Explained with ayahs 96–99
طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات
دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے حضرت ابوبکر صدیق حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اجمعین، حضرت عکرمہ، حضرت ابو سلمہ، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت حسن بصری رحمم اللہ سے بھی یہی مروی ہے، خلیفہ بلا فصل ؓ سے روایت ہے کہ پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ) آپ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
سورة الْمَآىِٕدَة 113
عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک مقدس عبادت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیت اور اپنے تقدس کی وجہ سے وہی پورے ملک کی معاشی و تمدنی زندگی کا سہارا بنا ہوا تھا۔ حج اور عمرے کے لیے سارا ملک اس کی طرف کھنچ کر آتا تھا اور اس اجتماع کی بدولت انتشار کے مارے ہوئے عربوں میں وحدت کا ایک رشتہ پیدا ہوتا، مختلف علاقوں اور قبیلوں کے لوگ باہم تمدنی روابط قائم کرتے، شاعری کے مقابلوں سے ان کی زبان اور ادب کو ترقی نصیب ہوتی، اور تجارتی لین دین سے سارے ملک کی معاشی ضروریات پوری ہوتیں۔ حرام مہینوں کی بدولت عربوں کو سال کا پورا ایک تہائی زمانہ امن کا نصیب ہوجاتا تھا۔ بس یہی زمانہ ایسا تھا جس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
خدا تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ ادب کا مکان ہے، لوگوں (کی مصلحتوں) کے قائم رہنے کا سبب قرار دے دیا ہے اور (اسی طرح) عزت والے مہینہ کو بھی اور (اسی طرح) حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو بھی اور (اسی طرح) ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں (اس نشانی کے لئے) پٹے ہوں (کہ یہ اللہ کی نیاز ہیں حرم میں ذبح ہوں گے) یہ (قرارداد علاوہ اور دنیوی مصلحتوں کے) اس (دینی مصلحت کے) لئے (بھی) ہے تاکہ (تمہارا اعتقاد درست اور پختہ ہو اس طرح سے کہ تم ان مصالح سے استدلال کرکے) اس بات کا یقین (ابتدائً یا کمالاً) کرلو کہ بیشک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزوں کا علم (کامل) رکھتے ہیں (کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
تفسیر آیات 97۔ 100:۔ جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِــيٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَاۗىِٕدَ ۭذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ۭوَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ۔ قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
97۔ 1 کعبہ کو البیت الحرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی حدود میں شکار کرنا، درخت کاٹنا وغیرہ حرام ہیں۔ اسی طرح اس میں اگر باپ کے قاتل سے بھی سامنا ہوجاتا تو اس سے بھی تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ اسے قیاما للناس (لوگوں کے قیام اور گزران کا باعث) قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے سے اہل مکہ کا نظم و انصرام بھی صحیح ہے اور ان کی ضروریات کی فراہمی کا ذریعہ بھی۔ اسی طرح حرمت والے مہینے (رجب، ذوالحجہ اور محرم) اور حرم میں جانے والے جانور ہیں کہ تمام چیزوں سے بھی اہل مکہ مزکورہ فوائد حاصل ہوتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
67: کعبے شریف اور حرمت والے مہینے کا باعث امن ہونا تو ظاہر ہے کہ اس میں جنگ کرنا حرام ہے، اس کے علاوہ جو جانور نذرانے کے طور پر حرم لے جائے جاتے تھے ان کے گلے میں پٹے ڈال دئے جاتے تھے تاکہ ہر دیکھنے والے کو پتا چل جائے کہ یہ جانور حرم جارہے ہیں ؛ چنانچہ کافر، مشرک، ڈاکو بھی ان کو چھیڑتے نہیں تھے، کعبے کے قیام امن کا باعث ہونے کے ایک معنی کچھ مفسرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ جب تک کعبہ شریف قائم رہے گا قیامت نہیں آئے گی، قیامت اس وقت آئے گی جب اسے اٹھالیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99)
” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا)…
