غیر ارادی قسمیں اور کفارہ
لعو قسمیں کیا ہوتی ہیں ؟ ان کے کیا احکام ہیں ؟ یہ سب سورة بقرہ کی تفسیر میں بالتفصیل بیان کرچکے ہیں اس لئے یہاں ان کے دوہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد اللہ۔ مقصد یہ ہے کہ روانی کلام میں انسان کے منہ سے بغیر قصد کے جو قسمیں عادۃ نکل جائیں وہ لغو قسمیں ہیں۔ امام شافعی کا یہی مذہب ہے، مذاق میں قسم کھا بیٹھنا، اللہ کی نافرمانی کے کرنے پر قسم کھا بیٹھنا، زیادتی گمان کی بنا پر قسم کھا بیٹھنا بھی اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے۔ غصے اور عضب میں، نسیان اور بھول چوک سے کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیزوں میں قسم کھا بیٹھنا مراد ہے، اس قوم کی دلیل میں آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 106
چونکہ بعض لوگوں نے حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی قسم کھا رکھی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی سلسہ میں قسم کا حکم بھی بیان فرما دیا کہ اگر کسی شخص کی زبان سے بلا ارادہ قسم کا لفظ نکل گیا ہے تو اس کی پابندی کرنے کی ویسے ہی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسی قسم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے، اور اگر جان بوجھ کر کسی نے قسم کھائی ہے تو وہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے، کیونکہ جس نے کسی معصیت کی قسم کھائی ہو اسے اپنی قسم پر قائم نہ رہنا چاہیے (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 243 و 244۔ نیز کفارہ کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة نساء 125)۔
سورة الْمَآىِٕدَة 107
قسم کی حفاظت کے کئی مفہوم ہیں ایک یہ…
Read the full tafseer →ربط آیات
اوپر تحریم طیبات کا ذکر تھا، چونکہ وہ بعض اوقات بذریعہ قسم کے ہوتی ہے، اس لئے آگے قسم کھانے کا حکم مذکور ہے
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ تم سے (دینوی) مواخدہ نہیں فرماتے (یعنی کفارہ واجب نہیں کرتے) تمہاری قسموں میں لغو قسم (توڑنے) پر لیکن ایسا) مواخذہ اس پر فرماتے ہیں کہ تم قسموں کو (آئندہ بات پر) مستحکم کردو (اور پھر اس کو توڑ دو) سو اس (قسم کے توڑنے) کا کفارہ (یہ ہے کہ) دس محتاجوں کو کھانادینا اوسط درجہ کا جو اپنے گھر والوں کو (معمولی طور پر) کھانے کو دیا کرتے ہو یا ان (دس محتاجوں کو) کپڑا دینا (اوسط درجہ کا) یا غلام یا لونڈی آزاد کرنا (یعنی تینوں میں جس کو چاہے اختیار کرلے) اور جس کو…
Read the full tafseer →لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ۚ فَكَفَّارَتُهٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ۭ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ۭ وَاحْفَظُوْٓا اَيْمَانَكُمْ ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْن۔
شریعت الٰہی میں قسم کی اہمیت : لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ، اس…
Read the full tafseer →89۔ 1 قَسَمٌ جس کو عربی میں حَلْفٌ یا یَمِیْنٌ کہتے ہیں جن کی جمع اَحْلَافٌ اور ایمان ہے۔ تین قسم کی ہیں۔ 1۔ لَغْوٌ 2۔ غَمُوْسٌ، 3۔ مُعَقَّدَۃٌ . لَغْوٌ: وہ قسم ہے جو انسان بات بات میں عادتًا بغیر ارادے اور نیت کے کھاتا رہتا ہے۔ اس پر کوئی مواخذہ نہیں . غَمُوْسٌ: وہ جھوٹی قسم ہے جو انسان دھوکہ اور فریب دینے کے لئے کھائے۔ یہ کبیرہ گناہ بلکہ اکبر الکبائر ہے۔ لیکن اس پر کفارہ نہیں . مُعَقَّدَۃٌ: وہ قسم ہے جو انسان اپنی بات میں تاکید اور پختگی کے لئے اراداۃً نیۃً کھائے، ایسی قسم اگر توڑے گا تو اس کا وہ کفارہ ہے جو آگے آیت میں بیان کیا جا رہا ہے۔
89۔ 2 اس کھانے کی مقدار میں کوئی صحیح روایت نہیں اس…
Read the full tafseer →59: لغو قسموں سے مراد ایک تو وہ قسمیں ہیں جو قسم کھانے کے ارادے کے بغیر محض محاورے اور تکیہ کلام کے طور پر کھالی جاتی ہیں، اور دوسری وہ قسمیں بھی لغو کی تعریف میں داخل ہیں جو ماضی کے کسی واقعے پر سچ سمجھ کر کھالی گئی ہوں، مگر بعد میں معلوم ہو کہ جس بات کو سچ سمجھا تھا وہ سچ نہیں تھی، اس قسم کی قسموں پر نہ کوئی گناہ ہوتا ہے اور نہ کوئی کفارہ واجب ہوتا ہے البتہ بلا ضرورت قسم کھانا کوئی اچھی بات نہیں ہے، اس لئے ایک مسلمان کو اس سے احتیاط کرنی چاہیے۔
