Al-Maaida 5:9

Al-Maaida · from ayah 9

5:9

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ— لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ ۟وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‌ ۙ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah has promised those who believe and do righteous deeds [that] for them there is forgiveness and great reward.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:9

جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ کا وعده ہے کہ جو ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ان کے لئے وسیع مغفرت اور بہت بڑا اجر و ﺛواب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ (آخرت میں) ان کو مغفرت اور زبردست ثواب حاصل ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ایمان والے نیکو کاروں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ نے ایسے لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وعدہ فرمایا ہے (کہ) ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے کہ بیشک ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لیے بخشش۔ اور بہت بڑا اجر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وعدہ فرما دیا اللہ نے ان لوگوں سے جو (صدق دل سے) ایمان لائے، اور انہوں نے کام بھی نیک کئے، کہ ان کے لئے عظیم الشان بخشش بھی ہے، اور بہت بڑا اجر بھی،

— مولانا اسحاق مدنی

جو لوگ کہ ایمان لائے اور اچھے کام کرتے رہے اللہ نے ان سے وعدہ کرلیا ہے کہ ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور اجر عظیم بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے در گزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر دیا جائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah has promised those who believe and do righteous deeds forgiveness from sins and a great reward.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah has promised those who believe and do good deeds: For them there is forgiveness and a great reward.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah has promised those who believe and do good deeds: For them there is forgiveness and a great reward.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah has promised those who believe and do deeds of righteousness, that for them there is forgiveness and a great reward (i.e. Paradise).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah hath promised those who believe and do good works: Theirs will be forgiveness and immense reward.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah has promised those who believe and do righteous deeds [that] for them there is forgiveness and great reward.

— Saheeh International

God has promised forgiveness and a great reward to the righteously striving believers.

— Muhammad Sarwar

Allah has promised to those who believe and do good deeds (that) they shall have forgiveness and a mighty reward.

— Muhammad Habib Shakir

Allah hath promised those who believe and work righteous works that for them shall be forgiveness; and a mighty hire.

— Abdul Majid Daryabadi

To those who believe and do deeds of righteousness hath Allah promised forgiveness and a great reward.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے (احکام کی) پوری پابندی کرنے والے (اور شہادت کی نوبت آوے تو) انصاف کی شہادت ادا کرنے والے رہو، اور کسی خاص گروہ کی عداوت تم کو اس پر باعث نہ ہوجاوے کہ تم (ان کے معاملات میں) عدل نہ کرو (ضرور ہر معاملہ میں) عدل کیا کرو وہ (یعنی عدل کرنا) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (یعنی اس سے تقویٰ کے ساتھ موصوف کہلاتا ہے) اور (تقویٰ اختیار کرنا تم پر فرض ہے، چناچہ حکم ہوا ہے کہ) اللہ تعالیٰ (کی مخالفت) سے ڈرو (یہی حقیقت ہے تقویٰ کی پس عدل جو کہ اس فرض تقویٰ کا موقوف علیہ ہے نیز فرض ہوگا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تمہارے سب اعمال کی پوری اطلاع ہے (پس مخالفین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 9–10

9۔ 10:۔ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ۔ یہ مذکورہ بالا میثاق پر عمل کرنے اور نہ کرنے دونوں کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اس میثاق پر قائم رہیں گے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے اور جو اس کو توڑیں گے ان کے لیے جہنم ہے۔ اس سے ایک تو یہ بات نکلی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہم پر اس میثاق کی ذمہ داری ڈالی ہے، اسی طرح اپنے اوپر بھی اس کے جواب میں ایک عہد کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کا اظہار " وعد اللہ " کے الفاظ سے ہورہا ہے۔ یہ رب کریم کی کتنی بڑی بندی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–10

8۔ 1، 2 پہلے جملے کی تشریح سورة نساء آیت نمبر 135 میں دوسرے جملے کی سورة المائدۃ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے نزدیک عادلانہ گواہی کی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جو حدیث میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا تو میری والدہ نے کہا، اس عطیے پر آپ جب تک اللہ کے رسول کو گواہ نہیں بنائیں گے میں راضی نہیں ہوں گی۔ چناچہ میرے والد انکی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ' اللہ سے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو ' اور فرمایا کہ میں ' ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا '…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–10