Read the full tafseer →2 کعبہ شریف دینی اور دنیاوی دونوں حیثیت سے لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔ حج وعمرہ تو وہ عبادات ہیں جن کا ادا کرنا براہ راست کعبہ ہی سے متعلق ہے۔ لیکن نماز کے لئے بھی استقبال قبلہ شرط ہے، اس طرح کعبہ لوگوں کی دینی عبادات کے قیام کا سبب ہوگیا۔ پھر حج وغیرہ کے موقع پر تمام بلاد اسلامیہ سے لاکھوں مسلمان جب وہاں جمع ہوتے ہیں تو بیشمار تجارتی، سیاسی، اخلاقی، مذہبی اور روحانی فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ خدا نے اس جگہ کو " حرم اٰمن " بنایا۔ اس لئے انسانوں بلکہ بہت جانوروں تک کو وہاں رہ کر امن نصیب ہوتا ہے۔ عہد جاہلیت میں جب کہ ظلم و خونریزی اور فتنہ و فساد محض معمولی بات تھی ایک آدمی اپنے باپ کے قاتل سے بھی…
Read the full tafseer →آیت 97 جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلَآءِدَ ط
یہ سب اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور اسی کے معیّن کردہ ہیں۔ سورة کے شروع میں بھی ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں در اصل تو ثیق ہو رہی ہے کہ یہ سب چیزیں زمانہ جاہلیت کی روایات نہیں ہیں بلکہ خانہ کعبہ کی حرمت اور عظمت کی علامت ہیں۔ ئ
ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
آگے چل کر ان چیزوں کے مقابلے میں ان چار چیزوں کا ذکر آئے گا جو اہل عرب کے ہاں بغیر کسی سند کے حرام کرلی گئی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
145 اس آیت میں قِیَاماً للنَّاسِ کے تین الگ الگ مطلب لیے جاسکتے ہیں اور وہ تینوں ہی درست ہیں۔
(1) الناس سے مراد اس دور کے اور اس سے پہلے اور پچھلے قیامت تک کے سب لوگ مراد لیے جائیں۔ اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ کعبہ کا وجود کل عالم کے قیام اور بقا کا باعث ہے اور دنیا کا وجود اسی وقت تک ہے جب تک خانہ کعبہ اور اس کا احترام کرنے والی مخلوق موجود ہے۔ جب اللہ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ کارخانہ عالم ختم کردیا جائے تو اس وقت بیت اللہ کو اٹھا لیا جائے گا جیسا کہ سب سے پہلے اس زمین پر یہ مکان بنایا گیا تھا امام بخاری نے اس معنیٰ کو ترجیح دی ہے اور اسی آیت کے تحت درج ذیل حدیث لائے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ…
Read the full tafseer →305 ۔ (اور اس کے حفظ ادب اور تعظیم شان کے لئے تو یہ سب حرم واحرام کے احکام وقواعد ہیں) (آیت) ” الکعبۃ “۔ جس طرح لفظ اللہ خود دلالت کرتا ہے اپنے مسمی کے سارے مخلوق سے بلند ہونے اور اس کے معبود ہونے پر اور لفظ محمد ﷺ خود جامعیت رکھتا ہے ہر طرح کی بزرگی اور ستودہ صفاتی کی۔ اسی طرح لفظ کعبۃ کے اندر بھی دلالت اس سی عظمت و بزرگی کی موجود ہے۔ کعبہ کے معنی ہی بلند مقام کے ہیں اور یہ بلندی ظاہری ومعنوی دونوں کی جامع ہے۔ سمیت الکعبۃ کعبۃ لارتفاعھا (کبیر) فالکعبۃ لما ارتفع ذکرھا فی الدنیا واشتھرامرھا فی العالم سمیت بھذا الاسم (کبیر) (آیت) ” البیت الحرام “۔ کو بیت الحرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں چھت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیٰماً الخ، کعنہ کو البیت الحرام اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس کی حدود میں شکار کرنا درخت وغیرہ کاٹنا حرام ہے قیاماً للناس بیت الحرام لوگوں کے قیام اور گزران کا باعث قرار دیا، مطلب یہ ہے کہ کعبہ اور اس کے متعلقات لوگوں کی دینی و دنیوی بقا کے اسباب اور ذریعہ ہیں، الناس اگرچہ عام انسانوں کیلئے بولا جاتا ہے مگر قرینہ کی وجہ سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں یا اہل عرب بھی مراد ہوسکتے ہیں اور عام دنیا کے انسان بھی، اسلئے کہ حج بیت اللہ کا پورے عالم کی اقتصادیات سے گہرا تعلق ہے۔
کعبہ کی مرکزی حیثیت : عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک عبادت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیت اور اپنے تقدس…
Read the full tafseer →جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس اور اللہ نے کعبہ کو جو ادب کا مکان ہے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا ہے۔
