Al-Maaida 5:88

Al-Maaida · from ayah 88

5:88

وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪— وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ ۟وَكُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا‌ ۖ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اَنۡـتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And eat of what Allah has provided for you [which is] lawful and good. And fear Allah, in whom you are believers.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 12 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:88

جو کچھ حلال و طیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اُسے کھا ؤ پیو اور اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ او ر ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو حلال پاکیزہ رزق اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے کھایا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے حلال، طیب کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ نے جو حلال اور پاکیزہ رزق تمہیں کھانے کو دیا ہے اسے کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

خدا نے تمہیں جو حلال و طیب چیزیں بخشی ہیں ان کو برتو اور اس سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو عطا فرمائی ہیں تم کو اللہ نے (اپنے فضل و کرم سے) حلال اور پاکیزہ، اور ہمشہ ڈرتے (اور بچتے) رہا کرو تم لوگ اس اللہ (کی نافرمانی) سے، جس پر تم ایمان رکھتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ نے جو کچھ تمہیں حلال پاکیزہ چیزیں دے رکھی ہیں ان میں سے کھاؤ (پیو) اور اسی اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کھاؤ ان حلال اور پاکیزہ چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں دی ہیں اور اس اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو جس پر تمہارا ایمان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے جو چیز حلال ہے پاکیزہ (اور) کھائو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And partake of the lawful, good things which Allah has provided you as sustenance, and refrain from disobeying Allah in Whom you believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Eat from what Allah has provided you as good and lawful, and fear Allah in whom you believe.

— Muhammad Taqi Usmani

Eat from what Allah has provided you as good and lawful, and fear Allah in whom you believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And eat of the things which Allah has provided for you, lawful and good, and have Taqwa of Allah in Whom you believe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Eat of that which Allah hath bestowed on you as food lawful and good, and keep your duty to Allah in Whom ye are believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And eat of what Allah has provided for you [which is] lawful and good. And fear Allah, in whom you are believers.

— Saheeh International

Eat from the pure and lawful things that God has given to you. Have fear of God in Whom you believe.

— Muhammad Sarwar

And eat of the lawful and good (things) that Allah has given you, and be careful of (your duty to) Allah, in Whom you believe.

— Muhammad Habib Shakir

And eat of that wherewith Allah hath provided you as lawful and clean; and fear Allah in whom ye are believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Eat of the things which Allah hath provided for you, lawful and good; but fear Allah, in Whom ye believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:88

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 87–88

راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہوجائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کردیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ آنحضرت ﷺ کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ نے فرمایا تم دیکھ نہیں رہے ؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ "…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 87–88

سورة الْمَآىِٕدَة 104 اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ خود حلال و حرام کے مختار نہ بن جاؤ۔ حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا اور حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا۔ اپنے اختیار سے کسی حلال کو حرام کرو گے تو قانون الہٰی کے بجائے قانون نفس کے پیرو قرار پاؤ گے۔ دوسری بات یہ کہ عیسائی راہبوں، ہندو جوگیوں، بودھ مذہب کے بھکشووں اور اشراقی متصوفین کی طرح رہبانیت اور قطع لذات کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ مذہبی ذہنیت کے نیک مزاج لوگوں میں ہمیشہ سے یہ میلان پایا جاتا رہا ہے کہ نفس و جسم کے حقوق ادا کرنے کو وہ روحانی ترقی میں مانع سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا، اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 87–88

ربط آیات یہاں تک اہل کتاب کے متعلق گفتگو تھی۔ آگے پھر عود ہے احکام فرعیہ کی طرف، جن کا ذکر کچھ شروع سورت میں اور کچھ درمیان میں بھی ہوا ہے، اور باعتبار خصوصیت مقام کے ایک ربط خاص بھی منقول ہے، وہ یہ کہ اوپر مقام مدح میں رہبانیت کا ذکر آیا ہے، گو وہ باعتبار اس کے ایک جز و خاص یعنی ترک حب دنیا کے ہے، لیکن احتمال تھا کہ کوئی رہبانیت کی مساوی خصوصیات کو قابل مدح سمجھا جائے، اس لئے اس مقام پر اس تحریم حلال کی ممانعت زیادہ مناسب معلوم ہوئی۔ (بیان القرآن ملحضاً) خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں (خواہ وہ کھانے پینے اور پہننے کی قسم سے ہوں یا منکوحات کی قسم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 87–88

