Explained with ayahs 7–11
" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار
اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 30
اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جسے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے خاص خاص صحابہ کو کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور خفیہ طور پر یہ سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس طرح اسلام کی جان نکال دیں گے۔ لیکن عین وقت پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے نبی ﷺ کو اس سازش کا حال معلوم ہوگیا اور آپ ﷺ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ چونکہ یہاں سے خطاب کا رخ بنی اسرائیل کی طرف پھر رہا ہے اس لیے تمہید کے طور پر اس واقعہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کے دو مقصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس روش پر چلنے سے روکا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے، جب کہ ایک قوم (یعنی کفار قریش ابتدائے اسلام میں جب کہ مسلمان ضعیف تھے) اس فکر میں تھے کہ تم پر (اس طرح) دست درازی کریں (کہ تمہارا خاتمہ ہی کردیں) سو اللہ تعالیٰ نے ان کا قابو تم پر (اس قدر) نہ چلنے دیا (اور آخر میں تم کو غالب کردیا۔ پس اس نعمت کو یاد کرو) اور (احکام کے امتثال میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو (کہ اس نعمت کا یہ شکریہ ہے) اور (آئندہ بھی) اہل ایمان کو حق تعالیٰ پر اعتماد رکھنا چاہیے (جس نے پہلے تمہارے سب کام بنائے ہیں آئندہ بھی آخرت تک امید رکھو اتقوا اللہ میں خوف دلایا اور امر بالتوکل میں امید اور یہی دو عمل معین…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ ا پر آیت 8 میں مسلمانوں سے ہر حالت میں حق و عدل پر قائم رہنے اور مخالفین کے علی الرغم اس کو نباہنے اور اس کی شہادت دینے کا جو عہد لیا ہے اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اب تمہیں مخالفوں کی مخالفت کی پروا نہیں کرنی ہے۔ اگر تم اس عہد پر جمے رہے تو خدا کی مددونصرت ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے۔ تمہارے دشمن تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بعینہ یہی مضمون فلا تخشوھم واخشون میں گزر…
Read the full tafseer →11۔ 1 اس کی شان نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان کئے ہیں۔ مثلًا اس اعرابی کا واقعہ کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر سے واپسی پر ایک درخت کے سائے میں آرام فرما تھے، تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس اعرابی نے تلوار پکڑ کر آپ ﷺ پر سونت لی اور کہنے لگا۔ اے محمد ﷺ آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے بلا تامل فرمایا اللہ (یعنی اللہ بچائے گا) یہ کہنا تھا کہ تلوار ہاتھ سے گرگئی۔ بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کے خلاف جب کہ آپ ﷺ وہاں تشریف فرما تھے، دھوکا اور فریب سے نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بچایا۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کے…
Read the full tafseer →12: یہ ان مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جن میں کفار نے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے منصوبے بنائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو خاک میں ملادیا، ایسے واقعات بہت سے ہیں، ان میں سے کچھ واقعات مفسرین نے اس آیت کے تحت بھی ذکر کئے ہیں، مثلاً صحیح مسلم میں روایت ہے کہ مشرکین سے ایک جنگ کے دوران عسفان کے مقام پر آنحصرت ﷺ نے ظہر کی نماز تمام صحابہ کو جماعت سے پڑھائی، مشرکین کو پتہ چلا تو ان کو حسرت ہوئی کہ جماعت کے دوران مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں ختم کردینے کا یہ بہترین موقع تھا، پھر انہوں نے منصوبہ بنایا کہ جب یہ حضرات عصر کی نماز پڑھیں گے تو ان پر ایک دم حملہ کردیں گے ؛ لیکن عصر کا وقت آیا تو اللہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 11۔
اس آیت کے مفہوم میں اختلاف ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد وہ واقعہ ہے جو یوم حدیبیہ پر پیش آیا جب ایک گروہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف غداری کر کے چاہتا تھا کہ غفلت میں ان پر حملہ کر دے مگر اللہ تعالیٰ نے انکو مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بنا دیا (تفصیلات کے لئے دیکھئے سورة فتح)
غرض حادثہ کیسا بھی ہو ‘ بہرحال یہاں اعتبار اور اہمیت اس بات کی ہے جو یہاں اسلام کے نظام تربیت میں پیش نظر ہے اور وہ یہ کہ غصے اور دشمنی کو فرو کرنا چاہئے اور اس طرح دشمنوں کے خلاف اپنے دلوں میں پائے جانے والے کئے اور دشمنی کو نکالنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ ٹھنڈے دل سے…
