Explained with ayahs 87–88
راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے
ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہوجائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کردیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ آنحضرت ﷺ کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ نے فرمایا تم دیکھ نہیں رہے ؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
سورة الْمَآىِٕدَة 104
اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ خود حلال و حرام کے مختار نہ بن جاؤ۔ حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا اور حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا۔ اپنے اختیار سے کسی حلال کو حرام کرو گے تو قانون الہٰی کے بجائے قانون نفس کے پیرو قرار پاؤ گے۔ دوسری بات یہ کہ عیسائی راہبوں، ہندو جوگیوں، بودھ مذہب کے بھکشووں اور اشراقی متصوفین کی طرح رہبانیت اور قطع لذات کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ مذہبی ذہنیت کے نیک مزاج لوگوں میں ہمیشہ سے یہ میلان پایا جاتا رہا ہے کہ نفس و جسم کے حقوق ادا کرنے کو وہ روحانی ترقی میں مانع سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا، اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
ربط آیات
یہاں تک اہل کتاب کے متعلق گفتگو تھی۔ آگے پھر عود ہے احکام فرعیہ کی طرف، جن کا ذکر کچھ شروع سورت میں اور کچھ درمیان میں بھی ہوا ہے، اور باعتبار خصوصیت مقام کے ایک ربط خاص بھی منقول ہے، وہ یہ کہ اوپر مقام مدح میں رہبانیت کا ذکر آیا ہے، گو وہ باعتبار اس کے ایک جز و خاص یعنی ترک حب دنیا کے ہے، لیکن احتمال تھا کہ کوئی رہبانیت کی مساوی خصوصیات کو قابل مدح سمجھا جائے، اس لئے اس مقام پر اس تحریم حلال کی ممانعت زیادہ مناسب معلوم ہوئی۔ (بیان القرآن ملحضاً)
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں (خواہ وہ کھانے پینے اور پہننے کی قسم سے ہوں یا منکوحات کی قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
آگے کا مضمون۔ آیات 87 تا 120: آگے کا حصہ، آخر سورة تک، خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں انہی باتوں سے متعلق، جو اس سورة کے شروع میں بیان ہوئی ہیں یا ان سے تعلق رکھتی ہیں، بعد میں جو سوالات پیدا ہوئے ہیں یا پیدا ہوسکتے تھے، ان کے جوابات دیے گئے ہیں اور یہ اشارہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ یہ توضیحی آیات ہیں۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی ہے کہ جو سوالات مفید تھے ان کے جوابات دے دیے گئے ہیں، رہے غیر ضروری سوالات تو اس قسم کے سولات نزول قرآن کے دوران نہ پوچھو۔ غیر ضروری سوالات پوچھ پوچھ کر یہود نے اپنے اوپر بہت سی قیدیں اور پابندیاں عائد کرا لیں، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان کو نباہ نہ سکے اور بالآخر کفر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
87۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور آکر کہا کہ یارسول اللہ ! جب میں گوشت کھاتا ہوں تو نفسانی شہوت کا غلبہ ہوجاتا ہے، اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا ہے، جس پر آیت نازل ہوئی، اس طرح سبب نزول کے علاوہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ زہد و عبادت کی غرض سے بعض حلال چیزوں سے (مثلًا عورت سے نکاح کرنے، رات کے وقت سونے، دن کے وقت کھانے پینے سے) اجتناب کرنا چاہتے تھے۔ نبی کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے انہیں منع فرمایا۔ حضرت عثمان بن مظعون نے بھی اپنی بیوی سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی تھی، ان کی بیوی کی شکایت پر آپ نے انہیں بھی روکا (کتب حدیث) بہرحال اس آیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
58: جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے، مشرکین مکہ اور یہودیوں نے ایسی بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا جس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
