5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 5:1–5

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! (اپنے) عہدوں کو پورا کرو تمہارے لئے چرانے والے جانور حلال کردیئے گئے ہیں سوائے ان کے جن کا تم سے ذکر کیا گیا مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا بیشک اللہ جیسا چاہتے ہیں حکم دیتے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹہ دیا گیا ہو اور نہ ان لوگوں کی جو بیت الحرام کے ارادے سے جا رہے ہوں (اور) اپنے رب کے فضل اور رضامندی کے طالب ہوں اور جب تم حلال ہوجاؤ (احرام سے باہر آجاؤ) تو شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روک دیا تھا تمہارے لئے حد سے نکل جانے کا سبب نہ بنے اور نیکی اور پرہیزگاری میں اعانت کرو اور گناہ اور حد سے گزرنے میں مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو بلا شبہ اللہ سخت عذاب دینے والے ہیں

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

حرام کیا گیا تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر بوقت ذبح اللہ کے سوا کسی کا نام لیا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو ضرب لگنے سے مرجائے اور جو گر کر مرجائے اور جو ٹکر لگنے سے مر جائے اور جسے درندہ کھا گیا ہو سوائے اس کے کہ جس کو تم ذبح کرلو اور جو پرستش گاہوں پر ذبح کیے جائیں اور یہ کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے تقسیم کرو یہ سب گناہ ہیں آج کے دن کافر تمہارے دین سے ناامید ہوگئے پس ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور اسلام کو تمہارا دین پسند فرمالیا سو جو شخص بھوک سے بےتاب ہوجائے کسی گناہ کی طرف اس کا رجحان نہ ہو تو یقینا اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں فرمادیجئے کہ تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تمہارے سکھلائے ہوئے شکاری جانوروں نے پکڑا ہو تو جس طرح اللہ نے تم کو سکھایا ہے (شکار کرنا) اس طرح تم نے ان کو سکھایا ہو۔ جس شکار کو وہ تمہارے واسطے پکڑ رکھیں پس وہ کھاؤ اور اس پر (بوقت ذبح) اللہ کا نام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو یقینا اللہ بہت جلدی حساب لینے والے ہیں

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج کے دن تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی جب تم ان کو ان کے مہر ادا کردو تم ان کی بیوی بناؤ صرف شہوت رانی مقصود نہ ہو اور نہ خفیہ آشنائی ہو اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا تو یقینا اس کا (سارا) عمل ضائع ہوجائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا

رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 5 ۔ اسرار و معارف : ایفائے عہد : ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو عہد کرو اسے پورا کرو ، عقد کا معنی معاہدہ ہے جو ہمیشہ دو انسانوں دو جماعتوں دو ملکوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ عہد تو یکطرفہ بھی ہوسکتا ہے یہاں مفسرین کرام نے مختلف معانی مراد لئے ہیں مگر نتیجے کے اعتبار سے سب ایک ہیں اور سارے معاہدے اس میں آجاتے ہیں۔ وہ عہد جہالت اور قبل اسلام کے ہوں یا ظہور اسلام کے بعد کے نکاح کو بھی عقد اسی لیے کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان اللہ کے نام پر معاہدہ ہوتا ہے اس لے کر تجارت کے متعلق ہوں یا لین دین کے بارے جنگ اور صلح کا معاہدہ ہو یا کسی بھی موضوع پر اسے اپنی طرف سے پورا کرنے کی پوری کوشش کرو ! ہاں قبل اسلام کے وہ معاہدے جو شرعاً حرام قرار پاگئے یا ختم ہوگئے یا اسلام کے بعد مسلمان کوئی ایسا معاہدہ کرے جس پر عمل شرعاً جائز نہیں تو یہ معاہدہ ہی منعقد نہ ہوگا۔ باقی تمام معاہدے جن کو تین اقسام میں ذکر کیا گیا ہے۔ معاہدہ کی صورتیں۔ اول اللہ اور بندے کے درمیان یہ عقائد اور اتباع کا معاہدہ ہے۔ دوم بندے کا اپنے ساتھ یعنی اپنے لیے آنیوالے وقت کے لیے دیانتدار سے اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔ تیسرے انسان کا انسان کے ساتھ یہ نکاح سے لے کر حکومت کی حد تک تمام امور کو شامل ہے یعنی خوب سوچ سمجھ کر معاملہ کرو اور معاہدہ کرتے وقت عقل سے کام لو مگر جب کرچکے تو اب ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اسے پورا کرو تم نے اسی کے عظیم نام پر معاہدہ کیا ہے جس کے نام پر اس کی مخلوق تم پر حلال کردی گئی اور مویشی اور چوپائے تم ذبح کرکے کھاتے ہو کیا وہ مخلوق نہیں ہیں اونٹ بکری گائے بھینس وغیرہ یا ان کے مشابہ جنگلی جانور ہرن اڑیال نیل گائے وغیرہ یہ صرف اللہ کے نام پر حلال ہوتے ہیں اور سب حلال ہیں سوائے ان کے جن کے بارے تمہیں روک دیا گیا ہے یعنی اصل شے میں اباحت ہے جب تک شرعاً اس کی حرمت ثابت نہ ہو حرام نہ ہوگی ہاں اگر احرام باندھے ہوئے ہوگے حج کا ہو یا عمرے کا۔ تو شکار کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ ایفائے عہد کے ساتھ ایمان کا ذکر اور فوراً بعد حلال و حرام کی بحث اس بات پہ بھی دلالت کرتی ہے کہ معاہدہ چھوٹا ہو یا بڑا دو انسانوں کے درمیان ہو یا دو حکومتوں کے درمیان ، تجارتی ہو یا سیاسی اسے نباہنے کے لیے ایمان شرط ہے اور جب تک کافر کی طرف سے عہد شکنی نہ ہو مومن اسے پورا کرنے کا پابند ہے پھر ایمان کی قوت کا مدار اکل حلال پر ہے یعنی حلال کھانے پر اگر دعوائے ایمان کے ساتھ رزق حلال نہیں ہوگا تو وہ قوت ایمانی جو ایفائے عہد کے لیے چاہئے حرام کھا کر پیدا ہونے سے رہی۔ اب حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ کو ہے جس نے تم پر بہائم یعنی وہ جانور چارپایوں میں سے بھی جیسے گدھا خچر وغیرہ جو قرآن یا حدیث سے تو حرام ثابت ہوچکے اور یا پھر ایسے جانور جن کا ذکر آگے آئے گا ان سے منع کیا ہے یہ بھی تو ایک معاہدہ ہے رب اور بندے کے درمیان اور وہ مالک ہے جیسے چاہے کرے جو جانور اللہ نے حلال کردئیے ہیں انہیں ذبح کرکے یا شکار کرکے کھانا کوئی حرج نہیں کہ اسکا حکم ہے اجازت ہے اس نے مٹی کو درختوں اور سبزے کی ، سبزے اور درختوں کو جانوروں کو انسانوں اور درندوں کی غذا بنا دیا تو وہ خود ہر چیز کا بنانے والا مالک ہے کس کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے ؟ سو حلال کھاؤ کہ ایمان پختہ نصیب ہو اور معاہدے نبھا سکو۔ اور شعائر اللہ یعنی ایسی چیزیں ایسی جگہیں ایسے احکام جو اللہ کی یاد دلاتے ہوں سب شعائر اللہ میں داخل ہوں گے۔ یعنی ایسی چیزیں یا اعمال جنہیں دیکھ کر کسی کو مسلمان کہا جائے یا جو اسلام کی نشانی بن جائے جیسے حرم بیت اللہ ، کوہ صفا ومروہ ، منی و عرفات۔ حرم نبوی ، اذان مسجد نماز اور سنت کے مطابق داڑھی یہ سب شعائر میں داخل ہوں گے۔ تو ان کی توہین کی دو صورتیں ہیں یا سرے سے مانا ہی نہ جائے جیسے داڑھی منڈا دی جاتی ہے حتی کہ علمانے ختنہ تک کو اس میں شمار کیا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی قوم نہیں کرتی یا پھر ادھورا کیا جائے اور یہ آیات فتح مکہ مکرمہ کے وقت نازل ہوئی تھیں۔ جب مسلمانوں کے دل کافروں سے سخت جلے ہوئے تھے یہاں ان پر مظالم ڈھائے گئے پھر مدینہ منورہ میں چین سے رہنے نہ دیا گیا یہود کی سازشیں اور مشرکین کا ظلم مل کر بدر و احد اور خندق کی جنگوں کی صورت اختیار کر گیا پھر انہیں حدیبیہ سے لوٹا دیا۔ آج وہ لوگ فاتح ہیں اور یہ ظالم مفتوح۔ وہ حق پر ہیں اور ان کی چند رسومات ہیں جن کی یہ پیروی کرتے ہیں اب قدرتی بات ہے ایسے لوگوں کو جب اللہ ان پر قابو دے تو کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے مگر ارشاد ہوا نہیں وہ مشرک تھے کافر تھے تم مومن ہو انہوں نے ظلم کیے تم انصاف کرو اور یہ واحد مذہب اسلام ہے جو انصاف میں دوست اور دشمن دونوں کو محروم نہیں کرتا ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں انصاف دیاجائے گا۔ اگر انہوں نے حرم کی اور حرمت والے مہینے کی پرواہ نہیں کی تو تم تو مسلمان ہو تمہارے لئے تو شعائر اللہ کی حرمت اور احترام ضروری ہے ایسے ہی حرمت والے مہینے کا بھی مگر تب سے اب تک یہود کی ایجاد کردہ شیعہ نامی تحریک بارہا اس ظلم کی مرتکب ہوچکی ہے ورنہ مسلمان کبھی اس کا حوصلہ نہیں کرتے اور نہ حرمت والے مہینوں کی بےحرمتی ہونے پائے جو چار تھے۔ شوال۔ ذی قعدہ۔ ذی الحجہ اور رجب۔ ان میں جنگ وجدال حرام تھا یہ صورت بھی قبل الام سے آ رہی تھی جسے ابتداء اسلام نے بحال رکھا مگر بعد میں جمہور علماء کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ نیز حرم میں قربانی کے لیے لئے لائے جانے والے جانور یا جن کے گلے میں بطور نشانی پٹہ ڈال دیا جاتا ہے کہ یہ قربانی ہے ان کی حرمت و احترام کا خیال رہے حالانکہ ان میں ایسے جانور بھی تھے جو مشرکین نے صحابہ سے چھینے تھے مگر وہ موقع مداخلت کا نہ تھا کہ وہ لوگ بھی تو اللہ کے گھر کو نکلے ہیں امن اور رزق کے طالب بن کر نیز اپنے رب کی خوشنودی تلاش کرنے کے لیے اس لیے مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ جب تک خود اللہ نہیں روک دیتے انہیں روکیں یا ان کے لیے تکالیف پیدا کریں اور انہیں پریشان کریں ، ہاں ! جب تم احرام کھول دو تو پھر حد جرم سے باہر شکار کرسکتے ہو۔ اور جس قوم نے تم پر زیادتی کی تھی حتی کہ عمرہ تک سے روک دیا تھا آج اگر اللہ سے قدرت پائی ہے تو اس غصہ میں انہیں حج وعمرہ سے منع نہ کرو کہ یہ زیادتی ہوگی اور تمہیں زیادتی زیب دیتی ہے نہ اللہ کو پسند ہے بلکہ ایک اصول اپنا لو کہ نیکی اور ہر پرہیزگاری ک کام میں تعاون کروگے۔ اور گناہ کے کام میں یا جس میں کسی پر زیادتی ہو رہی ہو ہرگز تعاون نہ کروگے اور یہ بہت ہی قیمتی اصول ہے کہ انسان طبعاً اور خلقاً ایک دوسرے کا مھتاج ہے غریب کو امیر سے غرض ہے تو امیر کا کام بھی غریب کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا سو اس طرح سے ہر انسان کو ایک خاص مزاج دے کر پیدا فرمایا ہے اور اس آدمی نے اسی طرح کا کام اپنا لیا۔ اب کوئی زمینداری و کاشتکاری کرتا ہے تو دوسرا جوتے بنا کر خوش ہے کوئی اگر مکان بناتا ہے تو کوئی برتن بنانے کا فن سیکھ لیتا ہے حتی کہ دنیا کا ہر کام کرنے کے لیے انسان میسر آجاتے ہیں اور یہ سب مل جل کر ہی کام کرتے ہیں تو یہ نظام چل رہا ہے سوشلسٹوں نے کوشش کرکے دیکھ لیا کہ کام کی تقسیم حکومت کے ہاتھ میں ہو جسے چاہے جو کام دے اول تو لاکھوں انسان قتل ہوئے اور جو بچ کر اس سانچے میں ڈھلے ان سے انسانیت اور انسانی خصوصیات یکسر رخصت ہوگئیں اور ان میں محبت رہی نہ وہ نفرت کے اظہار کے قابل رہے جذبات ہی ختم ہوگئے باقی کیا بچا اگر کسی پہلو پہ کوئی تھوڑی بہت کامیابی ہوئی بھی تو لاکھوں انسانوں کو انسانی جذبات سے عاری کرکے یہ تو بہت ہی زیادہ قیمت ادا کرنا پڑی اب وہ لوگ خود بخود پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ سو عرض یہ کر رہا تھا کہ نظام عالم کی بنیاد انسان کا انسان کے ساتھ تعاون ہے جو تب بھی ضروری تھا جب زمین پر صرف چند انسان تھے اور آج بھی جبکہ اربوں انسان آباد ہیں الملل والنحل میں قوموں کا تصور کچھ اس طرح سے دیا گیا ہے کہ سمتوں کی نسبت سے مشرقی مغربی وغیرہ قومیں وجود میں آگئیں اور پھر جوں جوں آبادیاں بڑھتی گئیں تو قومیت بھی نسب اور خاندان کے ساتھ منسلک ہونے لگی اور اس طرح قوموں کا اشتراک عمل ہونے لگا۔ مگر خدا غارت کرے یورپ کی جدید نسل کو جو نسب تو قائم رکھ نہ سکے انہوں نے ملکی اور علاقائی تقسیم شروع کی پھر زبانوں اور صوبوں کی حد تک لوگ تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے حتی کہ مسلمان بھی اس طوفان کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور آج مختلف ملکی ناموں سے یا صوبائی ناموں سے بٹے ہوئے ہیں حالانکہ اسلام کی رو سے دنیا میں صرف دو قومیں ہیں ایک مسلمان دوسرے کافر اسی حقیقت کا یہاں بیان ہورہا ہے کہ نیکی اور پرہیزگاری کا کام کوئی بھی کرنا چاہے تو اس میں تعاون کرو جس قدر ممکن ہو اس کی مدد کرو مگر گناہ اور ظلم پر عاون مت کرو ، ڈاکؤں چوروں اور لٹیروں سے تعاون نہ کرو مسلمان بھی برائی کرنا چاہے تو اس کے ساتھ تعاون یہ ہے کہ اسے برائی سے روکو۔ اس کے کرنے میں شریک مت ہوجاؤ اگر لوگ یہ شعار اپنا لیں تو آج بھی دنیا پہ امن قائم ہوسکتا ہے ظلم مٹ سکتا ہے اگر اس کے ساتھ تعاون نہ کیا جائے ، نیکی پھیل سکتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ تعاون کیا جائے اور یہ سب کچھ تب ممکن ہوگا جب تم میں خوف خدا ہوگا اللہ سے تعلق ہوگا اللہ سے دل کا رشتہ ہوگا اور اسی کے لیے یہ سب کرو کہ اس کے عذاب بھی تو بہت سخت ہیں برائی میں تعاون کرنے والے بھی ان ظالموں کے ظلم میں شریک ہو کر ان کے ساتھ سزا بھگتیں گے اور نیکی پہ تعاون کرنے والے نیک اجر پائیں گے۔ حلال و حرام کی تعیین : اب جانوروں میں حرام کون کونسے ہیں ؟ ذرا یہ بھی سن لو اور یہ اس لئے حرام ہیں کہ بعض ان میں تمہاری جسمانی صحت کے خلاف ہیں اور بعض روحانی صحت کے خلاف ہیں بعض ایسے ہیں جن میں دونوں خطرات موجود ہیں اس لیے انہیں خبائث قرار دیا جبکہ حلال جانور کو طیب کہا گیا ہے۔ اول مردار۔ یعنی جو بغیر ذبح کے طبع موت مرے۔ یا کسی حادثاتی موت سے مر جائے البتہ حدیث پاک میں مچھلی کو مستثنے قرار دیا گیا ہے اور ٹڈی کو بھی ۔ دوم ، بہتا ہوا خون ، خواہ بوقت ذبح خارج ہو یا ویسے زخم سے آ رہا ہو۔ تیسری چیز ، لحم خنزیر۔ جس سے پورا خنزیر مراد ہے کھال بال چربی ہڈی وغیرہ اور چوتھے وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی کے نام پر بھی نامزد کردیا جائے اور پھر اگر ذبح کے وقت بھی اس پر غیر اللہ کا نام لیا جائے تو نہ صرف جانور حرام ہوگا بلکہ یہ تو قطعی طور پر شرک ہے جیسا کہ عرب میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ جس بت کے نام پر نامزد کرتے اسی کے نام پر ذبح بھی کرتے تھے اور دوسرے یہ کہ جانور کسی نام مختص ہوجاتا اس سے کسی نفع کی امید پر یا کوئی دکھ دور کرنے کی امدی پر اور ذبح اللہ کے نام پر ہوتا جیسا کہ جاہل مسلمان بھی کرتے ہیں تو یہ بالاتفاق علماء حرام ہے پہلی صورت میں شرک بھی ہے جانور بھی مردار ہے۔ دوسری صورت میں شرک صریح نہیں مگر جانور مردار ہے ہاں ! یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ بزرگوں کو ایصال ثواب کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ثواب کمایا جائے چیز اللہ کے نام پر خیرات کی جائے مال ہو یا جانور پھر اس کا ثواب آپ کسی زندہ کے لیے عرض کردیں یا فوت شدہ کے لیے برابر ہے کہ آپ نے اللہ سے دعا کرنا ہے کہ اس کا ثواب فلاں شخص کے حساب میں ڈال دے اور بس۔ پانچویں منخنقہ وہ جانور جو دم گھٹ کر مر جائے خواہ جال وغیرہ میں پھنس کر یا کسی اور وجہ سے وہ بھی حرام ہے اور چھٹے موقوذۃ یعنی وہ جانور جو ضرب شدید سے ہلاک ہوجائے جیسے لاٹھی یا پتھر وغیرہ یہ بھی یاد رہے کہ بندوق کی گولی بھی پتھر کا حکم رکھتی ہے یہ الگ بات ہے کہ زور سے لگتی ہے اور جسم کو توڑ کر نکل جاتی ہے مگر توڑتی ہے کاٹتی پھر بھی نہیں اس لئے جن علما نے تکبیر پڑ کر فائر کرنے سے مرنے والا شکار خواہ ذبح سے پہلے مر جائے حلال قرار دیا انہیں غلطی لگی ہے کہ ذبح کے لیے دھار شرط ہے جو کاٹتی ہو تکبیر پڑھ کر تیر مارا ، جانور مر گیا۔ آپ کے پہنچنے سے پہلے مر گیا حلال ہے لیکن اگر تیر کا پھل نہیں لگا۔ ہوا وغیرہ سے اسکا رخ بدل گیا۔ ویسے تیر کی ضرب لگی اور مرگیا حرام ہوگا کہ یہ موقوذہ میں داخل ہے اور ساتویں المتردیہ ایسا جانور جو بلندی وغیرہ سے یا کسی کنویں وغیرہ میں گرنے سے مر جائے اور آٹھویں النطیحہ ایسا جانور جو کسی جانور یا دوسری کسی چیز کی ٹکر سے مر گیا مثلاً موٹر وغیرہ سے اور نویں وہ جانور جسے کسی درندے وغیرہ نے پھاڑ دیا ہو اور مرگیا۔ ہاں ان مذکورہ صورتوں میں اگر جانور ابھی مرا نہ تھا اور آپ نے تکبیر پڑھ کر ذبح کرلیا تو آپ نے پاک کرلیا اس کی صورت دوسری ہے ورنہ حرام ہیں اور دسویں وہ جانور بھی حرام ہیں ، جو استھان پر ذبح کئے گئے ہوں یہ استھان بیت اللہ کے گرد بتوں کی جگہیں تھیں جہاں ان کے نام کی قربانی دی جاتی تھی قبل اسلام یہ چیزیں متبرک سمجھ کر کھائی جاتی تھیں جنہیں اسلام نے حرام قرار دیا اور گیارھویں تیروں سے قسمت کا حال معلوم کرنا یا فال نکالنا یہ بھی ایک طریقہ تھا موجودہ لاٹری کی طرز پر کہ کچھ تیروں پر مختلف الفاظ ہاں نہ وغیرہ لکھ رکھے تھے جو خادم کعبہ کے پاس ہوتے تھے پھر آئندہ کے لیے نذرانہ دے کر فال نکلواتے وہ کوئی ایک تیر نکالتا تو اس کے مطابق آئندہ کام کرتے یا اسے مفید و مضر جانتے ایسے ہی کئی آدمی مل کر اونٹ ذبح کرتے پھر فال نکلواتے یہ موجودہ دور کی لاٹری تھی کسی کو بہت زیادہ مل جاتا کسی کو تھوڑا اور کوئی بالکل محروم رہ جاتا۔ چنانچہ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ آئندہ کے حالات معلوم کرنے کے ک سارے طریقے خواہ وہ ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر ہوں یا زائچہ بنا کر علم الاعداد کے واسطے سے ہوں یا کسی اور طرح سے بطور پیشہ اپنانا حرام ہیں۔ ان پر اعتبار کرنا درست نہیں اور مختلف مفسرین نے ان پر متعدد شدید قسم کے الفاظ لکھے ہیں جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہاں ایسے علوم کا رد کرنے کے لیے ان سے واقفیت کا ہونا برا نہیں مگر بغرض دفاع ہو۔ اور کسی امید پر نہ ہو کہ آج کے دن کافروں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے اور تمہارے دین کو ختم کردینے سے ہمیشہ کے لیے ناامید ہوچکے ہیں سو ان سے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہاں میری رضامندی اور خوشنودی کا خیال ہر حال میں لازم ہے میرے غضب سے ڈرتے رہو کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حجۃ الوداع کا موقعہ تھا جمعہ کا دن تھا یوم عرفہ تھا اور نبی رحمت ﷺ اپنی ناقہ پر سوار جبل رحمت کے نیچے عصر کے بعد کی دعاء میں مشغول تھے اس اونٹنی کا نام عضباء تھا کہ وحی کا نزول شروع ہوا جس کے بوجھ سے اونٹنی بالآخر بیٹھ گئی حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ تقریباً آخری آیات ہیں بس ترغیب و ترہیب کی چند آیات ان کے بعد نازل ہوئیں ورنہ یہ آخری عظیم الشان اجتماع تھا جو حج اکبر کے موقع پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہ کی حاضری سے منعقد ہوا اور اس دن کے صرف اکیاسی روز بعد نبی رحمت ﷺ کا وصال ہوگیا فرمایا آج تمہارا دین مکمل کردیا گیا یہ وہ انعام ہے جو اس سے پہلے کسی امت کو نصیب نہ ہوا کہ انبیاء (علیہ السلام) مسلسل تشریف لاتے رہے کتابیں اور صحیفے نازل ہوتے رہے مگر اے انسانو ! اور خصوصاً اے مسلمانوً آج تمہارا دین مکمل ہوگیا اب اس میں کوئی زیادتی کبھی نہیں ہوگی اور جو نزول نعمت اللہ کی طرف سے انسانیت پہ ہوتا تھا بعثت انبیاء اور نزول کتب کی صورت میں کہ اغذیہ جسمانی اور مادی تو ہر جاندار کو مل رہی ہیں انسانوں پہ زاید یا بہت بڑا انعام نعم روحانی نزول انبیاء اور نزول کتب سماوی تھا فرمایا وہ اپنے تمام اور کمال کو پہنچ گیا اب اس سے زیادہ کا تصور بھی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ اتممت علیکم نعمتی۔ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کردی ، تمہارے لیے دین اسلام کو پسند فرما لیا۔ یعنی دین مکم ہوگیا اب اس میں کوئی کمی بیشی جائز نہ ہوگی اور کوئی تاریخی واقعہ اس کو تبدیل نہ کرسکے گا دوسرے اتمام نعمت کہ اب کوئی کمال ایسا باقی نہیں رہا جو اسلام سے باہر ہر کر حاصل کیا جاسکے اور امت مرحومہ کے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا جو مدار نجات ہے اس سے باہر کسی طرح کی نجات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہاں مفتی محمد شفیع مرحوم نے معارف القرآن میں عید اور تہوار کی بحث لکھی ہے جو واقعی بہت مزیدار ہے بلکہ علیحدہ کتابچے کی صورت میں چھپنی چاہیے۔ میں بخوف طوالت نقل نہیں کر رہا ، ویسے وہ دیکھنے کی چیز ہے۔ اب اگر کوئی شخص بھوک سے قریب المرگ ہوجائے اور لذت کام و دہن کا خیال نہ ہو بلکہ بات زندگی اور موت تک جا پہنچے تو مذکورہ بالا حرام جانوروں میں سے بھی کچھ میسر ہو تو اس قدر کھالے کہ حالت اضطرار نہ رہے پیٹ بھرنا مقصود ہو نہ لذت حاصل کرنا بلکہ حالت اضطرار سے بچ جائے اور گناہ کا ارادہ نہ رکھتا ہو یعنی حصول لذت کے لیے نہ کھائے تو اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے یعنی یہ چیزیں حلال نہیں ہوجاتیں ان کے کھانے سے جو گناہ ہوا۔ امید ہے اللہ پاک معاف فرمائیں گے۔ سوال یہ ہے پھر حلال کیا ہے ؟ کون کونسی چیز حلال ہے۔ فرما دیجیے تمام طیب اور ستھری چیزیں یعنی ماسوائے ان چیزوں یا جانوروں کے جن کو اللہ نے نجس یا ناپاک یا حرام قرار دے دیا ہے باقی تو سب جانور بھی اور اشیاء بھی صاف ستھرے ہیں یعنی اصل شے میں اباحت ہے اصلاً ہر شے حلال ہے جب تک شرعاً اس کا حرام ہونا ثابت نہ ہوجائے بلکہ شکاری جانور جو سھدائے ہوئے ہوں کتے ہوں یا بازو وغیرہ تو ان کا شکار بھی حلال ہے جبکہ خود شکار پر چھوڑے جائیں ازخود نہ پکڑلیں اور پھر پکڑ کر مالک کے پاس لائیں کھانا شروع نہ کردیں۔ یعنی سدھائے ہوئے ہوں اور بسم اللہ پڑھ کر بھی چھوڑے جائیں تو مالک تک پہنچنے سے پہلے اگر شکار مر بھی گیا تو حلال ہے مزید ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہاں جبکہ شکار کو زخمی بھی کیا ہو یعنی خون بھی نکلا ہو اور یہ ان وحشی جانوروں کے لیے ہے جو جنگل میں ہوں خود پکڑے ہوئے خرگوش پہ کتے آزمائے جائیں تو وہ حلال نہ ہوگا اور شکار پر چھوڑتے وقت یا تیر چلاتے وقت خنجر پھینکتے وقت اللہ کا نام لیا جائے پھر شکار ذبح سے قبل مر جائے تو بھی حلال ہے نیز شکار ایک ضرورت کی حد تک تو درست ہے مثلاً بعض جگہ لوگوں کا گذارہ شکار پر ہوتا ہے یا غریب لوگ جو بازار سے گوشت خریدنے کی ہمت نہیں رکھتے شکار کرلیتے ہیں یا پھر ایک بہت بڑا فائدہ ورزش اور نشانہ بازی کا ہے کہ میرے خیال کے مطابق تو تقریبا ساری جنگی چالیں اور لڑائی کے داؤ شکار میں آزمائے جاتے ہیں اور نشانہ بازی کی مشق بھی ہوتی ہے مگر اس میں بھی یہ خیال ضرور رہنا چاہئے کہ ضرورت سے زیادہ جانور نہ مارے جائیں۔ اور محض شوق پورا کرنے کے لیے اور وقت صرف کرنے کے لیے بطور شغل تو اسراف میں داخل ہو کر ناجائز ہوگا۔ نیز ارشاد ہوتا ہے کہ تمام ستھری چیزیں تم پر حلال کی جاتی ہیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی ایسے ہی تمہارا کھانا ان پر حلال کیا جاتا ہے یہاں علماء کرام میں بہت طویل بحثیں ہیں اور ایک بات پہ سب متفق ہیں کہ کھانے سے مراد ذبیحہ ہے ورنہ دال آٹا شکر نمک مرچ وغیرہ میں تو ویسے بھی کوئی قید نہیں کہ مسلم سے غیر مسلم خرید سکتا ہے اور غیر مسلم سے مسلمان۔ اس میں تو صرف حاصل کرنے کا طریقہ جو اپنایا جائے اس کا درست ہونا ضروری ہے پھر یہاں بات بھی ذبیحہ پہ چل رہی ہے تو اس کے لیے سب بحثوں کا ماحصل یہ ہے کہ سوائے یہودی اور نصرانی کے کوئی دوسرا فرقہ اہل کتاب ثابت نہیں ہوتا ہندو ہوں یا سکھ آ ریہ سماجی ہوں یا بدھ ایک فرقہ صائبین کہلاتا ہے جن کو کہا جاتا ہے کہ وہ زبور کے پیروکار ہیں لیکن نہ ان کے پاس زبور ہے نہ اس بات کا کوئی ثبوت ہے ایسے ہی باقی تمام مذاہب کی کتابوں کا حال ہے مثلاً ہندوؤں کے وید وغیرہ کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ کہ کسی آسمانی کتاب کی بگڑی ہوئی صورت ہوں اس لیے صرف یہ دو فرقے اہل کتاب قرار پائے اب رہی بات ان کے ذبیحہ کی تو پہلی بات تو یہ ہے کہ اگرچہ یہ شرک میں مبتلا ہوچکے تھے اور نزول قرآن کے وقت تھے مگر ذبح اللہ ہی کے نام پہ کرتے تھے اب ان میں دو خرابیاں مزید در آئی ہیں ایک تو اب ان کا عقیدہ وہ نہیں رہا یعنی سرے سے خدا اور آخرت پہ یقین ہی نہیں رکھتے لیکن مردم شماری میں یہودی یا نصرانی ہیں ایسوں کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا کہ وہ خود اہل کتاب ہی نہیں رہے دوسرے انہوں نے بہت سے حرام کھانے شروع کردئیے جن میں سرفہرست خنزیر ہے جو ان کی شریعت میں بھی حلال نہ تھا سو اب اسے خواہ کوئی ذبح بھی کرے تو خود ذبح کرنے والا کافر ہوگا کہ حرام کو حلال بنا رہا ہے جو کفر ہے۔ تیسری خرابی یہ ہے کہ ان میں بعض جہلاء نے اللہ کے نام کی جگہ عزیر (علیہ السلام) یامسیح (علیہ السلام) کا نام لے کر ذبح کرنا شروع کردیا تو جب مسلمان غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے حرام ہوجاتا ہے اہل کتاب کا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیسے حلال ہوگا ؟ اسی طرح ان کی ایماندار اور پاکدامن عورتیں مسلمانوں پہ حلال ہیں جبکہ انہیں حق مہر ادا کرکے باقاعدہ نکاح کریں اور محض وقتی طور پر شہوت رانی مقصود نہ ہو اور نہ چوری چھپے کی دوستی کی اجازت ہے یہاں بھی دو طرح کی قید لگا دی کہ اول تو پاکدامن ہوں جو مغربی اور یہودی و نصرانی موجودہ معاشرے میں تصور بھی محال ہے پھر کم ازکم اپنی کتاب پر تو ایمان ہو آجکل یہ وہ بھی چھوڑ چکے اور پھر کلبوں کی دوستی کی اجازت نہیں جو ان کی زندگی کا شیوہ بن چکی ہے غالباً یہ اجازت بھی اسی لیے دی گئی کہ اہل کتاب میں وہی عورتیں نکاح میں حلال تھیں جو اسلام میں تھیں اور طیرقہ نکاح بھی وہی تھا کہ ایجاب و قبول بھی ہو گواہ بھی ہوں اعلان بھی مگر اب اول تو پاکدامنی کا قصہ جانے دیجئے اور اس موضوع پر بات ہی نہ کریں دوم عقائد بھی بہت کم لوگوں میں باقی ہیں باقی صرف مردم شماری میں شامل ہیں سو ایسے لوگوں سے بھی اجازت نہ ہوگی پھر باقاعدہ شادی ہو متعہ کرنے کی اجازت نہیں یعنی وقتی طور پر شہوت رانی کرلی اور فارغ ہوگئے یہ سرے سے حرام ہے اسی لئے یہود کی پروردہ شیعہ تنظیم نے اس پر بہت زور دیا ہے اور اب ایران میں ہر امام باڑے کے ساتھ کمرے بنا دئیے گئے ہیں جو یہ مقصد فوری طور پر پورا کرتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ ذبیحہ کے معاملہ میں تو فرمایا کہ ان کا ذبیحہ تمہارے لیے اور تمہارا ان کے لیے حلال ہے مگر نکاح بارے صرف مسلمان مرد کو کتابی عورت سے شادی کی اجازت دی مسلمان عورت کتابی مرد سے نکاح نہیں کرسکتی یہ بہت لمبی لمبی بحثوں کا خلاصہ میں نے یہاں عرض کردیا ہے اس کے علاوہ دور جدید کے فتوے کہ اہل کتاب کے ساتھ کھانا پینا نکاح وغیرہ میں کوئی حرج نہیں یہ ان لوگوں کی باتیں ہیں جو اپنی مرضی کو اسلام کے نام پر اور اپنی پسند اور عیاشی کو ثواب کے نام پر رواج دینا چاہتے ہیں ورنہ اس دور میں بھی سیدنا فاروق اعظم ؓ کے گورنر نے کتابی عورت سے شادی کی تو فرمایا طلاق دے د و ! انہوں نے لکھا۔ یا امیر ! کیا یہ میرے لیے حرام ہے ؟ فرمایا۔ نہیں ! مگر درست بھی نہیں کہ اول تو خطرہ ہے ، کہ ان کی راہ سے مسلمان گھروں میں بےراہ روی آجائے گی کہ یہ نہ سہی اس کی ملنے والیاں تو بےراہ رو ہوں گی ان کا معاشرہ ہی ایسا ہے دوسرے اگر انہیں حسین سمجھ کر مسلمان شادیاں کرنے لگیں اور انہیں مسلمان خواتین پہ ترجیح دینے لگیں تو کیا یہ اچھا ہوگا ؟ ہرگز نہیں اور اب تو انہوں نے مرد کا مرد سے نکاح جائز کردیا۔ داماد کس ساس کے ساتھ اور سسر کا بہو کے ساتھ کلیسا کی اجازت سے جائز ہوگیا کھانے پینے میں جزو اعظم خنزیر قرار پایا اب تو نہ نکاح کی گنجائش رہ گئی ہے اور نہ ذبیحہ کھانے کی پھر بھی قرآن کا حکم منسوخ نہیں ہے ہاں ! اگر اہل کتاب میں سے کوئی اس حد تک رہے جو جو قرآن کے نزول کے وقت تھی تو درست ہے ورنہ آجکل کی اباحت سے تو یہ کافر ٹھہرے اہل کتاب بھی ثابت نہیں ہوتے نیز اگر کوئی مسلمان یہودی یا نصرانی بن جائے تو وہ اہل کتاب میں شمار نہ ہوگا بلکہ مرتد ہوگا ہاں دیگر مذاہب سے کوئی ان میں داخل ہو تو اہل کتاب قرار پائے گا۔ سو تعمیل احکام میں یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ کریم بہت جلد حساب لینے والے ہیں اور یہ اصول بھی کبھی مت بھولو کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کافر ہوا یعنی حرام کو حلال سمجھنا اور حلال کو حرام شمار کرنا بھی تو کفر ہے اور ایمان لانے کے بعد یہ ہرگز زیب نہیں دیتا اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس نے اپنی آخرت تباہ کرلی ، اور سخت نقصان میں چلا گیا۔
