Explained with ayahs 7–11
" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار
اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
سورة الْمَآىِٕدَة 29
ملاحظہ ہو سورة نساء، 164 و 165۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے (احکام کی) پوری پابندی کرنے والے (اور شہادت کی نوبت آوے تو) انصاف کی شہادت ادا کرنے والے رہو، اور کسی خاص گروہ کی عداوت تم کو اس پر باعث نہ ہوجاوے کہ تم (ان کے معاملات میں) عدل نہ کرو (ضرور ہر معاملہ میں) عدل کیا کرو وہ (یعنی عدل کرنا) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (یعنی اس سے تقویٰ کے ساتھ موصوف کہلاتا ہے) اور (تقویٰ اختیار کرنا تم پر فرض ہے، چناچہ حکم ہوا ہے کہ) اللہ تعالیٰ (کی مخالفت) سے ڈرو (یہی حقیقت ہے تقویٰ کی پس عدل جو کہ اس فرض تقویٰ کا موقوف علیہ ہے نیز فرض ہوگا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تمہارے سب اعمال کی پوری اطلاع ہے (پس مخالفین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 10:۔ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ۔ یہ مذکورہ بالا میثاق پر عمل کرنے اور نہ کرنے دونوں کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اس میثاق پر قائم رہیں گے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے اور جو اس کو توڑیں گے ان کے لیے جہنم ہے۔ اس سے ایک تو یہ بات نکلی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہم پر اس میثاق کی ذمہ داری ڈالی ہے، اسی طرح اپنے اوپر بھی اس کے جواب میں ایک عہد کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کا اظہار " وعد اللہ " کے الفاظ سے ہورہا ہے۔ یہ رب کریم کی کتنی بڑی بندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8۔ 1، 2 پہلے جملے کی تشریح سورة نساء آیت نمبر 135 میں دوسرے جملے کی سورة المائدۃ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے نزدیک عادلانہ گواہی کی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جو حدیث میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا تو میری والدہ نے کہا، اس عطیے پر آپ جب تک اللہ کے رسول کو گواہ نہیں بنائیں گے میں راضی نہیں ہوں گی۔ چناچہ میرے والد انکی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ' اللہ سے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو ' اور فرمایا کہ میں ' ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا '…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
11: ”قضائے حاجت کی جگہ سے آنا“ در حقیقت اس چھوٹی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان پر نماز وغیرہ پڑھنے کے لیے صرف وضو واجب ہوتا ہے اور عورتوں سے ملاپ، اس بڑی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس کو جنابت کہتا ہے اور جس میں غسل واجب ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے اور دونوں صورتوں میں اسکا طریقہ ایک ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(آیت) ” نمبر 9 تا 10۔
یہ وہ جزاء ہے جو ان برگزیدہ لوگوں کے لئے ہے جن سے دنیاوی لذات اور مفادات فوت ہوجاتے ہیں ۔ انہیں دنیا میں عیش کوشی کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں اور اس انعام کے ہوتے ہوئے دنیا میں بشریت کی نگہبانی کے فرائض بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور انسان بشری میلانات ‘ انسانی حسد وعناد اور اس دنیا کے لالچ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ پھر اس سے اللہ کی صفت عدل کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں اور اشرار کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھتے ۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ انقلابی مومنین کی نظریں اللہ کی اس جزاء کے ساتھ اٹکی ہوئی ہوں اور ان کا معاملہ اللہ کے…
Read the full tafseer →2 یہ پہلے فریق کے بالمقابل اس جماعت کی سزا ذکر کی گئی جس نے قرآن کریم کے ان صاف وصریح حقائق کو جھٹلایا یا ان نشانات کی تکذیب کی جو سچائی کی طرف راہنمائی کرنے کے لئے خدا کی طرف سے دکھلائے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیت 8 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز
