Al-Maaida 5:91

Al-Maaida · from ayah 91

5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ— فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ ۟اِنَّمَا يُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّوۡقِعَ بَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ فِى الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Satan only wants to cause between you animosity and hatred through intoxicants and gambling and to avert you from the remembrance of Allah and from prayer. So will you not desist?

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 12 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:91

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور کینہ ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے۔ کیا تم (ان شرانگیز باتوں سے) باز آؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

شیطان تو بس یہ چہات ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں لگا کر تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو بتاو کیا اب تم ان سے باز آتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ ڈال دے تمہارے درمیان عداوت اور بغض شراب (خانہ خراب) اور جوئے کے ذریعے اور وہ تمہیں روک دے اللہ کے ذکر (اور اس کی یاد دلشاد) اور نماز سے، سو (اب بتلاؤ کہ یہ سب کچھ سننے کے بعد) کیا تم باز آتے ہو (کہ نہیں ؟)

— مولانا اسحاق مدنی

شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ تمہارے آپس میں دشمنی اور کینہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے ڈال دے۔ اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ سو اب بھی تم باز آؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے شراب اور جوئے کے ذریعے ` سے اور (شیطان یہ بھی چاہتا ہے کہ) تمہیں روکے اللہ کی یاد سے اور نماز سے تو اب باز آتے ہو یا نہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے سے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

By intoxicants and games of chance Satan only desires to create enmity and hatred between you, and to turn you away from the remembrance of Allah and from Prayer. Will you, then, desist?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Satan wishes only to plant enmity and malice between you through wine and gambling, and to prevent you from the remembrance of Allah and from Salah. Would you, then, abstain?

— Muhammad Taqi Usmani

Satan wishes only to plant enmity and malice between you through wine and gambling, and to prevent you from the remembrance of Allah and from Salah. Would you, then, abstain?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Shaytan wants only to excite enmity and hatred between you with Khamr and Maysir, and hinder you from the remembrance of Allah and from the Salah (the prayer). So, will you not then abstain

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Satan seeketh only to cast among you enmity and hatred by means of strong drink and games of chance, and to turn you from remembrance of Allah and from (His) worship. Will ye then have done?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Satan only wants to cause between you animosity and hatred through intoxicants and gambling and to avert you from the remembrance of Allah and from prayer. So will you not desist?

— Saheeh International

Satan wants to induce hostility and hatred among you through wine and gambling and to prevent you from remembering God and prayer. Will you then avoid such things?

— Muhammad Sarwar

The Shaitan only desires to cause enmity and hatred to spring in your midst by means of intoxicants and games of chance, and to keep you off from the remembrance of Allah and from prayer. Will you then desist?

— Muhammad Habib Shakir

Satan only seeketh to breed animosity and spites among you by means of wine and gambling and would keep you from the remembrance of Allah and from prayer; will ye not then desist?

— Abdul Majid Daryabadi

Satan's plan is (but) to excite enmity and hatred between you, with intoxicants and gambling, and hinder you from the remembrance of Allah, and from prayer: will ye not then abstain?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–93

پانسہ بازی، جوا اور شراب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 90–94

سورة الْمَآىِٕدَة 108 آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة مائدہ، 12 و 14۔ اس سلسلہ میں جوئے کی تشریح بھی 14 میں مل جائے گی۔ اگرچہ پانسے (جوئے) ہی کی ایک قسم ہیں۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اس صورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیات سے آلودہ ہو۔ اور میسر کا اطلاق ان کھیلوں اور ان کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی امور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیم اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 109 اس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد دوسری آیت میں شراب اور جوئے کے دنیوی اور ظاہری مفاسد کا بیان اس طرح فرمایا گیا اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ۔ ”یعنی شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں مبتلا کرکے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی بنیادیں ڈال دے“۔ ان آیات کا نزول بھی کچھ ایسے ہی واقعات کے بارے میں ہوا ہے کہ شراب کے نشہ میں ایسی حرکات صادر ہوئیں جو باہمی غیظ و غضب اور پھر جنگ و جدل کا سبب بن گئیں اور یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ شراب کے نشہ میں جب آدمی عقل کھو بیٹھتا ہے تو اس سے ایسی حرکات کا صدور لازمی جیسا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جوئے کا معاملہ ہے کہ ہارنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 90–91

