5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsانوار البیان

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لئے چار پائے جانور ( جو چرنے والے ہیں) حلال کردیے گئے بجز انکے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

(5:1) اوفوا۔ تم پورا کرو۔ ایفاء سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایفاء وعدہ۔ وعدہ کا پورا کرنا ۔ عقود۔ قول و قرار۔ عہدو پیمان۔ عقد کی جمع۔ عقد کہتے ہیں ایک چیز کو ایک چیز میں مضبوطی سے باندھنا۔ اور گرہ لگانا۔ یہاں اس سے مراد وہ تمام تکالیف شرعیہ اور احکام دینیہ ہیں کن جن کی تعمیل بندوں پر لازمی اور ضروری ہے اور اسی میں داخل ہیں امانات اور معاملات کے جملہ عہدو پیمان کہ جن کا پورا کرنا واجب ہے۔ عقدہ۔ گرہ۔ معمہ۔ گنجلک امر۔ بھیمۃ الانعام۔ بہیمہ اصل میں اس جانور کو کہتے ہیں جس میں نطق نہ ہو۔ مالا نطق لہ (راغب) بےزبان جانور۔ عرف عرب میں درندوں اور پرندوں کو اگرچہ وہ بھی بےزبان ہیں بہیمہ نہیں کہا جاتا ہے (اسم لکل ذی اربع) اس صورت میں اس کی اضافت انعام کی طرف بیانیہ ہے۔ انعام نعم کی جمع ہے ۔ جس کے معنی اصل میں تو اونٹ کے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ دیگر مویشی بھیڑ، بکری، گائے ، بھینس کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اگر ان میں اونٹوں کو داخل نہ کیا جائے تو دوسروں کو انعام نہیں کہا جاسکتا۔ بھیمۃ الانعام۔ بےزبان مویشی قسم کے جانور۔ غیر محلی الصید۔ محلی۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اصل میں محلین تھا۔ بوجہ اضافت نون حذف کردیا گیا۔ محل۔ واحد احلال۔ مصدر حلال قرار دئیے جاتے والے۔ احلال کسی چیز کو حلال بنادینا۔ یا حلال قرار دینا۔ یا ذمہ داری سے باہر نکل آنا۔ حل کا معنی ہے گرہ کھول دینا۔ کسی جگہ اترنے کی صورت میں عموماً سامان کھولا جاتا ہے اس لئے حلول کا معنی اترنا ہوگیا۔ اس مادہ سے جتنے مشتقات ہیں سب کے مفہوم میں کھولنے یا اترنے کا معنی ضرور پایا جاتا ہے۔ غیر محلی الصید۔ شکار کو حلال قرار دینے والے نہ بنو۔ یعنی شکار کو حلال قرار مت دو ۔ وانتم حرم۔ واؤ حالیہ ہے۔ حرم۔ حرام کی جمع ہے احرام باندھنے والے یا حرم کے اندر داخل ہونے والے۔ حرم سے خانہ کعبہ مراد ہے۔ یعنی جب کہ تم خانہ کعبہ کی حدود میں ہو۔ الحرم کو حرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کے اندر بہت سی ایسی چیزیں حرام کردی ہیں جو کہ دوسری جگہ حرام نہیں ہیں اور یہی معنی الشھر الحرام کے ہیں۔ رجل حرام و محرم وہ شخص جو حالت حرام میں ہو۔ وانتم حرم۔ جب کہ تم حالت احرام میں ہو یا خانہ کعبہ کی حدود میں ہو۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کریئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹّے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اسکی خوشنودی کے طلبگار ہوں۔ اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو۔ اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے۔

