Ayah 5:1آیت نمبر 1
لغات القرآن : اوفوا، پورا کرو۔ العقود، (عقد) عہد، وعدہ، قول۔ بھیمۃ، چوپائے۔ الانعام، مویشی۔ جانور۔ یتلی، تلاوت کیا گیا، پڑھا گیا۔ محلی، (محل کی جمع) حلال جاننے والے۔ جائز کرلینے والے۔ الصید، شکار۔ حرم، (حرام کی جمع ہے) ، حالت احرام میں ہونا، ادب و احترام والے۔ یحکم، وہ فیصلہ کرتا ہے۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے انسان کے اعمال کی کسوٹی معاملات کو قرار دیا ہے۔ جو آدمی معاملات میں جنتا صحیح ہے اس کا دین بھی اسی قدر درست ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اے مومنو ! اگر تم ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو معاہدات کی پابندی کرو۔ ان میں وہ معاہدات بھی شامل ہیں جو انسان نے روز ” الست “ اللہ سے کر رکھے تھے۔ جن کی تجدید اس نے دنیا میں آکر کلمہ طیبہ سے کی ہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے خالص اطاعت کا پیمان وفا باندھا ہے۔ ان میں وہ معاہدات بھی شامل ہیں جو انسان نے اپنی ذات سے یا کسی اور شخص سے یا ادارے سے کر رکھے ہیں۔ مثلاً نکاح، خریدوفروخت، ٹھیکہ، اجارہ، دوستی ہبہ، وعدہ وغیرہ۔ ان میں صلح و جنگ کے ثقافت یا لین دین وغیرہ کے وہ قومی اور بین الاقوامی معاہدات بھی شامل ہیں جو ایک حکومت، جماعت یا ادارہ نے کسی دوسری حکومت، جماعت یا ارادہ سے کر رکھے ہوں۔ خواہ زبانی ہوں یا تحریری۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان معاہدات میں کوئی بات خلاف شروع یا ناجائز نہ ہو کیونکہ خلاف شرع کوئی عہد اور معاہدہ کرنا یا اس کا قبول کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔
معاہدہ ایک رسمی لفظ ہے۔ اس کے پیچھے قانون اور اخلاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ قرآن پاک نے لفظ ” عقود “ (جو عقد کی جمع ہے) لاکر اس میں مضبوطی اور تقدس کو داخل کردیا ہے۔ لفظ ” معاہدہ “ باہم دنیاوی مفاد کو ظاہر کرتا ہے۔ لفظ ” عقد “ میں دنیاوی مفاد کی قربانی بھی شامل ہے اور اخروی بھی۔ عقد کے معنی گرہ کے بھی ہیں اور گرہ باندھنے کے بھی ہیں۔ چناچہ ” عقود “ کے معنی وہ گرہیں بھی ہیں جو ایک انسان نے دوسرے انسان سے باندھ رکھی ہیں اور وہ گرہیں بھی ہیں جو پہلے سے بندھی چلی آرہی ہیں اور ہر ایک پر لاگو ہیں۔ مثلاً باپ دادا نے اگر کوئی سمجھوتہ یا وعدہ کرلیا تو اس کی پابندی وارثوں کو بھی کرنی چاہیے۔ لیکن یاد رکھئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے یا جن سے منع کیا ہے اس کو بجالانا اہل ایمان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ بھی ایک بندہ کا اپنے اللہ سے ایک عہد، معاہدہ اور عقد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ” چوپایوں کی قسم کے تمام جانور حلال کر دئیے گئے ہیں سوائے ان کے جن کی حرمت تمہیں سنا دی جائے گی “ ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ دین اسلام کی خصوصیات میں سے یہ بھی ایک خصوصیت ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو حلال اور حرام کا امتیاز عطا کیا ہے۔ دوسرے مذاہب کا دامن زیادہ تر اس سے خالی ہے۔ بدھ، جین، یہود، پارسی وغیرہ مذاہب حلال کی فہرست دیتے ہیں مگر بہت معمولی۔ عیسائیت، ہندومت، چین، جاپان، افریقہ، جنوبی امریکہ، جزائر آسٹریلیا اور تمام وحشی مردم خوراقوام کوئی فہرست نہیں دیتیں۔ نہ حلال کی، نہ حرام کی بلکہ اکثر و بیشتر مذاہب اللہ اور رسول ﷺ ہی کو نہیں سمجھتے احکام اور لازمی اعتقاد کی کوئی کتاب نہیں رکھتے چناچہ ان کے پاس نہ حلال و حرام کا تصور ہے نہ امرونہی کا۔ خوراک اور جنس میں یہی بےلگام جنگلی آزادی نے کمیونزل میں وہ کشش پیدا کردی تھی کہ ہمارے بعض مفکرین نے تو قرآن و سنت کے احکامات کو بھی اس کے رنگ میں ڈھال کر بیان کرنا شروع کردیا تھا مگر کمیونزم کے نظام کی ناکامی نے دنیا کو بتا دیا کہ انسان کی سچی فلاح و بہبود اور کامرانی صرف اللہ کے دین اور اسلام کے ابدی اصولوں کی سچائی سے وابستہ ہے۔ آیت کریمہ میں ” چرنے والے “ کی شرط کے ساتھ ” پالتو “ کی شرط لگا دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جانور (مرغی کی طرح دو پائے یا بکرے کی طرح چار پائے) جن کی غذا نباتات ہے، جو شکاری پنجے نہیں رکھتے۔ جو کینچلی نہیں رکھتے۔ یعنی جو شکار مار کر نہیں کھاتے، غلاظت نہیں کھاتے۔ زہر نہیں رکھتے اور جن کا گوشت انسانی جسم اور انسانی ذوق سلیم کے مناسب ہے وہ حلال ہیں۔ چونکہ غذائی جانور بڑی تعداد میں ذبح کئے جاتے ہیں، اس لئے ان کی پیدائش بھی بہت زیادہ رکھی گئی ہے۔
سورة مائدہ اہل ایمان پر جس پابندی کا ذکر سب سے پہلے کرتی ہے وہ یہ کہ خواہ حج کا قصد ہو، یا عمرہ کا، حالت احرام میں شکار کرنا حرام ہے۔ حالت احرام، کے دو معنی بنتے ہیں۔ حدود حرم یعنی حدود میقات کے اندر خواہ کسی نے احرام نہ باندھا ہو۔ دوسرے حدود حرم کے باہر اگر کسی نے احرام باندھ لیا ہو۔ اس آیت کی رو سے صرف شکار کرنا منع ہے، شکار کا گوست کھانا منع نہیں ہے۔
یہ آیت حلال گوشت ذبح کرنے اور کھانے کی اجازت دیتی ہے اور گوشت کو نبی کریم ﷺ نے تمام غذاؤں کا سردار بتایا ہے۔ اس آیت کا آخری ٹکڑا کہ حلال و حرام کی قید یا اور کوئی شرعی قید کے متعلق بحث اور اعتراض کا دروازہ کھلا ہوا نہیں ہے۔ کوئی سر پھرا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری عقل میں یہ بات نہیں سماتی۔ اس لئے میں نہیں مانتا۔ ماننے اور اطاعت کرنے کی بنیاد ایک اور صرف ایک ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ حلال کردیا تو حلال۔ حرام کردیا تو حرام۔ اللہ اور رسول ﷺ کا کسی چیز کو کرنے یا نہ کرنے کا حکم سب سے پہلا عقیدہ ہے جس کی پابندی بےچون و چرا اہل ایمان پر فرض عین ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس چیز سے رکنے کا حکم ہے وہی سب سے پہلا عقد ہے جس کی پابندی کرنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔
Ayah 5:2آیت نمبر 2
لغات القرآن : لاتحلوا، حلال نہ سمجھو۔ شعآئر، (شعیرۃ) کی جمع ہے، عبادت کی نشانیاں، نام زد چیزیں۔ الشھر الحرام، عزت والا مہینہ۔ الھدی، نیاز کعبہ، حرم کو بھیجا جانے والا جانور۔ القلآئد، (قلادۃ) ، پٹہ۔ ہار (قربانی کے جانور کا ہار) امین، (ام) ۔ کعبہ کا رادہ کرکے چلنے والے۔ البیت الحرام، عزت و احترام کا گھر (کعبۃ اللہ) ۔ حللتم، تم نے حلال کرلیا (احرام کھول دیا) ۔ اصطادوا، تم شکار کرو۔ لایجرمن، تمہیں مجرم نہ بنا دے۔ شنان، دشمنی۔ تعتدوا، تم زیادتی کرتے ہو۔ تعاونوا، تم ایک دوسرے کی مدد کرو۔ البر، نیکی، بھلائی۔ الاثم، گناہ۔ العدوان، حد سے آگے نکل جانا، سرکشی اختیار کرنا۔ العقاب، عذاب۔ سزا۔
تشریح : خطاب پھر اہل ایمان ہی سے ہے جن پر مشرکین نے حج وعمرہ کیلئے مکہ جانے کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ صلح حدیبیہ میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلمانوں کو اس سال واپس جانا ہوگا اور آئندہ سال چند شرائط کے ساتھ عمرہ کیلئے آسکتے ہیں۔ چونکہ مسلمانوں کے جذبات مشتعل تھے، ڈر تھا کہیں جوش میں آکر کچھ انتقامی کا روائی نہ کر بیٹھیں مثلاً جو قافلے حج یا عمرہ کیلئے مدینہ سے جا رہے تھے انہیں روک نہ دیں یا ان کے نذرونیاز کے جانوروں کو چھین نہ لیں یا مار نہ ڈالیں۔ چونکہ مکہ جانے کا راستہ مدینہ کے آس پاس سے گزرتا تھا اس لئے مسلمان ایسا کرسکتے تھے۔ اس آیت میں انہیں ان باتوں سے روک دیا گیا ہے۔ حکم ہے کہ شعائر اللہ یعنی اللہ کی نشانیوں کو نہ چھیڑو خواہ وہ کسی قوم یا مذہب والوں کی طرف سے ہوں۔ جن چیزوں کو یا جن حرکتوں کو کسی قوم یا مذہب نے اپنے عقیدہ و عمل کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بندگی و عبادت کا مظہر یا آلہ کار بنا رکھا ہو وہ مسلمانوں کیلئے واجب الاحترام ہیں۔ بشرطیکہ وہ اسلام کے شعائر سے نہ ٹکراتے ہوں۔ یہ بھی حکم ہے کہ ان مہینوں میں جنگی چھیڑ چھاڑ یا حملہ نہیں کرنا چاہیے۔ تاکہ حج کرنے والے بلا خطر آ اور جاسکیں وہ چار مہینے یہ ہیں۔ ذیقعد، ذی الحجہ، محرم اور رجب۔ البتہ اگر کوئی دشمن حملہ کر دے تو پھر اپنا بچاؤ ضروری ہے
اسی طرح ان جانوروں پر کوئی دست درازی کرنے کی اجازت نہیں ہے جن کے گلے میں وہ پٹے پڑے ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ وہ قربانی کیلئے مخصوص کر دئیے گئے ہیں اور حرم میں جا کر قربان کئے جائیں گے۔ اسی طرح اس قافلہ پر بھی کوئی دست درازی نہیں کی جائے گی جو حج یا عمرہ کی خاطر مکہ جا رہا ہو۔ اور اس کا مقصد اپنے رب کو خوش کرنا اور دعا کرنا ہو۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ کے لئے مکہ جانے والوں کی حفاظت فرمائی اور اس طرح مکہ کا جو رابطہ بیرون مکہ بلکہ بیرون عرب سے چلا آرہا تھا وہ قائم و دائم رکھا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ آئندہ سال مسلمان مکہ پر قابض ہوجائیں گے اور یہ رابطہ تبلیغ اسلام کے کام آئے گا۔ جب شعائر اللہ کی بات ہو رہی ہو تو احرام بھی اسلامی شعائر میں سے ہے۔ اور اس کا ایک احترام یہ ہے کہ احرام باندھنے کے بعد حدود حرم میں شکار نہ کیا جائے۔ ان حالات میں لڑنا، گالی دینا، زخم پہنچانا منع ہے۔ البتہ یہاں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ جب وہ حدود حرم سے باہر آجائیں اور حج یا عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام اتار دیں تو شوق سے شکار کرسکتے ہیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ سے لڑنے کو بھی منع کیا ہے خواہ انہوں نے مسلمانوں کیلئے حج اور عمرہ کا راستہ بند کردیا ہو۔ اگر لڑائی ہوتی تو جو فوائد صلح حدیبیہ اور فتح مکہ سے حاصل ہوئے تھے ان میں شدید رخنے پڑ سکتے تھے۔
آخری آیت میں وہ عظیم الشان اصول پیش کیا گیا ہے جو ہر فلاح و بہبود کا ضامن ہے، جس سے ہر نیکی پھیلتی ہے اور ہر برائی گھٹتی ہے۔ یعنی ہر شخص پر لازم ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے کام میں شریک ہو اور ہر طرح تعاون کرے۔ لیکن گناہ اور ظلم کے کام میں ہرگز کوئی حصہ نہ لے اور جتنا دور رہ سکے دور ہی رہے۔ یہ تعاون غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے بلکہ ہونا چاہیے۔
” تعاون “ تنظیم کا دروازہ ہے جب بہت سے لوگ کسی نیک مقصد میں لگے ہوں تو ہر شخص کی ذمہ داری اور فرائض مقرر ہونا چاہئیں ورنہ کام خراب ہوجائے گا۔ اس میں کم از کم ایک شخص ذمہ داری اور فرائض مقرر کرنے والا، نگرانی کرنے والا اور احتساب کرنے والا ضروری ہے۔ اس طرح نیک کام میں حصہ لیتے ہیں تنظیم کی ضرورت پڑجاتی ہے ۔ اور تنظیم کے بغیر کوئی اچھی یا بری تحریک نہیں چل سکتی ۔ اس آیت نے مسلمانوں پر تعاون کا حکم دے کر تنظیم کا حکم دے دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں تحریک اور تنظیم کی ضرورت دن بدن زیادہ محسوس ہو رہی ہے ۔ اب برے کاموں کیلئے بھی خفیہ یا علانیہ تنظی میں بننے لگی ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کیلئے ضروری ہے کہ نیک کاموں کیلئے تنظی میں بنائیں اور ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بےلوث اور بےغرض تعاون کرے۔
Ayah 5:3آیت نمبر 3