آگے کا مضمون۔ آیات 87 تا 120: آگے کا حصہ، آخر سورة تک، خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں انہی باتوں سے متعلق، جو اس سورة کے شروع میں بیان ہوئی ہیں یا ان سے تعلق رکھتی ہیں، بعد میں جو سوالات پیدا ہوئے ہیں یا پیدا ہوسکتے تھے، ان کے جوابات دیے گئے ہیں اور یہ اشارہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ یہ توضیحی آیات ہیں۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی ہے کہ جو سوالات مفید تھے ان کے جوابات دے دیے گئے ہیں، رہے غیر ضروری سوالات تو اس قسم کے سولات نزول قرآن کے دوران نہ پوچھو۔ غیر ضروری سوالات پوچھ پوچھ کر یہود نے اپنے اوپر بہت سی قیدیں اور پابندیاں عائد کرا لیں، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان کو نباہ نہ سکے اور بالآخر کفر میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 87–88

87۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور آکر کہا کہ یارسول اللہ ! جب میں گوشت کھاتا ہوں تو نفسانی شہوت کا غلبہ ہوجاتا ہے، اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا ہے، جس پر آیت نازل ہوئی، اس طرح سبب نزول کے علاوہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ زہد و عبادت کی غرض سے بعض حلال چیزوں سے (مثلًا عورت سے نکاح کرنے، رات کے وقت سونے، دن کے وقت کھانے پینے سے) اجتناب کرنا چاہتے تھے۔ نبی کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے انہیں منع فرمایا۔ حضرت عثمان بن مظعون نے بھی اپنی بیوی سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی تھی، ان کی بیوی کی شکایت پر آپ نے انہیں بھی روکا (کتب حدیث) بہرحال اس آیت اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 87–88

58: جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے، مشرکین مکہ اور یہودیوں نے ایسی بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا جس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام میں آئے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 87–89

درس نمبر 53 تشریح آیات : 87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔ (آیت) ” نمبر 87 تا 89۔ ” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔ (آیت) ” یَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 87–88

2 آغاز سورت میں " ایفائے عہود " کی تاکید کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہوا تھا۔ اسی ضمن میں خاص خاص مناسبات سے جن کا ذکر موقع بہ موقع ہم کرچکے ہیں، دوسرے مفید مضامین کا سلسلہ شروع ہوگیا " الشیء بالشیء یذکر " بات میں سے بات نکلتی رہی تمام استطرادی مضامین کو تمام کر کے اس پارہ کے پہلے رکوع سے پھر اصل موضوع بحث کی طرف عود کیا گیا ہے اور لطف یہ ہے کہ اس رکوع سے متصل پہلے رکوع میں جو مضمون گزرا اس سے بھی رکوع حاضر کا مضمون پوری طرح مربوط ہے۔ کیونکہ پچھلے رکوع میں یہود و نصاریٰ کی جو فضائح بیان کی گئیں سمجھنے والوں کے نزدیک ان کا خلاصہ دو چیزیں تھیں۔ یعنی یہود کا لذات و شہوات دنیا اور حرام خوری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 88 وَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّبًاص یعنی وہ چیزیں جو قانونی طور پر حلال ہوں اور ظاہری طور پر بھی صاف ستھری ہوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 87–88

131 حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے والے گروہ اور اس کی صورتیں :۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے تمام اشیاء انسان کے لیے مباح اور حلال ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جن کی حرمت کے متعلق شریعت نے وضاحت کردی ہو۔ اب اس آیت اور اس سے بعد والی آیت میں حلال اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے چند جامع اصول بیان کردیئے گئے ہیں اور یہ سب لاَ تَعْتَدُوْا کے ضمن میں آتے ہیں مثلاً (1) جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں انہیں عقیدتاً یا عملاً حرام نہ بنا لو۔ جیسے صوفی قسم کے لوگ نکاح سے عملاً اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ نکاح سے جو ذمہ داریاں انسان پر پڑتی ہیں۔ وہ عبادت الٰہی میں آڑے آتی ہیں۔ اس قسم کے لوگ عیسائیوں میں بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

