5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے عہد کو پورا کرو حلال کیے گئے تمہارے لیے چوپائے انعام سے، مگر وہ جن کے بارے میں تمہیں بتادیا جائے گا اس حال میں کہ جس وقت تم احرام میں ہو شکار کو حلال کرنے والے نہ ہو بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے۔

(1) ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ لفظ آیت اوفوا بالعقود یعنی عہد و پیمان کو پورا کرو جو اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا (اس کو حلال جانو) اور جو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا (اس کو حرام جانو) اور جو (ا اللہ تعالیٰ نے) فرض فرمایا اور جو اللہ تعالیٰ نے سارے قرآن میں حدیں مقرر فرمائیں نہ دھوکہ کرو اور نہ وعدہ کو توڑو۔ (2) ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے لفظ آیت اوفوا بالعقود کے بارے میں روایت نقل کی کہ عقود سے مراد دور جاہلیت کا معاہدہ سے ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے جاہلیت کے عہد و پیمان کو پورا کرو اور اسلام میں کوئی نیا معاہدہ نہ کرو۔ (3) عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے نقل کیا کہ لفظ آیت اوفوا بالعقود میں عقد سے مراد ہے عہد اور اس سے زمانہ جاہلیت کے معاہدے مراد ہیں۔ (4) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے عبد اللہ بن عبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ عقود کی پانچ قسم ہیں۔ ایمان کا عقد، نکاح کا عقد، بیع کا عقد، وعدہ کا عقد اور لوگوں کے آپس میں معاہدے۔ (5) ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے اس آیت کے بارے میں نقل کیا ہے عقود پانچ ہیں : عقد، ایمان، عقد نکاح، خریدو فروخت کا عقد، کھانے کا عقد، عہد اور عقد حلف۔ (6) بیہقی نے دلائل میں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی میرے پاس کتاب ہے جس کو آپ نے عمربن حزم کے لئے تحریر فرمائی جب اس کو یمن کی طرف بھیجا تاکہ وہاں کے رہنے والوں کو دین سکھائیں اور ان کو سنت کے طریقے سکھائیں اور ان سے صدقات کو وصول کریں اور ان کو لکھا لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیمیہ کتاب ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے یہ عہد ہے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عمرو بن حزم کے لئے کی تمام میں اسے تقوی کا حکم ہے۔ اور پھر فرمایا اور اس کے لئے یہ حکم ہے جیسا کہ اس کو حکم ہے اس طرح لوگوں سے وہ صدقات وصول کرے لوگوں کو خیر کی بشارت دے۔ حدیث طویل ہے۔ عہد پورا کرنا ضروری ہے (7) حرث بن اسامہ نے اپنی مسند میں عمرو بن شعیب سے وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے حلیفوں کے ساتھ کئے ہوئے وعدے پورے کرو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ان کے عقد سے کیا مراد ہے ؟ یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا ان کی طرف سے دیت ادا کرو اور ان کی مدد کرنا۔ (8) بیہقی نے شعب الایمان میں مقاتل بن حیان (رح) سے نقل کیا ہم کو اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے وعدے پورے کرنے کا مطلب یہ ہے یعنی قرآن میں جو ان سے وعدہ لیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں میں اطاعت کا حکم دیا ہے کہ وہ اس پر عمل کریں اور ان کاموں سے بچیں کہ جن سے ان کو روکا گیا تھا۔ اور وہ عہد جو ان کے اور مشرکین کے درمیان ہیں اور پھر ایمان والوں کے باہم معاہدے سب اس میں شامل ہیں۔ (9) طستی نے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت نقل ہے کہ نافع بن ارزق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت احلت لکم بھیمۃ الانعام کے بارے میں بتائیے ؟ آپ ؓ نے فرمایا اس سے اونٹ گائے اور بکری مراد ہے عرض کیا گیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے اعشی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ لفظ آیت اھل القباب الحمر والنجم المؤثل والقبائل ترجمہ : سرخ خیموں اور مالدار شرفاء چوپاؤں اور قبیلوں والے۔ (10) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے حسن ؓ سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت احلت لکم بھیمۃ الانعام میں اونٹ گائے اور بھیڑ بکریاں مراد ہیں۔ (11) سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جنین کی دم پکڑ کر فرمایا یہ وہ بہیمہ ہے جو تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے۔ (12) ابن جریر نے ابن عمر ؓ نے لفظ آیت احلت لکم بھیمۃ الانعام کے بارے میں فرمایا کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے میں نے عرض کیا اگر وہ مرا ہوا نکلے تو میں اس کو کھا لوں ؟ فرمایا ہاں (کھا لو) (13) عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے لفظ آیت احلت لکم بھیمۃ الانعام کے بارے میں فرمایا کہ سب چوپائے (حلال ہیں) لفظ آیت الا ما یتلی علیکم مگر مردہ اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے (وہ حلال نہیں) (14) ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے لفظ آیت احلت لکم بھیمۃ الانعام الا ما یتلی علیکم کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ یعنی لفظ آیت المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ آیت کے آخر تک ہے وہ چیزیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں میں سے حرام فرمایا۔ (15) عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے نقل کیا لفظ آیت الا ما یتلی علیکم یعنی وہ مردار اور جو کچھ اس کے ساتھ ذکر کیا گیا (پھر فرمایا) لفظ آیت غیر محلی الصید وانتم حرماسی طرح وہ جانور بھی حرام ہے جسے کوئی قوم محرم آدمی شکار کرے۔ (16) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے ایوب (رح) سے روایت نقل کی کہ مجاہد (رح) سے بندر کے بارے میں پوچھا گیا کیا اس کا گوشت کھایا جائے ؟ انہوں نے فرمایا وہ چوپاؤں میں سے نہیں ہے۔ (17) عبد بن حمید اور ابن جریر، ربیع بن انس نے اس آیت کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ چوپائے سب حلال ہیں مگر اس میں جو وحشی ہو (وہ حلال نہیں) کیونکہ وہ شکار ہے اور وہ حلال نہیں ہے جب وہ احرام میں ہو۔ (18) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ نے لفظ آیت ان اللہ یحکم ما یرید کے بارے میں روایت کیا اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں جس چیزکا وہ ارادہ فرماتے ہیں اپنی مخلوق کے بارے میں اور بیان فرمایا انہوں نے اپنے بندوں کے بارے میں ارادہ فرمایا اور اپنے فرائض کو معین فرمایا اور اس کی حدود کو مقرر فرمایا اور اپنی اطاعت کا حکم فرمایا اور اپنی نافرمانی سے روکا۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مت حلال کرو اللہ کے شعائر کو، اور نہ شہر حرام کو اور نہ ھدی کو اور نہ پٹے ڈالے ہوئے جانوروں کو اور نہ ان لوگوں کو جو بیت حرام کا قصد کر کے جا رہے ہوں ! وہ اپنے رب کا فضل اور رضا مندی تلاش کرتے ہیں اور جب تم حلال ہوجاؤ تو شکار کرلو اور ہرگز کسی قوم کی دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا ہے اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرو اور آپس میں نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر آپس میں مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

