5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsسراج البیان

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

مومنو ! اپنے وعدوں کو پورا کرو (ف 1) مویشی چارپائے تمہیں حلال ہوئے ، مگر وہ جو تم کو بتائے جائیں گے ، مگر احرام کی حالت میں شکار حلال نہ جانو ، اللہ جو چاہے حکم دے (ف 1)

ایفائے عقد : (ف 1) قرآن حکیم نے دائما ایمان وعمل کے معنی یہ بتائے ہیں کہ ادخلوا فی السلم کآفۃ “۔ یعنی کاملا متعقدات و اعمال کے لحاظ سے اسلام قبول کیا جائے ۔ اس آیت میں اسی حقیقت قیمہ کی طرف دعوت دی گئی ہے ۔ عقد کے معنی کسی مضبوط ذمہ داری کے ہیں جو انسانیت اخلاق عامہ اور خدا کی جانب سے مائد ہو مقصد یہ ہے کہ ہر فریضہ ووظیفہ کو ادا کیا جائے ۔ بات ایک ہے ، پیرایہ ہائے بیان مختلف ہیں ، کبھی فرمایا ۔ (آیت) ” اوفوا بعھد اللہ “ کبھی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولا تنقصوا ال ایمان “۔ اور کبھی کہا جاتا ہے ، (آیت) ” ان تؤدالامنت الی اھلھا “۔ یعنی مختلف طریقوں اور راہوں سے بتانا یہ مقصود ہے کہ دنیا ومذہبی ضرورتوں اور ذمہ داریوں کو محسوس کرو ، یہی احساس ذمہ داری اللہ کا عہد ہے اور یمین اور اسی کا دوسرا نام امانت ہے ، کیونکہ جذبہ و اطاعت وانقیاد دراصل اللہ کی گرانقدر ودیعت ہے جو حضرت انسان کو بطور امانت عطا کی گئی ہے ۔ (ف 1) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ تمام چارپائے باستثناء محرمات حلال وطیب ہیں ، ان کے استعمال میں مضائقہ نہیں فلسفہ ، تحلیل وتحریم کی بحث مفصل گزر چکی ہے ، تفصیل کے لئے دیکھو اوراق گزشتہ ۔ (آیت) ” بھیمۃ الانعام “۔ میں اضافت بیانیہ ہے ، جیسے خاتم فضۃ ۔ امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ جانور ہیں جو جنین ہیں اور اند الذبح مادہ کے پیٹ سے برآمد ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” وانتم حرم “۔ دونوں صورتوں کو شامل ہے ، اس صورت کو بھی کہ آپ احرام باندھے ہوئے ہوں اور اس صورت کو بھی کہ آپ حدود حرم میں ہوں ۔ حل لغات : عقود : جمع عقد ، گانٹھ ۔ بھیمۃ : حیوان لایعقل ، ابہام واستبہام اسی سے ماخوذ ہے ۔ انعام : جمع نعم ، بمعنی چارپائے جیسے اونٹ گائے وغیرہ یا وہ جانور جو عام طور پر بطور نعمت کے خیال کئے جاتے ہیں اور پالے جاتے ہیں ۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

مومنو ! اللہ کی نشانیوں ادب والے مہینہ اور قربانی کے جانور اور گلے میں پٹے پڑے ہوئے جانوروں کی اور عزت والے گھر (یعنی کعبہ شریف) کی طرف آنے والوں کی بےحرمتی نہ کرو کہ وہ اپنے رب کے فضل اور خوشی کی تلاش میں ہیں (ف 2) اور جب تم احرام سے نکلو تو شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی بہ سبب اس کے کہ انہوں نے تمہیں ادب والی مسجد سے روکا ، تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرو اور نیکی اور پرہیزگاری میں باہم ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔ (ف 1)

(ف 2) اس آیت میں شعائر اللہ کی تفصیل بیان کی ہے یعنی ارض حرم میں ہر نوع کی تکلیف وضرار ممنوع ہے ، اس لئے اگر شکار کی ضرورت محسوس ہو تو اس وقت جائز ہے جب فرائض حج سے فارغ ہوجاؤ ۔ (آیت) ” یبتغون فضلا من ربھم ورضوانا “۔ سے مراد حجاج بیت اللہ ہیں ، کیونکہ ان کے مقاصد میں اتنہا درجے کی وسعت ہوتی ہے وہ جہاں خدا کی رضا و محبت حاصل کرنے کے لئے ارض بابرکت کا سفر اختیار کرتے ہیں وہاں مال و دولت کا حصول بھی ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ کسب وتجارت کو فضل سے تعبیر کرنا زبردست ترغیب ہے کہ مسلمان اس کو حاصل کرنے میں ازحد کوشاں رہیں ، حتی کہ عین اس زمانے میں جب وہ مناسک حج ادا کر رہے ہوں ‘ تجارت وتمول کے اسباب پر غور کریں ۔ انتہائی تصفت شعاری : (ف 1) مسلمان جب تک مکہ میں رہے ‘ بیت اللہ کے تمامتر اختیارات مشرکین مکہ کے ہاتھ میں رہے اور وہ اجازت نہیں دیتے تھے کہ خدا کے فرمانبردار بندے اس کے اس مقام جلیل میں اکٹھا ہو کر اس کا نام بلند کریں ، ہجرت کے بعد بھی مسلمانوں کو ایک دفعہ مقام حدیبہ پر روک دیا گیا اور اجازت نہ دی گئی کہ وہ مناسک حج کو پوری آزادی سے ادا کرسکیں ، مگر جب مکہ دس ہزار قدوسیوں کے ہاتھ فتح ہوچکا اور مسلمان پوری آزادی سے حج بیت اللہ کو روانہ ہوئے تو انہیں تلقین کی گئی کہ تم ان کو گزشتہ عداتوں اور دشمنیوں کے سبب زیارت و عبادت سے نہ روکنا کیونکہ تمہارا مشن تصفت شعاری اور عدل گستری ہے ۔ حل لغات : شنان : دلی بغض ۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

مردار اور لہو اور سور کا گوشت اور جس پر بوقت ذبح اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جاوے ، تم پر حرام ہوا ‘ اور گلا گھونٹا اور چوٹ سے مرا ہوا اور درندوں کا کھایا ہوا تم پر حرام ہے مگر جسے تم ذبح کرلو ‘ اور تھانوں پر جو ذبح ہو حرام ہے اور فال کے تیروں سے قسمت آزمائی کرنا بھی حرام ہے ، یہ گناہ ہے (ف 2) آج کفار (مکہ) تمہارے دین سے ناامید ہوگئے ، سو تم ان سے نہ ڈرو ، اور مجھ سے ڈرو ، آج میں تمہارا دین تمہیں پورا دے چکا اور میں نے اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور میں نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا ، پس جو کوئی بھوک میں ناچار ہو اور گناہ کی طرف مائل نہ ہو اور گزشتہ حرام چیزوں میں سے کھالے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1)