276 ۔ (کہ یہ تقوی یا خوف خدا ہی کی راہ اعتدال و احتیاط وفرمانبرداری پر قائم رکھے گا) اسلامی شریعت کے احکام عقلاء وحکماء کے گڑھے ہوئے نہیں کہ ان میں کسی قسم کی ترمیم، تنقید، اضافہ واصلاح کی گنجائش ہو۔ وہ تو تمامتر حکیم مطلق اور حاکم برحق کے مقرر کیے ہوئے ہیں، اس میں اپنی رائے وتجویز کو دخل دینا مقتضیات ایمان کے سرتاسر خلاف اور حاکمیت الہی سے بغاوت ہے۔ فقہاء محققین نے لکھا ہے کہ جو غذائیں شریعت الہی نے حلال وطیب قرار دی ہیں انہیں چھوڑ دینے میں کوئی دینی فضیلت ہرگز نہیں۔ جیسا کہ خود ساختہ مذہبوں نے ترک لذائذ کو ایک معیار تقوی ومقبولیت سمجھ رکھا ہے۔ یدل علی انہ لا فضیلۃ فی الامتناع من اکلھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 87–88

آیت نمبر 87 تا 93 ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب صحابہ ؓ کی ایک جماعت نے یہ ارادہ کرلیا کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھیں گئ اور ہمیشہ نماز میں مشغول رہیں گے، اور عورتوں سے ہم بستر نہ ہوں گے اور نہ خوشبو کا استعمال کریں گے، اور نہ گوشت کھائیں گے اور نہ بستر پر سوئیں گے، اے ایمان والو ! اللہ نے جو پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حکم خداوندی سے تجاوز نہ کرو اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے جو حلال مرغوب چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے کھاؤ (حَلالاً ، کلوا کا) مفعول ہے اور اس کا ما قبل (ممّا رزقکم اللہ) کا متعلق مقدم حال ہے، اور اس اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکلوا مما رزقکم اللہ حللا طیبا ” اور اللہ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال دل پسند چیزیں کھاؤ “۔ عبداللہ بن مبارک نے کہا حلال وہ رزق ہے جو شرعی طریقوں سے حاصل کیا گیا ہو اور طیب وہ رزق ہے جو غذا بخش اور نمو آفریں ہو باقی غیر نباتی جامد چیزیں جیسے کیچڑ مٹی وغیرہ اور وہ چیزیں جو غذا بخش نہیں ہیں صرف دوا کے لئے تو ان کو کھانا جائز ہے اور بغیر دوا کے مکروہ ہے۔ حَلاَلاً ۔ کُلُوْا کا مفعول ہے اور مِمَّا رَزْقَکُمْ حال ہے جس کو حلالاً کے نکرہ ہونے کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے اور مِمَّا میں منتبعیضیہ ہے مما میں اس امر کی صراحت ہے کہ کچھ رزق حلال ہوتا ہے اور کچھ حلال نہیں ہوتا۔ اہل حق کا یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 87–88

(87۔ 88) یہ آیت کریمہ اصحاب رسول اکرم ﷺ میں سے دس حضرات یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمرفاروق ؓ ، حضرت ؑ عثمان بن مظعون، ؓ حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، حضرت مقدادرضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سالم مولی ابی حذیفہ ؓ حضرت سلمان فارسی ؓ ، حضرت ابوذر ؓ ، حضرت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان سب حضرات نے حضرت عثمان ؓ بن مظعون کے گھر میں اس بات پر اتفاق کیا بقدر ضرور کھائیں گے اور پیں گے اور نہ بیبیوں کے پاس جائیں گے اور نہ گوشت کا کھائیں گے اور نہ چربی کھائیں گے اللہ کی رضا کے لیے صرف راہبانہ زندگی بسر کریں گے، اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اس چیز سے منع فرمایا کہ کھانے پینے اور صحبت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی حلال کو حرام تو نہ ٹھہراؤ، ہاں ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور جو چیزیں حرام ہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 88 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وکلوا مما رزقکم اللہ حللا طیبا اس میں ایک مسئلہ ہے۔ الاکل سے مراد کھانے، پینے، پہنے اور سونے سے فائدہ اٹھنا ہے۔ اکل (کھانے) کو خصوصی طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ مقصود اعظم ہے اور انسان کے انتفاعات میں سے خاص ہے۔ کھانے، پینے اور پہننے کا ذکر سورة اعراف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ رہی لذت امیز اشیاء کی شہوت، اور شہوت والی چیزوں کی طلب میں نفس کا جھگڑنا ان پر لوگون کے نفس کو قدرت دینے میں مذاہب مختلف ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نفس کو شہوات کی اتباع سے روکنا بہتر ہے تاکہ وہ انسان کا مطیع ہوجائے گا اور اس کے عناد کو روندنا آسان ہوجائے، کیونکہ جب وہ نفس کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–88

