Explained with ayahs 94–95
احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑ لے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہوسکتا ہو خواہ سختی سے۔ چناچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہوجائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 110
شکار خواہ آدمی خود کرے، یا کسی دوسرے کو شکار میں کسی طور پر مدد دے، دونوں باتیں حالت احرام میں منع ہیں۔ نیز اگر محرم کی خاطر شکار مارا گیا ہو تب بھی اس کا کھانا محرم کے لیے جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے اپنے لیے خود شکار کیا ہو اور پھر وہ اس میں سے محرم کو بھی تحفۃً کچھ دیدے تو اس کے کھانے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اس حکم عام سے موذی جانور مستثنیٰ ہیں۔ سانپ، بچھو، باؤلا کتا اور ایسے دوسرے جانور جو انسان کو نقصان پہنچانے والے ہیں، حالت احرام میں مارے جاسکتے ہیں۔
سورة الْمَآىِٕدَة 111
ان امور کا فیصلہ بھی دو عادل آدمی ہی کریں گے کہ کس جانور کے مارنے پر آدمی کتنے مسکینوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
ربط آیات
لباب میں مسند احمد سے بروایت ابی ہریرہ ؓ منقول ہے کہ جب اوپر کی آیت میں تحریم خمرو میسر نازل ہوچکی تو بعض لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ بہت سے آدمی جو کہ شراب پیتے تھے اور قمار کا مال کھاتے تھے تحریم سے پہلے مر گئے، اور اب معلوم ہوا کہ وہ حرام ہے ان کا کیا حال ہوگا، اس پر آیت ليْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الخ نازل ہوئی۔
اور پیچھے (آیت) یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت میں تحریم طیبات کی ممانعت کا ذکر تھا، اب آیت يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْء الخ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ خاص حالات میں خاص خاص چیزوں کو حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
تفسیر آیات 94 تا 96:۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْم یاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭ وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَــزَاۗءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ ۭعَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ۭ…
Read the full tafseer →95۔ 1 امام شافعی نے اس سے مراد، صرف ان جانوروں کا قتل لیا ہے جو ماکول اللحم ہیں یعنی جو کھانے کے کام آتے ہیں۔ دوسرے برے جانوروں کا قتل وہ جائز قرار دیتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر علماء کے نزدیک اس میں کوئی تفریق نہیں۔ البتہ ان موذی جانوروں کا قتل جائز ہے جن کا ذکر احادیث میں آیا ہے اور وہ پانچ ہیں کوا، چیل، بچھو، چوہا اور باؤلا کتا (صحیح مسلم) حضرت نافع سے سانپ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس کے قتل میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں ہے۔ (ابن کثیر) اور امام احمد اور امام مالک اور دیگر علماء نے بھیڑیئے، درندے، چیتے اور شیر کو کلب عقور میں شامل کر کے حالت احرام میں ان کے قتل کی بھی اجازت دی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
66: اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں شکار کرنے کا گناہ کرلے تو اس کا کفارہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس جانور کا شکار کیا ہے اگر وہ جانور حلال ہو تو اسی علاقے کے دو تجربہ کار دین دار آدمیوں سے اس جانور کی قیمت لگائی جائے، پھر چوپایوں یعنی گائے بیل بکری وغیرہ میں سے اس قیمت کے کسی جانور کی قربانی حرم میں کردی جائے یا اس کی قیمت فقراء میں تقسم کردی جائے، اور اگر کسی ایسے جانور کا شکار کیا تھا جو حلال نہیں ہے مثلاً بھیڑیا تو اس کی قیمت ایک بکری سے زیادہ نہیں سمجھی جائے گی، اور اگر کسی شخص کو مالی اعتبار سے قربانی دینے یا قیمت فقراء میں تقسیم کرنے کی گنجائش نہ ہو تو وہ روزے…