تفسیر آیات 90 تا 91: يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ۔ ہر نشہ آور چیز خمر ہے خمر اور میسر، پر بقرہ 219 میں اور انصاب و ازلام، پر مائدہ 3 میں بحث گزر چکی ہے۔ شراب اور جوا، جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بیان کر آئے ہیں، دونوں قوام بیماریاں ہیں۔ کم از کم عرب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 91–92

91۔ 1 یہ شراب اور جوا کے مزید معاشرتی اور دینی نقصانات ہیں، جو محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ اس لئے شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے اور جوا بھی ایسی بری لت ہے کہ یہ انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی اور بسا اوقات رئیس زادوں اور خاندانی جاگیر داروں کو مفلس و قلاش بنا دیتی ہے اَ عَا ذَنَا اللّٰہُ مِنْھُمَا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 90–92

62: بتوں کے تھان سے مراد وہ قربان گاہ ہے جو بتوں کے سامنے بنادی جاتی تھی اور لوگ بتوں کے نام پر وہاں جانور وغیرہ قربان کیا کرتے تھے۔ اور جوے کے تیروں کی تشریح اسی سورت کے شروع میں آیت نمبر 3 کے تحت حاشیہ نمبر 6 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–93

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔ شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 شراب پی کر جب عقل جاتی رہتی ہے تو بعض اوقات شرابی پاگل ہو کر آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ کہ نشہ اترنے کے بعد بھی بعض دفعہ لڑائی کا اثر باقی رہتا ہے اور باہمی عداوتیں قائم ہوجاتی ہیں، یہ ہی حال بلکہ کچھ بڑھ کر جوئے کا ہے۔ اس میں ہار جیت پر سخت جھگڑے اور فساد برپا ہوتے ہیں جس سے شیطان کو اودھم مچانے کا خوب موقع ملتا ہے یہ تو ظاہری خرابی ہوئی اور باطنی نقصان یہ ہے کہ ان چیزوں میں مشغول ہو کر انسان خدا کی یاد اور عبادت الہٰی سے بالکل غافل ہوجاتا ہے۔ اس کی دلیل مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ شطرنج کھیلنے والوں ہی کو دیکھ لو۔ نماز تو کیا، کھانے پینے اور گھر بار کی بھی خبر نہیں رہتی۔ جب یہ چیز اس قدر ظاہری و باطنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 91 اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ یہ بہت اہم بات ہے ‘ کیونکہ شراب کے نشے میں انسان اپنا ہوش اور شعور کھو بیٹھتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو کچھ خبر نہیں رہتی کہ وہ منہ سے کیا بکواس کر رہا ہے اور اس کے اعضاء وجوارح سے کیا افعال سرزد ہو رہے ہیں ‘ لہٰذا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ایسی حالت میں کسی بات یا کسی حرکت سے کیا کیا گل کھلیں گے ‘ کیسے کیسے جھگڑے اور فسادات جنم لیں گے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ حکومتی اور ریاستی سطح کے بڑے بڑے راز شراب کے نشے میں چرالیے جاتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان چیزوں سے بچانا چاہتا ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

137 شراب کس طرح باہمی عداوت اور بغض کا سبب بنتی ہے اس کے لیے مندرجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے 1۔ سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ہمیں جو غنیمت کا مال ملا اس میں سے مجھے ایک جوان اونٹنی ملی جس میں رسول اللہ کا بھی حصہ تھا۔ اور ایک جوان اونٹنی آپ نے مجھے عنایت فرمائی تھی۔ میں ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری آدمی کے دروازے پر باندھا کرتا تھا۔ میرا کام یہ تھا کہ ان دونوں اونٹنیوں پر اذخر (گھاس) لاد کر لاؤں اور اس کو بیچوں۔ میرے ساتھ اس کام میں بنو قینقاع کا ایک سنار بھی تھا۔ میرا سیدہ فاطمہ ؓ (بنت رسول) سے نکاح ہونے والا تھا اور میں چاہتا تھا کہ اس آمدنی سے ولیمہ کروں۔ ایک دن سیدنا حمزہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

