Ayah 5:1ایفائے عہد کا حکم اور چوپایوں اور شکاری جانوروں سے متعلقہ بعض احکام
سورۂ مائدہ کی ابتداء ایفائے عقود یعنی عہدوں کو پورا کرنے کے حکم سے ہے ارشاد فرمایا (یٰأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓا اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ ) اے ایمان والو ! اپنے عہدوں کو پورا کرو۔ عہدوں کو پورا کرنا ایمانی تقاضا ہے اور بد عہدی ایمان کے خلاف ہے اس میں وہ عہد بھی داخل ہے جو بندوں نے اللہ سے کیا ہے، جب کسی نے اسلام قبول کرلیا تو اس نے یہ عہد کرلیا کہ میں اللہ کے تمام اوامر کو مانوں گا اور جو بھی احکام ہونگے ان سب پر عمل کروں گا اور جن چیزوں سے منع فرمایا ہے ان سب سے بچتا رہوں گا۔ خواہ اللہ کی کتاب قرآن مجید میں اوامر ونواہی ہوں اور خواہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے بھیجے ہوں۔
درمنثور ص 258 ج 2 بحوالہ بیہقی وغیرہ حضرت ان عباس ؓ سے نقل کیا ہے اور اوفو بالعقودای بالعھود ما أحل اللہ وما حرم وما فرض وما حد فی القراٰن کلہ لا تغدروا ولا تنکثوا (یعنی عہد پورا کرو اللہ نے جو حلال قرار دیا ہے اور حرام قرار دیا ہے اور جن چیزوں کو فرض کیا اور جو قرآن میں حدود بیان کیں ان سب احکام پر عمل کرو۔ ان کی ادائیگی میں کوئی عذر نہ کرو اور عہد شکنی نہ کرو) ۔
سورۂ نحل میں فرمایا (وَاَوْفُوْ ا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عَاھَدْتُّمْ وَلاَ تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْ کِیْدَھَا وَقَدْ جَعَلْتُمْ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلاً اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَاتَفْعَلُوْنَ ) (اور تم اللہ کا عہد پورا کرو جب تم عہد کرو، اور مت توڑو قسموں کو ان کو پکا کرنے کے بعد حالانکہ تم نے اپنے اوپر اللہ کو ضامن بنا لیا ہے، بےشکل اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو) سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَاَوْفُوْا بالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَکَانَ مَسْءُوْلاً ) (اور تم عہد کو پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا) سورة رعد میں فرمایا (اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہَِ ولاَ یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقِ ) (وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں جو پورا کرتے ہیں اللہ کے عہد کو اور عہد کو نہیں توڑتے۔
سورۂ نحل میں (وَاَوْفُوْ ا بِعَھْدِ اللّٰہِ ) فرمایا اور سورة مائدہ میں (اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ ) فرمایا عقود، عقد کی جمع ہے عقد عربی زبان میں باندھنے کو کہتے ہیں آپس میں جو معاملات طے کئے جاتے ہیں ان کو عقد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے عہد ہوا ہے وہ بھی عقد ہے جس میں نذر بھی داخل ہے اور جو بندوں سے معاملات طے کئے جائیں وہ بھی عقد ہے۔
عقود کی قسمیں
حضرت زید بن اسلم تابعی نے سورة مائدہ کی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا عقود پانچ ہیں (1) عقد نکاح (2) عقد شرکت (3) عقد یمین (یعنی قسم) (4) عقد حلف (حلف سے یہ مراد ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کا حلیف ہوجائے اور آپس میں یہ طے کرے کہ فلاں فلاں امور میں ہم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرینگے (5) عقد عہد، وہ وعدہ یعنی جو آپس میں کرلیا جائے۔ اگرچہ دونوں جانب سے نہ ہو۔ جماعتوں یا حکومتوں کے جو باہمی معاہدات ہیں یا دو انسانوں کے آپس میں جو معاملات ہیں نکاح اور شرکت اور مضاربت اجارہ وغیرہ ان سب معاہدات میں ان سب شرطوں کی پابندی لازم ہے جو آپس میں طے ہوجائیں بشرطیکہ خلاف شرع نہ ہوں اگر کوئی شخص نذر مان لے تو اس کا پورا کرنا بھی واجب ہے لیکن گناہ کی نذر ماننا جائز نہیں اگر کوئی شخص گناہ کی نذر مان لے تو اس پر عمل نہ کرے اور خلاف ورزی کا کفارہ دیدے اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے و فی الحدیث۔ ومن نذر نذراً فی معصیۃ فکفارتہ کفارۃ یمین، وفی حدیث اخر، انہ لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللّٰہ ولا فیما لا یمل کہ ابن اٰدم رواھما ابو داؤد۔ عقود کو پورا کرنے کا حکم دینے کے بعد بعض احکام ذکر فرمائے۔
بِھِیْمَۃُ الْاَنْعَام حلال کر دئیے گئے
پہلا حکم بیان فرمایا کہ (اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ ) کہ تمہارے لئے چوپائے حلال کئے گئے جو انعام کے مشابہ ہیں) بہیمہ ہر اس جانور کو کہتے ہیں جس کے چار پاؤں ہوں اور انعام عموما اونٹ گائے بکری کے لئے بولا جاتا ہے انعام کا حلال ہونا پہلے سے مخاطبین کو معلوم تھا۔ جن جانوروں پر انعام کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن وہ شکل و صورت میں انعام کی طرح سے ہیں جیسے ہرن، نیل گائے، شتر مرغ ان کا حلال ہونا مشروع فرما دیا۔ لفظ بَھِیْمَۃُ کی اضافت جو لفظ انعام کی طرف ہے اس کے بارے صاحب روح المعانی نے بعض حضرات کا یہ قول لکھا ہے کہ یہ اضافت بیانیہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ مشابہت بیان فرمانے کے لئے اضافت کو اختیار فرمایا اور مطلب یہ ہے کہ بہائم جو انعام کے مشابہ ہیں وہ تمہارے لئے حلال کئے گئے اور مشابہت اس بات میں ہے کہ وہ دوسرے جانوروں کو چیر پھاڑ کر نہیں کھاتے۔
پھر جب ( بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَام) کی حلت ذکر فرما دی اور اس میں وحشی جانور بھی داخل ہوگئے جن کا شکار کیا جاتا ہے) تو اس سے شکار کی اجازت بھی معلوم ہوگئی لیکن چونکہ حالت احرام میں شکار کرنا ممنوع ہے (حج کا احرام ہو یا عمرہ کا) اس لئے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا (غَیْرَ مُحِلِّیِ الصَّیْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ) کہ تمہارے لیے یہ جانور حلال کیے گئے اس حال میں کہ حالت احرام میں تم ان کا شکار کرنے کو عملاً واعتقاداً حلال نہ سمجھو۔
بہیمۃ الانعام کی حلت بیان فرماتے ہوئے بطور استثناء (اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ ) فرمایا مطلب یہ ہے کہ جو جانور تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں ان میں سے وہ جانور مستثنیٰ ہیں جن کا تذکرہ ایک آیت کے بعد (حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ ) (الایۃ) میں فرمایا ہے سورة بقرہ اور سورة انعام اور سورة نحل میں بھی ان میں سے بعض چیزوں کا ذکر ہے۔ پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ) (شک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہتا ہے) اس کی مشیت حکمتوں کے مطابق ہے۔ قال صاحب الروح من الاحکام حسب ما تقتضیہ مشیّہ المبنیۃ علی الحکم البالغۃ التی تقف دونھا الْاَفْکَار فیدخل فیھا ماذکرہ من التحلیل والتحریم دخولا اولیا۔
Ayah 5:2لَا تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہَ کا سبب نزول