Read the full tafseer →(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَقْتُلُواْ الصَّیْْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ وَمَن قَتَلَہُ مِنکُم مُّتَعَمِّداً فَجَزَاء مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنکُمْ ہَدْیْاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْنَ أَو عَدْلُ ذَلِکَ صِیَاماً لِّیَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِہِ عَفَا اللّہُ عَمَّا سَلَف وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللّہُ مِنْہُ وَاللّہُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ (95)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ احرام کی حالت میں شکار نہ مارو ‘ اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اسی کے ہم پلہ ایک جانور اسے مویشیوں…
Read the full tafseer →4 اس کے متعلق بعض احکام سورة مائدہ کے شروع میں میں گزر چکے۔
5 جان کر مارنے کا یہ مطلب ہے کہ اپنا محرم ہونا یاد ہو اور یہ بھی مستحضر ہو کہ حالت احرام میں شکار جائز نہیں۔ یہاں صرف " متعمد " کا حکم بیان فرمایا کہ اس کے فعل کی جزا یہ ہے اور خدا جو انتقام لے گا وہ الگ رہا جیسا کہ ومن عاد فینتقم اللہ منہ سے تنبیہ فرمائی۔ اور اگر بھول کر شکار کیا تو جزاء تو یہ ہی رہے گی یعنی " ہدی " یا " طعام " یا " صیام " البتہ خدا اس سے انتقامی سزا اٹھا لے گا۔
6 حنفیہ کے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اگر احرام میں شکار پکڑا تو فرض ہے کہ چھوڑ دے۔ اگر مار دیا تو صاحب بصیرت اور تجربہ کار معتبر آدمیوں سے اس جانور کی قیمت لگوائی…
Read the full tafseer →آیت 95 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ط وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ
کفارے کے طور پر اللہ کی راہ میں ویسا ہی ایک چوپایہ صدقہ کیا جائے گا۔ یعنی اگر آپ نے ہرن مارا تو بکری یا بھیڑ دی جائے گی اور اگر نیل گائے مار دی تو پھر گائے بطور کفارہ دینا ہوگی۔ اس طرح جس قسم اور جس جسامت کا حیوان شکار کیا گیا ہے ‘ اس کے برابر کا چوپایہ صدقہ کرنا ہوگا۔
یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ
یعنی دو متقی اور معتبر اشخاص اس کی گواہی دیں کہ یہ جانور اس شکار کیے جانے والے جانور کے برابر ہے۔
ہَدْیًام بٰلِغَ…
Read the full tafseer →142 شکار کرنے کا کفارہ :۔ یعنی دو معتبر اور منصف مزاج یہ فیصلہ کریں گے کہ کونسا جانور اس شکار کردہ جانور کے بدلہ میں اسی کی جنس سے اور اسی کی قیمت کے برابر ہے۔ یہ جانور کعبہ لے جا کر ذبح کیا جائے گا اور کفارہ دینے والا خود اس سے کچھ نہیں کھا سکتا اور اگر ایسا جانور میسر نہیں آتا تو دو عادل یہ فیصلہ کریں گے کہ شکار کردہ جانور کی قیمت کیا ہے اس قیمت کا غلہ لے کر یا مسکینوں کو کھانا کھلا دیا جائے یا وہ غلہ ان میں تقسیم کردیا جائے نیز یہ فیصلہ بھی انہیں پر منحصر ہوگا کہ اتنے غلہ سے کتنے مسکینوں کو روزہ رکھایا جاسکتا ہے یا ایک مسکین کو کتنے روزے رکھائے جاسکتے ہیں۔ دانستہ شکار کرنے والا کفارہ کے…
Read the full tafseer →296 ۔ (اور یا تم خود تو حالت احرام سے باہر ہو لیکن وہ شکار حدود حرم کے اندر ہو) یہ عام ممانعت خشکی اور تری کے ان جانوروں کے حق میں نہیں جن کے قتل یا شکار کا جواز قرآن مجید ہی کی کسی دوسری آیت یا حدیث صحیح سے ثابت ہوگیا ہے۔ مثلا دریائی جانور یا سانپ بچھو، بھیڑیا، کاٹنے والا کتا وغیرہا، قدروی ابن عباس وابن عمر وابو سعید وعائشۃ عن النبی ﷺ قال خمس یقتلھن المحرم فی الحل والحرم الحیۃ والعقرب والغراب والفارۃ والکلب العقور (جصاص) واما ماکان من السباع لا یعدو (جصاص) (آیت) ” لاتقتلوا “۔ قتل کے معنی اردو میں اہلاک کی ایک بالکل خاص صورت کے ساتھ محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ عربی کے قتل کے مفہوم میں یہ تنگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت نمبر 94 تا 100
