Al-Maaida 5:92

Al-Maaida · from ayah 92

5:92

وَاَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ۚ— فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۟وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاحۡذَرُوۡا‌ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And obey Allah and obey the Messenger and beware. And if you turn away - then know that upon Our Messenger is only [the responsibility for] clear notification.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 12 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:92

اللہ اور اُس کے رسول کی بات مانو اور باز آ جاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔ اگر اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اطاعت کرو، اور (نافرمانی سے) بچتے رہو۔ اور اگر تم (اس حکم سے) منہ موڑو گے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صاف صاف طریقے سے (اللہ کے حکم کی) تبلیغ کردیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور (خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت سے) بچتے رہو، پھر اگر تم نے رُوگردانی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ پر صرف (احکام کا) واضح طور پر پہنچا دینا ہی ہے (اور وہ یہ فریضہ ادا فرما چکے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور بچ جاؤ، پھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمے تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور (ان چیزوں سے) َبچو۔۔ پھر اگر تم نے حکم نہ مانا تو جان لو کہ ہمارے رسول پر تو صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور بچتے رہو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (دل کی خوشی سے) حکم مانو تم لوگ اللہ کا اور اس کے رسول کا، اور تم بچتے رہو، پھر اگر تم لوگ پھرگئے تو یقین جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے کھول کر

— مولانا اسحاق مدنی

اور اطاعت کرتے رہو اللہ کی اور رسول کی اور احتیاط رکھو اور اگر اعراض کروگے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور (ان کی نافرمانی سے) بچتے رہو پھر اگر تم پیٹھ موڑ لو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ پر تو ذمہ داری ہے ّ بس صاف صاف پہنچا دینے کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ اور رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ، لیکن اگر تم نے حکم نہ مانا تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Obey Allah and obey the Messenger, and beware. But if you turn away, then know well that Our Messenger had merely to deliver the message clearly.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Obey Allah, obey the Messenger, and be heedful. If you still turn back, be assured that the duty of Our Messenger is only to convey the Message clearly.

— Muhammad Taqi Usmani

Obey Allah, obey the Messenger, and be heedful. If you still turn back, be assured that the duty of Our Messenger is only to convey the Message clearly.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And obey Allah and obey the Messenger, and beware. Then if you turn away, you should know that it is Our Messenger's duty to convey in the clearest way.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Obey Allah and obey the messenger, and beware! But if ye turn away, then know that the duty of Our messenger is only plain conveyance (of the message).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And obey Allah and obey the Messenger and beware. And if you turn away - then know that upon Our Messenger is only [the responsibility for] clear notification.

— Saheeh International

Obey God and the Messenger and be cautious (of the harmful things). If you turn away (from Our laws), know that the duty of the Messenger is only to preach in clear words.

— Muhammad Sarwar

And obey Allah and obey the apostle and be cautious; but if you turn back, then know that only a clear deliverance of the message is (incumbent) on Our apostle.

— Muhammad Habib Shakir

Obey Allah and obey the apostle, and beware; but if ye turn away, then know that upon Our apostle resteth only the plain preaching.

— Abdul Majid Daryabadi

Obey Allah, and obey the Messenger, and beware (of evil): if ye do turn back, know ye that it is Our Messenger's duty to proclaim (the message) in the clearest manner.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–93

پانسہ بازی، جوا اور شراب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 90–94