60: اس سے مراد وہ قسم ہے جس میں آئندہ زمانے میں کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا عہد کیا گیا ہو، ایسی قسم کو توڑنا عام حالات میں بڑا گناہ ہے، اور اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
درس نمبر 53 تشریح آیات :
87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔
(آیت) ” نمبر 87 تا 89۔
” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔
(آیت) ” یَا…
Read the full tafseer →3 یعنی ان پر دنیا میں کفارہ نہیں جیسا کہ " یمین منعقدہ " میں واجب ہے۔ " لغو " و بیہودہ قسم کی تفسیر پارہ سیقول کے اواخر میں گزر چکی) آیت نمبر 225 میں موجود ہے (۔ چونکہ اوپر تحریم طیبات کا ذکر تھا اور تحریم کی ایک قسم " یمین " بھی ہے اس لئے " یمین " کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔
1 یعنی قسم توڑنے کے بعد یہ کفارہ دیا جائے گا۔ کھانا دینے میں اختیار ہے خواہ دس مساکین کو گھر بٹھلا کر کھانا کھلا دے یا صدقہ فطر کے برابر ہر مسکین کو غلہ یا اس کی قیمت ادا کر دے۔
2 اس قدر جس سے بدن کا اکثر حصہ ڈھک جائے۔ مثلاً کرتہ اور پاجامہ یا لنگی اور چادر۔
3 یعنی ایک بردہ آزاد کرنا اس میں مومن ہونا شرط نہیں۔
4 یعنی…
Read the full tafseer →آیت 89 لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ
قسموں کے سلسلے میں سورة البقرہ آیت 225 میں ہدایات گزر چکی ہیں ‘ اب یہاں اس ضمن میں آخری حکم آ رہا ہے۔ یعنی ایسی قسمیں جو بغیر کسی ارادے کے کھائی جاتی ہیں ‘ ان پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ جیسے واللہ ‘ باللہ وغیرہ کا تکیہ کلام کے طور پر استعمال عربوں کی خاص عادت تھی اور آج بھی ہے۔ ظاہر ہے اس کو سن کر کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ یہ شخص باقاعدہ قسم کھارہا ہے۔ تو ایسی صورت میں کوئی مؤاخذہ نہیں ہے۔
وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ ج۔
عَقَّدْتُّم عقد سے باب تفعیل ہے۔ یعنی پورے اہتمام کے ساتھ ایک بات طے کی گئی اور اس پر…
Read the full tafseer →132 قسموں کے مسائل سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ سیدہ عائشہ ؓ ؓ فرماتی ہیں کہ لغو قسموں سے مراد ایسی قسمیں ہیں جو انسان تکیہ کلام کے طور پر (نیت سے نہیں) کہہ دیتا ہے جیسے لا واللہ۔ بلی واللہ۔ نیز آپ فرماتی ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کبھی قسم نہیں توڑتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے کفارہ کی آیت نازل فرمائی اس وقت وہ کہنے لگے میں جب قسم کھا لوں پھر اس کے خلاف کو اچھا سمجھوں تو اللہ کی رخصت منظور کر کے وہ کام کرلیتا ہوں جسے اچھا سمجھتا ہوں۔ (بخاری کتاب التفسیر)
2۔ سیدنا عمر کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر کسی نے قسم کھانا ہو تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے (بخاری کتاب الایمان…
Read the full tafseer →277 ۔ مؤاخذہ سے مراد یہاں سزائے دنیوی ہے۔ یعنی ایسی قسم کا کفارہ واجب نہیں۔ (آیت) ” اللغوفی ایمانکم “۔ بےمعنی قسموں پر حاشیہ سورة بقر میں گزر چکا۔ پ 2 آیت 225 ۔
278 ۔ (اور اس کے توڑنے کی سزائے دنیوی کفارہ ادا کرنا ہے) (آیت) ” بما عقدتم الایمان “۔ جھوٹی قسم ایک تو کسی گزشتہ واقعہ سے متعلق ہوسکتی ہے۔ جیسے کسی واقعہ کا وقوع قسم کھا کر بیان کیا حالانکہ وہ خلاف واقع تھا۔ یہاں ایسی قسموں کا ذکر نہیں، قسموں کی ایک دوسری قسم یہ ہے کہ مستقبل میں کسی امر کے وقوع یاعدم وقوع کو قسم سے مؤکد کرکے بیان کیا جائے، یہاں یہی قسم مراد ہے۔ (آیت) ” عقدتم “۔ عقد کے لفظی معنی گرہ دینے کے ہیں۔ مجازا عہد، قسم بیع…
Read the full tafseer →قسم کی اقسام اور ان کے احکام : لا یؤاخذکم باللغو الکائن فی ایمانکم۔
پہلی قسم یمین لغو : بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ تکیہ کلام کے طور پر بلا ارادہ قسم کھایا کرتے ہیں، ہر بات میں واللہ، باللہ، تاللہ، ان کے زبان سے نکل جاتا، اسی طرح ایک شخص کسی بات کو سچ سمجھ کر قسم کھاتا ہے حالانکہ وہ بات غلط ہے، اس قسم کی قسموں کو یمین لغو کہتے ہیں یعنی مہمل قسم اس قسم کی قسموں کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔
دوسری قسم یمین غموس : اگر گذشتہ واقعہ پر جان بجھ کو جھوٹی قسم کھائے اس قسم کو فقہاء کی اصطلاح میں یمین غموس کہتے ہیں، یہ جھوٹی قسم سخت گناہ کبیرہ ہے البتہ اس پر بھی کوئی کفارہ واجب نہیں ہوتا اس سے استغفار لازم…
Read the full tafseer →لا یواخذکم اللہ باللغوفی ایماناکم ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان “ اللہ تم سے مواخذہ نہیں کرتا تمہاری قسموں میں لغو قسم پر بلکہ مواخذہ اس قسم پر کرتا ہے جو تم نے مستحکم کی ہو “۔
اس آیت کی تفسیر اور قسموں کے اصناف و احکام کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ہے۔ مواخذہ سے مراد ہے آخرت کی گرفت اور ماعقدتم الایمان سے وہ قسمیں مراد ہیں جن کو مستحکم کرنے کا عزم کرلیا گیا ہو خواہ کسی فعل کو کرنے کی قسم ہو یا نہ کرنے کی اور دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر استحکام کیا گیا ہو۔ بہرحال قسم کا تعلق کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ اس طرح کی قسم کو پورا کرنا واجب ہے اللہ نے فرمایا ہے :…
Read the full tafseer →(89) تمہاری قسموں میں لغو قسم پر کوئی کفارہ نہیں کیوں کہ لغو قسم کے علاوہ اس قسم پر کفارہ ہے کہ جن کو تم اپنے دلوں کے ساتھ پختہ کر دو (یعنی منعقدہ) تو اس مستحکم قسم کا کفارہ یہ ہے کہ صبح وشام دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا کھلاؤ یا دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کپڑا دو ، ہر ایک مسکین کو ایک چادر، ایک کرتہ، ایک تہ بند، ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔
اور جس کو ان تینوں میں سے ایک کی بھی طاقت نہ ہو تو وہ لگا تار تین روزے رکھے یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا، یہ قسم توڑ دینے کے بعد اس کا کفارہ ہے لہٰذا اپنی قسموں اور ان کے کفارہ کا خیال رکھا کرو، جیسا کہ قسم کا کفارہ بیان کیا ہے، اسی طرح وہ رب ذوالجلال…
Read the full tafseer →الْاَيْمَانَ ۚ ”یہ ”یَمِیْنٌ“ کی جمع ہے، بمعنی قسم۔ اس مقام پر یہ دوسرا حکم ہے کہ اگر کوئی طیبات (پاکیزہ چیزیں) چھوڑنے کی قسم کھالے تو اس کا کیا حکم ہے۔ قسم کی تین قسمیں ہیں : 1 یمین لغو، جو بےساختہ عادت کے طور پر زبان سے یوں ہی نکل جاتی ہے، جیسے ”لَاوَاللّٰہِ وَبَلٰی وَاللّٰہِ“ (نہیں ! اللہ کی قسم، یا کیوں نہیں ! اللہ کی قسم) ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے نہ سزا۔ 2 یمین غموص، یعنی جھوٹی قسم، جو انسان نیت اور ارادہ کے ساتھ دھوکا و فریب دینے کے لیے جھوٹ بول کر قسم اٹھائے کہ ایسا ہوا ہے یا نہیں ہوا، حالانکہ اس کی قسم واقعہ کے خلاف ہو۔ یہ کبیرہ گناہ ہے، اس کا کوئی کفارہ نہیں، اس کا علاج یہی ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 89 :۔ مسئلہ نمبر : (1) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لایوخذکم اللہ بالغو فی ایمانکم، اللغو کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ فی ایمانکم کا معنی ایمانکم ہے (1) (احکام القرآن للنیا طبری) ایمان جمع ہے یمین کی (جس کا معنی ہے قسم) بعض ئلماء نے فرمایا : یمین، یمن سے فعیل کے وزن پر ہے اس سے مراد برکت ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے یمین سے اس لیے تعبیر فرمایا، کیونکہ یہ حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔ یمین کا لفظ مذکر، مونث استعمال ہوتا ہے اس کی جمع ایمان اور ایمن آتی ہے زہیر نے کہا :
فتجمع ایمن منا ومنکم
مسئلہ نمبر : (2) ۔ اس آیت کے نزول کے سبب میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کے نزول کا…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ جب یہ آیت لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم نازل ہوئی تو قوم میں ایسے لوگ تھے جنہوں نے عورتوں کو اور گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنی قسموں کا کیا کریں جو ہم نے اس پر کھائی تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم
(2) امام ابو الشیخ نے یعلی بن مسلم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن جبیر ؓ سے اس آیت لفظ آیت لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے پہلے والی آیت پڑھ میں نے…
