Explained with ayahs 90–93
پانسہ بازی، جوا اور شراب
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
سورة الْمَآىِٕدَة 108
آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة مائدہ، 12 و 14۔ اس سلسلہ میں جوئے کی تشریح بھی 14 میں مل جائے گی۔ اگرچہ پانسے (جوئے) ہی کی ایک قسم ہیں۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اس صورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیات سے آلودہ ہو۔ اور میسر کا اطلاق ان کھیلوں اور ان کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی امور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیم اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 109
اس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا…
Read the full tafseer →ربط آیات
اوپر حلال چیزوں کے ترک خاص کی ممانعت تھی، آگے بعض حرام چیزوں کے استعمال کی ممانعت ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں، سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو (بوجہ ان کو مضرتوں سے بچنے کے جو آگے مذکور ہیں) فلاح ہو (اور وہ مضرتیں دنیوی بھی ہیں اور دینی بھی جن کا بیان یہ ہے کہ) شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے آپس میں (برتاؤ میں) عداوت اور (دلوں میں) بغض واقع کر دے (چنانچہ ظاہر ہے کہ شراب میں تو عقل نہیں رہتی، گالی گلوچ دنگہ فساد ہوجاتا ہے، جس سے بعد میں بھی طبعاً کدورت باقی رہتی ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
تفسیر آیات 90 تا 91: يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ۔
ہر نشہ آور چیز خمر ہے خمر اور میسر، پر بقرہ 219 میں اور انصاب و ازلام، پر مائدہ 3 میں بحث گزر چکی ہے۔ شراب اور جوا، جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بیان کر آئے ہیں، دونوں قوام بیماریاں ہیں۔ کم از کم عرب…
Read the full tafseer →90۔ 1 یہ شراب کے بارے میں تیسرا حکم ہے۔ پہلے اور دوسرے حکم میں صاف طور پر ممانعت نہیں فرمائی گئی۔ لیکن یہاں اسے اور اس کے ساتھ جوا پرستش گاہوں یا تھانوں اور فال کے تیروں کو رجس (پلید) اور شیطانی کام قرار دے کر صاف لفظوں میں ان سے اجتناب کا حکم دے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس آیت میں شراب اور جوا کے مزید نقصانات بیان کرکے سوال کیا گیا ہے کہ اب بھی باز آجاؤ گے یا نہیں ؟ جس مقصود اہل ایمان کی آزمائش ہے۔ چنانچہ، جو اہل ایمان تھے وہ تو منشائے الٰہی سمجھ گئے اور اس کی قطعی حرمت کے قائل ہوگئے اور کہا اُنْتَھَیْنَا رَبَّنَا ! اے رب ہم باز آگئے، لیکن آجکل کے بعض " دانشور " کہتے ہیں کہ اللہ نے شراب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
62: بتوں کے تھان سے مراد وہ قربان گاہ ہے جو بتوں کے سامنے بنادی جاتی تھی اور لوگ بتوں کے نام پر وہاں جانور وغیرہ قربان کیا کرتے تھے۔ اور جوے کے تیروں کی تشریح اسی سورت کے شروع میں آیت نمبر 3 کے تحت حاشیہ نمبر 6 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔
شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس…
Read the full tafseer →7 " انصاب " و " ازلام " کی تفسیر اسی سورت کی ابتداء میں وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِا لْاَزْلاَمِ ) المائدہ رکوع 1 آیت نمبر 3) کے تحت میں گزر چکی۔
8 اس آیت سے پہلے بھی بعض آیات خمر (شراب) کے بارے میں نازل ہوچکی تھیں۔ اول یہ آیت نازل ہوئی (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2 ۔ البقرۃ :219) گو اس سے نہایت واضح اشارہ تحریم خمر کی طرف کیا جا رہا تھا مگر چونکہ صاف طور اس کے چھوڑنے کا حکم نہ تھا اس لئے حضرت عمر ؓ نے سن کر کہا اللھم بین لنا بیانا شافیا اس کے…
Read the full tafseer →آیت 90 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