285 ۔ شراب نوشی اور قماری بازی کی دنیوی مضرتوں اور اخلاقی قباحتوں کی تفصیل لکھنے پر کوئی آئے تو کتاب کی کتاب تیار ہوسکتی ہے۔ قرآن مجید نے یہاں ان کی صرف سب سے بڑی اور کلیدی مضرت، خانہ جنگی کی طرف اشارہ کردیا۔ شراب وقمار دونوں کے مضراثرات شروفساد کی شکل میں روز مرہ کے مشاہدے ہیں۔ مے نوشی اور جرائم کا قریبی تعلق آج ماہرین فن کے فراہم کئے ہوئے اعداد سے ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور جوئے کی لت میں پڑکر بڑے بڑے مشاہیر و اکابر کا اپنی دولت، سلطنت، عزت وناموس تک گنوابیٹھنا ہندوستان کے قدیم ترین قصہ مہابھارت سے ظاہر ہورہا ہے۔ جاہلیت عرب کے مہذب باشندے ان دونوں بلاؤں میں بری طرح مبتلا تھے، اسی طرح جیسے آج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 91–92

اِنّما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العَدَاوۃ والبغضاء، یہ شراب اور جوئے کے مزید معاشرتی اور ذینی نقصانات کا بیان ہے جو محتاج وضاحت نہیں، اسلئے شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے، اور جو ابھی ایسی بری لت ہے کہ یہ انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی اور بسا اوقات رئیس زادوں اور پشتینی جاگیروں کو مفسل و قلاش بنا دیتی ہے۔ جوا شراب کی دنیوی مضرتیں : شراب نوشی اور قمار بازی کی دنیاوی مضرتوں اور اخلاقی قباحتوں کو اگر لکھا جائے تو ایک بڑا دفتر تیار ہوسکتا، قرآن مجید نے یہاں ان کی صرف سب سے بڑی مضرت خانہ جنگی کی طرف اشارہ کیا ہے شراب وقمار دونوں کے مضر اثرات شروفساد کی شکل میں روزانہ مشاہدے میں آتے ہیں، شراب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضآء فی الخمر والمیسر : شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہاری آپس میں دشمنی اور بغض ڈلوا دے۔ جیسے اس انصاری نے کیا تھا جس نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے حضرت سعد ؓ بن وقاص کا سر زخمی کردیا تھا ‘ یہ قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ قتادہ نے کہا بعض لوگ مال و عیال کو داؤ پر لگا دیتے تھے پھر ہار جاتے۔ تو پریشان و غمگین ہو کر جیتنے والوں پر غصہ کرتے اور (ان کے دشمن ہوجاتے) تھے۔ دوبارہ شراب و قمار اور ان کی خرابیوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے سے اس امر پر تنبیہ ہو رہی ہے کہ آیت میں انصاب و ازلام کا ذکر تو ذیلی طور پر کردیا گیا ہے اصل مقصد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) شیطان تو شراب اور جوئے سے تمہاری عقل اور مال دولت کو برباد کرنا اور اطاعت خداوندی اور پانچوں نمازوں کی ادائیگی سے روکنا اور ان سے دور کرنا چاہتا ہے تو کیا تم اللہ کے اس فرمان کے بعد اب بھی باز نہیں آؤ گے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر (الخ) امام احمد ؒ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ شراب پیتے تھے اور جوئے کا مال کھاتے تھے تو لوگوں نے رسول اکرم ﷺ سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں دریافت کیا، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”یسئلونک عن الخمر والمیسر“۔ (الخ) تو لوگوں نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر ان چیزوں کو حرام…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ۔۔ : جوئے اور شراب کی حرمت کا حکم دے کر اب ان کے دینی اور دنیاوی نقصانات بیان فرمائے ہیں، دینی نقصان تو یہ کہ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکنے اور غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دنیاوی نقصان یہ کہ آپس میں عداوت اور کینہ پیدا کرتے ہیں اور ان دونوں میں ان خرابیوں کا پایا جانا بالکل واضح ہے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انھوں نے کہا، آؤ تمہیں کھلائیں اور شراب پلائیں۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، چناچہ میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا، وہاں ان کے پاس اونٹ کی بھنی ہوئی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 90–92