ترجمہ : اے ایمان والو ! الہ تعالیٰ تم کو ایک چیز سے ضرور آزمائیگا جس کو وہ تمہارے لئے بھیجے گا، اور وہ چھوٹا شکار ہے، جس تک تمہاری رسائی ہوگی اور ان میں سے بڑے (شکار) تمہارے نیزوں کی زد میں ہوں گے، اور ایسا حدیبیہ کے مقام پر ہوا حال یہ ہے کہ وہ حالت احرام میں تھے، وحشی جانور اور پرندے ان کے خیموں میں ان کے پاس بکثرت آتے تھے تاکہ اللہ علم ظہور کے اعتبار سے یہ دیکھے کہ کون اس سے غائبانہ طور پر ڈرتا ہے (بالغیب) یخافہ کی ضمیر سے حال ہے کہ وہ اس کو بغیر دیکھے اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ شکار سے اجتناب کرتا ہے پھر جس نے اس کی (یعنی) شکار کی ممانعت کے بعد حد سے تجاوز…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا لا تقتلوا الصید وانتم حرم اے مسلمانو ! بحالت احرام شکار کو نہ مارو۔ یعنی اس حیوان کو قتل نہ کرو جو اصل خلقت کے لحاظ سے جنگلی اور محفوظ القتل ہو۔ خواہ اس کا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو۔ کذا فی القاموس۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے صید کی یہی تعریف کی ہے اور یہی مراد لی ہے۔ لیکن ان جانوروں کو حکم سے الگ قرار دیا ہے جن کے قتل کا جواز احادیث میں آگیا ہے یعنی سانپ ‘ بچھو ‘ چوہا ‘ چیل ‘ کوا اور لاگو درندہ ‘ جو لاگو نہ ہو اس کو قتل کرنا جائز نہیں۔ اسی بناء پر کتے کو خصوصاً کٹ کھنے کتے کو قتل کرنا جائز قرار دیا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ ہر کتا شکار ہے (یعنی اصل خلقت کے اعتبار سے جنگلی…
Read the full tafseer →(95) ابوالیسر بن عمرو کو احرام یاد نہیں رہا اور انہوں نے جان کر شکار کو قتل کردیا تو اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس پر اس شکار کی (سزا) ہوگی، جس کی قیمت کا تخمینہ تم میں سے دو آدمی کریں گے، اب اسے اختیار ہے کہ اس قیمت کا کوئی جانور خرید کر بیت اللہ روانہ کردے یا ان روپوں کے بقدر غلہ خرید کر مساکین مکہ مکرمہ پر خیرات کرے اور اگر اس غلہ وغیرہ خیرات کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو تو فی حصہ ایک مسکین ایک روزہ یعنی نصف صاع (234 تولے کا ایک وزن) کے عوض ایک روزہ رکھ لے (جیسا کہ صدقہ فطر کی شرائط ہیں) یہ اس کے فعل کی سزا اور جو شخص اس حکم اور اس سزا کے بعد پھر ایسا کرے گا تو اسے چھوڑ دیا جائے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭ : محرم نہ شکار کرے نہ شکار میں کسی طرح مدد کرے، فرمایا : (وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ) [ المائدۃ : 2 ] ”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“ ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”پانچ جانور فاسق ہیں، انھیں حرم میں بھی قتل کیا جاتا ہے، یعنی چوہا، بچھو، چیل، کوا اور کاٹنے والا کتا۔“ [ بخاری، بدء الخلق، باب إذا وقع الذباب أحدکم۔۔ : 3314 ]
اہل علم نے فواسق، یعنی خواہ مخواہ ایذا دینے والے جانوروں میں ”اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ“ شامل ہونے کی بنا پر سانپ، بھیڑیے، چیتے اور شیر وغیرہ کو مارنے کی اجازت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 95
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) یایھا الذین امنوا یہ ہر مسلمان مذکر اور مونث کو خطاب ہے یہ نہی آزمائش ہے جس کا ذکر (آیت) یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید میں ہے۔
روایت ہے کہ ابو الیسر، ان کا نام عمرو بن مالک انصاری تھا۔ حدیبیہ کے سال انہوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور انہوں نے جنگلی گدھا شکار کیا تو اس میں یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) لاتقتلوا الصید وانتم حرم۔
مسئلہ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) لاتقتلوا الصیدقتل سے مراد ہر وہ فعل ہے جو روح کو فوت کردے اس کی کئی صورتیں ہیں نحر کرنا، ذبح کرنا، گلہ دبادینا، پتھر سے سر کچل دیناوغیرہ اللہ تعالیٰ نے محرم…
Read the full tafseer →حالت احرام میں شکار کرنا حرام ہے
(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لاتقتلوا الصید اونتم حرم محرم کو اس آیت میں اس کے قتل سے اور اس کے کھانے سے روک دیا گیا۔
(2) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا تقتلوا الصید وانتم حرم (یعنی) یہاں اس کا شکار اور اس کا کھانا حرام کردیا گیا۔