شراب اور جوئے کے بارے میں تو پہلے بھی حکم آچکا ہے ‘ لیکن انصاب اور ازلام کا یہاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اَنصاب سے مرادبتوں کے استھان ہیں اور ازلام جوئے ہی کی ایک قسم تھی جس میں اہل عرب تیروں کے ذریعے پانسے ڈالتے تھے ‘ قرعہ اندازی کرتے تھے۔ ان تمام کاموں کو رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ قرار دے دیا گیا۔ ُ
Read the full tafseer →133 شراب اور اس کی حرمت کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ حرمت شراب میں تدریج :۔ سیدنا عمر ص فرماتے ہیں کہ میں نے دعا کی یا اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے شافی بیان واضح فرما۔ تو سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ) چناچہ سیدنا عمر ص کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔ پھر سیدنا عمر ص نے دعا کی : یا اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے شافی بیان نازل فرما تو سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی (یٰایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَقْرَبُوْا الصَّلٰوٰۃَ ) چناچہ سیدنا عمر ص کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔ آپ نے پھر دعا کی۔ یا اللہ ہمارے لیے شراب کے بارے…
Read the full tafseer →283 ۔ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں فطرت انسانی اور طبیعت بشری سے پھر کچھ نہ کچھ لگاؤ ہوتا ہے لیکن یہ چاروں چیزیں تو ایسی ہیں کہ انسان ان کی جانب تمامتر خارجی مؤثرات ہی کے اثر سے آتا ہے اور یہ بالکل ہی شیطان کی تحریک کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ (آیت) ” رجس من عمل الشیطن “۔ ان کی بالکل صحیح تصویر کشی ہے، فطرت بشری ان سے خود ابا کرتی ہے۔ خمر اور میسر پر حاشیہ سورة البقر رکوع 28 کے تحت میں اور انصاب اور ازلام پر اسی سورة مائدہ کے شروع میں درج ہوچکے۔ شراب اور جوئے کی مادی مضرتوں کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” من عمل الشیطن “۔ یعنی تحریک شیطانی کا نتیجہ۔ لانہ مسبب عن تسویلہ وتزیینہ…
Read the full tafseer →یٰایّھا الذین آمَنُوا اِنّما الخمر والمیسِرُ ، شراب کے بارے میں یہ تیسرا حکم ہے پہلے اور دوسرے حکم میں صاف طور پر ممانعت نہیں فرمائی گئی، لیکن یہاں اسے اور اس کے ساتھ جوا، پرستش گاہوں (تھانوں) اور فال کے تیروں کو رجس (پلید) اور شیطانی کام قرار دیکر صاف لفظوں میں ان سے اجتناب کا حکم دیدیا گیا ہے، اس کے علاوہ اس آیت میں شراب اور جوئے کے مزید نقصانات بیان کرکے سوال کیا گیا ہے کہ اب بھی باز آؤ گے یا نہیں ؟ مقصد ایمان کی آزمائش ہے، چناچہ جو اہل ایمان تھے وہ منشائے الہیٰ سمجھ گئے اور اس کی قطعی حرمت کے قائل ہوگئے، اور کہہ اٹھے، ” اِنتھَینا ربَّنَا “ اے ہمارے پروردگار ہم باز آگئے۔
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا انما الخمر والمیسر : اے اہل ایمان شراب اور جوا (اور انصاب و ازلام گندگی ہیں) خمر و میسر کی تفسیر اور حکم سورة بقر میں گذر چکا ہے۔ (1) [ ترمذی نے لکھا ہے حضرت عمر ؓ بن خطاب نے دعا کی اے اللہ ! شراب کے متعلق ہمارے لئے کوئی تسکین بخش بیان نازل فرما اس پر سورة بقرہ والی آیت
(یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَللْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَا اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافَعُ للنَّاسِ ۔۔ ) نازل ہوئی۔ حضرت عمر ؓ نے پھر دعا کی اے اللہ ! شراب کے متعلق ہمارے لئے کوئی تسلی بخش حکم نازل فرما دے اس پر سورة النساء والی آیت : (یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوْا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ…