(ف 2) ان آیات میں حرام اشیاء کا تذکرہ ہے تفصیل گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے ، خون اس لئے حرام ہے کہ ذوق سلیم اسے گوارا نہیں کرتا ، نیز وحشت وبربریت پیدا کرتا ہے اور مضر صحت بھی ہے سؤر ندارد مہیج اور بداخلاقی کا موجب ہے نیز اس سے ایک مرض تشحم پیدا ہوتا ہے جس سے عام طور پر فوری موت واقع ہوجاتی ہے ، (آیت) ” وما اھل بہ لغیر اللہ “ سے نظام شرک کی تائید ہوتی ہے ۔ منخنقہ اور موقوذہ وغیرہ میں خون اچھی طرح سے نہیں بہتا ۔ شرک کے تھان اور جوئے کے تیروں سے متعلقہ گوشت چونکہ قمار بازی اور شرک کی تائید ہے اس لئے ممنوع ہے ، غرضیکہ تمام حرام چیزیں صرف تعبدی طور پر ہی حرام نہیں ، بلکہ خاص خاص وجوہ کی بنا پر حرام ہیں ۔ تین خوشخبریاں !: (ف 1) اس آیت میں تین شاندار بشارتیں ہیں ، تکمیل دین کی بشارت اتمام نعمت کی بشارت اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رضائے الہی کے حصول کی بشارت : یعنی اسلام بہمہ وجوہ کامل ہے نبوت وحی کی نعمتیں بشکل اتم حاصل ہیں اور خدا خوش ہے کہ تم مسلمان ہو ۔ اس آیت کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ جب تک اسلام موجود ہے ، کتاب وسنت کے اوراق ہمارے لئے رہنما ہیں ، ہیں رضائے الہی کے حصول کے لئے کسی جدید نبوت وتشریح کی ضرورت نہیں ۔ حل لغات : المنخنقۃ : مادہ خنق ، گلا گھونٹنا ۔ الموقوذہ : مادہ وقذ ، چوٹ وضرب ۔ المتردیۃ : مادہ تردی ، معنے گرنا ، النصب : جمع نصبۃ ، تھان ۔
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کو کیا حلال ہے ؟ تو کہہ کہ صاف ستھری چیزیں (ف 2) حلال ہیں اور وہ شکاری جانور جن کو تم سدھاؤل اور شکار کرنے کے لئے تم ان کو وہ سکھاؤ جو خدا نے تمہیں سکھایا ہے پس جو کچھ وہ تمہارے لئے پکڑیں اس میں سے کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرو ، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے ۔

شکار : (ف 2) مقصد یہ ہے ہر پاکیزہ چیز جو ذوق سلیم پر گراں نہ گزرے اور اخلاقی وبدنی مضرتوں سے خالی ہو ۔ حلال ہے ، (آیت) ” مما علمکم اللہ “ کہہ کر شکار کی فضیلت بیان کی ہے ۔ (آیت) ” واتقوا اللہ “ سے مراد یہ ہے کہ شکار بلا ضرورت مستحسن نہیں کیونکہ اس سے قساوت قلبی کے پیدا ہونے کا اندیشہ نہیں کیونکہ اس سے قساوت قلبی کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ، یوں حاجت و ضرورت کے مطابق بہترین ورزش ہے جس سے حوصلہ وجرات کے جذبات پیدا ہوتے ہیں صحابہ ؓ اجمعین میں متعدد لوگ شکار سے ذوق رکھتے تھے ، عدی بن حاتم ؓ کو جو ایک مشہور شکاری ہیں ، حضور ﷺ فرماتے ہیں :۔ ” جب کتے کو شکار کے لئے دوڑاؤ تو بسم اللہ کہہ لو ، اگر وہ صحیح سلامت تم تک شکار لے آئے تو ذبح کرلو اگر مجروح ہو تو دیکھ لو کہ راستے میں اس نے اس میں سے کچھ کھایا تو نہیں ، اگر کھاچکاہو تو پھر تم نہ کھاؤ اور اگر نہ کھایا ہو تو وہ تمہارے لئے حلال ہے ، بلاخرخشہ کھاؤ ۔ “ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ضرورتا کتوں کو رکھنا جائز ہے ۔ حل لغات : مخمصۃ : بھوک ۔ الجوارح : ہر شکاری جانور ۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج سب ستھری چیزیں تمہیں حلال کی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تمہیں حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے (ف 1) اور مسلمان پاک دامن عورتیں اور اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں بھی تمہیں حلال ہیں ، جب کہ تم ان کے مہر ان کو دے دو اور (یہ) کہ تم ان کو قید نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ مستی نکالنے والے اور نہ پوشیدہ آشنائی کرنے والے ، اور جو کوئی ایمان کا منکر ہوا ۔ اس کے اعمال برباد ہوگئے ، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے ۔

(ف 1) طعام سے مراد ذبیحہ ہے کیونکہ عام کھانا اگر پاکیزہ برتنوں میں پکایا جائے تو بہرحال حلال ہے ۔ مطلب یہ ہے اہل کتاب میں اور تم میں بتائن نہ رہنا چاہئے اور حتی الوسع کوشش کرنی چاہئے کہ تم اور وہ لوگ جن میں اکثر باتیں مشرک ہیں مل جل کر رو ، تاکہ باہمی موانست سے وہ اسلام کی برکات سے واقف ہوں اور اختلاف قطعی ختم ہوجائے ، اہل کتاب کی عورتوں سے ازدواجی تعلقات رکھنا بھی درست ہے کیونکہ بہت سی باتوں میں اصولا وہ ہمارے ساتھ ہیں اور اکثر روایات وتہذیب میں کوئی وجہ اختلاف نہیں حشر ونشر کو وہ مانتے ہیں فرشتوں کو تسلیم کرتے ہیں انبیاء ان کے اور ہمارے قریبا مشترک ہیں ، توحید کے بھی قائل ہو سکتے ہیں ، کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی سوائے ایک ذات کی پرستش کے کسی کا ذکر نہیں اور یہی وہ چیزیں ہیں جو اتحاد خیال کو پیدا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے ازدواجی تعلقات میں عملا کوئی دشواری پیدا نہیں ہوتی ۔ اسلام کی غرض وغایت یہ ہے کہ مسلمان ہر ممکن طریق سے کفر کو اپنے قریب لانے کی کوشش کرے اور دنیا کو بتائے کہ وہ اختلاف دین کو محض اختلافات رائے کا درجہ دیتا ہے اور اس کے نزدیک عقیدہ کا اختلاف بغض وعناد کا ہرگز باعث نہیں ۔ حل لغات : المحصنت : پاک دامن عورتیں ۔
Ayahs 5:6–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