(3) امام ابن منذر، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن قتلہ منکم متعمدا یعنی اگر اس نے شکار کو جان بوجھ کر یا بھول کر یا غلطی سے قتل کیا تو اس پر حکم لگایا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَقْتُلُوا [ تم لوگ قتل مت کرو ] الصَّيْدَ [ شکار کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] حُرُمٌ ۭ [ احرام میں ہو ] وَمَنْ [ اور جو ] قَتَلَهٗ [ قتل کرے گا اس کو ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] مُّتَعَمِّدًا [ جانتے بوجھتے ہوئے ] فَجَــزَاۗءٌ [ تو بدلہ (واجب ) ہے ] مِّثْلُ مَا [ اس کے جیسا جو ] قَتَلَ [ اس نے قتل کیا ] مِنَ النَّعَمِ [ مویشی میں سے ] يَحْكُمُ [ فیصلہ کریں ] بِهٖ [ جس کا ] ذَوَا عَدْلٍ [ دوانصاف والے ] مِّنْكُمْ [ تم سے ] هَدْيًۢا [ ہدیہ ہوتے ہوئے ] بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ [ کعبہ کو پہنچنے والا ہوتے ہوئے ] اَوْ […
Read the full tafseer →احرام میں شکار مارنے کی جزا اور ادائیگی کا طریقہ
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا حالت احرام میں (حج کا احرام ہو یا عمرہ کا) خشکی کا کوئی جانور شکار کرے (خواہ اس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو) تو اس کی سزا آیت بالا میں ذکر فرمائی ہے، یاد رہے کہ صید یعنی شکار ان جانوروں کو کہا جاتا ہے جو وحشی ہوں، انسانوں سے مانوس نہ ہوں ان سے دور بھاگتے ہوں جیسے شیر، گیدڑ، ہرن خرگوش، نیل گائے، کبوتر، فاختہ وغیرہ اور جو جانور انسانوں سے مانوس ہیں ان کے پاس رہتے ہیں جیسے گائے اونٹ، بھیڑ بکری مرغی یہ شکار میں داخل نہیں ہیں اور جو وحشی جانور ہوں ان میں سے بعض جانوروں کا مارنا حالت احرام میں بھی جائز ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
حکم ہشدہم متعلق بہ شکار درحالت احرام۔
قال اللہ تعالی، یا ایھالذین آمنو لیبلونکم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔
ربط) ۔ پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے ممانعت فرما کر بعض چیزوں یعنی شراب اور جوئے سے اجتناب کا حکم دیا اور اب اس رکوع میں ان بعض چیزوں کے ارتکاب سے منع فرماتے ہیں جن کی حرمت دائمی نہیں بلکہ بعض احوال کے ساتھ مخصوص ہے جیسے شکار کہ وہ صرف حالت احرام اور حدود حرم کے اندر حرام ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ احرام میں اور حرم کے اندر شکار کو حلال نہ سمجھو اور اس کا ارتکاب نہ کرو شکار کی حرمت سے احرام کا احترام اور حرم محترم اور بیت اللہ کی تعظیم و تکریم مقصود ہے نیز شروع سورت میں بھی احرام…
Read the full tafseer →ف 156:۔ یہ تیسرے مسئلے کا بیان ہے۔ یعنی اللہ کی تحریمات کو قائم رکھو اور ان کو حلال مت سمجھو۔ یہاں احرام کی حالت میں شکار کرنے سے منع فرمایا۔ شکار کرنا اگرچہ حلال ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جو تحلیل و تحریم کا مختار ہے بحالت احرام شکار کو حرام کردیا ہے۔ لہذا اس کے حکم کی تعمیل لازم ہے۔ لَیَبلُوَنَّکُمْ یہ بحالت احرام شکار کرنے کی ممانعت کی تفصیلی علت ہے یعنی اس ممانعت سے اللہ تعالیٰ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کو غیب دان جان کر کون اس سے ڈرتا ہے کہ اللہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور اس کی اطاعت سے ثواب اور اس کی مخالفت سے عذاب ہوگا۔ پہلے اِنَّ اللہَ یَحْکُمُ مَایُرِیْدُ میں اجمالی علت کا بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے طیبات کا ذکر کر کے فرمایا کہ پاک اور حلال چیزوں کو از خود حرام نہ ٹھہرائو اور اس سلسلہ میں قسم بھی اٹھا لی ہے تو اسے توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرو اور حلال چیزوں کو استعمال کرتے رہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے محرمات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ جن چیزوں کو دائمی حرام قرار دیا گیا ہے ان سے اجتناب کرو ، شراب جو ائ ، بت اور جوئے کے تیر گندی چیزیں ہیں۔ یہ سب شیطانی افعال ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو سورة کے ابتدائی حصہ میں بھی محرمات اور محاملات کا ذکر تھا اور گزشتہ دروس میں بھی موضوع سخن یہی رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی ہے کہ حلال چیزوں سے استفادہ حاصل کرتے رہو کیونکہ اسی میں تمہاری…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ 0ۭ وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَــزَاۗءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ ہَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَۃِ اَوْ كَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ 0ۭ عَفَا اللہُ عَمَّا سَلَفَ 0ۭ وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللہُ مِنْہُ 0ۭ وَاللہُ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ 95
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی مسکینوں کے برابر روزے رکھے جتنے مسکین کو اس کی قیمت میں کھانا کھلا سکتا تھا۔ اگر مقدور نہ ہو تو اتنے روزے رکھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ط وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیًام بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِہٖ ط عَفَا اللہ ُ عَمَّا سَلَفَ ط وَمَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللہ ُ مِنْہٗ ط وَ اللہ ُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔ (المائدہ : 95)
” اے ایمان والو ! حالت احرام میں شکار نہ کیجیو اور جو تم میں سے اس کو قصداً مارے گا تو اس کا بدلہ اسی طرح کا جانور ہے ‘ جیسا کہ اس نے مارا ہے ‘ جس کا فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : تقویٰ اور ایمان کا یہ بھی تقاضا ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کرنے سے اجتناب کرو۔
امام ابن ابی حاتم ؓ نے تحریر کیا ہے کہ یہ آیات صلح حدیبیہ کے سال نازل ہوئیں۔ جب مسلمان عمرہ کرنے کی غرض سے مدینہ طیبہ سے نکلے تو چند لوگوں کے سوا سب نے میقات پر پہنچ کر احرام باندھا اس حالت میں مسلمانوں کو شکار کرنے سے منع کیا گیا۔ جبکہ شکار مسلمانوں کے اتنا قریب تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جانوروں کی گردنیں دبوچ سکتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچنے کے بعد جن لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا انھوں نے شکار پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ کی۔ اس حکم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ محرم شخص غیر…
Read the full tafseer →آیت 95: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ اے ایمان والو ! تم شکار کو قتل نہ کرو۔ الصید سے مراد مصید بمعنی شکار کیا ہوا ہے کیونکہ قتل اسی میں ہوسکتا ہے۔ وَاَنْتُمْ حُرُمٌجب کہ تم محرم ہو۔ حرم جمع حرام ہے۔ جیسے رُدُوح جمع رداح ہے۔
نحو : تقتلوا کی ضمیر فاعلی سے انتم حرم حال ہے۔
حرام کی حالت کے شکار میں تعمد و خطا برابر ہے :
وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًایہ ضمیر فاعلی سے حال ہے۔ یعنی ذاکرًا لا حرامہ۔ یا عالمًا۔ اس کو احرام یاد ہو۔ یا وہ جانتا ہو کہ وہ جس جانور کو قتل کر رہا ہے اس کا قتل اس پر حرام ہے اگر اس نے بھول کر قتل کردیا یا اس نے شکار کو تیر مارا اور اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 95
تفسیر : (یایھا الذین امنوا لاتقتلوا الصید وانتم حرم اے ایمان والو ! نہ مارو شکار جس وقت تم ہو احرام میں)
حالت احرام میں شکار کا حکم
یعنی حج یا عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو اور یہ حرام کی جمع ہے۔ یہ ایک شخص ابوالیسر کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے حالت احرام میں ایک نیل گائے کا شکار کیا تھا ( ومن قتلہ منکم متعمدا اور جو کوئی تم میں اس کو مارے جان کر) اس عمد کی مراد میں اختلاف ہے۔