کعبہ مربع ہے اس لئے اس کو کعبہ کہا جاتا ہے ہر مربع گھر کو عرب کعبہ کہتے ہیں۔ مقاتل نے کہا کعبہ دوسرے مکانوں سے منفرد ہے اس لئے اس کو کعبہ کہا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک اونچا ہونے کی وجہ سے کعبہ کو کعبہ کہا جاتا ہے۔ کعبہ کا لغوی معنی ہے ابھرنا اور بلند ہونا پاؤں کے ٹخنے کو اسی لئے کعب کہا جاتا ہے جو لڑکی بالغ ہونے کے قریب ہو اور اس کے پستان اٹھ آئے ہوں اس کے لئے عرب کہتے ہیں تکعبت۔ البیت الحرام یعنی اللہ نے اس کو حرم بنایا اور اس کی حرمت کی عظمت ظاہر فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد…
Read the full tafseer →(97) کعبہ کو عبادت خداوندی میں امن اور لوگوں کی مصلحتوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا ہے اور اسی طرح عزت والے مہینے کو اور اسی طرح حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو اسی طرح ان جانوروں کو جن کے گلوں میں حرم کے درختوں کے پٹے پڑے ہوئے ہوں، ان ساتھیوں کے لیے جو کہ اس میں ہوتے ہیں، باعث امت قرار دیا ہے، یہ تمام احکام اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور ان کے رہنے والوں کی اصلاح سے بخوبی واقف ہے۔
Read the full tafseer →جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ۔۔ : اوپر کی آیت میں محرم کے لیے شکار کو حرام قرار دیا، اب اس آیت میں بتایا کہ جس طرح حرم کو اللہ تعالیٰ نے وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے سبب امن قرار دیا ہے اسی طرح اسے لوگوں کے لیے بھی جائے امن بنادیا ہے اور دنیوی اور اخروی سعادتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ (کبیر) دیکھیے سورة آل عمران (97) ، سورة قصص (57) اور سورة بقرہ (125) یعنی اہل مکہ کی معاش (روزی) کا مدار اسی پر ہے کہ لوگ دور دراز سے حج اور تجارت کے ارادے سے یہاں پہنچتے ہیں اور ہر قسم کی ضروریات ساتھ لاتے ہیں، جس سے اہل مکہ رزق حاصل کرتے ہیں اور لوگ یہاں پہنچ کر امن و امان پاتے ہیں،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 97
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) جعل اللہ الکعبۃ یہاں جعل بمعنی خلق ہے۔ یہ پہلے گزرچکا ہے کعبۃ کو کعبۃ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ چکور ہے اور عرب کے اکثر گھر گول اور چکور ہیں۔ بعض نے فرمایا : کعبۃ کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ظاہر اور مشہور ہے پس ہر اٹھی ہوئی چیز بارز (ظاہر) اور کعب کہلاتی ہے خواہ وہ گول ہو یاگول نہ ہو اسی سے کعب القدم اور کعوب القناۃ پائوں کا ٹخنہ اور قناہ کا قلعہ۔ کعب ثدالمراۃ جب عورت کے سینہ پر پستان ظاہر ہوں۔ اور اس کو البیت اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ چھت اور دیواروں والا ہے یہ البیتیۃ کی حقیقت ہے اگرچہ اس میں کوئی…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کعبہ اس لئے نام رکھا گیا کہ یہ مربع (شکل میں بنا ہوا) ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ اس کے مربع شکل ہونے کی وجہ سے اس کا نام کعبہ رکھا گیا۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کعبہ کے لوگوں کے دین کو قائم رکھنے والا اور ان کے حج کی نشانی بنا دیا۔
(4) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں…
Read the full tafseer →جَعَلَ [ بنایا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الْكَعْبَةَ [ کعبہ کو ] الْبَيْتَ الْحَرَامَ [ جو یہ محترم گھر ہے ] قِــيٰمًا [ کھڑے ہونے کا ذریعہ (معیشت میں ) ] لِّلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ [ اور محترم مہینوں کو (بھی ) ] وَالْهَدْيَ [ اور قربانی کے جانوروں کو (بھی ) ] وَالْقَلَاۗىِٕدَ ۭ [ اور پٹوں (والوں ) کو (بھی )] ذٰلِكَ [ یہ ] لِتَعْلَمُوْٓا [ اس لیے کہ تم لوگ جان لو ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ہے ] وَمَا [ اور اس کو جو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ہے ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ…