Read the full tafseer →(90) شراب اور جوئے کی تمام اقسام اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیریہ سب حرام ہیں، یہ شیطانی کام اور اس کے وسوسے ہیں تم ان سب چیزوں کا بالکل چھوڑ دو تاکہ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور اس کی ناراضگی سے بچو اور آخرت میں تمہیں اطمینان حاصل ہو۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ۔ : یہ شراب کے سلسلے میں تیسرا اور آخری حکم ہے، جس کے بعد وہ قطعی حرام قرار دے دی گئی، اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے، پہلا حکم سورة بقرہ (219) میں اور دوسرا سورة نساء (43) میں، مگر ان دونوں آیتوں میں قطعی حرمت کا ذکر نہیں تھا، اس لیے عمر بن خطاب ؓ نے سورة بقرہ اور سورة نساء کی آیات نازل ہونے کے بعد کہا : ”یا اللہ ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں واضح حکم فرما۔“ آخر صریح حرمت کی یہ آیت تین مزید چیزوں کی حرمت کے ساتھ اتری۔
[ نسائی، الأشربۃ، باب تحریم الخمر : 5542 ]
’ الْخَمْر“ کی تفسیر خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی، چناچہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
آیت نمبر 90 تا 92
اس میں سترہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) یایھا الذین امنوا ان اشیاء کے ترک کرنے کے ساتھ مومنوں کو خطاب کیا ہے، کیونکہ ان شہوات اور عادات کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں ملوث تھے اور ان کے نفوس پر یہ غالب تھیں۔ پس بہت سے مومنوں کے نفوس میں کچھ باقی تھیں۔ ابن عطیہ نے کہا (1): اس قبیل سے تھا پرندوں کو دیکھ کر کام کو نہ جانا اور کتب وغیرہ سے فال لینا اور اس طرح کی بیہودہ چیزیں جو آج کل جاہل لوگ کرتے ہیں، رہا خمر (شراب) ابھی تک یہ حرام نہیں کی گئی اس کی مکمل حرمت جنگ احد کے واقعہ کے بعد تیسرے سال نازل ہوئی اور جنگ احد ہجرت کے تیسرے سال شوال میں ہوئی۔ اس کا…
Read the full tafseer →شراب اور جوئے کی حرمت
(1) امام احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کی شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ (جب مدینہ منورہ میں) تشریف لائے تو وہ لوگ شراب پیتے تھے اور جوا سے مال کھاتے تھے ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان دونوں کے بارے میں پوچھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت یسئلونک عن الخمر والمیسر (سورۃ بقرۃ 912) لوگوں نے کہا ہم پر حرام نہیں کی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بڑا گناہ ہے۔ یہ لوگ شراب پیتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک ایسا دن بھی آیا کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی کو انہوں نے مغرب کی نماز میں امام بنایا تو قرآت میں اس سے (غلطی ہوئی نشہ کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ الْخَمْرُ : شراب ] [ وَالْمَيْسِرُ : اور جوا ] [ وَالْاَنْصَابُ : اور استھان ] [ وَالْاَزْلَامُ : اور فال کے تیر ] [ رِجْسٌ : (ہر ایک ) نجاست ہے ] [ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ : شیطان کے عمل میں سے ] [ فَاجْتَنِبُوْهُ : پس تم لوگ دور رہو اس سے (یعنی ہر ایک سے ) ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد کہ تم لوگ ] [ تُفْلِحُوْنَ : فلاح پاؤ]
رج س (س۔ ک ) رجاسۃ قبیح کام کرنا ۔ رجس ۔ اسم ذات ہے ۔ گندگی ۔ نجاست ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : الخمر سے والازلام تک چاروں مبتداء ہیں ۔ رجس ان کی خبر جمع کے بجائے واحد…
Read the full tafseer →خمر اور میسر اور انصاب و ازلام ناپاک ہیں
