Explained with ayahs 94–95
احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑ لے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہوسکتا ہو خواہ سختی سے۔ چناچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہوجائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
سورة الْمَآىِٕدَة 108
آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة مائدہ، 12 و 14۔ اس سلسلہ میں جوئے کی تشریح بھی 14 میں مل جائے گی۔ اگرچہ پانسے (جوئے) ہی کی ایک قسم ہیں۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اس صورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیات سے آلودہ ہو۔ اور میسر کا اطلاق ان کھیلوں اور ان کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی امور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیم اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 109
اس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
ربط آیات
لباب میں مسند احمد سے بروایت ابی ہریرہ ؓ منقول ہے کہ جب اوپر کی آیت میں تحریم خمرو میسر نازل ہوچکی تو بعض لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ بہت سے آدمی جو کہ شراب پیتے تھے اور قمار کا مال کھاتے تھے تحریم سے پہلے مر گئے، اور اب معلوم ہوا کہ وہ حرام ہے ان کا کیا حال ہوگا، اس پر آیت ليْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الخ نازل ہوئی۔
اور پیچھے (آیت) یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت میں تحریم طیبات کی ممانعت کا ذکر تھا، اب آیت يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْء الخ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ خاص حالات میں خاص خاص چیزوں کو حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
تفسیر آیات 94 تا 96:۔ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْم یاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭ وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَــزَاۗءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ ۭعَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ۭ…
Read the full tafseer →94۔ 1 شکار عربوں کی معاش کا ایک اہم عنصر تھا، اس لئے حالت احرام میں اس کی ممانعت کر کے ان کا امتحان لیا گیا۔ خاص طور پر حدیبیہ میں قیام کے دوران کثرت سے شکار صحابہ کے قریب آتے، لیکن انہی ایام میں 4 آیات کا نزول ہوا جن کے متعلقہ احکام بیان فرمائے گئے۔
94۔ 2 قریب کا شکار یا چھوٹے جانور عام طور پر ہاتھ ہی سے پکڑ لئے جاتے تھے دور کے یا بڑے جانوروں کے لئے تیر اور نیزے استعمال ہوتے تھے۔ اس لئے صرف ان دونوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن مراد یہ ہے کہ جس طرح بھی اور جس چیز سے بھی شکار کیا جائے، احرام کی حالت میں ممنوع ہے۔
Read the full tafseer →65: جیسا کے اگلی آیت میں آرہا ہے جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو اس کے لئے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حرام ہوجاتا ہے، عرب کے صحراؤں میں شکار کا مل جانا مسافروں کے لئے ایک نعمت تھی، اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ احرام باندھنے والوں کی آزمائش کے لئے اللہ تعالیٰ کچھ جانوروں کو ان کے اتنا قریب بھیج دے گا کہ وہ ان کے نیزوں کی زد میں ہوں گے، اس طرح ان کا امتحان لیا جائے گا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اس نعمت سے پرہیز کرتے ہیں ؟ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے ایمان کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا دل کسی ناجائز کام کے لئے مچل رہا ہو، اور وہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 94 تا 100۔