Read the full tafseer →کعبہ شریف لوگوں کے قائم رہنے کا سبب ہے
کعبہ (جس کے حروف اصلی ک، ع، ب ہیں) عربی زبان میں اوپر کو اٹھے ہوئے چو کور گھر کو کہتے ہیں۔ کعبہ شریف کی جگہ نشیب میں ہے اور کعبہ شریف دور سے اٹھا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جب کعبہ شریف بنایا گیا تھا اس وقت اس کے چاروں طرف مسجد حرام بنی ہوئی نہیں تھی اس لئے دور سے اٹھا ہوا اور زمین سے ابھرا ہوا نظر آتا تھا اس ارتقاع کی وجہ سے اس کا نام ” کعبہ “ رکھا گیا۔ لفظ ” الکعبہ “ کے بعد ” البیت الحرام “ بھی فرمایا یعنی بہت محترم گھر اللہ تعالیٰ نے اس کو محترم قرار دیا۔ اس کی حرمت ہمیشہ سے ہے اس کا طواف بھی حرمت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔
مکہ معظمہ کے چاروں طرف جو حرم ہے وہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
حکم ہشدہم متعلق بہ شکار درحالت احرام۔
قال اللہ تعالی، یا ایھالذین آمنو لیبلونکم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔
ربط) ۔ پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے ممانعت فرما کر بعض چیزوں یعنی شراب اور جوئے سے اجتناب کا حکم دیا اور اب اس رکوع میں ان بعض چیزوں کے ارتکاب سے منع فرماتے ہیں جن کی حرمت دائمی نہیں بلکہ بعض احوال کے ساتھ مخصوص ہے جیسے شکار کہ وہ صرف حالت احرام اور حدود حرم کے اندر حرام ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ احرام میں اور حرم کے اندر شکار کو حلال نہ سمجھو اور اس کا ارتکاب نہ کرو شکار کی حرمت سے احرام کا احترام اور حرم محترم اور بیت اللہ کی تعظیم و تکریم مقصود ہے نیز شروع سورت میں بھی احرام…
Read the full tafseer →161 یہ چوتھا مسئلہ یعنی اللہ کی نذروں کا بیان ہے۔ اَلْبَیْتَ الْحَرَامَ ۔ الکعبۃ سے بدل یا عطف بیان ہے۔ قِیٰمًا جَعَلَ کا مفعول ثانی ہے اور قیام بمعنی قوام ہے یعنی ان کے امور دین و دنیا کے قائم اور راست ہونے کا ذریعہ وھو ما یقوم بہ امر دینھم و دنیا ھم (مظھری ج 3 ص 205) ۔ بیت اللہ سے امور دین کا قوام اس طرح ہے کہ حج وعمرہ اور ہدایا کا تعلق اس سے اور امور دنیا کا اس طرح کہ اہل حرم قتل و غارت وغیرہ سے محفوظ رہتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ بیت اللہ کی بدولت تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی محفوظ ہے اور یہ اس وقت تک ہے جب تک دنیا کے لوگوں کی زندگی محفوظ ہے اور یہ اس وقت تک ہے جب تک دنیا کے مسلمان وہاں حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
رابط آیات
پہلی آیات میں احرام کی حالت میں خشکی کے شکار کی ممانعت کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تاوان کا بیان تھا جو ایسی حالت میں شکاری کو ادا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ شکار کی حرمت بیت اللہ شریف کی تکریم اور وہاں کے مقصد کے لئے احرام پہننے کی وجہ سے ہے۔ شکار کے یہ احکام بیان کرنے کے بعد اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی فضیلت اور اس کی مرکزیت کا ذکر کیا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی حیثیت اور اس میں جہان بھر کے لئے جو مصلحت ہے اس کا ذکر بھی کیا ہے۔
اللہ بیت ذریعہ قیام ہے
ارشاد ہوتا ہے جعل اللہ لکعبۃ البیت الحرم قیمۃ للناس۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →جَعَلَ اللہُ الْكَعْبَۃَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِــيٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْيَ وَالْقَلَاۗىِٕدَ 0ۭ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَنَّ اللہَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 97
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
كعب
كَعْبُ الرّجل : العظم الذي عند ملتقی القدم والساق . قال : وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ
[ المائدة/ 6] . والکَعْبَةُ : كلّ بيت علی هيئته في التّربیع، وبها سمّيت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