لغات القرآن : المیتۃ، مردار جانور۔ مرا ہوا۔ الدم، خون۔ اھل، پکارا گیا۔ نام لیا گیا۔ لحم الخنزیر، سور کا گوشت۔ المخنقۃ، گلا گھونٹ دیا گیا۔ الموقوذۃ، چوٹ کھا کر مارا گیا۔ چوٹ سے مرا ہوا۔ المتردیۃ، کسی اور نچی جگہ سے گر کر مر گیا ہو۔ النطیحۃ، سینگ مارا گیا ہو۔ ٹکر سے مر گیا ہے۔ السبع، درندہ۔ ذکیتم، تم نے ذبح کرلیا۔ ذبح، ذبح کیا گیا۔ النصب، عبادت کی جگہیں۔ تستقسموا، تم تقسیم کرو، تم قسمت معلوم کرو۔ الازلام، (زلم) پانسے کے تیر۔ ذلکم، ان سب میں۔ فسق، گناہ۔ یئس، مایوس ہوگیا (مایوس ہوگئے) ۔ لا تخشوا، تم نہ ڈرو۔ اخشون، مجھ سے ڈرو (اخشونی میں ” ی “ گر گئی) ۔ اکملت، میں نے مکمل کردیا۔ اتممت، میں نے پورا کردیا۔ رضیت، میں راضی ہوگیا۔ میں نے پسند کرلیا۔ اضطر، مجبور ہوگیا۔ مخمصۃ، بھوک ۔ بھوک کی بےقراری۔ غیر متجانف، مائل نہ ہو۔ نہ جھکنے والا۔
تشریح : اس آیت نے گیارہ قسم کے جانور بطور غذا حرام کر دئے ہیں اور ان کی بھی دو قسمیں کردی ہیں۔ (1) وہ جانور جو قطعاً حرام ہیں جیسے مردار جانور مگر حدیث کی رو سے مچھلی اور ٹڈی مردار نہیں ہیں اور بغیر ذبح کھائی جاسکتی ہیں۔ (2) خون کا پینا قطعاً حرام ہے لیکن وہ خوب جو جم کر دیک شکل اختیار کرلے وہ حلال ہے جیسے کلیجی اور جگر اسی لئے حدیث شریف میں جہاں میتہ سے مچھلی اور ٹڈی کو مستثنیٰ فرمایا اسی میں جگر اور تلی کو خون سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح خطرناک بیماریوں میں ماہر ڈاکٹروں کے مشورے سے ضرورت کی بنیاد پر جو خون چڑھایا جاتا ہے وہ بھی جائز ہے (3) سور کا گوشت جس میں ہڈی، چمڑا، چربی، بال اور ہر جز شامل ہے۔ (4) وہ جسے غیر اللہ کا نام لے کر یا غیر اللہ کیلئے ذبح کیا گیا ہو۔ (5) وہ جو کسی استھان یا آستانے پر ذبح کیا گیا ہو اور کسی مخلوق سے منسوب یا کسی خاص مشرکانہ و کافرانہ عقیدہ سے وابستہ ہو۔ اور جس مشترکہ جانورکا گوشت ہر شریک کے حصہ میں شرکت کے مطابق تقسیم کرنے کے بجائے ان جوئے کے تیروں سے یا پانسہ پھینک کر کی گئی ہو جس سے کوئی بالکل محروم ہوجائے۔ اور کسی کو بہت زیادہ اور کسی کو حق سے کم ملتا ہے۔
دوسری قسم کا وہ حلال جانور ہے جو زخمی ہو یا کسی طرح موت کے قریب ہو لیکن اگر موت سے پہلے ذبح کرلیا جائے تو حلال ہے۔ ان کی پانچ قسمیں ہے۔ (1) وہ جس کا گلا گھٹ گیا ہو یا گھوٹا گیا ہو لیکن جان باقی ہو۔ (2) وہ جو کسی پتھر یا ڈنڈے یا کسی ارادی یا غیر ارادی ضرب سے چوٹ کھا کر مر گیا ہو (3) وہ جو بلندی سے اتفاقاً گر پڑا ہو یا ارادتاً پٹک دیا جائے (جس طرح نیپال میں گائے کو بلندی سے پٹک کر مارتے ہیں) (4) وہ جو ٹرین یا بس یا دیوار یا پہاڑ وغیرہ سے ٹکر کھا گیا ہو اور (5) جسے کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو۔ خواہ ابھی یا پہلے۔
اس سے ظاہر ہے کہ مچھلی اور ٹڈی کے سوا حلال جانور کو حلال کرنے کا واحد حلال ذریعہ ذبح ہے۔ پیٹ چاک کردینا یا جھٹکا کردینا یا مشین سے ماردینا یا گیس اور زہر یا زہر یلے انجکشن سے مار دینا وغیرہ وغیرہ یہ سب حرام طریقے ہیں۔ آج کل جو مغرب یا مشرق سے ڈبہ بند مرغی چڑیا یا بکری بھیڑ گائے وغیرہ کے گوشت درآمد ہو رہے ہیں جب تک تصدیق نہ ہوجائے ان کا استعمال بالکل نہ کریں۔ کیوں کہ وہ زیادہ تر مشین سے یا گیس سے (بیک وقت سینکڑوں یا ہزاروں کی تعداد میں) مارے گئے ہیں۔ اسی طرح غیر مسلم ہوٹلوں میں بلا تحقیق گوشت نہیں کھانا چاہئے۔ کیونکہ مشکوک ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہے۔ جو مسلمان یورپ، بھارت، برما، امریکہ، کینیڈا، چین، جاپان، سنگاپور، تھا ئی لینڈ، افریقہ، آسٹریلیا وغیرہ میں رہتے ہیں وہ خاص طور پر ہوٹلوں سے ہوشیار رہیں۔
خصوصاً ان ہوٹلوں سے جہاں شراب بھی سپلائی ہوتی ہے۔
صرف ذبح کیوں حلال ہے ؟ (1) ذبح کرنے والا مسلمان ہوتا ہے۔ ذبح کے وقت وہ اللہ کا نام لیتا ہے اور وہ کلمات پڑھتا ہے جو مقدس معاہدہ میں بندے اور اللہ کے درمیان ہوتا ہے۔ (2) ذبح کرنے سے موت میں دیر نہیں لگتی اور جانور کو کم سے کم تکلیف ہوتی ہے۔ (3) سارا خون بہہ کر گردن سے نکل جاتا ہے۔ ادھر ادھر جم کر گوشت کو بدمزہ نہیں کرتا۔ اور سب سے بڑھ کر (4) یہ سکون ہوجائے کہ جانور کے اندر زہر داخل نہیں ہوا۔ اگر مچھلی ہے تو یہ گارنٹی ذبح کے ذریعہ نہیں بلکہ تازگی کے ذریعہ ملتی ہے۔ (5) ذبح سنت ابراہیمی ہے۔
جس طرح اور جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے اسی طرح اونٹ حلال کرنے کا مسنون طریقہ نحر ہے جس میں اس کو کھڑا کرکے اس کا ایک پاؤں باندھ کر حلقوم میں نیزہ یا چھری مار کر خون بہا دیا جاتا ہے۔ اس آیت کے اخیر میں اضطرار اور خطرہ موت کی حالت میں حرام گوشت کھانے کی اجازت دی گئی ہے شرط یہ ہے کہ کھانے والا نافرمانی اور گناہ کا جذبہ نہ رکھتا ہو۔ صرف وقتی طور پر جان بچانا چاہتا ہو۔ سورة بقرہ میں حرام کھانے کے سلسلے میں دو شرطین اور بڑھا دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کھانے میں اپنی ضرورت ہی پیش نظر ہو اللہ کے قانون کو توڑنا مقصد نہ ہو دوسرے یہ کہ بقدر ضرورت ہی استعمال کیا جائے ضرورت کی حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ حرام صرف حالت اضطرار میں بھوک رفع کرنے کیلئے ہے۔ مزہ لے لے کر کھانے کے لئے نہیں ہے۔
اس آیت کے بیچ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آج کفار اسلام پر غالب آنے سے مایوس ہو کر طرح طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں۔ فرمایا کہ تم ان کی ان حرکتوں سے نہ ڈرو بلکہ اپنے اللہ کا خوف دل میں رکھو۔ مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جس وقت تم بہت تھوڑے سے تھے اور بہت مغلوب اور مظلوم تھے۔ اس وقت تم کفار سے نہ ڈرے۔ تم نے ہر طرح جہاد کیا۔ آج ڈرنے کی کیا وجہ ہے جب کہ تمہیں ان پر غلبہ نصیب ہوچکا ہے۔ اور سارا عرب تمہارے زیر انتظام آچکا ہے۔ ڈر ہے تو صرف اللہ کا دنیا کی کافرانہ طاقتیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ دین اسلام صرف چند ظاہری عبادات کا نام نہیں ہے یا ادھر ادھر کے چند منتشر احکام نہیں ہیں بلکہ ایک پورا نظام زندگی ہے جس کیلئے فرمایا گیا ” آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا ہے “ ۔ یہ آیت وحی قرآنیہ کی آخری آیت ہے یا تقریباً آخری آیات میں سے ہے۔ میدان عرفات میں عصر کے وقت حجتہ الوداع کے اس مبارک موقع پر نازل ہوئی۔ جب تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہ کرام ؓ آپ کے سامنے موجود تھے اور ان میں کوئی مشرک شامل نہ تھا۔ اس آیت میں حلال و حرام جانور کی تفریق کی گئی ہے۔ اس کے بعد حکم یا منع کے سلسلے میں کوئی ایت نازل نہ ہوئی۔ ہاں ترغیب و ترہیب کی چند آیات نازل ہوئی ہیں۔ چناچہ اس آیت کے بعد دین مکمل ہوگیا ہے۔ اب اس میں قیامت تک کسی اضافہ یا تنسیخ کی نہ حاجت ہے اور نہ گنجائش۔ اس آیت کے نازل ہونے کے لگ بھگ اکیاسی دن بعد حضور ﷺ کا وصال ہوگیا اور وحی ، نبوت اور رسالت کا دروازہ قیامت تک کے لئے بند ہوگیا ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکمیل دین اللہ کی طرف سے بندوں پر اتمام نعمت ہے اس دین پر چلنے سے نہ صرف دنیا کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں بلکہ آخرت کی نعمتیں بھی نصیب ہوں گی۔ اسی کے ذریعہ بندہ جنت تک پہنچ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے بندوں کی رہنمائی کے لئے ایک مکمل نظام فکر ، نظام عبادت اور نظام عمل کا آجانا جو زندگی کے تمام انفرادی، اجتماعی، مادی اور روحانی وگشوں پر حاوی ہو، اتمام نعمت نہیں تو اور کیا ہے۔
فرمایا گیا کہ خبردار دین اسلام کے سوائے کوئی دوسرا طریقہ اللہ کو قبول نہیں ہے۔ اس تمام نعمت کا اس کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ اللہ کو خوش کرنے اور دنیا میں اس کی مدد حاصل کرنے کا اس کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں ہے اور آخرت میں اس کی جنت حاصل کرنے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ اس لئے حلال و حرام کی جو پابندیاں لگا دی گئی ہیں، ان پر تمام و کمال عمل کیا جائے۔ یہ پابندیاں طبی نقطہ نظر سے بھی ہیں اور ذہنی، اخلاقی اور روحانی نقطہ نظر سے بھی۔
Ayah 5:4آیت نمبر 4
لغات القرآن : احل، حلال کیا گیا۔ الطیبت، (طیبۃ) ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھری چیزیں۔ علمتم، تم نے پڑھایا۔ سکھایا۔ الجوارح، (جارحۃ) ۔ جانور جو چھپ کر شکار کر دبوچ لے۔ زخمی کرنے والے۔ مکلبین، (تکلیب) ۔ شکار پر جھپٹنے والے تعلمون، تم سکھاتے ہو۔ سیدھاتے ہو۔ امسکن، وہ روکیں۔ پکڑیں۔ اذکروا، یادرکھو۔ (پڑھو) ۔ سریع الحساب، جلد حساب لینے والا ہے۔
تشریح : کتا، شکرہ اور شکاری جانوروں کے ذریعہ شکار پکڑنا اور کھانا جائز ہے شرط یہ ہے کہ (1) پکڑا ہوا جانور حلال اور پاکیزہ ہو (2) شکاری جانور کو شکار پکڑنا سکھایا گیا ہو (3) شکاری جانور نے شکار پکڑ کر مالک کے لئے رکھا ہو یعنی خود نہ کھایا ہو۔ شکرہ اور باز کے لئے شرط یہ ہے کہ جب مالک واپس بلائے فوراً واپس آجائے اگرچہ وہ شکار کے پیچھے دوڑ رہا ہو۔ اگر وہ اپنی مرضی سے اس کا شکار کرتا ہے تو اس کا شکار مالک کے لئے جائز نہیں ہے۔ بہرحال ہر اس شکار کا ذبح ہونا ضروری ہے جو زندہ مل جائے۔ (4) مالک کے لئے ضروری ہے کہ شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے ہوئے اللہ کا نام لے یعنی بسم اللہ پڑھے۔ (6) اس سارے معاملہ میں ناجائز ظلم اور زندگی کا مظاہرہ نہ ہو۔ بلکہ اللہ کا خوف دامن گیر رہے ۔ اس کی بہرحال احتیاط رہے کہ شکار کی مشغولیت میں نماز وغیرہ چھوٹ نہ جائے۔ اجماع امت ہے کہ وہ سارے جانور حرام ہیں جو خونخوار ہیں۔ بےحیا ہیں، گندے ہیں یا گندگی کھاتے ہیں، انسانی صحت کے لئے مضر ہیں یا کسی طرح ذوق سلیم پر گراں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض جانور بعض لوگوں کے ذوق پر گراں اور سخت گراں ہیں لیکن دوسرے لوگوں کی مرغوب غذا ہیں۔ مثلاً کیڑے مکوڑے سانپ وغیرہ اہل چین کی مرغوب غذا ہیں۔ یورپ اور امریکہ کے لوگ سور کا گوشت شوق سے کھاتے ہیں۔ بعض وحشی وقومیں گدھا کھاتی ہیں۔ بہرحال مسلمانوں کو وہ سارے جانور منع کر دئیے گئے ہیں جو حرام ہیں۔ اور جن میں گندگی ، درندگی اور بےحیائی پائی جاتی ہے وجہ یہ ہے کہ انسان جس جانور کا گوشت کھاتا ہے اس جانور کا مزاج بھی اس گوشت کے ساتھ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے جب کہ دین اسلام پاکیزگی، امن و سلامتی اور شرم و حیا کا درس دیتا ہے۔
Ayah 5:5آیت نمبر 5
لغات القرآن : طعام، کھانا۔ (مراد ہے ذبیحہ) ۔ المحصنت، پاک دامن عورتیں۔ اتیتموھن، تم نے ان کو دیا۔ ادا کردیا۔ اجور، (اجر) ۔ بدلہ۔ مہر۔ محصنین، حفاظت میں لینے والے۔ مسافحین، خواہشیں پوری کرنے والے۔ متخذی، (نون گر گیا) ۔ بنانے والے۔ پکڑنے والے۔ اخدان، چھپ کر دوستی کرنا۔ حبط، ضائع ہوگیا۔ (ہوگئے) ۔
تشریح : گزشتہ آیت کے پہلے حصہ کو تاکید کے لئے دہرایا گیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے ہر لطیف اور صحت مند گوشت حلال کردیا گیا ہے۔ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر مل جل کر کھایا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہاں کوئی حرام چیز نہ ہو اور گوشت حلال ذبیحہ کا ہو۔
اسی طرح اہل کتاب کی نیک چلن شریف خاندانی عورت سے ایک مسلمان کی شادی اس شرط پر ہوسکتی ہے کہ باضابطہ رسم نکاح ہو اور مہر بھی مقرر کیا گیا ہو اور وہ عورت اپنی کتاب پر ایمان رکھتی ہو۔