ذرا پیچھے دیکھ کر اس سورة کی ابتدائی آیات کو ایک بار پھر پڑھئے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَکُم بَہِیْمَۃُ الأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ غَیْْرَ مُحِلِّیْ الصَّیْْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللّہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ (1) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآئِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُواْ (2) (5 : 1۔ 2)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو…
Read the full tafseer →2 پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے منع فرما کر بعض چیزوں سے اجتناب کا حکم دیا تھا جو دائمی طور پر حرام ہیں، اس رکوع میں بعض ایسی اشیاء کے ارتکاب سے منع کیا گیا ہے جس کی حرمت دائمی نہیں۔ بلکہ بعض احوال و اوضاع سے مخصوص ہے یعنی بحالت احرام شکار کرنا، مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرف سے مطیع و فرمانبردار بندوں کا یہ امتحان ہے کہ وہ حالت احرام میں جب کہ شکار ان کے سامنے ہے اور بسہولت اس کے مارنے یا پکڑنے پر بھی قادر ہوں، کون ہے جو بن دیکھے خدا سے ڈر کر اس کے حکم کا امتثال کرتا اور اعتداء (احکام خداوندی سے تجاوز کرنے) کی خدائی سزا سے خوف کھاتا ہے۔ " اصحاب سبت " کا قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا کہ ان…
Read the full tafseer →اس سورة مبارکہ کے شروع میں حالت احرام میں شکار کرنے کی ممانعت آچکی ہے۔ اب اللہ کی اس سنت کا ذکر ہے کہ اللہ اپنے ماننے والوں کو آزماتا ہے ‘ سخت ترین امتحان لیتا ہے۔ فرض کیجیے کہ حاجیوں کا ایک قافلہ جا رہا ہے ‘ سب نے احرام باندھا ہوا ہے ‘ اتفاق سے ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں۔ اب ایک ہرن اٹھکیلیاں کرتے ہوئے قریب آ رہا ہے ‘ بھوک بھی ستا رہی ہے ‘ ضرورت بھی ہے ‘ چاہیں تو ذرا سا نیزہ ماریں اور شکار کرلیں یا ویسے ہی بھاگ کر پکڑ لیں ‘ لیکن پکڑ نہیں سکتے ‘ شکار نہیں کرسکتے ‘ کیونکہ احرام میں ہیں اور اس حالت میں اجازت نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح آزماتا ہے۔
آیت 94 یٰٓاَیُّہَا…
Read the full tafseer →141 یعنی محرم شکار کے لیے نہ کسی دوسرے کو کہہ سکتا ہے نہ شکار کی طرف یا شکار کرنے کے لیے کسی کو اشارہ کرسکتا ہے اور نہ ہی شکار میں کسی طرح کی مدد کرسکتا ہے۔ البتہ اگر کسی غیر محرم نے شکار کیا ہو تو اس میں سے کھا سکتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
خ محرم پر شکار کی پابندی :۔ ابو قتادہ کہتے ہیں کہ ہم جب حدیبیہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو آپ کے تمام صحابہثنے احرام باندھا صرف میں نے نہیں باندھا تھا۔ میرے ساتھیوں نے راستہ میں ایک جنگلی گدھا دیکھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں اپنی جوتی سینے میں مشغول تھا لیکن انہوں نے مجھے نہ بتایا اگرچہ وہ چاہتے تھے کہ میں اسے دیکھ لوں۔ اچانک میں…
Read the full tafseer →293 ۔ یعنی وہ شکار کے جانور تم سے بہت دور بھی نہ ہوں گے۔ قریب ہی پھرتے رہیں گے کہ تمہارے لئے ان کا شکار بہ آسمانی ممکن ہوگا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ ذکر مقام حدیبیہ کا ہے۔ شکار کے جانور بالکل آس پاس لگے پھرتے تھے لیکن مسلمان حالت احرام میں تھے اس لیے شکار سے محتاط ومحترز رہے۔ انزلت ھذہ الایۃ فی عمرۃ الحدیبیۃ فکانت الوحش والطیر والصید تفشاھم فی رحالھم (ابن کثیر)
(آیت) ” لیبلونکم اللہ “۔ سورة شروع میں آچکا ہے کہ حالت احرام میں شکار ممنوع ہے اب یہاں اس کی کچھ تفصیل بیان ہوگی۔ ملاحظہ ہوں سورة مائدہ کے حواشی نمبر 4 ومابعد۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” لیبلونکم “ سند ہے ان مشائخ کے لیے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت نمبر 94 تا 100
ترجمہ : اے ایمان والو ! الہ تعالیٰ تم کو ایک چیز سے ضرور آزمائیگا جس کو وہ تمہارے لئے بھیجے گا، اور وہ چھوٹا شکار ہے، جس تک تمہاری رسائی ہوگی اور ان میں سے بڑے (شکار) تمہارے نیزوں کی زد میں ہوں گے، اور ایسا حدیبیہ کے مقام پر ہوا حال یہ ہے کہ وہ حالت احرام میں تھے، وحشی جانور اور پرندے ان کے خیموں میں ان کے پاس بکثرت آتے تھے تاکہ اللہ علم ظہور کے اعتبار سے یہ دیکھے کہ کون اس سے غائبانہ طور پر ڈرتا ہے (بالغیب) یخافہ کی ضمیر سے حال ہے کہ وہ اس کو بغیر دیکھے اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ شکار سے اجتناب کرتا ہے پھر جس نے اس کی (یعنی) شکار کی ممانعت کے بعد حد سے تجاوز…