1 ؎ کعبہ میں ذبح ہونے کے لئے ایام حج میں اونٹ وغیرہ قربانی کے گلے میں شناخت کے لئے پٹا باندھ دیتے تھے۔ پھر اس کو کوئی نہیں چھیڑتا تھا ایسے جانور کو قلائد کہتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو اور چند مہینوں کو اور قلائد کو لوگوں کے واسطے قیام یعنی امن اور تعظیم کی چیز بنا دیا۔ اس لئے کعبہ میں اور محترم مہینوں میں کوئی کسی کو نہیں چھیڑتا۔ اسی طرح ہدی اور قلائد کو بھی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →جَعَلَ اللہ ُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّھْرَ الْحَرَامَ وَالْھَدْیَ وَالْقَلآَئِدَط ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوْآ اَنَّ اللہ َ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الاَْرْضِ وَ اَنَّ اللہ َ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 97)
” اللہ نے کعبہ حرمت والے گھر کو لوگوں کے لیے مرکز بنایا اور حرمت کے مہینوں ‘ قربانی کے جانوروں اور گلے میں پٹے پڑے جانوروں کو شعیرہ بنایا۔ یہ اس لیے کہ تم جانو کہ اللہ جانتا ہے ‘ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے “۔
” کعبہ “ کو مرکز اسلام بنایا گیا ہے
یہ سوال کہ حرم اور احرام کے حوالے سے اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فہم القرآن
ربط کلام : احرام کی حالت میں تمہیں شکار سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اللہ کے گھر کا مقام اور احترام کا یہی تقاضا ہے جس کا تمہیں خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ نے اسے امن و سکون کا گہوارا بنایا ہے۔
لفظ کعبہ کا معنی بیان کرتے ہوئے معارف القرآن کے مؤلف مفتی شفیع مرحوم لکھتے ہیں کہ عربی میں کعبہ ایسی عمارت کو کہتے ہیں جو چوکور ہو یعنی جو چار کونوں پر استوار اور اونچی جگہ پر ہو پھر ان کا بیان ہے کہ عرب میں کعبہ کے نام پر خشعم قبیلہ کی ایک عمارت تھی جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے اس مغالطے سے بچانے کے لیے کعبہ کے ساتھ بیت الحرام کی تخصیص فرمائی ہے جو لوگوں کے لیے باعث قیام…
Read the full tafseer →کعبہ لوگوں کی بقاء کا سبب ہے :
آیت 97: جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ جعل یہاں صیّر کے معنی میں ہے۔ الْبَیْتَ الْحَرَامَ ۔ (اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو حرمت والا گھر ہے لوگوں کے باقی رہنے کا سبب بنایا) : یہ کعبہ سے بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ قیاماً مفعول ثانی ہے یا جَعَلَ ، خَلَقَ کے معنی میں ہے اور قیامًا حال ہے۔ قِیَامًا لِّلنَّاسِان کے دین میں بلندی کا ذریعہ اور معاش اور معاد میں سرفرازی ہے۔ اس لئے کہ اس سے ان کے حج وعمرہ کے معاملات پورے ہوتے اور قسم قسم کے منافع میسر ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بیت اللہ کو اگر ایک سال چھوڑ دیں تو ان کو مہلت نہ دی جائے اور نہ وہ مؤخر کیے جائیں۔ وَالشَّہْرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
آیت نمبر 98, 97
تفسیر : (جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام اللہ تعالیٰ نے کردیاکعبہ کو جو کہ گھر ہے بزرگی والا)
کعبہ کی وجہ تسیمہ
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا نام کعبہ اس کے چوکور ہونے کی وجہ سے رکھا گیا کیونکہ اہل عرب ہر مربع شکل والے گھر کو کعبہ کہتے ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی منفرد تعمیر کی وجہ سے اس کا نام کعبہ رکھا گیا اور کہا گیا ہے کہ زمین سے بلند ہونے کی وجہ سے اس کا نام کعبہ رکھا گیا ہے اور اس کا اصل معنی نکلنا اور بلند ہونا ہے ٹخنے کی ہڈی کو کعب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ بلند ہوتی ہے اور پائوں کی دونوں جانب سے نکلی ہوئی ہوتی ہے اور اسی مادہ سے مشتق کرکے ” تکعبت “ کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
