5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لئے چار پائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کردیے گئے بجز انکے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

(1) ان عہدوں کو پورا کرو جو تمہارے اور اللہ تعالیٰ کے یا لوگوں کے درمیان ہیں۔ تمہارے لیے خشکی کے شکار مثلا نیل گائے، جنگلی گدھا اور ہرن وغیرہ حلال کیے گئے ہیں، ماسوا ان جانوروں کے جو کہ تم پر اس سورت میں حرام کیے گئے ہیں مگر اس شکار کو احرام یا حرم میں حلال مت سمجھنا جس کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں، حل وحرم میں حلال اور حرام کرتے ہیں۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کریئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹّے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اسکی خوشنودی کے طلبگار ہوں۔ اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو۔ اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے۔

(2) تمام آداب اور مناسک حج کو اپنے لئے حلال مت کرو اور نہ بےادبی کرو حرمت والے مہینے کی اور نہ اس قربانی کے جانور کو پکڑو جو بیت اللہ روانہ کیا جارہا ہے اور حرمت والے مہینے آنے کے لیے جن جانوروں کے گلے میں پٹے پڑے ہوئے ہیں ان کو بھی مت پکڑو اور نہ ان لوگوں کو تنگ کرو جو بیت اللہ کے ارادہ سے جارہے ہوں اور وہ یمامہ کے حاجی بکر بن وائل کی قوم اور شرع بن ضہبہ کے تاجر ہیں اور وہ تجارت کے ذریعے روزی اور حج کی وجہ سے اپنے رب کی رضا کے طالب ہوں یا یہ کہ وہ تجارت کے ذریعے روزی اور حج کی وجہ سے اپنے رب کی رضا کے طالب ہوں یا یہ کہ وہ تجارت کے ذریعے اپنے رب کے فضل اور رضا کے طالب ہوں اور جس وقت تم ایام تشریق کے بعد حرم سے باہر آجاؤ تو اگر چاہو تو خشکی کے شکار کرلو اور ایسا نہ ہو کہ تمہیں مکہ والوں سے اس وجہ سے بغض ہو کہ تمہیں انہوں نے حدیبہ کے سال روک دیا تھا اگر اس طرح ہوا تو تمہارا یہ رویہ بکر بن وائل کے حاجیوں پر ظلم و زیادتی کا باعث نہ بن جائے، اطاعت خداوندی اور گناہ چھوڑنے پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور حد سے تجاوز کرنے پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور بکر بن وائل کے حاجیوں پر ظلم کرنے میں بھی کسی کا ساتھ نہ دو اور جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اور جن باتوں سے منع فرمایا ہے اس میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ جو اوامر خداوندی کو نظر انداز کرے، اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دیتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا الا تحلوا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ حاطم بن بکر ہندی مدینہ منورہ میں ایک قافلہ کے ساتھ غلہ لے کر آئے، اسے بیچ کر رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے بیعت کی اور اسلام قبول کیا جب وہ وہاں سے چلے تو آپ نے ان کی طرف دیکھا اور آپ کے پاس جو حضرات بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ میرے پاساس فاجر کی صورت لے کر آیا اور عہد شکن کی پشت کے ساتھ واپس گیا، چناچہ جب وہ یمامہ پہنچا تو مرتد ہوگیا اس کے بعد ماہ ذی قعدہ میں ایک قافلہ کے ساتھ غلہ لے کر مکہ مکرمہ کے ارادہ سے نکلا، جب صحابہ کرام کو اس کی آمد کی اطلاع ملی تو مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت نے اس کے قافلہ پر چھاپہ مارنے کا ارادہ کیا، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اے مومنو اللہ کی نشانیوں کی بےحرمتی مت کرو تو اس ہدایت کے آنے پر صحابہ کرام ؓ رک گئے کیونکہ صحابہ حکم الہی کے پابند تھے، نیز سدی سے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) شان نزول : (آیت) ”ولا یجرمنکم“۔ الخ۔ ابن ابی حاتم ؒ نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو مشرکین مکہ نے بیت اللہ آنے روکا تھا، آپ مقام حدیبیہ میں تھے، سب پر یہ چیز بہت گراں گزری تھی ، اتنے میں مشرق والوں کے مشرکین کا ایک گروہ عمرہ کے ارادہ سے ان کے پاس سے گزرا، اس پر صحابہ کرام ؓ بولے کہ ہم بھی ان لوگوں کو روکتے ہیں جیسا کہ ہمیں روک دیا گیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا ہوا) لہو اور سُؤر کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلاگھٹ کر مرجائے اور چوٹ لگ کر مرجائے اور جو گر کر مرجائے اور جو سینگ لگ کر مرجائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کر کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو۔ اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے۔ اور یہ بھی کہ پانسوں سے قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ (کے کام) رہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہوگئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔ (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔ تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(3) اللہ کی طرف سے جو جانور حلال کیے گئے ہیں، ان میں سے مردار جانوروں کا گوشت کھانا تم پر حرام کردیا گیا ہے اور بہتا ہوا خون بھی اور جو جانور دانستہ (ارادے سے) غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور وہ جانور جو گلا گھٹنے سے مرجائے اور وہ جانور جو لکڑی کی زد سے مرجائے اور وہ جانور جو پہاڑ سے گر کر یا کنوئیں میں گر کر مرجائے اور وہ جانور جو کسی کی ٹکر سے مرجائے اور جو کسی جانور کے پکڑنے سے مرجائے البتہ جن کو دم نکلنے سے پہلے شریعت کے مطابق ذبح کرڈالو اور جو جانور غیر اللہ کے مقامات پر ذبح کیا جائے اور وہ گوشت بھی حرام ہے جو بذریعہ قرعہ کے تیروں کے تقسیم کیا جائے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان تیروں سے فال نکالنا حرام دیا گیا ہے۔ کیونکہ انکی اک طرف لکھا ہوا تھا، کہ میرے پروردگار نے اس چیز کا حکم دیا اور دوسری طرف اس کی ممانعت تھی، یہ کفار اپنے کاموں میں ان تیروں سے فال نکالا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمادیا کہ ان گناہ کے کاموں اور حرام چیز کا ارتکاب اللہ کی نافرمانی ہے اور ان امور شرک کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ حج اکبر یعنی حجۃ الوداع کے دن کفار مکہ تمہارے دین (اسلام) کے مغلوب ہو کر ان کے دین (کفر وشرک) کی طرف لوٹ آنے سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مایوس اور ناامید ہوگئے۔ لہذا رسول اکرم ﷺ کی اطاعت اور کفار کی مخالفت میں ان سے مت ڈرو بلکہ رسول اکرم ﷺ کے دین اور آپ کی اتباع کے ترک کرنے اور کفار کی موافقت کرنے میں مجھ (اللہ ہی) سے ڈرو۔ حج اکبر کے دن میں نے تمہارے دین کے تمام احکامات حلال و حرام اوامرونواہی کو ہر ایک طریقہ سے کامل کردیا، آج کے بعد تمہارے ساتھ میدان عرفات، منی، اور طواف اور صفا ومروہ کی سعی میں کوئی مشرک نہیں ہوگا، اور اسلام کو تمہارے لیے منتخب کرلیا۔ (اب اس حوالے سے ضمنا حلال و حرام کا بیان ہورہا ہے) البتہ جو بھوک کی شدت میں ضرورت کی وجہ سے مردار کھانے پر مجبور ہوجائے اس حال میں کہ گناہ کی طرف یا بغیر مجبوری کے کھانے کی طرف اس کا ارادہ نہ ہو اور وہ اس حالت اضطراب میں کچھ کھالے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں اور رحیم ہیں کہ اس نے ضرورت کے مطابق کھانے کی اجازت دی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”حرمت علیکم المیتۃ“۔ (الخ) ابن مندہ ؒ نے ”کتاب الصحابہ“ میں بواسطہ عبدللہ، جبلہ، جان بن ججر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا جس میں مردار کا گوشت تھا، اللہ تعالیٰ نے مردار کے گوشت کی حرمت نازل فرمائی تو، میں نے فورا ہانڈی پھینک دی، (یہ تھا صحابہ کرام ؓ کا اطاعت الہی کا والہانہ جذبہ)۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں۔ اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لئے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو۔ اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے۔ (اس طریق سے) تم نے انکو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو اور (شکاری جانوروں کے چھوڑنے وقت) خدا کا نام لیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