(5:2) لا تحلوا۔ فعل نہی۔ تحلوا۔ احلال (افعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے احلال عہد و پیمان سے آزاد ہونا۔ احل الشیء کسی چیز کو حلال کرلینا۔ اس کے متعلق حدود اور بندشوں سے اپنے آپ کو آزاد کرلینا۔ اس کا احترام (جو حدود اور بندشوں سے مستلزم ہے) نہ کرنا ۔ بےحرمتی کرنا ۔ (حسنین محمد مخلوف مفتی الدیار المصریہ السابق۔ اپنی کتاب کلمات القرآن۔ تفسیر و بیان میں لا تحلوا کا معنی لا تنتھکوا لکھتے ہیں۔ انتہک الشیئ۔ بےعزتی کرنا۔ بیحرمتی کرنا۔ شعائر۔ شعیرۃ کی جمع ہے شعیرۃ برازن فعیلۃ بمعنی منفعلۃ بمعنی مشعرۃ ہے مشعرۃ کے معنی نشانی کے ہیں۔ اور اشعار کے معنی علم میں لانے کے ہیں۔ ہر وہ شی جو کسی چیز کو نشان ہو یا کسی علامت کو بتائے اسے شعیرۃ سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ عرف دین میں مکانات ازمنہ۔ علامات واوقاف عبادت کو کہتے ہیں۔ مکانات عبادت مثلاً کعبہ، عرفہ، مزدلفہ، جمار ثلاثہ ۔ صفا ومروہ۔ ازمنہ عبادت مثلاً رمضان ۔ حرم کے مہینے۔ عید الفطر، عید الخر، جمعہ ، ایام تشریق اور علامات عبادت مثلاً اذان و اقامت۔ نماز باجماعت، نماز جمعہ و نماز عیدین ۔ شعائر اللہ۔ اللہ کی نشانیاں ۔ الھدی۔ اسم معرف باللام۔ قربانی کا وہ جانور جو ماہ حرم میں حرم کے اندر قربانی کے لئے بھیجا جاتا ہے ۔ ھدی۔ ھدایۃ سے بمعنی کسی چیز کا راستہ بتانا۔ کسی چیز کی طرف رہنمائی کرنا۔ ھدی وہ جانور جو حرم کی طرف لیجایا جائے۔ ال سے اس کو مخصوص کردیا گیا۔ اس جانور کے لئے جو قربانی کے لئے ۔ تعاونوا۔ تم آپس میں مدد کرو۔ تم آپس میں تعاون کرو۔ تعاون (تفاعل) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ لاتعاونوا اصل میں تتعاونوا تھا۔ ایک ت کو گرا دیا گیا ہے ۔ نہی جمع مذکر حاضر، مت تعاون کرو۔ مت مدد کرو۔ ایک دوسرے کی العدوان عدا یعدوا (نصر) سے مصدر ہے۔ ظلم و ستم۔ زیادتی۔ تعدی۔ حد سے گزر جانا۔ عقاب۔ مار۔ عذاب۔ سزا۔ عقوبت۔ سزا دینا۔ عاقب یعاقب کا مصدر ہے۔ عقاب وہ سزا ہے جو جرم کے سرزد ہونے پر دی جاتی ہے یعنی پہلے ارتکاب جرم ہوتا ہے اور بعد میں اس پر سزا ہوتی ہے۔ عقب پیچھے کو کہتے ہیں۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا ہوا) لہو اور سُؤر کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلاگھٹ کر مرجائے اور چوٹ لگ کر مرجائے اور جو گر کر مرجائے اور جو سینگ لگ کر مرجائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کر کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو۔ اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے۔ اور یہ بھی کہ پانسوں سے قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ (کے کام) رہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہوگئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔ (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔ تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(5:3) اہل ۔ اہلال (افعال) سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ پکارا گیا۔ ہلال نیا چاند۔ اہل۔ نیا چاند نکلا۔ نیا چاند دیکھتے وقت آواز لگانا پکارنا۔ حاجیوں کا لبیک کہنا۔ اہل بذکر اللہ۔ اس نے (کام کرتے وقت) اللہ کا نام لے کر پکارا۔ اہل ب کسی جانور کو ذبح کرنے سے پہلی اللہ کا نام لے کر پکارنا۔ اہل لغیر اللہ پکارا گیا غیر اللہ کے لئے۔ اس میں وہ جانور بھی شامل ہے جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر پکارا جائے۔ اور وہ جانور بھی جو اللہ کے سوا کسی غیر کی نذر سے نامزد کردیا گیا ہو۔ خواہ بوقت ذبح بسم اللہ بھی پڑھی جاوے۔ المنخنقۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ انخناق (افعال) مصدر۔ گلا گھونٹ کر مارا ہوا۔ گلا گھٹنے سے مرنے والی۔ اسی سے مرض خناق ہے جس سے گلا گھونٹ جاتا ہے۔ الموقوذۃ۔ وقد۔ مصدر (باب ضرب) چوٹ کھا کر مرا ہوا۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ المتردیۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث (باب تفعل) وہ جانور جو اوپر سے گر کر ذبح کرنے سے پہلے مرجائے۔ الردی (سمع) بمعنی ہلاکت ۔ اور التردی (تفعل) اپنے آپ کو ہلاکت کے سامنے پیش کرنا۔ قرآن حکیم میں ہے وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی (92:11) اور جب وہ جہنم میں گریگا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ تردی فی البر۔ کنویں میں گرنا۔ پس المتردیۃ اوپر سے گر کر مرا ہوا جانور۔ النطیحۃ۔ صیغہ صفت بروزن فعیلۃ۔ بمعنی مفعولۃ۔ نطیحۃ بمعنی منطوحۃ نطح مصدر (فتح۔ ضرب) وہ جانور جو دوسرے کے سینگ کی چوٹ سے مرا ہو۔ تطح الثور لے جایا جا رہا ہو۔ القلائد۔ قلائد جمع قلادہ کی ہے وہ چیز جو گردن میں لٹکائی جائے۔ ہار ۔ رسی ۔ پٹہ۔ القلائد سے مراد دوات القلائد وہ جن کے گلے میں رسیاں یا پٹے ڈالے گئے ہیں۔ یہ ھدی کی صفت ہے یعنی وہ جانور جن کی گردنوں میں پٹے ڈالے ہوئے ہیں اور حرم کی طرف ذبح کرنے کے لئے لیجائے جا رہے ہیں۔ امین۔ ام کی جمع ام ہے جس کے معنی قصد کرنے کے ہیں امین قصد کرے ہوئے ہیں۔ (بیت الحرام کا) اسم فاعل جمع مذکر۔ ام (باب نصر) قصد کرنا۔ الشھر الحرام۔ الھدی۔ القلائد۔ امین سب شعائر اللہ کے معطوف ہیں۔ اذا حللتم۔ جب تم احرام سے نکلو حل اور حلال سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ اصطادوا۔ تم شکار کرلو۔ تم شکار کرسکتے ہو۔ اصطیاد (افتعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر یہاں امر سے یہ مطلوب نہیں کہ احرام سے باہر نکلنے کے بعد ضرور شکار کرو بلکہ مقصود یہ ہے کہ پھر تمہیں شکار کرنے کی اجازت ہے اور پہلے جو بندش لگائی گئی تھی غیر محلی الصید وانتم حرم اب وہ نہیں رہی۔ لا یجر منکم۔ فعل نہی واحد مذکر غائب تاکید بانون ثقلیہ۔ جرم مصدر (باب ضرب) کم ضمیر مفعول ۔ باعث نہ بن جائے۔ برانگیختہ نہ کرے۔ آمادہ نہ کرے۔ شنان دشمنی کرنا۔ بغض رکھنا۔ یہ مصدر سماعی ہے خلاف قیاس اس کا فعل فتحاور سمع دونوں سے آتا ہے۔ بغض۔ عداوت۔ دشمنی تعتدوا۔ تم زیادتی کرنے لگو۔ تم حد سے گزر جاؤ۔ اعتداء (افعال) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ لایجرمنکم شنان قوم ان صدوکم عن المسجد الحرام ان تعتدوا شنان قوم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل۔ ان صدوکم عن المسجد الحرام وجہ عداوت کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا تھا جس کے لئے فعل کی نفی آئی ہے۔ ان تعتدوا کہ تم زیادتی کرو۔ اگر مخالفین کے ساتھ تمہیں مسجد حرام میں جانے سے روکنے کی وجہ سے رنج و عداوت ہے تو یہ رنج تمہیں ان کے خلاف زیادتی کرنے پر آمادہ نہ کر دے۔ معجم الوسیط میں اس کا مطلب لا یحملنکم بغض قوم علی الاعتداء علیہم لکھا ہے۔ خامص پچکے ہوئے پیٹ والا آدمی۔ غیر میجانف لاثم۔ متحانف اسم فاعل واحد مذکر تجانف (تفاعل) مصدر ۔ گناہ کی طرف میلان رکھنے والا ۔ حق سے پھرنے والا۔ یعنی گناہ کی طرف میلان یا رغبت یا حق سے روگردانی محرک فعل نہ ہو بلکہ محض اضطراری و مجبوری اس کا باعث ہو تو مندرجہ بالا ممنوعات کا استعمال قوت لایموت کی حد تک جائز ہے اور اللہ غفور رحیم ہے اسے معاف کر دے گا۔
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں۔ اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لئے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو۔ اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے۔ (اس طریق سے) تم نے انکو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو اور (شکاری جانوروں کے چھوڑنے وقت) خدا کا نام لیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

