5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے

یا ایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود . اے ایمان والو ! وعدوں کو پورا کرو۔ عقد مضبوط عہد۔ اصل میں دو چیزوں کا اتنا مضبوط اتصال ہے کہ دونوں کا الگ الگ ہونا دشوار ہو عقد کہلاتا ہے۔ زجاج نے کہا کہ عقد مضبوط ترین عہد کو کہتے ہیں۔ ” وفاء اور ایفاء “ وعدہ کے تقاضے کو ادا کرنا۔ وفاء سے زیادہ لفظ ایفاء میں قوت ہے کذا قال التفتازانی اللہ نے روز میثاق سے اب تک جن عہود کا پابند بندوں کو بنایا ہے وہ سب العقود میں داخل ہیں خواہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حلال قرار دینے کی صورت میں ہوں یا وہ وعدے ہوں جو محمد ﷺ پر ایمان لانے اور اوصاف محمدی کو ظاہر کرنے سے متعلق اہل کتاب سے لئے گئے ہیں یا انسانوں کے باہم وہ معاہدات ہوں جن کا تعلق آپس کے معاملات اور امانتوں وغیرہ سے ہو جس کو پورا کرنا شرعاً واجب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی معاہدہ شکنی کو بھی قرار دیا تھا۔ رواہ الشیخان من حدیث عبداللہ بن عمر ؓ ۔ تحلیل حلال بھی چونکہ ان عقود میں داخل ہے جن کا مکلف اللہ نے بندوں کو کیا ہے اس لئے ایفاء عقود کا حکم دینے کے بعد آگے فرمایا۔ احلت لکم بہیمۃ الانعام حلال کردیئے گئے ہیں تمہارے لئے چوپائے۔ بہیمہ وہ جاندار جس میں قوت تمییز نہ ہو۔ انعام چوپائے۔ یا بہیمۃ چوپائے اور انعام اونٹ گائے بکریاں۔ بہرحال دونوں صورتوں میں بہیمۃ الانعام میں عام کی اضافت خاص کی جانب ہے اور اہل نحو کے نزدیک ایسی اضافت میں لام مقدر ہوتا ہے۔ بیضاوی اور صاحب کشاف کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اضافت بتقدیر من ہے حالانکہ اضافت بتقدیر من اس جگہ ہوتی ہے جہاں مضاف مضاف الیہ کی جنس سے ہو جیسے : خَاتَمُ فِضَّۃٍچاندی کی انگوٹھی اور دونوں کے ہم جنس ہونے کا یہ معنی ہے کہ مضاف اور مضاف الیہ میں سے ہر ایک دوسرے سے بعض اعتبار سے عام ہو (دیکھو خاتم ‘ فضہ سے عام ہے لوہے اور پتیل کی بھی انگوٹھی ہوتی ہے اور فضہ خاتم سے عام ہے چاندی کا دوسرا زیور بھی ہوتا ہے لیکن بہیمۃ الانعام میں بہمیہ اگرچہ الانعام سے عام ہے مگر الانعام بہمیہ سے عام نہیں ہے تمام انعام بہمیہ ہی ہوتے ہیں) بہرحال دونوں تاویلوں کی صورتوں میں آیت کا مقصد ان چوپایوں کو حلال بنا دینا ہے جو اہل جاہلیت نے اپنے لئے حرام قررا دے دیئے تھے جیسے بحیرہ اور سائبہ۔ کلبی نے کہا بہمیۃ الانعام سے وہ جنگلی چوپائے مراد ہیں جو شہری چوپایوں کی طرح جگالی کرتے ہیں اور ان کے منہ میں نوکیلے کیلے نہیں ہوتے جیسے ہرن نیل گائے وغیرہ۔ اس وقت بہمیہ کی الانعام کی طرف اضافت علاقہ ‘ مشابہت کی وجہ سے ہوگی جیسے : لجین الماء (یعنی پگھلی ہوئی چاندی جو پانی کی طرح ہو پس بہمیۃ الانعام کا معنی ہوا و بہائم جو انعام کی طرح ہوتے ہیں) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ بہمیۃ الانعام سے مراد ہیں ‘ حلوان یعنی جانوروں کے پیٹ سے برآمد ہونے والے بچے۔ شعبی کا قول بھی اسی طرح آیا ہے۔ اس تفسیر پر آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر کسی مادہ کو ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے مردہ بچہ برآمد ہو اور جسم کی بناوٹ پوری ہوگئی ہو تو بغیر ذبح کے اس کو کھانا حلال ہے۔ امام شافعی (رح) ‘ امام احمد (رح) اور ابو یوسف اور امام محمد کا یہی قول ہے۔ امام مالک نے یہ شرط مزید لگائی ہے کہ بچہ کے بال نکل آئے ہوں۔ بغوی نے حضرت ابن عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ماں کو ذبح کرنا ہی پیٹ کے بچہ کا ذبح کرنا ہے بشرطیکہ اس کی جسمانی بناوٹ پوری ہوگئی ہو اور بال نکل آئے ہوں۔ سعید بن مسیب کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا پیٹ کے بچہ کو بغیر مستقل ذبح کرنے کے کھانا درست نہیں۔ اس کے بال نکل آئے ہوں یا نہ نکلے ہوں۔ امام شافعی اور ان کے ساتھیوں نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے استدلال کیا ہے ابو سعید ؓ کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم اونٹنی کو گائے کو اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ کے اندر سے بچہ نکلتا ہے کیا ہم بچہ کو پھینک دیں یا کھا لیں ؟ فرمایا دل چاہے تو کھالو۔ اس کی ماں کو ذبح کرنا اس کو ذبح کرنا ہے (جدید ذبح کی ضرورت نہیں) رواہ ابو داؤد و احمد۔ حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پیٹ کے بچہ کی ماں کو ذبح کرنا۔ اس بچہ کا ذبح کرنا ہے۔ رواہ ابو داؤد والدارمی۔ دارقطنی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے بچہ کے متعلق فرمایا اس کی ماں کو ذبح کرنا ہی اس کو ذبح کرنا ہے اس کے بال نکل آئے ہوں یا نہ نکلے ہوں دارقطنی نے کہا صحیح یہ ہے کہ یہ (آخری فقرہ) حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے۔ امام شافعی (رح) نے (عقلی استدلال کے طور پر) فرمایا کہ پیٹ کا بچہ حقیقت میں ماں کا جزء ہے ماں سے جڑا ہوا ہوتا ہے یہاں تک کہ بغیر قینچی سے کاٹنے کے ماں سے جدا نہیں ہوتا۔ ماں کی ہی غذا سے اس کو غذا پہنچتی ہے اور ماں کے ہی تنفس سے وہ سانس لیتا ہے اور جب بہمہ حیثیات جز ہے تو ماں کا زخم ہی اس کو ذبح کرتا ہے اگر اس کو بحالت زندگی ذبح کرنا ناممکن ہو جیسے شکار اور امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا پیٹ کا بچہ مستقل زندگی رکھتا ہے۔ ماں کے مرنے کے بعد بچہ کی زندگی کا امکان ہے اور بچہ خون رکھنے والا جاندار بھی ہے اور ذبح کرنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ گوشت کو خون سے علیحدہ کردیا جائے اور یہ بات تنہا ماں کو ذبح کرنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ ماں کو ذبح کرنے سے بچہ کے بدن سے خون نہیں نکل جاتا۔ شکار کو زخمی کرنے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا وہاں زخمی ہوجانے سے کچھ خون نکل ہی جاتا ہے اور ناقص خروج کو پورے خروج کے قائم مقام مان لیا جاتا ہے (بچہ کے بدن سے تو ماں کو ذبح کرنے سے بالکل خون نہیں نکلتا) اور بچہ کا گوشت خون سے جدا نہ ہوا تو وہ مردار ہوا اور مردار کی حرمت قرآن میں موجود ہے جو قطعی ہے اور احادیث آحاد مفید ظن ہیں لہٰذا (حکم کتاب کے خلاف) جنین کی حلت احادیث آحاد سے ثابت نہیں کی جاسکتی اور اس آیت میں بہمیۃ الانعام کی تفسیر جنین سے کرنا تقاضائے مقام کے خلاف ہے کیونکہ آگے بطور استثناء آیا ہے۔ الا ما یتلی علیکم سوائے ان کے جن کی تمہارے سامنے (آگے) تلاوت کی جا رہی ہے۔ جن چیزوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اور ان کا حکم سنایا گیا ہے وہ مندرجۂ ذیل ہیں۔ مردار جن کو ذبح کرنے کے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ جن جانوروں کو بتوں کی بھینٹ کے طور پر ذبح کیا گیا ہو گلا گھونٹ کر مارے ہوئے جانور ‘ چوٹ کے صدمہ سے مرے ہوئے جانور ‘ کسی اونچی جگہ سے لڑھک کر گر کر مرے ہوئے جانور اور وہ چوپائے جن کا کچھ حصہ درندوں نے کھالیا ہو۔ یہ تمام جانور بہمیۃ الانعام میں داخل تھے اسی لئے تو استثناء کیا گیا (اگر بہمیۃ الانعام سے مراد جنین ہو تو ان جانوروں کے استثناء سے پہلے مستثنیٰ کا مستثنیٰ منہ میں داخل ہونا ضروری ہے اور ان جانوروں کو لفظ جنین میں شامل نہیں ہے) ان جانوروں کی حرمت کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ جانور خود اپنی موت سے یا دوسرے عوارض سے مرتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک استثناء منقطع ہے۔ تلاوت کی نسبت المیتۃ وغیرہ کی طرف مجازی ہے (حقیقت میں میتہ اور اس کے بعد ذکر کی جانے والی چیزیں بذات خود ناقابل تلاوت ہیں ‘ تلاوت تو حقیقت میں الفاظ کی ہوتی ہے) یا یوں کہا جائے کہ مضاف محذوف ہے یعنی سوائے ان جانوروں کے جن کی حرمت کی آیت تلاوت کی جا رہی ہے۔ اس صورت میں (مجاز فی الاسناد نہ ہوگا) مجاز بالحذف ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما یتلی میں ما سے مراد آیت ہو اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہو۔ یعنی الا محرم ما یتلی علیکم۔ غیر محلی الصید (لیکن) شکار کو حلال مت سمجھنا۔ صید مصدر بھی ہوسکتا ہے (شکار کرنا) اور اسم مفعول بھی (شکار کیا ہوا ہے) لفظ غَیْرَحال ہے یعنی انعام جیسے چوپائے تمہارے لئے حلال کر دئیے گئے ہیں لیکن تمہارے لئے یہ حلت ایسی حالت میں ہے کہ بحالت احرام تم شکار کو حلال نہ سمجھو چونکہ حلت انعام کو اس شرط سے مشروط کرنا کہ حالت احرام میں شکار کو حلال نہ سمجھا جائے ایک بےربط سی بات تھی اسلئے صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ غیر محلی الصید سے مراد ہے شکار سے باز رہنا گویا یوں فرمایا کہ جب شکار کی ممانعت کی حالت ہو تو اس وقت (بھی) تمہارے لئے بعض چوپائے حلال کردیئے گئے ہیں تاکہ تمہارے لئے کچھ دشوار نہ ہو۔ یہ تفسیر قابل اعتراض ہے کیونکہ چوپایوں کی حلت حالت احرام کے ساتھ مقید نہیں جبکہ شکار کرنا حرام ہوتا ہے بلکہ چوپایوں کی حلت ہر حال میں ہے۔ احرامی حالت ہو یا نہ ہو اس لئے یہ تقیید اس وقت درست ہوگی جب بہمیۃ سے مراد عام بہائم ہوں جنگلی ہوں یا شہری۔ یہ مراد اول تفسیر کی ہوگی اور تیسری صورت پر بہمیہ سے مراد خصوصیت کے ساتھ جنگلی چوپائے ہوں گے اس وقت شکار کی حلت ‘ عدم احرام کے ساتھ مشروط ہوگی۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ بہمیۃ الانعام جنگلی ہوں یا شہری۔ سوائے میتہ اور دوسرے ممنوعات کے تمہارے لئے حلال کردیئے گئے ہیں مگر تم احرام کی حالت میں شکار کی حلت کا اعتقاد نہ رکھو۔ یہ بھی جائز ہے کہ محلی سے مراد حق تعالیٰ کی ذات ہو اور جمع کا صیغہ تعظیماً استعمال کیا گیا ہو یعنی ہم نے تمہارے لئے بہمیۃ الانعام کو حلال کیا۔ مگر احرام کی حالت میں ہم نے شکار حلال نہیں کیا۔ وانتم حرم اس حال میں کہ تم احرام باندھے ہو۔ ان اللہ یحکم ما یرید کوئی شک نہیں کہ اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے چاہے وہ کسی چیز کو حلال بنا دے چاہے حرام اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ابن جریر نے عکرمہ اور سدی وغیرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ حکم بن ہند بکری کچھ اونٹ غلہ سے لدے ہوئے لے کر مدینہ میں آیا اور غلہ فروخت کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی اور مسلمان ہوگیا جب واپسی میں پشت پھیر کر جانے لگا تو حضور ﷺ اقدس نے اس کی طرف دیکھا اور ان لوگوں سے جو حضور ﷺ کے پاس موجود تھے فرمایا یہ شخص میرے سامنے کافر چہرہ لے کر آیا اور دغا باز پشت پھیر کر واپس چل دیا۔ چناچہ حکم یمامہ پہنچ کر مرتد ہوگیا (اور حضور ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہوئی) پھر اونٹوں پر کچھ لاد کر ماہ ذی قعدہ میں مکہ کو جانے کے ارادہ سے نکلا صحابہ ؓ نے جب یہ خبر سنی تو مہاجرین وانصار کے کچھ آدمیوں نے اس کے قافلہ کو لوٹنے کے ارادہ سے جانے کا ارادہ کرلیا اس پر آئندہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا کہ آئندہ آیت کا نزول حطم کے متعلق ہوا تھا جس کا نام شریح بن صبعیہ بکری تھا یہ مدینہ میں آیا اور اپنے سواروں کو پیچھے چھوڑ کر تنہا رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ لوگوں کو کس بات کی طرف بلاتے ہیں۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا میں دعوت دیتا ہوں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے اقرار کی۔ نماز پابندی کے ساتھ ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کی کہنے لگا بہتر ہے مگر میرے ساتھ کچھ سردار اور بھی ہیں ‘ جن (کی رائے) کے بغیر میں کسی کام کو طے نہیں کرسکتا۔ امید ہے کہ میں مسلمان ہوجاؤں گا اور ان کو ساتھ لے کر آؤں گا۔ شریح کے آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ سے فرما چکے تھے کہ تمہارے پاس قبیلۂ ربیعہ کا ایک شخص آئے گا جو شیطان کی زبان سے کلام کرے گا۔ غرض شریح حضور کے پاس سے نکل کر چلا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کافر منہ لے کر آیا تھا اور عہد شکن پشت کے ساتھ چلا گیا۔ شریح مدینہ سے نکل کر (جنگل میں) مدینہ والوں کے اونٹوں کی طرف سے گزرا اور گلہ کو ہنکا کرلے گیا لوگوں نے اس کا پیچھا کیا مگر گرفتار نہ کرسکے پھر جب دوسرا سال ہوا تو یہ بنی بکر کے حاجیوں کے ساتھ حج کرنے کے لئے یمامہ سے روانہ ہوا ‘ اس وقت اس کے ساتھ بڑا تجارتی مال بھی تھا اور اونٹوں کی گردنوں میں اس نے قلادہ بھی ڈال رکھا تھا۔ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں عرض کیا حضور ﷺ یہ حطم حج کے لئے نکلا ہے آپ ہم کو اجازت دے دیجئے ہم اس سے نمٹ لیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس نے تو قربانی کے جانوروں کے گلے میں قلادے ڈال رکھے ہیں۔ مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ حرکت تو ہم جاہلیت کے زمانہ میں کیا کرتے تھے مگر رسول اللہ ﷺ نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ واحدی نے بیان کیا ہے کہ حطم یمامہ سے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں مدینہ میں آیا حضور ﷺ نے اس کو اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے قبول نہیں کی جب حطم مدینہ سے نکلا تو اثناء راہ میں مدینہ والوں کے اونٹوں کو ہنکاتا لے گیا۔ پھر جب حضور ﷺ قضاء عمرہ کے لئے مدینہ سے نکلے تو آپ نے یمامہ کے حاجیوں کے لبیک پڑھنے کی آواز سنی۔ صحابہ ؓ نے فرمایا یہ حطم اور اس کے ساتھی ہیں۔ حطم نے جو اونٹ لوٹے تھے ان کی گردنوں میں قلادے پہنائے تھے اور کعبہ کو قربانی کے لئے بھیجے تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے

یایہا الذین امنوا لا تحلوا شعائر اللہ اے ایمان والو ! بےحرمتی نہ کرو ‘ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے فرمایا ‘ شعائر سے مراد ہیں حج کے مناسک اور مواقف یعنی کعبہ کا طواف صفا اور مروہ کے درمیان سعی۔ عرفہ اور مزدلفہ میں قیام ‘ کنکریاں مارنا اور وہ تمام امور جو حاجی کرتا ہے جیسے احرام طواف ‘ سرمنڈوانا ‘ قربانی کرنا وغیرہ۔ شعائر کو حلال قرار دینے سے مراد ہے ان کی پرواہ نہ کرنا ان کی توہین کرنا حاجیوں کے ان اعمال میں رکاوٹ پیدا کرنا ‘ مشرکین حج کرتے اور قربانی کے جانورکعبہ کو بھیجا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے ان کو لوٹنا چاہا تو ممانعت میں یہ آیت نازل ہوئی۔ شعائر جمع ہے شعیرۃ واحد۔ کسی چیز کی خصوصی علامت کو شعیرہ کہتے ہیں حج کے مناسک اور مواقف ‘ حج کی علامات اور نشانیاں ہیں اسی لئے ان کو شعائر حٍ کہا جاتا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا شعائر اللہ سے مراد ہیں قربانی کے وہ جانور جو حاجی کعبہ کو بھیجتا ہے۔ اشعار علامت بنا دینا (یہ لغوی معنی ہے) اونٹ کے کوہان کے ایک پہلو کو کسی قدر چیر دیا جاتا تھا کہ اس سے خون بہنے لگتا تھا یہ خصوصی علامت تھی اس امر کی کہ یہ اونٹ قربانی کے لئے بھیجا ہوا ہے اس زخم کردینے کو اشعار اسی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔ مسئلہ : قربانی کا جانور اگر اونٹ ہو تو اس کو اشعار کرنا امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مکروہ ہے باقی اماموں کے نزدیک سنت ہے اور صاحبین (رح) : کا بھی یہی قول ہے۔ جمہور کے قول کا ثبوت حضرت عائشہ ؓ کی اس روایت سے ہوتا ہے حضرت عائشہ ؓ : کا بیان ہے میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ : کی قربانی کے اونٹوں کے قلادے بٹے پھر آپ ﷺ نے وہ قلادے اونٹوں کی گردنوں میں ڈال دیئے اور ان کو اشعار کیا اور کعبہ کو بھیج دیا لیکن قربانیوں کے اونٹوں کی روانگی سے قبل جو چیزیں حلال تھیں وہ اس روانگی سے ممنوع نہیں ہوگئیں (یعنی حلت بدستور قائم رہی اور قربانی کے جانوروں کی روانگی کو احرام نہیں قرار دیا گیا) عطیہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا جو قول آیت لا تحلوا شعائر اللّٰہکی تفسیر کے سلسلہ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ حالت احرام میں شکار نہ کرو (آیت کا یہی مطلب ہے) کیونکہ دوسری آیت ہے وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْاجب احرام کھول دو تو پھر شکار کرسکتے ہو۔ میرے نزدیک حضرت ابن عباس ؓ کے دونوں قولوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ حالت احرام میں شکار سے اجتناب بھی مناسک حج کی خلاف ورزی سے اجتناب کی ایک شاخ ہے۔ بعض علماء نے آیت کا مرادی مطلب یہ بیان کیا کہ حرم کے اندر قتل نہ کرو۔ ولا الشہر الحرام اور نہ ماہ حرام کی یعنی ماہ حرام میں مقاتلہ (جنگ) کو حلال نہ قرار دو ‘ ابن زید نے کہا ماہ حرام کی خلاف ورزی نہ کرنے سے مراد نسی کی ممانعت ہے۔ عرب ‘ جاہلیت کے زمانہ میں ایک ماہ حرام کو ماہ حلال اور دوسرے ماہ حلال کو ماہ حرام بنا دیتے تھے (رجب ‘ ذیقعدہ ‘ ذی الحجہ اور محرم چار ماہ اسلام سے پہلے ماہ حرام کہلاتے تھے ان میں امن عام ہوجاتا اور لڑائیاں بند ہوجاتیں مگر لوگ پیہم تین ماہ ذی قعدہ ‘ ذی الحجہ ‘ محرم کے امن سے تنگ آجاتے تھے اور شیخ مجاز سے درخواست کرتے کہ ماہ محرم کو اس سال حلال کردیا جائے اور بجائے محرم کے صفر کو حرام بنا دیا جائے۔ سردار ‘ قبائل عکاظ کے میلہ میں اس تبدیل حرمت و حلت کا اعلان کردیتا اسی کو نسی کہتے تھے۔ اللہ نے اس تبدیلی کو ممانعت فرما دی اور اس کو زیادت کفر فرمایا کہ ایک مہینہ جو ایک سال حلال ہے وہی دوسرے سال حرام بنا دیا جائے نسی کا ترجمہ بعض اہل علم نے جو لوندھ کیا ہے وہ غلط ہے۔ لوندھ میں تو ایک ماہ کا اضافہ ہوجاتا ہے اور نسی میں مہینہ کی بیشی نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک مہینہ کی خصوصیت منتقل کر کے دوسرے مہینہ پر ڈال دی جاتی تھی) ۔ ولا الہدی اور نہ قربانی کے اس جانور کی جو کعبہ کو قربانی کے لئے بھیجا گیا ہو قربانی کے جانور اونٹ گائے اور بکری تھے انہی کو قربانی کے لئے کعبہ کو بھیجا جاتا تھا۔ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ ھدی میں اونٹ یا گائے یا بکری ہوتی ہے۔ اگرچہ قربانی کا جانور بھی شعائر میں داخل ہے جن کی ممانعت شروع جملہ میں کردی گئی ہے مگر اس کی اہمیت زیادہ تھی اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کا نام لے کر ذکر کیا اگر اس کو لوٹ لیا جائے تو غریبوں کی حق تلفی ہوگی اور اس کا احتمال بھی قوی تھا کہ بہ نسبت دوسرے شعائر کے ہدی کو لوگ لوٹ لیں گے کیونکہ اس میں ان کا مالی نفع تھا اور طمع مالی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ ولا القلآئد اور نہ پٹے والے قربانی کے جانوروں کی۔ قلائدہ قلادۃ کی جمع ہے (ہار یا وہ چیز جو ہار کی طرح استعمال کی جائے) ہدی کے گلے میں جوتی یا کسی درخت کی چھال لٹکا دی جاتی تھی تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ جانور کعبہ کو جا رہا ہے اور کوئی اس سے تعرض نہ کرے۔ القلائد سے مراد قلادہ والے جانور ہیں۔ الہدی کے اندر اگرچہ ان کا اندراج تھا مگر خصوصی شرف کی وجہ سے ان کا ذکر علیحدہ کیا گیا۔ عطاء نے کہا القلائد سے مراد قلادہ والے انسان ہیں کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں جب لوگ حرم سے نکلتے تھے تو اونٹوں کی طرح خود اپنی گردنوں میں بھی حرم کے درختوں کی چھال لٹکا لیا کرتے تھے تاکہ کوئی ان سے تعرض نہ کرے۔ مطرف بن الشخیر کے نزدیک قلائد سے یہی مراد ہیں۔ مشرکوں کا دستور تھا کہ مکہ کے درختوں کی چھال اپنی گردنوں میں لٹکا لیا کرتے تھے (اس رسم کی ممانعت کے لئے) درختوں سے کھال اکھاڑنے کی ممانعت فرما دی۔ بعض علماء نے کہا اصل میں قربانی کے جانوروں سے تعرض کرنے کی ممانعت مقصود ہے لیکن کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے قلادوں سے بھی تعرض کرنے کی ممانعت کردی جیسے آیت ولا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّمیں (عورتوں کو اظہارِِ زینت کی ممانعت کی گئی ہے اور مقصد ہے عورتوں کو خود پردہ میں رہنے کا حکم دینا اور اس حکم میں قوت پیدا کرنے کے لئے اظہار زینت کی بھی ممانعت فرما دی) ھدی و قلائد سے تعرض کرنے سے مراد ہے ان کو پکڑ لینا یا حرم تک پہنچنے سے روک دینا۔ ولا آمین البیت الحرام اور نہ (زیارت کے لئے) کعبہ کا قصد کرنے والوں کی یعنی ان کو نہ قتل کرو نہ لوٹو۔ یبتغون فضلا من ربہم ورضوانا جو اپنے رب کے فضل اور اس کی رضامندی کے طالب ہوں۔ رب کا فضل دنیوی تو تجارتی رزق ہے اور اخری فضل ثواب ہے۔ جو لوگ بیت الحرام کو تجارت کرنے اور حج کرنے کے لئے جا رہے ہوں ان سے تعرض کرنے کی ممانعت اس آیت میں کردی گئی۔ کعبہ کا قصد کرنے والوں میں مشرک اور مؤمن دونوں فرقے داخل ہیں۔ امینکا لفظ بھی دونوں کو شامل ہے اس کے علاوہ قضاء عمرہ کے سال یہ آیت نازل ہوئی جس میں حطم بکری اور اس کے اونٹوں سے تعرض کرنے کی ممانعت کردی گئی۔ لیکن واقع میں یہ حکم مؤمنوں کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُممشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَام بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَامشرک (عقائد میں) گندے ہیں اس لئے اس سال کے بعد کعبہ کے قریب بھی نہ آئیں۔ لہٰذا آیت ولا آمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَمنسوخ ہے ھدی اور قلائد کو لے کر کوئی مشرک و کافر حج نہیں کرسکتا۔ رہا اللہ کے فضل و رضامندی کی طلب تو ظاہر ہے کہ مشرک واقع میں اس کے طلب گار نہیں ہوسکتے اس لئے بعض لوگوں نے اس طرح تاویل کی ہے کہ کفار اپنے خیال میں تو اللہ کے فضل و رضوان کے طالب ہیں ‘ انہی کے خیال کے مطابق اللہ نے ان کو بھی فضل و رضامندی کا طلب گار قرار دے دیا۔ قتادہ نے کافروں پر اللہ کے فضل اور ان سے اللہ کی خوشنودی کا مطلب یہ لیا ہے کہ اللہ دنیا میں ان کی معاش کے اسباب کا انتظام کرتا اور کفر کی دنیا میں سزا نہیں دیتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا تجارت کے ذریعہ سے رزق کی طلب تو اہل ایمان اور اہل شرک دونوں فرقوں میں پائی جاتی ہے۔ رہا اللہ کی خوشنودی کی جستجو وہ صرف مؤمنوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ واذا حللتم فاصطادوا اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو۔ آیت لا تحلوا شعائر اللّٰہمیں بحالت احرام شکار کرنے کی ممانعت کردی گئی تھی۔ اس آیت میں احرام کھولنے کے بعد شکار کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ غیر محلی الصید کے فقرہ میں شکار کی ممانعت کی گئی تھی اور فاصطادوا سے اجازت دے دی گئی یہ قول ضعیف ہے۔ فاصطادوا امر کا صیغہ ہے اور باجماع علماء اس جگہ امر اباحت (اجازت) کے لئے ہے جیسے آیت فَاِذَا اقُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانَتَشِرُوْا میں بالاجماع امر اباحت کے لئے ہے۔ اباحت حکم کی اس جگہ یہ علت نہیں ہے کہ یہ امر ممانعت کے بعد آیا ہے اور جو امر ممانعت کے بعد آئے وہ اباحت کے لئے ہوتا ہے۔ بلکہ وجہ یہ ہے کہ جو امر بیرونی قرائن سے خالی ہو ضابطہ اصلیہ یہ ہے کہ وہ وجوب کے لئے ہوتا ہے دیکھو اسی ضابطہ کی وجہ سے آیت فَلْیَحَذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌمیں لفظ امر سے اور آیت مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ اِذَ اَمَرْتُکَمیں لفظ امر تک سے اہل اصول کے نزدیک ایجاب مراد ہے۔ ولا یجرمنکم شنان قوم ان صدوکم عن المسجد الحرام ان تعتدوا اور کسی قوم (یعنی مکہ کے باشندوں) سے دشمنی اس سبب سے کہ انہوں نے تم کو کعبہ سے روک دیا تھا تم کو (انصاف کی) حد سے نکل جانے پر آمادہ نہ کر دے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ نے لایجرمنکم کا ترجمہ کیا ہے تم کو آمادہ نہ کر دے اور فراء نے ترجمہ کیا ہے۔ قوم سے مراد ہیں مکہ والے۔ شنَآن (مصدر) سخت بغض۔ اکثر مصادر فَعَلاَنکے وزن پر آتے ہیں جیسے ضربان۔ سَیلان۔ کَسلان اور اگر نون کے سکون کے ساتھ پڑھا جائے تو صفت کا صیغہ ہوگا۔ اَنْ صَدُّوْکُمْسے پہلے لام محذوف ہے یہ بغض کی علت ہے یعنی حدیبیہ کے سال کعبہ تک پہنچنے سے پہلے چونکہ انہوں نے تم کو روک دیا تھا اور اس وجہ سے تم کو ان سے بغض ہوگیا تھا یہ بات تم کو زیادتی کرنے پر آمادہ نہ کر دے۔ ابن جریر نے لکھا ہے کہ واقعہ حدیبیہ کے بعد اس آیت کا نزول ہوا تھا اس کے نزول سے پہلے کافروں کی طرف سے بازداشت اور ممانعت کا وقوع ہوچکا تھا۔ زیادتی کرنے اور حد سے تجاوز کرنے سے مراد ہے قتال اور مال لوٹنا۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ جب مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو کعبہ تک پہنچنے سے روک دیا تو آپ ﷺ نے حدیبیہ میں قیام کیا اور مشرکوں کی یہ حرکت مسلمانوں کو بڑی شاق گزری۔ اتفاق سے اسی زمانہ میں مشرق کی طرف سے کچھ مشرک عمرہ کرنے کے ارادہ سے آئے اور ان کا گزر مسلمانوں کی طرف سے ہوا اس پر صحابہ ؓ نے کہا مکہ والوں نے جس طرح ہم کو روک دیا ‘ اسی طرح ہم ان لوگوں کو روک دیں کہ یہ بھی عمرہ نہ کرسکیں ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ وتعانوا علی البر والتقوی اور نیکی و پرہیزگاری پر باہم تعاون کرو۔ البر سے مراد ہے اللہ کے احکام کی تعمیل اور تقویٰ سے مراد ہے ممنوعات سے اجتناب تاکہ اللہ کے عذاب سے بچاؤ ہوجائے۔ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان اور گناہ و ظلم پر تعاون نہ کرو۔ گناہ سے مراد ہے ممنوعات کا ارتکاب اور عدوان سے مراد ہے ظلم یعنی ممنوعاتِ الٰہیہ کا ارتکاب نہ کرو اور انتقام لے کر تسکین قلب حاصل کرنے کے لئے ظلم بھی نہ کرو۔ حضرت نواس ؓ بن سمعان انصاری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے بر اور اثم کی تشریح دریافت کی گئی۔ فرمایا ہر حسن خلق ہے اور اثموہ کھٹک ہے جو تمہارے دل میں پیدا ہو اور لوگوں کا اس سے واقف ہونا تم کو پسند نہ ہو۔ رواہ مسلم فی صحیحہ والبخاری فی الادب والترمذی۔ حضرت ابو ثعلب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بر وہ بات ہے جس پر تمہارے دل کو سکون و اطمینان ہوجائے خواہ مفتی تم کو (اس کے خلاف جواز کا) فتویٰ دے دیں۔ رواہ احمد۔ میں کہتا ہوں یہ پاک باطن۔ نفوس مطمئنہ والوں کو خطاب ہے۔ واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ اس کا عذاب بڑا سخت اور خوفناک ہے۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