(4) اے محمد ﷺ زید بن مہلل طائی اور عدی بن حاتم طائی یہ دونوں شکاری تھے، شکار کے بارے میں آپ سے دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ کل حلال جانور ذبح شدہ اور جن شکاری جانوروں کی تم اس طرح سکھلائی کرو جیسا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے کہ جب کتا شکار کو پکڑے تو اس کو نہ کھائے۔ تو ایسے سکھلائے ہوئے کتے جو تمہارے لیے شکار پکڑ لائیں تو ان کو کھالو اور شکار کے ذبح کرنے یا کتے کے چھوڑنے پر اللہ کا نام بھی لیا کرو اور مردار کے کھانے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیوں کہ وہ سخت عذاب دینے والے ہیں، یا یہ کہ جس وقت وہ حساب لیتے ہیں تو پھر بہت جلدی کرلیتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”یسئلونک ماذا احل لہم“۔ (الخ) طبرانی ؒ ، حاکم ؒ اور بیہقی ؒ نے ابورافع سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین ؑ رسول اکرم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ سے آنے کی اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے اجازت دے دی مگر انہوں نے آنے میں کچھ تاخیر کی، اس کے بعد جبرائیل امین ؑ نے آپ کی چادر مبارک پکڑی، آپ ﷺ باہر تشریف لائے، جبریل ؑ دروازے پر کھڑے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا ہم نے تو تمہیں اجازت دے دی تھی، انہوں نے فرمایا ٹھیک ہے، مگر ہم ایسے مکان میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر یا کتا ہو، آپ نے نظر دوڑائی تو حجرہ کے کونے میں کتے کا پلا تھا، آپ نے ابورافع کو حکم دیا کہ مدینہ منورہ میں کوئی کتا نہ چھوڑو، سب کو مار ڈالو۔ تو کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس امت میں سے جس کے مارڈالنے کا آپ نے حکم دیا ہے کون سے کتے رکھنا ہمارے لیے حلال ہیں، اس پر آیت نازل ہوئی کہ لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کون سے جانور ان کے لیے حلال ہیں۔ اور ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع کو کتوں کے مار ڈالنے کے لیے بھیجا، وہ مارتے مارتے مدینہ کے نواح میں پہنچے تو آپ کے پاس عاصم بن عدی اور سعد بن حشمہ اور عویمر بن ساعدہ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان جانوروں میں سے کون سے ہمارے لیے حلال ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، نیز محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام ؓ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ اس امت میں سے کون سی قسم کے جانور ہمارے لیے حلال ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ نیز شعبی کے طریق سے عدی بن حاتم سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اکرم ﷺ سے شکاری کتوں کا حکم دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا، ؤُ نے اس کو کچھ جواب نہ دیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جیہ سے روایت کیا ہے کہ عدی ابن حاتم طائی ؒ اور زید بن مہلل طائی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یارسول اللہ ﷺ ہم کتوں اور باز کے ذریعے سے شکار کرتے ہیں اور آل ذریح کے کتے، نیل گائے، جنگلی گدھے اور ہر نیوں کا شکار کرلیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مردار کو حرام کردیا ہے، اب ہمارے لیے ان میں سے کون سی چیزیں حلال ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں۔ اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا انکو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جب کہ ان کا مہر دیدو اور ان کے عفت قائم رکھنی مقصود ہو کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی۔ اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔

(5) حج اکبر کے دن تمام حلال جانور ذبح شدہ تمہارے لیے حلال کردیے گئے اور اہل کتاب کا ذبیحہ بھی بشرطیکہ حلال جانور ہو تمہارے لیے حلال ہے، جیسا کہ تمہارے ذبح کیے ہوئے جانور ان کے لیے حلال ہیں، چناچہ یہود و نصاری مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتے ہین۔ اور آزاد مسلمان نیک عورتیں تمہارے لیے حلال اور اسی طرح اہل کتاب کی آزاد نیک عورتوں سے بھی تمہارے لیے شادی کرنا حلال ہے، جب کہ تم ان کے لیے رواج کے مطابق مہر مقرر کردو اور دیکھو اس طریقہ سے کہ تم ان اہل کتاب کی عورتوں کو بیوی بناؤ یہ درست طریقہ ہے اس کے علاوہ نہ تو ان عورتوں کے ساتھ علانیہ زنا کرو اور نہ خفیہ تعلق قائم کرو۔ اگلی آیت اہل مکہ کی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے مسلمان عورتوں پر فخر کیا تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ توحید کا منکر جنت کے ہاتھ سے نکل جانے اور دوزخ میں داخل ہونے کی وجہ سے سخت گھاٹے میں رہے گا۔
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

مومنو ! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو۔ اور سر کا مسح کرلیا کرو۔ اور ٹخنوں تک پاؤں (دھولیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہاکر) پاک ہوجایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے آیا ہو یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو، اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مِٹّی لو اور اس منہ اور ہاتھو کا مسح (یعنی تیمم) کرلو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنی چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے۔ تاکہ تم شکر کرو۔