اس کے بعد فرمایا (یٰٓأَیُّھَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتُحِلُّوْا شَعَآءِرَاللّٰہِ ) (الایۃ) اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں مفسرین نے حضرت عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ شریح بن ضبیعہ کندی یمامہ سے مدینہ منورہ آیا یمامہ ایک علاقہ کا نام ہے اس نے اپنے ساتھیوں کو جو گھوڑوں پر سوار تھے مدینہ منورہ کے باہر چھوڑ دیا اور تنہا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور کہنے لگا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں آپ نے فرمایا میں لَا الہ اِلَا اللّٰہکی اور نماز قائم کرنے کی اور زکوٰۃ ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں ٗ کہنے لگا کہ یہ تو اچھی بات ہے مگر میرے چند امراء ہیں میں ان کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا امید ہے کہ میں مسلمان ہوجاؤں گا اور ان کو بھی ساتھ لے آؤں گا اس کے آنے سے پہلے آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرما دیا تھا کہ ایک آدمی آرہا ہے جو شیطان کی زبان سے بات کرے گا جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا کافر کا چہرہ لے کر داخل ہوا اور دھوکہ باز کے پاؤں کے ذریعہ باہر چلا گیا اور یہ شخض مسلم نہیں ہے جب یہ شخض مدینہ سے باہر نکلا تو وہاں جو جانور (اونٹ وغیرہ) چر رہے تھے انہیں لے کر چلا گیا، حضرات صحابہ نے اس کا پیچھا کیا لیکن اسے پکڑ نہ سکے اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ جب رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضاء کے موقع پر تشریف لے جارہے تھے تو یمامہ کے حجاج کے تلبیہ کی آواز سنی آپ نے فرمایا یہ حطم ہے اور اس کے ساتھی ہیں (حطم شریح بن ضبیعہ کا لقب ہے) ان لوگوں نے ان جانوروں کے گلے میں قلادے یعنی پٹے ڈال رکھے تھے جو مدینہ کے باہر چرنے والے جانوروں میں سے لوٹ کرلے گئے تھے اور ان جانوروں کی بطور ھدی کعبہ شریف کی طرف لے جارہے تھے اور ان کے ساتھ بہت سا تجارت کا سامان بھی تھا مسلمانوں نے عرض کیا یَا رَسُوْل اللّٰہ ! یہ حطم جار ہا ہے حج کے لئے نکلا ہے آپ اجازت دیجئے ہم اس کو لوٹ لیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس نے ھدی کے جانوروں کو قلادہ ڈال رکھا ہے لہٰذا ان کا لوٹنا صحیح نہیں مسلمانوں نے کہا یہ تو کوئی رکاوٹ کی چیز معلوم نہیں ہوتی یہ کام تو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے آنحضرت ﷺ نے انکار فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی جس میں شعائر اللہ کی بےحرمتی سے منع فرمایا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا شعائر اللہ سے مناسک حج مراد ہیں مشرکین حج بھی کرتے تھے اور کعبے شریف کی طرف جانوروں کو بھی لے جایا کرتے تھے مسلمانوں نے ان کو لوٹنا چاہاتو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا۔ حضرت عطاء سے مروی ہے کہ شعائر سے اللہ تعالیٰ کے حدود اور اوامر اور نواہی اور فرائض مراد ہیں۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ شعائر اللہ سے صفا مروہ اور وہ جانور مراد ہیں جو کعبہ شریف کی طرف بطور ھدی لے جائے جاتے ہیں۔
شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم
اللہ تعالیٰ نے شعائر کی تعظیم کے بارے میں سورة حج میں ارشاد فرمایا (وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَآءِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ ) (یعنی جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ قلوب کے تقویٰ کی بات ہے۔ )