آیت نمبر 90 تا 92 اس میں سترہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) یایھا الذین امنوا ان اشیاء کے ترک کرنے کے ساتھ مومنوں کو خطاب کیا ہے، کیونکہ ان شہوات اور عادات کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں ملوث تھے اور ان کے نفوس پر یہ غالب تھیں۔ پس بہت سے مومنوں کے نفوس میں کچھ باقی تھیں۔ ابن عطیہ نے کہا (1): اس قبیل سے تھا پرندوں کو دیکھ کر کام کو نہ جانا اور کتب وغیرہ سے فال لینا اور اس طرح کی بیہودہ چیزیں جو آج کل جاہل لوگ کرتے ہیں، رہا خمر (شراب) ابھی تک یہ حرام نہیں کی گئی اس کی مکمل حرمت جنگ احد کے واقعہ کے بعد تیسرے سال نازل ہوئی اور جنگ احد ہجرت کے تیسرے سال شوال میں ہوئی۔ اس کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے (15) امام ابو الشیخ، ابن مردویہ نے (اس کی تصحیح کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شرابی کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہاتھوں سے جوتوں سے اور ڈنڈوں سے مارا جاتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی۔ تو ابوبکر ؓ نے فرمایا کاش ہم اس کے لئے ایک خاص سزا مقرر کرلیتے۔ (تو اچھا تھا) تو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جو اسے مارا کرتے تھے اس کی طرف وہ مائل ہوئے۔ ابوبکر چالیس کوڑے لگاتے تھے یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے۔ پھر حضرت عمر ؓ نے ان کے بعد اسی طرح چالیس کوڑے لگائے۔ یہاں تک کہ اولین مہاجرین میں سے ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ انہوں نے کوڑے لگانے کا حکم فرمایا۔ اس نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] اَنْ [ کہ ] يُّوْقِعَ [ وہ ڈال دے ] بَيْنَكُمُ [ تمہارے درمیان ] الْعَدَاوَةَ [ عداوت ] وَالْبَغْضَاۗءَ [ اور بعض ] فِي الْخَمْرِ [ شراب سے ] وَالْمَيْسِرِ [ اور جوئے سے ] وَيَصُدَّكُمْ [ اور (یہ کہ ) وہ روکے تم کو ] عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ [ اللہ کی یاد سے ] وَعَنِ الصَّلٰوةِ [ اور نماز سے ] فَهَلْ [ تو کیا ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] مُّنْتَهُوْنَ [ باز آنے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(5) فرمایا (اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ ) کہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے اند ردشمنی اور بغض ڈال دے (6) فرمایا (وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ) کہ شیطان شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکنا چاہتا ہے (7) آخر میں فرمایا (فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ ) کیا تم باز آنے والے ہو ؟ غور کرلیں کہ کتنی وجہ سے شراب اور جوئے سے منع فرمایا ہے ایسے صاف واضح بیان کے ہوتے ہوئے جو شخص شراب اور جوئے کو حلال کہے گا اس کی بدبختی اور بےدینی میں کیا شک ہے ؟ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–93

حکم ہفدہم تحریم خمروقمار۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انماالخمر۔۔۔۔ الی۔۔۔ المحسنین۔ ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں حلال کو حرام سمجھنے کی ممانعت تھی اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جیسے حلال کی حرام سمجھنا گناہ ہے ایسے ہی حرام کو حلال سمجھنا بھی گناہ اور حرام ہے جیسے شراب اور جوا وغیرہ وغیرہ، اہل عرب شراب اور جوے کو حلال اور طیب سمجھتے تھے اللہ نے یہ بتلا دیا کہ یہ چیزیں حلال اور طیب نہیں بلکہ خبیث اور جس میں ان سے اجتناب ضروری ہے اور انکا استعمال حرام ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حرام کردیا اس کے قریب نہ جاؤ جزایں نیست کہ شراب اور جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

153 یہ شراب اور جوئے سے اجتناب کرنے کی علت بیان فرمائی انصاب اور ازلام سے احتراز کی علت یعنی شرک فی التصرف اور شرک فعلی چونکہ ظاہر اور واضح تھی اس لیے اسے بیان نہیں فرمایا۔ اَنْ یُوْ قِعَ الخ یعنی شراب نوشی اور جوئے بازی کے ذریعے شیطان تم میں بغض و عداوت پیدا کرنا اور تمہیں اللہ کی یاد سے خصوصاً نماز سے غافل کرنا چاہتا ہے۔ کیا پھر بھی تم ان برائیوں سے باز نہیں آؤ گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–93