حلال چیزوں کو حرام قرار دینا سخت گناہ ہے (1) امام ترمذی (اور انہوں نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن عدی نے الکامل میں، الطبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ جب میں گوشت کھاتا ہوں۔ تو میری طبیعت میں عورتوں کے انتشار پیدا ہوجاتا ہے اور مجھے شہوت پکڑ لیتی ہے۔ اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کرلیا۔ اس پر (یہ آیت) لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم کے بارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَكُلُوْا : اور کھاؤ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ رَزَقَكُمُ : عطا کیا تم کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠: پاکیزہ حلال ہوتے ہوئے ] [ وَّاتَّقُوا : اور تقوی کرو ] [ اللّٰهَ الَّذِيْٓ: اس اللہ کے لیے ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ بِهٖ : جس پر ] [ مُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھنے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 87–88

حلال کھاؤ اور پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو اور حد سے آگے نہ بڑھو ان آیات میں اللہ جل شانہ ‘ نے اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ نے جو چیزیں حلال قرار دی ہیں تم ان کو حرام قرار نہ دو ۔ حلال کو حرام قرار دینے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ عقیدۃً حلال کو حرام قرار دیدیا جائے۔ اگر کوئی شخص حلال قطعی کو حرام قرار دے گا تو ملت اسلامیہ سے نکل جائے گا۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ عقیدۃً تو کسی حلال کو حرام قرار نہ دے لیکن حلال کے ساتھ معاملہ ایسا کرے جو حرام کے ساتھ کیا جاتا ہے یعنی بغیر کسی عذر کے خواہ مخواہ کسی حلال چیز سے اجتناب کرے۔ یہ بھی ممنوع ہے۔ اور تیسری صورت یہ کہ قسم کھا کر یا نذر مان کر کسی حلال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 87–88

حکم پانزدہم ممانعت از رہبانیت۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ مومنون۔ شروع سورت میں ایفاء عہود کی تاکید کے بعد احکام فرعیہ اور حلال و حرام کو بیان فرمایا پھر خاص خاص مناسبتوں سے یہود ونصاری کے عقائد اور اعمال کے ذکر کا سلسلہ شروع ہوگیا اب پھر اصل موضوع کی طرف عود فرماتے ہیں اور چونکہ قریبی آیتوں میں نصاری کی تعریف میں یہ فرمایا کہ ان میں کچھ رہبان بھی ہیں اور رہبانیت لذات دنیاوی کے ترک کا نام ہے خواہ وہ حلال ہوں یا حرام اس لیے اس احتمال سے کہ مبادا مسلمان۔ رہبانیت کو اچھی چیز نہ سمجھنے لگیں اس آیت میں اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام سمجھنے کی ممانعت فرماتے ہیں اور یہ حکم دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

148: یہ ماقبل ہی کی تاکید و تفصیل ہے کہ جو حلال وطیب چیزیں اللہ نے تم کو دی ہیں ان سے پورا پورا فائدہ اٹھاؤ اور جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس سے ڈرتے رہو اور اس کے احکام کی مخالفت ہرگز نہ کرو۔ نہ حلال چیزوں کو حرام جانو اور نہ ان کو بےجا صرف کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 87–88