Read the full tafseer →[ لَا يُؤَاخِذُكُمُ : جواب طلبی نہیں کرے گا تم سے ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِاللَّغْوِ [ بغیر سوچی سمجھی بات پر ] [ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ : تمہاری قسموں میں سے ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ يُّؤَاخِذُكُمْ : وہ جواب طلبی کرے گا تم سے ] [ بِمَا : اس پر جو ] عَقَّدْتُّمُ [ پختہ کیا تم نے ] الْاَيْمَانَ ۚ [ قسموں کو ] فَكَفَّارَتُهٗٓ [ تو اس کا (پختہ کرنے کا ) کفارہ ] اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ [ دس مسکینوں کو کھلانا ہے ] مِنْ اَوْسَطِ مَا [ اس کے اوسط سے جو ] تُطْعِمُوْنَ [ تم لوگ کھلاتے ہو ] اَهْلِيْكُمْ [ اپنے گھروالوں کو ] اَوْ [ یا ] كِسْوَتُهُمْ [ ان کو پہنانا ہے ] اَوْ [ یا ] تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ…
Read the full tafseer →قسموں کے اقسام اور قسم توڑنے کا کفارہ
اوپر کی آیات میں یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں حلال قرار دی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو ، چونکہ حلال و حرام کرنے کی صورت میں ایک یہ بھی ہے کہ کسی چیز کے کھانے یا استعمال نہ کرنے کی قسم کھالی جائے اس لئے اب قسم کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔
قسم کی کئی قسمیں ہیں اول یمین لغو، دوسری یمین غموس، تیسری یمین منعقدہ (عربی میں قسم کو یمین کہتے ہیں) یمین لغو کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جو کوئی شخص قسم کی نیت کئے بغیر بات کرتے ہوئے لاَ وَ اللّٰہ یا بَلٰی وَ اللّٰہکہہ دے تو یمین لغو ہے۔ (رواہ البخاری)
(اہل عرب کی یہ عادت تھی اور اب بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →حکم شانزدہم، متعلق بہ قسم۔
قال اللہ تعالی، لایواخذکم اللہ باللغوفی۔۔۔ الی۔۔۔ تشکرون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیت میں چونکہ تحریم طیبات کا ذکر تھا اور تحریم کی ایک قسم یمین ہے اس لیے بہت سے لوگ کھانے پینے میں قسم کھالیت ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہی چیز اب ہم پر حرام ہوگئی لہذا اس مناسبت سے اس مقام پر قسم اور کفارہ کے احکام بیان فرماتے ہیں اور ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کا پہلی آیت میں ذکر ہوچکا ہے ان لوگوں نے قسم کھائی تھی کہ ہم دنیا کو بالکل ترک کردیں گے اور عورتوں کے قریب نہ جائیں گے گذشتہ آیت کے نازل ہونے کے بعد ان قسم کھانے والوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا یارسول اللہ…
Read the full tafseer →149 یہاں یمین (قسم) کی دو قسموں یعنی یمین لغو اور یمین منعقدہ کا حکم بیان فرمایا ہے۔ تحریمات عباد کے ابطال کے بعد قسم کے احکام بیان فرمائے۔ دونوں میں ربط اور مناسبت یہ ہے کہ جس طرح ایک شخص اپنی طرف سے تحریم کر کے ایک چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے اسی طرح یمین کے ذریعے بھی حلال کو حرام کرلیتا ہے۔ اس لیے تحریمات عباد کے ساتھ یمین کے احکام بیان فرما دئیے۔
150 یمین لغو کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں ص 108 پر حاشیہ 445 میں گذر چکی ہے یمین لغو کا حکم یہ ہے کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں نہ دنیا میں کفارہ نہ آخرت میں سزا وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ الخ لیکن یمین منعقدہ پر مواخذہ ہوگا یعنی اگر اسے توڑ دیا…
Read the full tafseer →ملت و حزمت کا قانون
یہود و نصاریٰ کی مذمت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تحلیل و تحریم کا ذکر فرمایا۔ سورة کی ابتداء میں بھی کھانے پینے کی محرمات کا بیان تھا کسی حلال چیز کو حرار قرار دے لینے کی کئی ایک صورتیں ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی حلال چیز کو اعتقاد اً حرام سمجھے۔ ایسی صورت میں وہ اسلام سے خارج ہو کر کفر میں چلا جائے گا۔ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو از خود حرام قرار دے لیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی حلال چیز کو دل سے تو حرام نہیں سمجھتا مگر زبان سے اسے حرام کہتا ہے آگے اس کی بھی دو شکلیں ہیں۔ اگر حلال چیز کو نیکی سمجھ کر حرام کہتا ہے یا تقرب الی اللہ کے…