(5:4) علمتم۔ باب تفعیل تعلیم سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے سکھلایا۔ تم نے تعلیم دی۔ الجوارح۔ شکاری جانور۔ زخمی کرنے والے۔ جاریۃ کی جمع جس کے معنی شکاری جانور کے ہیں۔ خواہ وہ پرندہ ہو از قسم باز، عقاب وغیرہ۔ یا درندہ از قسم کتا وغیرہ۔ یہ جرح سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں زخمی کرنا۔ وما علمتم من الجوارح کا عطف الطیبات پر ہے اور ماعلمتم من الجوارح کا عطف مضاف محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے کہ و (لا حل لکم صید) ما علمتم من الجوارح اور ان شکاری جانوروں کا کیا ہوا شکار بھی تمہارے لئے حلال ہے جنہیں تم نے سکھلایا اور سدھایا ہے۔ مکلبین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مکلب واحد۔ تکلیب (تفعیل) مصدر۔ شکاری جانور کو شکار کی تعلیم دینے والے۔ شکاری جانور کو شکار پر چھوڑنے والے۔ کلب کتا یا درندہ۔ بھونکنے والا جانور۔ مکلبین علمتم کی ضمیر فاعل سے حال ہے یعنی جب تم سدھائے ہوئے جانوروں سے شکار کر رہے ہو۔ تو ان سدھائے ہوئے جانوروں کا شکار تمہارے لئے حلال ہے۔ تعلمونھن میں ھن کی ضمیر الجوارح کی طرف راجع ہے تم ان کو سکھلاتے ہو۔ تم ان کو تعلیم دیتے ہو مما علمکم اللہ۔ جو اللہ نے تمہیں بتایا ہے ، یا سکھلایا ہے یا جس کی اس نے تعلیم دی ہے۔ امسکن علیکم جسے وہ پکڑ رکھیں تمہارے لئے۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں۔ اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا انکو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جب کہ ان کا مہر دیدو اور ان کے عفت قائم رکھنی مقصود ہو کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی۔ اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔

(5:5) محصنین۔ مسافحین۔ متخذی اخدان۔ دیکھو 4:25-26 ۔ حبط۔ اکارت گیا۔ ضائع گیا۔ باب سمع۔
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

مومنو ! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو۔ اور سر کا مسح کرلیا کرو۔ اور ٹخنوں تک پاؤں (دھولیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہاکر) پاک ہوجایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے آیا ہو یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو، اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مِٹّی لو اور اس منہ اور ہاتھو کا مسح (یعنی تیمم) کرلو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنی چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے۔ تاکہ تم شکر کرو۔

(5:6) المرافق۔ جمع المرفق المرفق۔ واحد کہنیاں۔ المرفق وہ چیز جس سے سہارا لیں۔ وہ چیز جس سے نفع اٹھایا جائے۔ اسی سے ہے مرافق الدار۔ گھر کے منافع کی چیزیں۔ لوازمات خانہ۔ جیسے کنواں ۔ نلکا۔ باورچی خانہ۔ پائخانہ وغیرہ۔ ارجلکم۔ منصوب ہے لہٰذا اس کا عطف ایدیکم پر ہے۔ جنبا۔ دور۔ اجنبی۔ جنبی ۔ جنب سے بمعنی دور رہنا۔ دور کرنا۔ جنبی جسے جنابت لاحق ہو یعنی جس پر ونحوہ بل کا یا اس جیسے سینگوں والے جانور کا سینگ سے مارنا۔ السبع۔ درندہ۔ واحد اسبع وسباع وسبوع جمع۔ ذکیتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے ذبح کیا۔ ذکی الذبیحۃ اس نے جانور کو ذبح کیا ۔ الا ما ذکیتم (سوائے اس کے جسے تم ذبح کرلو) یہ استثناء یا تو المنخنقۃ سے لے کر ما اکل السبع تک جتنے جانور مذکور ہوئے ہیں سب کے لئے ہے اور جمہور نے اسی معنی میں اس کو لیا ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے اگر اس جانور کو مرنے سے قبل ذبح کرلیا جائے تو وہ المنحنفۃ المرقوذۃ المتردیۃ اور النطیحۃ کے معنی میں آتا ہی نہیں۔ یا یہ استثناء منقطع ہے جیسا کہ امام رازی نے تحریر کیا ہے کہ مذکورہ جانور حرام ہیں البتہ ان کے علاوہ جو حلال جانور تم ذبح کرلو وہ تمہارے لئے جائز ہیں۔ الکلنی کا قول ہے کہ یہ استثناء صرف ما اکل السبع کے لئے ہے۔ النصب اسم مفرد۔ بت ۔ جمع نصب بمعنی منصوب ما نصب و عبد من دون اللہ (المعجم الوسیط) ۔ نصب کرنا۔ گاڑنا۔ کعبہ کے اردگرد پتھر گاڑے ہوئے تھے جن پر بعض بتوں کے نام پر قربانی کے جانور قربان کئے جاتے تھے اور ان کا خون ان پر چھڑکا جاتا تھا اور گوشت ان پتھروں پر رکھا جاتا تھا ۔ تستقسموا۔ باب استفعال۔ تم قسمت معلوم کرو۔ تم بانٹو۔ تم تقسیم چاہو۔ استقسام بمعنی تقسیم کا خواستگار ہونا۔ اور جوئے کے تیروں سے حصہ کی تقسیم چاہنا۔ الازلام۔ تیز۔ زلم واحد۔ ازلام سے وہ تیر مراد ہیں جن کے ذریعے مشرکین عرب کسی اہم کام کو کرنے یا نہ کرنے کے متعلق فیصلہ کرتے تھے۔ یہ تیر خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے تھے کسی پر امرنی ربی اور کسی پر نھانی ربی لکھا ہوا ہوتا تھا۔ فسق اسم فعل مصدر۔ گناہ۔ نافرمانی کرنا۔ حدود شریعت سے نکل جانا۔ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنا۔ وغیرہ یئس۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ مایوس ہوا۔ ناامید ہوا (باب سمع) ۔ اضطر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اضطرار سے۔ وہ بےاختیار کیا گیا۔ وہ مجبور کیا گیا ۔ وہ لاچار کیا گیا۔ باب افتعال ضرر سے اصل میں اضتراد تھا تاء کو ط میں تبدیل کیا گیا۔ عام طور پر اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب انسان کو ایسے امر پر مجبور کیا گیا ہو جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ مخمصۃ۔ اسم بمعنی المجاعۃ۔ بھوک۔ ایسی بھوک جس سے پیٹ پچک جائے رجل غسل واجب ہو۔ جنبی کو جنب اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب تک وہ غسل نہ کرے نماز اور مسجد سے دور رہتا ہے۔ یہ لفظ واحد ، تثنیہ، جمع ، مذکر، مؤنث سب کے لئے یکساں بولا جاتا ہے الغائط۔ قضائے حاجت کی جگہ۔ دیکھو 4:43 ۔ صعیدا۔ زمین ۔ خاک۔ دیکھو 4:43 حرج۔ تنگی۔ مضائقہ، گناہ۔ اصل میں حرج کے معنی ہیں کسی چیز کے مجتمع ہونے کی جگہ۔ ایک جگہ جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو حرج کہا جاتا ہے۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں انکو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ تم نے (خدا کا حکم) سُن لیا اور قبول کیا۔ اور خدا سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔

میثاق۔ عہد۔ واثقکم بہ (جس کے پورا کرنے کے لئے) اس نے تم کو پابند کیا تھا۔ واثق مواثقۃ ووثاقا۔ کسی کو کسی معاہدہ کا پابند کرنا۔ وثاق۔ وثاق۔ جمع وثق۔ رسی۔ زنجیر۔ بندش ۔ اخلاقی بندش اس سے وثیقہ (اقرار نامہ۔ تحریری معاہدہ وغیرہ) اور وثیقہ نویس ہے
Ayahs 5:8–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوجایا کرو اور لوگوں کی دشمنی تمکو اس بات ہر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

(5:8) قوامین۔ جمع منصوب قوام واحد۔ اگرچہ مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن اسم فاعل کے معنی میں ہے انصاف کے لئے کھڑے ہونے والے۔ اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہونے والے۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہونے والے للہ میں مضاف محذوف ہے اس کی تقدیر یوں ہے قوامون لحقوق اللہ۔ اولا وامر اللہ اولدین اللہ۔ او لعھد اللہ۔ شھداء بالقسط۔ حال من الضمیر فی قوامین بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا مومنو ! انصاف کی گواہی دیتے ہوئے اللہ کے دین کے لئے یا اس کے حقوق کی ادائیگی کے لئے کمربستہ ہوجاؤ۔ یا پہلے فقرہ پر عطف ہوسکتا ہے۔ کونوا شھداء بالقسط اور انصاف کے ساتھ سچی گواہی دینے والے بن جاؤ۔ ولا یجرمنکم شنان قوم۔ دیکھو 5:2
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

(5:11) ھم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم مصدر۔ باب نصر۔ اس نے ارادہ کیا۔ ہم بمعنی ارادہ غم۔ جمع ھموم۔ فکف۔ اس نے روک دیا۔ کف مصدر باب نصر۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور خدا نے نبی اسرائیل سے اقرار لیا۔ اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے۔ پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کرونگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

(5:12) بعثنا۔ ہم نے بھیجے۔ ہم نے مقرر کئے۔ ہم نے اٹھائے۔ نقیبا۔ اسم منصوب۔ سردار۔ قوم کی طرف سے ایفائے عہد کے ذمہ دار۔ قوم کے حالات کی تفتیش کرنے والا۔ ہر ایک کی پوچھ گچھ کرنے والا۔ نقیب اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی قوم کے صحیح حالات سے باخبر ہو۔ اور ان کی بہتری اور برتری کا ذمہ دار اور ان کے کردار پر کڑی نظر رکھنے والا ہو۔ وقال اللہ انی معکم۔ یہ خطاب نقیبوں سے ہے اس کی تقدیر یوں ہے وقال اللہ للنقباء انی معکم۔ اور بعض کے نزدیک اس کی مخاطب بنی اسرائیل کی ساری قوم ہے۔ لیکن پہلا قول صحیح ہے۔ کیونکہ ضمیر اکثر قریب ترین اسم ما سبق مذکور کی طرف راجع ہوتی ہے۔ اس کے بعد کلام کی نئے سرے سے ابتداء ہوتی ہے اور لئن سے لے کر سواء السبیل تک کلام قوم بنی اسرائیل سے ہے۔ لئن اتمتم سے لے کر قرضا حسنا تک شرط ہے۔ جو ان پانچ امور پر مشتمل ہے اقام الصلوۃ۔ ایتاء الزکوۃ۔ ایمان بالرسول۔ تعزیر الرسل۔ قرضہ حسنہ اور لاکفرن سے لے کر الانھار تک جواب شرط ہے۔ عزرتموہم۔ تم نے ان کی مدد کی۔ تم نے ان کو قوت پہنچائی۔ تم نے ان کی تعظیم کی۔ تعزیر سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ واؤ اشباع کا ہے یعنی میم ما قبل کی حرکت کو لمبا کرنے کے لئے۔ لاکفرن۔ میں محو کر دوں گا۔ میں مٹا دوں گا۔ تکفیر سے جس کے معنی کسی چیز کو اس طرح چھپانے اور ڈھانپ دینے کے ہیں گویا وہ کبھی تھی ہی نہیں۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقیلہ۔ صیغہ واحد متکلم ۔ سواء السبیل۔ سیدھی راہ۔ راہ مستقیم۔ ہدایت و رشد کی راہ۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم انکی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔ تو ان کی خطائیں معاف کردو اور ( ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