ربط آیات گزشتہ درس میں حلت و حرمت کا قانون بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جن پاک چیزوں کو اس نے حلال قرار دیا ہے ان کو حرام نہ بنائو۔ نہ تو اعتقاداً انہیں حرام سمجھو اور نہ قسم اٹھا کر از خود اپنے لئے حرام قرار دو ، بلکہ ان سے استفادہ حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کچھ مزید محرمات کا ذکر کیا ہے اور حرام کردہ اشیاء سے بچنے کا حکم دیا ہے حرام کردہ اشیاء میں یقینا کوئی دینی ، دنیاوی ، جسمانی یا روحانی نقصان ہے جس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جس طرح حلال چیز کو حرام کرلینے سے فساد پیدا ہوتا ہے اور اجتماعی مصلحت خراب ہوتی ہے۔ اسی طرح حرام چیز کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ۝ 0ۚ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ۝ 91 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–93

ترکیب : رجس موصوف من عمل الشیطن صفت خبر ہے انما الخمر کی فی الخمر والمیسر متعلق ہے یوقع سے ویصد اس پر معطوف ہے عن ذکر اللّٰہ جاریصد سے متعلق وعن الصلوٰۃ اس پر معطوف۔ تفسیر : یہود و نصاریٰ سے مناظرہ ختم کرکے احکام شروع کئے تو یہ ان کی تیسری قسم ہے۔ اول تو لاتحرموا۔ دوم قسم کے مسائل لاتحرموا میں اس بات کی طرف وہم جاسکتا تھا کہ شراب بھی تو ایک مزہ دار چیز ہے اسی طرح جو ابھی سو یہ بھی حلال ہوں۔ اس لئے تصریح کردی کہ یہ چیزیں طیبات میں داخل نہیں اس لئے رجس اور عمل شیطانی ہیں۔ خمر ٗ شراب ٗ میسر جوا ٗ انصاب ان گھڑت پتھر کہ جن کو ایام جاہلیت میں پوجتے تھے صنم تو ترشی ہوئی مورت اور نصب ان گھڑت پتھر ‘…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِج فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ ۔ (المائدہ : 91) ” شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں لگا کر تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے ‘ تو بتائو ! کیا اب تم ان سے باز آتے ہو ؟ “۔ شراب اور جوئے کے تین یقینی نتائج شراب اور جواء یوں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ہر سطح پر تباہ کن برائیاں ہیں ‘ لیکن ان کی اصل تباہی یا وسیع تر تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے ‘ جب کسی معاشرے میں ان کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 90–91

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کے نام کا تقدس ہے کہ اسے ناجائز استعمال نہیں کرنا اسی طرح اس کے حکم کا تقاضا ہے کہ شراب اور شیطانی کاموں کو چھوڑ دیا جائے۔ سورۃ البقرۃ کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ عربی میں ہر اس چیز کو خمر کہتے ہیں جو دوسرے پر پردہ ڈال دے۔ اسی مناسبت سے عورتوں کی اوڑھنیوں کو بھی قرآن مجید میں خمر کہا گیا ہے (سورۃ النور : 31) کیونکہ عورت اس سے اپنا سر، چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہے شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کی عقل و فکر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسلام کے دوسرے ضابطوں اور قوانین کی طرح شراب کے حکم امتناعی کی تکمیل بھی تدریجاً ہوئی ہے۔ شراب کی جسمانی اور اخلاقی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شراب و جوئے کی بنیادی خرابیاں : آیت 91: اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ ۔ (شیطان تمہارے درمیان شراب و جوئے سے دشمنی و بغض ڈالنا چاہتا ہے اور تمہیں اللہ کی یاد و نماز سے روکنا چاہتا ہے) اس آیت میں شراب وجوا سے پیدا ہونے والا فساد ووبال ذکر فرمایا۔ نمبر 1۔ دشمنی اور بغض شرابیوں اور جوا بازوں میں پیدا ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی یاد سے رکاوٹ بنتے ہیں۔ نمبر 3۔ نماز کے اوقات کی رعایت سے باز رکھنے والے ہیں نماز کو خصوصی مقام کی وجہ سے تمام اذکار میں سے ذکر فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 90–91