قرآن و حدیث نے صرف یہود و نصاریٰ کو اہل کتاب کہا ہے اور ان سے بھی شادی کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ صرف عام اقوام عالم کی طرح نام کے عیسائی اور یہودی نہ ہوں بلکہ حقیقی معنی میں اہل کتاب ہوں۔ دوسرے یہ کہ اہل کتاب کے مرد سے کسی مسلمان عورت کا نکاح حلال نہیں ہے۔ اولاد باپ کی ہوتی ہے اگر غیر مسلم مرد سے مسلمان عورت کا نکاح ہوگا تو ممکن ہے وہ اپنی اولاد کو یہودی یا عیسائی بنا لے گا جو ملت اسلامیہ کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔ اگر یہ خطرہ ہے تو دوسری طرف ایک اور خطرہ بھی ہے کہ اجازت کے باوجود اگر کسی اہل کتاب عورت سے کسی مسلمان نے شادی کرلی تو ممکن ہے وہ اپنی اولاد کو یہودی یا عیسائی بنا لے گی اسی خطرہ کی وجہ سے حضرت عمر فاروق ؓ نے اس سے منع کردیا تھا کہ اہل کتاب کی عورتوں سے شادیاں کی جائیں ۔ اس آیت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس بات کو اس طرح سمجھنا آسان ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان مرد کو چار شادیوں تک کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس کا حکم نہیں دیا گیا کہ ہر شخص چار شادیاں ضرور کرے اگر کوئی شخص چار شادیاں نہیں کرے گا تو وہ مسلمان ہی نہ رہے گا۔ یہ تو کبھی کبھی انسانوں کی شدید ضرورت بن جاتی ہے لہٰذا اگر کوئی ایسا موقع آجائے تو اس حکم سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے تاریخ میں بہت سے واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ اہل کتاب عورتوں سے نکاح مسلم امت کو بہت مہنگا پڑا ہے اور اس سے شدید نقصان پہنا ہے اس لئے علماء کی رائے یہ ہے کہ اہل کتاب عورتوں سے شادیاں نہ کی جائیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ فقہا نے فرمایا ہے کہ اس ایک آیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان لوگوں کا شمار اہل کتاب میں نہیں کیا جائے گا جو کسی طور سے تو اہل کتاب کہلاتے ہوں اور سرکاری خانہ پری یا سیاسی یا معاشرتی فوائد کیلئے اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہوں لیکن نہ تو اللہ کو مانتے ہوں نہ کسی نبی کو مانتے ہوں نہ کسی کتاب کو مانتے ہوں نہ کسی اصول اور ضابطہ کے پابند ہوں مثلاً موجودہ کمیونسٹ۔ لادین اور بد دین لوگ ان کی عورتیں حرام ہیں خواہ وہ یہودی کا لیبل لگائیں یا عیسائی کا۔ نیز علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگرچہ اس آیت نے اہل کتاب کی شریف نیک چلن خاندانی عورتوں سے شادی کی اجازت دے دی ہے۔ پھر بھی بہتر ہے کہ مسلمان ان سے بچتے رہیں خصوصاً وہ مسلمان جو کسی مسلم ریاست میں جنگی یا ملت کے کسی اہم عہدہ پر فائز ہیں کیونکہ یہ عورتیں راز لینے کیلئے آتی ہیں یا دولت لوٹنے کو ضرور آتی ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے بعض اہم صحابہ کو کتابیہ عورتوں سے شادی کرنے سے روکا ہے اور اگر وہ شادی کرچکے ہیں تو ان کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ ان کے سامنے نہ صرف یہ خطرات تھے بلکہ یہ بھی کہ اگر مسلم مرد حسن و جمال کی خاطر کتابیوں سے شادی کرنے لگیں گے تو پھر مسلم عورتوں کو رشتہ ملنا مشکل ہوجائے گا۔
Ayahs 5:6–7آیت نمبر 6 – 7
لغات القرآن : قمتم (تم کھڑے ہوئے) ۔ وجوہ (وجہ) ، چہرے) ۔ ایدی (دونوں ہاتھ۔ (یہاں نون گرگیا) ۔ المرافق (مرفق) ۔ کہنیاں) ۔ امسحوا (تم مسح کرو۔ (سر پر ہاتھ پھیرنے کو مسح کہتے ہیں) ۔ رءوس (راس) ۔ سر) ۔ ارجل (رجل) ۔ پاؤں) ۔ الکعبین (الکعب) ۔ ٹخنے (پاؤں کی ابھری ہوئی ہڈی) ۔ جنبا (جنابت) ۔ ایسی حالت جس میں غسل واجب ہوتا ہے) ۔ اطھروا (تم اچھی طرح پاک ہوجاؤ) ۔ الغآئط (رفع حاجت کی جگہ۔ (نیچی جگہ) ۔ لمستم (لمس، ملامسۃ) ۔ تم نے چھوا۔ ہاتھ لگایا (مراد ہے صحبت کرنا) ۔ مآء (پانی) ۔ تیمموا (تیمم کرو۔ (ارادہ کرو) ۔ صعیدا (مٹی) ۔ طیبا (پاک۔ صاف ستھری) ۔ حرج (گناہ۔ تنگی) ۔ لیتم (تاکہ وہ پورا کرلے۔ مکمل کرے) ۔ میثاق (عہد۔ وعدہ۔ معاہدہ ) ۔ واثق (مضبوط کیا ۔ ٹھہر ایا) ۔ (مواثقۃ۔ پکا وعدہ لینا) ۔
تشریح : آیت نمبر 6 میں اللہ تعالیٰ نے وضو اور تیمم کے متعلق ہدایات دی ہیں کہ کس طرح وضو اور تیمم کرنا چاہئے اور کیوں کرنا چاہئے۔ حضور اکرم ﷺ نے ہمیں وضو کرکے بتایا ہے اور ارشاد ہے کہ سر میں گردن کا پچھلا حصہ، کون کے سوراخ، ناک کے سوارخ اور داڑھی شامل ہے۔ اور وضو میں ان اعضاء کا مسح اور غسل بھی سنت ہے جب کہ غسل واجب میں ان تمام اعضاء میں بھی پانی پہنچانا لازمی ہے۔ اگر داڑھی ہے تو صرف خلال کافی ہے۔ نیز کلی کرنا اور دانتوں میں بھی پانی پہنچانا ضروری ہے۔ سر کے بالوں کا مسح ٹوپی، عمامہ، اسکارف اتار کر کرنا چاہئے۔ لیکن اگر پاؤں میں چمڑے کا موزا ہو تو بھیگی انگلیوں سے موزوں کے اوپر کا مسح کافی ہوگا۔ مقیم کے لئے چوبیس گھنٹے اور مسافر کیلئے تین دن اور تین رات تک، چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے لیکن نائیلون کے یا کپڑے کے موزوں پر مسح کرنے سے وضو نہیں ہوتا۔ جنابت کی حالت میں پوری جسم کا غسل ضروری ہے۔ اس کے بغیر طہارت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر جنابت کی حالت ہے یا کوئی رفع حاجت سے آئے یا کسی نے عورت سے قربت کی ہو یا کوئی بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو اور پانی نہ ملے یا پانی صحت کیلئے سخت مضر ہو تو تیمم کرلیا جائے۔ اللہ نے مسلمانوں پر تنگی کے عوض آسانی کا راستہ کھول دیا ہے۔ لیکن تیمم شریعت کی تمام پابندیوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔
طہارت یعنی غسل ، وضو یا تیمم اور اس کے بعد نماز یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ اللہ سے براہ راست ملاقات اور گفتگو ہے اور دعا یعنی مزید نعمتوں کی طلب ہے۔ اس ملاقات کے لئے دل کی پاکیزگی ضروری ہے اور دل کی پاکیزگی کیلئے جسم کی پاکیزگی ضروری ہے۔ وضو اور تیمم ایک خاص نفسیاتی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ اب اللہ کا بندہ دوسرے تمام تعلقات سے کٹ کر اور ہٹ کر اپنے رب کی ملاقات کے لئے تیار ہوتا جاتا ہے۔