(1) ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور نحاس نے ناسخ میں ابن عباس ؓ نے لفظ آیت لا تحلوا شعائرا اللہ کے بارے میں فرمایا کہ مشرکین بیت حرام کا حج کرتے تھے، ہدی کے جانور لاتے تھے اور قابل احترام علامت کی تعظیم کرتے تھے۔ اپنے حجوں میں جانور ذبح کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ان پر لوٹ ڈالنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت لا تحلوا شعائر اللہ اور فرمایا لفظ آیت ولا الشھر الحرام یعنی تمہارے لئے اس میں لڑائی لڑنا حلال نہیں اور لفظ آیت ولا امین البیت الحرام یعنی جو بیت اللہ کی طرف رخ کرتا ہے اور مومن اور مشرکین اکٹھے حج کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ مومنین کو منع کیا کو وہ کسی کو بیت اللہ کے حج سے روکیں یا مومن یا کافر کے لئے رکاوٹ بنیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد نازل فرمایا لفظ آیت انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا اور فرمایا لفظ آیت یبتغون فضلا یعنی وہ اپنے حجوں سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں اور فرمایا لفظ آیت ولا یجر منکم یعنی تم کو آمادہ نہ کرے لفظ آیت شنان قوم یعنی قوم کی دشمنی لفظ آیت وتعاونوا علی البر والتقوٰی یعنی نیکی سے مراد ہے کہ جس کا حکم دیا گیا اور والتقوی سے مراد ہے جس سے روکا گیا۔ حالت احرام میں شکار کرنا حرام ہے (2) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں فرمایا لفظ آیت شعائر اللہ وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ تم اس کام کو کرو اس حال میں کہ تم محرم ہو اور پوچھا کہ جانور جنہوں نے پٹے نہیں پہنے ہوئے اور قلائد سے مراد ہے ہدی کے جانور پٹے ڈالے ہوئے۔ (3) ابن جریر نے ابن عباس ؓ نے لفظ آیت لا تحلوا شعائر اللہ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مناسک حج مراد ہے۔ (4) عبد بن حمید اور ابن منذر مجاہد (رح) سے نقل کیا کہ لفظ آیت لا تحلوا شعائر اللہ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مراد ہیں حج میں اللہ کی نشانیاں۔ (5) ابن جریر اور ابن منذر نے عطاء ؓ سے روایت کیا کہ ان سے شعائر الحج کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنا اور اس کی اطاعت کرنا یہ شعائر اللہ ہے۔ (6) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور نحاس نے ناسخ میں قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحلوا شعائرا اللہ ولا الشھر الحرام ولا الھدی ولا القلائد ولا امین البیت الحرام کے بارے میں فرمایا کہ یہ منسوخ ہے زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی جب حج کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلتا تھا تو اپنے گلے میں ببول کا چھلکا پہن لیتا تھا تو کوئی آدمی اس کو نہیں چھیڑتا تھا۔ اور جب بالوں کا پٹا پہن لیتے تھے تو اس کو کوئی نہیں چھیڑتا تھا۔ ان دنوں مشرک بیت اللہ سے نہیں روکے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا کہ مشرکین سے عزت والے مہینوں میں اور بیت اللہ کے پاس جنگ نہ کی جائے پھر (یہ حکم) اللہ تعالیٰ کے اس حکم لفظ آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھمک سے منسوخ ہوگیا۔ (7) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر، قتادہ ؓ نے ” امین بیت الحرام “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو سورة برأۃ کی آیت لفظ آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھمنے منسوخ کردیا اور فرمایا لفظ آیت ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ شھدین علی انفسھم بالکفر اور فرمایا لفظ آیت انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذایہ وہ سال تھا جس میں ابوبکر ؓ نے حج کیا اور اس میں برأت کا اعلان بھی کیا۔ (8) ابن منذر نے مجاہد ؓ سے نقل کیا کہ لفظ آیت لا تحلوا شعائرا اللہ (کے حکم کو) اس آیت لفظ آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھمنے منسوخ کردیا۔ عبد بن حمید سے اسی طرح روایت کیا۔ قربانی کے جانوروں کا احترام (9) ابن جریر نے عطاء (رح) سے نقل کیا کہ وہ حرم کی درخت کی چھال سے قلادہ بنا کر گلے میں ڈال لیتے تھے اس کے ذریعہ وہ امن میں رہتے تھے جب وہ لوگ حرم سے نکلتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت لا تحلوا شعائر اللہ ولا الشھرالحرام ولا الھدی ولا القلائد (10) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے نقل کیا کہ لفظ آیت لا تحلوا شعائر اللہ سے مراد قلائد اور قلائد سے مراد وہ درخت کی چھال تھی جو لوگوں اور جانوروں کے گردنوں میں امن کے لئے ڈال لیتے تھے۔ اور صفا مروہ، ھدی کا جانور اور اونٹ یہ سب ان کے شعائر میں سے ہے۔ محمد ﷺ کے اصحاب ؓ نے فرمایا یہ سب جاہلیت والوں کے لوگوں کے کام تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ سب کو حرام کردیا قلادہ کو چھوڑ دیا گیا (کہ ان کو حرام قرار نہیں دیا) (11) عبد بن حمید، عطاء (رح) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جاہلیت والے بیری کے درخت کی چھال سے قلادہ بنا لیتے تھے اور اس کے ذریعہ لوگوں میں امن سے رہتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے حرم کے درخت کی چھال لینے سے منع فرما دیا۔ (12) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے لفظ آیت ولا الشھرالحرام کے بارے میں فرمایا کہ وہ ذوالقعدہ کا مہینہ مراد ہے۔ (13) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) کی روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب حدیبیہ میں تھے۔ جب مشرکوں نے ان کو بیت اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بات ان پر بہت بھاری گزری ہو اہل مشرق میں سے کچھ مشرکین وہاں سے گزرے تو عمرہ کا ارادہ رکھتے تھے نبی ﷺ کے صحابہ ؓ نے کہا کہ ہم ان کو روکیں گے جیسے ہمارے ساتھیوں کو روک دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ولا یجرمنکم شنان (الآیتہ) (14) ابن جریر نے سدی ؓ سے نقل کیا کہ حطم بن ھند بکری نبی ﷺ کے پاس آیا آپ نے اس کو (اسلام کی) دعوت دی اس نے کہا آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے اس کو بتایا اور نبی ﷺ اپنے اصحاب کو بتا چکے تھے کہ آج تم پر ایک ایسا آدمی ربیع قبیلہ میں سے داخل ہوگا جو شیطانوں کی ذبان سے بات کرے گا۔ جب نبی ﷺ نے اس کو (اسلام کے بارے میں) بتایا تو اس نے کہا کہ مجھے مہلت دو شاید کہ میں اسلام لے آؤ میرے کچھ ایسے ساتھی ہیں جن سے میں مشورہ کروں گا۔ آپ کے پاس سے وہ باہر نکل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شخص کافر کے چہرہ کے ساتھ داخل ہوا اور دھوکہ بازی کی پیٹھ کے ساتھ جا رہا ہے۔ وہ مدینہ منورہ کی چراگاہوں میں سے ایک چراگاہ کے پاس سے گزرا تو وہاں سے اونٹ بھگا کرلے گیا۔ پھر آئندہ سال حج کی نیت سے آیا اور ان جانوروں کو قلادے پہنائے ہوئے تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے (کچھ صحابہ کو) اس کی طرف بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ولا امین البیت الحرام تو آپ کے صحابہ ؓ میں سے کچھ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے اور اس کے درمیان راستہ چھوڑ دیں۔ کیونکہ وہ ہمارا مجرم ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس نے جانوروں کو قلادے پہنائے ہوئے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا وہ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہم جاہلیت میں کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اس کی اجازت نہ دی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کی صداقت (15) ابن جریر اور ابن منذررحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ ؓ سے نقل کیا کہ حطم بن ہند البکری ایک تجارتی قافلہ میں مدینہ آیا۔ اس کے پاس کھانا تھا۔ اس نے اس کو بیچا پھر نبی ﷺ کے پاس آیا اور بیعت کر کے مسلمان ہوگیا۔ جب پیٹھ پھیر کر باہر نکلا تو آپ نے اس کے طرف دیکھ کر فرمایا ان لوگوں کو جو آپ کے پاس تھے (یعنی صحابہ) مجھ پر بدکار چہرہ کے ساتھ داخل ہوا۔ اور دھوکہ بارگدی لے کر واپس جا رہا ہے۔ جب یمامہ آیا تو اسلام سے پھر گیا۔ اور وہ ایک دفعہ علم اٹھائے ہوئے ذی القعدہ کے مہینہ میں مکہ کے ارادے سے نکلا جب نبی ﷺ کے صحابہ ؓ نے سنا تو اس کی طرف جانے کی تیاری کی۔ مہاجرین اور انصار میں سے چند لوگوں نے تاکہ اس کے قافلہ پر حملہ کردیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحلوا شعائر اللہ تو صحابہ جانے سے رک گئے۔ (16) ابن جریر نے ابن زید (رح) لفظ آیت ولا امین البیت الحرام کے بارے میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت فتح کے دن نازل ہوئی مشرکین میں سے کچھ ایک عمرہ کا تلبیہ پڑھتے ہوئے آئے۔ مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ لوگ مشرک ہیں۔ ہم ان جیسے لوگوں پر ضرور حملہ کریں گے تو قرآن نازل ہوا لفظ آیت ولا امین البیت الحرام (17) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے نقل کیا ہے لفظ آیت ولا امین البیت الحرام یبتغون فضلا من ربھم ورضوانا یعنی وہ لوگ تجارت کو طلب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک پر حرام کردیا ہے۔ (18) عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے لفظ آیت یبتغون فضلا من ربھم ورضوانا کے بارے میں نقل فرمایا کہ یہ مشرکین کے لئے ہے۔ وہ اللہ کا فضل اور رضا چاہتے ہیں۔ تاکہ اس کے ذریعہ ان کی دنیا درست ہوجاتی۔ (19) ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے نقل کیا کہ اللہ کی کتاب میں پانچ آیت بطور رخصت ہیں۔ ان میں قطعی حکم نہیں ہے۔ لفظ آیت واذا حللتم فاصطادوا اگر چاہو شکار کرو اگر چاہو شکار نہ کرو۔ اور لفظ آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا (الجمعہ) اور لفظ آیت او علی سفر فعدۃ من ایام (البقرہ 184) اور لفظ آیت فکلوا منھا واطعموا (الحج، 28) (20) ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ پانچ آیتیں اللہ کی کتاب میں سے بطور رخصت ہیں قطعی حکم نہیں رکھتی لفظ آیت فکلوا منھا واطعموا (الحج 28) جو شخص چاہے کھالے اور جو چاہے نہ کھائے اور لفظ آیت واذا حللتم فاصطادوا جو چاہے شکار کرلے جو چاہے شکار نہ کرے (اور) لفظ آیت ومن کان مریضا او علی سفر (البقرہ 84) جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے (اور) لفظ آیت فکاتبوھم ان علمتم (النور 43) اگر چاہے تو لکھ لے اگر چاہے نہ لکھے (اور) لفظ آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا اگر چاہے تو چلا جائے اور اگر چاہے تو نہ جائے۔ (21) عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت ولا یجرمنکم شنان قوم سے مراد ہے کہ تم کو کسی قوم کی دشمنی تم پر برانگیختہ نہ کرے۔ (22) عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ لفظ آیت ولا امین البیت الحرام سے وہ لوگ مراد ہیں جو حج کا ارادہ کرتے ہیں۔ لفظ آیت یبتغون فضلا من ربھمحج میں تجارت کرنا لفظ آیت ورضوانا یعنی حج لفظ آیت ولا یجرمنکم شنان قوم یعنی قوم کی دشمنی، لفظ آیت وتعاونوا علی البر والتقویبر سے مراد جس کا حکم کیا گیا اور تقوی سے مراد جس سے منع کیا گیا۔ (23) امام احمد اور عبد بن حمید نے اس آیت کے بارے میں اور بخاری نے تاریخ میں وابصہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے ارادہ کیا کہ میں نیکی اور گناہ جس سے ہر ایک چیز کے بارے میں آپ سے پوچھوں تو آپ نے فرمایا اے وابصہ ! میں تجھ کو بتلاؤں ان چیزوں کے بارے میں جن کے لئے تو آیا ہے۔ یا خود پوچھے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ کو بتایئے آپ نے فرمایا تو آیا ہے تاکہ تو نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرے پھر آپ نے اپنی تین انگلیوں کو جمع فرمایا اور ان کے ساتھ میرے سینے میں مارنے لگے اور آپ فرما رہے تھے اے وابصہ ! اپنے دل سے فتوی طلب کر اپنے دل سے فتوی طلب کر نیکی وہ ہے کہ اس کی طرف دل مطمئن ہوجائے اور اس کی طرف نفس بھی مطمئن ہوجائے اور میں تجھ کو فتوی دیتا ہوں (کہ اپنے دل سے فتوی لے) نیکی اور گناہ کی پہچان (24) ابن ابی شیبہ (رح) احمد اور بخاری (رح) نے ادب میں، امام مسلم (رح) نے اور امام ترمذی (رح) نے اور حاکم اور بیہقی (رح) نے شعب میں نواس بن سمعان ؓ سے روایت نقل ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا جو چیز تیرے دل میں کھٹکے اس کو چھوڑ دے پھر اس نے پوچھا ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جس شخص کو گناہ پریشان کرے اور نیکی اس کو خوش کر دے تو وہ مومن ہے۔ (25) عبد بن حمید نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت نقل کی کہ گناہ دلوں کو قابو کرلیتا ہے۔ (26) بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی کہ گناہ دلوں کو قابو کرلیتا ہے جب تم میں سے کسی دل میں کوئی چیز کھٹکے تو اس کو چاہئے کہ اس کو چھوڑ دے۔ (27) بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گناہ دلوں کو قابو کرلیتا ہے اور کوئی نظر بلبلانے والی نہیں ہوتی مگر شیطان کو اس میں طمع ہوتی ہے۔ (28) امام احمد اور بیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو انسان اپنی زبان سے حق کا کلمہ کہتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اس کا اجر اس کے لئے ہوجاتا ہے قیامت کے دن تک اس کا ٹھکانہ جنت میں بنا دے گا۔ (29) امام بیہقی نے انس ؓ سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : داؤد (علیہ السلام) نے اپنے رب عزوجل سے عرض کرتے ہوئے فرمایا (اے میرے رب) تیرے کون سے بندے تیری طرف محبوب ہیں۔ تیری محبت کی وجہ سے میں بھی ان سے محبت کروں ؟ فرمایا اے داؤد ! میرے بندے صاف دل والے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ صاف ہتھیلیوں والے۔ کسی کے ساتھ برائی نہیں کرتے چغل خوری نہیں کرتے پہاڑ ہٹ جائیں مگر وہ نہیں ہٹتے وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ اس سے محبت کرو۔ میرے بندوں کے اندر میرے لئے محبت پیدا کر۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب تو خوب جانتا ہے میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔ اور میں اس سے بھی محبت رکھتا ہوں جو تجھ سے محبت رکھتا ہے۔ پس میں تجھے کیسے محبوب بنا دوں تیرے بندوں کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو یاد دلاؤ میری نعمتیں میری آزمائش اور میرے انعامات۔ اے داؤد کیا وہ میرے بندوں میں سے نہیں ہے جو مظلوم کی مدد کرتا ہے یا تاریکی میں اس کے ساتھ چلتا ہے۔ مگر یہ کہ میں اس کے قدم اس دن مضبوط کر دوں گا جس دن قدم پھسل جائیں گے۔ (30) امام احمد نے ابو درداء ؓ سے روایت نقل کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کرے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے چہرہ سے آگ کو ہٹا دیں گے۔ (31) ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی مؤمن کے قتل پر مدد کی اگرچہ آدھے کلمے کے ساتھ۔ تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے۔ (32) طبرانی ہے اوسط میں اور حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی ظالم کی باطل کے ساتھ مدد کی تاکہ اس کے ذریعہ حق باطل ہوجائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ سے بری ہوگیا۔ (33) حاکم نے (اور اسے صحیح بھی کہا ہے) ابن عمر ؓ سے روایت نقل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی جھگڑے میں ناحق مدد کی وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا۔ یہاں تک وہ اس عمل سے الگ ہوجائے۔ (34) بخاری نے تاریخ میں اور طبرانی نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں اوس بن شرجیل ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد کے لئے چلا اور وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۔ (35) بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کی شفاعت حائل ہوگئی اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے خلاف تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی اس کے حکم میں اور جو شخص مرگیا اور اس پر قرض ہے (تو یہ قرضہ) دینار اور درھم سے (ادا) نہیں ہوگا بلکہ نیکیوں اور برائیوں سے (ادا) ہوگا۔ اور جس نے باطل میں جھگڑا کیا حالانکہ وہ اس کو جانتا ہے تو برابر اللہ کے غصہ میں رہے گا۔ یہاں تک کہ اس عمل سے الگ ہوجائے اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخیوں کی پیپ اور خون کیچڑ میں ٹھہرائے گا۔ یہاں تک کہ جو اس نے بات کہی اس سے قطع تعلق کرے۔ ظلم پر قوم کی مدد کرنا گناہ ہے (36) امام بیہقی نے فسیلہ کے طریق سے روایت نقل کی تاکہ انہوں نے اپنے باپ واثلۃ بن اسقع ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا یہ گناہ میں سے ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ لیکن گناہ میں سے یہ ہے کہ آدمی ظالم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔ (37) امام بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی قوم کے ساتھ چلا یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ گواہی دینے والا ہے حالانکہ وہ گواہی دینے والا نہیں تھا تو گویا وہ جھوٹ کی گواہی دینے والا ہے۔ جس نے کسی جھگڑے پر بغیر علم کی مدد کی تو وہ اللہ کے غصہ میں رہے گا۔ یہاں تک کہ اس عمل سے الگ ہوجائے اور مسلمان کا قتل کرتا کفر ہے اور اس کو گالی دینا فسق ہے۔ (38) حاکم (نے اور بیہقی نے حاکم (رح) نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) عبدالرحمن بن عبد اللہ بن مسعود سے روایت نقل کی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنی قوم کی ظلم پر مدد کی تو وہ لڑھکتے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جبکہ وہ اس کی دم کھینچ رہا ہے۔ اور حاکم کے الفاظ یہ ہیں اس شخص کی مثال جس نے اپنی قوم کی کسی ناحق کام پر مدد کی اس اونٹ کی مثل ہے جو بلندی سے گرجائے۔ اور وہ اس کی دم کو پکڑ کر کھینچتا ہے۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