(96 ۔ 99) ۔ اوپر ذکر تھا کہ احرام کی حالت میں جنگلی جانوروں کا شکار منع ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں بھی جائز ہے۔ دریا کے لفظ معنوں میں یہاں ندیاں نالے تالاب سب داخل ہیں کیونکہ ان سب جگہ کا مچھلی کا شکار احرام کی حالت میں جائز ہے۔ دریائی جانوروں میں سے کون کون سے جانور حلال ہیں یہ بڑا اختلافی مسئلہ ہے جس کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں ہے 2 ؎۔ جو مچھلی کسی طرح کے شکار میں مری ہوئی ہاتھ آوے اس کے حلال ہونے میں علماء کا اختلاف نہیں ہے ہاں جو مچھلی خود مر کر پانی کے اوپر آجاتی ہے اس کے حلال ہونے میں اختلاف ہے جس کی تفصیل ہر ایک مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہے 3 ؎۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
آیت 97
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ (جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیماً للناس) ” اس نے کعبہ یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایا۔ “ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کئے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں، مصالح عامہ میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
قول باری ہے (جعل اللہ الکعبۃ المبیت الحرام قیاماً للناس۔ ہم نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا) تا آخرت آیت ایک قول ہے کہ اللہ کی مراد اس سے یہ ہے کہ اس نے کعبہ کو لوگوں کی معیشت کا سہارا اور ستون بنادیا۔
جس طرح یہ محاورہ ہے ۔” ھو قوام الامرو ملا کہ “ (وہ اس معاملہ کا سہارا اور بنیاد ہے) یعنی اس کی ذات کے سہارے یہ معامل ہٹھیک ٹھاک رہتا ہے۔ کبعہ بھی لوگوں کے دین اور دنیا دونوں کی درست رکھنے کا ذریعہ ہے ۔ سعید بن جبیر کا یہ قول منقول ہے کہ یہ لوگوں کے لئے سہارا اور ان کی بھلائی کا ذریعہ ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ لوگوں کے قیام کا ذریعہ ہے یعنی اس کے ذریعے…
Read the full tafseer →256 کعبہ مشرفہ لوگوں کے قیام کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے عزت والے اپنے اس گھر یعنی کعبہ کو لوگوں کے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔ دین و دنیا دونوں کے اعتبار سے کہ حج اور نماز وغیرہ کتنے ہی احکام کا تعلق اسی سے ہے۔ اور جب تک یہ باقی ہے دنیا باقی ہے۔ اور جب اللہ پاک دنیا کو ختم کرنا چاہیں گے تو سب سے پہلے اس کو اٹھائیں گے۔ (مظہری، فتح القدیر، مدارک، صفوۃ، معارف وغیرہ) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ کعبۃ اللہ کا فائدہ سب لوگوں کو یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی پہنچتا ہے اگرچہ ان کو اس کا کوئی احساس اور اعتراف بھی نہ ہو۔ کہ اس منبع خیر و برکت بیت عتیق کے وجود اور اس کی بقا سے ان سب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
خانہ کعبہ کے بارے میں احکامات
تشریح : کعبہ عربی زبان میں چوکور مکان کو کہتے ہیں۔ کعبہ کے ساتھ البیت الحرام کا لفظ اس لیے لگایا گیا ہے تاکہ وہ ایک خاص مکان کو ظاہر کرے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو لوگوں کے قیام اور امن و سکون کا سبب بتایا ہے۔ یہ چیزیں پہلے بھی اسی طرح محترم تھیں، جس طرح آج ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ رب العزت نے انسانوں کے امن و سکون کے لیے لوگوں کے دلوں میں ان چار چیزوں کی عزت و حرمت ڈال رکھی تھی۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں۔ خانہ کعبہ، ماہ ذی الحجہ، قربانی کے جانور اور جانوروں کے گلے میں ڈالے ہوئے پٹے یا ہار جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ قربانی کے جانور ہیں۔ قبل از اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–100
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 94 تا 100 ۔
اسرار و معارف :
