Explained with ayahs 90–93
پانسہ بازی، جوا اور شراب
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
سورة الْمَآىِٕدَة 108
آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة مائدہ، 12 و 14۔ اس سلسلہ میں جوئے کی تشریح بھی 14 میں مل جائے گی۔ اگرچہ پانسے (جوئے) ہی کی ایک قسم ہیں۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اس صورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیات سے آلودہ ہو۔ اور میسر کا اطلاق ان کھیلوں اور ان کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی امور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیم اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 109
اس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
ربط آیات
لباب میں مسند احمد سے بروایت ابی ہریرہ ؓ منقول ہے کہ جب اوپر کی آیت میں تحریم خمرو میسر نازل ہوچکی تو بعض لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ بہت سے آدمی جو کہ شراب پیتے تھے اور قمار کا مال کھاتے تھے تحریم سے پہلے مر گئے، اور اب معلوم ہوا کہ وہ حرام ہے ان کا کیا حال ہوگا، اس پر آیت ليْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الخ نازل ہوئی۔
اور پیچھے (آیت) یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت میں تحریم طیبات کی ممانعت کا ذکر تھا، اب آیت يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْء الخ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ خاص حالات میں خاص خاص چیزوں کو حرام…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔
شریعت الٰہی کا مطالبہ : اوپر فھل انتم منتھون کے اسلوب میں جو زجر و توبیخ مضمر ہے اس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں اسلوب بیان کی اس شدت نے ان لوگوں کو متاثر کیا ہوگا جو شراب کے معاملے میں اس رخصت سے اب تک فائدہ اٹھاتے رہے تھے جو انہیں حاصل تھی انہوں نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ شراب کے باب میں بالکل پہلی ہی تنبیہ پر دوسرے بہت سے محتاط اور پیش بین صحابہ کی طرح انہوں نے…
Read the full tafseer →93۔ 1 حرمت شراب کے بعد بعض صحابہ ؓ کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہمارے کئی ساتھی جنگوں میں شہید یا ویسے ہی فوت ہوگئے۔ جب کہ وہ شراب پیتے رہے ہیں۔ تو اس آیت میں اس شبہ کا ازالہ کردیا گیا کہ ان کا خاتمہ ایمان وتقویٰ پر ہی ہوا ہے کیونکہ شراب اس وقت تک حرام نہیں ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →63: جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو بعض صحابہ کرام کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جو شراب حرمت کا حکم آنے سے پہلے پی گئی ہے کہیں وہ ہمارے لئے گناہ کا سبب نہ بنے، اس آیت نے یہ غلط فہمی دور کردی اور یہ بتادیا کہ چونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے شراب پینے سے صاف الفاظ میں منع نہیں کیا تھا، اس لئے اس وقت جنہوں نے شراب پی تھی اس پر ان کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔
64: احسان کے لغوی معنی ہیں اچھائی کرنا۔ اس طرح یہ لفظ ہر نیکی کو شامل ہے، لیکن ایک صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ تشریح فرمائی ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے وہ اس کو دیکھ رہا ہے، یا کم از کم اس تصور کے ساتھ کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔
شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس…