ان آیات میں شراب اور جوئے اور بت اور جوا کھیلنے کے تیروں کو گندی چیزیں بتایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ چیزیں شیطان کے کاموں میں سے ہیں۔ عرب کے لوگ بت پوجا کرتے تھے، اور بتوں کے پجاریوں کے پاس تیر رکھ دیتے تھے ان تیروں کے ذریعہ جوا کھیلتے تھے جس کی تشریح سورة مائدہ کی آیت نمبر 3 کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ سورة بقرہ میں فرمایا (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ للنَّاسِ وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا) (اور آپ سے سوال کرتے ہیں شراب اور جوئے کے بارے میں ! آپ فرما دیجئے ! کہ ان میں بڑا گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
حکم ہفدہم تحریم خمروقمار۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا انماالخمر۔۔۔۔ الی۔۔۔ المحسنین۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں حلال کو حرام سمجھنے کی ممانعت تھی اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جیسے حلال کی حرام سمجھنا گناہ ہے ایسے ہی حرام کو حلال سمجھنا بھی گناہ اور حرام ہے جیسے شراب اور جوا وغیرہ وغیرہ، اہل عرب شراب اور جوے کو حلال اور طیب سمجھتے تھے اللہ نے یہ بتلا دیا کہ یہ چیزیں حلال اور طیب نہیں بلکہ خبیث اور جس میں ان سے اجتناب ضروری ہے اور انکا استعمال حرام ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حرام کردیا اس کے قریب نہ جاؤ جزایں نیست کہ شراب اور جو…
Read the full tafseer →152 یہ دوسرے مسئلے کا بیان ہے یعنی غیر اللہ کی نذر و نیاز حرام اور نجس ہے اَلْمَیْسِرُ یعنی جوا۔ اس سے جوئے کی کوئی بھی مخصوص صورت مراد نہیں بلکہ وہ تمام صورتیں اور شرطیں مراد ہیں۔ جن پر جوئے کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ مثلا لاٹری، ریس پر بازی لگانا وغیر۔ اَلْاَنْصَابُ ، نُصُبٌ کی جمع ہے یعنی بڑے بڑے بت، مراد ان کے نام پر دی جانے والی نذریں ہیں والْاَزْلَام اس سے تیروں کے ذریعے تقسیم مراد ہے۔ ان تمام چیزوں کو ناپاک اور شیطانی فعل قرار دیا اور فرمایا ان سے اجتناب کرو اور دور رہو اسی میں تمہاری کامیابی اور فلاح کا راز مضمر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
ربط آیات
گزشتہ درس میں حلت و حرمت کا قانون بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جن پاک چیزوں کو اس نے حلال قرار دیا ہے ان کو حرام نہ بنائو۔ نہ تو اعتقاداً انہیں حرام سمجھو اور نہ قسم اٹھا کر از خود اپنے لئے حرام قرار دو ، بلکہ ان سے استفادہ حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کچھ مزید محرمات کا ذکر کیا ہے اور حرام کردہ اشیاء سے بچنے کا حکم دیا ہے حرام کردہ اشیاء میں یقینا کوئی دینی ، دنیاوی ، جسمانی یا روحانی نقصان ہے جس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جس طرح حلال چیز کو حرام کرلینے سے فساد پیدا ہوتا ہے اور اجتماعی مصلحت خراب ہوتی ہے۔ اسی طرح حرام چیز کو…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 90
خمر
أصل الخمر : ستر الشیء، ويقال لما يستر به : خِمَار، لکن الخمار صار في التعارف اسما لما تغطّي به المرأة رأسها، وجمعه خُمُر، قال تعالی:
وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ [ النور/ 31] والخَمْر سمّيت لکونها خامرة لمقرّ العقل، وهو عند بعض الناس اسم لكلّ مسكر . وعند بعضهم اسم للمتخذ من العنب والتمر، لما روي عنه صلّى اللہ عليه وسلم : «الخمر من هاتین الشّجرتین : النّخلة والعنبة»
( خ م ر ) الخمر
( ن ) اصل میں خمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
ترکیب : رجس موصوف من عمل الشیطن صفت خبر ہے انما الخمر کی فی الخمر والمیسر متعلق ہے یوقع سے ویصد اس پر