Ayahs 5:6–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم نماز کا قصد کرو تو اپنے چہروں کو دھوؤ اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور اپنے سروں پر ہاتھ پھیرو (مسح کرو) اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں (دھولیا کرو) اور اگر تم حالت جنب (ناپاکی) میں ہو تو نہا لو (خود کو پاک کرلو) اور اگر تم بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آئے یا بیویوں سے قربت کی ہو پھر تمہیں پانی نہ مل سکے تو تم پاک مٹی سے تیمم (کرلیا) کرو اس سے اپنے چہروں پر ہاتھ پھیر لو اور اپنے ہاتھوں پر (مسح کرلو) اللہ تم پر کوئی تنگی ڈالنا نہیں چاہتے و لیکن وہ تمہیں پاک کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت پوری کریں تاکہ تم شکر ادا کرو

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور اللہ نے جو تم پر انعام فرمایا ہے اسے یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے وعدہ لیا ہے جب تم نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے مان لیا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی باتوں سے واقف ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کے لئے انصاف کے ساتھ گواہی دینے پر قائم رہنے والے بنو اور لوگوں کی دشمنی تمہیں انصاف چھوڑنے پر آمادہ نہ کردے انصاف کرو کہ یہ نیکی کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہیں

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر (بدلہ) ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخ کے رہنے والے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ نے تم پر جو انعام کیا اسے یاد کرو جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو (اسی نے) تم سے ان کے ہاتھ روک دیئے اور اللہ سے ڈرو اور اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 6 تا 11: اسرار و معارف : کفر اور آخرت کی ناکامیوں سے بچنے کے لیے پاکیزگی ضروری ہے کفر دل کی نجاست اور آلودگی کا نام ہے ہر گناہ دل کو آلودہ کردیتا ہے حتی کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب آلودگی کفر کی حد کو پہنچ جاتی ہے اب دل کی طہارت اور پکیزگی کے لیے اس کو نجاست سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بدن بھی پاک رکھا جائے اور اللہ کریم کے ساتھ عبادت کا تعلق قائم رکھا جائے ہر حال اور ہر صورت میں ، بلکہ فرائض کو چھوڑنا تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے فرائض کے ساتھ حسب ہمت نوافل اور اذکار کو شامل رکھنا چاہئے اب فرائض کی ادائیگی کے لیے جسم کا پاک ہونا شرط ہے اور اگر پاک بھی ہے تو وضو کا ہونا شرط ہے کہ جب وقت داخل ہوا نماز فرض ہوگئی جب نماز فرض ہوئی تو اس کی تکمیل کے ذرائع بھی فرض ہوگئے ، جن میں اول وضو ، کپڑوں کا پاک ہونا ، جگہ کا پاک ہونا سمیت قبلہ وغیرہ آجاتے ہیں تو وضو کیسے ہوگا ! فرمایا اپنا منہ دھو لو ، دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو اور سر کا مسح کرلو۔ یعنی گیلا ہاتھ پھیر لو ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھو لو ، یہ چار امور وضو کے فرائض ہیں باقی کچھ سنت اور کچھ امور مستحب ہیں اب اگر جنابت ہو یعنی سارے بدن کو پاک کرنے کی ضرورت ہو تو پاک کرلو غسل کرلو ، لیکن کوئی عذر ہو جیسے بیماری یا سفر کی حالت میں غسل یا وضو کی سہولت کا میسر نہ ہونا۔ یا کسی مرض کا ہونا جس کا پانی کے استعمال سے بڑھنے کا اندیشہ ہو یا پھر تم رفع حاجت کرکے آؤ جس کے لیے وضو ضروری ہے یا بیوی سے صحبت کرلو جس سے غسل فرض ہوجائے اور پانی مل نہ رہا ہو ، تو تیممم کرلو صاف اور پاک مٹی کی قسم کی چیز پر ہاتھ رکھ کر منہ پر مل لو اور دوسری بار رکھ کر دونوں ہاتھوں سے کہنیوں تک مل لو تو جب تک وہ عذر دور نہیں ہوتایہی غسل یا وضو کا قائم مقام رہے گا کہ اللہ کریم تمہیں محض پریشان کرنا نہیں چاہتے بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ تمہارے بدن میں پاکیزگی آئے تم اللہ کی عبادت کرو جس سے دل میں پاکیزگی آئے تاکہ تم اس قابل ہوسکو کہ اس کی تجلیات و انوارات کو قبول کرسکو۔ سورج طلوع ہو کر روشنی بکھیرتا ہے پتھر کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آئینہ سورج کے سامنے کرو تو خود ایک چھوٹا سا سورج بن جاتا ہے تم بھی دلوں کو پاکیزہ کرو سینے میں پتھر نہیں آئینہ خانہ سجاؤ ! کہ اللہ اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے۔ اور تم اس کا شکر ادا کرسکو یعنی توفیق شکر بھی خود انعامات باری میں سے ہے اس کی توفیق کا نصیب ہونا بھی اللہ کریم کا بہت بڑا انعام ہے اور اللہ کی نعمتوں کو بھی یاد کرو جو تم پر ہیں اور وہ عہد بھی ہمیشہ یاد رکھو جو تم نے اسلام قبول کرکے اللہ سے کیا کہ قبول اسلام یہی ہے کہ آدمی عہد کرلیتا ہے اطاعت کا بندگی کا سننے اور ماننے کا ہر حکم کی تعمیل بدل و جان کرنے کا اور اللہ سے اپن تعلق مضبوط رکھو اپنے اس رشتے کا خیال ہر رشتے سے مقدم جانو کہ اللہ کریم دلوں کے بھید جاننے والے ہیں انتہائی پوشیدہ سوچیں بھی ان کی ذات چھپ نہیں سکتیں۔ در اصل اصلاح احوال کی ساری عمارت حقوق کی حفاظت اور فرائض کی ادائیگی پہ استوار ہوتی ہے جس میں سب سے مقدم اور ضروری حقوق کی حفاظت کا کام ہے م اس کا مدار بھی ایک فریضہ پر ہے جسے شہادت کہا جاتا ہے یعنی جو واقعہ دیکھو یا جس کے بارے میں جو علم تمہارے پاس ہو اسے اللہ کی امانت سمجھ کر دیانتداری سے اور انصاف سے متعلقہ افراد یا ادارے تک پہنچاؤ جس ادارے یا فرد نے اس شہادت کی بنیاد پر فیصلہ دینا ہے۔ اور اس میں تمہیں کسی قوم یا فرد کی دشمنی یا ناراضگی بھی انصاف سے نہ ہٹا سکے۔ اسلام نے انصاف کو دوست اور دشمن سب کے لیے برابر رکھا ہے پہلے بھی ارشاد باری گذر چکا ہے کہ اگر اپنے عزیزوں کے خلاف شہادت دینا پڑے تب بھی ضرور دو ۔ یا کود اپنے خلاف پڑتی ہو تب بھی بات کھری اور صاف کرو یہاں فرمایا کسی سے ناراضگی یا دشمنی کی بناء پر ایسی شہادت نہ دو جس سے اس کا حق مجروح ہوتا ہو یعنی اس کے ساتھ انصاف نہ ہوسکے۔ دو ہی باتیں تو انصاف کے راستے کا پتھر ہیں یا کسی کی دوستی مجبور کرتی ہے یا آدمی کسی سے ناراض ہو کر اس کے خلاف بات کرتا ہے مگر مومن کی شان یہ ہے کہ اپنے جذبات پر اپنے ایمان کو غالب رکھے اور جو بات بھی کرے اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرے انسان کی دوستی اور دشمنی سے بہت بالا تر ہو کر ۔ علماء نے اس میں ہر شہادت کو لیا ہے مثلا کسی سکول کا سرٹیفیکیٹ کہ یہ اتنے جماعت پاس ہے ڈاکٹر کا سرٹیفیکیٹ کہ اسے یہ بیماری ہے یا اس کی حالت ایسی ہے اور اسی طرح کے بیشمار واقعات جن کا فیصلہ کسی شہادت پہ موقوف ہوتا ہے یا ووٹ دیایہ بھی شہادت ہے کہ یہ آدمی متعلقہ کام کی اہلیت بھی رکھتا ہے اور سفارش بھی کہ دیانتداری سے کرے گا اور تیسرے وکالت بھی کہ ایسے حقوق جو شہریوں کے مشترک ہیں ان کی وکالت اسے دی جا رہی ہے اب اگر واقعی اس میں اہلیت و استعداد ہے اور اس نے دیانتداری سے حق ادا کیا تو ثواب میں ہر ووٹر بھی حصہ دار ہوگا۔ لیکن اگر صورت دوسری ہے تو اس کی بدکاری کی سزا ہر ووٹر کو بھی بھگتنا ہوگی سوائے اس کے کہ اللہ ہمیں معاف کردے ہم توبہ کریں اور قوم اور ملک پر رحم کرتے ہوئے اپنے اوپر اپنی آئندہ نسل پر ترس کھاتے ہوئے دیانتداری کے ساتھ سچی شہادت دیں کہ فرمایا اعدلوا عدل کرو ، انصاف کو ہاتھ سے مت جانے دو کہ یہی تقوی کے سب سے زیادہ قریب ہے یعنی تقوی کا پہلا اور فوری اثر ہی انصاف یا عدل ہے اور تم اللہ کا تقوی اختیار کرو کہ یہی مقصود حیات ہے یعنی اپنی قلبی اور کیفی تعلق اللہ کریم کے ساتھ اس مضبوطی سے استوار کرو کہ اس کی فرمانبرداری پہ مجبور کردے اور نافرمانی کو جی نہ مانے اور یاد رکھو اللہ تمہارے ہر حال سے باخبر ہے تمہاری کوئی بات بھی تو اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا یعنی عقائد درست کرلیے اور اعمال کی اصلاح کرلی عملی زندگی میں نیکی کا راستہ اختیار کرلیا ان کے ساتھ اللہ کریم کا بخشش کا وعدہ ہے عمل میں اللہ اور اس کے رسول کی اتباع کے لیے کوشش کرنا یہ ان کا کام ہے مجاہدہ ان کی طرف سے ہے محنت ان کی ہے۔ ثمرات وہبی ہوتے ہیں اس پر پھل لگانا یہ اللہ کا وعدہ ہے اگر بتقاضائے بشریت کوئی کمی رہ گئی انسانی کمزوریوں کی وجہ سے جو نقصان رہ گیا اسے پورا کرکے نہ صرف ان کی بخشش کا بلکہ ان پر بہت زیادہ انعام و اکرام کی بارش کا بہت زیادہ عطا کا وعدہ ہے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے اس کے بالمقابل بعثت رسالت اور نزول کتاب کے باوجود دلائل میسر ہونے کے کسی نے کفر کی راہ اختیار کی اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو ایسے لوگوں کو دوزخ میں رہنا ہوگا۔ اور مسلمانو ! تمہیں تو اللہ کے احسانات یاد کرتے ہی رہنا چاہیں کہ تم کمزور تھے اور قریش نے یہود نے کفار نے کون سی کوشش ہے جو نہ کی ہو کونسی کسر نہ اٹھا رکھی تھی سب کا خیال تھا تمہیں نابود کردیا جائے مگر یہ اللہ کا احسان ہے۔ کہ سب کو نامرادی کا منہ دیکھنا پڑا اور تمہیں غلبہ و قوت نصیب ہوئی شان و شوکت نصیب ہوئی سلطنت و اختیار و اقتدار نصیب ہوا۔ اب تمہیں انصاف کا دامن چھوڑنا زیب ہی نہیں دیتا اور معمولی فوائد کا لالچ یا نقصانات کا خوف انصاف کے راستے کی دیوار مت بننے دو ۔ اللہ پر بھروسہ کرو جس نے پہلے تمہاری حفاظت فرمائی ہے پھر بھی ایمانداروں کو اسی پر بھروسہ زیب دیتا ہے۔
Ayahs 5:12–19

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہسردار مقرر فرمائے اور اللہ نے فرمایا اگر تم نماز کی پابندی کرتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور میرے پیغمبروں کے ساتھ ایمان لاتے رہو اور ان کی مدد کرتے رہو تو یقینا میں تمہارے ساتھ ہوں اور اگر اللہ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہو گے تو میں ضرور تمہارے سارے گناہ معاف کردوں گا اور تمہیں بہشتوں میں داخل کروں گا ان کے تابع نہریں چلتی ہیں سو اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کیا تو یقینا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

پس ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا وہ لوگ کلام کو اس کے مواقع سے بدل ڈالتے ہیں اور ان کو جو نصیحت کی گئی تھی اس میں سے ایک (بڑا) حصہ فراموش کر بیٹھے اور آپ ان میں تھوڑے لوگوں کے علاوہ ان کی خیانت کی خبر پاتے رہتے ہیں پس ان کو معاف کریں اور (ان سے) درگز کریں یقینا اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا سو وہ بھی جو ان کو نصیحت کی گئی تھی اس میں سے ایک (بڑا) حصہ فراموش کو بیٹھے تو ہم نے ان میں قیامت کے دن تک کے لئے باہم بغض اور عداوت ڈال دی اور عنقریب اللہ ان کو ان کے اعمال سے آگاہ فرمائیں گے

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! یقینا تمہارے پاس ہمارے رسول آئے ہیں کتاب میں سے جو (باتیں) تم چھپاتے تھے ان میں سے بہت سی باتیں تم پر کھول کر بیان فرمادیتے ہیں اور بہت سی درگزر فرماتے ہیں یقینا تمہارے پاس اللہ کی کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

اس کے ذریعے اللہ ایسے لوگوں کو جو اس کی رضامندی کے طالب ہوں ، سلامتی کی راہیں دکھاتے ہیں اور ان کو اپنے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آتے ہیں اور ان کو سیدھے راستے پر چلاتے ہیں

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ کافر ہوئے جو کہتے ہیں کہ بیشک مسیح ، مریم (علیہا السلام) کے بیٹے ، ہی اللہ ہیں فرمادیجئے کہ اگر اللہ ، مسیح (علیہ السلام) مریم (علیہا السلام) کے بیٹے کو اور ان کی ماں کو اور سب کو جو زمین میں ہیں ہلاک کرنا چاہیں تو کون ہے جو ان کو اللہ سے بچاسکے اور آسمانوں اور زمین پر جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کی بادشاہی اللہ کے لئے ہے جس کو چاہیں پیدا فرمائیں اور اللہ ہرچیز پر قادر ہیں