حرام کیا گیا تم پر مردہ جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا اور وہ جانور جو گلا کٹنے سے مرجائے اور وہ جانور جو کسی ضرب سے مرجائے اور وہ جانور جو اوپر سے گر کر مرجائے اور وہ جانور جو کسی سے ٹکرا کر مرجائے اور وہ جانور جسے کسی درندے نے کھالیا مگر وہ جسے تم ذبح کرلو اور حرام کیا گیا وہ جانور جو ذبح کیا گیا پرستش گاہوں پر، اور یہ بھی حرام کیا گیا کہ تقسیم کرو تیروں کے ذریعہ یہ سب گناہ کے کام ہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہوگئے سو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے پورا کردیا تمہارا دین اور میں نے تم اپنی نعمت پوری کردی، اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر اختیار کرنے کے لئے پسند کیا، سو جو کوئی شخص مجبور ہوجائے سخت بھوک میں جو گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو سو یقیناً اللہ تعالیٰ غفور ہے رحیم ہے۔

(1) ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اسے صحیح قرار دیا) ابو امامہ ؓ سے روایت نقل کی کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کے پاس بھیجا کہ میں ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلاؤں اور ان پر شعائر اسلام کو پیش کروں میں ان کے پاس آیا اس درمیان کہ ہم اسی طرح تھے کہ خون کا ایک پیالہ لایا گیا تو وہ سب اکٹھے ہوگئے تاکہ اس کو کھائیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا آجاؤ اے محمدی (یہ ان کا تخلص تھا) آؤ اور کھاؤ۔ میں نے کہا افسوس ہے تم پر میں تمہارے پاس ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو اس چیز کو تم پر حرام قرار دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ حکم نازل فرمایا کہنے لگے وہ کیا ہے ؟ تو میں نے ان پر یہ آیت تلاوت کی لفظ آیت حرمت علیکم المیتۃ والدم الحم الخنزیر (2) عبدالرزاق نے مصنف میں قتادہ (رح) سے نقل کیا اگر کوئی سور کا گوشت کھالے تو اس پر توبہ پیش کی جائے اگر اس نے توبہ کرلی (تو ٹھیک) ورنہ قتل کردیا جائے۔ حرام جانوروں کی تفصیل (3) ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور امام بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ لفظ آیت وما اھل لغیر اللہ بہ یعنی جن کو بتوں کے نام پر ذبح کیا جائے لفظ آیت والمنخنقۃ جس کا دم گھٹ جائے اور مرجائے۔ لفظ آیت والموقوذۃ یعنی اس کو لکڑی سے مارا جائے تو وہ مرجائے لفظ آیت والمتردیۃ یعنی جو پہاڑ سے گرے اور مرجائے۔ لفظ آیت والنطیحۃ یعنی وہ بکری جس کو دوسری بکری نے سینگ مارا ہو (اور وہ مرگئی) لفظ آیت وما اکل السبع یعنی جو کوئی درندہ پکڑے لفظ آیت الا ما ذکیتم مگر جس کو تم ذبح کرلو جبکہ اس میں اچھی روح ہو تو اس کو کھالو لفظ آیت وما ذبح علی النصب المنصب اس کی جمع انصاب ہے یعنی جو ان بتوں کی مخصوص جگہ پر ذبح کی جائیں وہ لوگ جانوروں کو وہاں ذبح کرتے ہیں جہاں بت نصب ہوتے اور ان پر ان بتوں کا نام لیتے لفظ آیت وان تستقسموا بالازلامیہ وہ پیالہ تھا جس کے ذریعہ وہ امور میں تقسیم کرتے لفظ آیت ذلکم فسق یعنی ان میں سے کسی بھی چیز کو کھایا تو وہ فسق ہے۔ (4) امام طستی نے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ارزق (رح) نے آپ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت والمنخنقۃ کے بارے میں بتائیے تو آپ ؓ نے فرمایا عربوں کا طریقہ تھا کہ وہ بکری کا گلا دباتے جب وہ بکری مرجاتی تو اس کا گوشت کھالیتے تھے۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو امری القیس کا شعر نہیں سنا کہ وہ کہتے ہیں۔ یغط غطیط البکر شد خناقہ لیقتلنی والمرء لیس بقتال ترجمہ : وہ سخت گلا گھٹے ہوئے اونٹ کی طرح آواز نکالتا ہے تاکہ مجھے قتل کرے حالانکہ آدمی قاتل نہیں ہے پھر انہوں نے پوچھا کہ مجھے لفظ آیت والموقوذۃ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا جو لکڑی سے ماری جائے پھر پوچھا کہ عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ یلویننی دین النھار والقتضی دینی اذاوقذا النعاس الرقدا ترجمہ : وہ مجھ سے دن کے قرض میں ٹال مٹول کرتی ہے جبکہ میں اپنے قرض کا اس وقت تقاضا کرتا ہوں جب نیند سونے والوں کو مارتی ہے۔ پھر فرمایا مجھے الانصاب کے بارے میں بتائیے فرمایا انصاب وہ پتھر ہے جو عرب کے لوگ اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہیں اور ان بتوں کے لئے جو جانور ذبح کرتے تھے۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ بنی زیبان کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا فلا لعمر الذی مسحت کعنتہ وماھریق علی الأنصاب من جسد ترجمہ : ہرگز اس ذات کی قسم جس کے کعبہ کو چھوا گیا اور ان کی قسم جو جانور پتھروں پر ذبح کئے گئے۔ پھر پوچھا لفظ آیت وان تستقسموا بالازلام کے بارے میں بتائیے فرمایا الازلام وہ تیر ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے کاموں میں تقسیم چاہتے تھے۔ ان میں ایک پر لکھا تاکہ مجھ کو میرے رب نے حکم فرمایا ہے اور آخر پر لکھا ہوا ہے مجھ کو میرے رب نے منع کیا ہے جب وہ کسی کام کا ارادہ کرے تو اپنے بتوں کے گھر آتے پھر تیروں پر ایک کپڑا ڈال لیتے۔ قرن میں سے جو بھی تیر نکل آئی اس پر عمل کرتے تھے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے خطیہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا لایزجر الطیران مرت بہ سنحا ولا یفاض علی قدح بالازلام ترجمہ : وہ فال کے پکڑنے کے لئے پرندہ نہیں اڑاتا جب وہ اس کے سامنے دائیں یا بائیں جانب سے گزر جائے اور نہ اسے جوئے والے تیروں کے پیالے میں پیش کیا جاتا ہے۔ (5) امام بخاری اور امام مسلم (رح) نے عدی بن حاتم ؓ سے روایت نقل ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں شکار کو بغیر پر کا تیر مارتا ہوں جو شکار کو لگ جاتا ہے (کیا وہ حلال ہے) آپ نے فرمایا جب تو ایسا تیر مارے اور وہ اسے زخمی کر دے تو اس کو کھالے اور اگر وہ اپنی چوڑائی کے ساتھ اس کو لگے (اور وہ مرجائے) تو وہ چوٹ لگنے سے مرا اس کو مت کھاؤ۔ (6) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ الرادہ ان جانوروں کو کہتے ہیں جو کنوئیں میں گرجائے اور متردیہ وہ ہے جو پہاڑ سے گرے اور مرجائے۔ (7) ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ ابو میسرہ ؓ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت والنطیحۃ (8) ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی کہ اس کو یوں پڑھا لفظ آیت وما اکل السبع (9) ابن جریر نے علی ؓ سے روایت نقل کی کہ جب تم موقوذہ (چوٹ لگ کر گری ہوئی) اور مترویہ اونچی جگہ سے گری ہوئی اور نطحہ جانور کا سینگ لگنے سے گری ہوئی کو ذبح کرلو جبکہ وہ ہاتھ پاؤں ہلا رہے تھے۔ تو اس کو (ذبح کر کے) کھالو۔ (10) حاکم (رح) نے کہا ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ (صحیح بھی لکھا ہے) کہ نبی ﷺ نے فرمایا شریطہ کو نہ کھاؤ کیونکہ وہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔ ابن مبارک ؓ نے فرمایا شریطہ یہ ہے کہ تو حیوان سے اس کا خون اس کی جلد کاٹ کر نکالے مگر گلے سے اس کو ذبح نہ کرے۔ (11) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) لفظ آیت وما ذبح علی النصب کے بارے میں فرمایا کہ کچھ پتھر کعبہ کے اردگرد ہوتے تھے جن پر جانور ذبح کئے جاتے تھے زمانہ جاہلیت میں جب چاہتے ان کی جگہ اور پتھر بدل دیتے یہ اس وقت ہوتا جب ان کو ان میں سے کوئی پتھر اچھا لگتا۔ جوا کھیلنا حرام ہے (12) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت وان تستقسموا بالازلام کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد عرب کے تیر اور فارس کے نرد کے مہرے ہیں جن کے ساتھ وہ جوا کھیلا کرتے تھے۔ (13) عبد بن حمید نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت بالازلام سے مراد ہیں تیر جن کے ساتھ وہ ہر سفر کے لئے جنگ کھیلتے اور تجارت کے لئے فال نکالتے تھے۔ (14) ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت نقل کی کہ لفظ آیت وان تستقسموا بالازلام سے تیر مراد ہیں جب وہ لوگ کسی سفر میں جانے کا ارادہ کرتے تھے تو کچھ تیر سفر کے لئے اور کچھ گھر میں بیٹھ رہنے کے لئے نکالتے تھے۔ اگر سفر کرنے کا تیر نکلتا تو نکل جاتے اور اگر بیٹھنے والا تیر نکلتا تو بیٹھ جاتے (سفر نہ کرتے) (15) ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت وان تستقسموا بالازلام سے مراد ہیں سفید کنکریاں جن کے ساتھ وہ مارا کرتے تھے۔ (16) عبد بن حمید اور ابن جریر نے روایت کیا کہ حسن ؓ سے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب وہ لوگ کسی کام کا یا کسی سفر کا ارادہ کرتے تو تین تیر کی طرف ارادہ کرتے ایک پر لکھا ہوا تھا امرنی دوسرے پر لکھا ہوا تھا انھنی اور تیسرے کو خالی چھوڑ دیتے (بغیر لکھا) پھر اس میں حیلہ کرتے اگر وہ تیر نکل آتا جس پر امرنی لکھا ہوتا تو اپنے کام کو کرلیتے اور اگر وہ تیر نکل آتا جس پر انھنی منع کیا ہے تو اس کام سے رک جاتے اگر وہ تیر نکل آتا جس پر کوئی چیز نہ لکھی ہوتی تو اس کو دوبارہ لوٹاتے۔ (17) طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو دردا ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہرگز بلند درجوں میں داخل نہیں ہوگا۔ جس نے کہا منت کی تیروں سے فال نکالی یا سفر سے لوٹ آئے بدگوئی کرتے ہوئے۔ (18) ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت الیوم یئس الذین کفروا من دینکم کے بارے میں نقل کیا کہ کافر لوگ اس بات سے ناامید ہوگئے کہ تم ان کے دین کی طرف لوٹ جاؤ گے کبھی بھی۔ (19) بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت الیوم یئس الذین کفروا من دینکم یعنی مکہ والے مایوس ہوں گے کہ تم ان کے دین کی طرف لوٹ جاؤ گے۔ یعنی بتوں کی عبادت کی طرف کبھی بھی لفظ آیت فلا تخشوھم محمد ﷺ کی اتباع میں ان سے ڈروں لفظ آیت واخشون (اور مجھ سے ڈرو) بتوں کی عبادت کرنے میں اور محمد ﷺ کی تکذیب کرنے میں۔ جب آپ عرفات میں کھڑے ہوئے تھے تو آپ پر جبرائیل نازل ہوئے اور وہ اپنا ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور مسلمان بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے تھے (پھر فرمایا) لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم یعنی تمہارے حلال اور تمہارے حرام کرنے میں (میں نے تمہارا دین مکمل کردیا) اور اس سے وہ برابر حلال رہے گا۔ اور حرام نہیں ہوگا (پھر فرمایا) لفظ آیت واتممت علیکم نعمتی یعنی اپنی نعمت کو میں نے پورا کردیا (اب) تمہارے ساتھ مشرک حج نہ کرے لفظ آیت ورضیت اور میں نے تمہارے لئے اسلام کا دین منتخب کیا اس کو فرمایا لفظ آیت لکم الاسلام دیناتو رسول اللہ ﷺ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اکاسی 81 دن زندہ رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی۔ (20) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت ہے لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم اور لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس وقت ہے جب تو اس پر عمل کرے۔ (21) ابن جریر نے ابن جریج (رح) لفظ آیت فلا تخشوھم واخشونکے بارے میں فرمایا کہ ان سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر غلبہ پالیں گے۔ جزیرہ العرب میں شرک سے شیطان کی مایوسی (22) امام مسلم (رح) نے جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان مایوس ہوچکا ہے کہ نماز پڑھنے والے جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کریں گے لیکن ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ (23) بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ابو سعید خدری ؓ دونوں حضرات سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ تمہاری اس زمین میں اس کی عبادت کی جائے گی لیکن وہ تم سے راضی ہوگا اسی باتوں پر جن کو تم جانتے ہو۔ (24) امام بیہقی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ رب کی زمین میں بتوں کی عبادت کی جائے۔ لیکن عنقریب وہ تم سے ایسی چیزوں سے خوش ہوگا جن کو تم حقیر جانتے ہو بلکہ وہ چیزیں قیامت کے دن ہلاک کرنے والی چیزیں ہیں پس تم مظالم سے ڈرو جتنا ہو سکے۔ (25) ابن جریر (رح) اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اور ایمان والوں کو خبر دی کہ اس نے ان کے لئے ایمان کو کامل کردیا اب تم اس کی زیادتی کی طرف محتاج نہیں ہوں گے اس نے اس کو پورا کردیا اور کبھی بھی ناقص نہیں ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے اور وہ اس پر ناراض ہوگا۔ (26) عبدالرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کا دین خالص کردیا اور مشرکین کو بیت اللہ سے روک دیا۔ پھر فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی اور اس دن جمعہ تھا۔ (27) ابن جریر نے قتادہ ؓ سے لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر عرفہ کے دن نازل ہوئی اور وہ جمعہ کا دن تھا جب مشرکین کو مسجد حرام سے روک دیا گیا اور مسلمانوں کے لئے ان کے حج کو خالص کردیا۔ (28) ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ مسلمان اور مشرکین اکٹھے حج کرتے تھے۔ جب سورة برأۃ نازل ہوئی تو مشرکین کو بیت الحرام سے روک دیا گیا۔ اور مسلمانوں نے اس حال میں حج کیا کہ بیت الحرام میں مشرکین میں سے ایک بھی ان کے ساتھ شریک نہیں تھا۔ اور یہ نعمت کے پورا کرنے میں سے تھا اور اسی کو فرمایا لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (29) عبد بن حمید اور ابن جریر نے سعد بن جبر ؓ سے لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ دین کو تمہارے لئے مکمل کیا اور بیت اللہ سے مشرکین کو روک دیا۔ دین کا مکمل ہونا (30) ابن جریر اور ابن منذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی اس حال پر کہ آپ عرفات میں وقوف کئے ہوئے تھے۔ لوگ رسول اللہ ﷺ کے اردگرد تھے اور جاہلیت کا میثار اور ان کے طریقے ختم ہوگئے اور شرک کمزور ہوگیا۔ اور کسی نے ننگے ہو کر طواف نہیں کیا اور ان کے ساتھ کسی مشرک نے اس سال حج نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم (31) عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے نقل کیا ہے یہ آیت نازل ہوئی اور آپ عرفات میں تھے لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم جب آپ کو یہ آیات اچھی لگیں تو ان کو سورة کے شروع میں کردیا گیا اور فرمایا اور جبرائیل (علیہ السلام) تعلیم دے رہے تھے کہ کیسے حج کیا جاتا ہے۔ (32) حمیدی، امام احمد، عبد بن حمید، امام بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی ابن جریر، ابن منذر، ابن حیان اور امام بیہقی نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا تم لوگ ایک آیت اپنی کتاب میں پڑھتے ہو اگر یہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ انہوں نے پوچھا کون سی آیت ؟ انہوں نے کہا لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اس دن کو جانتا ہوں کہ جس میں یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔ اور جس گھڑی میں یہ نازل ہوئی اسے بھی جانتا ہوں یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر عرفہ کی شام کو جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ (33) امام اسحاق بنی راہویہ نے اپنی مسند میں اور عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے نقل کیا کہ لوگ عمر ؓ کے پاس تھے کہ اس آیت کا ذکر کیا گیا۔ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نے کہا اگر ہم جان لیتے کہ کس دن یہ آیت نازل ہوئی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے۔ عمر ؓ نے فرمایا سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کو ہمارے لئے عید بنا دیا۔ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی اور دوسرا دن قربانی کا دن تھا۔ تو ہمارے لئے دین مکمل کردیا گیا۔ اور ہم نے جان لیا کہ اس کے بعد معاملہ کمی رہے گا۔ (34) ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے عنترہ (رح) سے نقل کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم نازل ہوئی اور وہ حج اکبر کا دن تھا تو عمر ؓ رو دئیے۔ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا تجھے کس چیز نے رلایا ؟ عرض کیا مجھے اس چیز نے رلایا کہ ہم اس حال میں تھے کہ ہمارے دین میں اضافہ ہوتا تھا۔ اب یہ مکمل ہوگیا اور کیونکہ کوئی چیز جب مکمل ہوتی ہے تو اس میں (پھر) کمی ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا تو نے سچ کہا۔ (35) ابن جریر نے قبیصہ بن ابی ذؤیب (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ کعب ؓ نے فرمایا اس امت کے علاوہ کسی اور امت پر یہ آیت نازل ہوتی تو ہم دیکھتے کہ وہ اس دن کو عید بنا لیتے۔ اور اس میں اکٹھے ہوتے عمر ؓ نے فرمایا وہ کونسی آیت ہے اے کعب ؟ انہوں نے عرض کیا لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم عمر ؓ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں کہ جس میں (یہ آیت) نازل ہوئی۔ اور اس جگہ کو بھی جس میں نازل ہوئی۔ یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی اور عرفہ کے دن الحمد اللہ ہمارے لئے یہ دونوں دن عید ہیں۔ (36) امام طیالسی، عبد بن حمید، امام ترمذی (امام ترمذی نے تصحیح کی ہے) ابن جریر، طبرانی اور امام بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم والی آیت پڑھی تو یہودی نے کہا اگر ہم پر یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس کو عید بنا لیتے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت دو عیدوں میں نازل ہوئی۔ جمعہ کا دن اور عرفہ کا دن۔ (37) ابن جریر نے عبس بن حارثہ انصاری سے روایت نقل کیا ہے کہ ہم دیوان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک نصرانی نے ہم سے کہا۔ اے اہل اسلام ! تمہارے اوپر ایک ایسی آیت نازل ہوچکی ہے۔ اگر ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو اور اس وقت کو عید بنا لیتے۔ وہ یہ آیت ہے کہ لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم جب تک ہم میں سے دو آدمی باقی رہے تو ہم میں سے کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔ میں محمد بن کعب قرظی سے ملا اور اس بارے میں پوچھا تو فرمایا کیا تم نے اس پر جواب نہیں دیا ؟ تو انہوں نے کہا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا (یہ آیت) نبی ﷺ پر اس حال میں نازل ہوئی کہ آپ پہاڑ پر ٹھہرے ہوئے تھے عرفہ کے دن یہ دن مسلمانوں کے لئے ہمیشہ عید ہوگا۔ جب تک اس میں سے ایک بھی باقی ہے۔ مسلمان کی عید اور خوشی (38) ابن جریر نے داؤد ؓ سے روایت نقل ہے کہ میں نے عامر شعبی (رح) سے کہا کہ یہودی کہتے ہیں کہ عربوں نے اس دن کو کیوں یاد نہیں رکھا کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کو کامل کردیا۔ عامر (رح) نے فرمایا کیا تجھے وہ دن یاد نہیں ؟ میں نے ان سے پوچھا وہ کون سا دن ہے ؟ انہوں نے فرمایا عرفہ کا دن کہ اللہ تعالیٰ نے عرفہ کے دن میں ( اس آیت کو) نازل فرمایا۔ (39) ابن جریر اور ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت نقل کی ہے یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی اور آپ مقام عرفات میں وقوف کئے ہوئے تھے۔ یعنی لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم (40) ابن جریر اور طبرانی نے عمرو بن قیس سلونی (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان ؓ کو میز پر بیٹھ کر اس آیت کو مشکل سے پڑھتے ہوئے سنا۔ یعنی لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم یہاں تک کہ اس آیت کو ختم کیا تو انہوں نے فرمایا کہ (یہ آیت) عرفہ کے دن اور جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ (41) بزار، طبرانی اور ابن مردویہ نے سمرہ ؓ سے روایت نقل کیا ہے کہ یہ آیت لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی کہ آپ جمعہ کے دن عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ (42) امام بزار نے سند صحیح کے ساتھ ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ (یہ آیت) لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم رسول اللہ ﷺ پر عرفات میں نازل ہوئی۔ (43) ابن جریر نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے تمہارے نبی پیر کے دن پیدا ہوئے۔ پیر کے دن نبی بنے۔ پیر کے دن مکہ سے نکلے۔ پیر کے دن مدینہ میں داخل ہوئے۔ پیر کے دن مکہ فتح ہوا۔ اور سورة مائدہ پیر کے دن اتاری گئی۔ یعنی لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم اور پیر کے دن آپ ﷺ نے وفات پائی۔ (44) ابن مردویہ اور ابن عساکر (رح) نے ضعیف سند کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ سے روایت نقل کی جائے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو غدیر خم کے دن کھڑا فرمایا اور ان کے لئے ولدیت کا اعلان فرمایا تو جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ یعنی لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم (45) ابن مردویہ، امام خطیب اور ابن عساکر نے ضعیف سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب غدیر خم کا دن تھا اور وہ دن اٹھارہ ذوالحج کا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم (46) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم کے بارے میں فرمایا یہ عرفہ کے دن نازل ہوئی اس کے بعد حرام یا حلال کے بارے میں کچھ بھی نازل نہیں ہوا۔ اور رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے واپس لوٹے تو وفات پا گئے۔ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ حج کیا اس درمیان کہ ہم چل دئیے تھے۔ اچانک سواری پر جبرئیل (علیہ السلام) ظاہر ہوئے اونٹنی نے اس بوجھ کی طاقت نہ رکھی جو اس پر قرآن مجید میں سے نازل ہو رہا تھا۔ تو وہ بیٹھ گئی میں آپ کے پاس حاضر ہوئی اور میں نے ان پر چادر ڈھانک دی جو مجھ پر تھی۔ (47) ابن جریر (رح) نے ابن جریج (رح) سے نقل کیا ہے کہ اس آیت یعنی لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم کے نازل ہونے کے بعد نبی ﷺ اکاسی رات (یعنی اکاسی دن) زندہ رہے (اس کے بعد وفات پا گئے) وماقولہ لفظ آیت الیوم اکملت لکم دینکم (48) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے نقل کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ہر دین والوں کے لئے ان کے دن کی ایک شکل بنا دی جائے گی۔ قیامت کے دن، اور ایمان اہل ایمان کو خوشخبری دے گا اور ان کے ساتھ خبر کا وعدہ کرے گا یہاں تک کہ اسلام آئے گا اور کہے گا اے میرے رب ! آپ سلام ہیں اور میں اسلام ہوں تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج میں تجھے ہی قبول کروں گا اور آج کے دن تیرے ہی بدلے میں جزا دوں گا۔ (49) امام احمد (رح) نے علقمہ بن عبد اللہ مزنی (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کی مجلس میں تھا عمر ؓ نے قوم میں سے ایک آدمی سے فرمایا کہ تو نے رسول اللہ ﷺ کو اسلام کے لئے صفت بیان کرتے ہوئے کیسے سنا ؟ اس نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام جذعہ (چھوٹے بچے کی طرح) ظاہر ہوا پھر دو دانتوں والا چار والا چھ والا پھر کچلیاں نکالنے والے کی طرح ہوگیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ کچلیاں نکالنے کے بعد ہم نقصان میں ہی ہیں۔ (50) ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت نقل کیا ہے لفظ آیت فمن اضطر (یہ جو آدمی اس جانور کو کھانے پر مجبور ہوگیا) والی آیت کے بارے میں جس کو اس سورت کے شروع میں بیان کیا گیا۔ لفظ آیت فی مخمصۃ یعنی بھوک میں (اور فرمایا) لفظ آیت غیر متجانف لاثم یعنی گناہ میں حد سے تجاوز نہ کرنے والا۔ (51) امام طستی نے مسائل میں نافع بن ارزق (رح) سے نقل کیا ہے کہ ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت فی مخمصۃ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا یعنی بھوک اور مشقت میں۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو نہیں سنا وہ کہتا ہے۔ تبیتون فی المشتی ملاء بطونکم وجاراتکم غرتی یبتن خمالصا ترجمہ : موسم سرما میں رات گزارتے ہو پیٹ بھر کر جبکہ تمہارے پڑوسی بھوکے خالی پیٹ رات گزارتے ہیں۔ (52) عبدالرزاق اور امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ لفظ آیت فمن اضطر فی مخمصۃ غیر متجانف لاثم سے مراد ہے ایسی بھوک میں کہ جس میں کسی گناہ میں واقع ہونے والا نہ ہو۔ مجبور و لاچار شخص کے لئے مردار کھانے کی اجازت (53) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں نقل کیا ہے کہ مجبور ہونے والے کے لئے اجازت دی گئی ہے۔ جب وہ کسی گناہ کا ارادہ کرنے والا نہ ہو اور مشقت میں پڑجانے کی وجہ سے اس کو کھائے اور جو شخص بغاوت کر کے حد سے تجاوز کرے یا اللہ کی نافرمانی میں نکلے ہو اس پر اس (مردار) کو کھانا حرام ہے۔ (54) امام احمد (رح) نے اور حاکم نے (اور اسے صحیح بھی کیا ہے) ابو واقداللیثی ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ صحابہ (رح) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم اس زمین میں ہوتے ہیں کہ ہم کو بھوک اور قحط سالی آجاتی ہے تو ہمارے لئے کیا مردار کھانا حلال ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم کو صبح اور شام کا کھانا بھی نہ ملے اور نہ کوئی سامان ترکاری ملے تو تم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ (55) ابن سعد اور امام ابو داؤد نے فجیع عامر ؓ سے روایت نقل ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے لئے کب مردار حلال ہوتا ہے آپ نے پوچھا تمہارا کھانا کیا ہے ؟ عرض کیا ہم صبح کو بھی کھاتے ہیں اور شام کو بھی کھاتے ہیں عقبہ نے کہا صبح کو ایک پیالہ اور شام کو ایک پیالہ عرض کیا اتنا جبکہ بھوک اس سے انکار کرے۔ فرمایا تو اسی حالت میں ان کے لئے مردار حلال کیا گیا ہے۔ (56) امام حاکم نے (اسے صحیح بھی قرار دیا ہے) سمرۃ بن جندب ؓ سے روایت نقل کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تو شام کے وقت گھر والوں کو دودھ سے سیراب کرے تو پھر اس مردار سے بچ جا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