Read the full tafseer →یا ایہا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشی من الصید اے ایمان والو ! اللہ کچھ شکار (بھیج کر اس) سے تمہاری ضرور آزمائش کرے گا۔ شئً (میں تنوین تحقیر کے لئے ہے اس) سے مراد ہے حقیر چیز جو ایسی بڑی نہیں کہ پاؤں ڈگمگا جائیں نہ جان خرچ کرنے کا امتحان ہے نہ مال دینے کا۔ مِنَ الَّصْیِد بشیءٍکی صفت ہے۔
تنالہ ایدیکم ورماحکم جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے یہ جملہ شئً کی دوسری صفت ہے (اس پیشین گوئی کے مطابق) جنگلی شکار لوگوں کے پڑاؤ اور فرودگاہوں کے اندر گھس آتا ہے اور اتنا قریب آجاتا تھا کہ لوگ اس کو ہاتھوں سے پکڑ سکتے تھے اور برچھے سے بھی شکار کرسکتے تھے۔ (1) [ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان کا…
Read the full tafseer →(94) حدیبیہ کے سال احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
یعنی حدیبیہ کے سال خشکی کے وحشی شکاروں کے بارے میں تمہارا امتحان لیں گے جب کہ ان کے انڈوں اور بچوں تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچے رہے ہوں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ظاہری طور پر بھی دیکھ لیں کے حالت احرام میں کون شکار سے باز رہتا ہے۔
سو جو اس کی حرمت اور اس کی جزاء کے بیان ہوجانے کے بعد بھی حدود شرعیہ سے نکلے گا تو اس کی پشت اور پیٹ پر سخت سزا قائم کی جائے گی۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ۔۔ : اس سے پہلے آیت : (لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ) [ المائدۃ : 87 ] میں حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کیا تھا، اب اس آیت میں وہ حلال چیزیں ذکر کی ہیں جو کچھ وقت کے لیے بطور امتحان حرام فرمائی ہیں، یعنی احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کردیا، تاکہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کی آزمائش ہوجائے کہ بن دیکھے اللہ سے کون ڈرتا ہے۔
تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ : یعنی چھوٹے جانور یا جانوروں کے بچے جنھیں تم ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو، یا بڑے جانور جن کا تم نیزوں سے شکار کرسکتے ہو۔
فَمَنِ اعْتَدٰي…
Read the full tafseer →آیت نمبر 94
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) لیبلونکم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور آزمائے گا۔ ابتلا کا معنی آزمانا ہے، شکار عرب عاربہ کی معیشت کے ذرائع میں سے ایک تھا اور یہ تمام کے نزدیک عام تھا اور مستعمل تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے متعلق احرام اور حرم کے ساتھ آزمایاجس طرح بنی اسرائیل کو ہفتہ کے دن کے احکام میں حد سے تجاوز نہ کرنے میں آزمایا تھا (1) (المحررالوجیز) ۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ حدیبیہ کے سال نازل ہوئی۔ بعض لوگوں نے نبی مکرم ﷺ کے ساتھ احرام باندھا ہوا تھا اور بعض نے نہیں باندھا ہوا تھا جب کوئی شکار سامنے آتا تو اس میں ان کے احوال اور…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورماحکم کے بارے میں فرمایا کہ یہاں صید سے مراد کمزور اور چھوٹا شکار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمائے گا ان کو احرام میں یہاں تک کہ اگر وہ چاہے تو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیتے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے قریب جانے سے منع فرمایا تم میں سے جس نے اسے قتل کیا یا غلطی کی تو اس پر حکم لگایا جائے گا۔ اگر اس نے جان بوجھ کر دوبارہ ایسا کیا تو اس کے لئے سزا میں جلدی کی جائے گی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرما دیں۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ [ اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَيَبْلُوَنَّكُمُ [ لازما آزمائے گا تم لوگوں کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِشَيْءٍ [ کسی چیز سے ] مِّنَ الصَّيْدِ [ شکار میں سے ] تَـنَالُهٗٓ [ پہنچیں گے جس کو ] اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھ ] وَرِمَاحُكُمْ [ اور تمہارے نیزے ] لِيَعْلَمَ [ تاکہ جان لے ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَنْ [ کون ] يَّخَافُهٗ [ ڈرتا ہے اس سے ] بِالْغَيْبِ ۚ [ بن دیکھے ] فَمَنِ [ پھر جو ] اعْتَدٰي [ زیادتی کرے گا ] بَعْدَ ذٰلِكَ [ اس کے بعد ] فَلَهٗ [ تو اس کے لیے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ہے ]
رم ح : (ف) ۔ رمحا ۔ نیزہ مارنا ۔ رمح ۔ ج ۔ رماح ۔ اسم ذات ہے ۔…
Read the full tafseer →حالت احرام میں شکار والے جانوروں کے ذریعہ آزمائش
حج اور عمرہ کا اگر کوئی شخص احرام باندھ لے تو احرام سے نکلنے تک بہت سے کام ممنوع ہوجاتے ہیں ان ممنوع کاموں میں خشکی کا شکار کرنا بھی ہے۔
ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ ؓ کو اس طرح آزمایا کہ احرام کی حالت میں تھے اور شکاری جانور خوب بڑھ چڑھ کر آرہے تھے یہ ایسی آزمائش تھی جیسے بنی اسرائیل کو آزمایا گیا تھا، ان کے لئے سنیچر کے دن مچھلیوں کا شکار کرنا ممنوع تھا لیکن سنیچر کے دن مچھلیاں خوب ابھر ابھر کر پانی کے اوپر آجاتی تھیں اور دوسرے دنوں میں ایسا نہیں ہوتا تھا جس کا زکر سورة اعراف کی آیت (وَ سْءَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کانَتْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
حکم ہشدہم متعلق بہ شکار درحالت احرام۔
قال اللہ تعالی، یا ایھالذین آمنو لیبلونکم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔
ربط) ۔ پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے ممانعت فرما کر بعض چیزوں یعنی شراب اور جوئے سے اجتناب کا حکم دیا اور اب اس رکوع میں ان بعض چیزوں کے ارتکاب سے منع فرماتے ہیں جن کی حرمت دائمی نہیں بلکہ بعض احوال کے ساتھ مخصوص ہے جیسے شکار کہ وہ صرف حالت احرام اور حدود حرم کے اندر حرام ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ احرام میں اور حرم کے اندر شکار کو حلال نہ سمجھو اور اس کا ارتکاب نہ کرو شکار کی حرمت سے احرام کا احترام اور حرم محترم اور بیت اللہ کی تعظیم و تکریم مقصود ہے نیز شروع سورت میں بھی احرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
155 یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ یعنی جو لوگ اب تک شراب پیتے رہے، جوا کھیلتے رہے اور غیر اللہ کی نذریں نیازیں کھاتے رہے اور نزول تحریم سے پہلے ہی فوت ہوگئے ان کا کیا ہوگا۔ تو اس کے جواب میں فرمایا کہ جو مومنین نزول تحریم سے پہلے مذکورہ بالا اشیاء کھاتے پیتے رہے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں اِذَا مَا اتَّقَوْا جب کہ وہ شرک سے بچے رہے اور صدق دل سے ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا پھر اس اتقاء عن الشرک اور ایمان خالص پر قائم رہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا (حجرات ع 3) ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا پھر وہ اتقاء کامل یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے طیبات کا ذکر کر کے فرمایا کہ پاک اور حلال چیزوں کو از خود حرام نہ ٹھہرائو اور اس سلسلہ میں قسم بھی اٹھا لی ہے تو اسے توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرو اور حلال چیزوں کو استعمال کرتے رہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے محرمات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ جن چیزوں کو دائمی حرام قرار دیا گیا ہے ان سے اجتناب کرو ، شراب جو ائ ، بت اور جوئے کے تیر گندی چیزیں ہیں۔ یہ سب شیطانی افعال ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو سورة کے ابتدائی حصہ میں بھی محرمات اور محاملات کا ذکر تھا اور گزشتہ دروس میں بھی موضوع سخن یہی رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی ہے کہ حلال چیزوں سے استفادہ حاصل کرتے رہو کیونکہ اسی میں تمہاری…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللہُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَـنَالُہٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّخَافُہٗ بِالْغَيْبِ 0ۚ فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 94