ایک جماعت نے کہا کہ اس سے شکار کے قتل کا ارادہ مراد ہے جب اپنے احرام کی حالت کو بھول گیا ہو لیکن اگر احرام کی حالت یاد ہو اور شکار کرے تو اس پر کوئی حکم نہیں ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(94 ۔ 95) ۔ مقاتل بن حیان نے کہا کہ عمرہ حدیبیہ کے سال احرام کی حالت میں صحابہ کرام ؓ جا رہے تھے اس وقت یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے مقاتل بن حیان اور مقاتل بن سلیمان دو مقاتل ہیں جن علماء نے مقاتل بن حیان کو ضعیف کہا ہے انہوں نے مقاتل بن سلیمان کے شبہ میں کہا ہے ورنہ یحییٰ بن معین ابو داؤد اور بہت سے علماء نے مقاتل بن حیان کی توثیق کی ہے یہ مقاتل بن حیان صحیح مسلم کے راویوں میں ہیں۔ سفر حدیبیہ کے وقت شان نزول اس آیت کی خازن وغیرہ میں ہے 4 ؎۔ حاصل اس شان نزول کی روایت کا یہ ہے کہ اس عمرہ کے سفر میں خلاف عادت امتحان کے طور پر ان صاحب احرام صحابلہ کو بہت سے جنگلی جانور نظر آئے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت 94
اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سر انجام دے گا، تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا : (یایھا الذین امنوا) ” اے ایمان والو ! “ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کا امتحان لے (لیبلونکم اللہ بشیء من الصید) ” البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں “ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے…
Read the full tafseer →قول باری ہے (لاتقتلوا الصید وانتم حرم احرام کی حالت میں شکار نہ مارو) اس کی تفسیر تین طرح سے کی گئی ہے۔ آیت میں ان سب کا احتمال ہے۔
اول یہ کہ تم نے حج یا عمرے کا احرام باندھ رکھا ہو، دوسری یہ کہ اس سے مراد حرام میں دخول ہے جب کوئی انسان حرم میں داخل ہوجائے تو کہا جاتا ہے ” احرم الرجل جس طرح ” انجد الرجل “ یا ” اعرق الرجل “ کا محاورہ ہے یعنی آدمی نجد میں پہنچ گیا یا آدمی عراق میں داخل ہوگیا۔
اسی طرح جب کوئی شخص تہامہ کی سر زمین میں پہنچ جائے تو کہا جاتا ہے ” اتھم الرجل “ تیسری یہ کہ اس سے ماہ حرام میں داخل ہونا مراد ہے۔ جس طرح شاعر کا قول ہے۔
ع قتل الخلیفۃ محرما خلیفہ کو ماہ حرام میں قتل کردیا…
Read the full tafseer →244 حالت احرام میں شکار کی ممانعت : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ایسی حالت میں شکار مت کیا کرو جبکہ تم حالت احرام میں ہوا کرو۔ خواہ وہ احرام حج کا ہو یا عمرے کا۔ کیونکہ احرام انتہائی تذلل اور عاجزی کا مظہر ہے۔ پس ایسی حالت میں شکار کرنا مومن کو زیب نہیں دیتا۔ اور مراد اس شکار سے خشکی کا شکار ہے نہ کہ پانی کا شکار کہ اس کی اجازت ہے جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے۔ بہرکیف { وَاَنْتُم حُرُم } کی اس شرط و قید سے واضح فرما دیا گیا کہ جب تک تم احرام کی حالت میں ہوا کرو شکار مت کیا کرو کہ ایسی صورت میں شکار کرنا ممنوع و محظور ہے۔ اور یہ بات احرام کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ البتہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور کفارہ
تشریح : احرام کی حالت میں شکار کرنا منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح رب العزت انہیں آزمانا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی حکم عدولی کرے گا تو اس پر جرمانہ ہے اور دردناک سزا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص شکار کرے تو کفارہ لازم ہوگا۔ کفارے کی حد کے لیے فرمایا کہ شکار کئے گئے جانور کے برابر جس کا فیصلہ تم میں سے دو آدمی کریں نذر کے طور پر خانہ کعبہ بھیج دیا جائے اور اسی طرح دو آدمیوں کی رائے کے مطابق مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا روزے رکھے جائیں پہلے یعنی اسلام سے پہلے جو کچھ ہوچکا معاف کردیا گیا ہے مگر خبردار کیا جا رہا ہے کہ اس حکم کے آنے کے بعد اگر کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 94 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