سورة الْمَآىِٕدَة 108 آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة مائدہ، 12 و 14۔ اس سلسلہ میں جوئے کی تشریح بھی 14 میں مل جائے گی۔ اگرچہ پانسے (جوئے) ہی کی ایک قسم ہیں۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اس صورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیات سے آلودہ ہو۔ اور میسر کا اطلاق ان کھیلوں اور ان کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی امور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیم اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 109 اس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں اس حکم کو آسان کرنے اور اس پر عمل کو سہل بنانے کے لئے قرآن کریم نے اپنے خاص اسلوب بیان کے تحت ارشاد فرمایا وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم تمہارے فائدہ کے لئے ہے، اگر تم نہ مانو تو نہ اللہ جل شانہ کا کوئی نقصان ہے نہ اس کے رسول کا، اللہ تعالیٰ کا اس نفع و نقصان سے بالاتر ہونا تا ظاہر تھا، رسول کے متعلق کسی کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ جب ان کی بات نہ مانی گئی تو ان کے اجر وثواب یا قدر ومنزلت میں شاید کچھ فرق آجائے، اس شبہ کے ازالہ کے لئے ارشاد فرمایافَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۔ یہ اوپر والی تنبیہ کی مزید تاکید ہے کہ شیطان کے بچھائے ہوئے جال سے نکل کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہوجاؤ اور نافرمانی و سرکشی سے بچو۔ اگر اس توضیح و تنبیہ کے بعد بھی تم نے اعراض کیا تو ذمہ داری تمہاری ہوگی، رسول کی ذمہ داری تو صرف خدا کے امر و نہی سے واضح طور پر آگاہ کردینا ہے اور یہ فرض رسول نے ادا کردیا جس کے بعد تم پر پر اللہ کی طرف سے حجت پوری ہوچکی۔ اس اتمام حجت کے بعد اب جو بےراہ روی اختیار کریں وہ اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 91–92

91۔ 1 یہ شراب اور جوا کے مزید معاشرتی اور دینی نقصانات ہیں، جو محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ اس لئے شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے اور جوا بھی ایسی بری لت ہے کہ یہ انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی اور بسا اوقات رئیس زادوں اور خاندانی جاگیر داروں کو مفلس و قلاش بنا دیتی ہے اَ عَا ذَنَا اللّٰہُ مِنْھُمَا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 90–92

62: بتوں کے تھان سے مراد وہ قربان گاہ ہے جو بتوں کے سامنے بنادی جاتی تھی اور لوگ بتوں کے نام پر وہاں جانور وغیرہ قربان کیا کرتے تھے۔ اور جوے کے تیروں کی تشریح اسی سورت کے شروع میں آیت نمبر 3 کے تحت حاشیہ نمبر 6 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–93

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔ شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 اگر کسی چیز کے منافع و مضار کا احاطہ نہ کرسکو تب بھی خدا اور رسول ﷺ کے احکام کا امتثال کرو اور قانون کی خلاف ورزی سے بچتے رہو۔ اگر نہ بچو گے تو ہمارے پیغمبر تم کو قانون و احکام الہٰی کھول کر پہنچا چکے۔ نتیجہ خلاف ورزی کا خود سوچ لو کیا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 92 وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ج فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ r ّیہ اللہ کا حکم ہے۔ اللہ کا حکم پہنچانا رسول ﷺ کے ذمے تھا ‘ تو رسول ﷺ نے پہنچا کر اپنی ذمہ داری ادا کردی ‘ اب معاملہ اللہ کا اور تمہارا ہوگا۔ اللہ تم سے نمٹ لے گا ‘ تم سے حساب لے لے گا۔ اب جو اگلی آیت آرہی ہے یہ بھی قرآن مجید کے فلسفہ اور حکمت کے ضمن میں بہت بنیادی آیت ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب شراب کے بارے میں اتنا سخت انداز آیا کہ شراب اور جوا گندے شیطانی کام ہیں ‘ ان سے باز آتے ہو یا نہیں ؟ تو بہت سے مسلمانوں کو تشویش لاحق ہوگئی کہ ہم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

137۔ الف یعنی ان چیزوں سے بچو جن کی حرمت سابقہ آیات میں مذکور ہوئی ہے مثلاً شراب، جوئے، آستانوں کے تقدس اور تیروں کے ذریعہ فال لینے سے بچو اور اگر اس حکم کو عموم پر محمول کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سب برے کاموں سے بچو یا اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتے رہو۔ 138 اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اللہ کی اطاعت کا طریق کار بھی رسول اللہ ہی کی اطاعت سے حاصل ہوتا ہے تاہم رسول کی اطاعت اپنی الگ مستقل حیثیت بھی رکھتی ہے۔ بالفاظ دیگر کتاب اللہ اور سنت رسول دونوں کی اتباع واجب ہے اور قرآن کی رو سے ان دونوں کے واجب الاتباع ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اس مقام پر یہ آیت لانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