شعائر اللہ کی بےحرمتی کی ممانعت کے بعد (اَلشَّھْرُ الْحَرَامُ ) کی بےحرمتی سے بھی منع فرمایا کہ اس میں کافروں سے جنگ نہ کی جائے، اور ھدی کی بےحرمتی کرنے سے بھی منع فرمایا۔ ھدی وہ جانور ہے جو کعبہ شریف کی طرف لے جایا جائے اور حدود حرم میں اللہ کی رضا کیلئے ذبح کردیا جائے۔ اور قلائد کی بےحرمتی سے بھی منع فرمایا، یہ قلادہ کی جمع ہے ھدی کے جانوروں کے گلوں میں پٹے ڈال دیا کرتے تھے تاکہ یہ معلوم ہو کہ یہ ھدی ہے اور کوئی اس سے تعرض نہ کرے۔ قلائد کی بےحرمتی کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ جن جانوروں کے گلوں میں یہ پٹے پڑے ہوں ان کی بےحرمتی نہ کی جائے ان کو لوٹا نہ جائے۔
بعض حضرت نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے اصحاب قلائدمراد ہیں کیونکہ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ مکہ معظمہ کے درختوں کی چھال لے کر اپنے گلوں میں ڈال لیا کرتے تھے۔
جب اشہرالحرم گزر جاتے اور گھروں کو واپس جانا چاہتے تو اپنے گلوں میں اور جانوروں کے گلوں میں یہ پٹے ڈالے رکھتے تھے تاکہ اپنے گھروں میں امن سے پہنچ جائیں۔
پھر فرمایا (وََلَآ ا آمِّیْنَ الْبَیْتَ الحَرَام) یعنی جو لوگ بیت حرام کا قصد کر کے جارہے ہوں ان کی بھی بےحرمتی نہ کرو اور ان سے تعرض نہ کرو۔ لفظ ” ا آمِیْن “ أَمَّ یَأَمُّ بمعنی قَصَدَ یَقصُدْ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اس کے عموم میں حج کی نیت سے جانے والے اور عمرہ کی نیت سے جانے والے سب داخل ہوگئے ان کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (یَبْتَغُوْنَ فَضْلَا مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرِضْوَانًا) (کہ یہ لوگ اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا مندی چاہتے ہیں) فضل سے مال تجارت کا نفع مراد ہے اور رضوان سے اللہ کی رضا مندی مراد ہے مشرکین جو حج کرتے تھے اپنے خیال میں وہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے حج کرتے تھے جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت تک مشرکین کو حج کرنے سے منع کیا گیا تھا اور مکہ معظمہ فتح نہیں ہوا تھا۔ بعد میں جب 8 ھ میں مکہ معظمہ فتح ہوگیا اور 9 ھ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی امارت میں حج ہوا تو یہ اعلان فرما دیا کہ اَلَا لاَیَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وََلَا یُطَوَّفَنَّ بالْبَیْتِ عُرْیَانًا کہ خبردار اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ (مشرکین ایسا کیا کرتے تھے) اور سورة براءۃ میں فرمایا (یٰٓاُیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااِنِّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوْا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا) (کہ اے ایمان والو ! مشرکین نجس ہیں سو مسجد حرام کے قریب نہ جائیں اس سال کے بعد لہٰذ اب کسی کافر کو حج کرنے کی اجازت نہیں۔ ) وہ ھدی اور قلائدلے کر آئے گا تو مامون نہ ہوگا مسلمانوں کے حق میں بدستور آیت کا سب مضمون باقی ہے حجاج بیت اللہ کو اور عمرہ کی نیت سے جانے والوں کو اور ھدی کو تعرض کرنا ممنوع ہے اشہر حرم میں جو کافروں سے قتال کی ممانعت تھی وہ منسوخ ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
احرام سے نکل کر شکار کرنے کی اجازت