Read the full tafseer →لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ 0ۚ فَكَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَہْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُہُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَۃٍ 0ۭ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰــثَۃِ اَيَّامٍ 0ۭ ذٰلِكَ كَفَّارَۃُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ 0ۭ وَاحْفَظُوْٓا اَيْمَانَكُمْ 0ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 89
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری…
Read the full tafseer →1 ؎ بشرطیکہ حانث ہوجائو یعنی ان قسموں میں پورے نہ اترو۔ صرف قسم کھانے پر کفارہ نہیں۔ بالاتفاق۔ 12 منہ
ترکیب : حلالا میں تین وجہ ہوسکتی ہیں اول یہ کہ کلوا کا مفعول ہو اس صورت میں مما حال ہوگا۔ دوم یہ کہ ما رزقکم سے حال ہو کیونکہ یہ بمعنی الذی ہے۔ سوم یہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے اکلا حلالا باللغو فی ایمانکم ممکن ہے کہ حال ہو باللغو سے اے باللغوکائنافی ایمانکم اور ممکن ہے کہ یؤاخذکم سے متعلق ہو ‘ اطعام مصدر مضاف ہے مفعول کی طرف من اوسط صفت ہے مفعول کی۔
تفسیر : چونکہ ان سے پہلی آیات میں نصاریٰ میں قسیس و رہبان ہونے کی وجہ سے ان کی مدح تھی جس سے دل میں رہبانیت کی خوبی کا خطرہ گذرتا تھا اور دراصل…
Read the full tafseer →لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللہ ُ بِاللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الاَْیْمَانَ ج فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْ کِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ ط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُم اِذَا حَلَفْتُمْ ط وَاحْفَظُوْآ اَیْمَانَکُمْ ط کَذٰلِک یُبَیِّنُ اللہ ُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔
(المائدہ : 89)
” تمہاری قسموں میں جو غیر ارادی ہیں ‘ ان پر تو اللہ تم سے موأخذہ نہیں کرے گا۔ لیکن جن قسموں کو تم نے پختہ کیا ہے ‘ ان پر موأخذہ کرے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانا ناجائز ہے اس طرح اللہ کے عظیم نام کو غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا انسان پر یہ بھی کرم ہے کہ وہ اپنے نام کو بےوجہ استعمال کرنے کے باوجود اس پر گرفت نہیں کرتا۔ لغو کا معنی بےہودہ، بےوجہ اور بلا ارادہ ہے۔ البتہ لغو کام اور بات سے منع کیا گیا ہے۔ عزم اور شعوری طور پر اٹھائی ہوئی قسم پر مؤاخذہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اور مقدس نام کی لاج رکھنا مسلمان پر فرض ہے۔ انسان کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ جب اپنی بات کو مؤثر اور مضبوط کرنا چاہتا ہے تو شواہد اور دلائل کے ساتھ کسی عزیر یا محترم چیز کی قسم…
Read the full tafseer →یمین لغو کی تعریف اور اس پر عدم مواخذہ :
آیت 89: لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ ۔ (اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں پر مؤاخذہ نہیں فرماتا) یمین لغو وہ ہے جو ساقط الاعتبار ہو۔ اس پر کوئی حکم نہ لگے۔ وہ اس طرح ہے کہ کسی چیز پر حلف اٹھائے۔ یہ خیال کر کے کہ وہ اس طرح ہے حالانکہ وہ اس کے گمان کے مطابق نہ تھی۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے طیبات کو اپنے اوپر حرام کرنے کی قسم اس بنا پر اٹھائی تھی کہ یہ عبادت ہے جب وہ آیت اتری تو انہوں نے کہا کہ ہماری قسموں کا کیا بنے گا ؟ تو یہ آیت اتری۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک یمین لغو وہ ہے جو زبان پر بلا قصد جاری ہو۔ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 89
تفسیر : (لایواخذ کم اللہ باللغوفی ایمانکم نہیں پکڑتا تم کو اللہ تمہاری بیہودہ قسموں پر) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (لاتحرمواطیبات مااحل اللہ لکم نہ تم حرام کرو ان پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں) نازل ہوئی تو صحابہ ؓ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ہم جو قسمیں کھاچکے ہیں ان کا ہم کیا کریں ؟ کیونکہ یہ حضرات باہمی مشورہ سے اتفاق کرکے قسمیں کھاچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