یہاں پر سورة النساء کی آیت 135 کا حوالہ ضروری ہے۔ سورة النساء کی آیت 135 اور زیر مطالعہ آیت المائدۃ : 8 میں ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے ‘ فرق صرف یہ ہے کہ ترتیب عکسی ہے دونوں سورتوں کی نسبت زوجیت بھی مدّ نظر رہے۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُہَدَاءَ لِلّٰہِ اور یہاں الفاظ ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز۔ ایک حقیقت تو میں نے اس وقت بیان کردی تھی کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ گویا اللہ اور قسط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
31۔ الف اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے اعمال کا ذکر فرمایا۔ ایک ایمان کا، دوسرے اعمال صالحہ کا اور دو طرح کا ہی وعدہ فرمایا ایک مغفرت کا اور دوسرے اجر عظیم کا۔ جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کیا۔ ان کی بھی مغفرت ہوجائے گی رہا اجر عظیم تو وہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی بجا لاتے رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →51 ۔ (آیت) ” اصحب الجحیم “۔ صاحب میں مفہوم عارضی وہنگامی اجتماع کا نہیں، بلکہ مستقل اور طویل تعلق کا پایا جاتا ہے۔ اس لیے کافروں کو اصحاب دوزخ کہنے کے معنی یہ ہوئے کہ وہ گویا دوزخ ہی کے لیے بنے ہیں یا دوزخ انہی کے لیے بنی ہے اگر صرف وعید کی صورت ہوتی تو کچھ امیدنجات کی باقی بھی رہ جاتی۔ الصاحب الملازم ولا یقال فی العرف الالمن کثرت ملازمتہ (راغب) والمصاحبۃ والاصطحاب ابلغ من الاجتماع لاجل ان المصاحبۃ تقتضی طول لبثہ (راغب) ای ملا بسوالنار الشدیدۃ التاجج ملابسۃ مؤبدۃ (روح) فخر المفسرین فخر رازی (رح) نے حسب معمول اس موقع پر بھی ژرف نگاہی سے کام لیا ہے۔ اور دوسرے بھی ان کی راہ پر چلے ہیں :۔ یفید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت نمبر 6 تا 11
ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کیلئے اٹھو یعنی اٹھنے کا ارادہ کرو حال یہ کہ تم بےوضو ہو تو اپنے چہرت اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھولیا کرو یعنی مع کہنیوں کے، جیسا کہ اس کو سنت نے بیان کیا ہے، اور سروں پر ہاتھ پھیرلیا کرو باء الصاق کے لئے ہے، یعنی مسح کو سروں سے بغیر پانی بہائے متعلق کردو مسح اسم جنس ہے لہٰذا جس پر مسح صادق آئے اس کا کم سے کم کافی ہے، اور وہ سر کے بعض بالوں کا مسح ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور ٹخنوں سمیت پیر دھولیا کرو جیسا کہ سنت نے بیان کیا ہے (اَرْجُلَکم) نصب کے ساتھ ہے اَیْدِیَکم پر عطف کرتے ہوئے اور جر پڑوس کی رعایت کی…
Read the full tafseer →والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولئک اصحب الجحیم اور جن لوگوں نے (ماننے سے) انکار کیا اور تکذیب کی وہی دوزخی ہیں۔ یعنی کبھی دوزخ سے الگ نہ ہوں گے۔
کلام خداوندی کا اسلوب ہے کہ ایک فریق (اور اس کے عواقب) کا ذکر کرنے کے بعد دوسرے فریق (اور اس کے نتائج) کا ذکر کرتا ہے (آیات مذکورۂ بالا میں بھی یہی اسلوب پیش نظر رکھا گیا ہے)
بغوی نے اپنے سلسلۂ سند سے مجاہد ‘ عکرمہ ‘ کلبی اور ابن بشار کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت منذر بن عمر ساعدی کو مہاجرین و انصار کی تیس آدمیوں کی جماعت کے ساتھ بنی عامر صعصعہ کی طرف (تبلیغ اسلام کے لئے) بھیجا یہ منذر وہی تھے جو گھاٹی والی رات میں (انصار کے) نمائندوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9۔ 10) مومنین اور اہل اطاعت کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں معاف فرمائے گا اور جنت میں ان کا کامل ثواب عطا فرمائے گا اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے جہنمی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بالْقِسْطِ ۡ کی تشریح سورة نساء (135) میں گزر چکی ہے، اسی طرح (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ۔۔) کی تشریح سورة مائدہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اکثر کافروں نے مسلمانوں سے بڑی دشمنی کی تھی، جب وہ مسلمان ہوئے تو فرمایا کہ ان سے وہ دشمنی نہ نکالو اور ہر جگہ یہی حکم ہے، حق بات میں دوست اور دشمن برابر ہیں۔“ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیت نمبر : 8 تا 10۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین “۔ اس کا معنی سورة النساء میں گزر چکا ہے معنی یہ ہے کہ میں نے تم پر اپنی نعمت مکمل کی پس ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے، اللہ کے ثواب کے لیے اس کے حق کو قائم کرو، اور اپنے اقارب کی طرف جھکاؤ کیے بغیر حق کی گواہی دو اور دشمن پر ظلم کیے بغیر حق کی گواہی دو ۔
(آیت) ” ولا یجرمنکم شنان قوم “۔ عدل کے ترک اور حق پر ظلم و زیادتی کو ترجیح پر کسی قوم کی عداوت تمہیں نہ اکسائے، اس میں دلیل ہے کہ دشمن کا حکم دشمن پر نافذ ہوگا جب کہ وہ اللہ کی رضا میں کسی سے دشمنی کرنے والا ہو اور اس کی شہادت اس کے خلاف نافذ ہوگی، کیونکہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(1) ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے نقل کیا ہے کہ عبد اللہ بن کثیر نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا کونوا قومین للہ شھداء بالقسط کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) خیبر کے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ ایک دیت کے بارے میں ان کے پاس تشریف لے گئے لیکن انہوں نے آپ کو قتل کردینے کا ارادہ کیا۔ اس لئے یہ فرمایا لفظ آیت ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا (الآیتہ) واللہ اعلم
Read the full tafseer →[ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ وَكَذَّبُوْا : اور جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَآ : ہماری نشانیوں کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : (تو ) وہ لوگ ] [ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ : دوزخ والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
انصاف پر قائم ہونے کا حکم
سورة نساء میں فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ ) کہ اللہ کے لئے خوب انصاف کے ساتھ قائم رہنے والے بنو اگرچہ انصاف تمہاری اپنی جانوں یا تمہارے ماں باپ یا تمہارے رشتہ داروں کے خلاف پڑجائے اور یہاں فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآء بالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا) (یعنی ہوجاؤ اچھی طرح سے کھڑے ہوجانے والے اللہ کے لئے، گواہی دینے والے انصاف کے ساتھ، اور تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
حکم یازدھم۔ وجوب عدل و انصاف واداء شہادت حق۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنو کو نو قوامین۔۔۔ الی۔۔۔ الجحیم۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں عبادات اور ان احکام کا ذکر تھا جو مکلف کی ذات کے ساتھ مخصوص تھے اب ان ایات میں عدل و انصاف وشہادت حق کا حکم بیان کرتے ہیں جو دوسروں سے متعلق ہے نظام عالم کا دارومدار عدل و انصاف اور شہادت پر ہے اس لیے کہ عدل اور انصاف اور سچی شہادت سے تمام مظالم اور مفاسد کا دروازہ بند ہوجاتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو تمہارے ایمان کا مقتضی استقامت علی الحق ہے لہذا ہوجاؤ تم کھڑے ہونے والے اللہ کے لیے یعنی حقوق اللہ کی ادائیگی کے لیے مستعد اور تیار کھڑے رہو اور جب حقوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