معطوف ہے عن ذکر اللّٰہ جاریصد سے متعلق وعن الصلوٰۃ اس پر معطوف۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ سے مناظرہ ختم کرکے احکام شروع کئے تو یہ ان کی تیسری قسم ہے۔ اول تو لاتحرموا۔ دوم قسم کے مسائل لاتحرموا میں اس بات کی طرف وہم جاسکتا تھا کہ شراب بھی تو ایک مزہ دار چیز ہے اسی طرح جو ابھی سو یہ بھی حلال ہوں۔ اس لئے تصریح کردی کہ یہ چیزیں طیبات میں داخل نہیں اس لئے رجس اور عمل شیطانی ہیں۔ خمر ٗ شراب ٗ میسر جوا ٗ انصاب ان گھڑت پتھر کہ جن کو ایام جاہلیت میں پوجتے تھے صنم تو ترشی ہوئی مورت اور نصب ان گھڑت پتھر ‘…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (المائدہ :)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہ شراب اور جوا ‘ یہ آستانے اور پانسے ‘ یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ‘ ان سے پرہیز کرو امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی “۔
اس آیت کریمہ میں چار چیزیں قطعی حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب ‘ دوسرا قماربازی ‘ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے یا اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر قربانی اور نذر و نیاز چڑھانے کے لیے مخصوص کیے گئے ہوں اور چوتھے پانسے۔ اب تھوڑی سی ترتیب بدل کر ان تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کے نام کا تقدس ہے کہ اسے ناجائز استعمال نہیں کرنا اسی طرح اس کے حکم کا تقاضا ہے کہ شراب اور شیطانی کاموں کو چھوڑ دیا جائے۔
سورۃ البقرۃ کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ عربی میں ہر اس چیز کو خمر کہتے ہیں جو دوسرے پر پردہ ڈال دے۔ اسی مناسبت سے عورتوں کی اوڑھنیوں کو بھی قرآن مجید میں خمر کہا گیا ہے (سورۃ النور : 31) کیونکہ عورت اس سے اپنا سر، چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہے شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کی عقل و فکر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسلام کے دوسرے ضابطوں اور قوانین کی طرح شراب کے حکم امتناعی کی تکمیل بھی تدریجاً ہوئی ہے۔ شراب کی جسمانی اور اخلاقی…
Read the full tafseer →شراب و جوئے کی حرمت کو پختہ کرنے کے پانچ انداز :
آیت 90: یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُوالْمَیْسِرُ ۔ (اے ایمان والو ! بیشک شراب اور جوا) المیسرکا معنی جوا۔ وَالْاَنْصَابُ : بت کیونکہ ان کو گاڑ کر ان کی پوجا کی جاتی ہے۔ وَالْاَزْلَامُ جوئے کے تیر جن کا شروع سورت میں ذکر ہوا۔ رِجْسٌ پلید ہیں یا خبیث گندگی والے ہیں۔ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ کیونکہ شیطان ان پر آمادہ کرتا ہے۔ گویا یہ اسی کا عمل اور کارروائی ہے۔ اور فَاجْتَنِبُوْہُ میں ضمیر رِجْسٌ کی طرف لوٹ رہی ہے یا عمل شیطان کی طرف راجع ہے۔ یا مذکور کی طرف راجع ہے۔ یا مضاف محذوف ہے گویا اس طرح فرمایا گیا انما تعاطی الخمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
آیت نمبر 91, 90
تفسیر : (یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والا نصاب اے ایمان والو ! یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت) یعنی بت۔ ان بتوں کو انصاب اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مشرکین ان کو گاڑھتے تھے۔ اس کا مفرونصب ہے نون کے زبر اور صاد کے سکون کے ساتھ اور نصب نون کے پیش کے ساتھ خفیف اور ثقیل ( والا زلام اور پانسے) یعنی وہ تیر جس کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ( رجس من عمل الشیطان سب گندے کام ہیں شیطان کے مزین کردہ ہیں ، فاجتنبوہ لعلکم تفلحون سوا ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پائو)
(انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیر بذریعہ شراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