مسلمانو ! جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو اور اپنے سروں پر مسح کرلیا کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں (ف 1) تک (دھولیا کرو) اور اگر ناپاک ہو تو غسل کرلیا کرو اور جو بیمار ہو یا مسافریا کوئی تم میں سے پاخانہ سے آئے یا تم نے عورتوں کو چھوا اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی (ف 1) سے تیمم کرلو ۔ اس مٹی میں سے اپنے منہ اور ہاتھ مل لیا کرو ۔ خدا تم پر مشکل رکھنا نہیں چاہتا ۔ لیکن اللہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تم پر اپنا احسان پورا کرنا چاہتا ہے شاید تم شکر گزار ہوجاؤ ۔

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور خدا کا احسان جو تم پر ہے اور اس کا وہ وعدہ جو اس نے تم سے لیا ہے یاد کرو جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو ۔ اللہ دلوں کی بات جانتا ہے ۔

ٹخنوں تک : (ف 1) وضو کی تفصیلات اس لئے بیان کی ہیں کہ سابقہ مذاہب میں عبادت کے لئے یہ طریق نظافت مذکور نہیں ، وضو سے جس طرح میں بالیدگی اور ایک خاص نوع کی روحانی مسرت محسوس ہوتی ہے یہ مقتضی تھی کہ اسے شرط عبادت قرار دیا جائے ، پانچ وقت وضو کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان حد سے زیادہ پاک اور ستھرا رہنے پر مجبور ہے ۔ اعضاء ظاہر کے ہر وقت پاک رہنے سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جراثیم اثر نہیں کرتے ۔ شرط عبادت اس لئے قرار دیا ، تاکہ طبیعت میں ایک خاص قسم کی آمادگی پیدا ہوجائے اور مسلمان ظاہر و باطن کے ساتھ خدا کے سامنے جھک جائے ، وضو کے مسائل میں اہم اختلاف یہ ہے پاؤں دھوئے جائیں یا ان پر مسح کیا جائے ، ۔ اصحاب امامیہ مسح کے قائل ہیں اور جمہور علماء غسل کے ، بات یہ ہے کہ ” ارجلکم “ کا لفظ محل نزاع ہے ، حضرات تشیع اسے ” فامسحوا “ کے ماتحت خیال کرتے ہیں اور جمہور علماء ” فاغسلوا “ کے ، دونوں کے دلائل کتب تفسیر میں مذکور ہیں اور دونوں محل نظر وبحث ۔ قرآن حکیم کا انداز بیان اہل السنت کی تائید میں ہے کیونکہ (آیت) ” الی الکعبین “ ٹخنوں کی تقلید مسح کی صورت میں بالکل مہمل ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ (آیت) ” وامسحوا برء وسکم “ میں الی القفاء وغیرہ کی کوئی قید مذکور نہیں ، کیونکہ مسح میں صحیح تعین اکثر دشوار ہوتی ہے ۔ البتہ یہ محل غور ہے کہ ” ارجلکم “ کو خواہ مخواہ کیوں ” وامسحوا “ کے سیاق میں ذکر کیا ۔ غالبا اس کی دو وجہ ہیں ، ایک تو یہ کہ عبادت کی موسیقی قائم رہے اور قرآن حکیم کے مخصوص ترنم میں فرق نہ آئے ۔ اور یا یہ کہ پاؤں دھونے میں زیادہ اہتمام نہ کیا جائے اور پاؤں کا غسل بمنزلہ مسح کے ہو ، عام طور پر عادت یہ ہے کہ لوگ پاؤں دھونے میں زیادہ اسراف سے کام لیتے ہیں ۔ (ف 1) تیمم کا ذکر ہے اور بات کو اسلام میں تکلف وتخرج قطعا موجود نہیں ، تفصیل کے لئے دیکھو اوراق گزشتہ ۔ حل لغات : المرافق : کہنیاں ۔ جنب : ناپاک ناپاک ۔ جنبی الغائط : جائے ضرور ۔
Ayahs 5:8–9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

مومنو ! اللہ کے لئے انصاف کے ساتھ گواہی دینے کو کھڑا ہوجایا کرو اور کسی قسم کی عداوت تمہیں اس امر پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف نہ کرو ، انصاف کرو یہی بات تقوی کے قریب ہے اور اللہ سے ڈرو ، خدا تمہارے کاموں سے خبردار ہے ، (ف 2) ۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

ایمان دار اور نیک اعمال لوگوں کو خدا نے وعدہ دیا ہے کہ ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں احصائے نعمت کے بعد مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بندے بنے رہیں اور یہ کہ کسی حالت میں بھی عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ دیں ۔ حل لغات : شنان : بغض وعداوت :
Ayah 5:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں اور انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں ‘ وہی دوزخی ہیں (ف 1)

(ف 1) ان آیات کفر و ایمان کے مال کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مومن ” اجر عظیم “ اور مغفرت و بخشش کا مستحق ہے اور کافر ومنکر دوزخ و جہنم کا ، اس لئے کہ دنیا میں مومن نے اپنے اعمال سے اور ایمان مستحکم سے ہمیشہ حصول جنت کی کوشش کی ہے اور کافر تکذیب و انکار کی وجہ سے آتشکدہ جحیم کے قریب ہوتا گیا ہے پس یہ ضرور تھا کہ آخرت میں یہ تفاوت راہ بین اور متمائز ہو ۔ بات یہ ہے کہ ایمان وعمل صالح مرد مومن میں ایک زبردست قوت حیات پیدا کردیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی آخروی زندگی کامیابی و کامرانی سے گزرتی ہے اور کفر انکار چونکہ نام ہے مقدان عیش کے اسباب موجہ کا ، اس لئے لازما دوزخ و جہنم کی زندگی ہی کافر کے لئے سزاوار ہے ۔ حل لغات : یبسطوا الیکم : بسط اللہ یدہ کے معنی دراز دستی کے ہیں ۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

مومنو ! خدا کا احسان جو تم پر ہوا یاد کرو جب کہ قوم (قریش) نے تمہاری طرف دست درازی کا فیصلہ کیا پھر اس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیئے اور اللہ سے ڈرو ۔ اور مومنین کو خدا ہی پر بھروسہ چاہئے (ف 1)