288 ۔ (احکام اور پیام کی، سو وہ تبلیغ پوری پوری کرچکے اور عذر کی گنجائش کسی کو نہ رہی) (آیت) ” اطیعوا الرسول “۔ یہ اطاعت اللہ اور رسول کی سارے احکام شریعت میں ہوگی۔ (آیت) ” واحذروا “۔ یہ احتیاط کا حکم احکام کی نافرمانی سے مل رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 91–92

اِنّما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العَدَاوۃ والبغضاء، یہ شراب اور جوئے کے مزید معاشرتی اور ذینی نقصانات کا بیان ہے جو محتاج وضاحت نہیں، اسلئے شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے، اور جو ابھی ایسی بری لت ہے کہ یہ انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی اور بسا اوقات رئیس زادوں اور پشتینی جاگیروں کو مفسل و قلاش بنا دیتی ہے۔ جوا شراب کی دنیوی مضرتیں : شراب نوشی اور قمار بازی کی دنیاوی مضرتوں اور اخلاقی قباحتوں کو اگر لکھا جائے تو ایک بڑا دفتر تیار ہوسکتا، قرآن مجید نے یہاں ان کی صرف سب سے بڑی مضرت خانہ جنگی کی طرف اشارہ کیا ہے شراب وقمار دونوں کے مضر اثرات شروفساد کی شکل میں روزانہ مشاہدے میں آتے ہیں، شراب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واطیعوا واطیعوا الرسول یعنی شراب جوا اور تمام ممنوعات سے پرہیز اور واجبات کی ادائیگی کے معاملہ میں اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ واحذرو اور (خدا و رسول کی نافرمانی سے) ڈرو۔ فان تولیتم اب اگر تم نے (اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت سے) روگردانی کی۔ فاعلموا انما علی رسولنا البلغ المبین تو سمجھ لو کہ ہمارے رسول پر صرف کھول کر پہنچانے کی ذمہ داری ہے (ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے) تمہاری نافرمانی سے ہمارے پیغمبر ﷺ : کا کچھ نقصان نہ ہوگا تم کو ہی ضرر پہنچے گا۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے جو بندہ دنیا میں اس کو پئے گا اللہ کا قطعی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) اس شراب کے پینے اور اس کو حلال سمجھنے سے بچو اور اگر اس شراب کی حرمت کے بارے میں تم اللہ کی اطاعت نہیں کرو گے تو رسول اکرم ﷺ کی ذمہ داری تو صرف اس زبان میں جسے تم سمجھتے ہو محض احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : یعنی جوئے اور شراب سے باز رہنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچ جاؤ۔ (رازی، قرطبی) یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مراد قرآن و سنت کی پیروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ اِنِِّیْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَ مِثْلَہُ مَعَہُ) ”مجھے کتاب یعنی قرآن دیا گیا ہے اور اس جیسی ایک اور چیز (حدیث) بھی۔“ [ أبو داوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ : 4604 وصححہ الألبانی ] فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ۔۔ : اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو اس حکم قطعی کے باوجود شراب نوشی اور جوئے سے باز نہیں آتے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 90–92

آیت نمبر 90 تا 92 اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) یایھا الذین امنوا ان اشیاء کے ترک کرنے کے ساتھ مومنوں کو خطاب کیا ہے، کیونکہ ان شہوات اور عادات کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں ملوث تھے اور ان کے نفوس پر یہ غالب تھیں۔ پس بہت سے مومنوں کے نفوس میں کچھ باقی تھیں۔ ابن عطیہ نے کہا (1): اس قبیل سے تھا پرندوں کو دیکھ کر کام کو نہ جانا اور کتب وغیرہ سے فال لینا اور اس طرح کی بیہودہ چیزیں جو آج کل جاہل لوگ کرتے ہیں، رہا خمر (شراب) ابھی تک یہ حرام نہیں کی گئی اس کی مکمل حرمت جنگ احد کے واقعہ کے بعد تیسرے سال نازل ہوئی اور جنگ احد ہجرت کے تیسرے سال شوال میں ہوئی۔ اس کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