درس نمبر 53 تشریح آیات :
87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔
(آیت) ” نمبر 87 تا 89۔
” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔
(آیت) ” یَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
2 آغاز سورت میں " ایفائے عہود " کی تاکید کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہوا تھا۔ اسی ضمن میں خاص خاص مناسبات سے جن کا ذکر موقع بہ موقع ہم کرچکے ہیں، دوسرے مفید مضامین کا سلسلہ شروع ہوگیا " الشیء بالشیء یذکر " بات میں سے بات نکلتی رہی تمام استطرادی مضامین کو تمام کر کے اس پارہ کے پہلے رکوع سے پھر اصل موضوع بحث کی طرف عود کیا گیا ہے اور لطف یہ ہے کہ اس رکوع سے متصل پہلے رکوع میں جو مضمون گزرا اس سے بھی رکوع حاضر کا مضمون پوری طرح مربوط ہے۔ کیونکہ پچھلے رکوع میں یہود و نصاریٰ کی جو فضائح بیان کی گئیں سمجھنے والوں کے نزدیک ان کا خلاصہ دو چیزیں تھیں۔ یعنی یہود کا لذات و شہوات دنیا اور حرام خوری…
Read the full tafseer →کھانے پینے کی چیزوں میں حلتّ و حرمت اور تحلیل و تحریم الہامی شریعتوں کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ قرآن حکیم میں بھی بار بار ان مسائل پر بحث کی گئی ہے اور یہ موضوع سورة البقرۃ سے مسلسل چل رہا ہے۔ عربوں کے ہاں نسل در نسل رائج مشرکانہ اوہام کی وجہ سے بہت سی چیزوں کے بارے میں حلّت و حرمت کے غلط تصورات ذہنوں میں پختہ ہوچکے تھے۔ اس قسم کے خیالات ذہنوں ‘ دلوں اور مزاجوں سے نکلنے میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے بار بار ان مسائل کی طرف توجہ دلائی جار ہی ہے۔
آیت 87 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوْا ط
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
131 حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے والے گروہ اور اس کی صورتیں :۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے تمام اشیاء انسان کے لیے مباح اور حلال ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جن کی حرمت کے متعلق شریعت نے وضاحت کردی ہو۔ اب اس آیت اور اس سے بعد والی آیت میں حلال اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے چند جامع اصول بیان کردیئے گئے ہیں اور یہ سب لاَ تَعْتَدُوْا کے ضمن میں آتے ہیں مثلاً (1) جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں انہیں عقیدتاً یا عملاً حرام نہ بنا لو۔ جیسے صوفی قسم کے لوگ نکاح سے عملاً اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ نکاح سے جو ذمہ داریاں انسان پر پڑتی ہیں۔ وہ عبادت الٰہی میں آڑے آتی ہیں۔ اس قسم کے لوگ عیسائیوں میں بھی…
Read the full tafseer →275 ۔ تحریم حلال کی ایک عام اور چلی ہوئی صورت یہ ہے کہ کسی جائز لذت سے بہ قصد قربت حق اپنے کو ہمیشہ کیلیے محروم کردیا جائے۔ غیر مذہب والے اس عادت کا شکار بہ کثرت ہوچکے ہیں کسی مسلمان کا ایسی جسارت کرنا گویا اس کا اقرار کرنا ہے کہ شریعت سے فلاں فلاں پرہیز کے مقرر نہ کرنے میں کمی ہوئی ہے اور اب میں اپنی عقل و تجربہ سے اس فروگذاشت کی تلافی کررہا ہوں، کسی جائز چیز سے کسی طبی یا انتظامی مصلحت کی بنا پر دست بردار ہوجانا اور چیز ہے اور بعض بزرگوں سے جو ترک لذات کے سلسلہ میں جو مجاہدے منقول ہیں، سمجھنا چاہیے کہ وہ اسی قبیل سے ہوں گے۔۔ کم از کم حسن ظن کا تقاضا تو یہی ہے۔ (آیت) ” لا تحرموا “۔ تحریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
آیت نمبر 87 تا 93