توکل کی حیران کن قوت تاثیر : (ف 1) مسلمان جب تک مسلمان رہیں اور خدا پر زبردست اعتماد رکھیں ، غیب سے ان کی اعانت کی جاتی ہے اور قدرت اپنے سارے انتظام کے ساتھ ان کی مدد پر کمر بستہ ہوجاتی ہے ۔ کفار نے ہمیشہ کوشش کی کہ اسلام کے چراغ ہدایت کو بجھا دے ، مگر اللہ نے اس کی روشنی کو اور زیادہ پرانوار بنا دیا ۔ بنی نضیر کے یہودیوں نے ایک دفعہ حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ اجمعین کو فریب سے مار ڈالنا چاہا ، مگر آپ پیغمبرانہ فراست سے معاملہ کی اصلیت کو پاگئے اور بچ گئے ، مقام عسفان میں ایک دفعہ آپ ﷺ وظیفہ نماز میں مشغول تھے کہ اہل شرک کے تیور بدلے مگر اس وقت بھی تدبیر الہی نے ان کو ناکام رکھا ، غزوہ ذات الرقاع سے واپسی کے وقت آپ ﷺ ایک درخت کے نیچے سستانے کے لئے بیٹھے تھے کہ جھپکی آگئی ، غورث بن حارث وہاں تھا ، اٹھا اور آپ ﷺ کی تلوار ہاتھ میں لے لی ، کہنے لگا کہیئے اس وقت کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا ” اللہ “ ۔ اس زبردست ایمان و توکل کو دیکھ کر گھبرا گیا ، کیونکہ ایسے اضطراب کے وقت ضبط نفس کی اس سے بہتر مثال پیش کرنا ناممکن ہے غرضے کہ ایمان و توکل کی قوتیں بےپناہ ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ایمان و توکل جمود وبے عملی کا خاکہ نہ ہو ، بلکہ نام ہو زندگی اور حیات دائمی کا ۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اللہ بنی اسرائیل سے عہد (ف 2) لے چکا ہے اور ہم نے ان میں بارہ سردار اٹھائے اور اللہ نے کہا کہ میں تمہاری ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھو اور زکوۃ دو اور میرے رسولوں کو مانو اور ان کی مدد کرو اور خدا کو قرض حسنہ دو تو میں تم سے تمہاری بدیاں دور کر دوں گا اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، پھر اس کے بعد جو کوئی تم میں کافر ہوگا ‘ وہ بیشک سیدھی راہ سے بھول گیا ۔

(ف 2) اس آیت میں اسی حقیقت کا اعادہ ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام گروہوں سے نصرت واعانت کا وعدہ تھا بشرطیکہ وہ دین قیم کی اطاعت اختیار کریں اور ایمان وعمل کی سیدھی راہ سے بھٹک نہ جائیں ۔ حل لغات : نقیب : صاحب اسرار سردار ، قوم میں ذمہ دار آدمی ۔ وعزرتموھم : مادہ تعزیر ، تائید کرنا ، اور قوت بازو رہنا ۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

سو ان کی عہد شکنی کے سبب ہم نے لعنت کی اور ان کے دل سیاہ کردیئے کہ وہ ان کو ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور جو نصیحت ان کو ملی تھی اس کا ایک حصہ بھول گئے تو ہمیشہ ان کی ایک خیانت سے پاتا رہا مگر تھوڑے ان میں ایسے نہیں سو ان کو کر اور انہیں معاف رکھ ، بیشک خدا معاف کرنے والوں کا چاہتا ہے (ف 1)

(ف 1) یہودیوں کے مسلسل تمردوطغیان کی وجہ سے دلوں میں بےحسی اور مداہنت کے جذبات پیدا ہوگئے جنہیں قرآن (آیت) ” وجعلنا قلوبھم قاسیۃ “۔ کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے احباء وعلماء نے بےدریغ تورات وصحف انبیاء کو بدلنا شروع کیا اور کوشش کی کہ احکام ونواہی کو حسب اغراض ڈھال لیا جائے (آیت) ” لا تزال تطلع علی خآئنۃ “ کے معنی یہ ہیں کہ عہد نبوی ﷺ میں ایسے لوگ موجود تھے جو دیانت داری کے ساتھ تورات میں خیانت کا ارتکاب کرتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اس دین کی عظیم خدمت بجا لا رہے ہیں ۔ (آیت) ” فاعف عنھم واصفح “ ۔ سے مراد یہ ہے کہ محمد ﷺ چونکہ پیکر عفو ورحم ہیں ، اس لئے باوجود ان کی غداریوں اور افتراپردازیوں کے ہمیشہ اغماض وچشم پوشی سے کام لیتے ہیں ۔ تحریف بائیبل کے متعلق علماء کا اختلاف ہے کہ معنوی ہے یا لفظی ، بعض معنوی کے قائل ہیں ، کیونکہ ان کے نزدیک انتہائی بدعملی کے باوجود بھی کتابیں نہیں بدلی جا سکتیں البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ تاویلات فاسدہ سے کتاب کی اصل روح کو تبدیل کردیا جائے ۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ معنوی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ یہ تبدیلیاں بھی موجودہ تورات میں موجود ہیں اور اس کے کئی اسباب ہیں : 1۔ بائیبل کی زبان کا زندہ نہ رہنا ۔ 2۔ یہود کی تباہیاں ۔ 3۔ بخت نصر کا تمام صحف انبیاء کو سپرد آتش کردینا ۔ 4۔ ہمہ گیر جہالت ۔ اور ان سب اسباب کو قرآن حکیم کے جامع الفاظ میں قساوت قلبی سے تعبیر کرسکتے ہیں کیونکہ جب تک دلوں میں مذہبی حس موجود ہے ، کتاب سینوں میں محفوظ رہتی ہے ، اس کی زبان زندہ ہے اور کوئی عنصر اسے تباہ کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا ۔ حل لغات : خآئنۃ : خیانت یا خائن گروہ ۔
Ayahs 5:14–15

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو کہتے ہیں کہ ہم نصارے ہیں ان سے ہم نے عہد لیا تھا سو وہ بھی اس نصیحت کا جو ملی تھی ایک حصہ بھول گئے سو ہم نے ان کے فرقوں کے درمیان روز قیامت تک دشمنی اور کینہ لگا دیا ہے اور عنقریب (ف 1) خدا انہیں اس سے آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے ۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب ہمارا رسول ﷺ تمہارے پاس آیا ہے کتاب کی بہت سی باتیں جو تم چھپاتے تھے ، تم پر کھولتا ہے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے خدا سے تمہارے پاس روشنی اور کھلی کتاب آئی ہے (یعنی قرآن)