30 ۔ یہ بھی پہلے مضمون کا اعادہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عقود و حقوق کو اپنی امکانی طاقت کے مطابق بجا لانے کی کوشش کرو۔ عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو اور بغض و عداوت کی بنا پر حق و انصاف سے روگردانی مت کرو۔ اس میں وَلَا اٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ کے مضمون کا اعادہ ہے۔ وَعَدَ اللہُ الخ احکام و حدود بیان کرنے کے بعد ان لوگوں کو اخروی بشارت دی گئی جو ان کو بجا لائینگے اور اللہ کی حدود کو قائم کرینگے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ یہ ان لوگوں کے لیے وعید اور تخویف اخروی ہے جو اللہ کے احکام کو پامال کریں اور اس کی حدود کو توڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ربط آیات پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کا حکم دیا ہے ۔ انسانی سوسائٹی میں عہد و پیمان کو پورا کرنا بڑی قدروقیمت رکھتا ہے۔ عہد و پیمان مخلوق کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی ۔ اللہ عہد میں اس کی وحدانیت کو ماننا ، جزائے عمل پر یقین رکھنا ۔ تمام احکام کی تعمیل کرنا اور حلت و حرمت کے ان قوانین پر عمل کرنا جو اس سورة تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں محرمات نکاح اور محرمات اکل و شرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اللہ نے شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم بھی دیا ہے ۔ طہارت کے اصول بیان فرمائے ہیں ان میں ظاہری اور باطنی ہر دو قسم کی طہارت شامل ہے۔ نماز کے لیے طہارت کو شرط قرار…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ 10
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترکیب : وعد کا فاعل اللّٰہ۔ الذین الخ مفعول اول لہم مغفرۃ جملہ دوسرے مفعول محذوف کے قائم مقام اذھم ظرف نعمۃ اللّٰہ علیکم کا اور علی اللہ فلیتوکل سے متعلق ہے۔
تفسیر : اوامرِ الٰہی کے بجا لانے کے اسباب ذکر فرما کر دو اور سبب ذکر کرتا ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کی اطاعت و محبت پر ابھارتے اور اس کی منہیات سے باز رکھتے ہیں۔ گویا یہ جملہ کلام سابق کے لئے تتمہ ہے۔ اول سبب اطاعت و محبت کا آیندہ خیر کا امیدوار کرنا ہے کس لئے کہ احسانات سابقہ ہی پر انسان کی نظر بس نہیں کرتی بلکہ آیندہ کی بھلائی اور امید پر بہ نسبت انعام سابق کے زیادہ تر آمادہ اطاعت ہوتا ہے۔ پس اس بات کو وعد اللّٰہ الذین سے اجر عظیم تک…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ۔ (المائدہ : 10)
” جن لوگوں نے ہماری (واضح) آیات (وعدوں) کے بعد بھی کفر کا راستہ اختیار کیا یہی جہنم (میں جانے) والے ہیں “۔
روئے سخن یہاں مسلمانوں کی طرف ہے کیونکہ یہاں کافروں کی بات نہیں ہو رہی۔ سیاق وسباق بتاتے ہیں کہ یہاں مسلمانوں کی بات ہو رہی ہے ‘ یعنی ان مسلمانوں نے اگر کفر کا راستہ اختیار کیا اور احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھیں جھٹلایا اور جو کچھ ہم نے قرآن کریم میں کہا ہے ‘ اس کا مذاق اڑایا ‘ بلکہ اسے بدلنے کی کوشش کی تو یہی لوگ ہیں جہنم والے ‘ جنھیں ہم جہنم میں ڈالیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی نعمتوں کی شکر گزاری اور عہد کی پاسداری کا صلہ، اس کے مقابلے میں ناقدری و عہد شکنی اور تکفیر و تکذیب کی سزا بیان کی گئی ہے۔
یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ جب وہ اچھے اور برے اعمال کا ذکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اچھے کام کا اجر اور برے کام کے انجام کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ تصویر کے دونوں رخ آدمی کے سامنے ہوں تاکہ اس کے لیے اچھے اور برے کی تمیز اور ان کے درمیان فیصلہ کرنا آسان ہوجائے۔ مراد یہ ہے جس ایمان پر قائم رہنے اور صالح کردار کو اختیار کرنے کا تم سے عہد لیا گیا ہے اگر اس پر پورا اتر و گے تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →آیت 10 : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو وہ جہنم کے ساتھی ہیں) یعنی اس سے جدانہ ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت نمبر 11, 10
تفسیر : (والذین کفروا وکذبوا بایتا اولتک الجحیم) ( اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلائیں ہماری آیتیں وہ ہیں دوزخ والے)
(یایھا الذین امنوا اذکرو انعمت اللہ علیکم ) ( اے ایمان والو ! یاد رکھو احسان اللہ کے اپنے اوپر) جو تم سے دشمن کو ہٹا کر احسان کیا۔ ( اذھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم) (جب قصد کیا لوگوں نے کہ تم پر ہاتھ چلادیں) قتل کے ساتھ۔