(5:13) فبما میں ب سببیہ ہے اور ما الفظا زائد اور معنا کلام میں قوت و زور پیدا کرنے کے لئے ہے۔ نقضہم ان کا (عہد شکنی کرنا) نقض مصدر۔ نقض ینقض (نصر) توڑ دینا۔ لعنھم۔ ماضی جمع متکلم ۔ ھم ضمیر مفو ول جمع مذکر غائب لعن مصدر (باب فتح) ہم نے لعنت کی ہم نے رحمت سے دور کردیا۔ اللعن الابعاد من الرحمۃ۔ لعنت رحمت سے دور کرنے کو کہتے ہیں۔ قسیۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ سخت سل۔ سنگدل۔ ایسے کو ایمان کے لئے نرم نہیں پڑتے۔ حائنۃ اس کی مندرجہ ذیل ہوسکتی ہیں (1) یہ مصدر ہے بمعنی خیانت ، دغاء ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ تمہیں متواتران کی طرف سے خیانت کے ارتکاب کی اطلاد ہتی رہیگی (2) یہ اسم فاعل ہے اصل میں خائن تھا۔ ۃ مبالغہ کے لئے آئی ہے۔ اس صورت میں معنی ہوں گے تمہیں ہمیشہ ان میں سے کسی بڑے خائن کا علم ہوتا رہے گا۔ (3) خائنۃ صفت ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے گویا آیت کی تقدیر یوں ہے۔ ولا تزال تطلع علی فرقۃ خائنۃ منہم۔ اور آپ کو اکثر ان میں سے کسی نہ کسی خیانت کرنے والی جماعت کی اطلاع ملتی رہیگی۔ لاتزال۔ افعال ناقص میں سے ہے۔ تو ہمیشہ رہیگا۔ فاعل کے ساتھ استمرار فعل کے معنی دیتا ہے۔ تطلع۔ تو خبردار ہوگا۔ تو اطلاع پائے گا۔ لاتزال تطلع۔ تو ہمیشہ اطلاع پاتا رہیگا۔ تجھے متواتر اطلاع ملتی رہیگی۔ واصفح۔ تو درگزر کر۔ صفح (باب فتح) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لئے دشمنی اور کینہ ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا۔

(5:14) فاغرینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے لگا دی۔ ہم نے چسپاں کردی۔ ہم نے ڈال دی۔ اغراء سے جس کے معنی لگا دینے ۔ ڈالنے۔ رغبت دلانے اور چسپاں کرنے کے ہیں۔ مادہ غری اغری بین القوم۔ ای افسد اور اغری العداوۃ بینہم ای القی العداوۃ بینہم۔ قرطبی نے الاغراء بالشیٔ کا مطلب الالصاق من جھۃ التسلیط علیہ لکھا ہے کسی چیز کا اس طرف سے چسپاں کرنا جس طرف جوڑنے والی چیز لگی ہوئی ہو۔
Ayah 5:15

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزّماں) آگئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے۔

(5:15) یعفوا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ عفو سے وہ معاف کرتا ہے۔ اس فعل کا فاعل رسولنا ہے۔ نور۔ سے مراد رسول کریم حضرت محمد ﷺ ہیں۔ قرآن بھی ہے۔
Ayahs 5:16–17

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس سے خدا اپنی رضا پر جلنے والوں کو نجات کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

جو لوگ اس بات کے قائل ہے کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہے تو بیشک کافر ہیں ( ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے ؟ اور آسمان اور اور جو کچھ ان دونوں میں ہیں سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(5:16) سبل السلام۔ سلامتی کی راہیں۔ یھدی کا مفعول ہے۔ اور یھدی بہ میں ضمیر ہ کتب مبین کی طرف راجع ہے۔ باذنہ ۔ بتوفیقہ ۔ وبارادتہ۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔ کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے ؟ (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو۔ وہ جیسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(5:18) المصیر ۔ صار یصیر (ضرب) سے اسم ظرف مکان۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا ، قرار گاہ۔ المصیر مصدر بھی ہے۔
Ayahs 5:19–20

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب (پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہاتو) اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانیوالے آگئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔ اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔

(5:19) علی فترۃ من الرسل۔ فترۃ اسم فعل۔ مصدر۔ دھیما ہوجان۔ سست ہوجانا۔ کسی نبی کی شریعت کا دھیما پڑجانا۔ اور آئندہ نبی کا اس وقت تک مبعوث نہ ہونا۔ دونوں کے درمیانی وقفہ کو فترۃ کہتے ہیں۔ جب کوئی چیز چلتے چلتے رک جائے تو کہتے ہیں کہ فترا لشیٔ اور اگر کوئی کام پہلے بڑی سرگرمی سے ہو رہا ہو اور پھر وہ بند ہوجائے تو اس کے لئے بھی فتر کا استعمال ہوتا ہے۔ اور دو نبیوں کے درمیانی زمانہ کو فترۃ کہتے ہیں اور یہاں یہی مراد ہے۔ یعنی نبیوں کے مدتوں تک آنے کے بعد۔ ان۔ مادا۔
Ayahs 5:21–22