در اصل حرام اور حلال مقرر کرنے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کریم کو اس کا اختیار ہے وہ چاہے جس چیز سے منع کردے یہ اس کی شوکت کا اظہار بھی ہے مگر اس نے امت مرحومہ پر صرف وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو یا تو جسمانی لا ظ سے نقصان دہ تھیں یا روحانی اعتبار سے یا پھر دونوں طرح سے بیک وقت نقصان دہ تھیں ورنہ پہلی امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اچھی اور حلال چیزیں بھی بطور سزا حرام کی جاتی رہیں یہاں بھی حرمت کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں مسلمانوں پر اچھی اور مفید چیز بھی حرام کردی جاتی ہے مگر عذاب یا سزا کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اور نہ لمبے عرصے کے…
Read the full tafseer →حدیث میں ہے کہ محرم نہ تو کسی شکاری کی مدد کرے اور نہ اس شکار کا گوشت کھائے جو محر م کے لیے کیا گیا ہو۔ (بخاری مسلم ابوداود) ہاں موذی جانوروں کی حرام کی حالت میں اور حرم کے اندر قتل کرسکتا ہے۔ (بخاری مسلم) یعنی احرام کی حالت میں جیسا شکار مارے اسی کے مطابق نذرانہ سے خواہ وہ شکار بھول کر ہی کیوں نہ مارا ہو۔ حدیث میں ہے جو شخص احرام کی حالت میں شکار مارڈالے اس کے ذمہ ایک مینڈھا کی قربانی ہے ( ابو داود) اس جسے جانور سے مراد یہ ہے کہ تن وتوش میں اسی سے ملتا جلتا ہو جمہور ائمہ کا یہی مسلک ہے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قیمت میں ملتا جلتا مراد ہے۔ ( شوکانی)5 یعنی اس کا بدل تجویز کردیں کہ فلاں جانور…
Read the full tafseer →(5:95) وانتم حرم۔ واؤ حالیہ (درآنحالیکہ) انتم حرم۔ تم حالت احرام میں ہو ۔ تم احرام باندھے ہوئے ہو۔
متعمدا۔ عمدا۔ جان بوجھ کر۔ ارادۃ (باب تفعل)
النعم۔ اسم جنس۔ چوپایہ۔ اونٹ ، بکری۔ گائے۔ بھینس وغیرہ جمع العام ونعمان۔
ذواعدل۔ دو معتبر عادل شخص۔
ھدیا۔ اسم نکرہ منصوب۔ قربانی کا جانور جو ماہ حرم میں حرم کے اندر ذبح ہونے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔
بالغ الکعبۃ۔ بالغ۔ پہنچنے والا۔ بلوغ سے بمعنی پہنچنا۔ کعبہ سے مراد حدود حرم ہے کیونکہ جانور کعبہ میں نہیں ذبح کئے جاتے۔ بالغ الکعبۃ۔ یعنی وہ جانور پھر پہنچ جاوے کعبہ یعنی مکہ معظمہ میں۔
ھدیا بالغ الکعبۃ۔ حال ہے جس کا ذوالحال مثل ما قتل من النعم ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت نمبر 94 تا 96
لغات القرآن : لیبلون (البتہ وہ آزمائے گا) ۔ الصید (شکار) ۔ تنال (پہنچتی ہے۔ پہنچتے ہیں) ۔ رماح (رمح) ۔ نیزے لیعلم (تاکہ وہ جان لے) ۔ من یخاف (کون ڈرتا ہے ؟ ) ۔ لا تقتلوا (تم قتل نہ کرو) ۔ انتم حرم (تم احرام کی حالت میں ہو) ۔ متعمدا (جان بوجھ کر) ۔ لانعم (مویشی۔ جانور) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ ذواعدل (دو انصاف والے) ۔ ھدیا (نیاز۔ منت جو مسجد الحرام بھیجی جائے) ۔ بلغ الکعبۃ (کعبہ تک پہنچنے والا) ۔ عدل (برابر) ۔ لیذوق (تاکہ وہ چکھ لے) ۔ وبال (عذاب۔ سزا) ۔ امرہ (اس کا کام ) ۔ عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا) ۔ سلف (گزر گیا) ۔ عاد (جو پلٹا) ۔ ینتقم (بدلہ لیتا ہے) ۔ عزیز (زبردست ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
احرام کی حالت میں شکار کرنے کا ذکر
جس کا حاصل یہ ہے کہ اس عمرہ کے سفر میں خلاف عادت امتحان کے طور پر ان صاحب احرام صحابہ کرام کو بہت سے جنگلی جانور نظر آئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان جانوروں کے نظر آنے کے وقت آنکھوں سے بن دیکھے عذاب الہی سے ڈر کر کون شکار کے مناہی (ممانعت) کے حکم کی پابندی کرتا ہے اور کون نہیں کرتا ہے۔ '' کچھ ایک شکار '' اس کا مطلب یہ ہے کہ فقط جنگلی جانوروں کا شکار دریائی جانوروں کا سا نہیں۔ چھوٹے جانور جو ہاتھ سے پکڑے جاسکتے ہیں۔ اس لئے نیزے کے ساتھ ہاتھ کا بھی ذکر فرمایا۔ اگرچہ احرام کی حالت میں ہر ایک طرح کے ہتھیار سے شکار منع ہے، لیکن عرب کے لوگ نیزے سے اکثر شکار کھیلا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
[54] اللہ کا علم تو ہمیشہ ہی سے ہے۔ ایسے موقعوں پر مراد یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے عمل سے بھی یہ کیفیت ظاہر ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