Read the full tafseer →1 نہایت صحیح اور قوی احادیث میں ہے کہ جب تحریم کی آیات نازل ہوئیں تو صحابہ ؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ان مسلمانوں کا کیا حال ہوگا جنہوں نے حکم تحریم آنے سے پہلے شراب پی اور اسی حالت میں انتقال کر گئے۔ مثلاً بعض صحابہ جو جنگ احد میں شراب پی کر شریک ہوئے اور اسی حالت میں شہید ہوگئے کہ پیٹ میں شراب موجود تھی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ عموم الفاظ اور دوسری روایات کو دیکھتے ہوئے ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ زندہ ہوں یا مردہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح رکھتے ہیں ان کے لئے کسی مباح چیز کے بوقت اباحت کھا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ خصوصاً جب کہ وہ لوگ عام احوال میں تقویٰ اور ایمان کی خصال سے متصف ہوں۔…
Read the full tafseer →آیت 93 لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا
کسی شے کی حرمت کے قطعی حکم آنے سے پہلے جو کچھ کھایا پیا گیا ‘ اس کا کوئی گناہ ان پر نہیں رہے گا۔ یہ کوئی ہڈیوں میں بیٹھ جانے والی شے نہیں ہے ‘ یہ تو شرعی اور اخلاقی قانون Moral Law کا معاملہ ہے ‘ طبعی قانون Physical Law کا نہیں ہے۔ طبعی Physical طور پر تو کچھ چیزوں کے اثرات واقعی دائمی ہوجاتے ہیں ‘ لیکن Moral Law کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ گناہ تو احد پہاڑ کے برابر بھی ہوں تو سچی توبہ سے بالکل صاف ہوجاتے ہیں۔ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : اَلتَّاءِبُ مِنَ ا لذَّنْبِ کَمَنْ لاَ ذَنْبَ لَہٗ 1 گناہ سے حقیقی توبہ کرنے…
Read the full tafseer →139 سیدنا انس فرماتے ہیں جب شراب کی حرمت نازل ہوئی میں ابو طلحہ ؓ کے گھر میں لوگوں کو (ساقی بن کر) شراب پلا رہا تھا۔ جب شراب کی حرمت کی منادی ہوئی تو ابو طلحہ ؓ نے کہا کہ جا کر سب شراب بہا دو ۔ میں نے بہا دی جو مدینہ کی گلیوں میں بہتی چلی گئی۔ پھر بعض لوگ کہنے لگے کہ : ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ شہید ہوگئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
140 ایمان کے مختلف درجے :۔ اس آیت میں تین بار ایمان اور تقویٰ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں کیونکہ ایمان اور تقویٰ کے مختلف درجات ہیں۔ ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو اس کا تقویٰ کم تر درجہ کا ہوتا ہے پھر…
Read the full tafseer →289 ۔ (اور اس لئے اس وقت کی حرام چیزوں سے محترز ہوں) (آیت) ” فیما طعموا “۔ جبکہ وہ وہ چیزیں کھا رہے ہوں جو اس وقت میں حلال ہوں۔ طعموا بمالم یحرم علیھم (بیضاوی) روایتوں میں آتا ہے کہ جب شراب وقمار کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے سوال کیا کہ پھر ان کا کیا حشر ہوگا جواب تک شراب پیتے اوقمار کا مال کھاتے رہے ؟ اور پھر اب زندہ بھی نہیں، جو توبہ و استغفار سے کام لیں بلکہ وفات پاچکے ہیں ؟ یہ آیت اسی پر نازل ہوئی۔ سوال اسی پر نازل ہوئی۔ سوال اسی قسم کا تھا جیسے حکم تحویل قبلہ کے بعض صحابیوں نے سوال کیا تھا کہ کہ جو نمازیں بیت المقدس کی طرف پڑھی جا چکی ہیں، ان کا کیا حشر ہوگا ؟ اور اس کا جواب بھی…
Read the full tafseer →شان نزول : لیس علی الذین آمنوا وعملوا الصالحات، لباب میں مسند احمد سے بروایت ابوہریرہ منقول ہے کہ جب مذکورہ آیت میں تحریم خمر و میسر نازل ہوئی تو بعض لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ بہت سے لوگ جو کہ شراب پیتے تھے اور قمار کا مال کھاتے تھے، تحریم سے پہلے مرگئے ان کا کیا حال ہوگا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے تو جو شراب انہوں نے (حرمت سے پہلے) پی لی اور جو جوئے کا مال (حرمت سے پہلے) کھالیا اس کا کوئی گناہ ان پر نہیں ہے۔
اذا ما اتقوا جب کہ وہ شرک سے بچ گئے۔
وامنوا اور انہوں نے اللہ کو مان لیا۔
وعملوا الصلحت اور (ایمان کے بعد) نیک کام کئے۔
ثم اتقوا پھر (شراب اور جوئے کی حرمت کے بعد دونوں سے) بچے رہے۔
وامنوا اور (دونوں کی حرمت کو) مان لیا۔
ثم اتقوا پھر (تمام ممنوعات سے) بچے رہے۔ یا اوّل بچنے سے مراد ہے شرک سے بچا رہنا اور دوسرے تقویٰ سے مراد ہے ممنوعات سے بچنا اور تیسرے تقویٰ سے مراد ہے شبہ کی چیزوں سے بچا…