آیت نمبر 91, 90 تفسیر : (یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والا نصاب اے ایمان والو ! یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت) یعنی بت۔ ان بتوں کو انصاب اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مشرکین ان کو گاڑھتے تھے۔ اس کا مفرونصب ہے نون کے زبر اور صاد کے سکون کے ساتھ اور نصب نون کے پیش کے ساتھ خفیف اور ثقیل ( والا زلام اور پانسے) یعنی وہ تیر جس کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ( رجس من عمل الشیطان سب گندے کام ہیں شیطان کے مزین کردہ ہیں ، فاجتنبوہ لعلکم تفلحون سوا ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پائو) (انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیر بذریعہ شراب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 90–92

(90 ۔ 92) ۔ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ شراب کے نشہ میں بعض صحابہ کی آپس میں تکرار ہو کر مار پیٹ کی نوبت آجاتی جس کے سبب سے ان لوگوں کے آپس کے سلوک میں روزبروز خلل پڑتا جاتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 2 ؎۔ شراب کی چار حالتیں جو اسلام میں رہی ہیں ان کا ذکر تو سورة بقرہ کی آیہّ { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخُمْرِ وَالْمَیْسِرِ } (2: 219) کی تفسیر میں گذرچکا ہے 3 ؎ ان چاروں حالتوں میں ایک حالت سورة النساء کی آیت { یَٓاٰ ایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لاَ تَقْرَبُوْا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی } (4: 43) کے نازل ہونے کے بعد کی تھی جس میں نماز کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 91 اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیاطنی اور گندے کام ہیں۔ (فاجتنبوہ) ” پس بچو ان سے “ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو (لعلکم تفلحون) ” تاکہ تم فلاح پاؤ “ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکوہ فواحش : (الف) خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔ (ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لئے عوض مقرر کیا گیا ہو، مثلاً گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔ (ج) انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کردیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 91–92

قول باری ہے (انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر۔ ) شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے) تا آخر آیت اس سے یہ مراد ہے شیطان شراب نوشی کی دعوت دیتا اور اس قبیح فعل کو بہت آراستہ کر کے پیش کرتا ہے تاکہ شراب پینے والا نشہ کے تحت قبیح افعال کا مرتکب ہوجائے یا اپنے ہم نشینوں کے ساتھ بد اخلاقی پر اتر آئے جس کے نتیجے میں آپ س میں دشمنی اور بغض و عداوت کی بنیاد رکھ دی جائے۔ جوئے بازی بھی ان ہی امور پر جا کر منتج ہوتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے۔” ہوتا اس طرح تھا کہ ایک شخص اپنا سارا مال بلکہ اہل و عیال جوئے کے دائو پر لگا دیتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 91–92

228 شراب اور جوا بغض و عداوت کا ذریعہ ۔ والعیاذ باللہ : کہ شراب سے جب آدمی کی عقل زائل ہوجاتی ہے تو وہ بےہودہ گوئی کرتا ہے جس سے بات مار پیٹ اور قتل و قتال تک جا پہنچتی ہے۔ اور جوئے میں بازی ہارنے والا شخص جب اپنا مال اپنے حریف کے پاس دیکھتا ہے تو خواہ مخواہ اس کے دل میں حسد، بغض اور جلن کے احساسات جنم لیتے ہیں جس سے پھر آگے طرح طرح کے فتنے اور فساد ابھرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور بعض و عداوت اور نفرت و بغاوت کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ اور ہر ایک اس کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کس طرح انتقام لے اور اپنے جوش عداوت کو ٹھنڈا کرے۔ اور اس سے دنگا و فساد، بےعزتی و خرابی اور لڑائی جھگڑے کی طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–92

شراب اور جوئے کے نقصانات تشریح : شراب، جوا اور فال لینا یہ سب پچھلے اسباق میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے جیسا کہ پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے طریقے بتائے گئے ہیں یہاں بھی انسانوں کی بہتری کے لیے شراب، جوا اور فال لینا حرام قرار دیا گیا ہے۔ ان کی اس قدر خرابیاں ہیں کہ ان کو اللہ نے انتہائی غلیظ کام کہا ہے۔ شراب سے انسانی عقل ختم ہوجاتی ہے صحت تباہ ہوجاتی ہے اور یوں انسان اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور انسانی محبت سے دور ہوجاتا ہے۔ جوا، لالچ، حرص نقصان اور آپس کی دشمنی کا ذریعہ بنتا ہے۔ فال اور توہم پرستی، ایمان یقین اور بھروسے کو ختم کرتی ہے۔ ان تمام باتوں کو مان لینے سے انسانوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 87–93