(90 ۔ 92) ۔ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ شراب کے نشہ میں بعض صحابہ کی آپس میں تکرار ہو کر مار پیٹ کی نوبت آجاتی جس کے سبب سے ان لوگوں کے آپس کے سلوک میں روزبروز خلل پڑتا جاتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 2 ؎۔ شراب کی چار حالتیں جو اسلام میں رہی ہیں ان کا ذکر تو سورة بقرہ کی آیہّ { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخُمْرِ وَالْمَیْسِرِ } (2: 219) کی تفسیر میں گذرچکا ہے 3 ؎ ان چاروں حالتوں میں ایک حالت سورة النساء کی آیت { یَٓاٰ ایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لاَ تَقْرَبُوْا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی } (4: 43) کے نازل ہونے کے بعد کی تھی جس میں نماز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
آیت 89
(1) اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے، ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہا رفاضل مفسر (رح) نے کیا ہے، دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارہ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے تفسیر فتح القدیر، آیت زیر بحث زاد المعاد، ج :312-302/5 فتح الباری، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیہ، ج : 2، کتاب اطلاق وغیر ھامن الکتب (ص۔ ی)
یعنی تمہاری ان قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہارا مؤاخذہ نہیں کرے گا جو تم سے لغواً صادر ہوتی ہیں۔…
Read the full tafseer →شراب کی تحریم
قول باری ہے (انما الخمر والمیسر والا نصاب والا زلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔ یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو)
آیت دو وجوہ سے شراب کی تحریم کی مقتضی ہے ۔ اول قول باری (رجس) اس لئے شرع میں رجس اس چیز کا نام ہے جس سے اجتناب لازم ہوتا ہے۔ نیز رجس کا اسم ہر اس چیز پر واقع ہوتا ہے جو نجس اور گندہ ہو۔ اس سے بھی پرہیز لازم ہے۔ شراب کو رجس کا نام دنیا اس سے پرہیز کے لزوم کا موجب ہے۔
دوم قول باری (فاجتنبوہ) یہ امر کا صیغہ ہے اور امر ایجاب کا مقتضی ہے۔ اس طرح آیت دو وجوہ سے شراب کی تحریم کے حکم پر مشتمل ہے۔ شراب انگور کے اس خام رس کو…
Read the full tafseer →225 " نُصُب " کا معنیٰ و مفہوم : " نصب "، " نصاب " کی جمع ہے جیسے " کتب "، " کتاب " کی جمع ہے۔ اور " نصب " ان آستانوں اور خاص مقرر کردھ چیزوں کا نام جن کو مقرر اور نصب کرکے مشرکین ان کے پاس نیازیں دیتے، چڑھاوے چڑھاتے اور نذرانے پیش کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج بھی برصغیر کے مختلف ملکوں اور علاقوں میں کھلے مشرکوں کے علاوہ بہت سے جاہل مسلمانوں نے بھی ایسے مختلف پتھر یا درخت وغیرہ مقرر کر رکھے ہیں جہاں ایسے جاہل لوگ جاکر جھنڈیاں باندھتے، نذر و نیاز پیش کرتے اور میلے ٹھیلے لگاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پھر " اَنصاب " اور " اَصنام " میں فرق یہ ہے کہ پتھر اگر صورت والا ہو تو وہ " صنم " ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
شراب اور جوئے کے نقصانات
تشریح : شراب، جوا اور فال لینا یہ سب پچھلے اسباق میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے جیسا کہ پچھلی آیات میں بہترین زندگی گزارنے کے طریقے بتائے گئے ہیں یہاں بھی انسانوں کی بہتری کے لیے شراب، جوا اور فال لینا حرام قرار دیا گیا ہے۔ ان کی اس قدر خرابیاں ہیں کہ ان کو اللہ نے انتہائی غلیظ کام کہا ہے۔ شراب سے انسانی عقل ختم ہوجاتی ہے صحت تباہ ہوجاتی ہے اور یوں انسان اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور انسانی محبت سے دور ہوجاتا ہے۔ جوا، لالچ، حرص نقصان اور آپس کی دشمنی کا ذریعہ بنتا ہے۔ فال اور توہم پرستی، ایمان یقین اور بھروسے کو ختم کرتی ہے۔ ان تمام باتوں کو مان لینے سے انسانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
رکوع نمبر 12 ۔ آیات 87 تا 93 ۔