(6) جب نماز کے وقت تم بےوضو ہو تو اللہ تعالیٰ نے وضو کرنے کا طریقہ سکھلا دیا نیز اپنے پیروں کو بھی ٹخنوں سمیت دھوؤ اور غسل کی حاجت پر غسل کرلو، یہ آیت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے بارے میں نازل ہوئی یعنی پانی کا استعمال نقصان دہ ہو یا زخم وغیرہ یا اس کے علاوہ پیشاب یا پاخانہ کی حاجت سے فارغ ہوا ہو یا ہم بستری کی ہو اور پھر پانی میسر نہ ہو سکے تو دو ضربوں کے ساتھ پاک مٹی سے تیمم کرلو وہ اللہ تمہیں تیمم کے ذریعے حدث اصغر (چھوٹی ناپاکی جس سے وضو ٹوٹ جائے جیسے پاخانہ، پیشاب کا آنا، خون اور ہوا کا نکلنا وغیرہ) اور حدث اکبر (بڑی ناپاکی جس کے بعد غسل کرنا واجب اور ضروری ہوجاتا ہے جیسے جنابت، احتلام، حیض وغیرہ (مترجم) سے پاک کرتا ہے اور تم پر اپنا انعام اس تیمم اور اجازت کے ذریعے تام کرتا ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے انعام اور اس کی سہولت عطا کرنے کا شکر ادا کرو۔ شان نزول : یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ“۔ (الخ) امام بخاری ؒ نے بواسطہ عمرو بن حارث، عبدالرحمن بن قاسم ؓ ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت نقل کی ہے، فرماتی ہیں کہ میرا ایک ہار گرگیا اور اس وقت ہم مدینہ منورہ آرہے تھے، رسول اکرم ﷺ نے اپنا اونٹ بٹھایا اور اونٹ سے اتر کر اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ کر سوگئے۔ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ آئے اور انہوں نے زور سے میرے ایک مکا مارا اور بولے تو نے ایک کی وجہ سے سب لوگوں کو روک دیا، اس کے بعد رسول اکرم ﷺ بیدار ہوگئے اور صبح کی نماز کا وقت آیا تو پانی کی تلاش ہوئی مگر پانی نہ ملا۔ اس پر یہ آیت ”اذا قمتم“۔ تشکرون“ تک نازل ہوئی، اسیدان حضیر بولے ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر والو، تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اتنی بڑی آسانی دی۔ (سبحان اللہ) اور طبرانی ؒ نے بواسطہ عباد بن عبداللہ بن زبیر ؓ حضرت عائشہ ؓ سے روایت نقل کی ہے، فرماتی ہیں کہ جب میرا ہار کا جو کچھ معاملہ ہونا تھا سو ہوا اور اصحاب افک نے جو موشگافیاں کرنی تھیں، سو انہوں نے کی میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دوسرے جہاد کے لیے روانہ ہوئی، وہاں بھی میرا ہار گرگیا۔ صحابہ کرام ؓ اس کی تلاش میں رک گئے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مجھے فرمایا اے لڑکی تو ہر ایک سفر میں لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے تیمم کی اجازت نازل فرمائی، پھر ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا تو تو برکت والی ہے (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) (دو ضروری فوائد) 1۔ امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو عمر وبن حارث کی روایت سے نقل کیا اور اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ تیمم کی آیت جو اس روایت میں مذکور ہے وہ سورة مائدہ کی آیت ہے اور اکثر راویوں نے صرف اتنا بیان کیا ہے کہ تیمم کی آیت نازل ہوئی اور یہ نہیں بیان کیا کہ کون سی آیت نازل ہوئی، حافظ ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ یہ بہت مشکل چیز ہے میرے پاس اس کا کوئی علاج نہیں کیوں کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ حضرت عائشہ ؓ کا مقصد ان دونوں آیتوں میں سے کون سی آیت ہے اور ابن بطال فرماتے ہیں کہ یہ سورة نساء کی آیت اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سورة مائدہ کی آیت آیت وضو کے ساتھ مشہور ہے اور سورة نساء کی آیت میں وضو کا کوئی تذکرہ نہیں، اس بنا پر آیت تیمم کے ساتھ یہی آیت خاص ہے اور واحدی نے اسباب النزول میں اس حدیث کو سورة نساء کی آیت کے ماتحت بھی روایت کیا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امام بخاری جس طرف مائل ہوئے ہیں کہ یہ سورة مائدہ کی آیت ہے، وہ ہی چیز صحیح ہے کیونکہ روایت مذکور میں اس کی تصریح ہے۔ 2۔ حدیث میں اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وضو اس آیت کے نازل ہونے سے قبل ہی فرض تھا اسی وجہ سے پانی کی عدم موجودگی میں صحابہ کرام ؓ نے اس آیت کے نزول کو زیادہ اہمیت دی اور حضرت ابوبکر ؓ حضرت عائشہ ؓ کو جو کچھ فرمایا سو ٹھیک ہے، ابن عبدالبر فرماتے ہیں، تمام اہل مغازی کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ جس وقت سے نماز فرض ہوئی ہے، رسول اکرم ﷺ نے کوئی بھی نماز بغیر وضو کے نہیں پڑھی اور اس چیز کا کوئی بیوقوف ہی انکار کرسکتا ہے، اور اس کے باوجود کہ وضو پر پہلے ہی سے عمل تھا مگر آیت وضو کے نازل کرنے میں یہ حکمت ہے کہ وضو کی فرضیت بھی قرآن کریم میں تلاوت کی جائے۔ اور دیگر حضرات نے فرمایا کہ یہ بھی احتمال ہے کہ وضو کی فرضیت کے ساتھ آیت وضو پہلے نازل ہوچکی ہو پھر بقیہ آیت جس میں تیمم کا ذکر ہے وہ اس واقعہ میں نازل ہوئی ہو کہ پہلا ہی قول زیادہ صحیح ہے کیوں کہ وضو کی فرضیت نماز کی فرضیت کے ساتھ مکہ مکرمہ ہی میں فرض ہوچکی تھی اور یہ آیت مدنی ہے۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں انکو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ تم نے (خدا کا حکم) سُن لیا اور قبول کیا۔ اور خدا سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔

(7) اللہ تعالیٰ اس احسان کو جو ایمان کے ذریعے تم پر ہوا ہے اور عہد کو جو میثاق کے دن تم سے لیا ہے محفوظ رکھو اور جن کاموں کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا اور جن باتوں سے منع کیا ہے اس کی بجا آوری میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ دلوں میں جو کچھ ہے، اس سے وہ بخوبی واقف ہیں۔
Ayah 5:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوجایا کرو اور لوگوں کی دشمنی تمکو اس بات ہر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

(8) اور عدل و انصاف پر جمے رہو اور شریح بن شرجیل کا بغض تمہیں بکر بن وائل کے حاجیوں کے ساتھ ناانصافی پر آمادہ نہ کرے عدل و انصاف کرنا پرہیزگاروں کے لیے تقوی سے زیادہ قریب ہے اور عدل وظلم میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کیوں کہ وہ ان باتوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
Ayahs 5:9–10

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

(9۔ 10) مومنین اور اہل اطاعت کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں معاف فرمائے گا اور جنت میں ان کا کامل ثواب عطا فرمائے گا اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے جہنمی ہیں۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