اغراء عداوت : (ف 1) عیسائی بھی یہودیوں کی طرح اصل پیغام کو چھوڑ بیٹھے اور لاطائل بت پرستانہ مسائل میں الجھ گئے اور مذہب یہ قرار دیا کہ یہودیوں کی مخالفت کی جائے نتیجہ یہ ہوا کہ یہودی بھی عیسائیوں کے خلاف دل میں کینہ اور بغض رکھنے لگے ۔ قرآن کریم نے اس آویزش کا نام اغراء عداوت وبغض رکھا ہے ۔ (آیت) ” الی یوم القیمۃ “ ۔ سے مراد یہ نہیں کہ یہ دونوں قیامت تک باقی بھی رہیں گے بلکہ مدت سے کنایہ ہے کیونکہ (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “ کے ماتحت ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام کی عالم افروزروشنی ساری دنیا کو جگمگا دے گی ۔
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

اس کتاب سے خدا اسے جو اس کی مرضی کے تابع ہے ، سل امتی کی راہیں دکھلاتا ہے اور اپنے حکم سے انہیں تاریکیوں سے روشنی میں لاتا ہے اور انہیں راہ راست دکھلاتا ہے (ف 2)

روشنی کا لیمپ : (ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ قرآن روشنی کا لیمپ ہے جو جہل وتعصب کی تاریکیوں سے نکلتا ہے اور علم ورواداری کی پر نور وادیوں میں جگہ دیتا ہے یہی وہ روشنی ہے جو صراط مستقیم کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے اور یہی وہ پیغام ہے جس کی لمعانی سے دل کے تمام اندھیرے کافور ہوجاتے ہیں ۔ حل لغات : البغضآء : دشمنی ۔ سبل : جمع سبیل ۔ راہ ۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بیشک وہ کافر ہیں جو مسیح ابن مریم (علیہا السلام) کو اللہ کہتے ہیں ، تو کہہ اگر اللہ مسیح ابن مریم (علیہا السلام) اور ان کی ماں کو اور ان سب کو جو زمین میں ہیں ہلاک کرنا چاہے تو اس کے سامنے کون کچھ اختیار کرسکتا ہے ؟ اور آسمان اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ بھی ہے سب کا بادشاہ خدا ہی ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے (ف 1)

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسیح ابن مریم (علیہا السلام) کو اقنوم اور خدا ماننا نرا وہم اور کفر ہے کوئی سمجھ دار انسان اس عقیدے کو قبول نہیں کرسکتا ، کیونکہ خدا ساری دنیا کا مالک ہے ، چاہے تو چشم زدن میں مسیح (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کے ماننے والے تمام لوگوں کو تباہ کر دے اس کی شان جلالی کے سامنے کون ہے جواب کشائی کرسکے ۔ کیا اس کے بنائے ہوئے قانون ہمہ گیر نہیں ؟ کیا یہ درست نہیں کہ مسیح (علیہ السلام) بھی باوجود دعوئے پیغمبری ومصطفائی کے اس کے بنائے ہوئے تمام قاعدوں کا پابند ہے ، جو مسیح (علیہ السلام) ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے کھاتا اور پیتا ہے اور سارے حوائج بشری سے متصف ہے اور جو ہمہ احتیاج ہے وہ بےنیاز کیسے ہو سکتا ہے ؟ اسے رب اور اقنوم اول کیونکر کہا جائے ۔ بات یہ ہے کہ عقیدت ونیاز مندی میں غلو کی وجہ سے لوگوں نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا شریک وسہیم قرار دیا ورنہ وہ خود ہمیشہ ” عبودیت “ اور ” غلامی “ پر ہی نازاں رہے ۔ دوسری صدی مسیحی تک لوگ توحید کے قائل رہے ۔ تیسری صدی مسیحی ہیں جب قسطنطین اعظم بعض سیاسی مصالح کی بنا پر عیسائی ہوگیا تو رومی علم اوصنام کے شیوع کے باعث عیسائی لٹریچر میں تثلیث واقانیم کی بحثیں آنے لگیں اور پھر آہستہ آہستہ تثلیث کو مذہبی عقیدہ قرار دے دیا گیا ۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں (ف 2) تو کہہ پھر وہ تمہارے گناہوں کے سبب تمہیں عذاب کیوں کرتا ہے ۔ نہیں تم انسان ہو اس کی خلقت میں سے ۔ وہ جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے عذاب کرتا ہے اور آسمان اور زمین اور انکے درمیان اللہ ہی کی سلطنت ہے اور اسی کی طرف جانا ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں یہودونصاری کے پندار مذہبی کا ذکر ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے نہایت مقرب خیال کرتے ۔ اور اس وجہ سے اسلام کی برکات سے تمتع اندوز ہونے سے قاصر رہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم ہرگز کوئی امتیازی شان نہیں رکھتے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا جہان کی ذلتیں تمہارے شامل حال ہیں ، خدا کا تقرب علو عظمت کا مترادف ہے ، یہ ناممکن ہے کہ کوئی قوم خدا کے ہاں معزز ہو اور پھر دنیا میں اس کے لئے کوئی نعمت نہ ہو اور وہ حقارت وغلامی کی زندگی بسر کرے ۔ حل لغات : ابنآء اللہ ۔ خدا کے بیٹے ۔ احبآؤہ : اسکے دوست ۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب : ہمارا رسول (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کو تمہاری طرف اس وقت آیا ہے جبکہ رسول آنے موقوف ہوگئے تھے ، تاکہ تم (یہ) نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی اور ڈر سنانے والا نہیں آیا پس تمہارے پاس خوشی اور ڈر سنانے والا آگیا اور اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔ (ف 1)

(ف 1) فترۃ کے معنی السکون بعد الحدۃ کے ہیں ، یعنی مسیح (علیہ السلام) تک دمادم رسو آتے رہے اور تقریبا ساڑھے چھ سو سال تک پھر کسی کو خلعت بعثت سے نہیں نوازا گیا ، مقصد یہ تھا کہ عالم انسانیت پر پوری تاریکی چھا جائے اور لوگ بےچینی اور اضطراب کے ساتھ اس آفتاب نبوت کا انتظار کریں جو ایک دم آکر کفر وحبل کی تاریکیوں کو روشنی ونور سے بدل دے ۔
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم تم خدا کی وہ نعمت جو تم پر ہے ‘ یاد کرو ، اس نے تم میں نبی (ف 2) پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جہاں میں کسی کو نہ دیا تھا ۔