Read the full tafseer →(93) مہاجرین وانصار میں سے کچھ حضرات نے رسول اکرم ؓ سے عرض کیا کہ ہم میں سے کچھ حضرات شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے انتقال کرگئے اور انہوں نے شراب پی ہے تو ان کا کیا ہوگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان مومنین پر جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم بجا آوری کی، شراب کی حرمت سے قبل شراب پینے میں خواہ وہ زندہ وہوں یا انتقال فرما چکے ہوں کوئی گناہ نہیں، جب کہ وہ کفر وشرک اور فواحش سے بچتے اور ایمان اور حقوق اللہ کے پابند تھے اور پھر جو زندہ حضرات موجود ہیں، وہ شراب کی حرمت کے بعد اس سے بچتے ہوں اور انہوں نے اس کا پینا بالکل چھوڑ دیا ہو تو اللہ تعالیٰ اطاعت شعار لوگوں کو پسند فرماتے…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ۔۔ : یعنی اس کی حرمت سے پہلے ایمان اور عمل صالح والے جو لوگ شراب پیتے رہے اور جوا کھیلتے رہے، ان پر اس سے کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ یہ آیت اس وقت اتری جب شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ یہ کہنے لگے کہ ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے اور جوا کھیلتے تھے اور ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کیا بدلہ ملے گا جو جنگ احد میں شہید ہوگئے، حالانکہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی۔ (کبیر، ابن کثیر)
اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا۔۔ : یہاں تقویٰ کا حکم تین دفعہ دینے سے مراد یا تو تاکید ہے یا پہلے ”اتقوا“ سے مراد شرک سے بچے، دوسرے تقویٰ سے مراد شراب سے بچے اور تیسرے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 93
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت براء بن عازب اور حضرت انس بن مالک نے کہا : جب شراب کی تحریم نازل ہوئی تو بعض صحابہ نے کہا : جو لوگ ہمارے فوت ہوچکے ہیں جب کہ وہ شراب پیتے تھے اور جوئے کا مال کھاتے تھے ان کا کیا ہوگا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی (2) ۔ امام بخاری نے حضرت انس سے روایت کیا ہے فرمایا : میں ابو طلحہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلارہا تھا تو شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا، آپ ﷺ نے ندا کرنے والے کو ندا کرنے کا حکم دیا۔ ابو طلحہ نے کہا : باہر نکلو اور دیکھو یہ کیسی آواز ہے ؟ فرمایا : میں نکلا تو میں نے کہا : یہ منادی ندا کر رہا ہے کہ شراب حرام ہوگئی ہے۔ ابو…
Read the full tafseer →جوا کھیلنے کی نحوست
(81) امام عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ میسر جوا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی اپنے اہل و عیال پر جوا کھیلتا اور مال سے محروم ہوجاتا پھر غمگین ہوتا جب اپنا مال دوسرے کے ہاتھ میں دیکھتا تو اس طرح یہ چیز ان کے درمیان دشمنی اور بغض کو پیدا کرتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور اس میں یہ بات گزر چکی ہے کہ یہ ناپاک ہے۔ اور شیطان کے عمل میں سے ہے سو تم اس سے بچ جاؤ شاید کہ تم فلاح پاؤ۔
(82) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے لیث کے طریق سے عطاء طاؤس اور مجاہد (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →لَيْسَ [ نہیں ہے ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان پر جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] جُنَاحٌ [ کوئی گناہ ] فِيْمَا [ اس میں جو ] طَعِمُوْٓا [ کھایا پیا ] اِذَا مَا [ جبکہ وہ ، جو ] اتَّقَوْا [ انھوں نے تقوی کیا ] وَّاٰمَنُوْا [ اور ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] ثُمَّ [ پھر ] اتَّقَوْا [ انھوں نے ( مزید) تقوی کیا ] وَّاٰمَنُوْا [ اور (مزید ) ایمان لائے (یعنی پختہ کیا ) ثُمَّ [ پھر ] اتَّقَوْا (مزید ) تقوی کیا ] وَّاَحْسَنُوْا ۭ [ اور بلاکم وکاست کام کیا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يُحِبُّ [ پسند کرتا ہے ] الْمُحْسِنِيْنَ [ بلاکم…