11: ”قضائے حاجت کی جگہ سے آنا“ در حقیقت اس چھوٹی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان پر نماز وغیرہ پڑھنے کے لیے صرف وضو واجب ہوتا ہے اور عورتوں سے ملاپ، اس بڑی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس کو جنابت کہتا ہے اور جس میں غسل واجب ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے اور دونوں صورتوں میں اسکا طریقہ ایک ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

(آیت) ” نمبر 9 تا 10۔ یہ وہ جزاء ہے جو ان برگزیدہ لوگوں کے لئے ہے جن سے دنیاوی لذات اور مفادات فوت ہوجاتے ہیں ۔ انہیں دنیا میں عیش کوشی کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں اور اس انعام کے ہوتے ہوئے دنیا میں بشریت کی نگہبانی کے فرائض بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور انسان بشری میلانات ‘ انسانی حسد وعناد اور اس دنیا کے لالچ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ پھر اس سے اللہ کی صفت عدل کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں اور اشرار کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھتے ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ انقلابی مومنین کی نظریں اللہ کی اس جزاء کے ساتھ اٹکی ہوئی ہوں اور ان کا معاملہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی نہ صرف یہ کہ ان کوتاہیوں کو معاف کردیں گے جو بمقتضائے بشریت رہ جاتی ہیں بلکہ عظیم الشان اجر وثواب بھی عطا فرمائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

آیت 8 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز یہاں پر سورة النساء کی آیت 135 کا حوالہ ضروری ہے۔ سورة النساء کی آیت 135 اور زیر مطالعہ آیت المائدۃ : 8 میں ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے ‘ فرق صرف یہ ہے کہ ترتیب عکسی ہے دونوں سورتوں کی نسبت زوجیت بھی مدّ نظر رہے۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُہَدَاءَ لِلّٰہِ اور یہاں الفاظ ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز۔ ایک حقیقت تو میں نے اس وقت بیان کردی تھی کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ گویا اللہ اور قسط…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

31۔ الف اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے اعمال کا ذکر فرمایا۔ ایک ایمان کا، دوسرے اعمال صالحہ کا اور دو طرح کا ہی وعدہ فرمایا ایک مغفرت کا اور دوسرے اجر عظیم کا۔ جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کیا۔ ان کی بھی مغفرت ہوجائے گی رہا اجر عظیم تو وہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی بجا لاتے رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

50 ۔ (آیت) ” وعداللہ “۔ آیت میں جان ڈال دینے والا لفظ یہی وعدۂ الہی ہے اہل ایمان کے لیے کس قدر شوق افزاء اور کس درجہ محرک عمل ! (آیت) ” اجرعظیم “۔ اللہ جس اجروصلہ کو ” عظیم “ کہے، کون بندہ اس کا اندازہ بھی کرسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–10

آیت نمبر 6 تا 11 ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کیلئے اٹھو یعنی اٹھنے کا ارادہ کرو حال یہ کہ تم بےوضو ہو تو اپنے چہرت اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھولیا کرو یعنی مع کہنیوں کے، جیسا کہ اس کو سنت نے بیان کیا ہے، اور سروں پر ہاتھ پھیرلیا کرو باء الصاق کے لئے ہے، یعنی مسح کو سروں سے بغیر پانی بہائے متعلق کردو مسح اسم جنس ہے لہٰذا جس پر مسح صادق آئے اس کا کم سے کم کافی ہے، اور وہ سر کے بعض بالوں کا مسح ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور ٹخنوں سمیت پیر دھولیا کرو جیسا کہ سنت نے بیان کیا ہے (اَرْجُلَکم) نصب کے ساتھ ہے اَیْدِیَکم پر عطف کرتے ہوئے اور جر پڑوس کی رعایت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وعد اللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت لہم مغفرۃ واجر عظیم جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے گناہوں کی مغفرت ہوگی اور ان کو بڑا اجر ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) مومنین اور اہل اطاعت کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں معاف فرمائے گا اور جنت میں ان کا کامل ثواب عطا فرمائے گا اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے جہنمی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–10

كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بالْقِسْطِ ۡ کی تشریح سورة نساء (135) میں گزر چکی ہے، اسی طرح (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ۔۔) کی تشریح سورة مائدہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اکثر کافروں نے مسلمانوں سے بڑی دشمنی کی تھی، جب وہ مسلمان ہوئے تو فرمایا کہ ان سے وہ دشمنی نہ نکالو اور ہر جگہ یہی حکم ہے، حق بات میں دوست اور دشمن برابر ہیں۔“ (موضح)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

آیت نمبر : 8 تا 10۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین “۔ اس کا معنی سورة النساء میں گزر چکا ہے معنی یہ ہے کہ میں نے تم پر اپنی نعمت مکمل کی پس ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے، اللہ کے ثواب کے لیے اس کے حق کو قائم کرو، اور اپنے اقارب کی طرف جھکاؤ کیے بغیر حق کی گواہی دو اور دشمن پر ظلم کیے بغیر حق کی گواہی دو ۔ (آیت) ” ولا یجرمنکم شنان قوم “۔ عدل کے ترک اور حق پر ظلم و زیادتی کو ترجیح پر کسی قوم کی عداوت تمہیں نہ اکسائے، اس میں دلیل ہے کہ دشمن کا حکم دشمن پر نافذ ہوگا جب کہ وہ اللہ کی رضا میں کسی سے دشمنی کرنے والا ہو اور اس کی شہادت اس کے خلاف نافذ ہوگی، کیونکہ اس نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–10

(1) ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے نقل کیا ہے کہ عبد اللہ بن کثیر نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا کونوا قومین للہ شھداء بالقسط کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) خیبر کے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ ایک دیت کے بارے میں ان کے پاس تشریف لے گئے لیکن انہوں نے آپ کو قتل کردینے کا ارادہ کیا۔ اس لئے یہ فرمایا لفظ آیت ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا (الآیتہ) واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَعَدَ : وعدہ کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور عمل کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ ۙ: نیک ] [ لَهُمْ : (کہ ) ان کے لیے ] [ مَّغْفِرَةٌ: مغفرت ہے ] [ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ : ایک شاندار بہ لہ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

انصاف پر قائم ہونے کا حکم سورة نساء میں فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ ) کہ اللہ کے لئے خوب انصاف کے ساتھ قائم رہنے والے بنو اگرچہ انصاف تمہاری اپنی جانوں یا تمہارے ماں باپ یا تمہارے رشتہ داروں کے خلاف پڑجائے اور یہاں فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآء بالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا) (یعنی ہوجاؤ اچھی طرح سے کھڑے ہوجانے والے اللہ کے لئے، گواہی دینے والے انصاف کے ساتھ، اور تمہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

حکم یازدھم۔ وجوب عدل و انصاف واداء شہادت حق۔ قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنو کو نو قوامین۔۔۔ الی۔۔۔ الجحیم۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں عبادات اور ان احکام کا ذکر تھا جو مکلف کی ذات کے ساتھ مخصوص تھے اب ان ایات میں عدل و انصاف وشہادت حق کا حکم بیان کرتے ہیں جو دوسروں سے متعلق ہے نظام عالم کا دارومدار عدل و انصاف اور شہادت پر ہے اس لیے کہ عدل اور انصاف اور سچی شہادت سے تمام مظالم اور مفاسد کا دروازہ بند ہوجاتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو تمہارے ایمان کا مقتضی استقامت علی الحق ہے لہذا ہوجاؤ تم کھڑے ہونے والے اللہ کے لیے یعنی حقوق اللہ کی ادائیگی کے لیے مستعد اور تیار کھڑے رہو اور جب حقوق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

30 ۔ یہ بھی پہلے مضمون کا اعادہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عقود و حقوق کو اپنی امکانی طاقت کے مطابق بجا لانے کی کوشش کرو۔ عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو اور بغض و عداوت کی بنا پر حق و انصاف سے روگردانی مت کرو۔ اس میں وَلَا اٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ کے مضمون کا اعادہ ہے۔ وَعَدَ اللہُ الخ احکام و حدود بیان کرنے کے بعد ان لوگوں کو اخروی بشارت دی گئی جو ان کو بجا لائینگے اور اللہ کی حدود کو قائم کرینگے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ یہ ان لوگوں کے لیے وعید اور تخویف اخروی ہے جو اللہ کے احکام کو پامال کریں اور اس کی حدود کو توڑیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–11