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب صحابہ ؓ کی ایک جماعت نے یہ ارادہ کرلیا کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھیں گئ اور ہمیشہ نماز میں مشغول رہیں گے، اور عورتوں سے ہم بستر نہ ہوں گے اور نہ خوشبو کا استعمال کریں گے، اور نہ گوشت کھائیں گے اور نہ بستر پر سوئیں گے، اے ایمان والو ! اللہ نے جو پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حکم خداوندی سے تجاوز نہ کرو اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے جو حلال مرغوب چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے کھاؤ (حَلالاً ، کلوا کا) مفعول ہے اور اس کا ما قبل (ممّا رزقکم اللہ) کا متعلق مقدم حال ہے، اور اس اللہ…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما اہل اللہ لکم ” اے ایمان والو ! اللہ نے جو چیزیں تمہارے لئے حلال کردی ہیں ان میں (خصوصیت کے ساتھ) پسندیدہ مرغوب اشیاء کو حرام نہ بناؤ۔
طیبت سے مراد ہیں پسندیدہ مزے دار چیزیں جو مرغوب طبع ہوں۔ ترتیب آیات میں ایک خاص خوبی ہے اوّل نصاریٰ کی تعریف فرمائی اور ان کی رہبانیت کو قابل مدح صفت قرار دیا اور نفسانی جوش کو توڑنے کی ترغیب دی پھر اس کے بعد حد مقررہ سے آگے بڑھنے اور حلال کو حرام کی حدود میں داخل کردینے کی ممانعت فرما دی۔
ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین۔ اور (حلال کو حرام بنا کر) حدود مقررہ سے آگے نہ بڑھو اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا یا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
(87۔ 88) یہ آیت کریمہ اصحاب رسول اکرم ﷺ میں سے دس حضرات یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمرفاروق ؓ ، حضرت ؑ عثمان بن مظعون، ؓ حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، حضرت مقدادرضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سالم مولی ابی حذیفہ ؓ حضرت سلمان فارسی ؓ ، حضرت ابوذر ؓ ، حضرت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان سب حضرات نے حضرت عثمان ؓ بن مظعون کے گھر میں اس بات پر اتفاق کیا بقدر ضرور کھائیں گے اور پیں گے اور نہ بیبیوں کے پاس جائیں گے اور نہ گوشت کا کھائیں گے اور نہ چربی کھائیں گے اللہ کی رضا کے لیے صرف راہبانہ زندگی بسر کریں گے، اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اس چیز سے منع فرمایا کہ کھانے پینے اور صحبت…
Read the full tafseer →لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ۔ : عہد توڑنے کے سلسلہ میں یہود و نصاریٰ سے مباحثہ کے بعد اب اصل موضوع کی طرف پھر توجہ کی ہے، یعنی ”اَوفُو بالعقُودِ“ کی تشریح جو اس سورت کا بنیادی موضوع ہے۔ (قرطبی، رازی) نصاریٰ کے راہبوں کی تعریف کے بعد پاکیزہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کرنا اس لیے بھی زیادہ مناسب تھا کہ انھوں نے ان باتوں کو نیکی میں داخل کر رکھا تھا، لہٰذا مومنین کو اس سے منع فرما دیا۔ اللہ تعالیٰ نے رہبانیت سے متعلق فرمایا : (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ) [ الحدید : 27 ] ”اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کرلی، ہم نے اسے ان…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 87
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ طبری نے حضرت ابن عباس تک سند ذکر فرمائی ہے کہ آیت ایک شخص کے سبب نازل ہوئی جو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ ! جب میں گوشت کھاتا ہوں تو میرے شہوت ابھرتی ہے، پس میں نے گوشت اپنے اوپر حرام کردیا ہے (1۔ جامع ترمذی، جلد 2، صفحہ 130۔ ایضا، حدیث نمبر 2980، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جن میں حضرت ابو بکر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت ابو ذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
حلال چیزوں کو حرام قرار دینا سخت گناہ ہے
(1) امام ترمذی (اور انہوں نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن عدی نے الکامل میں، الطبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ جب میں گوشت کھاتا ہوں۔ تو میری طبیعت میں عورتوں کے انتشار پیدا ہوجاتا ہے اور مجھے شہوت پکڑ لیتی ہے۔ اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کرلیا۔ اس پر (یہ آیت) لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم
(2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم کے بارے…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تُحَرِّمُوْا : تم لوگ حرام مت کرو ] [ طَيِّبٰتِ مَآ : اس کے پاکیزہ کو جس کو ] [ اَحَلَّ : حلال کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ: اور حد سے مت بڑھو ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ لَا يُحِبُّ : پسند نہیں کرتا ] [ الْمُعْتَدِيْنَ : حد سے بڑھنے والوں کو ]
ترکیب : طیبت مضاف ہے اور ما اس کا مضاف الیہ ہے کلوا کا مفعول مما رزقکم اللہ ہے جبکہ حلالا طیبا حال ہے ۔ یؤاخذ باب مفاعلہ کا مضارع ہے ۔ کفارتہ کی ضمیر عقدتم کے مصدر تعقید کے لیے ہے، کسوتہم کی ضمیر مسکین کے لیے ہے ۔ اطعام عشرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
حلال کھاؤ اور پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو اور حد سے آگے نہ بڑھو
ان آیات میں اللہ جل شانہ ‘ نے اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ نے جو چیزیں حلال قرار دی ہیں تم ان کو حرام قرار نہ دو ۔ حلال کو حرام قرار دینے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ عقیدۃً حلال کو حرام قرار دیدیا جائے۔ اگر کوئی شخص حلال قطعی کو حرام قرار دے گا تو ملت اسلامیہ سے نکل جائے گا۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ عقیدۃً تو کسی حلال کو حرام قرار نہ دے لیکن حلال کے ساتھ معاملہ ایسا کرے جو حرام کے ساتھ کیا جاتا ہے یعنی بغیر کسی عذر کے خواہ مخواہ کسی حلال چیز سے اجتناب کرے۔ یہ بھی ممنوع ہے۔
اور تیسری صورت یہ کہ قسم کھا کر یا نذر مان کر کسی حلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
حکم پانزدہم ممانعت از رہبانیت۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔ الی۔۔ مومنون۔
شروع سورت میں ایفاء عہود کی تاکید کے بعد احکام فرعیہ اور حلال و حرام کو بیان فرمایا پھر خاص خاص مناسبتوں سے یہود ونصاری کے عقائد اور اعمال کے ذکر کا سلسلہ شروع ہوگیا اب پھر اصل موضوع کی طرف عود فرماتے ہیں اور چونکہ قریبی آیتوں میں نصاری کی تعریف میں یہ فرمایا کہ ان میں کچھ رہبان بھی ہیں اور رہبانیت لذات دنیاوی کے ترک کا نام ہے خواہ وہ حلال ہوں یا حرام اس لیے اس احتمال سے کہ مبادا مسلمان۔ رہبانیت کو اچھی چیز نہ سمجھنے لگیں اس آیت میں اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام سمجھنے کی ممانعت فرماتے ہیں اور یہ حکم دیتے ہیں…
Read the full tafseer →147 دوسرا حصہ۔ دوسرا جزء۔ نفی شرک فعلی۔ یہاں سے سورت کے دوسرے حصے کا دوسرا جزء شروع ہوتا ہے۔ جس میں لف و نشر غیر مرتب کے طور پر مسئلہ نفی شرک فعلی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ شرک فعلی کے سلسلے میں چار چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ 1 ۔ اول تحریمات غیر اللہ یا تحریمات عباد یا تحریمات مشرکین۔ 2 ۔ غیر اللہ کی نذریں۔ 3 ۔ تحریمات اللہ اور۔ 4 ۔ اللہ کی نذریں۔ اور 4 کا حکم یہ ہے کہ وہ حلال ہیں انہیں کھانا چاہئے اور 2 اور 3 کا حکم یہ ہے کہ وہ حرام ہیں انہیں نہیں کھانا چاہئے۔ اس آیت میں تحریمات غیر اللہ کا ابطال فرمایا۔ مشرکین نے اپنے معبودوں کی رضا جوئی کے لیے محض اپنی طرف بعض حلال اور پاک چیزوں کو اپنے اوپر حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
ربط آیات
پہلے اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایک خاص گروہ کی تعریف بھی بیان فرمائی جنہوں نے ایمان قبول کیا اور وہ باصلاحیت لوگ تھے۔ اللہ نے یہ بھی سمجھا دیا کہ اہل ایمان کے ساتھ شدید ترین عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں البتہ نصاریٰ اس ضمن میں کہ عداوت رکھتے ہیں پھر اللہ نے اس کی دو وجوہات بھی بیان فرمائیں کہ ان میں اہل علم ، تارک دنیا اور متواضع لوگ بھی ہیں جس قوم میں یہ صفات پائی جائیں وہ ایک اچھی سوسائٹی سمجھی جاتی ہے۔