Read the full tafseer →حرمت کی خبر سن کر صحابہ ؓ نے راستوں میں شراب بہا دی
حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ میں ابو طلحہ ؓ کے گھر میں حاضرین کو شراب پلا رہا تھا ( یہ حضرت انس ؓ کے سوتیلے باپ تھے) اسی ثناء میں حکم نازل ہوگیا کہ شراب حرام ہے باہر سے آنے والی ایک آواز سنی کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی شخص اعلان کر رہا ہے، ابو طلحہ ؓ نے کہا کہ باہر نکلو یہ دیکھو یہ کیا آواز ہے ؟ باہر نکلا تو میں نے واپس ہو کر بتایا کہ یہ پکارنے والا یوں پکار رہا ہے کہ خبردار شراب حرام کردی گئی ہے، یہ سن کر ابو طلحہ ؓ نے کہا جاؤ یہ جتنی شراب ہے سب کو گرا دو ۔ چناچہ شراب پھینک دی گئی جو مدینہ کی گلیوں میں بہہ رہی تھی۔
بعض صحابہ کو یہ خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
حکم ہفدہم تحریم خمروقمار۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انماالخمر۔۔۔۔ الی۔۔۔ المحسنین۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں حلال کو حرام سمجھنے کی ممانعت تھی اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جیسے حلال کی حرام سمجھنا گناہ ہے ایسے ہی حرام کو حلال سمجھنا بھی گناہ اور حرام ہے جیسے شراب اور جوا وغیرہ وغیرہ، اہل عرب شراب اور جوے کو حلال اور طیب سمجھتے تھے اللہ نے یہ بتلا دیا کہ یہ چیزیں حلال اور طیب نہیں بلکہ خبیث اور جس میں ان سے اجتناب ضروری ہے اور انکا استعمال حرام ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حرام کردیا اس کے قریب نہ جاؤ جزایں نیست کہ شراب اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
155 یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ یعنی جو لوگ اب تک شراب پیتے رہے، جوا کھیلتے رہے اور غیر اللہ کی نذریں نیازیں کھاتے رہے اور نزول تحریم سے پہلے ہی فوت ہوگئے ان کا کیا ہوگا۔ تو اس کے جواب میں فرمایا کہ جو مومنین نزول تحریم سے پہلے مذکورہ بالا اشیاء کھاتے پیتے رہے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں اِذَا مَا اتَّقَوْا جب کہ وہ شرک سے بچے رہے اور صدق دل سے ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا پھر اس اتقاء عن الشرک اور ایمان خالص پر قائم رہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا (حجرات ع 3) ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا پھر وہ اتقاء کامل یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
ربط آیات
گزشتہ درس میں حلت و حرمت کا قانون بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جن پاک چیزوں کو اس نے حلال قرار دیا ہے ان کو حرام نہ بنائو۔ نہ تو اعتقاداً انہیں حرام سمجھو اور نہ قسم اٹھا کر از خود اپنے لئے حرام قرار دو ، بلکہ ان سے استفادہ حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کچھ مزید محرمات کا ذکر کیا ہے اور حرام کردہ اشیاء سے بچنے کا حکم دیا ہے حرام کردہ اشیاء میں یقینا کوئی دینی ، دنیاوی ، جسمانی یا روحانی نقصان ہے جس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جس طرح حلال چیز کو حرام کرلینے سے فساد پیدا ہوتا ہے اور اجتماعی مصلحت خراب ہوتی ہے۔ اسی طرح حرام چیز کو…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا 0ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ 93ۧ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
ترکیب : رجس موصوف من عمل الشیطن صفت خبر ہے انما الخمر کی فی الخمر والمیسر متعلق ہے یوقع سے ویصد اس پر
معطوف ہے عن ذکر اللّٰہ جاریصد سے متعلق وعن الصلوٰۃ اس پر معطوف۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ سے مناظرہ ختم کرکے احکام شروع کئے تو یہ ان کی تیسری قسم ہے۔ اول تو لاتحرموا۔ دوم قسم کے مسائل لاتحرموا میں اس بات کی طرف وہم جاسکتا تھا کہ شراب بھی تو ایک مزہ دار چیز ہے اسی طرح جو ابھی سو یہ بھی حلال ہوں۔ اس لئے تصریح کردی کہ یہ چیزیں طیبات میں داخل نہیں اس لئے رجس اور عمل شیطانی ہیں۔ خمر ٗ شراب ٗ میسر جوا ٗ انصاب ان گھڑت پتھر کہ جن کو ایام جاہلیت میں پوجتے تھے صنم تو ترشی ہوئی مورت اور نصب ان گھڑت پتھر ‘…