(11) نیز رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو ! اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو جو اس نے تمہارے دشمنوں کو تم سے دور کرکے تم پر کیا ہے، یاد کرو جب کہ بنی قریظہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کیا تھا اور اوامر خداوندی سے ڈرتے رہو اور اہل ایمان پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ کریں۔ شان نزول : (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؓ اور یزید بن ابی زیاد سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نکلے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عثمان، ؓ حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ، ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ تھے، حتی کہ کعب بن اشرف اور بنی نضیر کے یہودیوں کے پاس پہنچے اور ان لوگوں سے ایک دیت کے بارے میں کچھ مدد کی ضرورت تھی، یہ بدبخت یہودی بولے کہ آپ بیٹھو، ہم آپ کو کھانا کھلاتے ہیں اور جس ضرورت کے لیے آپ آئے ہیں، اسے بھی پورا کرتے ہیں، چناچہ آپ ﷺ بیٹھ گئے تو حیی بن اخطب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس موقع سے زیادہ اچھا موقع تمہیں کوئی نہیں ملے گا، العیاذ باللہ آپ رسول ﷺ پر پتھر پھینک کر قتل کردو اور پھر ہمیشہ کی تکلیف ختم ہوجائے گی، چناچہ وہ بہت بڑا پتھر آپ پر پھینکنے کے لیے لے آکر آئے مگر اللہ تعالیٰ نے اس پتھر کو ان کے ہاتھوں میں روکے رکھا یہاں تک کہ جبریل امین ؑ آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کو اس جگہ سے اٹھالیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی اس انعام کو بھی یاد کرو جو تم پر ہوا ہے، جب کہ ایک قوم تم پر دست درازی کی فکر میں تھی، الخ۔ نیز عبداللہ بن ابی بکر ؓ عاصم بن عمیر بن قتادہ، مجاہد، عبداللہ بن کثیر، ابومالک سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور قتادہ سے روایت کی ہے فرماتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا گیا کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر اس وقت نازل کی گئی کہ جب آپ کھجوروں کے ایک باغ میں بسلسلہ ایک جہاد تشریف فرما تھے تو بنو ثعلبہ اور بنومحارب نے آپ پر حملہ کا ارادہ کیا، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ کی طرف ایک اعرابی کو روانہ کیا، آپ آرام گاہ پر سو رہے تھے، اعرابی نے تلوار نکال کر نبی ؑ سے کہا کہ آپ ﷺ کو میرے ہاھت سے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ، تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی اور وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔ اور ابو نعیم نے دلائل نبوت میں بواسطہ حسن حضرت جابر بن عبداللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ بنی محارب میں سے غورث بن حارث نامی ایک شخص نے کہا کہ تمہارے لیے العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ کو قتل کرتا ہوں، چناچہ وہ رسول اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کی تلوار آپ کی گود میں تھی، وہ کہنے لگا محمد ﷺ اپنی تلوار تو دکھائیے، آپ ﷺ نے فرمایا لو، چناچہ اس نے تلوار لے کر سونت لی اور اس کو ہلاک کر اپنے مکروہ ارادے کی تکمیل کرنا چاہی، اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو منہ کے بل گرا دیا اس نے کہا کہ اے محمد ﷺ آپ مجھ سے نہیں ڈرتے، آپ نے فرمایا نہیں، اس نے پھر کہا کہ آپ مجھ سے نہیں ڈرتے حالانکہ تلوار میرے ہاتھ میں ہے، آپ نے فرمایا نہیں، اللہ تعالیٰ میری حفاظت فرماے گا، اس کے بعد اس نے رسول اکرم ﷺ کو تلوار واپس کردی، تب یہ آیت نازل ہوئی ، (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور خدا نے نبی اسرائیل سے اقرار لیا۔ اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے۔ پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کرونگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

(12) بنی اسرائیل سے رسول اکرم کی رسالت کے بارے میں توریت میں اقرارلیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور بارہ قاصد یا بارہ سردار مقرر کیے تھے، ہر ایک قبیلہ کے لیے ایک سردار اور ان سرداروں سے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا تھا کہ میری مدد تمہارے ساتھ ہے۔ اگر تم ان نمازوں کو جو میں نے تم پر فرض کی ہیں ادا کرتے رہو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دیتے رہو، اور جو رسول تمہارے پاس آئیں، ان کی تصدیق کرتے رہو اور بذریعہ تلوار ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرتے رہو تو میں کبیرہ کے علاوہ صغیرہ گناہوں کو بھی معاف کردوں گا اور ایسے باغات میں داخل کروں گا، جہاں درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی اور پاکیزہ شراب کی نہریں جاری ہوں گی جو اس اقرار اور عہد و پیمان کے بعد سرتابی کرے گا میں اس سے ناراض رہوں گا، چناچہ پانچ سرداروں کے علاوہ سب راہ راست سے ہٹ گئے۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم انکی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔ تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

(13) عہد شکنی کرنے والوں کی سزا کا ذکر فرماتے ہیں کہ ہم نے اس عہد شکنی کی بنا پر ان پر جزیہ کی سزا مسلط کردی اور ان کے کے دلوں کو اتنا سخت کردیا کہ ان میں نور ایمان ہی نہ رہا۔ چناچہ رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت اور آیت رجم کا توریت میں ذکر ہونے کے باوجود وہ اس میں تبدیلی کرنے لگے اور توریت میں رسول اکرم ﷺ کی پیروی اور نعت وصفت کے اظہار کا جو حکم دیا گیا تھا اس حصہ کو بالکل بھلا دیا گیا۔ اے نبی کریم ﷺ یہ بنی قریظہ والے آپ ﷺ کے ساتھ جو خیانت کرتے اور آپ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں اس کی آپ ﷺ کو اطلاع ہوتی رہتی ہے، ماسوا عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں کے آپ ﷺ ان سے درگزر کیجیے اور کسی قسم کی کوئی سختی نہ فرمائیے، (اللہ تعالیٰ ان سے خود ہی نمٹ لے گا)
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لئے دشمنی اور کینہ ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا۔

(14) نصاری نجران یہ دعوے کرتے رہتے ہیں ہم نے ان سے بھی انجیل میں عہد لیا تھا کہ رسول اکرم ﷺ کی پیروی کریں گے اور آپ کی نعت وصف کو بیان کریں گے اور اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں گے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے لیکن انہوں نے بھی جس چیز کا حاکم دیا تھا، اس میں سے ایک بڑے حصے کو فراموش کردیا۔ چناچہ ہم نے یہود اور نصاری کے درمیان یا اہل نجران کے نصاری یعنی نسطوریہ، یعقوبیہ، سرقومیہ اور ملکانیہ کے درمیان قتل وہلاکت اور دشمنی ڈال دی اور ان کی یہ مخالفت، خیانت اور عداوت ودشمنی اللہ تعالیٰ ان کو روز قیامت جتلا دیں گے۔
Ayah 5:15