(ولکن یواخذ کم بما عقد تم الایمان لیکن پکڑتا ہے اس پر جس قسم کو تم نے مضبوط باندھا) حمزہ، کسائی اور ابوبکر رحمہما اللہ نے ” عقدتم “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن عامر نے ”…
Read the full tafseer →امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اس آیت کے شان نزول تفسیر ابن جریر اور خازن وغیرہ میں جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ترک دنیا کے طور پر جب بعض صحابہ نے قسم کھا کر بعض چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں اور اوپر کی آیت یا ایھا الذین امنوا لاتحرموا طیبات ما احل اللہ لکم میں اس کی ممانعت نازل فرمائی تو ان صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت ہم لوگوں نے حلال چیزوں سے باز رہنے کی جو قسم کھائی تھی اس قسم کا اب کیا حکم ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ سورة بقرہ میں گذر چکا ہے کہ تکیہ کلام کے طور پر واللہ باللہ یا ایسے اور لفظ آدمی کے منہ سے جو نکل جاتے ہیں ایک بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
آیت 89
(1) اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے، ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہا رفاضل مفسر (رح) نے کیا ہے، دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارہ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے تفسیر فتح القدیر، آیت زیر بحث زاد المعاد، ج :312-302/5 فتح الباری، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیہ، ج : 2، کتاب اطلاق وغیر ھامن الکتب (ص۔ ی)
یعنی تمہاری ان قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہارا مؤاخذہ نہیں کرے گا جو تم سے لغواً صادر ہوتی ہیں۔…
Read the full tafseer →قسم کا کفارہ کتنا ہے ؟
قول باری ہے (اطعام عشرۃ مساکین ہیں مسکینوں کو کھانا کھلانا) حضرت علی، حضرت عمر، حضرت عائشہ، سعید بن المسیب، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی ، مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ قسم کے کفارہ میں ہر مسکین کو نصف صاع تقریباً دو سیر گندم دی جائے گی۔
حضرت عمر اور حضرت عائشہ کا قول ہے یا ایک صاع کھجور دیا جائے گا ۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب قسم کھانے والا ان مسکینوں کو طعام کا مالک بنا دے۔
حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت زید بن ثابت، عطاء بن ابی رباح اور دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ مسکین کو ایک مد ایک پیمانہ جس کی مقدار اہل عراق کے نزدیک دو رطل یعنی اسی تولے اور اہل حجاز کے نزدیک…
Read the full tafseer →218 یمین لغو پر کوئی مواخذہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تمہاری لغو (اور بےمقصد) قسموں پر تمہاری گرفت نہیں فرمائے گا۔ " یمین لغو " یہ کہ یونہی قسم کھالی جائے۔ جیسے عرب لوگ بلاقصد و ارادہ " لَا وَاللّٰہِ " اور " بَلٰی وَاللّٰہِ " کے الفاظ سے قسمیں کھالیا کرتے تھے اور آج بھی کھاتے ہیں۔ اسی طرح جو قسم بھولے سے کھائی جائے یا ظنِّ غالب کی بنا پر کھالی جائے وغیرہ۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ البیان، جامع البیان اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ کیونکہ ان میں سے کسی بھی قسم میں حالف کی طرف سے قسم کا قصد و ارادہ نہیں پایا جاتا۔ اور مو اخذہ و عدم مواخذہ کا مدارو انحصار اسی پر ہوتا ہے۔ اور " یمین…
Read the full tafseer →قسم کا کفارہ
تشریح : چونکہ بعض لوگوں نے حرام حلال کے سلسلے میں قسمیں کھا رکھی تھیں تو اسی لئے قسموں کے بارے میں تفصیلات اوپر آیت میں بیان کردی گئی ہیں۔ پھر تاکید کی گئی ہے کہ بلاوجہ ہر وقت قسمیں کھانا بری بات ہے اور پھر سنجیدگی سے کھائی گئی قسم کو بھلا دینا اور بھی بری بات ہے۔ کیونکہ ارادہ سے کھائی گئی قسم اگر ٹوٹ جائے یا توڑنی پڑے تو اس کے لئے کفارہ دینا فرض ہے۔ قسم کا بیان پہلے بھی گزر چکا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے احکامات بار بار بیان فرماتا ہے کیونکہ ان میں بندوں کے لئے بیشمار فائدے موجود ہیں۔ اس لئے اتنی اچھی ہدایات دینے والے کا ہر وقت شکر ادا کرنا چاہیے۔ کہ اس نے زندگی گزارنے کا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