پھر فرمایا (وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا) (کہ جب تم حلال ہوجاؤ یعنی قائدہ شرعیہ کے مطابق احرام سے نکل جاؤ تو شکار کرلو) یہ امرا باحت ہے مطلب یہ ہے کہ حالت احرام میں جو خشکی کا شکار کرنے کی ممانعت تھی اب احرام سے نکلنے کے بعد ختم ہوگئی۔ البتہ حرم کا شکار کرنا غیراحرام میں بھی ممنوع ہے جس کی تصریح احادیث شریفہ میں آئی ہے۔
کسی قوم کی دشمنی زیادتی پر آمادہ نہ کرے
پھر فرمایا (وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا) (کہ تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روک دیا اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرو) 6 ھ میں جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کیلئے تشریف لے جارہے تھے تو مشرکین مکہ نے آپ کو عمرہ نہیں کرنے دی اور حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا لہٰذا آپ اور آپ کے صحابہ محصر ہونے کی وجہ سے جانور ذبح کر کے احرام سے نکل گئے اور مشرکین سے چند شرطوں پر صلح ہوگئی۔ آپ مدینہ منورہ تشریف لائے اور اگلے سال عمرہ کی قضا کی، مشرکین مکہ نے صلح کی بعض شرطوں کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے آپ اپنا لشکر لے کر 8 ھ میں تشریف لے گئے اور مکہ معظمہ فتح ہوا۔ اب جب مسلمانوں کے ہاتھ میں اقتدار آگیا تو یہ صحابہ مشرکین مکہ سے بدلہ لے سکتے تھے۔ لہٰذا ان کو منع فرمایا کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں ظلم و زیادتی کرنے پر آمادہ نہ کرے۔
جب مسجد حرام سے روکنے والوں کے بارے میں یہ ارشاد ہے کہ ان کی دشمنی تمہیں ظلم و زیادتی پر آمادہ نہ کرے تو دنیاوی اعتبار سے جو رنجشیں اور دشمنیاں پیدا ہوجاتی ہیں ان کی وجہ سے کسی پر ظلم و زیادتی کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے اگر کوئی شخص ظلم کرے تو بہت سے بہت اس کے ظلم کے بقدر بدلہ لیا جاسکتا ہے اور معاف کردینا افضل ہے۔ ظلم کے بدلے ظلم کرنا یعنی جس سے کوئی تکلیف پہنچی ہے اس سے زیادہ تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ ہمیشہ عدل و انصاف پر قائم رہیں اس میں دوست دشمن سب برابر ہیں۔
اسی سورت کے دوسرے رکوع میں ارشاد ہے (وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَنْ لَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی) (کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ )
نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرنے کا حکم
اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی) (کہ آپس میں نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو) اس عمومی حکم میں سینکڑوں مسائل داخل ہیں۔ تعاون یعنی آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بہت سی صورتیں تو ایسی ہیں جو لوگوں نے اپنی دنیاوی ضروریات کے لئے اختیار کر رکھی ہیں کسی نے کپڑے کا کارخانہ جاری کر رکھا ہے اور کوئی شخص اپنی فیکٹری میں جوتے بناتا ہے، کسی نے پھلوں کے باغ لگائے ہیں، کسی نے کھیتی پر توجہ دی ہے۔ کسی نے انجینئرنگ کو اختیار کیا ہے اور تعمیرات کے نقشے بنانے کوا پنا پیشہ بنا رکھا ہے اور کسی نے نقشوں کے مطابق مکانات تعمیر کرنے کا کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ اسی طرح سے مل ملا کر دنیاوی حاجات اور ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔
جو بھی کوئی شخص کوئی بھی نیکی کرنے کا ارادہ کرے کسی بھی گناہ سے بچنا چاہے ہر شخص بقدرا پنی قوت و طاقت کے اس کی مدد کرے، جو لوگ علم دین حاصل کرنا چاہیں ان کی سب مدد کریں۔ مدرسے بنانے والوں کی، مسجد تعمیر کرنے والوں کی، مبلغین کی، مصنّفین کی، مجاہدین کی اور ہر نیک کام کرنے والوں کی مدد کی جائے یہ مومن کی زندگی کا بہت بڑا اصول ہے۔