در اصل حرام اور حلال مقرر کرنے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کریم کو اس کا اختیار ہے وہ چاہے جس چیز سے منع کردے یہ اس کی شوکت کا اظہار بھی ہے مگر اس نے امت مرحومہ پر صرف وہ چیزیں حرام کردی ہیں جو یا تو جسمانی لا ظ سے نقصان دہ تھیں یا روحانی اعتبار سے یا پھر دونوں طرح سے بیک وقت نقصان دہ تھیں ورنہ پہلی امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے اچھی اور حلال چیزیں بھی بطور سزا حرام کی جاتی رہیں یہاں بھی حرمت کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں مسلمانوں پر اچھی اور مفید چیز بھی حرام کردی جاتی ہے مگر عذاب یا سزا کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اور نہ لمبے عرصے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
ف 11 اوپر کی آیت میں محرم کے لیے شکار کو حرام قرار دیا اب اس آیت میں بتایا کہ جس طرح حرم کو اللہ تعالیٰ نے وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے سبب امن قرار دیا ہے اسی طرح اسے لوگوں کے لیے جائے امن بنادیا ہے اور دینوی اور اخروی سعادتوں کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے (کبیر) یعنی اہل مکہ کی معاش کا مدار اسی پر ہے کہ لوگ دور دراز سے حج اور تجارت کے ارادے سے یہاں پہنچے ہیں اور ہر قسم کی ضروریات ساتھ لاتے ہیں جس سے اہل مکہ رزق حاصل کرتے ہیں او لوگ یہاں پہنچ کر امن وامان پاتے ہیں حتی کہ جاہلیت میں بھی حرم کے اندر کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے کے قاتل تک کو کچھ نہ کہتا تھا اور عبادت وثواب کے اعتبار سے بہترین جگہ…
Read the full tafseer →(5:97) الکعبۃ۔ چوکور مکعب شکل کا مکان جس کی ہر جانب مربع ہو۔ یعنی چھت ، فرش، چاروں اطراف، جو بیرونی سطح سے اونچا ہو۔ یعنی کرسی پر بنا ہوا ہو۔ مراد مسلمانوں کا قبلہ۔ اس کو کعبہ اسی لئے کہتے ہیں کہ اول تو ملحقہ سطح سے اونچا بنا ہوا ہے یعنی کرسی ملحقہ سطح سے اونچی ہے۔ اور دوسرے قریباً قریباً مربع الجوانب مکعب شکل کا ہے۔ اصل میں اس کا کوئی ضلع بھی دوسرے کے برابر نہیں ہے موقع پر اس کی پیمائش یوں ہے۔
شرقی دیوار کا طول 11 میٹر 58 سینٹی میٹر
مغربی دیوار کا طول 11 میٹر 93 سینٹی میٹر
(شمالی) شامی جانب کی دیوار کو طول 10 میٹر 22 سینٹی میٹر
(جنوبی) یمنی جانب کی دیوار کا طول 10 میٹر 13 سینٹی میٹر
(رکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
آیت نمبر 97 تا 100
لغات القرآن : قیما (قائم رہنے (کا سبب) ۔ القلائد (قلادۃ) ۔ پٹے (جو جانور کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں) ۔ تبدون (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ تکتمون (تم چھپاتے ہو) ۔ لایستوی (برابر نہیں ہیں) ۔ الخبیث (گندگی۔ برائی) ۔ الطیب (پاکیزگی۔ نیکی) ۔ اعجبک (تجھے بہتر لگے۔ اچھی لگے) ۔ کثرۃ الخبیت (گندگی کی کثرت) ۔ اولو الالباب (لب) عقل۔ سمجھ۔ عقلوں والے) ۔
تشریح : جب سے کعبہ بنا ہے انبیاء اسی کی طرف رخ کرکے نمازیں پڑھتے رہے ہیں اور ہر سال اس کا حج بھی کرتے رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی دوسرا ایسا گھر نہ کبھی بنا اور نہ بنے گا۔ ابرہہ نے اس کے مدمقابل جب کلیس بنایا تو جس طرح وہ اپنی فوج کے ساتھ تباہ و برباد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ان آیتوں میں فرمایا کہ دریائی جانوروں کا شکار حالت احرام میں بھی جائز ہے۔ دریا کے لفظ کے معنوں میں یہاں ندیاں، نالے، تالاب سب میں داخل ہیں، ان سب جگہ کا شکار جائز ہے دریائی جانور وہ ہیں جو دریاؤں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ہر قسم کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور نفع پاتے ہیں یہاں حرم واحرام کی حرمت کا لحاظ رکھو۔ پھر فرمایا ظاہر پوشیدہ نیک بد لوگوں کے سب عمل اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں، اور نیک بد کی سزا کا حال اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیا ہے۔ اب ہر ایماندار شخص کو یہ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ نافرمانی کے جرم میں جس کسی کی پکڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی بہت سخت ہے اور جس کسی پر فرمانبرداری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
[54] اللہ کا علم تو ہمیشہ ہی سے ہے۔ ایسے موقعوں پر مراد یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے عمل سے بھی یہ کیفیت ظاہر ہوجائے۔
Read the full tafseer →کعبہ ضروریات عامہ کا کفیل ہے :