Read the full tafseer →لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَامَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ط وَ اللہ ُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 93)
” ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں پر اس چیز کے باب میں کوئی گناہ نہیں جو انھوں نے کھائی ‘ جب کہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ‘ ایمان لائے اور عمل صالح کیا ‘ پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے ‘ پھر تقویٰ اختیار کیا اور خوبی کے ساتھ اس کا حق ادا کیا اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے “۔
صحابہ ( رض) کے دلوں میں جو شبہات اور خیالات پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول نے خمر، جوئے اور دیگر محرمات سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ اس حکم پر عمل کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچو۔
قرآن مجید نے بار ہا اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ رسول کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پیغام من و عن لوگوں تک پہنچائے اور اس پر خود عمل کرکے اپنے آپ کو نمونہ کے طور پر پیش کرے۔ تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ یہاں یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ممنوعات سے بچنا اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے۔
اس بات کو اس طرح بھی بیان فرمایا جو کچھ تمہیں رسول دیتا ہے اسے قبول کرو اور جس سے روکتا ہے اس سے رک جاؤ کیونکہ جس نے رسول…
Read the full tafseer →آیت 93… تحریم قبل استعمال میں گناہ نہیں جبکہ اس وقت کے احکام پر عمل پیرا ہوں :
: یہ ان لوگوں کے بارے میں اتری جو شراب و جوئے کے تحریم سے قبل کچھ عادی تھے۔ لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْا۔ (ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے کچھ گناہ نہیں ‘ اس میں انہوں نے کمایا) ۔ یعنی انہوں نے شراب پی اور تحریم سے قبل جوئے کا مال کھایا۔ اِذَا مَااتَّقَوْاجب کہ وہ شرک سے بچتے ہوں۔ وَّ ٰامَنُوْا اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوں۔ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰت اور ایمان کے بعد عمل صالح کرنے والے ہوں۔ ثُمَّ اتَّقَوْا پھر تحریم کے بعد شراب اور جوئے سے بچنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
آیت نمبر 94, 93, 92
تفسیر :(واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واحذروا اور حکم مانو اللہ کا حکم مانو رسول اللہ ﷺ کا اور بچتے رہو) حرام چیزوں اور جن کاموں سے روکا گیا ان کے کرنے سے ( فان لولیتم فاعلموا انما علی رسولنا البغ المبین پھر اگر تم پھر جائو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف پہنچا دینا ہے کھول کر) شراب پینے والے کی وعید میں ابن عمر رضی ؓ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے اور اللہ پر پختہ بات ہے کہ جو آدمی دنیا میں اس کو پئے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو طینۃ الخبال پلائیں گے اور تم جانتے ہو کہ طینۃ الخبال کیا ہے ؟ جہنمیوں کا پسینہ اور ابن عمر ؓ سے…
Read the full tafseer →نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں اس آیت کا شان نزول جو بیان کی گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ چند صحابہ احد کی لڑائی کے وقت شراب کے نشہ کی حالت میں شہید ہوچکے تھے اس لئے شراب کے حرام ہوجانے کے وقت صحابہ کو ان شہیدوں کے حال پر بڑا افسوس ہوا کہ بڑی چیز ان کے پیٹ میں تھی جس وقت وہ شہید ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ اس وقت جتنے کاموں کا اللہ کا حکم تھا جب انہوں نے وہ کام کئے تو جس چیز کے حرام ہونے کے وقت وہ موجود ہی نہیں تو اس چیز کے حرام ہونے کے پہلے کے استعمال سے ان پر کچھ گناہ نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 93