یتیم کی شراب کو بھی بہا دیا (32) امام احمد، ابو یعلی، ابن ابی داؤد اور ابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی جب یہ آیت نازل ہوئی جو سورة مائدہ میں ہے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا کہ یہ شراب ایک یتیم کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بہا دو ۔ (33) امام ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ شراب کو حرام کردیا گیا جبکہ وہ اس وقت مٹکوں میں تیار کی جاتی تھی۔ (34) امام ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ شراب کا حرام ہونا نازل ہوا تو اس وقت ہماری شراب خشک انگور اور کھجور کی ہوتی تھی تو ہم نے ان دونوں کو انڈیل دیا۔ (35) امام ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَطِيْعُوا [ اور تم لوگ اطاعت کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَاَطِيْعُوا [ اور اطاعت کرو ] الرَّسُوْلَ [ ان رسول کی ] وَاحْذَرُوْا [ اور محتاط رہو ] فَاِنْ [ پھر اگر ] تَوَلَّيْتُمْ [ تم لوگ منہ موڑتے ہو ] فَاعْلَمُوْٓا [ تو جان لو ] اَنَّمَا [ کہ کچھ نہیں مگر ] عَلٰي رَسُوْلِنَا [ ہمارے رسول پر ] الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ [ واضح طور پر پہنچانا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا) (اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ڈرتے رہو) یعنی اللہ و رسول کی مخالفت نہ کرو (فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ) (سو اگر تم رو گردانی کرو تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ واضح طور پر پہنچا دینا ہے) اللہ کے رسول ﷺ نے خوب اچھی طرح کھول کر بیان فرما دیا اللہ تعالیٰ کی بات پہنچادی پھر بھی اگر کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اپنا انجام دیکھ لے گا۔ سات وجوہ سے جوئے اور شراب کی ممانعت فرمانے کے بعد گویا اس آخری آیت میں مزید تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–93

حکم ہفدہم تحریم خمروقمار۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انماالخمر۔۔۔۔ الی۔۔۔ المحسنین۔ ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں حلال کو حرام سمجھنے کی ممانعت تھی اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جیسے حلال کی حرام سمجھنا گناہ ہے ایسے ہی حرام کو حلال سمجھنا بھی گناہ اور حرام ہے جیسے شراب اور جوا وغیرہ وغیرہ، اہل عرب شراب اور جوے کو حلال اور طیب سمجھتے تھے اللہ نے یہ بتلا دیا کہ یہ چیزیں حلال اور طیب نہیں بلکہ خبیث اور جس میں ان سے اجتناب ضروری ہے اور انکا استعمال حرام ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حرام کردیا اس کے قریب نہ جاؤ جزایں نیست کہ شراب اور جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

154 یہ حکم بالا کی تاکید ہے۔ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور ان کی نافرمانی سے بچو۔ اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے اعراض کیا تو اس سے تم نے ہمارے رسول کا کچھ نقصان نہیں کیا کیونکہ اس کا فرض ابلاغ تھا جسے اس نے احسن طریق سے ادا کردیا۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی نافرمانی سے تم اپنی ہی عاقبت برباد کر رہے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی مخالفت کرنے والوں کے لیے وعید شدید ہے و ھذا تھدید عظیم ووعید شدید فی حق من خالف فی ھذا التکلیف واعرض فیہ عن حکم اللہ (کبیر ج 3 ص 658)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–93

ربط آیات گزشتہ درس میں حلت و حرمت کا قانون بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جن پاک چیزوں کو اس نے حلال قرار دیا ہے ان کو حرام نہ بنائو۔ نہ تو اعتقاداً انہیں حرام سمجھو اور نہ قسم اٹھا کر از خود اپنے لئے حرام قرار دو ، بلکہ ان سے استفادہ حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کچھ مزید محرمات کا ذکر کیا ہے اور حرام کردہ اشیاء سے بچنے کا حکم دیا ہے حرام کردہ اشیاء میں یقینا کوئی دینی ، دنیاوی ، جسمانی یا روحانی نقصان ہے جس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جس طرح حلال چیز کو حرام کرلینے سے فساد پیدا ہوتا ہے اور اجتماعی مصلحت خراب ہوتی ہے۔ اسی طرح حرام چیز کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۝ 0ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۝ 92 طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–93