یہ جو آج کل فضابنی ہوئے کہ جو شخص خیر کی دعوت لے کر کھڑاہو، خیر کے کام کرنے کے لئے فکر مند ہو، اس کی مدد کی طرف تو جہ نہیں کی جاتی یہ اہل ایمان کی شان کے خلاف ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جتنی زمین پر مسلمانوں کا قبضہ ہے سب کی ایک ہی حکومت ہوتی ایک امیر المومنین ہوتا، سب مل کر آپس میں تعاون کی زندگی گزارتے۔ امیر اور مامورمل کر باہم ایک دوسرے کی مدد کرتے لیکن جب بہت سی حکومتیں بنالیں اور ایک ہونے کو تیار نہیں تو کم از کم آپس میں تعاون تو رکھیں نہ ایک دوسرے سے لڑیں نہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں اور ہر کارخیر میں اور دینی امور میں ہر حکومت دوسری حکومت کے ساتھ تعاون کرے افراد ہوں یا جماعت سب باہمی تعاون کی زندگی اختیار کریں۔
مسلمانوں کی عجیب حالت
اگر مسلمانوں کا کوئی سربراہ اسلام کے مطابق حکومت چلانے کا اعلان کر دے یا اعلان کرنا چاہے تو عوام بھی مخالفت کرتے ہیں اور مغربی ذہن رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ بھی، اور کافروں کی حکومت بھی رخنہ ڈال دیتی ہیں اور مسلمانوں کی حکومتیں تعاون نہیں کرتیں۔ اس صورت حال کی وجہ سے اجتماعی اور انفرادی اعمال خیر میں جو تعاون ہوسکتا تھا اس کی صورتیں بنتی ہوئی بھی بگڑ جاتی ہیں۔
گناہ اور ظلم پر مدد کرنے کی ممانعت
پھر فرمایا (وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ) (اور نہ مدد کرو گناہ پر اور ظلم پر اور اللہ سے ڈرو ! بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے) ان الفاظ میں دوسرے رخ پر تنبیہ فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بر اور تقویٰ پر تو آپس میں تعاون کرو لیکن گناہ، ظلم اور زیادتی پر ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔ قرآن کریم کی یہ نصیحت بھی بہت اہم ہے۔ آج کل جہاں بر اور تقویٰ پر مدد کرنے کے جذبات سے مسلمان خالی ہیں، وہاں دوسرے رخ کے جذبات ان میں موجود ہیں گناہ اور ظلم و زیادتی پر کھلے دل سے مدد کی جاتی ہے۔
تعصب کی تباہ کاری
آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا معیار دنیاداری کے اصول پر رہ گیا ہے عموماً اپنوں کی مدد کی جاتی ہے، اپنوں میں اپنے رشتہ دار اپنے ہم زبان اپنے ہم وطن اپنی جماعت کا فرد اپنی پارٹی کا ممبر دیکھا جاتا ہے حق اور ناحق کو نہیں دیکھا جاتا۔ اگر دو آدمیوں میں کسی قسم کا جھگڑا ہو تو جو بھی ( کوئی شخص اپنا ہو جس کی قدرے تفصیل ابھی بیان ہوئی) بس اس کی مدد کی جاتی ہے اس کا دعویٰ ناحق ہو اور فریق ثانی پر ظلم کر رہا ہو تب بھی اس کا ساتھ دیں گے اور اس کی طرف سے بولیں گے یہ نہ دیکھیں گے کہ اس شخص کی زیادتی ہے جسے ہم اپنا سمجھ رہے ہیں ہم ظالم کے ساتھ کیوں ہوں۔ یہ ایک ایسی وباء ہے جس میں بہت سے دینداری کے دعویدار بھی ملوث ہوجاتے ہیں۔ گناہ اور ظلم پر مدد کرنا حرام ہے۔ ظالم اپنا ہو یا پرایا اس کی مدد کرنے کا شرعاً کوئی جواز نہیں۔ حضرت اوس بن شرحبیل ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ اس لئے گیا کہ اسے تقویت پہنچائے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو یہ شخص اسلام سے نکل گیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 436 از شعب الایمان)
گناہوں کی مدد کرنے کی چند صورتیں جو رواج پذیر ہیں