” سمعنا واطعنا “ یعنی ہم جیسے ہی آپ کا حکم سنیں گے ، ویسے ہی اطاعت کریں گے۔ یہ الفاظ سورة بقرہ کے آخر میں آئے ہیں جو حضور ﷺ کو معراج کے موقع پر عطا کئے گئے تھے۔ نماز چونکہ مومنوں کی معراج ہے اس لئے اس کا خاص تعلق مومن کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ یہ پختہ عہد ہے جو اللہ نے لیا ہے۔ جب کوئی ایمان لے آیا تو اب اس کو ایمان کے ثبوت میں نماز کی طرف جانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کے حال کو جانتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرلیا جائے یعنی قلبی حضوری پیدا کی جائے۔ اسی سے لو لگائی جائے۔ اسی سے اپنی امید اور اپنا خوف بھی وابستہ کیا جائے۔
قرآن میں اس مقام پر بار بار اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید آئی ہے۔ کیونکہ تقویٰ ہی تمام عبادات اور معاملات کی بنیاد ہے۔ (یہاں تک حقوق اللہ کا بیان تھا اب آگے حقوق العباد کا ذکر آرہا ہے) ۔
Ayahs 5:8–10آیت نمبر 8-10
لغات القرآن : قوامین کھڑے ہونے والے۔ (قوام کی جمع) ۔ شھدآء (شھید) ۔ گواہی دینے والے) ۔ الا تعدلوا (یہ کہ تم انصاف نہ کرو) ۔ اقرب (زیادہ قریب) ۔ اصحب الجحیم (جہنم والے)
تشریح : ” شھدا “ یا ” قوامین “ کے الفاظ جمع آئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ۔ انصاف کرنے اور کروانے کیلئے ایک جماعت کی ضرورت ہے جو اللہ کی راہ میں مضبوطی سے ڈٹ جائے۔ نہ کوئی خوف اسے ڈرا سکے نہ کوئی امید اسے کرید سکے۔ شہادت کے معنی صرف گواہی کے ہی نہیں ہیں جو عدالت کے کٹہرہ میں کسی مقدمہ کے لئے دی جاتی ہے۔ شہادت کے معنی سچائی پر قائم رہنے کے وہ سارے اعمال ہیں جن سے قوم کا کردار بنتا ہے۔ جن سے سچائی قائم ہوتی ہے، جو ایمان اور اللہ کے خوف کی علامات ہیں۔ یہ شہادت ہر اس طریقے کے منافی ہے جو سچے انصاف تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہے مثلاً رشوت ، بےایمانی، دھوکا، جھوٹ، عدالت میں جھوٹا بیان، جھوٹے ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ، امتحانات میں جھوٹے نمبر اور تجارت میں دھوکا اور حرام کمائی ، عورتوں ، مزدوروں، ہاریوں اور کمزوروں کا حق مارنا، کام چوری کرنا، جھوٹی سفارش کرنا یا ماننا ، اقتدار اور اختیار کا ناجائز استعمال وغیرہ وغیرہ۔ شہدا جمع ہے شہید کی۔ شہید اور شاہد میں فرق یہ ہے کہ شہید ایک ایسا شخص ہے جو سچ ، سچائی، انصاف اور ایمان کا مستقل عادی ہے۔ یہ خوبیان اس کی فطرت ثانیہ ہیں خواہ اس راہ میں اس کی جان ہی چلی جائے۔ شاہد وہ ہے جس نے ایک یا چند بار یہ خوبیاں دکھلا کر اپنا کردار پیش کیا ہو
سورة المائدہ کی آیت نمبر 8 سورة النساء کی آیت نمبر 135 کے مضمون کو مکمل کرتی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ ہی کے لئے انصاف کی شہادت دینے والوں میں مضبوطی سے شامل ہوجاؤ خواہ تمہاری گواہی اور تمہارے انصاف کی زد تمہارے اپنے مفاد
پر پڑے یا تمہارے والدین اور دیگر رشتہ داروں پر پڑے اور خواہ کوئی فریق معاملہ امیر ہو یا غریب۔
سورة المائدہ کی اس آیت میں ایک دفعہ پھر تاکید کی گئی ہے کہ اللہ ہی کے لئے انصاف کی شہادت دینے والوں میں مضبوطی سے شامل ہوجاؤ۔ اس اضافے کے ساتھ کہ فرد یا جماعت کی دشمنی میں مشتعل ہو کر کوئی بھی شخص انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑ بیٹھے۔ اگر کوئی انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑتا ہے تو کسی فریق کی دوستی کی وجہ سے یا کسی فریق کی دشمنی کی وجہ سے اور یہ دونوں باتیں اللہ کو ناپسند ہیں سورة النساء اور سورة المائدہ کی آیات نے ان دونوں صورتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔
آیت نمبر 7 میں کہا گیا تھا کہ جب تم حقوق اللہ ادا کرنے لگو تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اس آیت نمبر 8 میں پھر سے تاکید کی گئی ہے کہ انصاف کے معاملے میں جب تم حقوق العباد ادا کرنے لگو تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یہاں تاکیداً کہا گیا ہے کہ انصاف کرو انصاف۔ یہ تقویٰ سے قریب ہے۔ اور تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ تمہارے سینے کے رزا اور تمہارے اعمال سب اس کو اچھی طرح معلوم ہیں۔ تقویٰ اللہ کا پہچاننے کی آخری منزل کا نام ہے۔ جس کی پہلی منزل ایمان سے شروع ہوتی ہے ۔ اور دوسری اعمال صالحہ سے۔
آیت نمبر 8 کا خطاب ایمان لانے والوں سے ہے۔ فرمایا گیا کہ اے وہ لوگو جو تقویٰ کی پہلی اور دوسری منزلوں میں داخل ہوچکے ہو۔ آگے بڑھو۔ نہ صرف ذاتی طور پر انصاف کرو بلکہ جماعتی طور پر بھی انصاف کراؤ۔ اس جماعت میں شریک ہوجاؤ جس نے اللہ کی راہ میں کمر کس لی ہے۔ اور فولادی قوت ارادی کے ساتھ انصاف کا دامن پکڑ لیا ہے خواہ اس راہ میں گواہی سے لے کر جان دینے تک کوئی بھی منزل آجائے۔ اہل ایمان کو بتایا جا رہا ہے کہ شہادت کا تعلق صرف عدالتی کاروائی سے نہیں ہے۔ خواہ تم ملزم ہو یا گواہ ہو، قاضی ہو یا فریق معاملہ خواہ قومی زندگی میں تم کوئی بھی ہو اور کسی بھی کام میں لگے ہو۔ وہی کرم کرو جو میزان عدل میں صحیح بیٹھے۔ دنیا کے ذرا سے فائدے کے لئے کسی کی دوستی یا دشمنی میں ظلم نہ کر بیٹھ۔
مزید تحریک اور تادیب کے لئے ان آیات میں اللہ نے انصاف والوں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور ظلم کرنے والوں کے لیے ابدی جہنم کا۔
Ayah 5:11آیت نمبر 11
لغات القرآن : ھم، ارادہ کیا۔ ان یبسطوا (یہ کہ وہ بڑھائیں ۔ کھولیں) ۔ کف (روک دیا) ۔ یتوکل (بھروسہ کرتا ہے)
تشریح : مفسرین میں ایک جماعت کہتی ہے کہ اس آیت کا تعلق پچھلی آیات سے ہے ۔ سورة المائدہ کی آیت نمبر 6 میں خاص طور پر مشرکین مکہ کا ذکر ہے ۔ آیت نمبر 7 میں کہا گیا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم انصاف کا دامن ہی چھوڑ بیٹھو۔ فرمایا گیا کہ اللہ احسان کو یاد کرو۔ یہاں پر اللہ کے احسان سے مراد یہ ہے کہ کبھی تم انتہائی کمزور تھے ۔ اس وقت بھی مشرکین مکہ کا زور تم پر چلنے نہیں دیا ورنہ تم تباہ وبر باد ہوجاتے ۔
