا بازی اور مکرو فریب پر آپ مطلع ہوتے رہتے ہیں۔ 3 یعنی عبد اللہ بن سلام وغیرہ جو اسلام میں داخل ہوچکے۔ 4 یعنی جب ان کی عادت قدیمہ ہی یہ ہے تو ایسے لوگوں سے ہر جزئی پر الجھنے اور ان کی ہر خیانت کا پردہ فاش کرنے کی ضرورت نہیں، ان کو چھوڑیے اور درگزر کیجئے اور ان کی برائی کا بدلہ عفو و احسان سے دیجئے شاید اسی سے کچھ متاثر ہوں۔ قتادہ وغیرہ نے کہا ہے یہ آیت منسوخ ہے۔ (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ) 9 ۔ التوبہ :29) سے مگر اس کی کچھ حاجت نہیں۔ قتال کے حکم سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی وقت اور کسی موقع پر بھی ایسی قوم کے مقابلہ میں عفو و درگزر اور تالیف قلب سے کام نہ لیا جاسکے۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور وہ جو کہتے ہیں اپنے کو نصاریٰ5 ان سے بھی لیا تھا ہم نے عہد ان کا پھر بھول گئے نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی6 پھر ہم نے لگا دی آپس میں ان کے دشمنی اور کینہ7 قیامت کے دن تک8 اور آخر جتاوے گا ان کو اللہ جو کچھ کرتے تھے9

5 " نصاریٰ " کا ماخذ یا تو " نصر " ہے جس کے معنی مدد کرنے کے ہیں اور " ناصرہ " کی طرف نسبت ہے جو ملک شام میں اس بستی کا نام ہے جہاں حضرت مسیح (علیہ السلام) رہے تھے۔ اسی لئے ان کو " مسیح ناصری " کہتے ہیں۔ جو لوگ اپنے کو " نصاریٰ " کہتے تھے وہ گویا اس بات کے مدعی تھے کہ ہم خدا کے سچے دین اور پیغمبروں کے حامی و ناصر اور حضرت مسیح ناصری کے متبع ہیں اس زبانی دعوے اور لقبی تفاخر کے باوجود دین کے معاملہ میں جو رویہ تھا وہ آگے ذکر کیا گیا ہے۔ 6 یعنی یہود کی طرح ان سے بھی عہد لیا گیا لیکن یہ بھی عہد شکنی اور بےوفائی میں اپنے پیشرو وں سے کچھ کم نہیں رہے۔ انہوں نے بھی ان بیش بہا نصائح سے جن پر نجات و فلاح ابدی کا مدار تھا کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ " بائبل " میں نصیحتوں کا وہ حصہ باقی ہی نہ چھوڑا جو حقیقۃ مذہب کا مغز تھا۔ 7 یعنی باہم " نصاریٰ " میں یا " یہود " اور " نصاریٰ " دونوں میں عداوتیں اور جھگڑے ہمیشہ کے لئے قائم ہوگئے۔ آسمانی سبق کو ضائع کرنے اور بھلا دینے کا جو نتیجہ ہونا چاہیے تھا وہ ہوا۔ یعنی جب وحی الہٰی کی اصلی روشنی ان کے پاس نہ رہی تو اوہام و اہوا کے اندھیریوں میں ایک دوسرے سے الجھنے لگے۔ مذہب تو نہ رہا پر مذہب کے جھگڑے رہ گئے۔ یہ ہی فرقے پیدا ہو کر اندھیرے میں ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔ یہ ہی فرقہ وار تصادم آخرکار آپس کی شدید ترین عداوت و بغض پر منتہی ہوا۔ کوئی شبہ نہیں کہ آج مسلمانوں میں بھی بیحد تفرق و تشتت اور مذہبی تصادم موجود ہے لیکن چونکہ ہمارے پاس وحی الہٰی اور قانون سماوی بحمد اللہ بلا کم وکاست محفوظ ہے۔ اس لئے اختلافات کی موجودگی میں بھی مسلمانوں کی بہت بڑی جماعت برابر مرکز حق و صداقت پر قائم رہی ہے اور رہے گی۔ اس کے برخلاف " یہود " و " نصاریٰ " کے اختلافات یا مثلاً " پروٹسٹنٹ " اور " رومن کیتھولک " وغیرہ فرقوں کی باہمی مخالفت میں کوئی ایک فریق بھی نہ آج شاہراہ حق و صداقت پر قائم ہے اور نہ قیامت تک ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ وحی الہٰی کی روشنی کو جس کے بدون کوئی انسان خدا تعالیٰ اور اس کے قوانین کی صحیح معرفت حاصل نہیں کرسکتا اپنی بےاعتدالیوں اور غلط کاریوں سے ضائع کرچکے ہیں۔ اب جب تک وہ اس محرف " بائبل " کے دامن سے وابستہ رہیں گے محال ہے کہ قیامت تک ان کو رانہ اور محض بےاصول اختلافات اور فرقہ وار بغض وعناد کی ظلمت سے نکل کر حق کا راستہ دیکھ سکیں اور نجات ابدی کی شاہراہ پر چل سکیں۔ باقی جو لوگ آج نفس مذہب خصوصاً عیسائیت کا مذاق اڑاتے ہیں اور جنہوں نے لفظ " مسیحیت " یا موجودہ " بائبل " کو محض چند سیاسی ضرورتوں کے لئے رکھ چھوڑا ہے اس آیت میں ان " نصاریٰ " کا ذکر نہیں اور اگر مان لیا جائے کہ وہ بھی آیت کے تحت میں داخل ہیں تو ان کی باہمی عداوتیں اور ایک دوسرے کے خلاف خفیہ ریشہ دوانیاں اور اعلانیہ محاربات بھی باخبر اصحاب پر پوشیدہ نہیں ہیں۔ 8 یعنی جب تک وہ رہیں گے یہ اختلافات اور بغض وعناد بھی ہمیشہ رہے گا۔ یہاں " قیامت تک " کا لفظ ایسا ہے جیسے ہمارے محاورات میں کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص تو قیامت تک بھی فلاں حرکت سے باز نہ آئے گا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ شخص قیامت تک زندہ رہے گا اور یہ حرکت کرتا رہے گا۔ مراد یہ ہے کہ اگر قیامت تک بھی زندہ رہے تو اس بات کو نہ چھوڑے گا۔ اسی طرح آیت میں " ِ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ " کا لفظ آنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ " یہود " و " نصاریٰ " کا وجود قیامت تک رہے جیسا کہ ہمارے زمانے کے بعض مبطلین نے اپنی تفسیر میں لکھ دیا ہے۔ 9 یعنی آخرت میں پوری طرح اور دنیا میں بھی بعض واقعات کے ذریعہ سے ان کو اپنی کرتوت کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 5:15