جس نوکری یا جس عہدہ کی وجہ سے گناہ کرنا پڑتا ہو ایسی نوکری اور ایسا عہدہ قبول کرنا حرام ہے گناہ کا قانون بنانا بھی حرام ہے کیونکہ اس سب میں گناہ کی مدد ہے گناہ کی اجرت بھی حرام ہے۔ اگر کوئی شخص شراب کے کارخانے میں کام کرے یا بنک میں کام کرے (کوئی بھی چھوٹا بڑا کام ہو) سٹے بازوں کے ہاں ملازم ہو یا کسی بھی طرح ان کا تعاون کرتا ہو، پولیس میں ملازم ہو جو غیر شرعی امور میں دوسروں کی مدد کرتا ہو یا رشوت لیتا ہو یا رشوت دینے دلانے کا واسطہ بنتا ہو یا جو شخص کسی ایسے محکمے کا ملازم ہو جس میں ٹیکس وصول کرنا پڑتا ہو تو یہ ملازمتیں حرام ہیں اور ان کی تنخواہیں بھی حرام ہیں۔ چوروں کی مدد ڈاکوؤں کی مدد، لوٹنے والوں کی مدد، غصب کرنے والوں کی مدد، ظالمانہ مار پیٹ کرنے والوں کی مدد یہ سب حرام ہے۔ کسی بھی گناہ کے ذریعہ جو پیسہ کمایاجائے وہ بھی حرام ہے۔
بہت سے لوگ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت تباہ کرتے ہیں یعنی ظلم اور گناہ پر مدد کرتے ہیں تاکہ کسی دوسرے کو نوکری یا عہدہ مل جائے یا قومی یا صوبائی اسمبلی کا ممبر ہوجائے الیکشن ہوتے ہیں ووٹر اور سپورٹر یہ جانتے ہوئے کہ جس امیدوار کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں یا جسے ہم ووٹ دے رہے ہیں یہ فاسق فاجر ممبر ہو کر اس کا فسق و فجور اور زیادہ بڑھ جائے گا پھر بھی اس کی مدد میں لگے ہوئے ہیں اس کو کامیاب کرنے کے لئے اس کے مقابل کی غیبتیں بھی کرتے ہیں اور اس پر تہمتیں بھی دھرتے ہیں حتیٰ کہ اس کی جماعت کے لوگوں کو قتل تک بھی کردیتے ہیں۔ یہ کتنی بڑی حماقت ہے کہ دنیا دوسرے کی بنے اور آخرت کی بربادی اپنے سر تھوپ لیں۔ اسی کو آنحضرت ﷺ نے ارشارد فرمایا من شرالناس منزلۃ یوم القیامۃ عبداذھب اٰخرتہ بدنیا غیرہ (قیامت کے دن بدترین لوگوں میں سے وہ شخص بھی ہوگا جس نے دوسرے کی دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت برباد کردی ) ۔ (رواہ ابن ماجہ باب اذالتقی المسلمان بسیفہما )
دیکھا جاتا ہے کہ جو شخص سنت کے مطابق کپڑے پہننا چاہے، شکل و صورت میں وضع قطع اسلامی رکھنا چاہے اس کے گھر والے، دفتر والے، بازار والے کوشش کرتے ہیں کہ یہ نیکی کا کام چھوڑ دے اور گناہ والی زندگی اختیار کرے اور ہمارے جیسا فاسق فاجر ہوجائے۔ خیر کے کاموں میں مدد دینے کو تیار نہیں لیکن اگر کوئی شخص گناہ گاری کے کام کرنے لگے تو اس کی مدد کرنے کے تیار ہیں۔ حرام کمائے، رشوت لے، داڑھی مونڈھے بیوی خوش، ماں باپ بھی خوش اور اپنے ماحول اور سوسائٹی کے لوگ بھی خوش۔ اور اگر حلال پر گزراہ کرنے کا خیال کرے تو سب ناراض۔ اپنے پاس سے ٹکٹ کے پیسے خرچ کر کے دوستوں کو سینماؤں میں رقص و سرور کی مجلسوں میں لے جاتے ہیں دھوکہ دے کر بال بر کی دکان میں لے جا کر اپنے دوست کی داڑھی منڈا دیتے ہیں اور پیسے بھی اپنے سے دے دیتے ہیں، موجودہ معاشرہ کا یہ جاہلانہ مزاج بنا ہوا ہے کہ نیکی کی مدد سے جان چراتے ہیں اور گناہوں کی مدد کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
سب کو معلوم ہے کہ یہ زندگی ہمیشہ نہیں ہے اور دنیا ختم ہوجائے گی اس کے ختم ہونے سے پہلے موجودہ دور کے افراد اپنی موت مرجائیں گے اس ذرا سی زندگی کو گناہوں میں پڑ کر اور گناہوں کی مدد کر کے برباد کرنا جس کے نتیجہ میں آخرت برباد ہو کوئی سمجھ داری کی بات نہیں ہے۔ ہر معاملہ میں آخرت کے لئے فکر مند ہونا لازم ہے۔ ہمیشہ اللہ سے ڈریں اور بار بار اس کا مراقبہ کریں اللہ جل شانہ، سخت عذاب دینے والا ہے۔ آیت کے ختم پر اسی کی طرف متوجہ فرمایا اور ارشاد فرمایا (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ) (اللہ سے ڈور بلا شبہ اللہ سخت عذاب والا ہے )