مفسرین کی دوسری جماعت اس آیت کا رشتہ اگلی آیت سے جوڑتی ہے جس میں بنی اسرائیل کا ذکر ہے ۔ مدینہ کے
یہودیوں نے بار بار رسول اکرم ﷺ کو قتل کرنے اور ان کی جماعت مو منین کو ختم کردینے کا منصوبہ بنا یا اور ان منصوبوں پر عمل بھی شروع کردیا لیکن کچھ غیبی امداد ایسی آئی کہ ان کے منصوبے خاک میں مل گئے۔
اس آیت کا تعلق خواہ مشرکین مکہ سے ہو یا مدینہ کے یہودیوں سے یا دونوں سے ان واقعات میں واضح شہادت موجود ہے کہ کوئی غیبی ہاتھ کام کررہا تھا ۔ اور یہ ہاتھ اللہ کا تھا ۔ بیشک دنیاوی تدبیر کرنا ضروری ہے لیکن کام کرنے والی ہمیشہ دوطاقتیں رہی ہیں ۔ ایک وہ جو نظرآتی ہے دوسری وہ جو نظر نہیں آتی۔ اور یہ دوسری قسم کی طاقت اپنے پاس ” ہاں “ اور ” نہیں “ کی ساری کلیدیں رکھتی ہے ۔ پہلی قسم کی طاقتیں صرف بہانہ ہیں ۔ ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ ہر طرح کے علاج کے باوجود بادشاہوں اور آمروں کو موت آجاتی ہے۔ پیدائش، موت، صحت، رزق، غم، خوشی، ناکامی، کامیابی، اتفاق، حادثہ، اولاد، رشتہ شادی وغیرہ وغیرہ ان سب کا تعلق پردہ غیب سے ہے۔ ظاہری حرکتوں میں جو جو تھوڑی سی برکت ہے وہ اسی لئے کہ انسان صلاحتیں بیکار نہ پڑجائیں اور دنیا کی گرمی و سرگرمی باقی رہے۔
اس لئے ظاہری تدبیروں کے باوجود ، اہل ایمان کو تمام تر توکل (بھروسہ) اللہ ہی پر کرنا چاہئے اور یہ توکل تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 5:12–13آیت نمبر 12-13
لغات القرآن : بعثنا (ہم نے بھیجا) اثنی (اثنین) ۔ دو ۔ (نون گرگیا) ۔ اثنی عشر (بارہ) ۔ نقیباً (نگرانی کرنے والے سردار) ۔ عزرتموھم (تم نے ان کی مدد کی) ۔ اقرضتم (تم نے قرض دیا) ۔ قرضا حسنا (قرض حسن (جس میں اپنا لالچ نہ ہو اور دوسرے کو فائدہ پہنچے) ۔ لاکفرن (میں دور کر دوں گا) ۔ سیئات (سیئۃ) برائی) ۔ ادخلن (میں ضرور داخل کروں گا) ۔ ضل (بھٹک گیا) ۔ سوآء السبیل (سیدھا راستہ) ۔ نقض (توڑنا) ۔ لعنا (ہم نے لعنت کی۔ دور کیا ہم نے) ۔ قاسیۃ (سخت) ۔ یحرفون (وہ پھیرتے ہیں (تحریف۔ جگہ سے بےجگہ کرنا۔ تبدیل کرنا) ۔ مواضع (جگہیں) ۔ نسوا (وہ بھول گئے) ۔ ذکروا (یاد دلائے گئے۔ نصیحت کئے گئے) ۔ لاتزال (ہمیشہ) ۔ تطلع (تو مطلع ہوتا رہتا ہے۔ تجھے خبر ملتی رہتی ہے) ۔ خآئنۃ (خیانت کرنے والی۔ بےایمانی کرنے والی) ۔ اصفح (درگزر کر) ۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے عہد صرف مومنوں ہی سے نہیں لیا ہے بلکہ ان سے پہلے یہود سے اور نصاریٰ سے بھی عہد لیا تھا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں ہر ایک کے لئے جدا جدا ذیلی سردار مقرر کئے تھے جو اپنے اپنے قبیلوں کے نگراں تھے۔ بنی اسرائیل سے معاہدہ کی شرائط یہ تھیں۔
(1) اگر تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے رسولوں پر ایمان لائے۔
(2) ان کی مدد کرتے رہے۔
(3) اللہ کو قرض حسنہ پیش کرتے رہے۔
(4) نماز اور زکوٰۃ کی پابندیوں پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو معاف کر دے گا اور تمہیں جنت میں داخل کر دے گا۔ لیکن اگر تم میں سے کسی نے کفر کیا تو وہ جہنم کی آگ کا مستحق ہوگا۔ مگر وہ اس پاکیزہ عہد سے پھرگئے اور اس حد تک پھرگئے کہ وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے۔ اب ان کے دلوں پر کسی نیک بات کا کوئی اثر تک نہیں ہوتا۔ ان کی لعنت زدہ ہونے کا خاص ثبوت یہ ہے کہ وہ توریت میں تحریف کرتے رہے ہیں اور اس تحریف کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ تحریف کیا ہے ؟ آیات الٰہی میں ترمیم، تنسیخ، اضافہ، جو چاہا کاٹ دیا۔ جو چاہا بدل دیا۔ جو چاہا بڑھا دیا۔ چناچہ اب یہ توریت بدل کر مصنوعی ہوگئی ہے۔ انہوں نے اصلی توریت سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ صرف تحریف ہی نہیں بلکہ فتنہ گری اور سازش بھی ان کی فطرت میں داخل ہوگئی ہے۔ جس کا آئے دن پتہ چلتا رہتا ہے۔ ان میں تھوڑے اچھے لوگ ضرور ہیں لیکن اکثر و بیشتر برے لوگ ہیں۔ فرمایا گیا ہے اے نبی ﷺ ان کا نوٹس نہ لیجئے۔ ان کی پرواہ نہ کیجئے جو ذلیل حرکتیں یہ کرتے رہتے ہیں۔ اس کا علم اللہ کو ہے اور وہی ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔
Ayah 5:14آیت نمبر 14
لغات القرآن : خطا (حصہ) ۔ اغرینا (اغراء) ۔ ہم نے بھڑکا دیا۔ ڈال دیا) ۔ البغضآء (کینہ۔ نفرت۔ بغض) ۔ ینبی (وہ بتائے گا۔ خبردار کرے گا) ۔ یصنعون (وہ کرتے ہیں۔ بناتے ہیں) ۔
تشریح : یہودیوں اور عیسائیوں کا قصور ایک ہے۔ دونوں نے تحریفیں کی ہیں۔ ایک نے توریت میں اور ایک نے انجیل میں۔ چناچہ اب نہ اصلی توریت ہے نہ اصلی انجیل۔ جو نیک باتیں ان آسمانی کتابوں میں لکھی تھیں۔ اس تحریف کی وجہ سے ان کا فائدہ وہ نہ اٹھا سکے اور اس طرح سیدھی راہ سے دور بھٹک کر گمراہی میں جا پڑے ہیں۔
یہودیوں کو سزا یہ دی گئی کہ وہ ملعون ہوئے۔ ان کے دل پتھر کی طرح سخت کر دئیے گئے جو نیک باتوں کو قبول نہ کرسکے۔ عیسائیوں کو سزا یہ دی گئی کہ ان کی دینی وحدت توڑ دی گئی اور وہ آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم امریکہ سے لے کر روس تک عیسائی طاقتوں کے اندر ہی ہوئی ہے اور دلوں کی دشمنی اب تک قائم ہے۔ جنوبی امریکہ کی اکثیرت عیسائی ہے مگر وہاں کی ریاستیں ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتی رہتی ہیں۔ یہ کمیونزم کا نیا شوشہ بھی عیسائیوں کے اندر ہی سے نکلا ہے اگرچہ نکالنے والے اور پروان چڑھانے والے یہودی ہیں۔ عیسائیت خود دو حصوں میں تقسیم ہے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹینٹ۔ انگلینڈ نے پروٹسٹینٹ گروپ قائم کرلیا ہے، امریکہ میں پروٹسٹینٹ گروپ کے اندر تین ہزار فرقے ہیں۔ رومن کیتھولک گروپ میں بہت سے فرقے ہیں جن میں سے چند پوپ کو مانتے ہیں اور چند نہیں مانتے یا کم مانتے ہیں۔ کمیونزم میں بھی دو گروپ ہیں۔ روسی اور چینی۔ اور دونوں میں دل کی کدورت اپنی اپنی جگہ ہے۔ چین میں کبھی ماؤزے تنگ کا ڈنکا بجتا تھا۔ مگر اس کی بیوی عمر قید کا ٹنے پر مجبور کردی گئی تھی۔