یہاں پر رہبانیت کی مدح سے یہ شبہ گزرتا تھا کہ شاید یہ کوئی اچھی چیز ہے مگر اگلی آیات میں اس شبہ کا ازالہ کردیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللہُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا 0ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ 87
حرم
الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ترکیب : ان سخط ان بتاویل مصدر خبر ہے مبتداء محذوف کی جو ھو ہے اور ممکن ہے کہ یہ بدل ہو ما قدمت کا جو محلاً منصوب ہوگا وھذا رجح ما اتخذوھم جواب ہے ولو کانوا یؤمنون کا ‘ عداوۃ منصوب ہے بوجہ تمیز ہونے کے اشد سے ‘ للذین آمنوا متعلق ہے عداوۃ سے ‘ الیہود معطوف علیہ والذین اشرکوا معطوف مجموعہ مفعول ہے لتجدن کا ‘ للذین متعلق ہے مودۃ سے ‘ الذین قالوا انا نصریٰ جملہ مفعول ثانی ہے لتجدن کا ‘ بان ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے ذلک کی ‘ واذا اسمعوا معطوف ہے خبر ان پر جو لایستکبرون ہے اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو گو معنیً اس کو ماسبق سے علاقہ ہو۔ تری کو اگر رویۃً عین سے لیا جاوے تو تفیض حال ہوگا ونطمع حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
تمہید
آج ہم سورة المائدہ کی ان آخری آیات کا آغاز کر رہے ہیں جو تقریباً پانچ رکوعوں پر مشتمل ہیں۔ ان آیات کی خصوصی حیثیت یہ ہے کہ جہاں تک سورة المائدہ میں بیان کردہ مضامین اور احکام کا تعلق ہے ‘ وہ اختتام کو پہنچ گئے۔ لیکن ان بیان کردہ احکام کے بارے میں ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوئے یا جو پیدا ہوسکتے تھے اور جو سوالات پوچھے گئے یا پوچھے جاسکتے تھے ان آیات میں ان تمام سوالات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ بعض دفعہ کہیں سوال کا ذکر کیا گیا ہے ‘ لیکن بالعموم سوال کا ذکر کیے بغیر جواب دیا گیا ہے۔ اسی لیے ان آیات کریمہ کو توضیحی آیات کہا جاتا ہے اور خود ان آیات میں اس کی طرف اشارات بھی موجود ہیں۔ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر و تکذیب کا رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اے صاحب ایمان لوگو ! تم اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنی مرضی سے حرام کرکے زیادتی کے مرتکب نہ ہوجانا، زیادتی کرنے والے اور حد سے بڑھنے والے لوگ عملاً کفر و تکذیب کرنے والے ہوتے ہیں۔
اس آیت میں بنیادی حکم یہ دیا گیا ہے کہ مومنوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال اور طیّب چیزوں کو من مرضی سے حرام قرار دیں۔ حرام و حلال کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ لوگوں نے لذت نفس کی خاطر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیا اور کچھ لوگوں نے تقویٰ…
Read the full tafseer →حلال سے حرام جیسا سلوک مت کرو :
آیت 87 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ ۔ اَحَلَّ سے مراد جو پسندیدہ اور لذیذ حلال میں سے بنایا گیا ہو۔ اور لا تحرموا کا مطلب یہ ہے کہ ان سے اسی طرح نفع نہ اٹھائو جیسے حرام سے نفع نہیں اٹھایا جاتا۔ یا یہ مت کہو کہ ہم نے ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ زہد کے طور پر اس کے ترک پر پختہ عزم میں مبالغہ اختیار کرتے ہوئے اور بہت بےرغبتی ظاہر کرتے ہوئے۔ روایت میں ہے کہ آپ ﷺ مرغی کا گوشت اور فالودہ استعمال فرماتے۔ اور آپ کو حلوہ اور شہد بہت پسند تھے۔ اور آپ کا ارشاد ہے کہ مومن خود میٹھا ہے حلوہ کو پسند کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
آیت نمبر 87, 86, 85, 84, 83
تفسیر : (واذا سمعوا مآ انزل الی الرسول اور جب سنتے ہیں اس کو جر اترا رسول پر) یعنی محمد ﷺ پر (تریٰ اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق تو آپ دیکھیں ان کی آنکھوں کو ابلتی ہیں آنسوئوں سے اس وجہ سے کہ انہوں نے پہچان لیا حق بات کو) عطاء کی روایت میں ابن عباس ؓ کا فرمان یہ ہے کہ اس سے نجاشی اور اس کے ساتھی مراد ہیں کیونکہ جب حضرت جعفر ؓ نے حبشہ میں ان پر سورة ” کھیعص “ کی تلاوت کی تو ان کے تلاوت ختم کرنے تک یہ لوگ روتے رہے۔ (یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین کہتے ہیں اے رب ! ہمارے ہم ایمان لائے سو تو لکھ ہم کو ماننے والوں میں سے) یعنی امت محمد ﷺ میں لکھ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