بلی
يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ…
Read the full tafseer →ترکیب : بالغیب ممکن ہے کہ حال ہو من سے یا ضمیر فاعل یخافہ سے ای یخافہ غائبا عن الحق اور ممکن ہے کہ بمعنی فی ہو۔ وانتم حرم حال ہے فاعل لا تقتلوا متعمداً حال ہے ضمیر فاعل قتلہ سے فجزا خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فالوا جب جزاء مثل اس کی صفت یا بدل اور مثل بمعنی مماثل من النعم صفت ہے جزا کی۔
تفسیر : جس طرح لاتحرموا کے بعد شراب و قمار کو بسبب ان کی ذاتی قباحت کے مستثنیٰ کیا تھا اسی طرح حالت احرام و حرم میں شکار کو محض تعظیم کعبہ و حج کے لئے ممنوع فرمایا۔ یہ احکام کی دوسری قسم ہے۔ اول بطور تمہید کے یا ایہا الذین سے عذاب الیم تک فرمایا کہ اے امت محمدیہ ! تمہاری آزمائش ایک تھوڑی سی بات یعنی شکار سے کی…
Read the full tafseer →تمہید
پیشتر ازیں ہم یہ بات کسی حد تک واضح کرچکے ہیں کہ سورة المائدہ کے چند امتیازی پہلو ہیں ‘ جو اسے قرآن کریم کی باقی سورتوں سے ممتاز کرتے ہیں۔
1 سب سے زیادہ احکام ‘ بالخصوص حلت و حرمت کے بارے میں ‘ اسی سورة میں نازل کیے گئے ہیں۔
2 بعض ایسے احکام جو بعض دوسری سورتوں میں بھی ذکر کیے گئے تھے ‘ انھیں تکمیلی شان اسی سورة میں بیان کردہ احکام سے ملی ہے اور ان احکام کی تکمیل کرتے ہوئے ‘ بعض دفعہ احکام کی حکمتیں بھی واضح کردی گئی ہیں۔
3 دوسری سورتوں اور خود سورة المائدہ میں بیان کردہ احکام کے حوالے سے جو بعض سوالات پیدا ہوئے یا جو پیدا ہوسکتے تھے ‘ اس سورة کے آخر میں تفصیل سے ان کا جواب دیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : تقویٰ اور ایمان کا یہ بھی تقاضا ہے کہ احرام کی حالت میں شکار کرنے سے اجتناب کرو۔
امام ابن ابی حاتم ؓ نے تحریر کیا ہے کہ یہ آیات صلح حدیبیہ کے سال نازل ہوئیں۔ جب مسلمان عمرہ کرنے کی غرض سے مدینہ طیبہ سے نکلے تو چند لوگوں کے سوا سب نے میقات پر پہنچ کر احرام باندھا اس حالت میں مسلمانوں کو شکار کرنے سے منع کیا گیا۔ جبکہ شکار مسلمانوں کے اتنا قریب تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جانوروں کی گردنیں دبوچ سکتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچنے کے بعد جن لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا انھوں نے شکار پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ کی۔ اس حکم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ محرم شخص غیر…
Read the full tafseer →: آیت 94: جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا حدیبیہ والے سال شکار کے ذریعے امتحان لیا۔ صحابہ کرام ؓ حالت احرام میں تھے۔ شکار کی کثرت تھی۔ یہاں تک کہ کجاو وں کے گرد شکار جمع ہوجاتے۔ جن کو ہاتھ سے پکڑا جاسکتا تھا۔ اور نیزوں کے ذریعے شکار کیا جاسکتا تھا تو یہ آیت اتری :
حدیبیہ والے سال شکار سے آزمائش :
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیْئٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُہٗ اَ یْدِیْکُمْ وَرِمَا حُکُمْ یبلو کا معنی امتحان لینا ہے۔ اللہ کی طرف سے جب ہو تو اس کا مطلب اب بندے کے متعلق اللہ تعالیٰ کے علم میں جو ہے اس کو ظاہر کرنے کے لئے (نعوذ باللہ) یہ امتحان غیر معلوم کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
آیت نمبر 94, 93, 92