بےعلم معذور ہیں :
(ف 2) تکالیف شرعیہ کا اطلاق علم کے بعد ہوتا ہے ایک شخص جو یہ نہیں جانتا کہ اسلامی تعلیمات کیا ہیں ، وہ مکلف بھی نہیں کہ اسلامی احکام کو بجا لائے ۔ جب حرمت شراب کی آیات نازل ہوئیں ، تو صحابہ کرام ؓ اجمعین کو بالطبع ان لوگوں کو خیال آیا ، جو شراب کی مضرت سے آگاہ نہیں ‘ یا جو ان آیات کے نزول سے پہلے فوت ہوچکے ہیں اور شراب کے عادی تھے ، اس لئے پوچھا کہ حضور ﷺ ان کا کیا حشر ہوگا ، کیا وہ بھی ماخوذ ہوں گے ؟ جوابا یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر مے نوشی نے ان کے اخلاق پر برا اثر نہیں ڈالا ، اور وہ پاکباز رہے ہیں ، تو عند اللہ معذور ہیں ، بعض ملاحدہ نے آیت کا مفہوم یہ سمجھا ہے ، کہ اس میں…
Read the full tafseer →-95 اے اہل ایمان جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی وحشی شکار کو نہ مار و یعنی وحشی جانوروں کا شکار نہ کرو سوائے ان جانوروں کے جن کے قتل کو شریعت نے مستثنیٰ کردیا ہو لہٰذا جو شخص تم میں سے اب کسی شکار کو قصداًمارے گا تو اس پر اس شکار کی مثل اور اس شکار کے برابر جس کو مارا گیا ہے چوپایوں میں سے بدلہ اور فدیہ واجب ہوگا یعنی شکار کی قیمت کے برابر اونٹ یا گائے بھینس یا بھیڑ بکری کی قربانی واجب ہوگی جس کا تخمینہ تم میں سے دو معتبر اور صاحبان بصیرت لگا دیں اور مقرر کردیں دراں حالیکہ یہ جانور نیاز کے طور پر کعبہ کے حرم میں پہونچنے والا ہو یعنی حرم کعبہ میں لے کر اس جانور کو اللہ کے نام پر قربان کیا…
Read the full tafseer →ف 1۔ اسی طرح جبکہ وہ شکار حرم میں سے ہو گوشکاری احرام میں نہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
Read the full tafseer →احرام کی حالت میں شکار کرنے کی ممانعت اور آزمائش کئے جانے کا بیان :
224: عرب کے بادیہ نشین جانوروں اور پرندوں کا شکار کر کے گزر اوقات کیا کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ جس چیز پر گزار چل رہا ہو اس کو ترک کردینا اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی آیت میں فرمایا کہ ” ہم تمہاری آزمائش کریں گے۔ “ وہ آزمائش کیا تھی ؟ یہی کہ احرام کی حالت میں تم پر شکار کرنے کی پابندی ہے کہ تم شکار نہیں کرسکتے اور ظاہر ہے کہ حالت احرام میں بھی ان کا شکار سے باز رہنا کچھ کم صبر آزمانہ تھا۔ خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ قدم قدم پر ہرنوں کی ٹولیاں اور پرندوں کے جھرمٹ دلوں کو للچا رہے ہوں۔ پھر جس طرح سارے انسانوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
Sequence of Verses
A report from Sayyidna Abu Hurairah ؓ appearing in the Musnad of Ahmad, quoted in Al-Lubab, says: When the Verse forbidding drinking and gambling had been revealed, some people asked the Holy Prophet ﷺ that there were many people who drank wine and lived off earnings from gambling and then died before these were forbidden. What would happen to them, now that we know about these being حَرَام haram? Thereupon, the verse : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا (On those who believe and do good deeds, there is no sin ...) was revealed.
In a verse appearing earlier (87): يَا أَيُّهَا…
Read the full tafseer →110. When a person is in the state of pilgrim sanctity (ihram) it is prohibited for him both to hunt and to assist in hunting animals. Indeed, even if an animal has been hunted for him by someone else he may not eat it. However, if someone hunts an animal for himself and makes a gift of it to such a person, there is no harm in his eating it. There is an exception to this injunction and that is with regard to harmful animals. Snakes, scorpions, mad dogs and other such animals which cause injury to man may be killed even by one in the state of ihram. (See Bukhari, 'Talaq', 24; 'Sayd', 2; Abu…
Read the full tafseer →