ربط آیات پہلے اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایک خاص گروہ کی تعریف بھی بیان فرمائی جنہوں نے ایمان قبول کیا اور وہ باصلاحیت لوگ تھے۔ اللہ نے یہ بھی سمجھا دیا کہ اہل ایمان کے ساتھ شدید ترین عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں البتہ نصاریٰ اس ضمن میں کہ عداوت رکھتے ہیں پھر اللہ نے اس کی دو وجوہات بھی بیان فرمائیں کہ ان میں اہل علم ، تارک دنیا اور متواضع لوگ بھی ہیں جس قوم میں یہ صفات پائی جائیں وہ ایک اچھی سوسائٹی سمجھی جاتی ہے۔ یہاں پر رہبانیت کی مدح سے یہ شبہ گزرتا تھا کہ شاید یہ کوئی اچھی چیز ہے مگر اگلی آیات میں اس شبہ کا ازالہ کردیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ حَلٰلًا طَيِّبًا۝ 0۠ وَّاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ۝ 88 أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 83–88

ترکیب : ان سخط ان بتاویل مصدر خبر ہے مبتداء محذوف کی جو ھو ہے اور ممکن ہے کہ یہ بدل ہو ما قدمت کا جو محلاً منصوب ہوگا وھذا رجح ما اتخذوھم جواب ہے ولو کانوا یؤمنون کا ‘ عداوۃ منصوب ہے بوجہ تمیز ہونے کے اشد سے ‘ للذین آمنوا متعلق ہے عداوۃ سے ‘ الیہود معطوف علیہ والذین اشرکوا معطوف مجموعہ مفعول ہے لتجدن کا ‘ للذین متعلق ہے مودۃ سے ‘ الذین قالوا انا نصریٰ جملہ مفعول ثانی ہے لتجدن کا ‘ بان ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے ذلک کی ‘ واذا اسمعوا معطوف ہے خبر ان پر جو لایستکبرون ہے اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو گو معنیً اس کو ماسبق سے علاقہ ہو۔ تری کو اگر رویۃً عین سے لیا جاوے تو تفیض حال ہوگا ونطمع حال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 87–88

تمہید آج ہم سورة المائدہ کی ان آخری آیات کا آغاز کر رہے ہیں جو تقریباً پانچ رکوعوں پر مشتمل ہیں۔ ان آیات کی خصوصی حیثیت یہ ہے کہ جہاں تک سورة المائدہ میں بیان کردہ مضامین اور احکام کا تعلق ہے ‘ وہ اختتام کو پہنچ گئے۔ لیکن ان بیان کردہ احکام کے بارے میں ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوئے یا جو پیدا ہوسکتے تھے اور جو سوالات پوچھے گئے یا پوچھے جاسکتے تھے ان آیات میں ان تمام سوالات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ بعض دفعہ کہیں سوال کا ذکر کیا گیا ہے ‘ لیکن بالعموم سوال کا ذکر کیے بغیر جواب دیا گیا ہے۔ اسی لیے ان آیات کریمہ کو توضیحی آیات کہا جاتا ہے اور خود ان آیات میں اس کی طرف اشارات بھی موجود ہیں۔ اس وقت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 86–88

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر و تکذیب کا رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اے صاحب ایمان لوگو ! تم اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنی مرضی سے حرام کرکے زیادتی کے مرتکب نہ ہوجانا، زیادتی کرنے والے اور حد سے بڑھنے والے لوگ عملاً کفر و تکذیب کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں بنیادی حکم یہ دیا گیا ہے کہ مومنوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال اور طیّب چیزوں کو من مرضی سے حرام قرار دیں۔ حرام و حلال کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ لوگوں نے لذت نفس کی خاطر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیا اور کچھ لوگوں نے تقویٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حلال کا استعمال تقویٰ ہے : آیت 88: وَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّبًا یہ مما رزقکم اللّٰہ سے حال ہے وَاتَّقُوا اللّٰہَ ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اس کو لازم پکڑنے کی تاکید ہے۔ اور اس میں مزید تاکید اپنے ارشاد الَّذِیْ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَسے کردی کیونکہ ایمان باللہ تقویٰ کو لازم کرنا ان تمام کاموں میں جن کا اللہ نے حکم دیا۔ اور جن کی ممانعت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 88 تفسیر : (وکلوا ممارزقکم اللہ حللاً طیباً اور کھائو اللہ کے دیئے ہوئے میں سے جو چیز حلال پاکیزہ ہو ) عبداللہ بن مبارک (رح) فرماتے ہیں کہ حلال وہ ہے جو تو اپنے ارادہ سے حاصل کرے اور طیب وہ ہے جو بڑھنے والی ہو۔ بہرحال جامد چیزیں جیسے مٹی اور وہ چیزیں جو غذا کے لیے استعمال نہیں ہوتیں تو وہ دواء کے طور پر تو استعمال کی جاسکتی ہیں ورنہ مکروہ ہیں (واتقوا اللہ الذی انتم بہ مومنون اور ڈرتے رہو اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ میٹھے اور شہد کو پسند کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 87–88