ربط آیات پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کا حکم دیا ہے ۔ انسانی سوسائٹی میں عہد و پیمان کو پورا کرنا بڑی قدروقیمت رکھتا ہے۔ عہد و پیمان مخلوق کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی ۔ اللہ عہد میں اس کی وحدانیت کو ماننا ، جزائے عمل پر یقین رکھنا ۔ تمام احکام کی تعمیل کرنا اور حلت و حرمت کے ان قوانین پر عمل کرنا جو اس سورة تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں محرمات نکاح اور محرمات اکل و شرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اللہ نے شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم بھی دیا ہے ۔ طہارت کے اصول بیان فرمائے ہیں ان میں ظاہری اور باطنی ہر دو قسم کی طہارت شامل ہے۔ نماز کے لیے طہارت کو شرط قرار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝ 0ۙ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ۝ 9 وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–11

ترکیب : وعد کا فاعل اللّٰہ۔ الذین الخ مفعول اول لہم مغفرۃ جملہ دوسرے مفعول محذوف کے قائم مقام اذھم ظرف نعمۃ اللّٰہ علیکم کا اور علی اللہ فلیتوکل سے متعلق ہے۔ تفسیر : اوامرِ الٰہی کے بجا لانے کے اسباب ذکر فرما کر دو اور سبب ذکر کرتا ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کی اطاعت و محبت پر ابھارتے اور اس کی منہیات سے باز رکھتے ہیں۔ گویا یہ جملہ کلام سابق کے لئے تتمہ ہے۔ اول سبب اطاعت و محبت کا آیندہ خیر کا امیدوار کرنا ہے کس لئے کہ احسانات سابقہ ہی پر انسان کی نظر بس نہیں کرتی بلکہ آیندہ کی بھلائی اور امید پر بہ نسبت انعام سابق کے زیادہ تر آمادہ اطاعت ہوتا ہے۔ پس اس بات کو وعد اللّٰہ الذین سے اجر عظیم تک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَعَدَ اللہ ُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 9) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ‘ ان سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے “۔ سمع و اطاعت اور اجتماعی عدل پر اللہ کا وعدہ اوپر جو باتیں بیان فرمائی گئی ہیں ‘ ان کا نتیجہ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر تم اپنے اندر تقویٰ پیدا کرو گے اور وہ بھی اس طرح کہ عدل کی حکمرانی قائم کرنے کے بعد تم واقعی اپنے عہد و پیمان کو انفرادی اور اجتماعی طور پر تازہ رکھو گے اور اگر تم نے پوری زندگی اس طرح اختیار کی کہ تم نے جو اللہ سے اقرار کیا تھا کہ یا اللہ ! تیری سنیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی نعمتوں کی شکر گزاری اور عہد کی پاسداری کا صلہ، اس کے مقابلے میں ناقدری و عہد شکنی اور تکفیر و تکذیب کی سزا بیان کی گئی ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ جب وہ اچھے اور برے اعمال کا ذکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اچھے کام کا اجر اور برے کام کے انجام کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ تصویر کے دونوں رخ آدمی کے سامنے ہوں تاکہ اس کے لیے اچھے اور برے کی تمیز اور ان کے درمیان فیصلہ کرنا آسان ہوجائے۔ مراد یہ ہے جس ایمان پر قائم رہنے اور صالح کردار کو اختیار کرنے کا تم سے عہد لیا گیا ہے اگر اس پر پورا اتر و گے تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 9: وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے) وعد کا لفظ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ پہلا مفعول الذین ٰامنوا۔ اور دوسرا محذوف ہے اور اس مفعول سے استغناء اس لیے اختیار کیا گیا کیونکہ لہم مغفرۃ واجر عظیم کا جملہ موجود ہے۔ جس کے ہوتے ہوئے اس مفعول کی ضرورت نہیں۔ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے) اور وعید اللہ تعالیٰ کے اس قول میں آرہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 7–9