اسرار و معارف : چونکہ نصاری میں رہبانیت کا ذکر چل رہا تھا اور یہ خیال بھی نہ کیا جائے کہ عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں ہاں یہ فرمایا گیا کہ یہودیوں میں بہت ہی کم لوگ اصلاح پذیر ہوئے اتنے کم کہ قوم کے مقابلے میں قابل ذکر تعداد نہیں ، لیکن عیسائیوں میں پھر ان کی نسبت زیادہ لوگ مشرف باسلام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں تارک الدنیا قسم کے لوگ تھے جنہیں کوئی لالچ نہ تھا حق کو دیکھا اور قبول کرلیا تو وہ ان کا اپنا دین تھا بہرحال اچھا وہی جو اسلام قبول کرلے ورنہ کوئی خوبی ہے نہ اسلام دوستی۔ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رہبانیت یا لذیذ چیزوں کو چھوڑ دینا یا گھر…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اس رجس سے بچو شراب کے سلسلے میں یہ تیسرا اور آخری حکم ہے جس کے بعد وہ قطعی حرام قرار دے گئی اس سے قبل دو حکم آچکے تھے پہلا سورت بقرہ آیت 219 میں اور دوسرا سورة نسا آیت 43 میں مگر ان دونوں آیتوں میں شراب کی قطعی حرمت کا ذکر نہ تھا اس لیے حضر عمر ؓ نے بقرہ اور نسا کی آیات نازل ہونے کے بعد کہا اللھم بین لنافی الخمر اے اللہ شراب کے متعلق مزید وضاحت یعنی حرمت کی ضرورت ہے حتی کہ سورت مائدہ کی یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →(5:90) المیسر۔ اسم ومصدر۔ جوا۔ جوا کھیلنا۔ قمار بازی۔ یسر سے۔ یسر کے معنی آسانی۔ اور سہولت کے ہیں یہ عسر کی ضد ہے۔ چونکہ جوا کھیلنے میں بھی مال آسانی اور بلا کلفت حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو المیسر کہا جاتا ہے۔
الانصاب۔ نصب کی جمع ۔ بت وہ تمام چیزیں جو عبادت کے لئے نصب کی جائیں۔ خواہ وہ مورتی ہو یا پتھر۔ یا اور کچھ۔ ان کو انصاب کہا جاتا ہے ۔ یہاں انصاب سے مراد وہ پتھر ہیں جو حرم میں کعبہ کے اردگرد نصب تھے اور کفار ان کے لئے جانور ذبح کرتے اور ان کو خون ان پتھروں پر مل دیتے اور گوشت ان پتھروں پر کرھ دیتے۔ جسے قرآن مجید نے حرام فرمایا ۔ دیکھو 5:3 ۔
الازلام۔ تیر۔ تیر پھینک کر شگون لینا۔ دیکھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
آیت نمبر 90 تا 92
لغات القرآن : الخمر (شراب۔ ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ دے) ۔ المیسر (جوا۔ (آسانی سے حاصل ہونے والی چیز) ۔ الانصاب (بت۔ تھان) ۔ الازلام (زلم) ۔ جوئے کے تیر۔ پانسے) ۔ رجس (گندگی ۔ بیماری) ۔ عمل الشیطن (شیطانی کام) ۔ اجتنبوا (تم بچو۔ (قریب بھی نہ جاؤ) ۔ لعلکم (شاید کہ تم ۔ توقع ہے کہ تم) ۔ ان یوقع (یہ کہ وہ ڈال دے) ۔ بینکم (تمہارے درمیان) ۔ یصدکم (تمہیں روک دے) ۔ ذکر اللہ (اللہ کی یاد۔ اللہ کا ذکر) ۔ الصلوٰۃ (نماز) ۔ منتھون (رک
جانے والے) ۔ اطیعوا (اطاعت کرو۔ کہا مانو) ۔ البلغ (پہنچا دینا) ۔
تشریح : آیت 90 میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کردی گئی ہیں۔ (1) جتنی شرابیں ہیں سب حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
شراب اور جوئے وغیرہ کی مناہی (ممانعت) کا حکم
حضرت عبداللہ بن عباد ؓ کی روایت ہے کہ شراب کے نشہ میں بعضے صحابہ کرام کی آپس میں تکرار ہو کر مارپیٹ کی نوبت آجاتی، جس کے سبب سے ان لوگوں کے آپس کے سلوک میں روز بروز خلل پڑجاتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں شراب کی چار حالتیں ہیں جو اسلام میں رہی ہیں جن کا ذکر گزر چکا ہے۔ شراب پی کر آدمی کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے۔ ہر ایک سے لڑنے جھگڑنے لگتا ہے۔ جوا اس سبب سے باعث عداوت ہے کہ جو شخص میں اپنا مال ہارتا ہے وہ بھی بدحواس ہو کر ہر ایک سے لڑنے لگتا ہے۔ شراب میں ایک یہ بھی خرابی ہے کہ اس کا نشہ آدمی کو ذکر الہی سے روک دیتا ہے حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
[53] شراب کی حرمت کے سلسلے میں اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے ( سورة بقرہ، آیت 219 صفحہ 64 اور سورة نساء آیت 43 صفحہ 186) اس آیت میں شراب کو گندگی اور شیطانی کام ٹھہرا کر صاف صاف اس کی حرمت کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سے احتراز کو موجب فلاح کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →شراب اور جوا :