(87 ۔ 88) ۔ ترمذی ابن ابی حاتم جریر ابن عساکر وغیرہ نے اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت سے بیان کیا کہ گوشت کے کھانے سے مجھ کو عورتوں کی صحبت کی خواہش زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس سبب سے میں نے گوشت نہ کھانے کی قسم کھالی ہے۔ بعض صحابہ نے اچھی چیز کا کھانا اچھے کپڑے کا پہننا۔ مباشرت کا کرنا ترک کردیا تھا۔ اور ایک صحابی تھے جن کے گھر میں ایک مہمان آئے ہوئے تھے ان صحابی کو آنحضرت کے پاس سے گھر جانے میں دیر ہوگئے۔ ان کی بی بی نے ان کے انتظار میں مہمان کو کھانا نہیں دیا۔ جب یہ گھر گئے ان کو مہمان کے بھوکا رکھنے سے اپنی بی بی پر غصہ آگیا۔ اس لئے انہوں نے اس روز کھانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 87–88

آیت 87 (یایھا الذین امنوا لاحرموا طیبت مآ احل اللہ لکم) ” اے ایمان والو ! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے، تم انہیں حرام مت کرو “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں، انہیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں۔ پس اللہ تعلایٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمہارے لئے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ ورنہ تم کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ پر افتراپردازی کے ساتھ حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–88

اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کی تحریم کا بیان قول باری ہے یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبات ما احل اللہ لکم اے ایمان لانے والو ! جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو طیبات کا اسم ان چیزوں پر واقع ہوتا ہے جن سے لذت کا احساس ہوتا ہے اور طبیعت میں ان کی اشتہاء پیدا ہوتی ہے اور ان کی طرف دل کا میلان ہوتا ہے۔ اس اسم کا اطلاق حلال چیزوں پر بھی ہوتا ہے ۔ یہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ آیت میں دونوں قسم کی چیزیں مراد ہیں اس لیے کہ طیبات کے اسم کا اسم اطلاق ان دونوں پر ہوتا ہے اس صورت میں تحریم حلال دو طرح سے ہوگی ۔ ایک یہ کہ کوئی شخص کہے میں نے اپنے اوپر یہ طعام حرام کرلیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

215 نعمتوں سے سرفرازی کا تقاضا شکر وسپاس خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا اور کھاؤ [ پیو ] تم لوگ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم کو اللہ نے عطا فرمائی ہیں۔ اور اس نے تم کو وہ محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائیں ورنہ تمہارا نہ کوئی حق تھا نہ استحقاق۔ اور نہ ہی کوئی سوال و درخواست۔ سو کتنا کرم اور کس قدر فضل واحسان ہے اس وحدہ لاشریک کا تم پر۔ پس اس کے بدلے میں تم لوگ سراپا شکر وسپاس بن جاؤ اس واہب مطلق کیلئے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ نعمتوں سے سرفرازی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اس واہب مطلق کیلئے سراسر شکر وسپاس بن جائے تاکہ اس طرح اس کا حقِّ شکر بھی ادا ہو اور تاکہ اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لیے دارین کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 87–88