اذھم قوم ان یبسطوا کا شان نزول اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ بطن نخل میں تھے تو بنو ثعلبہ اور بنو محارب نے ارادہ کیا کہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ جب نماز میں م شغول ہوں تو ان کو قتل کردیں گے تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
) 7 ۔ 10) ۔ اوپر تیمم کے حکم کو قابل شکر ایک نعمت فرما کر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عام نعمتوں اور احسانوں کو یاد دلایا ہے اور ان نعمتوں اور احسانوں کے شکریہ کا طریقہ بھی جتلایا ہے کہ ان نعمتوں اور احسانوں کے یاد کرنے کے وقت اس عہد کو یاد کیا کرو جو اللہ کے رسول کی معرفت تم نے اللہ تعالیٰ سے ٹھیرا کر اس عہد کو پورا کرنے کا پھر اقرار کیا ہے یہ عہد وہی بیعت اسلام کا معاہدہ ہے جو ہر مرد و عورت سے اسلام کے قبول کرنے کے وقت اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ ٹھیرایا کرتے تھے۔ شریعت میں جن باتوں کا حکم ہے رنج و خوشی ہر حال میں ان کے موافق عمل کرنے کا اور جان باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کا یہ معاہدہ…
Read the full tafseer →آیت 10
(وعد اللہ) ” اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں (وعملوا الصلحت) ” اور نہوں نے نیک عمل کئے “ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کردینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزآء بما کانوا یعملون) (السجدہ :18/32) ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے ان کے اعمال کے صلہ کے طور…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 6 کی بقیہ تفسیر)
اس لئے یہ جائز ہے کہ گنجے انسان کے سر پر استرہ پھیرنا حلق کے قائم مقام ہوجائے جس طرح کوئی دوسرا آدمی اس کی طرف حج کرنے کی صورت میں اپنے سر کا حلق کرالیتا ہے اور اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے آدمی کا اس کی طرف سے تلبیہ کہنا امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس وقت کافی ہوجاتا ہے جب اس پر بےہوشی وغیرہ کا دورہ پڑگیا ہو۔ اس لئے اگر محرم گونگا ہو تو تلبیہ کہنے کے لئے اپنی زبان ہلاتے رہنا مستحب قرار دیا گیا اگرچہ حقیقتہً وہ تلبیہ کہنے سے عاری ہوتا ہے۔
لیکن نماز کی صورت ایسی ہے کہ اس کے افعال کی ادائیگی میں کوئی کسی کا قائم مقام نہیں بن سکتا اور یہ بھی جائز نہیں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
35 ایمان والوں کیلئے بہت بڑے اجر کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما رکھا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے کہ ان کے لیے عظیم الشان بخشش بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی اور وہ اجر اتنا بڑا اور اس قدر عظیم الشان ہوگا کہ اس کی عظمتوں کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ۔ جعلنا اللہ من اہلہ بمحض منہ وکرمہ وہو ارحم الراحمین سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ایمان صادق اور عمل صالح کی برکت سے ان کے گناہوں کی بخشش بھی فرما دی جائے گی اور ان کو اجر عظیم سے بھی نوازا جائے گا جو جنت کی بےمثال اور سدابہار نعمتوں کی شکل میں ان کو نصیب ہوگا ۔ اَللّٰہُمَّ شَرِّفْنَا بِہَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سزا اور جزا
تشریح : اللہ رب العزت نیکی اور برائی کا ذکر ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس طرح جنت اور دوزخ کا ذکر بھی ساتھ ساتھ ہوتا ہے ہر مسلمان کا ایمان ہے آخرت ضرور ہوگی، مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، دنیا میں کئے گئے اعمال کا بدلہ اچھا یا برا ضرور ملے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ دہرایا جارہا ہے کہ نیک لوگ اللہ کو پسند ہیں اور ان کے لیے ان کی چھوٹی موٹی خطائیں تو ویسے ہی معاف کردی جائیں گی اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ جنت کی شکل میں ان کو ضرور دیا جائے گا جنت کی تعریف کئی دفعہ ہوچکی ہے آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہوگی، اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 6 تا 11:
اسرار و معارف :
کفر اور آخرت کی ناکامیوں سے بچنے کے لیے پاکیزگی ضروری ہے کفر دل کی نجاست اور آلودگی کا نام ہے ہر گناہ دل کو آلودہ کردیتا ہے حتی کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب آلودگی کفر کی حد کو پہنچ جاتی ہے اب دل کی طہارت اور پکیزگی کے لیے اس کو نجاست سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بدن بھی پاک رکھا جائے اور اللہ کریم کے ساتھ عبادت کا تعلق قائم رکھا جائے ہر حال اور ہر صورت میں ، بلکہ فرائض کو چھوڑنا تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے فرائض کے ساتھ حسب ہمت نوافل اور اذکار کو شامل رکھنا چاہئے اب فرائض کی ادائیگی کے لیے جسم کا پاک ہونا شرط ہے اور اگر پاک بھی ہے تو وضو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 3 عمومی انعامات کے بیان کے بعد اب خصوصی انعامات کا ذکر ہے۔ (کبیر) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک سفر کے دوران میں غزوہ ذات الرقاع میں) آنحضرت ﷺ نے ایک جنگ میں پڑا و فرمایا صحابہ کرام ؓ سائے کی تلاش میں ادھر ادھر بکھر گئے آپ ﷺ بھی ایک درخت کے سائے میں لیٹ گئے اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔ اتنے میں ایک بدو (غورثبن حارث) آیا اور تلوار سونت کر کہنے لگا اب آپ کو مجھ سے کون بچاسکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی آپ ﷺ نے اسے اٹھا لیا اور اس بدو سے فرمایا اب بتاو تمہیں کو ب بچائے گا وہ کہنے لگا آپ بہترین پکڑنے والے نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(5:8) قوامین۔ جمع منصوب قوام واحد۔ اگرچہ مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن اسم فاعل کے معنی میں ہے انصاف کے لئے کھڑے ہونے والے۔ اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہونے والے۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہونے والے
للہ میں مضاف محذوف ہے اس کی تقدیر یوں ہے قوامون لحقوق اللہ۔ اولا وامر اللہ اولدین اللہ۔ او لعھد اللہ۔
شھداء بالقسط۔ حال من الضمیر فی قوامین بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا مومنو ! انصاف کی گواہی دیتے ہوئے اللہ کے دین کے لئے یا اس کے حقوق کی ادائیگی کے لئے کمربستہ ہوجاؤ۔ یا پہلے فقرہ پر عطف ہوسکتا ہے۔ کونوا شھداء بالقسط اور انصاف کے ساتھ سچی گواہی دینے والے بن جاؤ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیت نمبر 8-10
لغات القرآن : قوامین کھڑے ہونے والے۔ (قوام کی جمع) ۔ شھدآء (شھید) ۔ گواہی دینے والے) ۔ الا تعدلوا (یہ کہ تم انصاف نہ کرو) ۔ اقرب (زیادہ قریب) ۔ اصحب الجحیم (جہنم والے)
تشریح : ” شھدا “ یا ” قوامین “ کے الفاظ جمع آئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ۔ انصاف کرنے اور کروانے کیلئے ایک جماعت کی ضرورت ہے جو اللہ کی راہ میں مضبوطی سے ڈٹ جائے۔ نہ کوئی خوف اسے ڈرا سکے نہ کوئی امید اسے کرید سکے۔ شہادت کے معنی صرف گواہی کے ہی نہیں ہیں جو عدالت کے کٹہرہ میں کسی مقدمہ کے لئے دی جاتی ہے۔ شہادت کے معنی سچائی پر قائم رہنے کے وہ سارے اعمال ہیں جن سے قوم کا کردار بنتا ہے۔ جن سے سچائی قائم ہوتی ہے، جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ معاہدہ کی تاکید میں فرمایا کہ شریعت میں اللہ اور اللہ کی مخلوق کے جو حقوق ٹھر چکے انصاف سے ادا کرنے میں ہر ایماندار کو ثابت قدم اور وقت پر تیار اور کھڑا ہونا چاہئے کہ یہی معاہدہ کے پورا کرنے کی باتیں ہیں ۔ یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ وہ تمام ایمانداروں کے دشمن تھے لیکن فتح مکہ کے بعد جب وہ بھی اسلام میں داخل ہوگئے تو اب اس پہلی دشمنی کا کچھ خیال دل میں نہ رکھنا چاہئے کیونکہ یہی انصاف کا طریقہ، متقی بننے کا ایک بہتر راستہ ہے ۔ اسکے خلاف چلنے پر خدا کا خوف کرنا چاہئے کہ وہ ہر شخص کے نیک و بد سب کاموں سے واقف ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