نبوت اور بادشاہت : (ف 2) یہ واقعہ اس لئے بیان کیا ہے تاکہ حضور ﷺ کو معلوم ہو کہ بنی اسرائیل ہمیشہ سے بزدل اور دون ہمت ہیں ۔ ان کی طرف سے اگر گرمجوشی کا اظہار نہیں ہوا تو مضائقہ نہیں آپ بدستور دعوت وتبلیغ کے فرائض ادا کئے جائیں ۔ اس آیت میں بتایا ہے کہ نبوت وبادشاہت اللہ کے زبردست انعام ہیں جن سے بنی اسرائیل کو افتخار بخشا گیا ، مگر یہ ہیں کہ پستی اور ذلت پر قانع ہیں ، حرکت واقدام کی صلاحیتیں قطعا مفقود ہیں اور نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض وبرکات سے استفادہ کریں ۔ نبوت کا مقصد دراصل دنیا میں صحیح اور عادلانہ بادشاہت کا قیام ہے ، ایک نبی کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ افراد واشخاص کی تمام مخفی طاقتوں کو روبکار لائے اور انہیں اس قابل بنا دے کہ وہ دنیا میں ٹھاٹھ اور پاکیزگی کی زندگی بسر کرسکیں ۔ حل لغات : فترۃ : انقطاع : انبیآء : جمع نبی ۔
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے قوم پاک زمین میں جو خدا نے تمہارے لئے رکھ دی ہے داخل ہوجاؤ اور اپنی پیٹھ کی طرف الٹے نہ ہٹو کہ (کہیں (ف 1) تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ ۔

(ف 1) اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو دعوت جہاد دی اور فرمایا کہ اگر خزاں وناکامی سے بچنا چاہتے ہو تو مقام رایما میں بےدریغ داخل ہوجاؤ ، مقصود یہ تھا کہ قوم میں بادشاہت وملوکیت کے جذبات پیدا ہوں اور وہ حاکمانہ زندگی بسر کرنا سکھیں ، (آیت) ” کتب اللہ لکم ُ “ سے مراد فرضیت جہاد ہے ، وعدہ نہیں ۔
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! وہاں زبردست لوگ رہتے ہیں اور جب تک وہ وہاں سے نہ نکلیں ‘ ہم ہرگز وہاں داخل نہ ہوں گے ، پھر اگر وہاں سے نکلیں تو ہم داخل ہوں گے (ف 2)

(ف 2) بنی اسرائیل چونکہ کئی سال تک غلام رہے تھے اس لئے تاب مقاومت جاتی رہی تھی ، جب انہوں نے دیکھا کہ رایما کے رہنے والے ہم سے زیادہ زور آور اور قوی ہیں تو لڑنے سے انکار کردیا ۔ بات یہ ہے کہ غلامی کے اثرات دیر تک قوموں اور نسلوں کو متالم بنائے رکھتے ہیں اور عرصہ تک احساس آزادی بیدار نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کی ترغیب وترتیب کے ان میں جرات اقدام پیدا نہیں ہوئی ۔
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

جن کو خوف تھا ان میں سے دو شخصوں نے جن پر خدا نے فضل کیا تھا ، کہا کہ تم یکبارگی ان پر حملہ کر کے (یرجو) کے دروازہ سے گھس جاؤ ، پھر جب تم دروازہ میں گھسو گے تو تم ہی غالب رہو گے اور اگر مومن ہو تو خدا پر بھروسہ رکھو (ف 3) ۔

(ف 3) یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا صرف یہ دو آدمی تھے جو مجاہدانہ ولولوں کے ساتھ میدان جنگ میں آکودے ۔ (آیت) ” وعلی اللہ فتوکلوا “ سے مراد یہ ہے کہ خدا پر پورا بھروسہ اور اعتماد مترادف ہے جذبہ جہاد کے وہ لوگ جو کفر کے خلاف توکلا علی اللہ “ صف آراء ہوجاتے ہیں ‘ وہی لوگ غلبہ ونصرت سے دوچار ہوتے ہیں اور وہ جو قلت و کثرت اسلحہ و سامان کے جھگڑوں میں مصروف رہتے ہیں ان کے لئے کامیابی کا کوئی امکان نہیں ۔ حل لغات : ملوک : جمع ملک بمعنی بادشاہ ۔ صاحب اختیار ۔ جبارین : جمع جبار ۔ زبردست ، توانا اور قوی ۔ الباب : شہر کا دروازہ ۔
Ayahs 5:24–25

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم اس میں کبھی ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک وہ وہاں ہیں ، سو تو اور تیرا خدا وہاں جا کے لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں (ف 1)

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب ! میں فقط اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا مختار ہوں ، سو تو ہم میں اور اس فاسق قوم میں جدائی کر دے ۔

(ف 1) بدبختی اور شقاوت کی یہ انتہائی مثال ہے کہ قوم اس رکھائی سے خدا کے پیغمبر (علیہ السلام) کو جواب دیتی ہے ان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ خدا اپنے فرستادوں کو ذلت ورسوائی سے کبھی دوچار نہیں ہونے دیتا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی دعوت وشمولیت کے معنی یہ تھے کہ بنی اسرائیل قید غلامی سے نکل کر اوج حکومت پر جلوہ آراء ہوجائیں ، مگر وہ لوگ جو ذلت و حقارت کی تمام منزلیں طے کرچکے ہوں کہاں اس درجہ فریس ودانا ہو سکتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ غلامی جرات وجسارت ہی کو غارت نہیں کرتی عقل وہوش کو بھی مٹادیتی ہے ۔
Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

خدا نے فرمایا ‘ تو وہ زمیان ان پر چالیس برس تک حرام ہوئی کہ زمین میں سرمارتے پھریں سو تو فاسق لوگوں پر افسوس نہ کر (ف 2)

(ف 2) آزادی و حکومت کے مواقع سے ایک لمحہ غفلت بعض دفعہ برسوں تک کی مسلسل غلامی پر منتج ہوتی ہے بنی اسرائیل نے جب جہاد سے انکار کیا تو انہیں آبادیوں میں سے دور جنگل میں چالیس سال کے لئے حیران وسرگردان چھوڑ دیا گیا تاکہ انکار وتمرد کی تلخیاں برداشت کریں اور یہ محسوس کریں کہ حکومت واختیار خدا کی زبردست نعمت ہے اور نیز یہ کہ اس طویل عرصے میں بیکار اور مردہ صفت لوگ مٹ مٹا جائیں گے اور آئیندہ نئی نسل مجاہد اور جفاکش پیدا ہو گویا چالیس برس کسی قوم کی ٹرینگ اور تربیت کے لئے ہیں جو بالکل مردہ ہوچکی ہو اس کے بعد ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ پامردی سے جہاد میں حصہ لیں گے ، حل لغات : یتیھون : مادہ تیہ ، حیرانی وسرگردانی ۔ قربان : نیاز ، ہر وہ عبادت جو انسان کو خدا کے قریب کر دے ۔
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا سچا احوال اپنی قوم کو پڑھ کر سنا ، جب وہ دونوں قربانیاں لائے تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی وہ بولا کہ میں تجھے ضرور مار ڈالوں گا اس نے کہا کہ اللہ تو فقط ادب والوں ہی کی قربانی قبول کیا کرتا ہے (ف 1)