ترکیب : رجس موصوف من عمل الشیطن صفت خبر ہے انما الخمر کی فی الخمر والمیسر متعلق ہے یوقع سے ویصد اس پر معطوف ہے عن ذکر اللّٰہ جاریصد سے متعلق وعن الصلوٰۃ اس پر معطوف۔ تفسیر : یہود و نصاریٰ سے مناظرہ ختم کرکے احکام شروع کئے تو یہ ان کی تیسری قسم ہے۔ اول تو لاتحرموا۔ دوم قسم کے مسائل لاتحرموا میں اس بات کی طرف وہم جاسکتا تھا کہ شراب بھی تو ایک مزہ دار چیز ہے اسی طرح جو ابھی سو یہ بھی حلال ہوں۔ اس لئے تصریح کردی کہ یہ چیزیں طیبات میں داخل نہیں اس لئے رجس اور عمل شیطانی ہیں۔ خمر ٗ شراب ٗ میسر جوا ٗ انصاب ان گھڑت پتھر کہ جن کو ایام جاہلیت میں پوجتے تھے صنم تو ترشی ہوئی مورت اور نصب ان گھڑت پتھر ‘…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَطِیْعُوا اللہ َ وَاَطِیْعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوْا ج فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَاعَلیٰ رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (المائدہ : 92) (اور اللہ کی اطاعت کرو ‘ رسول کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ اور گزشتہ آیات میں محرمات شرعیہ کے سلسلے میں جس طرح تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں اتمامِ حجت کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جہاں تک سمجھانے بجھانے اور مختلف پیرایوں میں شرعی احکام کی وضاحت کا تعلق تھا اس میں کوئی کمی باقی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 92–93

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول نے خمر، جوئے اور دیگر محرمات سے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ اس حکم پر عمل کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچو۔ قرآن مجید نے بار ہا اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ رسول کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پیغام من و عن لوگوں تک پہنچائے اور اس پر خود عمل کرکے اپنے آپ کو نمونہ کے طور پر پیش کرے۔ تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ یہاں یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ممنوعات سے بچنا اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے۔ اس بات کو اس طرح بھی بیان فرمایا جو کچھ تمہیں رسول دیتا ہے اسے قبول کرو اور جس سے روکتا ہے اس سے رک جاؤ کیونکہ جس نے رسول…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ اور رسول کی اطاعت سے مت منہ موڑو : آیت 92: وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۔ (اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور محتاط رہو) تم احتیاط کرنے والے اور ڈرنے والے بنو۔ کیونکہ جب وہ احتیاط کرتے تو احتیاط ان کو ہر برائی سے بچا لیتی۔ اور ہر بھلائی پر عمل پیرا کردیتی۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ اگر تم اس سے منہ موڑو گے فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ یعنی یقین کرو کہ تم اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ رسول اللہ ﷺ سے منہ موڑ کر۔ کیونکہ ان کی ذمہ داری واضح طور پر صرف پہنچانا ہے بیشک تم اپنا نقصان کرو گے۔ جب تم اس سے اعراض کرو گے۔ جس کے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 92–94

آیت نمبر 94, 93, 92 تفسیر :(واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واحذروا اور حکم مانو اللہ کا حکم مانو رسول اللہ ﷺ کا اور بچتے رہو) حرام چیزوں اور جن کاموں سے روکا گیا ان کے کرنے سے ( فان لولیتم فاعلموا انما علی رسولنا البغ المبین پھر اگر تم پھر جائو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف پہنچا دینا ہے کھول کر) شراب پینے والے کی وعید میں ابن عمر رضی ؓ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے اور اللہ پر پختہ بات ہے کہ جو آدمی دنیا میں اس کو پئے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو طینۃ الخبال پلائیں گے اور تم جانتے ہو کہ طینۃ الخبال کیا ہے ؟ جہنمیوں کا پسینہ اور ابن عمر ؓ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 90–92