Ayahs 5:15–19آیت نمبر 15 – 19
لغات القرآن : یبین (وہ کھولتا ہے۔ واضح کرتا ہے) ۔ تخفون (تم چھپاتے ہو) ۔ یعفوا (وہ معاف کرتا ہے) ۔ نور (روشنی۔ چمک) ۔ مبین (واضح۔ کھلا ہوا) ۔ رضوان (رضا۔ خوشنودی) ۔ سبل السلام (سلامتی کے راستے) ۔ اذن (اجازت ) ۔ یملک (مالک ہے) ۔ یھلک (وہ ہلاک کرتا ہے ۔ ہلاک کرے گا) ۔ ام (ماں) ۔ یخلق (وہ پیدا کرتا ہے) ۔ ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے ) ۔ احباء (محبوب۔ چہیتے) ۔ لم یعذب (وہ عذاب کیوں دے گا ؟ ) ۔ ذنوب (ذنب) ۔ (گناہ) ۔ یغفر (وہ معاف کردے گا) ۔ المصیر (ٹھکانا۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ فترۃ (سلسلہ کا بند ہو جانا۔ ڈھیلا اور سست پڑجانا) ۔ بشیر (خوش خبری دینے والا) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔
تشریح : نبی اسرائیل اور نصاری جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے محروم تھے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے سچے نبی ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وہ ان بہت سی باتوں کو کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں جو اب تک ایک راز بنی ہوئی تھیں جنہیں علمائے اہل کتاب تحریف کے ذریعہ عوام سے چھپا رہے تھے۔ مقصد یہ نہیں ہے کہ تمہارے راز کھول کر تمہیں ذلیل کیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا تو بہت سے دوسرے راز بھی کھول دئیے جاتے مگر ان سے چشم پوشی کی جا رہی ہے۔ صرف وہی راز ظاہر کئے جا رہے ہیں جو دین السام کی تعلیم کیلئے ضروری ہیں۔ فرمایا گیا کہ اے اہل کتاب ! تم خود محسوس کرو گے کہ ہمارے رسول ﷺ کے پاس ایک ایسی کتاب ہے جس کی باتیں صاف صاف ہیں۔ دماغ کو دل کو اور روح کو لگتی ہیں۔ یہ باتیں دماغ میں دل میں اور روح میں ایک خاص روشنی پیدا کرتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عقیدوں کے جن اندھیروں میں تم اب تک بھٹکتے رہے تھے اب اللہ تمہیں ان سے نکال کر مکمل روشنی میں لانا چاہتا ہے۔ اگر تم غور کرو گے تو وہ تمہیں صراط مستقیم کی طرف بلا رہے ہیں جس میں کوئی کجی، کوئی شک ، کوئی دوراہا نہیں ہے۔
مگر اللہ تعالیٰ زبردستی یہ صراط مستقیم تم پر مسلط کرنا نہیں چاہتا۔ اس کی مصلحت نہیں ہے۔ اس نے تمہیں آزادی فکر اور آزادی فیصلہ دیا ہے۔ یہ کتاب اور یہ تعلیم تمہیں اسی وقت سلامتی کی طرف لے جائے گی جب تم خود اپنی قوت عقلی اور قوت ارادی سے رضائے الٰہی کی طرف دوڑو گے۔
غور کرنے کی بات ہے کہ تم عقیدے کی کیسی کیسی تاریکیوں میں اب تک بھٹک رہے تھے۔ یہ عیسائی مسیح ابن مریم کو معبود مانتے ہیں۔ ایک گروہ ان کی ماں کو بھی الوہیت میں شریک کرتا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ جس طرح اللہ نے حضرت مریم کو موت دیدی اسی طرح وہ مسیح ابن مریم کو بھی دوبارہ نازل ہونے کے بعد موت دے گا۔ اسی طرح وہ اللہ دنیا کی ساری مخلوق کو موت دینا چاہے تو کون رکاوٹ ڈالنے والا ہے ؟ اور جسے موت آگئی یا موت واقع ہوگی وہ معبود کیسے بن سکتا ہے۔ تم نے فانی ماں بیٹے کو معبود بنا رکھا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ! یہود اور نصاریٰ دونوں کو اپنی اپنی جگہ دعویٰ ہے کہ ہم اللہ کے بیٹوں کی طرح ہیں کیونکہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں۔ اس لئے ہم اللہ کے پیارے چہیتے بندے ہیں۔ مگر یہود و نصاریٰ دونوں عذات الٰہی کو مانتے ہیں۔ یہود کہتے ہیں کہ ہمیں دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی تو بس چند روز۔ اور خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کا قول ہے کہ جس نے بھی اللہ کے ساتھ شریک کیا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ تم خود ہی بتاؤ کہ جب تم اپنے لئے عذاب مانتے ہو ، تو تم اللہ کے چہیتے کیسے بن گئے ؟ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے انسانوں کی طرح تم بھی محض انسان ہو۔ تم پر بھی اوروں کی طرح اللہ کا وہی اصول لاگو ہوگا کہ وہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس کو چاہے سزا دیدے۔ کیوں نہیں ! وہی آسمانوں کا زمین کا ، اور جو کچھ ان کے اندر باہر ہے ان کا مالک ہے۔ قدرت اسی کی ہے۔ حکومت اسی کی ہے۔ حکم اسی کا ہے۔
فرمایا جا رہا ہے کہ اے اہل کتاب ! یہ موقع غنیمت ہے۔ یہ آخری موقع ہے۔ فائدہ اٹھالو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تقریبا چھ سو سال سے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا۔ وحی کا آنا بند تھا۔ توریت اور انجیل اور زبور میں تحریفات نے اصلی اور جعلی کی تمیز ناممکن بنا دی تھی۔ تمہارے پاس کوئی اللہ کا پیغام اصلی حالت میں نہیں تھا۔ تم یہ بہانا تراش سکتے تھے کہ ہم اندھیروں میں تھے، ہم گمراہ تھے۔ ہم ضلالت میں تھے۔ ہمیں کوئی روشنی دکھانے والا نہ تھا۔ ہمیں کوئی راہ ہدایت اور صراط مستقیم بناتے والا نہ تھا۔ نہ کوئی بشر تھا نہ نذیر۔
تو سن لو اب یہ بہانہ کام نہ آسکے گا۔ ہمارا رسول تمہارے پاس بشیر و نذیر بن کر آگیا ہے اور وہ تمہیں راہ ہدایت کی تعلیم دے رہا ہے۔ تم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔ وہیں حساب و کتاب ہوگا۔ وہیں ثواب و عذاب ہوگا۔ تو اپنا راستہ آج طے کرلو۔ تم کدھر جاؤ گے۔ جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف ؟ فیصلہ کرنا تمہارا کام ہے راستہ دکھانا اللہ تعالیٰ کا۔ وہ اللہ جو اپنے پاس تمام قوتیں اور طاقتیں رکھتا ہے۔