جب شراب کی تحریم، ممانعت کی تاکید اور اس کی بابت سخت حکم نازل ہوا، تو بہت سے اہل ایمان کی خواہش تھی کہ انہیں اپنے ان مومن بھائیوں کے بارے میں معلوم ہو جو حالت اسلام میں فوت ہوئے اور شراب کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے، چناچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لیس علی الذین امنوا و عملوا الصلحت جناح) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں۔ “ یعنی ان پر گناہ اور حرج نہیں ہے (فیما طعموآ) ” اس میں جو کچھ پہلے کھاچکے “ یعنی شراب اور جوئے کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے۔ چونکہ نفی حرج مذکورہ اشیا وغیرہ کو شامل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس…
Read the full tafseer →قول باری ہے (لیس علی الذین امنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی) حضرت ابن عباس، حضرت جابر، حضرت براء بن عازب، حضرت انس بن مالک، حسن مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ کچھ صحابہ کرام ایسے تھے جو شراب کا استعمال کرتے تھے لیکن حرمت کے نزول سے پہلے وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔
جب صحابہ کرام نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا کہ ان کا کیا بنے گا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ عطاء بن السائب سے روایت ہے۔ انہوں نے عبدالرحمٰن السلمی سے اور انہوں نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں شام…
Read the full tafseer →235 ایمان اور عمل صالح ذریعہ نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ انہوں نے کھا پی لیا ان حرام چیزوں میں سے جن کی حرمت کا حکم بعد میں نازل ہوا کہ وہ اس کے مکلف اور پابند تھے ہی نہیں۔ اس لئے نہی کا حکم نازل ہونے سے پہلے جو کچھ ہوگیا اس سے متعلق ان پر کوئی گناہ نہیں۔ سو ایمان صادق ایک عظیم الشان اور انقلاب آفریں دولت ہے جسکے بعد ہر حالت خیر ہی خیر ہے۔ اور جس کے بعد کسی بھی صورت میں ناکامی اور خسارے کا کوئی سوال نہیں بشرطیکہ ایمان سچا ایمان ہو اور بندئہ مومن اپنے ایمان کے مقتضیٰ پر صدق دل سے عمل کرتا ہو ۔ وَباللّٰہِ التوفیق…
Read the full tafseer →حرمت شراب سے قبل پر کوئی گرفت نہیں
تشریح : جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پہلے شراب سے بچنے کا حکم ہوا پھر شراب کی برائیاں بتا کر بچنے کا حکم ہوا۔ پھر شراب کو مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا تو اس آیت میں ان لوگوں کے بارے میں تفصیلات بتائی گئی ہیں جو حرام کے حکم آنے سے پہلے شراب پیتے رہے جبکہ ایمان لا چکے تھے تو ان کے لئے وضاحت کی گئی ہے کہ حکم آنے کے بعد اگر کوئی مومن شراب پیے گا تو اس کی پکڑ ضرور ہوگی لیکن حرام کا حکم آنے سے پہلے جو ہوگیا سو ہوگیا معاف ہے مگر شرط یہ ہے کہ آئندہ ان تمام احکامات کی سختی سے پابندی کرے جو اوپر آیت میں بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ رب العزت نیک کردار بندوں کو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
رکوع نمبر 12 ۔ آیات 87 تا 93 ۔