(90 ۔ 92) ۔ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ شراب کے نشہ میں بعض صحابہ کی آپس میں تکرار ہو کر مار پیٹ کی نوبت آجاتی جس کے سبب سے ان لوگوں کے آپس کے سلوک میں روزبروز خلل پڑتا جاتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 2 ؎۔ شراب کی چار حالتیں جو اسلام میں رہی ہیں ان کا ذکر تو سورة بقرہ کی آیہّ { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخُمْرِ وَالْمَیْسِرِ } (2: 219) کی تفسیر میں گذرچکا ہے 3 ؎ ان چاروں حالتوں میں ایک حالت سورة النساء کی آیت { یَٓاٰ ایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لاَ تَقْرَبُوْا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی } (4: 43) کے نازل ہونے کے بعد کی تھی جس میں نماز کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 92 اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ایک ہی چیز کا نام ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے اور جو کوئی رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ یہ اطاعت اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی تعمیل کی جائے۔ یعنی ظاہری و باطنی اعمال و اقوال، حقوق اللہ اور حقوق مخلوق سے متعلق واجب اور مستحب اعمال بجالائے جائیں اور اس امر کو متضمن ہے کہ ان امور سے اجتناب کیا جائے جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم ایک عام حکم ہے جو تمام احکام کو شامل ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 91–92

قول باری ہے (انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر۔ ) شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے) تا آخر آیت اس سے یہ مراد ہے شیطان شراب نوشی کی دعوت دیتا اور اس قبیح فعل کو بہت آراستہ کر کے پیش کرتا ہے تاکہ شراب پینے والا نشہ کے تحت قبیح افعال کا مرتکب ہوجائے یا اپنے ہم نشینوں کے ساتھ بد اخلاقی پر اتر آئے جس کے نتیجے میں آپ س میں دشمنی اور بغض و عداوت کی بنیاد رکھ دی جائے۔ جوئے بازی بھی ان ہی امور پر جا کر منتج ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے۔” ہوتا اس طرح تھا کہ ایک شخص اپنا سارا مال بلکہ اہل و عیال جوئے کے دائو پر لگا دیتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 91–92

228 شراب اور جوا بغض و عداوت کا ذریعہ ۔ والعیاذ باللہ : کہ شراب سے جب آدمی کی عقل زائل ہوجاتی ہے تو وہ بےہودہ گوئی کرتا ہے جس سے بات مار پیٹ اور قتل و قتال تک جا پہنچتی ہے۔ اور جوئے میں بازی ہارنے والا شخص جب اپنا مال اپنے حریف کے پاس دیکھتا ہے تو خواہ مخواہ اس کے دل میں حسد، بغض اور جلن کے احساسات جنم لیتے ہیں جس سے پھر آگے طرح طرح کے فتنے اور فساد ابھرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور بعض و عداوت اور نفرت و بغاوت کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ اور ہر ایک اس کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کس طرح انتقام لے اور اپنے جوش عداوت کو ٹھنڈا کرے۔ اور اس سے دنگا و فساد، بےعزتی و خرابی اور لڑائی جھگڑے کی طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–92

شراب اور جوئے کے نقصانات تشریح : شراب، جوا اور فال لینا یہ سب پچھلے اسباق میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے جیسا کہ پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے طریقے بتائے گئے ہیں یہاں بھی انسانوں کی بہتری کے لیے شراب، جوا اور فال لینا حرام قرار دیا گیا ہے۔ ان کی اس قدر خرابیاں ہیں کہ ان کو اللہ نے انتہائی غلیظ کام کہا ہے۔ شراب سے انسانی عقل ختم ہوجاتی ہے صحت تباہ ہوجاتی ہے اور یوں انسان اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور انسانی محبت سے دور ہوجاتا ہے۔ جوا، لالچ، حرص نقصان اور آپس کی دشمنی کا ذریعہ بنتا ہے۔ فال اور توہم پرستی، ایمان یقین اور بھروسے کو ختم کرتی ہے۔ ان تمام باتوں کو مان لینے سے انسانوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 87–93