تفسیر :(واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واحذروا اور حکم مانو اللہ کا حکم مانو رسول اللہ ﷺ کا اور بچتے رہو) حرام چیزوں اور جن کاموں سے روکا گیا ان کے کرنے سے ( فان لولیتم فاعلموا انما علی رسولنا البغ المبین پھر اگر تم پھر جائو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف پہنچا دینا ہے کھول کر) شراب پینے والے کی وعید میں ابن عمر رضی ؓ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے اور اللہ پر پختہ بات ہے کہ جو آدمی دنیا میں اس کو پئے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو طینۃ الخبال پلائیں گے اور تم جانتے ہو کہ طینۃ الخبال کیا ہے ؟ جہنمیوں کا پسینہ اور ابن عمر ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(94 ۔ 95) ۔ مقاتل بن حیان نے کہا کہ عمرہ حدیبیہ کے سال احرام کی حالت میں صحابہ کرام ؓ جا رہے تھے اس وقت یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے مقاتل بن حیان اور مقاتل بن سلیمان دو مقاتل ہیں جن علماء نے مقاتل بن حیان کو ضعیف کہا ہے انہوں نے مقاتل بن سلیمان کے شبہ میں کہا ہے ورنہ یحییٰ بن معین ابو داؤد اور بہت سے علماء نے مقاتل بن حیان کی توثیق کی ہے یہ مقاتل بن حیان صحیح مسلم کے راویوں میں ہیں۔ سفر حدیبیہ کے وقت شان نزول اس آیت کی خازن وغیرہ میں ہے 4 ؎۔ حاصل اس شان نزول کی روایت کا یہ ہے کہ اس عمرہ کے سفر میں خلاف عادت امتحان کے طور پر ان صاحب احرام صحابلہ کو بہت سے جنگلی جانور نظر آئے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت 94
اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سر انجام دے گا، تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا : (یایھا الذین امنوا) ” اے ایمان والو ! “ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کا امتحان لے (لیبلونکم اللہ بشیء من الصید) ” البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں “ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے…
Read the full tafseer →احرام والے انسان کے لئے شکار کا حکم
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورما حکم۔ اے ایمان والو ! اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعے سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا۔ )
ایک قول ہے کہ اس جگہ حرف ” من “ تبعیض کے لئے ہے بایں طور کہ شکار سے مراد خشکی کا شکار ہو سمندر کا شکار نہ ہو، احرام کی حالت کا شکار ہو۔ احلال، یعی احرام نہ ہونے کی حالت کا شکار نہ ہو۔
ایک قول ہے کہ من تمیز کے طور پر واقع ہے جس طرح یہ قول باری ہے (فاجتنبوا الرجس من الاوثان نجاست یعنی بتوں سے بچو) یا جس طرح کوئی کہے ” باب من حدید یا ” ثوب من قطن “ (دروازہ یعنی…
Read the full tafseer →239 اہل ایمان کے لئے ایک آزمائش کا اعلان : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور تمہاری آزمائش کرے گا کچھ خاص شکلوں کے ذریعے۔ یعنی تم لوگوں کی آزمائش ضرور کریگا تاکہ کھرے کھوٹے میں فرق وتمیز ہوسکے۔ سو یہ بھی اس ارحم الراحمین کی رحمت بیکراں کا ایک مظہر عظیم ہے کہ اس نے اس امتحان کے بارے میں پیشگی ہی بتادیا تاکہ اہل ایمان اس کے لئے پہلے سے ہی تیار ہوجائیں۔ اور وہ اس امتحان میں کامیابی سے ہم کنار و سرفراز ہوں کہ آزمائش بہرحال آزمائش ہوتی ہے۔ اور شکار سے ممانعت کی یہ آزمائش بعض اعتبارات سے بڑی سخت بھی تھی۔ ایک تو اس لیے کہ شکار بالعموم انسان کو اور خاص طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور کفارہ
تشریح : احرام کی حالت میں شکار کرنا منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح رب العزت انہیں آزمانا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی حکم عدولی کرے گا تو اس پر جرمانہ ہے اور دردناک سزا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص شکار کرے تو کفارہ لازم ہوگا۔ کفارے کی حد کے لیے فرمایا کہ شکار کئے گئے جانور کے برابر جس کا فیصلہ تم میں سے دو آدمی کریں نذر کے طور پر خانہ کعبہ بھیج دیا جائے اور اسی طرح دو آدمیوں کی رائے کے مطابق مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا روزے رکھے جائیں پہلے یعنی اسلام سے پہلے جو کچھ ہوچکا معاف کردیا گیا ہے مگر خبردار کیا جا رہا ہے کہ اس حکم کے آنے کے بعد اگر کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 94 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