رکوع نمبر 12 ۔ آیات 87 تا 93 ۔ اسرار و معارف : چونکہ نصاری میں رہبانیت کا ذکر چل رہا تھا اور یہ خیال بھی نہ کیا جائے کہ عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں ہاں یہ فرمایا گیا کہ یہودیوں میں بہت ہی کم لوگ اصلاح پذیر ہوئے اتنے کم کہ قوم کے مقابلے میں قابل ذکر تعداد نہیں ، لیکن عیسائیوں میں پھر ان کی نسبت زیادہ لوگ مشرف باسلام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں تارک الدنیا قسم کے لوگ تھے جنہیں کوئی لالچ نہ تھا حق کو دیکھا اور قبول کرلیا تو وہ ان کا اپنا دین تھا بہرحال اچھا وہی جو اسلام قبول کرلے ورنہ کوئی خوبی ہے نہ اسلام دوستی۔ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رہبانیت یا لذیذ چیزوں کو چھوڑ دینا یا گھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 شراب اور جوئے کی حرام قرار دے کر اب اس آیت میں ان کے کے دینی اور دنیوی مفاسد بیان فرمادیئے ہیں دینی مفسدہ یہ کہ شراب اور جو انماز اور ذکر الہی کٰ سے روکنے اور غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دینوی مفسدہ یہ کہ باہم عداوت اور کینسر پیدا کرتے ہیں اور ان دونوں میں ان ہر دو مفاسد کا پایا جانا بالکل واضح ہے ( رازی) علما نے لکھا ہے کہ جس چیز بھی ہار جیت پر شرط بدی جائے وہ جوا ہے اور شطرنج وغیرہ میں گو شرط نہیں بد جاتی مگر یہ نماز سے غفلت کا سبب بنتی ہے اس لیے حرام ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:91) یوقع۔ مضارع واحد مذکر غائب ایقاع (افعال) مصدر۔ وہ ڈال دے۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان ہے۔ یصداکم۔ وہ تم کو روک دے۔ صد مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ منتھون۔ باز آنے والے۔ منع ہوجانے والے۔ رک جانے والے۔ انتھاء (افتعال) مصدر اصل میں منتھیون تھا۔ مادہ نھی

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 90–92

آیت نمبر 90 تا 92 لغات القرآن : الخمر (شراب۔ ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ دے) ۔ المیسر (جوا۔ (آسانی سے حاصل ہونے والی چیز) ۔ الانصاب (بت۔ تھان) ۔ الازلام (زلم) ۔ جوئے کے تیر۔ پانسے) ۔ رجس (گندگی ۔ بیماری) ۔ عمل الشیطن (شیطانی کام) ۔ اجتنبوا (تم بچو۔ (قریب بھی نہ جاؤ) ۔ لعلکم (شاید کہ تم ۔ توقع ہے کہ تم) ۔ ان یوقع (یہ کہ وہ ڈال دے) ۔ بینکم (تمہارے درمیان) ۔ یصدکم (تمہیں روک دے) ۔ ذکر اللہ (اللہ کی یاد۔ اللہ کا ذکر) ۔ الصلوٰۃ (نماز) ۔ منتھون (رک جانے والے) ۔ اطیعوا (اطاعت کرو۔ کہا مانو) ۔ البلغ (پہنچا دینا) ۔ تشریح : آیت 90 میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کردی گئی ہیں۔ (1) جتنی شرابیں ہیں سب حرام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–92

شراب اور جوئے وغیرہ کی مناہی (ممانعت) کا حکم حضرت عبداللہ بن عباد ؓ کی روایت ہے کہ شراب کے نشہ میں بعضے صحابہ کرام کی آپس میں تکرار ہو کر مارپیٹ کی نوبت آجاتی، جس کے سبب سے ان لوگوں کے آپس کے سلوک میں روز بروز خلل پڑجاتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں شراب کی چار حالتیں ہیں جو اسلام میں رہی ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے۔ شراب پی کر آدمی کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے۔ ہر ایک سے لڑنے جھگڑنے لگتا ہے۔ جوا اس سبب سے باعث عداوت ہے کہ جو شخص میں اپنا مال ہارتا ہے وہ بھی بدحواس ہو کر ہر ایک سے لڑنے لگتا ہے۔ شراب میں ایک یہ بھی خرابی ہے کہ اس کا نشہ آدمی کو ذکر الہی سے روک دیتا ہے حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–93