رکوع نمبر 12 ۔ آیات 87 تا 93 ۔ اسرار و معارف : چونکہ نصاری میں رہبانیت کا ذکر چل رہا تھا اور یہ خیال بھی نہ کیا جائے کہ عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں ہاں یہ فرمایا گیا کہ یہودیوں میں بہت ہی کم لوگ اصلاح پذیر ہوئے اتنے کم کہ قوم کے مقابلے میں قابل ذکر تعداد نہیں ، لیکن عیسائیوں میں پھر ان کی نسبت زیادہ لوگ مشرف باسلام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں تارک الدنیا قسم کے لوگ تھے جنہیں کوئی لالچ نہ تھا حق کو دیکھا اور قبول کرلیا تو وہ ان کا اپنا دین تھا بہرحال اچھا وہی جو اسلام قبول کرلے ورنہ کوئی خوبی ہے نہ اسلام دوستی۔ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رہبانیت یا لذیذ چیزوں کو چھوڑ دینا یا گھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 (الغصی فی صورۃ الا ستطھام اللتوکید) یعنی شراب اور اجوئے سے باز ّجاو یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت اتری تو صحابہ کرام نے عرض کی۔ انتھینا ربنا : کہ اے ہمارے پروردگار ہم باز آگئے چناچہ راوی کا بیان ہے کہ اس آیت کے بعد لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے اور مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگی (ابن کثیر)6 یعنی جوئے اور شراب سے بازرہنا اللہ تعالیٰ اور اسے رسول کی اطاعت ہے لہذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے ڈرو (کبیر، قرطبی) یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مراد قرآن وسنت کی پیروی اور سنت بھی قرآن کی طرح ایک مستقل ماخذ دین ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اوتیت القران و مثلہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:92) احذروا (باب سمع) حذر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ڈرو۔ تم بچو۔ تولیتم۔ تولی سے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑ لیا۔ تولی کا معنی والی ہونا۔ حاکم ہونا بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 90–92

آیت نمبر 90 تا 92 لغات القرآن : الخمر (شراب۔ ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ دے) ۔ المیسر (جوا۔ (آسانی سے حاصل ہونے والی چیز) ۔ الانصاب (بت۔ تھان) ۔ الازلام (زلم) ۔ جوئے کے تیر۔ پانسے) ۔ رجس (گندگی ۔ بیماری) ۔ عمل الشیطن (شیطانی کام) ۔ اجتنبوا (تم بچو۔ (قریب بھی نہ جاؤ) ۔ لعلکم (شاید کہ تم ۔ توقع ہے کہ تم) ۔ ان یوقع (یہ کہ وہ ڈال دے) ۔ بینکم (تمہارے درمیان) ۔ یصدکم (تمہیں روک دے) ۔ ذکر اللہ (اللہ کی یاد۔ اللہ کا ذکر) ۔ الصلوٰۃ (نماز) ۔ منتھون (رک جانے والے) ۔ اطیعوا (اطاعت کرو۔ کہا مانو) ۔ البلغ (پہنچا دینا) ۔ تشریح : آیت 90 میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کردی گئی ہیں۔ (1) جتنی شرابیں ہیں سب حرام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–92

شراب اور جوئے وغیرہ کی مناہی (ممانعت) کا حکم حضرت عبداللہ بن عباد ؓ کی روایت ہے کہ شراب کے نشہ میں بعضے صحابہ کرام کی آپس میں تکرار ہو کر مارپیٹ کی نوبت آجاتی، جس کے سبب سے ان لوگوں کے آپس کے سلوک میں روز بروز خلل پڑجاتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں شراب کی چار حالتیں ہیں جو اسلام میں رہی ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے۔ شراب پی کر آدمی کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے۔ ہر ایک سے لڑنے جھگڑنے لگتا ہے۔ جوا اس سبب سے باعث عداوت ہے کہ جو شخص میں اپنا مال ہارتا ہے وہ بھی بدحواس ہو کر ہر ایک سے لڑنے لگتا ہے۔ شراب میں ایک یہ بھی خرابی ہے کہ اس کا نشہ آدمی کو ذکر الہی سے روک دیتا ہے حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–93