در اصل حرام اور حلال مقرر کرنے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کریم کو اس کا اختیار ہے وہ چاہے جس چیز سے منع کردے یہ اس کی شوکت کا اظہار بھی ہے مگر اس نے امت مرحومہ پر صرف وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو یا تو جسمانی لا ظ سے نقصان دہ تھیں یا روحانی اعتبار سے یا پھر دونوں طرح سے بیک وقت نقصان دہ تھیں ورنہ پہلی امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اچھی اور حلال چیزیں بھی بطور سزا حرام کی جاتی رہیں یہاں بھی حرمت کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں مسلمانوں پر اچھی اور مفید چیز بھی حرام کردی جاتی ہے مگر عذاب یا سزا کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اور نہ لمبے عرصے کے…
Read the full tafseer →ف 10 آیت لا تحر موا سے بطور استثنا محرمات کا بیان ہو رہا ہے پہلے شراب اور جوئے کی حرمت بیان فرمائی اب اس آیت میں شکار کی حرمت کا بیان ہے (کبیر) جن کو تم اپنے ہاتھوں اور برچھو سے پکڑ سکتے ہو۔ یعنی چھوٹے بچوں کو ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو اور بڑے جانوروں کو بر چھا مار کر ،۔ ( ابن کثیر )
1 یعنی اب جب کہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کردیا گیا ہے۔ (قرطبی)2 یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان گھروں میں گھس آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرمایا ،۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(5:94) لیبلونکم۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو ضرور آزمائے گا۔ وہ تمہاری ضرور جانچ کرلیگا۔ بلائ۔ سے (باب نصر) مادہ بلی۔
رماحکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے نیزے۔
تنالہ۔ اس کو پاتی ہے۔ اس تک پہنچتی ہے۔ نیل سے (باب فتح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت نمبر 94 تا 96
لغات القرآن : لیبلون (البتہ وہ آزمائے گا) ۔ الصید (شکار) ۔ تنال (پہنچتی ہے۔ پہنچتے ہیں) ۔ رماح (رمح) ۔ نیزے لیعلم (تاکہ وہ جان لے) ۔ من یخاف (کون ڈرتا ہے ؟ ) ۔ لا تقتلوا (تم قتل نہ کرو) ۔ انتم حرم (تم احرام کی حالت میں ہو) ۔ متعمدا (جان بوجھ کر) ۔ لانعم (مویشی۔ جانور) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ ذواعدل (دو انصاف والے) ۔ ھدیا (نیاز۔ منت جو مسجد الحرام بھیجی جائے) ۔ بلغ الکعبۃ (کعبہ تک پہنچنے والا) ۔ عدل (برابر) ۔ لیذوق (تاکہ وہ چکھ لے) ۔ وبال (عذاب۔ سزا) ۔ امرہ (اس کا کام ) ۔ عفا اللہ (اللہ نے معاف کردیا) ۔ سلف (گزر گیا) ۔ عاد (جو پلٹا) ۔ ینتقم (بدلہ لیتا ہے) ۔ عزیز (زبردست ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
احرام کی حالت میں شکار کرنے کا ذکر
جس کا حاصل یہ ہے کہ اس عمرہ کے سفر میں خلاف عادت امتحان کے طور پر ان صاحب احرام صحابہ کرام کو بہت سے جنگلی جانور نظر آئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان جانوروں کے نظر آنے کے وقت آنکھوں سے بن دیکھے عذاب الہی سے ڈر کر کون شکار کے مناہی (ممانعت) کے حکم کی پابندی کرتا ہے اور کون نہیں کرتا ہے۔ '' کچھ ایک شکار '' اس کا مطلب یہ ہے کہ فقط جنگلی جانوروں کا شکار دریائی جانوروں کا سا نہیں۔ چھوٹے جانور جو ہاتھ سے پکڑے جاسکتے ہیں۔ اس لئے نیزے کے ساتھ ہاتھ کا بھی ذکر فرمایا۔ اگرچہ احرام کی حالت میں ہر ایک طرح کے ہتھیار سے شکار منع ہے، لیکن عرب کے لوگ نیزے سے اکثر شکار کھیلا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
[54] اللہ کا علم تو ہمیشہ ہی سے ہے۔ ایسے موقعوں پر مراد یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے عمل سے بھی یہ کیفیت ظاہر ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
بےعلم معذور ہیں :