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزّماں) آگئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے۔

(15) اے اہل کتاب تم ہمارے رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت اور آیت رجم وغیرہ کو چھپاتے ہو حالانکہ ہم تمہارے بہت سے گناہ معاف کردیتے ہیں جو تم سے بیان نہیں کرتے۔ شان نزول : (آیت) ”یاھل الکتب قد جآئکم رسولنا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہود کے پاس رجم کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے اور ان سے پوچھا کہ تم میں سب سے بڑا عالم کون ہے سب نے ابن صوریا کی طرف اشارہ کیا، آپ نے اس کو اس ذات کی قسم دے کر جس نے توریت کو موسیٰ ؑ پر نازل کیا اور اور کوہ طور کو ان پر اٹھایا اور ان سے تمام عہد لیے۔ (آپ ﷺ نے زنا کی سزا کے حوالے سے) پوچھا تو کہنے لگا جب زنا ہم میں زیادہ ہوتا ہے تو سو کوڑے مارتے ہیں اور سر مونڈ دیتے ہیں چناچہ آپ نے ان پر رجم کا فیصلہ کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے یہ رسول ﷺ آئے ہیں الخ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 5:16–17

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس سے خدا اپنی رضا پر جلنے والوں کو نجات کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

جو لوگ اس بات کے قائل ہے کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہے تو بیشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے ؟ اور آسمان اور اور جو کچھ ان دونوں میں ہیں سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(16) اور اللہ تعالیٰ روشن چیز یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ذریعے جو حلال و حرام کو بیان کرتے ہیں اور سلامتی کا راستہ یعنی دین اسلام بتلاتے ہیں اور سلام اللہ تعالیٰ کا نام بھی ہے اور ان کو اپنے حکم اور توفیق اور کرامت سے کفر سے ایمان کی طرف لاتے ہیں اور پھر دین اسلام کے قبول کرنے کے بعد ان کو ثابت قدمی عطا کرتے ہیں۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔ کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے ؟ (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو۔ وہ جیسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(18) مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے عیسائی کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین پر ایسے قائم ہیں جیسا کہ اس کے بیٹے اور محبوب یا ہم مثل اولاد اور معشوقوں کے مقبول ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اولاد انبیاء ہیں۔ اے محمد ﷺ آپ ان یہودیوں سے دریافت کیجیے کہ تم نے چالیس دن تک جو بچھڑے کی پوجا کرکے خدا کی نافرمانی کی جس کی خدا نے تمہیں سزا دی، اگر تم خدا کے بیٹے ہو تو پھر خدا نے کیوں تمہیں یہ سزا دی، کیا باپ اپنے بیٹے کو آگ میں جلا سکتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم خدا کی مخلوق اور اس کے بندے ہو، یہودیت اور نصرانیت سے جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمانے والے ہیں اور جو اسی پر مرتا ہے، اسے عذاب دیتا ہے، مومن ہو یا کافر سب کو اسی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”وقالت الیہود والنصری“۔ (الخ) ابن اسحاق نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں نعمان بن قصی، بحربن عمر اور شاس بن عدی آئے، سب نے آپ ﷺ سے گفتگو کی اور آپ ﷺ نے ان سے گفتگو کی اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور اس کے عذاب سے ڈرایا۔ تو وہ کہنے لگے ہم نہیں ڈرتے اور نصاری کی طرح کہنے لگے اے محمد ﷺ خدا کی قسم ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی یہود اور نصاری دعوے کرتے ہیں، الخ۔ نیز ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو اسلام کی دعوت دی اور اس کی طرف رغبت دلائی تو انہوں نے انکار کیا، اس پر حضرت معاذ بن جبل ؓ اور سعد بن عبادہ ؓ بولے، اے گروہ یہود، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ کی قسم تم یہ حقیقت اچھی طرح جانتے ہو کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ کی بعثت سے قبل تم ہی لوگ ہم سے آپ کا ذکر کیا کرتے تھے اور آپ کے اوصاف بیان کرتے تھے۔ اس پر رافع بن حریملہ اور وہب بن یہود بولے کہ ہم نے تم سے یہ بیان نہیں کیا اور موسیٰ ؑ کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی کتاب نازل کی اور نہ کسی بشیر اور نذیر کو بھیجا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔”۔ یا اھل الکتاب“۔ (الخ) اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے یہ رسول، الخ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب (پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہاتو) اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانیوالے آگئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(19) جب رسولوں کا سلسلہ کچھ عرصہ کیلئے بند ہوگیا تو خاتم النبین محمد ﷺ اوامرو نواہی خداوندی تمہارے پاس لے کر آئے تو تاکہ قیامت کے دن تم بہانے بناتے ہوئے یوں نہ کہو کہ جنت کی بشارت اور دوزخ سے ڈرانے والا کوئی نبی و رسول ہمارے پاس نہیں آیا۔ یقیناً رسول اکرم ﷺ تمہارے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ رسولوں کے بھیجنے پر اور جو رسولوں کی دعوت قبول کرے اس کو ثواب دینے پر اور انکار کرنے والے سخت سزا دینے پر قادر ہیں۔
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔ اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا۔