پہلا انتقام : (ف 1) حسد وبغض پرانا جذبہ ہے ، قابیل نے جب دیکھا کہ اس کی قربانی خدا کے حضور میں مقبول نہیں ہوئی تو مارے غصے کے بےتاب ہوگیا ، کہنے لگا میں تمہیں ضرور قتل کر دوں گا ، ہابیل نے کہا ، اگر چاہتے ہو کہ تمہاری عبادتیں اور نیازیں اللہ کے ہاں قبول ہوں تو اخلاص وتقوی پیدا کرو ۔
Ayahs 5:28–30

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر تو اپنا ہاتھ میری طرف مجھے مارنے کو چلائے گا تو میں اپنا ہاتھ تیرے مارنے کو نہ چلاؤں گا میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں (ف 2)

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو اپنا گناہ اور میرا گناہ حاصل کرکے لے جائے تاکہ تو دوزخیوں میں ہوجائے اور ظالموں کی یہی سزا ہے ۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

پھر اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے مارنے پر راضی کیا تب اس نے اس کو قتل کیا اور زیاں کاروں میں ہوگیا ۔

عدم تشدد : (ف 2) ہابیل نے جب دیکھا کہ تیور اچھے نہیں تو پورے تقوی و استقلال سے کہا کہ دیکھو میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا اور کوشش کروں گا کہ تمہیں ظلم وسفا کی کا موقع دوں ۔ بات یہ تھی کہ ہابیل جہاں ایک متقی انسان تھا وہاں اس کے دل میں اخوت و برادری کے جذبات بھی موجزن تھے ، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ہاتھ بھائی کے خون سے آلود ہوں (آیت) ” لاقتلنک “۔ سے مراد یہ ہے کہ ہابیل نے مدافعت تو کی مگر نقصان نہیں پہنچایا ، کیونکہ ایسا عدم تشدد جس میں ظلم کے خلاف کوئی مدافعانہ کوشش نہ کی جائے اسلام میں جائز نہیں ۔ حل لغات : بسطت الی یدک : دست درازی کرنا ہاتھ اٹھانا ۔
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا کہ زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیونکر چھپائے تب وہ بولا افسوس میں اس کوے کے برابر بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپاتا پس شرمندہ ہوا (ف 1)

سنت تدفین : (ف 1) اسلام چونکہ دین فطرت اور خالص حق سے اس لئے ضروری ہے کہ اس کی ہر بات عدل کے ترازو میں تل کر نکلے اصول سے لے کر فروع تک ہر چیز میں ایک قدرتی نکھار ہو اور کوئی حصہ مذہب ایسا نہ ہو جسے انانی دماغ کا کرشمہ واختراع کہا جاسکے ، مردوں کے متعلق قدیم سے مختلف زاویہ ہائے نگاہ رہے ہیں ، قدیم مصری لاشوں کو مخفی کر کے خواب گاہوں میں بحفاظت تام رکھتے تھے ہندوؤں کا خیال ہے کہ لاش کو گھی وغیرہ ڈال کر جلا دیا جائے ، اسلام اس باب میں بالکل سادہ اور فطری طریق اختیار کرتا ہے یعنی تدفین ، کوے کا قصہ اس لئے بیان کیا ہے تاکہ ابن آدم کا ذہن فورا تدفین کی طرف منتقل ہو سکے چناچہ یہی ہوا ۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر کھ دیا کہ جو کوئی کسی کو بغیر معاوضہ یا بغیر ملکی فساد کے مارے گا تو ایسا ہے گویا اس نے سارے (ف 2) آدمیوں کو مارا اور جس نے ایک کو جلایا ، اس نے گویا سب کو جلایا ، اور ان کے پاس ہمارے رسول صاف حکم لا چکے ہیں ، پھر بھی ان میں اکثر ہیں کہ اس کے بعد بھی زمین میں دست درازی کرتے ہیں (ف 3)

(ف 2) (آیت) ” من اجل ذلک “ سے یہ مراد ہے کہ جب ابن آدم حسد وبغض کے جذبات سے متاثر ہو کر اپنے سگے بھائی کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے تو عام انسانوں کے لئے اس نوع کے اقدام میں کوئی باک نہ ہوگا ۔ لہذا ضروری ہے کہ انہیں اس کی اہمیت جتا دی جائے ، چناچہ ارشاد ہے کہ انسان کے خون کی قیمت نہایت گراں اور پیش بہا ہے ایک فرد کو قتل کرنا پوری قوم وامت کے قتل کے مترادف ہے اور اسی طرح کسی شخص کو مہلکات سے بچانا پوری ملت کو بچانا ہے ۔ (ف 3) (آیت) ” ولقد جآء تھم رسلنا “۔ سے یہودیوں کی مذمت مقصود ہے کہ یہ لوگ باوجود انبیاء کی زبان فیض التیام سے امن و عافیت کے برکات سننے کے اور باوجود قتل وسفک کے خلاف تعلیمات سے آگاہ ہونے کے پھر بھی اہل حق وصداقت سے الجھتے ہیں اور اسراف وظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ حل لغات : یبحث : مادہ بحث ، کریدنا تلاش کرنا ۔ یواری ، مصدرمواراۃ ، چھپانا ، سوء ۃ : امام راغب فرماتے ہیں : وکنی بہ سوءۃ عن الفرح کما قال بدت لھما سواتھما لیبدی لھما مادوی عنھما سواتھما ۔ احیائ : مصدر احیاء زندہ کرنا اور زندہ رکھنا اور بچانا ۔
Ayah 5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

وہ جو اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد کرنے کے لئے دوڑتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ قتل کئے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا جانب مقابل کے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں یا اس ملک سے دور کر دئیے جائیں ، یہ ان کی دنیاوی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے (ف 1)

(ف 1) اس آیت سے پہلے انفرادی قتل واقدام کی مذمت کی تھی اب یہ بتایا ہے کہ یہی جذبہ عصیان اگر فساد فی الارض کی صورت اختیار کرے اور لوگ دین قدیم کی مخالفت کے جوش میں امن و عافیت کے تمام طریقے چھوڑ دیں اور فتنہ وہلاکت کی آگ لگا دیں تو ضروری ہے کہ امام یا ہیئت حاکمہ انہیں سخت سے سخت سزا دے ، چاہے قتل کردے ، چاہے سولی پر چڑھا دے ، چاہے ہاتھ پاؤں آڑے ترچھے کاٹ دے ، اور چاہے ملک بدر کر دے ، اسے اختیار ہے کہ حالات وظروف کے ماتحت انہیں موزوں سزا دے ،
Ayah 5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر جو تمہارے ہاتھ پکڑنے سے پہلے توبہ کرلیں تو جانو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 2)