اللہ کی حدوں پر قائم رہو تشریح : ان آیات میں ہر بات کو درمیانہ راستہ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے کسی بات میں بھی میانہ روی کو چھوڑ دینا منع ہے۔ حرام حلال کا مسئلہ صرف کھانے پینے تک ہی نہیں بلکہ اس میں انسان کی خواہشات، اس کا آرام اور دنیا کے بیشمار دوسرے کام بھی شامل ہیں، اس لئے ہر بات میں اعتدال کو سامنے رکھتے ہوئے اور قرآن و سنت کے احکام کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔ دنیا اور دین ساتھ ساتھ چلانا ہی بہترین طریقہ ہے اور ہر قدم پر اپنے دل میں اللہ کا خوف محسوس کرتے رہنا ہی ایمان کی نشانی ہے اور نجات کی ضمانت ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 87–93

رکوع نمبر 12 ۔ آیات 87 تا 93 ۔ اسرار و معارف : چونکہ نصاری میں رہبانیت کا ذکر چل رہا تھا اور یہ خیال بھی نہ کیا جائے کہ عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں ہاں یہ فرمایا گیا کہ یہودیوں میں بہت ہی کم لوگ اصلاح پذیر ہوئے اتنے کم کہ قوم کے مقابلے میں قابل ذکر تعداد نہیں ، لیکن عیسائیوں میں پھر ان کی نسبت زیادہ لوگ مشرف باسلام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں تارک الدنیا قسم کے لوگ تھے جنہیں کوئی لالچ نہ تھا حق کو دیکھا اور قبول کرلیا تو وہ ان کا اپنا دین تھا بہرحال اچھا وہی جو اسلام قبول کرلے ورنہ کوئی خوبی ہے نہ اسلام دوستی۔ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رہبانیت یا لذیذ چیزوں کو چھوڑ دینا یا گھر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی حلال کو حرام تو بہ ٹھہرا و ہاں ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تقوی ٰ اختیار کرو اور جو چیزیں حرام ہیں ان کے قریب نہ جاو) یہ اس مقام پر دوسرا حکم ہے اور جن صحابہ ؓ نے بعض طیبات کے ترک کی قسمیں کھائیں تھیں انہوں نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ ہماری قسموں کا کیا حکم ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (رازی) لغوقسموں سے مراد وہ قسمیں ہیں جو بےساختہ عادت کے طور پر زبان سے یو نہی نکل جاتی ہیں کا ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے اور نہ سزا۔ کفارہ اور سزا ایسی قسموں پر ہے جو دل کے ارادے سے کھائی جائیں اور پھر انکئ خلاف ورزی کی جائے (نیز دیکھے سورت بقرہ آیت 225)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 85–89

(5:84) فاثابھم ۔سببیہ ہے۔ اثاب یثیب اثابۃ (باب افعال) بدلہ دینا انعام دینا۔ ثواب دینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو بدلہ یا انعام دیا۔ یہاں ماضی مستقبل کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی وہ ان کو بدلہ دے گا۔ انعام دے گا۔ جنت ۔۔ فیہا۔ اثاب کا مفعول ثانی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–89

آیات نمبر 87 تا 89 لغات القرآن : اکتبنا (تو ہمیں لکھ لے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ نطمع (ہم امید رکھتے ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں) ان یدخل (یہ کہ داخل کرے گا) ۔ الصالحین (صالح) ۔ نیک لوگ) ۔ اثاب (اثانۃ) ۔ اس نے بدلہ دیا) ۔ لاتحرموا (حرام نہ کرو) ۔ طیبت (پاکیزہ چیزیں ۔ (حلال چیزیں) ۔ احل (اس نے حلال کردیا) ۔ لاتعتدوا (تم حد سے آگے نہ بڑھو) ۔ لایحب (وہ پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھ جانے والے) ۔ لایؤاخذ (وہ نہیں پکڑے گا) ۔ اللغو (لغو۔ بیکار) ۔ عقدتم (تم نے مضبوط باندھا) ۔ اطعام (کھلانا) ۔ عشرۃ مسکین (دس غریب۔ دس مسکین) ۔ اوسط (درمیانہ درجہ) ۔ تطعمون (تم کھلاتے ہو) ۔ اھلیکم (اپنے گھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 87–88