(20) اس وقت کو یاد کرو جب تم لوگ فرعون کے غلام تھے، اس اللہ نے فرعون سے نجات دے کر تمہیں صاحب ملک بنایا اور وادی تیہ میں تمہیں ”من وسلوی“ جیسی آسمانی نعمت دی، جو دنیا میں کسی اور نبی کی امت کو نہیں دی۔
Ayahs 5:21–22

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

تو بھائیو ! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) جسے خدا نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑجاؤ گے۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سر زمین سے نکل نہ جائیں تم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہونگے۔

(21۔ 22) اور سرزمین دمشق، فلسطین اور اردن کے بعض حصوں میں داخل ہو، جو سرزمین اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے اور اسے تمہارے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی میراث بنایا ہے اور پیچھے واپس مت چلو کیوں کہ عذاب خداوندی کی بنا پر جس کی وجہ سے تم سے من وسلوی چھین لیاجائے گا اور تم بہت بڑے نقصان میں پڑجاؤ گے، بنی اسرائیل نے کہا وہاں تو بہت زبردست قوی لوگ ہیں، ہم ایسے علاقے میں نہیں جائیں گے اور زبردست لوگوں سے ڈرنے والے بارہ آدمی تھے۔
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے راستے سے حملہ کردو۔ جب تم دروازے میں داخل ہوگئے تو فتح تمہاری ہے۔ اور خدا ہی پر بھروسا رکھو بشرطیکہ صاحب ایمان ہو۔

(23) مگر یوشع بن نون اور کالب بن یوقتا جو اللہ تعالیٰ سے خوف رکھنے والے تھے، انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی تائید میں فرمایا، ان لوگوں سے نہ ڈرو اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے اس علاقے میں داخل ہوجاؤ۔ اس کے معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ یہ دونوں حضرات موسیٰ ؑ سے ڈرتے تھے اور ان کے زبردست لوگوں میں سے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرما کر انھیں دولت توحید سے بہرہ مند فرمایا۔
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

وہ بولے کہ موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جاسکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔

(24) مگر قوم بولی آپ اور آپ کا اللہ یا ہارون اور تم چلے جاؤ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا جیسا کہ تم دونوں کی فرعون اور اس کی قوم کی مقابلہ کے وقت مدد کی ہے، ہم نہیں جاسکتے تاہم انتظار میں ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔
Ayahs 5:25–26

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی اور پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کیلئے حرام کردیا گیا ہے (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے ہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حلال پر افسوس نہ کرو۔

(25۔ 26) حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا اے میرے پروردگار میں تو محض اپنے اوپر اور اپنے بھائی پر اختیار رکھتا ہوں، ان کی سرکشی کی حد ہوگئی اب ہمارے اور ان نافرمان قوم کی درمیان فیصلہ فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ اب ان پر اس جگہ داخل ہونا حرام ہوگیا یہ وادی تیہ ہی میں بطور سزا جس کی مسافت سات فرسخ کے برابر ہے، چکر کھاتے رہیں گے نہ یہ وہاں سے نکل سکیں گے اور نہ ان کو کوئی راستہ ہی ملے گا، اب آپ فکر مت کیجیے۔
Ayahs 5:27–31

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے ّ (ہیں) پڑھ کر سن دو کہ جب ان دونوں نے (خدا کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردونگا۔ اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے۔

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کیلئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا۔ مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈرلگتا ہے۔

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو۔ اور ظالموں کو یہی سزا ہے۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اسے قتل کردیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگیا۔

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

اب خدا نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے۔ کہنے لگا اے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوّے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پیشمان ہوا۔

(27 تا 31) اے محمد ﷺ آپ بذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو یہ قصہ بھی سنائیے کہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، اور قابیل کی قربانی نہ ہوئی تو قابیل نے ہابیل سے کہا میں تجھے قتل کروں گا، ہابیل نے کہا کیوں قابیل نے کہا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی تو قبول کرلی اور میری قربانی قبول نہیں کی، ہابیل نے کہا جو قول وعمل میں چنے ہوتے ہیں اور ان کے دل پاکیزہ ہوتے ہیں انکا عمل قبول ہوتا ہے اور تو پاکیزہ قلب والا نہیں اس لئے اللہ نے تیری قربانی قبول نہیں کی اور اگر تو ظلم سے مجھ پر دست درازی کرے گا تو میں جوابا ایسا نہیں کروں گا تاکہ میرے خون سے پہلے جو تیرے اور گناہ ہیں اور میرے جو گناہ ہیں تو سب اپنے اوپر لے تاکہ تو جہنمی ہوجائے، کیوں کہ ظلم کرکے جو بھی بےحد حسد کرتے ہیں، ان کی سزا جہنم ہیں ہے۔ تو اس کے دل نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا، جس سے سزا کی بنا پر بڑا نقصان اٹھانے والا ہوگیا۔ بحکم الہی ایک کوا دوسرے مرے ہوے کو چھپانے کے لیے زمین کھود رہا تھا تاکہ قابیل بھی دیکھ لے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش کو مٹی میں چھپائے، تو یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا، افسوس ! میں تدبیر سے بھی گیا گزرا ہوں کہ اپنے بھائی کی لاش کو مٹی ہی میں چھپا دینے کی تدبیر تک نہ آئی ؟ چناچہ وہ اپنے بھائی کی لاش نہ چھپا سکنے پر شرمندہ ہوا اور اس کے قتل کرنے پر اسے کوئی شرمندگی نہیں ہوئی۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اس (قتل) کی وجہ سے تم نے نبی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی پیدا کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا۔ اور لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لاچکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان میں بہت سے لوگ ملک میں حّد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔

(32) قابیل کے ہابیل کو ظلما قتل کرنے کی وجہ سے توریت میں بنی اسرائیل پر یہ مقرر کردیا ہے کہ جو کسی شخص کو دانستہ قتل کرے تو ایک تو ایک شخص کے قتل کی وجہ سے اس پر دوزخ لازم ہوگئی یہ ایسا ہی ہے کہ وہ تمام انسانوں کو مار ڈالے ، اور جو قتل سے اپنا ہاتھ روکے تو ایک شخص سے ہاتھ روکنے کی وجہ سے اس کے لیے جنت ثابت ہوگئی یہ ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ اس نے تمام لوگوں کو بچا لیا۔ اور بنی اسرائیل کی طرف اوامر ونواہی اور دلائل کے ساتھ سے بہت سے رسول آئے مگر وہ زیادتی کرنے والے ہی رہے۔
Ayahs 5:33–34

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کو دوڑتے پھریں انکی یہی سزا ہے کہ قتل کردیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیے جائیں یا ملک سے نکال دیے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا (بھاری) عذاب (تیّار) ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو آجائیں توبہ کرلی تو جان رکھو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(33۔ 34) بنی کنانہ کی قوم نے رسول اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تھا تاکہ اسلام قبول کرلیں مگر ہلال بن عویمر کی قوم نے جو مشرک تھے ان کو قتل کرڈالا اور ان کا سازوسامان سب چھین لیا تو اب اللہ تعالیٰ ان کی سزا بیان فرماتے ہیں۔ کہ ان لوگوں کی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور زمین میں گناہ اور قتل اور لوٹ مار جیسے گھناونے جرائم کرتے ہیں یہ سزا ہے کہ جس حالت میں انہوں نے صرف قتل کیا ہو اور مال نہ لیا ہو تو ان کو قصاصا قتل کردیا جائے اور اگر مال بھی لیا ہو تو ان کو سولی پر چڑھا دیا جائے اور اگر صرف ظلما مال ہی لیا ہو اور کسی کو قتل نہ کیا ہو تو دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دیا جائے، اور اگر راستہ میں صرف لوگوں کو ڈرایا ہو اور کسی کا مال نہ چھینا ہو اور نہ قتل کیا ہو اور پھر فورا ہی پکڑے گئے تو انکی سزا یہ ہے کہ ان کو جیل میں بند کردیا جائے یہاں تک کہ نیکی اور توبہ کے آثار کمال کے ساتھ ظاہر ہوجائیں اور جو شخص توبہ نہیں کرے گا اسے آخرت میں دنیا سے سخت عذاب دیا جائے گا، تاہم جو پکڑے جانے سے پہلے کفر وشرک سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف فرمانے والے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”انما جزآء الذین یحاربون اللہ“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے یزید بن ابی حبیب ؒ سے روایت کیا ہے کہ عبدالملک بن مروان ؒ نے حضرت انس ؓ کے پاس اس آیت کریمہ (آیت) ”انما جزآء الذین یحاربون اللہ“۔ (الخ) کے بارے میں دریافت کرنے کے متعلق لکھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ یہ آیت اصحاب عرینہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ مرتد ہوگئے تھے اور رسول اکرم ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا تھا اور آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے تھے پھر جریر سے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے اور عبدالرزاق نے ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا سے ڈرتے رہو۔ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ۔

(35) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو اوامر خداوندی میں اس سے ڈرو اور اعلی درجات کو طلب کرو یا یہ کہ اعمال صالحہ کے ذریعے قرب خداوندی طلب کرو تاکہ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور عذاب سے نجات حاصل پاؤ اور مطمئن ہو۔
Ayahs 5:36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اگر انکے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال و متاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہوتا کہ قیامت کے روز عذاب سے (رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور انکو درد دینے والا عذاب ہوگا۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

(ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔

(36۔ 37) اگر کفار کے پاس پوری دنیا کا مال بلکہ اس سے دو گنا بھی ہو اور پھر اسے اپنی جانوں کے فدیہ کے طور پر ادا کریں، پھر بھی یہ فدیہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور یہ دوزخ سے کسی طرح بھی نہیں نکلیں گے اور ہمیشہ عذاب میں رہیں گے جس میں کبھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 5:38

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے۔ اور خدا زبردست اور صاحب حکمت ہے۔

(38) چور مرد اور چور عورت کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے یہ ان کی چوری کی سزا ہے اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہے وہ چور کو سزا دینے میں غالب اور ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کرنے میں حکمت والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”والسارق والسارقۃ“۔ (الخ) امام احمد وغیرہ نے عبدال بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک عورت نے چوری کی تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میری توبہ کی گنجائش ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی پھر جو شخص توبہ کرے اپنی زیادتی کے بعد“ (الخ)۔
Ayah 5:39

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو خدا اس کو معاف کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(39) پھر جو چوری اور قطع ید (ہاتھ کاٹے جانے) کے بعد توبہ کرکے اپنی اصلاح کرے تو توبہ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں۔
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے ؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(40) اے محمد ﷺ کیا قرآن کریم میں اس کا علم موجود نہیں کہ آسمان و زمین کے تمام خزانے اسی اللہ کی ملکیت ہیں۔ جو عذاب کا مستحق ہے، وہ اسے عذاب اور جو مغفرت کا اہل ہے، اس کی مغفرت فرماتے ہیں۔