آیت نمبر 9, 8, 7 تفسیر :(واذکروانعمۃ اللہ علیکم اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر) یعنی تمام نعمتوں کا یاد کرو (ومیثاقہ الذی والقکم بہ اور عہد اس کا جو تم سے ٹھہرایا تھا) یعنی وہ وعدہ جو تم سی کیا تھا اے مومنو ! (اذ قلتم سمعنا واطعنا جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا) اور اس وقت کی بات ہے جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی۔ ہر چیز کی اطاعت پر خواہ پسند ہو یا ناپسند اور یہی اکثر مفسرین کا قول ہے اور مجاہد ، مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی وہ وعدہ جو تم سے اس وقت لیا تھا جب تم کو آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکالا تھا۔ ( واتقوا اللہ ان اللہ علیم بذات الصدور اور تم ڈرتے رہو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–10

) 7 ۔ 10) ۔ اوپر تیمم کے حکم کو قابل شکر ایک نعمت فرما کر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عام نعمتوں اور احسانوں کو یاد دلایا ہے اور ان نعمتوں اور احسانوں کے شکریہ کا طریقہ بھی جتلایا ہے کہ ان نعمتوں اور احسانوں کے یاد کرنے کے وقت اس عہد کو یاد کیا کرو جو اللہ کے رسول کی معرفت تم نے اللہ تعالیٰ سے ٹھیرا کر اس عہد کو پورا کرنے کا پھر اقرار کیا ہے یہ عہد وہی بیعت اسلام کا معاہدہ ہے جو ہر مرد و عورت سے اسلام کے قبول کرنے کے وقت اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ ٹھیرایا کرتے تھے۔ شریعت میں جن باتوں کا حکم ہے رنج و خوشی ہر حال میں ان کے موافق عمل کرنے کا اور جان باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کا یہ معاہدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–9

آیت 8 (یایھا الذین امنوا) ” اے ایمان والو ! “ یعنی اے وہ لوگو جو ان امور پر ایمان لائے ہو جن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے ایمان کے لوازم کو قائم کرو ! (کونوا قومین للہ شھدآء بالقسط) ” اللہ کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ “ یعنی انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے گواہی دینے کے لئے کھڑے ہونے والے بن جاؤ۔ تمہاری ظاہری اور باطنی حرکات قیام انصاف میں نشاط محسوس کریں اور یہ قیام عدل دنیاوی اغراض کی خاطر نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو اور صرف (قسط) یعنی عدل تمہارا مقصد ہو۔ تمہارے اقوال وا فعال میں کسی قسم کی افراط وتفریط نہ ہو اور تم قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

ہمارے مخالف نے جس تقبیل کی بات کی ہے وہ دوپٹے کی تقبیل ہوسکتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پھر اس بات کو نقل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضور ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کوئی خفگی یا نفرت وغیرہ تو نہیں تھی کہ وہ آپ سے پردے میں رہتی ہوں اور آپ صرف ان کی اوڑھنیوں کا لمس کرپاتے ہوں۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے آپ فرماتی ہیں : ” میں ن ے ایک رات حضور ﷺ کو ہاتھ سے تلاش کیا تو میرا ہاتھ آپ کے تلوے پر پڑا آپ اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا مانگ رہے تھے (اعوذ بعفوک من عقوبتک وبرضاک من سخطک، (a) اے اللہ میں تیری سزا سے تیرے عفو اور تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں) “ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

35 ایمان والوں کیلئے بہت بڑے اجر کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما رکھا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے کہ ان کے لیے عظیم الشان بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی اور وہ اجر اتنا بڑا اور اس قدر عظیم الشان ہوگا کہ اس کی عظمتوں کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ۔ جعلنا اللہ من اہلہ بمحض منہ وکرمہ وہو ارحم الراحمین سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ایمان صادق اور عمل صالح کی برکت سے ان کے گناہوں کی بخشش بھی فرما دی جائے گی اور ان کو اجر عظیم سے بھی نوازا جائے گا جو جنت کی بےمثال اور سدابہار نعمتوں کی شکل میں ان کو نصیب ہوگا ۔ اَللّٰہُمَّ شَرِّفْنَا بِہَا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سزا اور جزا تشریح : اللہ رب العزت نیکی اور برائی کا ذکر ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس طرح جنت اور دوزخ کا ذکر بھی ساتھ ساتھ ہوتا ہے ہر مسلمان کا ایمان ہے آخرت ضرور ہوگی، مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، دنیا میں کئے گئے اعمال کا بدلہ اچھا یا برا ضرور ملے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ دہرایا جارہا ہے کہ نیک لوگ اللہ کو پسند ہیں اور ان کے لیے ان کی چھوٹی موٹی خطائیں تو ویسے ہی معاف کردی جائیں گی اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ جنت کی شکل میں ان کو ضرور دیا جائے گا جنت کی تعریف کئی دفعہ ہوچکی ہے آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی، اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 6–11