اسرار و معارف : چونکہ نصاری میں رہبانیت کا ذکر چل رہا تھا اور یہ خیال بھی نہ کیا جائے کہ عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں ہاں یہ فرمایا گیا کہ یہودیوں میں بہت ہی کم لوگ اصلاح پذیر ہوئے اتنے کم کہ قوم کے مقابلے میں قابل ذکر تعداد نہیں ، لیکن عیسائیوں میں پھر ان کی نسبت زیادہ لوگ مشرف باسلام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں تارک الدنیا قسم کے لوگ تھے جنہیں کوئی لالچ نہ تھا حق کو دیکھا اور قبول کرلیا تو وہ ان کا اپنا دین تھا بہرحال اچھا وہی جو اسلام قبول کرلے ورنہ کوئی خوبی ہے نہ اسلام دوستی۔ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رہبانیت یا لذیذ چیزوں کو چھوڑ دینا یا گھر…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اس کی حرمت کے نزول سے پہلے جو لوگ شراب نوشی ی قمار بازی کرتے رہے ہیں ان پر اس سے کر ئی مواخذہ نہیں ہوگا یہ آیت اس وقت اتری جب شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ ؓ یہ کہنے لگے کہ ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے اور جوا کھلیتے تھے اور اسی طرح ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ح سے کیا بدلہ ملے گا جو جنگ احد میں شہید ہوگئے حلا ن کہ ان کے پیٹو میں شراب تھی ( کبیر، ابن کثیر )
9 یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں مکرر تقوٰیٰ اور ایمان حکم صرف تاکید کے لیے ہو۔ اور دوسرا مطلب وہ ہے جس کی طرف مترجم نے قوسین کے درمیان دی ہوئی وضاحت سے اشارہ فرمایا ہے بعضج نے لکھا ہے کہ اول مرتبہ تقوی ٰ…
Read the full tafseer →(5:93) اس آیۃ میں الفاظ امنوا ۔ عملوا الصلحت۔ اتقوا۔ بہ تکرار استعمال ہوئے ہیں بعض کے نزدیک یہ تکرار تاکید و مبالغہ کے لئے ہے اور ایمان و تقویٰ اور ان پر مزید درجۂ احسان حاصل کرنے کے لئے ابھارنے اور جوش دلانے کے لئے ہے۔
اور بعض کے نزدیک علی الذین کے متصل امنوا وعملوا الصلحت زمانہ ماضی کے متعلق ہے یعنی وہ لوگ جو صاحب ایمان تھے اور نیک اور صالح اعمال کے حامل تھے اگر حرمت سے پہلے انہوں نے میسرو انصاب وازلام سے کام لیا تو ان کو وہ معاف ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی اذا ما شرط کے لئے ہے اور اس سے متصل اتقوا وامنوا وعملوا الصلحت مستقبل کے لئے ۔ یعنی بشرطیکہ وہ آئندہ بھی ڈرتے رہیں گے ان چیزوں سے جو حرام کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 93
لغات القرآن : جناح (گناہ) ۔ طعموا (انہوں نے کھایا) ۔
تشریح : حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ جب خمر اور میسرہ وغیرہ کے حرام مطلق ہونے کے متعلق مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں تو سوال اٹھا ان لوگوں کا کیا بنے گا جو ایمان بھی رکھتے تھے اور نیک اعمال بھی بجالاتے تھے لیکن حرام چیزیں استعمال کرتے تھے چونکہ یہ آیات نازل نہیں ہوئی تھیں اور انہیں کچھ خبر نہ تھی۔ ان میں کچھ تو اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور کچھ زندہ ہیں۔
اس آیت میں جواب دیا گیا ہے کہ احکام نازل ہونے سے پہلے جو کچھ وہ کھاپی گئے سب معاف ہے۔ مگر ان احکام آنے کے بعد وہ عام معافی اٹھ گئی۔ اب شرط ہے کہ ایمان اور عمل صالح کو برقرار رکھیں…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ چند صحابہ احد کی لڑائی میں شہید ہوچکے تھے، جو شراب پیا کرتے تھے، اس لئے شراب کے حرام ہوجانے کے وقت صحابہ کرام کو ان شہیدوں کے حال پر بڑا افسوس ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اس وقت جتنے کاموں کا اللہ تعالیٰ کا حکم تھا جب انہوں نے وہ کام کئے تو جس چیز کے حرام ہونے وقت وہ موجود ہی نہیں تو اس چیز کے حرام ہونے کے پہلے استعمال سے ان پر کچھ گناہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
[53] شراب کی حرمت کے سلسلے میں اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے ( سورة بقرہ، آیت 219 صفحہ 64 اور سورة نساء آیت 43 صفحہ 186) اس آیت میں شراب کو گندگی اور شیطانی کام ٹھہرا کر صاف صاف اس کی حرمت کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سے احتراز کو موجب فلاح کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
بےعلم معذور ہیں :