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے کتاب والو تحقیق آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت چیزوں سے10 بیشک تمہارے پاس آئی ہے اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب

10 یہ سب " یہود " و " نصاریٰ " کو خطاب ہے کہ وہ نبی آخر الزمان ﷺ جن کی آمد کی بشارت تمہاری کتابوں میں اس قدر تحریف ہونے پر بھی کسی نہ کسی عنوان سے موجود ہیں۔ تشریف لے آئے جن کے منہ میں خدا نے اپنا کلام ڈالا ہے اور جنہوں نے ان حقائق کی تکمیل کی جو حضرت مسیح ناتمام چھوڑ گئے تھے " تورات " و " انجیل " کی جن باتوں کو تم چھپاتے تھے اور بدل سدل کر بیان کرتے تھے ان میں ان کی سب ضروری باتیں اس نبی آخر الزمان نے ظاہر فرما دیں اور جن باتوں کی اب چنداں ضرورت نہ تھی ان سے درگزر کیا۔
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

ظاہر کرنے والی جس سے اللہ ہدایت کرتا ہے اس کو جو تابع ہوا اس کی رضا کا سلامتی کی راہیں اور ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی میں اپنے حکم سے اور ان کو چلاتا ہے سیدھی راہ11

11 شاید " نور " سے خود نبی کریم ﷺ اور " کتاب مبین " سے قرآن کریم مراد ہے۔ یعنی یہود و نصاریٰ جو وحی الہٰی کی روشنی کو ضائع کر کے اہواء وآراء کی تاریکیوں اور باہمی خلاف و شقاق کے گڑھوں میں پڑے دھکے کھا رہے ہیں جس سے نکلنے کا بحالت موجودہ قیامت تک امکان نہیں ان سے کہہ دو کہ خدا کی سب سے بڑی روشنی آگئی اگر نجات ابدی کے صحیح راستہ پر چلنا چاہتے ہو تو اس روشنی میں حق تعالیٰ کی رضا کے پیچھے چل پڑو سلامتی کی راہیں کھلی پاؤ گے اور اندھیرے سے نکل کر اجالے میں بےکھٹکے چل سکو گے۔ اور جس کی رضا کے تابع ہو کر چل رہے ہو اسی کی دستگیری سے صراط مستقیم کو بےتکلف طے کرلو گے۔