(ف 1) قرآن حکیم نے اخلاق انسانی کی پوری طرح حفاظت کی ہے اور ان تمام چیزوں کو ناجائز ٹھہرایا ہے ، جو اخلاقی طور پر مذموم ہیں اور جن کا استعمال نسل انسانی کے لئے تباہ ہے ،
شراب اور جوا دو بہت پرانی بیماریاں ہیں ، عرب کے جاہل سے لے کر یورپ کے مہذب تک اس میں مبتلا ہیں ، آج باوجود تعلیم وتربیت کے ارتقاء کے یہ دونوں چیزیں سوسائٹی کا جزو قرار پاگئی ہیں ، اس لئے ضرورت ہے کہ ان کی برائیاں تفصیل کے ساتھ بیان کی جائیں ۔
قرآن حکیم نے جو برائیاں گنائی ہیں وہ اس درجہ اہم اور درست ہیں کہ ان میں شک وشبہ کی قطعا گنجائش نہیں ، یعنی بعض وعداوت کی تخلیق اور نماز سے تغافل ، شراب پینے اور جوا کھیلنے…
Read the full tafseer →-90 اے اہل ایمان ! سوائے اس کے نہیں کہ شراب اور جوا اور معبود ان باطلہ کے نشانات یعنی بت اور ان کے تھان وغیرہ اور قرعہ اندازی اور فال لینے کے نیز یہ سب گندی اور گھنائونی چیزیں ہیں جو شیطان کے کاموں میں سے ہیں اور اعمال شیطانی ہیں لہٰذا تم ان ناپاک باتوں میں سے ہر ایک ایک بات سے بچتے رہا کرو تاکہ تم فلاح پائو اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
ف 2۔ یعنی کفار واجب نہیں کرتے۔
3۔ یعنی تینوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے۔
4۔ لغو کہتے ہیں بےاثر کو اس کے دو معنی ہیں ایک وہ جس پر گناہ کا اثر مرتب نہ ہو دوسرے وہ جس پراثرکفارہ کا مرتب نہ ہو اس آیت میں اسی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →جوئے ، شراب ، الانصاب اور دوسرے شیطان کاموں سے بچنے کی تاکید :
216: ” خمر اور میسر “ دونوں توام ہیں ایک بیماری جس فردو قوم کو لگ جائے دوسری یقینی ہے اور یہ دونوں بیماریاں عربوں میں عام تھیں اور انہی کی دیکھا دیکھی اہل کتاب میں بھی یہ پھیل چکی تھی حالانکہ اہل کتاب کے دونوں گروہوں کو اس کی سختی کے ساتھ ممانعت تھی۔ جو آج بھی باوجود تحریف کے تورات وانجیل کے صفحات میں موجود ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کے وقت عربوں میں ان کا رواج عام تھا ۔ گنتی کے چند آدمیوں کے علاوہ سب کے سب اس کے متوالے تھے۔ اگرچہ ان دونوں کی ممانعت اہل کتاب کے ہاں بھی مسلم تھی لیکن اس کے باوجود وہ ان احکام کو بالکل پیٹھ پیچھے…
Read the full tafseer →Linkage of Verses
Earlier, considered abandonment of Halal things was prohibited. Prohibited now is the use of some Harm things.
Commentary
Creation of the Universe is for the Benefit of Human Beings
Through these verses, the purpose is to tell that the Master of the Universe has created it to serve human beings. Everything in it has been appointed to take care of their wishes. They are the served ones in this Universe. There is only one restriction placed on them: Do not transgress the limits set by Allah when you benefit from what He has created. Abstaining from good and lawful things made…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
108.For 'altars' and divination by arrows see (nn.12)and 14)above. For games of chance see (n. 14) above.
While divination by arrow-shooting essentially constitutes a game of chance there is nevertheless a certain difference between the two, since divination by arrow-shooting, in addition to being a game of chance, is also tainted with polytheistic beliefs and superstitions. As for games of chance, this expression is applied to those games and acts in which accidental factors are considered the criteria for acquisition, fortune-making and the division of goods and property.
109. In this verse…
Read the full tafseer →