[53] شراب کی حرمت کے سلسلے میں اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے ( سورة بقرہ، آیت 219 صفحہ 64 اور سورة نساء آیت 43 صفحہ 186) اس آیت میں شراب کو گندگی اور شیطانی کام ٹھہرا کر صاف صاف اس کی حرمت کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سے احتراز کو موجب فلاح کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–92

(ف 1) صحابہ کرام ؓ اجمعین کی اطاعت دیکھئے ، (آیت) ” فھل انتم منتھون “ کی آواز کو سنتے ہیں اور تسلیم ورضا کا پیکر بن جاتے ہیں ، برسوں کے رسیا ایک دم شراب چھوڑ دیتے ہیں ، اور ساغر ومینا توڑ دیتے ہیں ، وہ مجلسیں جن میں شراب وصہبا کے دور چلتے تھے ، اب ذکر وشغل کے حلقوں میں تقسیم ہوگئی ہیں ، صحابہ کرام ؓ اجمعین مسجدوں میں بیٹھ کر کوثر وتسنیم کے جام لنڈھاتے ہیں اور بادہ کیف آور سے مخمور ہوجاتے ہیں ، یہ ساقی مدینہ کا فیض ہے یثرب کی بھٹی سے وہ خانہ سازا اور تیز وتند شراب پلائی کہ مست ” احسنت “ (آفرین) پکارا اٹھے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-91 شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تم کو دینی اور دنیاوی نقصان پہنچانے کی غرض سے تمہارے مابین شراب اور جوئے کے ذریعے عداوت اور غض واقع کر دے یعنی باہمی برتائو میں عداوت اور دلوں میں بغض ڈال دے اور تم کو خدا کی یاد اور ذکر الٰہی سے اور نماز کو وقت پر ادا کرنے سے روک دے یعنی دین کو سنوارنے سے باز رکھے۔ پس تم بھی ان ناپاک اور شیطانی کاموں سے باز آئو گے یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–93

ف 5۔ حاصل یہ ہوا کہ یہ خمر ومیسر بت پرستی اور کفر کے قریب قریب اس لیے ہیں کہ نماز سے جو کہ ایمان کے اعظم شعائر اور علامات ایمان سے ہے مانع ہے جب اس طور پر ایمان سے بعد ہوا تو کفر سے قرب ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شراب ، جوئے اور دوسرے اعمال کی حرمت کی اصل وجہ کیا ہے ؟ : 217: زیر نظر آیت میں شراب اور جوئے کی حرمت کی حکمت بیان فرمائی جا رہی ہے اس کی حکمت یہ ہے کہ اس کی ” خرابیاں اور نقصان ایسے ہیں جن کی قباحت روز روشن کی طرح واضح ہے جس میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے عداوت اور دشمنی کی تخم ریزی ہوئی ہے جس سے گہرے دوست ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں۔ حقیقی بھائی ایک دوسرے کے دشمن ہوجاتے ہیں اور دوسرے یہ کہ دونوں چیزیں اللہ کی یاد سے روک دینے والی ہے حتیٰ کہ نماز جیسے فریضہ کی بھی پروا نہیں رہتی ۔ پھر تم ہی بتاؤ کہ تم اس فریضہ سے باز رہنا چاہتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ ان نقصانات کے باوجود تم ان سے اجتناب نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The second verse (91) describes the physical and outwardly visible defects of drinking and gambling: إِنَّمَا يُرِ‌يدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ‌ that is, the Satan wants nothing but to plant enmity and malice between you through drinking and gambling. In fact, these verses were revealed in the background of events when actions taken under the influence of hard drinks became the cause of mutual anger and aggression. Things like this do not simply happen by chance. When drunk, man loses reason and would compulsively act in that manner. So…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–94

108.For 'altars' and divination by arrows see (nn.12)and 14)above. For games of chance see (n. 14) above. While divination by arrow-shooting essentially constitutes a game of chance there is nevertheless a certain difference between the two, since divination by arrow-shooting, in addition to being a game of chance, is also tainted with polytheistic beliefs and superstitions. As for games of chance, this expression is applied to those games and acts in which accidental factors are considered the criteria for acquisition, fortune-making and the division of goods and property. 109. In this verse…

Read the full tafseer →