(ف 2) اس آیت میں بیت الحرام کو (آیت) ” قیام للناس “ ، قرار دیا ہے ، یعنی اس کے ساتھ لوگوں کی ضروریات دینی اور دینوی وابستہ ہیں ، یہ روحانیت اور معارف اللہ کا منبع اور مرکز ہے ، یہ بین الملی اور بین الدینی مصالح کا کفی ہے ، دنیا کے طول وعرض سے لوگ آتے ہیں جو مختلف بولیاں بولتے ہیں ، رنگ وبو کے کے لحاظ سے ان میں کوئی رشتہ موجود نہیں ہوتا ، مگر باوجود اس کے سب لوگ ایک میدان میں ایک لباس میں ، ایک مقصد لئے ہوئے مصروف عبادت نظر آتے ہیں ۔
کون جانتا تھا کہ ایسی غیر آباد بستی کو یہ فروغ حاصل ہوگا اور تم ساری کائنات کا محور قرار پائے گی ،
یہ محبوبیت ، یہ ہمہ گیر قبولیت…
Read the full tafseer →-97 اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو خدا تعالیٰ کا محترم مکان ہے اور حرمت والے مہینوں کو یعنی ذوالعقدہ ذوالحجہ محرم اور رجب کو اور حج کے موسم میں حرم کی طرف جانے والی قربانیوں کو اور ان قربانیوں کو جن کے گلے میں لٹکن اور قلاوہ پڑا ہوا ہوتا ہے اور جن کو حاجی لوگ اپنے ہمراہ حرم کی طرف لے جاتے ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قیام مصالح مثلاً ام نو اطمینان کے قائم رکھنے کا سبب اور موجب کردیا ہے یہ اس لئے کیا تاکہ اس بات کو اچھی طرح جان لو اور سمجھ لو کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے خوب واقف ہے یعنی اگر وہ واقف نہ ہوتا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
ف 3۔ کعبہ کے مصالح و برکات دنیویہ میں بعض یہ ہیں اس کا جائے امن ہونا وہاں ہر سال مجمع ہونا جس میں مالی ترقی اور قومی اتحاد بہت سہولت سے میسر ہوسکتا ہے اس کے بقا تک عالم کا باقی رہنا حتی کہ جب کفار اس کو منہدم کردیں گے تو قریب ہی قیامت آجائے گی۔
Read the full tafseer →کعبہ کیا ہے ؟ لوگوں کے لئے قیام امن و اجتماع کا ذریعہ ہے :
229: اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو لوگوں کے لئے قیام امن و اجتماع کا ذریعہ ٹھہرادیا ہے اور اس کے علم میں بیشمار مصلحتیں اور برکتیں ہیں جو تمہیں اس معاملہ سے حاصل ہوں گی۔ پس اس کی حرمت کے شعائر و اعمال قائم رکھو اور ان میں کسی طرح کا فتورنہ ہونے دو ۔
” کعبہ “ عربی زبان میں اس مکان یا چار دیواری کو کہتے ہیں جو مربع یعنی چکور ہو یعنی جس کے چاروں اضلاع تقریباً برابر ہوں۔ اس نام سے بعض دوسرے قبیلوں اور خاندانوں نے بھی عمارتیں بنائی تھیں جیسے قبیلہ خثعم نے ایک مکان اسی نام سے موسوم کر رکھا تھا جس کو ” کعبہ یمانیہ “ کہا جاتا تھا اس لئے اس ” کعبہ “…
Read the full tafseer →Commentary
Four Sources of Tranquility
The first verse (97) mentions four things as the cause of constancy, survival and tranquility for people.
The first is the Ka'bah. In Arabic, Ka'bah is the name of a place which is square. Another house made by the Arab tribe of Khath'am carried the same name, that is, al-ka'bah-al-Yamaniyah, to be exact. Therefore, to distinguish the Baytullah (House of Allah) from this place, the words: الْبَيْتَ الْحَرَامَ (Al-Baytul-Haram: The Sacred House) were added to the name of the Ka'bah.
The word "Qiyam" and Qiwam are verbal nouns. They refer to that on…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
113. In Arabia, the Ka'bah was not merely a sacred place of worship. Thanks to its central position and its sanctity, it nurtured the economic and cultural life of the whole peninsula. Since the entire populace was drawn towards the Ka'bah for the performance of Hajj and 'Umrah, their coming together brought about a measure of unity in the life of the Arabs which was otherwise rent with disunity. This enabled the people of various regions and tribes to establish social and cultural ties among themselves. Moreover, the security which reigned in the vicinity of the Ka'bah provided an impetus to…
Read the full tafseer →