[13] منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے، بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی اور کان کیونکہ سر کا حصہ ہیں اس لئے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئے تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔
[14] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ نمبر 35 صفحہ 238
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات کفر و ایمان کے مال کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مومن ” اجر عظیم “ اور مغفرت و بخشش کا مستحق ہے اور کافر ومنکر دوزخ و جہنم کا ، اس لئے کہ دنیا میں مومن نے اپنے اعمال سے اور ایمان مستحکم سے ہمیشہ حصول جنت کی کوشش کی ہے اور کافر تکذیب و انکار کی وجہ سے آتشکدہ جحیم کے قریب ہوتا گیا ہے پس یہ ضرور تھا کہ آخرت میں یہ تفاوت راہ بین اور متمائز ہو ۔
بات یہ ہے کہ ایمان وعمل صالح مرد مومن میں ایک زبردست قوت حیات پیدا کردیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی آخروی زندگی کامیابی و کامرانی سے گزرتی ہے اور کفر انکار چونکہ نام ہے مقدان عیش کے اسباب موجہ کا ، اس لئے لازما دوزخ و جہنم کی زندگی ہی کافر کے لئے…
Read the full tafseer →ف 1 اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے راستی پر قائم رہنے والے اور اس کے احکام کی پوری پابندی کرنے الے اور کسی کی گواہی کا موقعہ آجائے تو انصاف کی گواہی دینے والے رہو اور تم کو کسی خاص قوم اور فرقہ کی دشمنی اور بغض اس پر برانگیختہ اور آمادہ کردے کہ تم ان کے معاملہ میں انصاف نہ کرو دیکھو ہر معاملہ میں عدل و انصاف کیا کرو یہ عدل کرنا تقویٰ اور پرہیز گاری سے قریب تر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت سے ڈرتے رہو یقین جانو کہ تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سب کی اس کو اطلاع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور بھلے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 6۔ ایسی آیت ختم پارہ والمحصنت کے قریب بھی آچکی ہے اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ بےانصافی کی وجہ سے دوچیزیں ہوتی ہیں یا تو ایک فریق کی رعایت اور یا کسی فریق کی عداوت۔ وہاں اول سبب مذکور ہے یہاں دوسرا سبب مذکور ہے چناچہ وہاں یہ الفاظ ولو علی انفسکم اوالوالدین الخ۔ اور یہاں لفظ شناٰن اس کی صاف دلیل ہے پس اس فرق کے بعد تکرار نہ رہا۔
Read the full tafseer →اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والوں کو عذاب دوزخ کی وعید بھی وعدہ الٰہی ہے :
58: معاندین و مشرکین جو اپنے عناد اور شرک ہی پر مرے اور ان کو اس دنیا میں توبہ نصیب نہ ہوئی اور مرنے کے بعد جب ان کے عمل اور توبہ و استغفار کا دروازہ بند ہوگیا تو ان پو وعید الٰہی کا وعدہ لازم آگیا اور تخلف وعدہ محال ایسا نہیں ہو سکتا کہ اب ان کے اللہ تعالیٰ بلا حساب جنت میں داخل کردے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ کہنا کر وہ ایسا نہیں کرے گا یا ایسا نہیں ہو سکتا نہ گناہ ہے نہ حرام بلکہ یہ اس کا کہا ہوا دہرایا جاتا ہے کہنے والا اپنی طرف سے نہیں کہتا اور یہ بھی کہ اس طرح کہنا اللہ کی چاہت کے ہرگز منافی نہیں بلکہ اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
Commentary
The subject of the first of the three verses given above has appeared earlier in Surah al-Nis-a' in almost the same words. The only difference is that the arrangement of words there (4:135) was: كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ while, here (5:8), it has been said: كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ (be steadfast for Allah as witnesses for justice). A delicate reason for the alternation in words appearing earlier and later in these two verses has been given by Abu Ha-an in his Tafsir Al-Bahr al-Muhit a gist of which is given below.
There are…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
29. See Surah 4, nn. 164-5 above.
Read the full tafseer →