(87 ۔ 88) ۔ ترمذی ابن ابی حاتم جریر ابن عساکر وغیرہ نے اس آیت کی شان نزول جو بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک صحابی نے آنحضرت سے بیان کیا کہ گوشت کے کھانے سے مجھ کو عورتوں کی صحبت کی خواہش زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس سبب سے میں نے گوشت نہ کھانے کی قسم کھالی ہے۔ بعض صحابہ نے اچھی چیز کا کھانا اچھے کپڑے کا پہننا۔ مباشرت کا کرنا ترک کردیا تھا۔ اور ایک صحابی تھے جن کے گھر میں ایک مہمان آئے ہوئے تھے ان صحابی کو آنحضرت کے پاس سے گھر جانے میں دیر ہوگئے۔ ان کی بی بی نے ان کے انتظار میں مہمان کو کھانا نہیں دیا۔ جب یہ گھر گئے ان کو مہمان کے بھوکا رکھنے سے اپنی بی بی پر غصہ آگیا۔ اس لئے انہوں نے اس روز کھانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
آیت 87
(یایھا الذین امنوا لاحرموا طیبت مآ احل اللہ لکم) ” اے ایمان والو ! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے، تم انہیں حرام مت کرو “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں، انہیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں۔ پس اللہ تعلایٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمہارے لئے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ ورنہ تم کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ پر افتراپردازی کے ساتھ حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کی تحریم کا بیان
قول باری ہے یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبات ما احل اللہ لکم اے ایمان لانے والو ! جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو طیبات کا اسم ان چیزوں پر واقع ہوتا ہے جن سے لذت کا احساس ہوتا ہے اور طبیعت میں ان کی اشتہاء پیدا ہوتی ہے اور ان کی طرف دل کا میلان ہوتا ہے۔ اس اسم کا اطلاق حلال چیزوں پر بھی ہوتا ہے ۔ یہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ آیت میں دونوں قسم کی چیزیں مراد ہیں اس لیے کہ طیبات کے اسم کا اسم اطلاق ان دونوں پر ہوتا ہے اس صورت میں تحریم حلال دو طرح سے ہوگی ۔ ایک یہ کہ کوئی شخص کہے میں نے اپنے اوپر یہ طعام حرام کرلیا ہے…
Read the full tafseer →213 تحریم طیبات کی ممانعت : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کہیں ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہیں ٹھہرادینا جو اللہ نے تمہارے لیے حلال فرمائی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام کرنا تقویٰ کا تقاضا نہیں بلکہ کفران نعمت اور ناشکری کے زمرے میں آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ صحیحین ۔ صحیح بخاری و مسلم ۔ وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام میں سے بعض حضرات نے غلبہ شہوت سے بچنے کے لئے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے اور قطع شہوت کے لئے دوسرے فلاں فلاں کام کریں گے۔ تو اس بارے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (بخاری : کتاب النکاح، مسلم : کتاب النکاح، ترمذی :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
اللہ کی حدوں پر قائم رہو
تشریح : ان آیات میں ہر بات کو درمیانہ راستہ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے کسی بات میں بھی میانہ روی کو چھوڑ دینا منع ہے۔ حرام حلال کا مسئلہ صرف کھانے پینے تک ہی نہیں بلکہ اس میں انسان کی خواہشات، اس کا آرام اور دنیا کے بیشمار دوسرے کام بھی شامل ہیں، اس لئے ہر بات میں اعتدال کو سامنے رکھتے ہوئے اور قرآن و سنت کے احکام کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔ دنیا اور دین ساتھ ساتھ چلانا ہی بہترین طریقہ ہے اور ہر قدم پر اپنے دل میں اللہ کا خوف محسوس کرتے رہنا ہی ایمان کی نشانی ہے اور نجات کی ضمانت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