(ف 2) تکالیف شرعیہ کا اطلاق علم کے بعد ہوتا ہے ایک شخص جو یہ نہیں جانتا کہ اسلامی تعلیمات کیا ہیں ، وہ مکلف بھی نہیں کہ اسلامی احکام کو بجا لائے ۔ جب حرمت شراب کی آیات نازل ہوئیں ، تو صحابہ کرام ؓ اجمعین کو بالطبع ان لوگوں کو خیال آیا ، جو شراب کی مضرت سے آگاہ نہیں ‘ یا جو ان آیات کے نزول سے پہلے فوت ہوچکے ہیں اور شراب کے عادی تھے ، اس لئے پوچھا کہ حضور ﷺ ان کا کیا حشر ہوگا ، کیا وہ بھی ماخوذ ہوں گے ؟ جوابا یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر مے نوشی نے ان کے اخلاق پر برا اثر نہیں ڈالا ، اور وہ پاکباز رہے ہیں ، تو عند اللہ معذور ہیں ، بعض ملاحدہ نے آیت کا مفہوم یہ سمجھا ہے ، کہ اس میں…
Read the full tafseer →-93 ان لوگوں پر جو حلال و حرام پر ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے اس کا کوئی گناہ نہیں جو وہ کسی شئی کو اس کی حرمت سے قبل کھاپی چکے جب کہ وہ حرام چیزوں سے پرہیز کرتے تھے اور ایمان پر قائم تھے اور نیک عمل کے پابند تھے پھر کوئی چیز اگر حرام ہوئی تو اس سے بھی انہوں نے پرہیز کیا اور اس کی حرمت پر ایمان لائے پھر کوئی شئی حرام کی گئی تو اس سے بھی اجتناب اور پرہیز کیا اور نیک روش پر چلتے رہے یعنی جو لوگ اہل ایمان ہیں اور عمل صالح کے پابند ہیں انہوں نے اگر کسی ایسی چیز کو اسعتمال کیا جو مباح تھی اور بعد میں اس کی حرمت نازل ہوگئی تو اس زمانہ مباح کے استعمال کا ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا پھر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
ف 5۔ حاصل یہ ہوا کہ یہ خمر ومیسر بت پرستی اور کفر کے قریب قریب اس لیے ہیں کہ نماز سے جو کہ ایمان کے اعظم شعائر اور علامات ایمان سے ہے مانع ہے جب اس طور پر ایمان سے بعد ہوا تو کفر سے قرب ہوا۔
Read the full tafseer →ایمان لانے سے پہلے جو ہوا سو ہوا اس پر گرفت نہیں ہوگی :
220: ایک مؤمن کی کیا شان ہے ؟ یہی کہ جب وہ کوئی بات سنتا ہے کہ یہ اسلام کے منافی ہے تو اس کے قریب تک نہیں جاتا۔ شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ لوگ جو مدت سے اس کے عادی چلے آرہے تھے انہوں نے گھر میں پڑی شراب کو حکم سنتے ہی انڈیل دیا اور بعض نے تو وہ برتن تک توڑ پھینکے جن میں شراب پڑی تھی یا جن میں شراب کا دور چلتا تھا ۔ جب وہ یہ سب کچھ کرچکے تو ان کا خیال اپنے ان عزیزوں ، دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف گیا جو شراب کی حرمت سے پہلے ہی وفات پاگئے تھے یا شہید ہوچکے تھے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے متعلق پوچھنا شروع کیا جس کا جواب آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
Sequence of Verses
A report from Sayyidna Abu Hurairah ؓ appearing in the Musnad of Ahmad, quoted in Al-Lubab, says: When the Verse forbidding drinking and gambling had been revealed, some people asked the Holy Prophet ﷺ that there were many people who drank wine and lived off earnings from gambling and then died before these were forbidden. What would happen to them, now that we know about these being حَرَام haram? Thereupon, the verse : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا (On those who believe and do good deeds, there is no sin ...) was revealed.
In a verse appearing earlier (87): يَا أَيُّهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
108.For 'altars' and divination by arrows see (nn.12)and 14)above. For games of chance see (n. 14) above.
While divination by arrow-shooting essentially constitutes a game of chance there is nevertheless a certain difference between the two, since divination by arrow-shooting, in addition to being a game of chance, is also tainted with polytheistic beliefs and superstitions. As for games of chance, this expression is applied to those games and acts in which accidental factors are considered the criteria for acquisition, fortune-making and the division of goods and property.
109. In this verse…
Read the full tafseer →