[53] شراب کی حرمت کے سلسلے میں اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے ( سورة بقرہ، آیت 219 صفحہ 64 اور سورة نساء آیت 43 صفحہ 186) اس آیت میں شراب کو گندگی اور شیطانی کام ٹھہرا کر صاف صاف اس کی حرمت کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سے احتراز کو موجب فلاح کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–92

(ف 1) صحابہ کرام ؓ اجمعین کی اطاعت دیکھئے ، (آیت) ” فھل انتم منتھون “ کی آواز کو سنتے ہیں اور تسلیم ورضا کا پیکر بن جاتے ہیں ، برسوں کے رسیا ایک دم شراب چھوڑ دیتے ہیں ، اور ساغر ومینا توڑ دیتے ہیں ، وہ مجلسیں جن میں شراب وصہبا کے دور چلتے تھے ، اب ذکر وشغل کے حلقوں میں تقسیم ہوگئی ہیں ، صحابہ کرام ؓ اجمعین مسجدوں میں بیٹھ کر کوثر وتسنیم کے جام لنڈھاتے ہیں اور بادہ کیف آور سے مخمور ہوجاتے ہیں ، یہ ساقی مدینہ کا فیض ہے یثرب کی بھٹی سے وہ خانہ سازا اور تیز وتند شراب پلائی کہ مست ” احسنت “ (آفرین) پکارا اٹھے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-92 اور تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا کہنا مانو اور احکام خدا اور رسول کی خلاف ورزی اور حکم کی مخالفت سے پرہیز کرو پھر اگر تم نے امتشال امر اور حکم کی بجا آوری سے روگردانی کی اور اعراض کیا تو اس بات کو اچھی طرح جان لو اور سمجھ لو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے صرف واضح اور صاف طور پر احکام کا پہونچا دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–93

ف 5۔ حاصل یہ ہوا کہ یہ خمر ومیسر بت پرستی اور کفر کے قریب قریب اس لیے ہیں کہ نماز سے جو کہ ایمان کے اعظم شعائر اور علامات ایمان سے ہے مانع ہے جب اس طور پر ایمان سے بعد ہوا تو کفر سے قرب ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا حکم اور شیطانی وساوس سے بچنے کی تاکید : 218: ہر انسان کسی چیز کے نفع اور مضرت کا احاطہ نہیں کرسکتا اسی لئے یہ بات اگر ذہن نشین ہوجائے کہ جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے اس میں ہمارے لئے کبھی نفع نہیں ہوسکتا اور اس طرح وہ بات کبھی مضرت سے خالی نہیں ہو سکتی اور جس چیز کا حکم دیا ہے وہ کبھی ہمارے لئے نفع سے خالی اور دکھ دینے والی بھی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری یہی ہے کہ جس چیز کر کرنے کا وہ حکم دیں اس کو کیا جائے اور جس سے وہ منع کریں اس کے قریب بھی نہ جاہا جائے۔ یہی اصل قانون ہے اس لئے قانون کی خلاف ورزی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

it is in the third verse (92) that the Holy Qur'an, in its characteristic way with words, has this to say: وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَاحْذَرُ‌وا ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَ‌سُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿92﴾ And obey Allah and obey the Messenger, and be careful. If you turn back, be sure that the duty of Our Messenger is only to convey the Message clearly. The lesson to be learnt is that the command to obey Allah and His Messenger is in one's own interest, and benefit. If one does not listen to the good counsel, their action brings no loss to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–94

108.For 'altars' and divination by arrows see (nn.12)and 14)above. For games of chance see (n. 14) above. While divination by arrow-shooting essentially constitutes a game of chance there is nevertheless a certain difference between the two, since divination by arrow-shooting, in addition to being a game of chance, is also tainted with polytheistic beliefs and superstitions. As for games of chance, this expression is applied to those games and acts in which accidental factors are considered the criteria for acquisition, fortune-making and the division of goods and property. 109. In this verse…

Read the full tafseer →