رکوع نمبر 12 ۔ آیات 87 تا 93 ۔
اسرار و معارف : چونکہ نصاری میں رہبانیت کا ذکر چل رہا تھا اور یہ خیال بھی نہ کیا جائے کہ عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں ہاں یہ فرمایا گیا کہ یہودیوں میں بہت ہی کم لوگ اصلاح پذیر ہوئے اتنے کم کہ قوم کے مقابلے میں قابل ذکر تعداد نہیں ، لیکن عیسائیوں میں پھر ان کی نسبت زیادہ لوگ مشرف باسلام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں تارک الدنیا قسم کے لوگ تھے جنہیں کوئی لالچ نہ تھا حق کو دیکھا اور قبول کرلیا تو وہ ان کا اپنا دین تھا بہرحال اچھا وہی جو اسلام قبول کرلے ورنہ کوئی خوبی ہے نہ اسلام دوستی۔ اس بات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رہبانیت یا لذیذ چیزوں کو چھوڑ دینا یا گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
ف 4 نقض عہود کے سلسلہ میں یہود و نصاری سے مباحثہ کے بعد اب اصل موضوع کی طرف پھر تو جہ کی ہے یعنی کہ اوفو ابا لعقود کی تشریح جو اس سورة کا اساسی موضوع ہے (قرطبی۔ کبیر) رہبان نصاریٰ کی مدح کے بعد طیبات کی تحریم سے ممانعت یوں بھی انسب ہے کہ انہوں نے ان با توں کو نیکی میں داخل کررکھا تھا لہذا مومنین کو منع فرمادیا، حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جو چیز شروع میں صاف حلال ہو اس سے پرہیز کرنا برا ہے یہ دو طرح سے ہوتا ہے یاک زہد سے یہ رہبانیت ہے جو ہمارے دین میں پسند یدہ نہیں ہے اس کی بجائے تقویٰ اختیار کیا جائے یعنی ممنوع چیز کے قریب نہ جائے دوم یہ کہ کسی مباح کام کے نہ کرنے کی قسم کھالے یہ بھی بہتر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
(5:84) فاثابھم ۔سببیہ ہے۔ اثاب یثیب اثابۃ (باب افعال) بدلہ دینا انعام دینا۔ ثواب دینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو بدلہ یا انعام دیا۔ یہاں ماضی مستقبل کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ یعنی وہ ان کو بدلہ دے گا۔ انعام دے گا۔
جنت ۔۔ فیہا۔ اثاب کا مفعول ثانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
آیات نمبر 87 تا 89
لغات القرآن : اکتبنا (تو ہمیں لکھ لے) ۔ الشھدین (گواہی دینے والے) ۔ نطمع (ہم امید رکھتے ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں) ان یدخل (یہ کہ داخل کرے گا) ۔ الصالحین (صالح) ۔ نیک لوگ) ۔ اثاب (اثانۃ) ۔ اس نے بدلہ دیا) ۔ لاتحرموا (حرام نہ کرو) ۔ طیبت (پاکیزہ چیزیں ۔ (حلال چیزیں) ۔ احل (اس نے حلال کردیا) ۔ لاتعتدوا (تم حد سے آگے نہ بڑھو) ۔ لایحب (وہ پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھ جانے والے) ۔ لایؤاخذ (وہ نہیں پکڑے گا) ۔ اللغو (لغو۔ بیکار) ۔ عقدتم (تم نے مضبوط باندھا) ۔ اطعام (کھلانا) ۔ عشرۃ مسکین (دس غریب۔ دس مسکین) ۔ اوسط (درمیانہ درجہ) ۔ تطعمون (تم کھلاتے ہو) ۔ اھلیکم (اپنے گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
حلال چیزوں کو حرام ٹھرانے کی مناہی (ممانعت) کا ذکر
اس آیت کا شان نزول جو بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ کہ بعضے صحابہ کرام نے اچھی چیز کا کھانا، اچھے کپڑے کا پہننا، مباشرت کرنا سب ترک کردیا تھا۔ ایک صحابی نے گوشت کھانے کی قسم کھائی تھی۔ غرض ایسے چند قصے جمع ہوجانے سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو غصہ میں آکر یا غیر کا حق تلف کرکے اپنے اوپر حرام نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں کسی چیز کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھ کر سہولت عبادت یا کسی اور غرض سے چند روز کوئی چیز چھڑ دی جائے تو اور بات ہے۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرع میں جو حلال و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