(ف 2) تکالیف شرعیہ کا اطلاق علم کے بعد ہوتا ہے ایک شخص جو یہ نہیں جانتا کہ اسلامی تعلیمات کیا ہیں ، وہ مکلف بھی نہیں کہ اسلامی احکام کو بجا لائے ۔ جب حرمت شراب کی آیات نازل ہوئیں ، تو صحابہ کرام ؓ اجمعین کو بالطبع ان لوگوں کو خیال آیا ، جو شراب کی مضرت سے آگاہ نہیں ‘ یا جو ان آیات کے نزول سے پہلے فوت ہوچکے ہیں اور شراب کے عادی تھے ، اس لئے پوچھا کہ حضور ﷺ ان کا کیا حشر ہوگا ، کیا وہ بھی ماخوذ ہوں گے ؟ جوابا یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر مے نوشی نے ان کے اخلاق پر برا اثر نہیں ڈالا ، اور وہ پاکباز رہے ہیں ، تو عند اللہ معذور ہیں ، بعض ملاحدہ نے آیت کا مفہوم یہ سمجھا ہے ، کہ اس میں…
Read the full tafseer →-94 اے اہل ایمان یقینا اللہ تعالیٰ تم کو ایک حقیر اور معمولی سے شکار کے معاملہ میں آزمائے گا وہ شکار تم سے اس قدر قریب پھرتا ہوگا کہ تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے اس شکار کو حاصل کرسکیں گے یعنی تمہارے آس پاس پھرتا ہوگا … چاہے تم نیزہ مار کر زخمی کردو خواہ ہاتھ سے شکار کرلو اس آزمائش کی وجہ یہ ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو جان لے کہ کون شخص اس کے ذاب اور اس کی پکڑے بن دیکھے ڈرتا ہے یعنی دیکھ کر تو اس کے عتاب سے سب ہی ڈریں گے محض وعدئہ عذاب سے کون کون ڈرنے والا ہے پھر جو شخص ممانعت کا حکم سننے اور اس کی حرمت معلوم کرلینے کے بعد حد سے آگے بڑھے گا اور حکم خداوندی سے بےپروا ہو کر شکار کا تعاقب کرے…
Read the full tafseer →ف 6۔ مطلب امتحان کا یہ کہ حالت احرام میں وحوش کا شکار کرنے کو تم پر حرام کرکے ان وحوش کو تمہارے آس پاس پھراتے رہین گے چناچہ وہ وحوش اسی طرح آس پاس لگے پھرتے تھے چونکہ صحابہ میں بہت سے شکار کے عادی تھے اس میں ان کی اطاعت کا امتحان ہو رہا تھا جس میں وہ پورے اترے۔
Read the full tafseer →223: ماہ ذیقعدہ 6 ہجری میں مسلمان عمرہ کا احرام باندھ کر نکلنے والے تھے کہ یہ حکم نازل ہوگیا ۔ فرمایا تم عمرہ کو چلے ہو اور اس واقعہ میں تمہاری آزمائش بھی ہوگی۔ وہ اس طرح کہ تم حالت سفر میں ہو گے اور زاد راہ کی کمی کے باعث تمہاری آزمائش اس طرح ہوگی کہ تم راستے میں بری شکار کو عام دیکھو گے اور تم کو معلوم ہے کہ اس شکار سے تم کو حالت احرام میں منع کیا گیا ہے جیسا کہ اس سورة المائدہ کی دوسری آیت میں آپ اس کی ممانعت پڑھ چکے۔ اب تم کو ضرورت بھی ہے اور شکار کھیلنے کا شوق بھی پھر تمہاری آزمائش اس طرح ہوگی کہ شکار تم عام دیکھو گے اب دیکھتے ہیں کہ اہل یہود کی طرح کون اس کی کوئی تاویل نکالتا ہے اور کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
Sequence of Verses
A report from Sayyidna Abu Hurairah ؓ appearing in the Musnad of Ahmad, quoted in Al-Lubab, says: When the Verse forbidding drinking and gambling had been revealed, some people asked the Holy Prophet ﷺ that there were many people who drank wine and lived off earnings from gambling and then died before these were forbidden. What would happen to them, now that we know about these being حَرَام haram? Thereupon, the verse : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا (On those who believe and do good deeds, there is no sin ...) was revealed.
In a verse appearing earlier (87): يَا أَيُّهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
108.For 'altars' and divination by arrows see (nn.12)and 14)above. For games of chance see (n. 14) above.
While divination by arrow-shooting essentially constitutes a game of chance there is nevertheless a certain difference between the two, since divination by arrow-shooting, in addition to being a game of chance, is also tainted with polytheistic beliefs and superstitions. As for games of chance, this expression is applied to those games and acts in which accidental factors are considered the criteria for acquisition, fortune-making and the division of goods and property.
109. In this verse…
Read the full tafseer →