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

تو بھائیو ! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سر زمین سے نکل نہ جائیں تم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہونگے۔

(5:21) لا ترتدوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت پھرو۔ تم مت لوٹ جاؤ۔ ارتداد (افتعال) ۔ پھرجانا۔ لوٹ جانا۔ علی ادبارکم ادبار جمع دبر کی ہے بمعنی پیٹھ۔ پیٹھ دے کر پھرجانا۔ پیٹھ پھیرنا۔ فتنقلبوا۔ ن اول الذکر فعل کے انجام کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔ تنقلبوا۔ تم پھرو گے۔ تم لوٹوگے۔ یعنی پیٹھ پھیر کر مڑ نہ جاؤ ورنہ انجام اس کا یہ ہوگا کہ تم خسارہ کھانے والے بن کر لوٹو گے۔
Ayahs 5:23–26

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے راستے سے حملہ کردو۔ جب تم دروازے میں داخل ہوگئے تو فتح تمہاری ہے۔ اور خدا ہی پر بھروسا رکھو بشرطیکہ صاحب ایمان ہو۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے کہ موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جاسکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی اور پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کیلئے حرام کردیا گیا ہے (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے ہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حلال پر افسوس نہ کرو۔

(5:23) یخافون۔ ای یخافون اللہ۔ اللہ سے ڈرنے والے۔ انعم اللہ علیہما۔ یہ ان دو آدمیوں کی صفت ہے یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور وفاء عہد کی نعمت سے نوازا تھا۔ ادخلوا علیہم الباب۔ ای ادخلوا الباب علیہم ان پر (چڑھائی کرتے ہوئے) دروازے سے داخل ہوجاؤ۔
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے ّ (ہیں) پڑھ کر سن دو کہ جب ان دونوں نے (خدا کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردونگا۔ اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔

(5:27) واتل۔ ای واتل یا محمد ﷺ ۔ اتل تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔ تو پڑھ کر سنا۔ تلاوۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ علیہم۔ میں ھم ضمیر جمع مذکر غائب اہل یہود کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ انہیں رنج تھا کہ آنحضرت ﷺ جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ان کو نبی بنا کر کیوں بھیجا گیا۔ قربا قربانا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب تقویب مصدر۔ دونوں نے قربانی دی۔ تقریب پیش کرنا۔ نزدیک لانا۔ قرب حاصل ہونے کی امیر پر بھینٹ دینا۔ تقریب کا مادہ قرب ہے ۔ قربان اس چیز کو کہتے ہیں جو قرب خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہو۔ خواہ کوئی چیز ہو جاندار ہو یا بےجان یا اعمال صالحہ۔ اسلامی عرف میں اس ذبیحہ کو قربان کہا جاتا ہے جو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کیا جاتا ہے۔ اس کی جمع قرابین ہے۔
Ayah 5:28

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کیلئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا۔ مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈرلگتا ہے۔

(5:28) بسطت الی۔ تو نے میری طرف (ہاتھ) بڑھایا۔ تو نے مجھ پر (ہاتھ) اٹھایا۔ (یعنی مارنے یا حملہ کرنے کے لئے)
Ayah 5:29

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو۔ اور ظالموں کو یہی سزا ہے۔

(5:29) تبوا۔ تو حاصل کرے۔ تو سمیٹے۔ تو کمائے۔ تو لوٹے۔ تو پھر جاوے۔ باء یبوء بوء او بوائ۔ ان تبوء باثمی واثمک (کہ تو ہی سمیٹ لے میرا گناہ اور اپنا گناہ) تیرا گناہ یعنی میرا قتل اور میرا گناہ۔ اس نقصان کا گناہ جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے تجھے پہنچ جائے۔ (تفہیم القرآن) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باثمی سے مراد بحذف مضاف باثم قتلی (میرے قتل کرنے کا گناہ) یعنی اپنے سابقہ گناہوں میں تو میرے اس قتل کا گناہ بھی شامل کرلے۔ یا باثمی سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے سابقہ کردہ گناہ بھی تیرے کندھوں پر ہی پڑجائیں۔ اور مظلومیت کی وجہ سے ان کا بوجھ میرے کندھوں سے تیرے کندھوں پر چلا جائے اور میرا قتل میرے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔
Ayah 5:30

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اسے قتل کردیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگیا۔

(5:30) طوعت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ تطویع (تفعیل) سے اس (کے نفس) نے رغبت دلائی۔ اس نے راضی کرلیا۔ اس نے آمادہ کرلیا۔ اس نے آسان کردیا۔ اس کے نفس نے تسویل و ترغیب سے اس پر آمادہ کرلیا اور وہ اس کام کے کرنے پر رضا مند ہوگیا ۔
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے۔ کہنے لگا اے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوّے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پیشمان ہوا۔