رکوع نمبر 12 ۔ آیات 87 تا 93 ۔
اسرار و معارف : چونکہ نصاری میں رہبانیت کا ذکر چل رہا تھا اور یہ خیال بھی نہ کیا جائے کہ عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں ہاں یہ فرمایا گیا کہ یہودیوں میں بہت ہی کم لوگ اصلاح پذیر ہوئے اتنے کم کہ قوم کے مقابلے میں قابل ذکر تعداد نہیں ، لیکن عیسائیوں میں پھر ان کی نسبت زیادہ لوگ مشرف باسلام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں تارک الدنیا قسم کے لوگ تھے جنہیں کوئی لالچ نہ تھا حق کو دیکھا اور قبول کرلیا تو وہ ان کا اپنا دین تھا بہرحال اچھا وہی جو اسلام قبول کرلے ورنہ کوئی خوبی ہے نہ اسلام دوستی۔ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رہبانیت یا لذیذ چیزوں کو چھوڑ دینا یا گھر…
Read the full tafseer →ف 7 بعض نے اوسط کے معنی عمدہ کئے ہیں، ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ ج اوسط باعتبار مقدار کے ہے یعنی ہر مسکن کو اک عد (10 چھٹانک) غلے دے دے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو پندرہ صا ع ( 60 مد) کھجوریں دی تاکہ رزے کا کفارہ ادا کرے اور فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں میں تقسیم کردو۔ ( ابن کثیر )
1 یعنی کھانا کہ کھلا دتے نہ کپڑا پہنا سکے اور نہ غلام آزاد کرنے کی طاقت ہو تو دو روزے رکھ لے چاہے پے درپے رکھے اور چا ہے الگ الگ کرکے۔ ، عبد اللہ بن مسعود کی قرات میں ج متقا بعات ہے یعنی پے درپے روزے رکھے بعض ائمہ اسی کو اختیار کیا ہے۔2 یعنی حتی المقدور قسم کھانے سے پرہیز کرو لیکن قسم کھالو اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
(5:84) فاثابھم ۔سببیہ ہے۔ اثاب یثیب اثابۃ (باب افعال) بدلہ دینا انعام دینا۔ ثواب دینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو بدلہ یا انعام دیا۔ یہاں ماضی مستقبل کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی وہ ان کو بدلہ دے گا۔ انعام دے گا۔
جنت ۔۔ فیہا۔ اثاب کا مفعول ثانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
آیات نمبر 87 تا 89
لغات القرآن : اکتبنا (تو ہمیں لکھ لے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ نطمع (ہم امید رکھتے ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں) ان یدخل (یہ کہ داخل کرے گا) ۔ الصالحین (صالح) ۔ نیک لوگ) ۔ اثاب (اثانۃ) ۔ اس نے بدلہ دیا) ۔ لاتحرموا (حرام نہ کرو) ۔ طیبت (پاکیزہ چیزیں ۔ (حلال چیزیں) ۔ احل (اس نے حلال کردیا) ۔ لاتعتدوا (تم حد سے آگے نہ بڑھو) ۔ لایحب (وہ پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھ جانے والے) ۔ لایؤاخذ (وہ نہیں پکڑے گا) ۔ اللغو (لغو۔ بیکار) ۔ عقدتم (تم نے مضبوط باندھا) ۔ اطعام (کھلانا) ۔ عشرۃ مسکین (دس غریب۔ دس مسکین) ۔ اوسط (درمیانہ درجہ) ۔ تطعمون (تم کھلاتے ہو) ۔ اھلیکم (اپنے گھر…
Read the full tafseer →جھوٹی قسم کے کفارہ کا ذکر
شان نزول : یہ ہے کہ صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضور ہم لوگوں سے حلال چیزوں سے باز رہنے کی جو قسم کھائی تھی، اس قسم کا اب کیا حکم ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ تکیہ کلام کے طور پر واللہ، باللہ یا ایسے اور الفاظ آدمی کے منہ سے نکل جاتے ہیں، یا ایک بات کو کوئی سچ گمان کرکے اس پر قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ بات اس طرح سے نہ ہو یہ صورتیں قسم میں داخل نہیں۔ نہ ان کا کچھ کفارہ ہے۔ انہی صورتوں کو لغو کہتے ہیں۔ کفارہ کے قابل وہی قسم ہے جو دلی ارادہ سے ہو۔ اس دلی ارادہ کی قسم پر قائم نہ رہنے کی حالت میں اس کے کفارہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
[52] صحابہ کرام کی ایک جماعت نے یہ عہد کیا تھا کہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے اور راتوں کو بستر پر نہ سوئیں گے بلکہ جاگ کر عبادت کرتے رہیں گے، گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے، خوشبو نہ لگائیں گے اور عورتوں سے جدا رہیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں اس ارادے سے روک دیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی کی جائز لذتیں اور راحتیں اپنے اوپر حرام کرلینا اور اس کو تقرب الٰہی کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔
Read the full tafseer →(ف 3) مقصد یہ ہے کہ اسلام کا تعلق قلب و ارادہ سے ہے ، وہ حرکات جو اضطراری ہیں ، لائق مواخذہ نہیں ، حفظ ایمان کے لئے کفارہ مقرر فرمایا ہے تاکہ مسلمان پاس عہد کی اہمیت کو محسوس کرے ،
امام شافعی (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) میں بااختلاف ہے کہ اطعام وکسوت سے مراد تملیک ہے ، ، یا محض تغذیہ واعطاء ، امام ابوحنیفہ (رح) کھانا کھلا دینا کافی سمجھتے ہیں ، اور امام شافعی (رح) تملک ضروری خیال فرماتے ہیں ۔
حل لغات :
ولا تعتدوا : مصدر اعتداء ، زیادتی ، حد ا اعتدال سے تجاوز ،
عقدتم : عقد ، گرہ دینا ۔
ال ایمان : جمع یمین ، بمعنی قسم ۔
Read the full tafseer →-89 اللہ تعالیٰ نے تمہاری ان قسموں پر جو لغو دلا یعنی ہوں تم سے مواخذہ نہیں کرتا یعنی ان قسموں پر جو عادتاً منہ سے نکلتی رہتی ہیں کوئی کفارہ واجب نہیں کرتا مگر ان قسموں پر مواخذہ کرتا ہے یعنی کفارہ واجب کرتا ہے جن کو تم نے مستقل کے لئے مضبوط و مستحکم کردیا ہو یعنی قصداً یوں کہا ہو کہ خدا کی قسم میں ایسا کروں گا یا نہیں کروں گا۔ لہٰذا اس منعقدہ قسم کو توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا دینا جیسا معمول کھانا تم اپنے گھر میں گھر والوں کو کھلاتے ہو یا دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کپڑا پہنا دینا یا ایک غلام یا باندی کو آزاد کردینا یعنی تینوں باتوں میں سے جو چاہو وہ کرلو پھر جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
ف 2۔ یعنی کفار واجب نہیں کرتے۔
3۔ یعنی تینوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے۔
4۔ لغو کہتے ہیں بےاثر کو اس کے دو معنی ہیں ایک وہ جس پر گناہ کا اثر مرتب نہ ہو دوسرے وہ جس پراثرکفارہ کا مرتب نہ ہو اس آیت میں اسی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →لغو قسمیں کھانے کی ممانعت اور غلط قسم کھالینے کا کفارہ :
214: ” ایمان “ جمع ہے یمین کی اور ” یمن “ بمعنی برکت ہے ۔ قسم کو ” یمین “ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس سے بھی حقوق محفوظ ہوتے ہیں اور معاہدے پورے کئے جاتے ہیں اس لئے اسے برکت والی چیز کہہ دیا گیا ہے اور یہ آیت پیچھے سورة البقرہ کی آیت 224 ، 225 میں گزر چکی ہے اس لئے اس کی تشریح کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول آیت 224 ، 225 کے حاشیہ ملاحظہ کریں۔
قسم لغو وہ ہے جس میں قسم کھانے کی نیت شامل نہیں ہوتی بلکہ اثنائے کلام میں انسان ” واللہ “ ” باللہ “ ” تا اللہ “ اللہ کی قسم “ ” خدا کی قسم “ ” ایمان نال “ کے الفاظ کہہ جاتا ہے اور چونکہ یہ الفاظ تاکید کے…
Read the full tafseer →Sequence of Verses
Mentioned earlier was the taking of Halal things as unlawful. Since statements to this effect are sometimes sworn, therefore, the in-junction about taking of oaths follows in the present verse.
Commentary
Three Forms of Oaths and their Injunctions
1. Some forms in which oaths are taken have been described in this verse. Some have appeared in Surah al-Baqarah as well (Ma` ariful-Qur’ ا an, Volume I, Verse 2:225, pages 562-563). The gist of all these is that false swearing about a past event knowingly is, in the terminology of Muslim jurists, Yamin Ghamus (disastrous oath) -…
Read the full tafseer →106. Since some people had taken an oath prohibiting for themselves the things which He had permitted, God laid down this injunction regarding oaths made inadvertently. The injunction makes it unnecessary to feel bound by the terms of inadvertent oaths, and for which one will not be reproached by God. And if a person had deliberately made an oath which entails sin he should not abide by his oath and should expiate it (see Towards Understanding the Qur'an, vol. I, (Surah 2,nn. 243-4); for expiation see (Surah 4, n. 125) above.
107. To be mindful of one's oaths has several meanings. First, one…
Read the full tafseer →