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں فرمادیجئے کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں پر تم کو سزا کیوں دیتے ہیں بلکہ تم بھی منجملہ مخلوقات کے (معمولی) آدمی ہو وہ جس کو چاہیں بخش دیں اور جس کو چاہیں عذاب کریں اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب پر اللہ کی بادشاہی ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! ایک عرصہ تک پیغمبروں کا سلسلہ منقطع رہنے کے بعد یقینا تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آپہنچے جو تم کو صاف صاف بتاتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا نہیں آیا سو بلا شبہ (اب) تمہارے پاس خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے آگئے ہیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 12 تا 19 ۔ اسرار و معارف : پہلی قوموں سے بھی عہد لیے گئے تھے کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ انسان کو شعور بخشا اور عقل سے نوازا۔ عقل وہ قوت ہے جو دماغ میں ہے اور جسم کی ضرورتوں کا احساس کرنا انہیں پورا کرنے کے اسباب تلاش کرنا ، اس کا کام ہے شعور وہ قوت ہے جو دل میں ہے اور جو عظمت الہی کو اپنی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت کے مطابق ہر جاندار کو دی گئی ہے جس کا استعمال ہم روز مرہ زندگی مٰں دیکھتے ہیں۔ رہا شعور و آگہی یہ صرف انسان کی صفت ہے۔ اب باقی جانداروں کی طرح اس کی عقل بھی اسے پیٹ بھرنے یا دنیا کے لذائذ سے فائدہ اٹھانے کے لیے کہتی ہے مگر شعور کہتا ہے صرف زندہ رہنا مقصد حیات نہیں میرا مقصد حیات دوسرے تمام جانوروں کی طرح نہیں ہے وہ تو محض میری ضرورت کے لیے میری خدمت کے لیے پیدا کئے گئے مگر مجھے دنیا کو بھی ضرور استعمال کرنا ہے کہ اس پر میری زندگی کا مدار ہے مگر اس طریقے سے کرنا ہے جو مجھے میرا رب سکھائے یا جس کا حکم دے گا کہ اس طرح دنیا کا نظام بھی چلتا رہے گا اور میرا تعلق میرے رب سے بھی مضبوط تر ہوتا چلا جائیگا۔ سو اسی لیے اللہ کی طرف سے مختلف اوقات میں مختلف امتوں سے وعدے لیے جاتے رہے اور ان پر انعام کے وعدے کئے جاتے بھی رہے۔ جیسے ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کے بارہ قبائل تھے سو ہر قبیلے کا ایک سردار مقرر ہوا جو اپنے قبیلے کی طرف سے ایفائے عہد کا ذمہ دار تھا یہاں سے سمجھ آتی ہے کہ سردار یا جو آدمی قابل حترام ہو یا جس کی بات مانی جاتی ہو اس کو چاہئے کہ لوگوں کو نیکی پر قائم رکھنے کے لیے بھی کوشش کیا کرے یہ اس کی ذمہ داری ہے امیر ہو مولوی یا پیر۔ اور اللہ نے ان سے تو اطاعت کا وعدہ لیا اپنی طرف سے بہت وسیع عطاء و بخشش سے نوازا کہ انی معکم۔ میں خود تمہارے ساتھ ہوں یوں تو اللہ ذاتی طور پر ہر جگہ موجود ہے مگر اس معیت کا مطلب و معنی اپنی رضا و خوشنودی سے ساتھ ہونا ہے۔ ذاتی امور ہوں ۔ خانگی ہوں یا قومی اور یہ اتنا بڑا انعام ہے کہ ساری ولایت کا خلاصہ ہے کہ معیت باری حاصل ہوجائے۔ نیز چونکہ یہاں معیت کا مدار انسان کی طرف سے وعدہ پورا کرنے پر ہے اگر پورا نہیں کرے گا تو محروم ہوجائے گا کہ جب شرط موجود نہ رہے مشروط بھی نہیں رہتا۔ تو یہی ولایت کی حقیقت ہے کہ بڑے سے بڑا ولی تب تک ولی اللہ ہے جب تک اطاعت شعار ہے۔ اگر اطاعت گئی ولایت بھی گئی یہاں بھی یہی مفہوم ارشاد ہوا ہے کہ تمہیں میری ذات کی معیت نصیب رہے گی مگر شرط یہ ہے کہ تم نماز کو قائم رکھو گے غالبا نماز ادا کرنے اور نماز قائم کرنے میں فرق یہ ہے کہ ادا کرنا صرف اپنی ذات تک ہے اور اقامت سے مراد معاشرے میں ماحول میں اپنے اردگرد گھر میں بچوں میں جہاں جہاں رسائی ہو تمام کو ادا کرانے کی کوشش اقامت سے مراد معاشرے میں ماحول میں اپنے اردگرد گھر میں بچوں میں جہاں جہاں رسائی ہو تمام کو ادا کرانے کی کوشش اقامت کہلائے گی جس کا حکم دیا جا رہا ہے یا دوسرے لفظوں میں شرط ولایت ٹھہرائی جا رہی ہے اور زکوۃ ادا کرتے رہوگے کہ یہ بھی فریضہ ہے جس کا بہت کم اہتمام ہوتا ہے حق یہ ہے کہ جس مال پر زکوۃ واجب ہو اگر شرائط پوری ہوتی ہوں تو پورا پورا حساب کرکے نہ صرف دے دی جائے بلکہ مستحقین تک پہنچائی جائے ہاں جو حکومت زبردستی کاٹ لیتی ہے اسے شمار کرلیا جائے کہ وہاں انسان کا بس نہیں اسے مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی حکومت کی ہے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں تو مسلسل انبیاء تشریف لائیں گے تو تمہیں میرے رسولوں کے ساتھ ایمان لانا ہوگا یہ نہ ہو کہ کسی نئے نبی کا زمانہ پاؤ تو اس کا انکار بیٹھو اور کافر شمار ہونے لگو اور رسولوں کے ساتھ ایمان کی دلیل ان کے مشن میں اپنی حیثیت کے مطابق ہاتھ بٹانا عقائد میں اعمال میں معاشرے کی اصلاح کا جو عظیم کام اللہ کے رسولوں کے ذمہ ہوتا ہے اس میں ان کی مدد کرنا ورنہ خالی دعوے کرکے خود بھی عمل نہ کرسکنا یا اپنی ذات کو بھی آمادہ نہ کرسکنا در اصل رسالت کے ساتھ ایمان کی نفی کرنے کے برابر ہے اور ساتھ تم صدقاتِ نافلہ بھی دیتے رہے اپنی کوششوں کے ساتھ اپنے اعمال کو بھی اور اپنے مال کو بھی زکوۃ کے علاوہ بھی ترویج دین کی خاطر خرچ کرتے رہے۔ یہ غالباً چار بنیادی شرائط ہوگئیں جن کے گرد پوری انسانی زندگی گھومتی ہے۔ عبادات ، عقائد ، معاملات اور اصلاح معاشرہ کے لیے جدوجہد۔ اگر تم اس پر قائم رہو تو میں ذاتی طور پر تمہارے ساتھ ہوں۔ تمہیں کام مشکل نظر آئے گا۔ مگر جب مستقل مزاجی سے کرنا چاہوگے تو ہوجائے گا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اور زائد از ضرور رقم کو بھی عیاشی پہ خرچ کرنے کی بجائے اللہ کی راہ میں اور دین کی خدمت میں اور اصلاحی اور رفاہی کاموں میں لگاؤگے تو بحیثیت انسان جو کمزوری رہ جائے گی معاف کردوں گا اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے تابع نہریں چلتی ہیں یعنی ابدی اور دائمی راحتیں نصیب ہوں گی لیکن اب اتنی تفصیل سے بات ہوجانے کے بعد بھی جو کفر کرے گا تو اس کے گمراہ ہونے میں کیا کسر رہ گئی اور اس کی تباہی میں کیا باقی ہے اب انہوں نے وعدہ خلافی کی اور عہد توڑ دیا تو ہم نے ان پر سزائیں مسلط کردیں۔ اول ، لعنھم۔ انہیں رحمت سے محروم کردیا اور طرح طرح کے عذاب ان پر وارد ہوئے بیماریوں کی صورت میں غرق ہونے کی صورت میں آسمان سے آگ برسی اور کبھی پتھر کبھی کسی ظالم بادشاہ نے قتل کردیا اور کبھی کوئی اور مصیبت ٹوٹ پڑی دوسری بات یہ ہوئی ، کہ رحمت سے محرومی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا یعنی ولایت سے جو شخص معزول و محروم ہوتا ہے وہ دو طرح کے عذابوں میں مبتلا ہوجاتا ہے ایک جسمانی اور مادی ایذاء بشرطیکہ وہ ایذا ہو باعتبار اپنے نتیجہ کے۔ اور دوسرے دل تباہ ہوجاتا ہے سخت ہوجاتا ہے سیاہ ہوجاتا ہے اور الٹ جاتا ہے برائی کو پسند کرنے لگتا ہے اور نیکی سے گھبراتا ہے جیسے ان کے جب دل تباہ ہوئے تو انہوں نے اللہ کی کتابوں میں ردوبدل شروع کردیا اور تحریف کردی۔ چند سکوں کے لیے یا وقت اقتدار کے لیے کبھی الفاظ بدل دئیے اور کبھی معانی بدل دئیے اور جو طریقہ اللہ سے برکات اور فیوضات حاصل کرنے کا سکھایا گیا تھا وہ بھول گئے یعنی دل کے تباہ ہونے سے روحانی برکات کا سارا نظام ہی تباہ ہو کر رہ گیا چناچہ آپ ہر روز ان کے کسی نہ کسی فریب ہی کی بات سنتے ہوں گے یہ کوئی نہ کوئی دھوکہ ہی کرتے ہوں گے کہاں نیکی میں اقوام عالم کی قیادت و سیادت اور کہاں چند ٹکڑوں کے لیے دھوکے فریب جھوٹ بندوں کے ساتھ خدا کے ساتھ ، اللہ کی کتاب کے ساتھ ہاں سوائے چند خوش نصیبوں کے جو مختص رہے تو انہیں آپ ﷺ پر ایمان بھی نصیب ہوگیا لیکن باوجود ان سب خرابیوں کے آپ ان سے درگذر کا معاملہ فرمائیے ان کا اپنا کردار ہے آپ کا اپنا مقام ہے سو ان کی خرابیوں کو نظر انداز فرماتے ہوئے ان تک اللہ کا پیغام پہنچاتے رہئے کہ اللہ احسان کرنے والوں کو ہی پسند کرتے ہیں ایسے لوگوں کو جو سینہ چیر کر سامنے رکھ دیں اور ساری قوت حکم بجا لانے پہ صرف کردیں وہی اللہ کو بھی پسند ہیں اور یہ جو اپنے نصرانی ہونے کے مدعی ہیں ان سے بھی عہد لیا تھا ان کے آباؤ اجداد کی طرح اور انہوں نے بھی اپنے پیشروؤں کی طرح بھلا دیا سو اس کی سزا انہیں ان دو سزاؤں کے ساتھ مزید یہ ملی کہ مذہب کی کئی شاخیں ہوگئیں جو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں اور یہ قیامت تک ایک دوسرے سے بخل اور دشمنی ہی کرتے رہیں گے حتی کہ اللہ ہی انہیں احساس دلائیں گے کہ یہ کیا کرتے رہے اور ان کا کردار کیا رہا ہے یعنی قیامت کو انہیں ان کے اعمال کا پتہ چلے گا اے اہل کتاب ! حق بات یہ ہے کہ ہمارا رسول حضرت محمد ﷺ تشریف لاچکا جو ساری انسانیت کے لیے مبعوث ہوا ہے وہی تمہاری طرف بھی اللہ کا رسول ہے اور اس کی نبوت کی بہت دلیلوں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ خود اپنی کتاب میں سے بعض حقائق جو تم نے چھپا رکھے ہیں چونکہ معاشرے کو ان کی ضرورت ہے آپ ظاہر فرما دیتے ہیں حالانکہ آپ نے کسی سے بھی کوئی کتاب وغیرہ کبھی نہیں پڑھی اور بہت سی باتیں جن کا بتانا ضروری نہ ہو بلکہ محض تمہاری رسوائی ہوتی ہو ان سے در گذر فرماتے ہیں۔ یہ آپ کا اخلاق کریمانہ بھی دلیل نبوت ہے اور پھر آپ ﷺ کے ہمرکاب تو روشنیاں سفر کرتی ہیں کہ کتاب لائے ہیں وہ بھی نور اور ہدایت ہے آپ کا وجود عالی بذات خود نور ہدایت ہے اخلاق کریمانہ نور ہدایت ہے آپ کے علوم نور ہدایت اور آپ کے پاس کتاب وہ بھی روشن روشن ، جو انسان بھی اللہ کی رضا کا اور اس کی خوشنودی کا طالب ہو اللہ کریم اسے اسی رسول اور اسی کتاب کے ذریعہ سے سلامتی کے راستوں پہ پہنچا دیتے ہیں اور انہیں تاریکیوں سے چھین لیتے ہیں اپنی قوت کے ساتھ اندھیروں سے نکال لیتے ہیں اور روشنی میں پہنچا دیتے ہیں یعنی برائی سے ہٹا کر نیکی پر لگا دیتے ہیں اور انہیں سیدھے راستے پہ چلنے کی توفیق ارزاں فرماتے ہیں آخرت اور بخشش کی راہیں ان پہ آسان فرما دیتے ہیں یہ رضائے الہی کی دلیل ہے اور اسی کو ولایت کہا جاتا ہے کہ نیکی کی توفیق ارزاں ہوجائے۔ جو لوگ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو جو خود حضرت مریم کے بیٹے ہیں اللہ مانتے ہیں ان کے کفر مٰں تو کوئی شبہ نہیں عقل کے بھی اندھے ہیں کہ جو انسان پیدائش کے وقت یا اس سے پہلے ماں کے پیٹ میں کس قدر محتاج ہوتا ہے وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے جو پیدا ہوسکتا ہے مر بھی تو سکتا ہے پھر پیدا ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ پیدا کرنے والا کوئی اور ہے اب ان ہی سے پوچھیے اللہ جس نے مسیح (علیہ السلام) ہی کو نہیں ان کی والدہ کو بھی پیدا فرمایا تھا اگر انہیں موت دینا چاہے تو بھلا اسے کون روک سکے گا ؟ یا روئے زمین پر بسنے والے تمام ذوی الارواح کو موت دے دے تو کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے کوئی نہیں ، چناچہ حضرت مریم واقعی فوت ہوچکی ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی نزول کے بعد فوت ہوں گے کیونکہ ارض و سماء کی حکومت و پادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے یعنی سب پر اسی کا حکم چلتا ہے اور جو ان کے علاوہ ہے اس پر بھی حکمران وہی ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق اگر والد کے بغیر ہوئی تو یہ الوہیت کی دلیل تو نہیں بن سکتی کہ ہوئے تو پھر بھی مخلوق ہی اور اللہ قادر ہے جس طرح چاہے پیدا کرے اگر وہ بندوں کو کھیتوں میں اگانا چاہتا تو بھی کوئی اسے روکنے والا نہ تھا عیسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہ تھے آدم (علیہ السلام) کی والدہ تھیں نہ والد۔ وہ جیسے چاہے پیدا کرے کہ ہر چیز پہ قادر ہے۔ یہ یہود و نصاری کہتے ہیں ہم خود سارے کے سارے سرے سے اولاد ہی اللہ کی ہیں اور اللہ کو بڑے محبوب ہیں ذرا ان کی بات سنیے اور حالات ملاحظہ فرمائیے کہ دل سیاہ عقائد تباہ اعمال برباد ظالم سود خور اور بدکار اور انجام کار کافر اور جہنم کے رہنے والے کیا اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو یہی حالت ہوتی اور اس میں یہی اوصاف ہوتے وہ تو لاشریک ہے احد ہے اجزا سے پاک ہے اور اولاد تو والد کا جز ہوتی ہے پھر تمہارے عقائد اور کرتوتوں پر اخروی سزا کی وعید بار بار کیوں۔ اصل بات یہ ہے تم بھی عام انسان ہو جیسے دوسری مخلوق ہے تم بھی ہو اب اللہ کی مرضٰ کہ معاف کردے اور نیکی کتوفیق ارزاں فرما دے یا جسے چاہے اس کے گناہوں اور خطاؤں پہ عذاب کرے کہ ارض و سماء اور اس کے ماسوا پہ حکومت اسی ذات وحدہ لاشریک کی ہے اور وہی ہر چیز اور ہر نفس کا خالق بھی ہے اور سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا بھی ہے۔ اے اہل کتاب ! ہمارے رسول ﷺ تمہارے پاس ایسے حال میں تشریف لائے ہیں کہ عرصہ دراز سے کوئی نبی معبوث نہیں ہوا تھا۔ علماء فرماتے ہیں کہ پہلے دین کی کچھ نہ کچھ اساس ہوتی تھی کہ دوسرا نبی مبعوث ہوجاتا تھا۔ مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد چھو سو سال کا عرصہ آپ ﷺ کی بعثت تک کوئی نبی مبعوث نہ ہوا۔ اسی کو عہد فترت یعنی ایسا زمانہ زمانہ جس میں تعلیمات نبوت منقطع ہوگئی تھیں کہا جاتا ہے ایسے زمانے میں جہاں نور نبوت یا دین اسلام کی تبلیغ نہ پہنچی ہو وہاں دین عیسوی یا موسوی ہو کسی بھی دین کے نام پر رسومات رہی سہی ان پر کار بند رہنے والا بھی نجات پا جائے گا بشرطیکہ شرک میں مبتلا نہ ہوگیا کہ توحید باری پہ تو ذرہ ذرہ اور پتا پتا گواہی دے رہا ہے تو ارشاد ہوتا ہے کہ یہی دیکھ لو ! صدیوں کے انقطاع نے مخلوق کو کس قدر گمراہ اور سچائی سے دور کردیا تھا۔ لوگ کتنے جاہل تو ہم پرستی اور برائیوں میں مبتلا تھے انسانیت کی تھی ایک جان بلب مریض ، دیکھو ! میرے حبیب ﷺ کا کارنامہ کہ اس لاعلاج مریض کو کیسی صحت نصیب ہوئی کہ ایک بندے کے ہاتھوں پورا عہد پورا زمانہ ، پور انسانیت سدھر گئی پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی کہ کل روز حشر کہو ہمیں تو کوئی سیدھے راستہ پر چلانے یا برے راستے سے روکنے کو آیا ہی نہیں۔ ایک عالم سدھر گیا اور تمہیں خبر نہ ہوئی تم ایسے بد نصیب ہو کہ ابھی مخالفت کی سوچ رہے ہو یہی وہ آنے والا تھا جو تشریف لاچکا بشیر بھی یہی ہے اور نذیر بھی یہی ہستی ہے۔ اللہ کریم نے نے پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے سارے زمانوں اور سارے ملکوں میں اسی کا پیغام ، پیغام حق قرار دیا ہے جو انشاء اللہ پہنچے گا بھی اور غالب بھی ہوگا کہ اللہ ہر چیز پہ قادر ہے۔