حلال چیزوں کو حرام ٹھرانے کی مناہی (ممانعت) کا ذکر اس آیت کا شان نزول جو بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ کہ بعضے صحابہ کرام نے اچھی چیز کا کھانا، اچھے کپڑے کا پہننا، مباشرت کرنا سب ترک کردیا تھا۔ ایک صحابی نے گوشت کھانے کی قسم کھائی تھی۔ غرض ایسے چند قصے جمع ہوجانے سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو غصہ میں آکر یا غیر کا حق تلف کرکے اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں کسی چیز کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھ کر سہولت عبادت یا کسی اور غرض سے چند روز کوئی چیز چھڑ دی جائے تو اور بات ہے۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرع میں جو حلال و…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 87–89

[52] صحابہ کرام کی ایک جماعت نے یہ عہد کیا تھا کہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے اور راتوں کو بستر پر نہ سوئیں گے بلکہ جاگ کر عبادت کرتے رہیں گے، گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے، خوشبو نہ لگائیں گے اور عورتوں سے جدا رہیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں اس ارادے سے روک دیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی کی جائز لذتیں اور راحتیں اپنے اوپر حرام کرلینا اور اس کو تقرب الٰہی کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 87–88

(ف 2) بیشتر کی آیات میں ” تسلیما اور رھبان “ کی تعریف مذکور ہے صحابہ کی دل میں طبعا دینا سے علیحدگی کی خواہش پیدا ہوئی ، اور انہوں نے ترک لذات کا عہد کرلیا ، گوش نبوت تک جب یہ معاملہ پہنچا ، تو زبان وحی نے اس آیت میں روک دیا اور کہا تحریم لذات جائز نہیں ، دین ترک لذائذ اور تعذیب نفس کا نام نہیں ، بلکہ جذبات میں اعتدال پیدا کرنے کا اس لئے خدا کی سب نعمتیں تمہارے لئے حلال وطیب ہیں ساری اچھی چیزیں کھاؤ ، مگر ایمان والتقاء کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 87–88

ف 1 اے ایمان والو ! جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ان میں سے لذیذ اور مرغوب طبع چیزوں کو اپنے لئے حرام نہ کرلیا کرو اور مقررہ حدود سے آگے نہ بڑھو بلاشبہ اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان میں سے جو چیزیں حلال اور طبیعت کو مرغوب ہوں ان کو کھائو اور جس اللہ تعالیٰ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے تم ڈرتے رہو۔ (88)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر حلال اور طیب چیز کھانے کی تم کو اجازت ہے کہ وہ تمہاری خاطر پیدا کی گئی ہے : 213: ” اکل “ کے معانی بلاشبہ کھانے کے ہیں لیکن نگلنے کے نہیں۔ انسانوں کی عام بول چال میں یہ لفظ اس طرح استعمال ہوتا ہے کہ فلاں آدمی دکان کھا گیا ، زمین کھا گیا ، اس نے زیور کھالیا۔ جس طرح اس کھالینے کا مطلب ہے وہی مطلب اس جگہ بھی ہے یعنی ” اکل “ بمعنی تمتع ہے جس کے معنی فائدہ اٹھانے یا استعمال کرنے کے ہیں خواہ کھانے ، پینے ، پہننے کی صورت میں ہو یا سواری وغیرہ کرنے کی صورت میں ہو یا عام استعمال کرنے کی صورت میں ہو۔ پھر حلال کے ساتھ طیب کی قید بھی ہر جگہ بڑھادی کہ ہر حلال چیز طیب نہیں ہوتی لیکن ہرچیز جو طیب ہوگی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–88

Sequence of Verses Upto this point, the subject revolved around the people of the Book. Onwards, there is a return to subsidiary injunctions some of which were taken up early in the Sarah, and some others also in between. Also reported is a particular link as relevant to -the occasion - that monasticism has been mentioned in a complimentary sense a little earlier (82), though it is there in terms of a particular feature in it, which is the abandonment of worldly desires. But, since there was a probability that someone may take the whole concept of monasticism as praiseworthy, it was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–88

104. This verse embodies two directives. The first is that man should not attribute to himself the authority to proclaim things either lawful or unlawful according to his own wishes. Only that which God has held to be lawful is lawful, and only that which God has declared unlawful is unlawful. If men were to declare certain things either lawful or unlawful on their own authority, they would not be following the law of God but their own laws. The second directive is that they should not adopt the course of world-renunciation and abstention from worldly pleasures as the Christian monks, Hindu…

Read the full tafseer →