(5:31) فبعث اللہ غرابا۔ پس بھیجا اللہ نے ایک کوا۔اس فقرہ میں محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے۔ علماء نے مابعد کے فقرہ لیریہ کیف یواری سراۃ اخیہ (تاکہ وہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو مردار خور جانوروں درندوں پر ندوں سے کیسے محفوظ کرے۔ اسی الجھن میں وہ لاش کو کئی دن اٹھائے پھرتا رہا۔ تاآنکہ اللہ نے کووں کا ایک جوڑا بھیجا ایک کوے نے دوسرے کوے کو مار دیا اور پھر اپنی چونچ اور پنچوں سے زمین کو کھود کر اس گڑھے میں مردہ کو لے کر دفن کردیا۔ یبحث۔ مضارع واحد مذکر غائب بحث مصدر باب فتح سے بمعنی کریدنا۔ کھودنا۔ تلاش کرنا ۔ اسی سے بحث مشتق ہے کہ بحث میں بھی مختلف پہلوؤں کو لاکر اصلی نکتہ کو تلاش کیا جاتا ہے۔ لیریہ۔ (تاکہ اسے دکھائے) میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر تو صاف طور پر تاویل کی طرف راجع ہے لیکن ضمیر فاعل اللہ کی طرف یا کوے کی طرف راجع ہوسکتی ہے۔ یواری۔ مضارع واحد مزکر غائب واری یواری مواراء ۃ (مفاعلۃ) وہ چھپائے وہ چھپاتا ہے۔ تواری چھپ جانا۔ جیسے حتی توارت بالحجاب (38:32) یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا۔ الوراء پیچھے۔ پچھلی جانب۔ خلف۔ جیسے ومن وراء اسحاق یعقوب (11:71) اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ سوء ۃ۔ لاش۔ عیب۔ فضیحت۔ مردہ عورت کی شرمگاہ کو بھی کہتے ہیں۔ مادہ سوء السوء ہر وہ چیز جو انسان کو غم میں مبتلا کر دے اسے سوء کہا جاتا ہے۔ خواہ وہ امور دنیوی کے قبیل سے ہو یا اخروی کے۔ اور عام اس سے کہ اس کا تعلق احوال نفسانیہ سے ہو یا بدنیہ سے۔ یاویلتی مضاف مضاف الیہ اصل میں یاویلتی تھا ۔ ہائے بربادی۔ لیکن ندا کے وقت افسوس اور حسرت کی آواز کھینچنے کے لئے ی کو الف سے بدل دیا۔ اور اس کے ماقبل کو یعنی ت کو فتح دیدیا۔ اس طرح یویلتا ہوگیا لیکن ضمیر واحد متکلم کو ظاہر کرنے کے لئے ی کو بدستور رکھ کر الف کو اس کے اوپر لگا دیا۔ ویل۔ ہلاکت، بربادی، عذاب کی شدت۔ عذاب دوزخ کی ایک وادی۔ ویلۃ رسوائی ، تباہی، کلمہ حسرت و ندامت۔ اعجزت۔ میں عاجز رہا۔ میں قاصر رہا (میں تو اس سے بھی قاصر رہا کہ اس کوے کی مانند ہی ہوتا) اجل۔ مصدر ہے اجل کا۔ واسطے ۔ غرض۔ سبب۔ وجہ۔ من اجل ذلک۔ اسی وجہ سے۔ بایں سبب۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اس (قتل) کی وجہ سے تم نے نبی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی پیدا کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا۔ اور لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لاچکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان میں بہت سے لوگ ملک میں حّد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔

(5:32) مسرفون ۔ اسراف سے حد اعتدال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ بیجا صرف کرنے والے۔
Ayahs 5:33–37

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کو دوڑتے پھریں انکی یہی سزا ہے کہ قتل کردیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائیں یا ملک سے نکال دیے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا (بھاری) عذاب (تیّار) ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو آجائیں توبہ کرلی تو جان رکھو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا سے ڈرتے رہو۔ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اگر انکے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال و متاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہوتا کہ قیامت کے روز عذاب سے (رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور انکو درد دینے والا عذاب ہوگا۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

(ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔

(5:33) ینفوا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب نفی مصدر (باب ضرب) نفی ینفی۔ ینفوا ان کو نکال دیا جائے۔ نفی الرجل من بلدہ۔ آدمی کو اس کے شہر سے شہر بدر کرنا۔
Ayahs 5:38–40

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے۔ اور خدا زبردست اور صاحب حکمت ہے۔

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو خدا اس کو معاف کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے ؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(5:38) کسبا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب۔ ان دونوں نے کمایا۔ نکالا۔ اسم نصوب۔ عبرت۔ عبرتناک سزا دینا۔ نکل ینکل تنکیلا (تفعیل) رسوا کرنا۔ بھگا دینا۔ اپنے سے ایک طرف کردینا۔