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 6 تا 11: اسرار و معارف : کفر اور آخرت کی ناکامیوں سے بچنے کے لیے پاکیزگی ضروری ہے کفر دل کی نجاست اور آلودگی کا نام ہے ہر گناہ دل کو آلودہ کردیتا ہے حتی کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب آلودگی کفر کی حد کو پہنچ جاتی ہے اب دل کی طہارت اور پکیزگی کے لیے اس کو نجاست سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بدن بھی پاک رکھا جائے اور اللہ کریم کے ساتھ عبادت کا تعلق قائم رکھا جائے ہر حال اور ہر صورت میں ، بلکہ فرائض کو چھوڑنا تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے فرائض کے ساتھ حسب ہمت نوافل اور اذکار کو شامل رکھنا چاہئے اب فرائض کی ادائیگی کے لیے جسم کا پاک ہونا شرط ہے اور اگر پاک بھی ہے تو وضو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–11

ف 3 عمومی انعامات کے بیان کے بعد اب خصوصی انعامات کا ذکر ہے۔ (کبیر) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک سفر کے دوران میں غزوہ ذات الرقاع میں) آنحضرت ﷺ نے ایک جنگ میں پڑا و فرمایا صحابہ کرام ؓ سائے کی تلاش میں ادھر ادھر بکھر گئے آپ ﷺ بھی ایک درخت کے سائے میں لیٹ گئے اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔ اتنے میں ایک بدو (غورثبن حارث) آیا اور تلوار سونت کر کہنے لگا اب آپ کو مجھ سے کون بچاسکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی آپ ﷺ نے اسے اٹھا لیا اور اس بدو سے فرمایا اب بتاو تمہیں کو ب بچائے گا وہ کہنے لگا آپ بہترین پکڑنے والے نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 8–10

(5:8) قوامین۔ جمع منصوب قوام واحد۔ اگرچہ مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن اسم فاعل کے معنی میں ہے انصاف کے لئے کھڑے ہونے والے۔ اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہونے والے۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہونے والے للہ میں مضاف محذوف ہے اس کی تقدیر یوں ہے قوامون لحقوق اللہ۔ اولا وامر اللہ اولدین اللہ۔ او لعھد اللہ۔ شھداء بالقسط۔ حال من الضمیر فی قوامین بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا مومنو ! انصاف کی گواہی دیتے ہوئے اللہ کے دین کے لئے یا اس کے حقوق کی ادائیگی کے لئے کمربستہ ہوجاؤ۔ یا پہلے فقرہ پر عطف ہوسکتا ہے۔ کونوا شھداء بالقسط اور انصاف کے ساتھ سچی گواہی دینے والے بن جاؤ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–10

آیت نمبر 8-10 لغات القرآن : قوامین کھڑے ہونے والے۔ (قوام کی جمع) ۔ شھدآء (شھید) ۔ گواہی دینے والے) ۔ الا تعدلوا (یہ کہ تم انصاف نہ کرو) ۔ اقرب (زیادہ قریب) ۔ اصحب الجحیم (جہنم والے) تشریح : ” شھدا “ یا ” قوامین “ کے الفاظ جمع آئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ۔ انصاف کرنے اور کروانے کیلئے ایک جماعت کی ضرورت ہے جو اللہ کی راہ میں مضبوطی سے ڈٹ جائے۔ نہ کوئی خوف اسے ڈرا سکے نہ کوئی امید اسے کرید سکے۔ شہادت کے معنی صرف گواہی کے ہی نہیں ہیں جو عدالت کے کٹہرہ میں کسی مقدمہ کے لئے دی جاتی ہے۔ شہادت کے معنی سچائی پر قائم رہنے کے وہ سارے اعمال ہیں جن سے قوم کا کردار بنتا ہے۔ جن سے سچائی قائم ہوتی ہے، جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–10