حرمت علیکم المیتۃ حرام کردیا گیا ہے تم پر مردار۔ یہاں سے مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْکی تفصیل شروع کی گئی ہے۔ میتہوہ مردار جس کی روح خود (بغیر کسی بیرونی سبب کے) بدن سے نکلی ہو۔ ابن مندہ نے کتاب الصحابہ میں کہا ہے کہ حضرت حیان بن ابجر نے فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ایک ہانڈی میں مردار کا گوشت تھا ‘ میں اس کے نیچے آگ جلا رہا تھا کہ تحریم میۃ کی آیت نازل ہوئی میں نے فوراً ہانڈی الٹ دی۔ میں نے اس جگہ یہ حدیث ” الباب النقول فی اسباب النزول “ کے اتباع میں نقل کی ہے۔ ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ سورة مائدہ کی اس آیت کے نزول کے وقت حضرت حیان کے اس واقعہ کا ہونا ناممکن ہے کیونکہ آیات احکام کی سب سے آخری آیت یہی ہے اور سورة انعام میں حرمت میۃ والی آیت ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھی اور یہ ممکن نہیں کہ حرمت میۃ کے حکم کے بعد (یعنی سورة انعام کی آیت کے نزول کے بعد) صحابی مردار کا گوشت پکاتے ہوں۔ اس لئے صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حیان ؓ والا قصہ سورة انعام کی آیت تحریمہ کے نزول کے وقت کا ہے۔ اس آیت سے اس قصہ کا کوئی تعلق نہیں۔ وَالدَّمَ اور خون۔ باجماع علماء اس سے مراد سیال خون ہے اہل جاہلیت سیال خون پیا کرتے تھے۔ (اس کی حرمت کا حکم اس آیت میں دے دیا گیا) ۔ ولحم الخنزیر اور خنزیر کا گوشت۔ یوں تو پورا خنزیر اس کا ہر حصہ نص اور اجماع کی رو سے نجس ہے مگر عموماً کھانے میں گوشت ہی آتا ہے اس لئے صرف گوشت کا تذکرہ کیا گیا۔ وما اہل لغیر اللہ بہ اور وہ جانور جس پر (یعنی جس کو ذبح کرنے کے وقت) اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ اہلال آواز بلند کرنا اس سے مراد وہ آواز ہے جو کسی جانور کو ذبح کرنے کے وقت مشرکین چیخ کر باسم اللاّت والعزیٰ کہا کرتے تھے۔ ابوالطفیل کی روایت ہے کہ حضرت علی ؓ سے دریافت کیا گیا کیا رسول اللہ ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ کوئی چیز (بطور وصیت یا اندرونی حکم) دی تھی فرمایا عام لوگوں کو جو چیز نہ دی ہو اور ہم کو خصوصیت کے ساتھ دی ہو ایسی کوئی چیز نہیں ہاں جو میری تلوار کے پرتلہ میں ہے بس یہی چیز تھی پھر آپ نے (تلوار کے پرتلہ سے) ایک تحریر نکالی جس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی ‘ اللہ کی لعنت اس پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے لئے ذبح کرے۔ (یعنی ذبح کے وقت دوسرے کے نام کو شریک بنا لے یا تنہا دوسرے کا نام لے) اور اللہ کی لعنت اس پر جو زمین کے نشانات میں چوری کرے۔ دوسری روایت میں چوری کے لفظ کی جگہ بگاڑنے کا لفظ آیا ہے یعنی جو زمین کے نشانات کو بگاڑے اور اللہ کی لعنت اس پر جو اپنے باپ پر لعنت کرے اور اللہ کی لعنت اس پر جو (دین میں اپنی طرف سے) نئی بات نکالنے والے کو ٹھکانا دے۔ رواہ مسلم۔ مسئلہ : ذبح کے وقت اللہ کے نام کے ساتھ ملا کر بغیر عطف کے کسی دوسری چیز کا ذکر کرنا مکروہ ہے مگر حرام نہیں ہے جیسے ذبح کے وقت بسم اللہ کے بعد فوراً ساتھ ساتھ اللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ فُلاَنٍکہنا یا بسم اللہ کے بعد متصلاً بغیر فصل کے محمد رسول اللہ کہنا مکروہ ہے لیکن اگر بالکل ملا کر عطف کے ساتھ کسی اور کا ذکر کیا۔ مثلاً بسم اللہ واسم فلاں یا بسم اللہ ومحمد رسول اللہ کہہ دیا تو ذبیحہ حرام ہوجائے گا ذبح کے وقت غیر اللہ کی شرکت ہوجائے گی۔ ہاں اگر جانور کو لٹانے اور بسم اللہ پڑھنے سے پہلے غیر اللہ کا ذکر کردیا تو کوئی ہرج نہیں ہے اسی طرح ذبح کے بعد بھی کچھ (دعائیہ یا دوسرے طرح کے) الفاظ کہنا مکروہ نہیں ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ ذبح کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دعا کی تھی اللّٰہُمَّ تقبل ہذا عن امۃ محمد ممن شَہِدَ لَکَ بالوحدانیۃ ولی بالبلاغ سورة بقرہ میں مسئلہ کی یہ چاروں صورتیں اور ان سے متعلق مباحث کا ذکر ہم کرچکے ہیں۔ والمنخنقۃ اور گلا گھونٹ کر مرا ہوا جانور۔ یعنی وہ جانور جو گلا گھونٹنے سے مرا ہو۔ والموقوذۃ اور چوٹ کھا کر مرا ہوا جانور۔ وَقذٌ : سخت چوٹ۔ اہل جاہلیت جانور کو لاٹھی اور پتھر کی ضرب سے بھی قتل کرتے (اور پھر کھالیتے) تھے۔ والمتردیۃ اور اوپر سے نیچے گر کر مرنے والا جانور ‘ اوپر سے لڑھک کر نیچے گر کر مرا ہوا یا کنوئیں میں گر کر ‘ ذبح کرنے سے پہلے مرگیا ہو۔ والنطیحۃ اور ٹکر سے مرا ہوا جانور جیسے جانور باہم ٹکراتے (یعنی لڑتے ‘ 12) اور ایک دوسرے کو سینگوں سے مارڈالتے ہیں۔ وما اکل السبع اور وہ جانور جس کو درندہ نے کچھ کھا کر باقی حصہ چھوڑ دیا ہو (اور جانور کے پھاڑنے سے ذبح کرنے سے پہلے وہ مرچکا ہو) اس فقرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر شکاری جانوروں نے شکار کا کچھ حصہ کھالیا ہو (اور ذبح کرنے سے پہلے وہ شکار مرگیا) تو وہ حرام ہے اس کو کھانا جائز نہیں۔ الا ما ذکیتم مگر وہ جانور (حلال ہے جس کو مرنے سے پہلے) تم ذبح کر پاؤ۔ تذکِیَۃٌکا لغوی معنی ہے تمام کرنا ذکت النارآگ پوری روشن ہوگئی یہاں ذبح مراد ہے ذبح سے زندگی پوری ہوجاتی ہے۔ صحاح میں ہے ذَکَّیْتُ الشَّاۃ میں نے بکری کو ذبح کردیا۔ تذکیہ کی حقیقت صرف یہ ہے کہ جانور کی طبعی حرارت کو بدن سے نکال دیا جائے لیکن شریعت میں (ہر طریقہ سے ازالۂ حرارت کو تزکیہ نہیں کہا جاتا بلکہ ایک خاص طریقہ سے ابطال حیات کا نام تزکیہ ہے) یعنی بالارادہ اللہ کا نام لے کر حلق ولبہ کو کاٹ کر یا چھید کر ابطال حیات کرنے کا نام شرعاً تزکیہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نوفل بن ورقاء خزاعی کو اونٹ پر سوار کر کے منیٰ کی گھاٹیوں میں (تمام حاجیوں کی تعلیم کے لئے) یہ ندا کرنے کے لئے بھیجا کہ ذکات (ذبح اور نحر) حلق اور لبہ میں ہونا چاہئے۔ رواہ ابن الجوزی من طریق الدارقطنی۔ مسئلہ : درندہ کا زخمی کیا ہوا یا کچھ کھایا ہوا جانور اس وقت حلال ہے جب مرنے سے پہلے اس کو ذبح کرلیا جائے۔ آیت میں یہی مفہوم مراد ہے اگر درندہ کے زخمی کرنے سے شکار کی حالت ذبیحہ جیسی ہوگئی (خواہ مرا نہ ہو) اور اس کو ذبح کرلیا جائے تب بھی وہ مردار کے حکم میں ہے اس کو کھانا حلال نہیں۔ متردیہ ‘ نطیحہ اور موقوذح کا بھی یہی حکم ہے اگر ان کی حالت چوٹ سے ذبیحہ جیسی ہوگئی ہو تو ان کو کھانا حرام ہے خواہ مرنے سے پہلے اس کو ذبح کرلیا گیا ہو۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا الا ما ذکیتم میں استثناء صرف درندہ کے کھائے ہوئے جانور سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ چند معطوفات کے بعد اگر استثناء آئے تو اس کا تعلق آخری معطوف سے ہوتا ہے باقی چاروں یعنی منخنقۃ ‘ موقوذہ ‘ نطیحہ اور متردیہکا استثنائی حکم قیاسی ہے (منصوص نہیں ہے) ما اکل السبع کے استثناء پر قیاس کرنے سے معلوم ہوا ہے سب کے ساتھ استثناء کا تعلق یوں بھی ممکن نہیں کیونکہ منتخنقہتو کہتے ہی اس کو ہیں جو گلا گھونٹنے سے مرگیا ہو اسی طرح متردیہ ‘ موقوذہ اور نطیحہ بھی انہی جانوروں کو کہا جاتا ہے جو گرنے چوٹ کھانے اور ٹکرانے سے مرگئے ہوں اس لئے ان قریب الموت جانوروں کو جو ذبح سے پہلے زندہ تھے یہ الفاظ شامل ہی نہیں ہیں اور شمول نہیں تو استثناء کا بھی ان سے تعلق نہیں ہوسکتا۔ مسئلہذبح کی رگیں چار ہیں۔ حلقوم ‘ یعنی سانس کی نالی۔ مری یعنی غذا کی نالی اور دوا وداج یعنی خون کی نالیاں۔ امام مالک کے نزدیک چار کا کٹنا ضروری ہے ایک قول امام احمد کا بھی اسی طرح آیا ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک صرف حلقوم اور مری کا کٹنا کافی ہے امام احمد کا بھی دوسرا قول یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ‘ تین رگیں کٹنی ضروری ہیں کوئی تین ہوں۔ تعیین نہیں۔ امام ابو یوسف (رح) : کا بھی اوّل قول یہی تھا۔ پھر آپ نے اس قول سے رجوع کرلیا اور حلقوم مری اور ایک ودج کٹنے کو ضروری قرار دیا۔ ایک روایت میں امام محمد (رح) : کا بھی یہی قول منقول ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ امام محمد نے فرمایا چاروں میں سے ہر ایک کا زیادہ حصہ کٹنا لازم ہے۔ ایک روایت میں امام ابوحنیفہ (رح) : کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔ بہرحال امام محمد کے قول کا حاصل یہ ہے کہ چاروں کا کٹنا ضروری ہے مگر اکثر کو کُل کا قائم مقام مان لیا جاتا ہے۔ امام ابو یوسف (رح) کے قول کی وجہ یہ ہے کہ اوداج کے کٹنے سے مقصود ہے خون کا بہانا اور ایک ودج کے کٹنے سے پورا خون بہہ جاتا ہے۔ لہٰذا حلقوم اور مری کے علاوہ ایک ودج کٹنا کافی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ‘ بکثرت مسائل میں اکثر کو کل کا قائم مقام قرار دیا جاتا ہے۔ لہٰذا تین کافی ہیں ‘ اصل مقصد یعنی سیال خون کا بہا دینا اس سے حاصل ہوجاتا ہے۔ مسئلہ : جس آلہ سے سیال خون کا بہاؤ اور رگوں کا کٹنا ممکن ہو ذبح کے لئے وہ کافی ہے شیشہ ہو یا دھار دار پتھر یا کھپاچ ہو مگر دھار دار ہو۔ دانت ‘ ناخن اور سینگ بھی آلۂ ذبح ہوسکتا ہے بشرطیکہ وہ جسم سے الگ کرلیا گیا ہو (جب تک دانت اور ناخن ذبح کرنے والے کے جسم کا جز ہیں ان سے ذبح کرنا ناجائز ہے سب اکھڑ کر الگ ہوجائیں تو ان کو آلۂ ذبح قرار دیا جاسکتا ہے) مگر دھار دار ہونا ضروری ہے اور یہ مکروہ ہے امام اعظم کا یہی قول ہے۔ باقی تینوں اماموں کے نزدیک دانت ناخن اور سینگ سے ذبح ناجائز ہے ایسا ذبیحہ مردار ہوگا کذا فی الہدایہ۔ حضرت رافع بن خدیج کا بیان ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کل کو ہمارا مقابلہ دشمن سے ہوگا اور جانو رکو ذبح کرنے کے لئے ہمارے پاس چھیریاں نہیں ہیں کیا ہم کھپاچ سے ذبح کرسکتے ہیں فرمایا جو آلہ (اپنی دھار سے کاٹ کر) خون بہا دے اور (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لے لیا گیا ہو۔ تم ایسا ذبیحہ کھا سکتے ہو مگر آلۂ ذبح دانت اور ناخن نہیں ہونا چاہئے میں تم سے اس کی وجہ بیان کرتا ہوں دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ (بخاری و مسلم) حضرت کعب بن مالک (رح) کا بیان ہے ہماری بکریاں سلع میں چرتی تھیں ایک روزہ ہماری باندی نے ایک بکری کو مرتے دیکھ کر فوراً ایک پتھر توڑ کر اس کی دھار سے بکری کو ذبح کردیا میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا فرمایا کھالو۔ رواہ البخاری۔ حضرت عدی بن حاتم کا بیان ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر کسی کو شکار مل جائے اور چھری موجود نہ ہو تو کیا دھار دار پتھر یا لاٹھی کی شگافتہ کھپاچ سے ذبح کرسکتا ہے فرمایا خون بہا دو جس آلہ سے ہو سکے اور (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لے لو۔ رواہ ابو داؤد والنسائی۔ عطاء بن یسار نے قبیلۂ بنی حارثہ کے ایک شخص کا بیان نقل کیا جو کوہ احد کی کسی گھاٹی میں اپنی اونٹنیاں چرا رہا تھا۔ اتفاق سے ایک اونٹنی مرنے لگی اور (چھری وغیرہ) کوئی چیز تھی نہیں کہ اونٹنی کو نحر کرسکے مجبوراً اس نے ایک میخ لے کر اس کی نوک سے اونٹنی کے لبہ میں شگاف کردیا اس طرح اونٹنی کا خون بہ گیا پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کردیا حضور ﷺ نے اس کو ذبیحہ کر کے کھانے کی اجازت دے دی۔ رواہ ابو داؤد ومالک دوسری روایت میں میخ کی جگہ شظاظ کا لفظ آیا ہے (شظاظ اس دھار دار لکڑی کو کہتے ہیں جو اونٹ پر لدی ہوئی دو خورجینوں کے درمیان باندھ دی جاتی ہے تاکہ دونوں طرف دونوں خورجین ایک ہی لکڑی سے بندھ کر آویزاں ہوجائیں) امام ابوحنیفہ (رح) نے اپنے قول کے ثبوت میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان ما انہر فکل کے عموم کو پیش کیا ہے۔ لفظ ما عام ہے ناخن اور دانت کو بھی شامل ہے دوسرے فقرہ میں حضور ﷺ نے فرمایا اہرق الدم بما شئت اس میں بھی ما کا لفظ عام ہے۔ تینوں ائمہ نے حضور ﷺ کے فرمان لیس السن والظفر سے دانت اور ناخن سے ذبح جائز نہ ہونے پر استدلال کیا ہے مگر امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا اس سے مراد وہ دانت اور ناخن ہیں جو جسم سے اکھڑے ہوئے نہ ہوں کیونکہ حبشی اپنے پنجوں سے ذبح کرتے تھے (اور ممانعت کی علت میں حضور ﷺ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ حبشیوں کی چھریاں ہیں) استثناء میں بظاہر دانت سے مراد وہی دانت ہے جس میں تیزی اور دھار نہ ہو۔ دیکھو حضور ﷺ نے (اسی لئے) دانت کو ہڈی فرمایا۔ بہرحال اگر دانت اور ناخن جسم سے اکھڑا ہوا نہ ہو تو بالاجماع اس سے ذبح کرنا ناجائز ہے کیونکہ (اس وقت ذبیحہ کا قتل آلہ کے بوجھ کے سبب ہوگا اور ایسا ذبیحہ منخنقہ کے حکم میں ہوجائے گا۔ مسئلہ : ذبح سے پہلے چھری کو تیز کرلینا مستحب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ نے ہر چیز میں حسن کار کو لازم کردیا ہے اس لئے اگر قتل کرو تو برے طریقہ سے قتل نہ کرو اور ذبح کرو تو ذبح کرنے میں بھی خوبی کو اختیار کرو۔ چھری کو تیز کرلیا جائے اور ذبیحہ کو دکھ کم پہنچایا جائے۔ رواہ مسلم عن شداد بن اوس۔ مسئلہ : اگر اڑتے پرندے کے تیر مارا اور تیر لگ گیا اور پرندہ زمین پر گر کر مرگیا تو حلال ہے کیونکہ زمین پر تو اس کو گرنا ہی تھا لیکن اگر پانی میں گرایا پہاڑ یا درخت پر گر کر وہاں سے لڑھک کر مرگیا تو اس کو کھانا ناجائز ہے۔ وہ متردیہ کے حکم میں آگیا۔ ہاں اگر تیر پرندہ کے اسی مقام پر لگا جس جگہ ذبح کیا جاتا ہے تو جہاں بھی گرے حلال ہے کیونکہ تیر سے اس کا ذبح ہوچکا۔ وما ذبح علی النصب اور جس جانور کو تھانوں میں ذبح کیا گیا ہو۔ نصب جمع ‘ نصاب ‘ واحد جیسے کتب اور کتاب بعض کے نزدیک نصب مفرد ہے اس کی جمع انصاب آتی ہے جیسے عنق کی جمع اعناق ہے۔ مجاہد و قتادہ نے کہا کہ کعبہ کے آس پاس 360 پتھر نصب تھے جن کی پوجا ہوتی تھی۔ اہل جاہلیت ان کی تعظیم کرتے اور وہاں جانوروں کی بھینٹ کرتے تھے یہ بت نہ تھے بتوں کی تو مورتیاں صورتیں ہوتی ہیں۔ دوسرے لوگوں نے کہا یہ مورتیاں ہی تھیں۔ قطرب نے کہا عَلَی النصب میں علی بمعنی لام ہے یعنی جو جانور استھانوں کے لئے ذبح کئے گئے ہوں وہ حرام کردیئے گئے ہیں۔ ابن زید نے کہا مَا اُہِلَّ لغَیَرِ اللّٰہِ بِہٖاور ماذبح عَلَی النُّصُبِسے مراد ایک ہی ہے۔ میں کہتا ہوں عطف تغایر کو چاہتا ہے صحیح مجاہد و قتادہ کا قول ہی ہے کہ کعبہ کے گرداگرد کچھ پتھر نصب تھے۔ اہل جاہلیت ان پر ذبح کرتے اور اس کو عبادت سمجھتے تھے۔ وان تقستسموا بالازلام اور جوئے کے تیروں سے تمہارا فال نکالنا بھی حرام کردیا گیا ہے۔ استسقام اپنا نصیب پہنچانے کی طلب۔ الازلامجمع زَلَمْکی اور زلم واحد جوئے کے چھوٹے تیر جن میں نہ پر ہوتے تھے نہ پھل۔ ازلام سات تھے جو کعبہ کے مجاور کے پاس رہتے تھے یہ شوحط لکڑی کے بنے ہوتے تھے ایک پر لکھا ہوتا تھا ہاں۔ ” ٹھیک ہے “۔ دوسرے پر لکھا ہوتا ” نہیں “۔ ایک پر لکھا ہوتا تم سے۔ دوسرے پر ہوتا تمہارے علاوہ دوسروں سے ایک پر ہوتا چسپاں۔ دوسرے پر عقل اور ایک خالی ہوتا اس پر کچھ لکھا نہیں ہوتا۔ جب لوگ کسی کام کا ارادہ کرتے مثلاً سفر کا یا نکاح کا یا دامادی کا یا نسب یا دیت میں اختلاف ہوتا تو ہبل کے پاس جاتے ہبل قریش کا سب سے بڑا بت تھا۔ ہبل کے پاس پہنچ کر مجاور کو سو درہم دیتے اور وہ ترکش کو گھما کر تیر نکالتا اگر ہاں نکل آتا تو اس کام کو کرتے اگر نہیں نکلتا تو سال بھر تک وہ کام نہیں کرتے اور اگر تحقیق نسب کے لئے فال نکالتے اور تم میں سے۔ نکل آتا تو اس کو اپنے قبیلہ کا ایک شریف النسب فرد قرار دیتے اور اگر تمہارے غیر میں سے لکھا ہوتا تو اس کو اپنا معاہد دوست قرار دیتے اور اگر چسپاں کا لفظ نکلتا تو ایسے آدمی کو نہ نسبی شریک مانا جاتا نہ معاہد دوست اور اگر دیت کے متعلق اختلاف ہوتا اور فال نکالتے اور العقل نکل آتا تو دیت کا بار برداشت کرلیتے اور اگر بےنشان تیر نکلتا تو دوبارہ فال نکالتے یہاں تک کہ کچھ نہ کچھ لکھا ہوا تیر نکل آتا اور اس کے موافق عمل کرتے۔ اللہ نے اس کی ممانعت فرما دی۔ ذلکم فسق یہ سب گناہ ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : ازلام کچھ سفید سنگریزے ہوتے تھے جو مارا کرتے تھے۔ مجاہد نے کہا اہل فارس اور روم کی جوئے کی گوٹیں ہوتی ہیں جن سے جوا کھیلتے تھے سفیان بن وکیع نے شطرنج کے لفظ سے تشریح کی ہے۔ شعبی وغیرہ نے کہا عرب کے لئے ازلام اور عجم کے لئے گوٹیں (دونوں کا ایک حکم ہے) میں کہتا ہوں اس طریقہ سے علم غیب حاصل کرنے کی جو چیزیں ہوں سب ازلام میں داخل ہیں جیسے اہل علم کے پانسے ‘ فالنامے اور وہ تمام بازیاں (خواہ کرسی پر بیٹھ کر کھیلے ‘ گراؤنڈ میں کھیلے ‘ کمپیوٹر پر کھیلے ‘ انٹر نیٹ پہ ہو ‘ وغیرہ ‘ 12) جن میں جوا کھیلا جاتا ہے۔ سب کا اندراج استقسام کے ذیل میں ہے۔ حضرت ابو درداء ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کاہن سے خبر طلب کی یا نصیب معلوم کرنا چاہا یا سفر سے رک جانے کا شگون لیا وہ قیامت کے جنت کے اونچے درجات کی طرف بھی نہیں دیکھے گا۔ رواہ البغوی عن قبیصۃ۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پرندوں کے ناموں سے آوازوں سے اور گزرنے سے فال حاصل کرنا اور شگون لینا اور کنکریاں مارنا (یعنی ہار جیت یا کرنے نہ کرنے کا حکم معلوم کرنا) کفر سے ہے۔ رواہ ابو داؤد بسند صحیح۔ الیوم یئس الذین کفروا من دینکم اب کافر تمہارے دین (پر غالب آنے) سے ناامید ہوگئے الیوم سے مراد آج کا دن نہیں بلکہ وقت حاضر اور اس کے بعد آنے والے متصل زمانے سب اس میں شامل ہیں۔ بعض نے کہا نزول آیت کا دن مراد ہے۔ دین کی طرف سے کافروں کی ناامیدی کا یہ معنی ہے کہ دین اور اہل دین کے مغلوب ہونے اور دین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے مرتد ہونے سے کافر مایوس ہوگئے۔ فلا تخشوہم پس تم کافروں سے نہ ڈرو۔ یعنی یہ اندیشہ نہ کرو کہ کافر تم پر غالب آجائیں گے یا تمہارے دین کو برباد کرسکیں گے۔ واخشون اور مجھ سے ڈرو یعنی صرف مجھ ہی سے ڈرو۔ الیوم اکملت لکم دینکم اب میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا۔ یعنی اصول عقائد کی صراحت کردی فرائض واجبات ‘ سنن ‘ مستحبات ‘ حلال ‘ حرام ‘ مکروہات ‘ مفسدات ‘ مشروعات جیسے مفسد صوم و صلوٰۃ و بیع وغیرہ اور غیر منصوص میں اجتہاد کے قوانین ہر چیز سے واقف کردیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تکمیل دین سے مراد ہو رسول اللہ ﷺ کو قرب کے اس مرتبہ پر پہنچا دینا جو تمام اگلے پچھلے باکمال انسانوں کے لئے قابل رشک ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے مرتبۂ محبوبیت پر فائز ہونے کی وجہ سے ہی اللہ نے آپ کی امت کے تمام گناہ معاف فرما دئیے خواہ اللہ کے حقوق سے تعلق رکھتے یا بندوں کے حقوق سے ‘ حد یہ کہ آپس کی خون ریزیاں اور مظالم بھی معاف کردیئے گئے۔ حضرت عباس ؓ بن مرداس کی روایت ہے کہ عرفہ کی شام کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے گناہ بخشنے کے لئے دعا کی جو قبول کرلی گئی اور فرمایا گیا کہ میں نے سوائے باہمی مظالم کے ان کے گناہ معاف کر دئیے مظلوم کا بدلہ ظالم سے ضرور لوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا میرے رب اگر تو چاہے تو مظلوم کی مظلومیت کے بدلہ میں جنت کا کوئی حصہ اس کو دے دے اور ظالم کو معاف کر دے۔ شام کو یہ التجا قبول نہیں ہوئی۔ صبح کو مزدلفہ میں رسول اللہ ﷺ نے پھر گزشتہ دعا کا اعادہ کیا اس وقت درخواست قبول کرلی گئی اور حضور ہنس دیئے یا مسکرا دیئے۔ حضرت ابوبکر ؓ و عمر ؓ نے عرض کیا۔ اللہ آپ کو ہنساتا رکھے ‘ آپ ایسے وقت تو ہنستے نہ تھے۔ آج ہنسنے کا کیا باعث ہے ‘ فرمایا اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی اور میری امت کو بخش دیا تو سر پر خاک ڈالنے اور واویلا مچانے لگا مجھے اس کا یہ اضطراب دیکھ کر ہنسی آگئی۔ رواہ ابن ماجۃ والبیہقی فی کتاب البعث۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس آیت کے بعد حلال ‘ حرام ‘ فرائض ‘ سنن ‘ حدود اور احکام میں سے کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ اگر شبہ کیا جائے کہ حضرت ابن عباس ؓ ہی کی روایت میں آیا ہے کہ اس کے بعد آیت ربوا کا نزول ہوا۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ اگر اس روایت کی صحت ثابت ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حرمت سود کا حکم اگرچہ اس آیت کے نزول سے پہلے آچکا تھا مگر سورة بقرہ کی آخر کی آیات اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرَّبٰوا لاَ یَقُوْمُوْنَ ۔۔ یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوا الخ اس آیت کے نزول کے بعد نازل ہوئیں۔ حضرت جابر ؓ کی روایت سے حجۃ الوداع کے قصہ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان آیا ہے کہ جاہلیت کا سود ساقط کیا جاتا ہے اور اپنے سودوں میں سے سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود ساقط کرتا ہوں وہ سارا سود چھوڑ دیا گیا۔ سعید بن جبیر ؓ نے آیت مذکورہ کی تشریح اس طرح کی کہ میں نے اب تمہارا دین کامل کردیا اب کسی مشرک نے تمہارے ساتھ حج نہیں کیا۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ تمام مذاہب پر تمہارے دین کو میں نے غالب کردیا اور دشمنوں سے تم کو بےخوف کردیا۔ فائدہ : حجۃ الوداع میں بمقام عرفہ جمعہ کے دن عصر کے بعد یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ اس وقت عرفہ میں اپنی اونٹنی عضباء پر کھڑے تھے کہ وحی کے بار سے اونٹنی کے بازو ٹوٹنے لگے اور یہ آیت نازل ہوئی۔ شیخین نے صحیحین میں بیان کیا ہے کہ ایک یہودی نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا امیر المؤمنین ! ایک آیت آپ لوگوں کی کتاب میں ہے جو آپ پڑھتے ہیں اگر ہم یہودیوں پر وہ اترتی تو ہم اس کے یوم نزول کو روز عید بنا لیتے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا وہ کون سی آیت ہے یہودی نے کہا الیوم اکملت لکم دینکم الخحضرت عمر ؓ نے فرمایا ہم کو دن اور وہ مقام معلوم ہے جس میں یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی۔ عرفہ میں جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے کہ یہ آیت اتری۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے اس کلام سے اس طرف اشارہ کیا کہ آیت کے نزول کے دن ہماری دوہری عید ہوگئی جمعہ کا دن اور قیام عرفہ کا دن۔ بغوی نے بیان کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ اس کو سن کر رو دئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمر ؓ کیوں روتے ہوئے عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے یہ بات رو لا رہی ہے کہ اب تک تو ہمارا دین ترقی پذیر تھا اور اب کامل ہوگیا تو کمال کے بعد آئندہ نقصان (کے احتمال) کے سوا اور کچھ باقی نہیں رہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ آیت رسول اللہ ﷺ : کی وفات کی اطلاع تھی چناچہ اس کے نزول کے بعد حضور صرف 81 دن زندہ رہے اور 3 ربیع الاوّل 11 ھ ؁ کو پیر کے دن زوال کے بعد آپ کی وفات ہوگئی اور ہجرت کی تاریخ 12 ربیع الاول تھی۔ واتممت علیکم نعمتی اور میں نے اپنا انعام تم پر پورا کردیا۔ یعنی تم سے جو بطور وعدہ کے کہا تھا ولاتم نعمتی علیکم اس وعدہ کو پورا کردیا۔ تکمیل انعام کی صورتیں یہ ہوئیں کہ پوری ہدایت کردی دین کو کامل کردیا توفیق بھی عطا کردی فتح مکہ بھی عنایت کردی جاہلیت کے نشان گرا دیئے یہاں تک کہ تنہا مسلمانوں نے اطمینان کے ساتھ حج بھی کرلیا ‘ اور اس حج میں کوئی مشرک شریک نہ ہوسکا۔ ورضیت لکم الاسلام دینا اور (تمام مذاہب میں) اسلام کو تمہارا دین ہونے کے لئے انتخاب کرلیا ‘ اللہ کے نزدیک صرف یہی دین صحیح ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے بیان کیا میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے (مجھ سے) اللہ کا قول نقل کیا یہ دین ہے جس کو میں نے اپنے (یعنی اپنی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے) انتخاب کیا ہے اس دین کی درستی صرف سخاوت اور حسن اخلاق سے ہوگی لہٰذا جب تک تم اس دین کے رفیق ہو سخاوت اور حسن اخلاق سے اس کو عزت دو ۔ واللہ اعلم۔ فمن اضطر فی مخمصۃ غیر متجانف لاثم پس جو شخص شدت کی بھوک میں بےتاب ہوجائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو۔ اس آیت کا تعلق مذکورہ ممنوعات سے ہے بیچ میں ایسے امور کا تذکرہ آگیا تھا جو ممنوعات سے اجتناب کے مقتضی ہیں یعنی دین کی تعظیم اور دین کی تکمیل کا مسلمانوں پر احسان اور امور ممنوعہ کے ارتکاب کا فسق ہونا۔ مخمصۃ غذا سے پیٹ کا خالی ہونا۔ رَجُلٌ خَمِیْصُ الْبَطْنِبھوکے کو کہتے ہیں متجانف بمعنی مائل۔ لاثم میں لام بعمنی الیٰ ہے۔ یعنی جو شخص انتہائی بھوک کی حالت میں مذکورہ ممنوعات میں سے کسی کو کھانے کے لئے بےتاب ہوجائے بشرطیکہ لذت اندوزی کے لئے نہ کھائے اور نہ حد جواز سے آگے بڑھے۔ اگر وہ ایسی حالت میں کھالے گا۔ فان اللہ غفور رحیم تو اللہ غفور رحیم ہے اپنی رحمت سے معاف کر دے گا۔ سورة بقرہ میں یہ مسئلہ اور اس کے متعلقات کا بیان کیا جا چکا ہے۔ بغوی نے ابو واقد لیثی کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم (کبھی) ایسی سرزمین میں ہوتے ہیں جہاں ہم کو بھوک لگتی ہے (اور کھانے کو کچھ ملتا نہیں) ہمارے لئے مردار کب حلال ہوجائے گا فرمایا جب صبح کو تم کچھ نہ پی سکو نہ پچھلے دن میں کچھ پی سکو نہ زمین سے کچھ سبزی اکھاڑ کر کھا سکو اس وقت تم جانور اور مردار کو کھا سکتے ہو۔ واللہ اعلم۔ طبرانی ‘ حاکم اور بیہقی وغیرہ نے حضرت ابو رافع کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک بار حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور داخل ہونے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دے دی لیکن جبرئیل ( علیہ السلام) نے داخل ہونے میں تاخیر کی تو حضور خود اپنی چادر لے کر (یعنی اوڑھ کر) باہر تشریف لے آئے دیکھا دروازہ پر حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) موجود ہیں فرمایا ہم نے تو آپ کو داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا بیشک لیکن ہم اس گھر میں نہیں جاتے جہاں کوئی تصویر یا کتا ہو لوگوں نے دیکھا تو ایک کوٹھری میں کتے کا بچہ موجود تھا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے ابو رافع کو حکم دیا کہ مدینہ میں کسی کتے کو زندہ نہ چھوڑیں سب کو قتل کردیں ‘ اس پر کچھ لوگ حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اس امت (نوع حیوانی) میں سے ہمارے لئے کیا حلال ہے۔ جس کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