[52] صحابہ کرام کی ایک جماعت نے یہ عہد کیا تھا کہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے اور راتوں کو بستر پر نہ سوئیں گے بلکہ جاگ کر عبادت کرتے رہیں گے، گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے، خوشبو نہ لگائیں گے اور عورتوں سے جدا رہیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں اس ارادے سے روک دیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی کی جائز لذتیں اور راحتیں اپنے اوپر حرام کرلینا اور اس کو تقرب الٰہی کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
(ف 2) بیشتر کی آیات میں ” تسلیما اور رھبان “ کی تعریف مذکور ہے صحابہ کی دل میں طبعا دینا سے علیحدگی کی خواہش پیدا ہوئی ، اور انہوں نے ترک لذات کا عہد کرلیا ، گوش نبوت تک جب یہ معاملہ پہنچا ، تو زبان وحی نے اس آیت میں روک دیا اور کہا تحریم لذات جائز نہیں ، دین ترک لذائذ اور تعذیب نفس کا نام نہیں ، بلکہ جذبات میں اعتدال پیدا کرنے کا اس لئے خدا کی سب نعمتیں تمہارے لئے حلال وطیب ہیں ساری اچھی چیزیں کھاؤ ، مگر ایمان والتقاء کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
ف 1 اے ایمان والو ! جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ان میں سے لذیذ اور مرغوب طبع چیزوں کو اپنے لئے حرام نہ کرلیا کرو اور مقررہ حدود سے آگے نہ بڑھو بلاشبہ اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان میں سے جو چیزیں حلال اور طبیعت کو مرغوب ہوں ان کو کھائو اور جس اللہ تعالیٰ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے تم ڈرتے رہو۔ (88)
Read the full tafseer →ف 7۔ خواہ از قسم مطعومات ہوں یا ملبوسات یا منکوحات کی قسم سے ہوں۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو ہدایت کہ جو چیزیں تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں ان کو حرام مت سمجھو :
212: اس سورة المائدہ کے شروع میں ” ایفائے عہد “ کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہوا تھا۔ اس ضمن میں کچھ خاص مناسبت ہے جن کا ذکر موقع نہ موقع ہم کرتے آرہے ہیں دوسرے مفید مضامین کا سلسلہ چلایا گیا اور انجام کار یہو ونصاریٰ کا ذکر چھڑ گیا جن کا خلاصہ دو چیزیں تھیں یعنی یہود کا لذات و شہوات دنیا اور حرام خوری اور بدکاری میں انہماک جو ” تفریط فی الدین “ کا سبب ہوا اور نصاریٰ کا دین میں غلو اور افراط جو آخر کار ” رہبانیت “ پر منتہی ہوا بلاشبہ رہبا نیت جسے دینداری یا روحانیت کا ہیضہ کہنا چاہئے ۔ کچھ لوگ اس مرض میں مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
Sequence of Verses
Upto this point, the subject revolved around the people of the Book. Onwards, there is a return to subsidiary injunctions some of which were taken up early in the Sarah, and some others also in between. Also reported is a particular link as relevant to -the occasion - that monasticism has been mentioned in a complimentary sense a little earlier (82), though it is there in terms of a particular feature in it, which is the abandonment of worldly desires. But, since there was a probability that someone may take the whole concept of monasticism as praiseworthy, it was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
104. This verse embodies two directives. The first is that man should not attribute to himself the authority to proclaim things either lawful or unlawful according to his own wishes. Only that which God has held to be lawful is lawful, and only that which God has declared unlawful is unlawful. If men were to declare certain things either lawful or unlawful on their own authority, they would not be following the law of God but their own laws. The second directive is that they should not adopt the course of world-renunciation and abstention from worldly pleasures as the Christian monks, Hindu…
Read the full tafseer →