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ مجرم اگر عدالت سے پہلے پہلے گناہ سے تائب ہوجائے تو مواخذہ نہیں یعنی ہر گناہ کے بعد توبہ وانابت کے دروازے کھلے ہیں ۔
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

مومنو ! اللہ سے ڈرو اور اس کے طرف وسیلہ (ف 3) ڈھونڈھو اور اس کی راہ میں جہاد کرو شاید تمہارا بھلا ہو ۔

وسیلہ کیا ہے : (ف 3) اس آیت میں دعوت اتقاء ہے مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ تم تمام کے تمام متقی اور خدا ترس بن جاؤ اور خدا کے ہاں تقرب وتزلف کے تمام وسائل ڈھونڈو اور کوشش کرو کہ تمہیں اس کے حریم قدس تک رسائی ہوجائے اور وہ تمہیں اپنا پیارا اور محبوب بنا لے ، مگر سوال یہ ہے کہ وہ وسائل وذرائع کیا ہیں جو اس بارگاہ جلال تک ہم گنہ گاروں کو پہنچا دیں اور جن کے حصول کے بعد ابدی حیات اور زندگی جاوید عطا ہو ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر وہ سعی واقدام جو اعلاء حق کے لئے روبراء آئے اور بالخصوص جہاد فی سبیل اللہ کہ اس کے بعد خدا کی رضا کے دروازے از خود کھل جاتے ہیں ۔ حل لغات : مسرفون : مصدر اسراف ، زیادتی کرنا ۔ حدود جائزہ سے تجاوز کرنا ۔ الوسیلۃ : ہر وہ چیز جو تقرب میں آگے بڑھا دے یعنی تمام اعمال حسنہ ۔
Ayahs 5:36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو کافر ہیں اگر ان کے پاس وہ سب کچھ بھی ہو جتنا کچھ زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتا کہ اس قیامت کے دن عذاب کے بدلے میں دیں تو بھی ان کی طرف سے قبول نہ ہوگا اور ان کے لئے دیکھ دینے والا عذاب ہے (ف 1)

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ آگ سے نکلنا چاہیں گے اور نکل نہ سکیں گے اور ان کے لئے عذاب دائمی ہے ۔

(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ کفر وہ بندنصیبی ہے جس کی تلافی ساری کائنات دے کر بھی نہیں ہو سکتی ، وہ لوگ جو اس دنیا میں حقائق سے منہ پھیر لیتے ہیں ، حشر میں شفقت ورحمت کے چشموں کو سوکھا ہوا پائیں گے اور کوئی کوشش انہیں جہنم کے عذاب مقیم سے باہر نہ نکال سکے گی ۔
Ayahs 5:38–39

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور چور مرد اور چور عورت ان دنوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو ، ان کے فعل کی سزا اور اللہ کی طرف سے تنیبہہ (ف 2) ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جب نے اپنے قصور کئے پیچھے توبہ کی اور سنور گیا تو اللہ اس کو معاف کرتا ہے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

قطع ید کی حکمت : (ف 2) اسلامی قانون تعزیرات کا مقصد یہ ہے عام انسانوں کو مضرت ونقصان سے بچایا جائے اور اگر اس سلسلے میں چند افراد کڑی سے کڑی سزا بھی جھیل لیں تو مضائقہ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرون اولی میں جرائم کی رفتار تقریبا معدوم ہے اور جو چند ایسی مثالیں ملتی ہیں جن کی اخلاقی لحاظ سے مذموم کیا جاسکتا ہے تو وہاں بھی مذامت واعتراف کا یہ شان دار مظاہرہ ہے کہ مجرم خود عدالت میں آگیا ہے تاکہ اسے موزوں ومناسب سزا دی جائے ، یہ درست ہے کہ اسلامی سزائیں ذرا سخت ہیں مگر کیا سختی ہی برکات وسعادات کا موجب نہیں ، بات یہ ہے کہ اگر ایک شخص ہاتھ کٹوا کرنا کارہ ہوجاتا ہے تو سیکڑوں انسان اس کی وجہ سے عبرت حاصل کرتے ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا سراسر ناانصافی ہے کہ اسلامی سزائیں ازمنہ وحشیہ کی یادگار ہیں ، کیونکہ وحشت تو وہ ہے جس کی وجہ سے دنیا میں مظالم کی کثرت ہو ۔ نہ وہ نظام جو جرائم کو بیخ وبن سے اکھاڑ دے ، آج یورپ کو اپنی انسانیت پر ناز ہے مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہاں تمام دنیا سے زیادہ جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے ۔ یہ ٹھیک ہے انسانی عزت و حرمت کا تقاضا ہے کہ زیادہ ہولناک سزا دی جائے ، مگر کیا سوسائٹی کی عزت و حرمت سے زیادہ بیش قمیت نہیں ، یہ یاد رہے کہ سزا دینا کافی نہیں ، ساتھ ساتھ تربیت بھی ہونا چاہئے تزکیہ وتطہیر کو چھوڑ کر صرف تعزیز اکثر مضر پڑتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اخلاق کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور تعزیرات کو مزہب کے ماتحت رکھا ہے تاکہ لوگوں میں روحانیت کی وجہ سے اعلی درجے کی عادات پیدا ہوں اور وہ گناہوں سے از خود نفرت کرنے لگیں ۔ حل لغات : عذاب مقیم : عذاب دائم ۔ نکالا : سزا ۔
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے ، وہ جسے چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے (ف 1)

(ف 1) بات یہ ہے کہ اسلام چونکہ ایک کامل اور ہمہ گیر دستور العمل کا نام ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ اس میں اخلاق وروحانیت کے پہلو بہ پہلو سیاست ملکی اور تعزیرات کی بھی بہ تفصیل بیان کیا جائے اور چونکہ اس کا انتساب اس ذات گرامی سے ہے جو پاتال سے لے کر طوبی تک حکمران ہے اس لئے لازما اس میں ہمہ گیری کا رنگ نمایاں نظر آنا چاہئے اور یہی وہ چیز ہے جو اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز ومتبائن قرار دیتی ہے ۔ (آیت) ” لہ ملک السموت والارض واللہ علی کل شیء قدیر “۔ میں اسی وسعت و تفصیل کی طرف اشارہ ہے یعنی چونکہ خدائے اسلام کی قدرتیں اور اختیارات لامحدود اور وسیع ہیں اس لئے وہ دین بھی جو سچا اور حقیقی دین ہے ، اسی تناسب سے ہمہ گیر اور وسیع ہونا چاہئے ۔