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ معاہدہ کی تاکید میں فرمایا کہ شریعت میں اللہ اور اللہ کی مخلوق کے جو حقوق ٹھر چکے انصاف سے ادا کرنے میں ہر ایماندار کو ثابت قدم اور وقت پر تیار اور کھڑا ہونا چاہئے کہ یہی معاہدہ کے پورا کرنے کی باتیں ہیں ۔ یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ وہ تمام ایمانداروں کے دشمن تھے لیکن فتح مکہ کے بعد جب وہ بھی اسلام میں داخل ہوگئے تو اب اس پہلی دشمنی کا کچھ خیال دل میں نہ رکھنا چاہئے کیونکہ یہی انصاف کا طریقہ، متقی بننے کا ایک بہتر راستہ ہے ۔ اسکے خلاف چلنے پر خدا کا خوف کرنا چاہئے کہ وہ ہر شخص کے نیک و بد سب کاموں سے واقف ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–10

[13] منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے، بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی اور کان کیونکہ سر کا حصہ ہیں اس لئے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئے تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔ [14] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ نمبر 35 صفحہ 238

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–9

(ف 2) ان آیات میں احصائے نعمت کے بعد مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بندے بنے رہیں اور یہ کہ کسی حالت میں بھی عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ دیں ۔ حل لغات : شنان : بغض وعداوت :

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 7–9

ف 2 اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو بھی یاد کرو جس کا اس نے تم سے اس وقت پختہ قول لیا تھا جب کہ تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور مان لیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ دل کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے (تیسیر) اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات اور اس کی بےانتہا نعمتیں ہیں انہی نعمتوں میں سے یہ نعمت بھی ہے کہ اس نے تمہارے شرعی احکام کی تکمیل کردی تمہارے دین میں آسانیاں رکھیں دینی اور دنیوی فلاح و بہبود کے طریقے تعلیم کئے اور دنیا کی ہدایت و رہنمائی کے منصب پر تم کو فائز کیا عہد جس کا تم سے پختہ قول لیا یا تو وہی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–10

ف 6۔ ایسی آیت ختم پارہ والمحصنت کے قریب بھی آچکی ہے اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ بےانصافی کی وجہ سے دوچیزیں ہوتی ہیں یا تو ایک فریق کی رعایت اور یا کسی فریق کی عداوت۔ وہاں اول سبب مذکور ہے یہاں دوسرا سبب مذکور ہے چناچہ وہاں یہ الفاظ ولو علی انفسکم اوالوالدین الخ۔ اور یہاں لفظ شناٰن اس کی صاف دلیل ہے پس اس فرق کے بعد تکرار نہ رہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم کی ہر بات ہی لوہے پر لکیر ہے لیکن وعدہ ٔ الٰہی کی کیا ہی شان ہے : 57: ایک سچے مسلمان کے شوق دلانے اور ایمانی قوت کو بالا کرنے کے لئے ” وعدہ الٰہی “ کا لفظ مست کردینے والا جملہ ہے۔ اس کو معمولی بات نہ سمجھو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرتوں کا مطالعہ کرو تم سب کو معلوم ہوجائے گا اس ” وعدہ الٰہی “ کے لفظ کتنی طاقت اور کتنا شوق مخفی ہے۔ یہ رب کریم کی کتنی بڑی بندہ نوازی ہے کہ وہ اپنی ہی پیدا کی ہوئی اور اپنی ہی پروردہ مخلوق کے ساتھ ایک معاہدے میں شریک ہو اور جواب میں اپنی ذات پر بھی ایک عہد کی ذمہ داری اٹھائے۔ انسان کو یہ وہ شرف بخشا گیا ہے جس میں کوئی دوسرا اس کا شریک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–11

Commentary The subject of the first of the three verses given above has appeared earlier in Surah al-Nis-a' in almost the same words. The only difference is that the arrangement of words there (4:135) was: كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ while, here (5:8), it has been said: كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ (be steadfast for Allah as witnesses for justice). A delicate reason for the alternation in words appearing earlier and later in these two verses has been given by Abu Ha-an in his Tafsir Al-Bahr al-Muhit a gist of which is given below. There are…

Read the full tafseer →