Read the full tafseer →3 عمومی احسانات یاد دلانے کے بعد بعض خصوصی احسان یاد دلاتے ہیں۔ یعنی قریش مکہ اور ان کے پٹھوؤں نے حضور پر نور ﷺ کو صدمہ پہنچانے اور اسلام کو مٹانے کے لئے کس قدر ہاتھ پاؤں مارے مگر حق تعالیٰ کے فضل و رحمت نے انکا کوئی داؤ چلنے نہ دیا۔ اس احسان عظیم کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ مسلمان غلبہ اور قابو حاصل کرلینے کے باوجود اپنے دشمنوں کو ہر قسم کے ظلم اور زیادتی سے محفوظ رکھیں اور جوش انتقام میں عدل و انصاف کا رشتہ ہاتھ سے نہ چھوڑیں جیسا کہ پچھلی آیات میں اس کی تاکید کی گئی ہے ممکن ہے کسی کو یہ شبہ گزرے کہ ایسے معاند دشمنوں کے حق میں اس قدر رواداری کی تعلیم کہیں اصول سیاست کے خلاف تو نہ ہوگی۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →آیت 11 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ اَیْدِیھُمْ عَنْکُمْ ج
یہ غزوۂ احزاب کے بعد کے حالات پر تبصرہ ہے۔ اس غزوہ کے بعد ابھی کفارّ میں سے بہت سے لوگ پیچ و تاب کھا رہے تھے اور بعید نہیں تھا کہ وہ دو بار مہم جوئی کرتے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کردیے اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ دوبارہ لشکر کشی کی جرأت نہ کرسکے۔ اس صورت حال کا ذکر اللہ تعالیٰ یہاں پر اپنے انعام کے طور پر کر رہے ہیں کہ جب کفار نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں ‘ تمہارے اوپر زیادتی کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →32 پہلا احسان تو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ انہیں اسلام کی توفیق بخشی اور اسلام کی بدولت ان کی قبائلی عصبیتوں کا خاتمہ ہوا، لڑائیاں ختم ہوئیں اور آپس میں تم بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے لگے دوسرا بڑا احسان یہ تھا کہ حدیبیہ کے مقام پر کافر یہ چاہتے تھے کہ تم پر حملہ آور ہو کر تمہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیں۔ لیکن اللہ نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ وہ اپنا ارادہ پورا نہ کرسکے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
1۔ حدیبیہ کے دن جنگ روکنا اللہ کا احسان تھا۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کے اسی (80) آدمی مسلح ہو کر تنعیم پہاڑ کی جانب سے رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوئے۔ وہ یہ چاہتے…
Read the full tafseer →52 ۔ (اور اس تنبیہ کے ساتھ کہ تمہارا خاتمہ ہی کردیں۔ اور ظاہر میں قرائن بھی ان کے اسی ارادہ کی تائید میں تھے) (آیت) ” یبسطوا الیکم ایدیھم “۔ بسط ید کے ایک معنی عربی محاورہ میں حملہ کرنے، پکڑنے، مارنے کے ہیں، اور وہی یہاں مراد ہیں۔ یستعمل تارۃ للصولۃ والضرب (راغب) یقال بسط الیہ یدہ اذا بطش بہ (کبیر) اردو میں بھی ” درازدستی “ ایسے ہی موقعوں کے لیے ہے۔ (آیت) ” اذ ھم قوم “۔ یہ کون لوگ تھے ؟ مخالفین ومعاندین سے مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ سوال یہ رہ جاتا ہے کہ یہاں متعین طور پر کن کی جانب اشارہ ؟ اشارہ اگر اسلام کی ابتدائی تاریخ کی طرف سمجھا جائے، تو اس وقت تو سب سے بڑے دشمن مشرکین قریش تھے۔ اور…
Read the full tafseer →یٰاَیھا الذین آمنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم اذھم قوم، (الآیہ) اس آیت کے شان نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان کئے ہیں مثلاً کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے خلاف سازش کرکے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ نے بروقت آپ کو بذریعہ وحی سازش کی اطلاع فرما دی آپ ﷺ فوراً وہاں سے اٹھ کر چلے آئے، بعض نے کہا ہے کہ ایک مسلمان کے ہاتھوں غلط فہمی سے دو عامری شخصوں کا قتل ہوگیا تھا ان کی دیت کی ادائیگی میں حسب معاہدہ بنو نضیر سے تعاون لینا تھا اسی سلسلہ میں آپ ان کے یہاں تشریف لے گئے تھے، اور ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تھے، یہود نے سازش کرکے اوپر سے ایک پتھر…
Read the full tafseer →یا یہا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اے اہل ایمان اپنے اوپر اللہ کے کئے ہوئے احسان کو یاد کرو۔ یہ پورا قصہ محمد بن اسحاق اور ابن عمرو ؓ اور ابن سعد ؓ نے ذکر کیا ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ سلام بن مشکم نے یہودیوں کو اس حرکت سے روکا تھا اور کہا تھا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو ان کو اطلاع ضرور مل جائے گی کہ ہم نے معاہدہ کو توڑ دیا یہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہے ایسا نہ کرو۔
ابن جریر نے عکرمہ اور یزید بن زیاد اور عبداللہ بن ابی بکر ؓ اور عاصم بن عمر بن قتادہ ؓ اور مجاہد اور عبداللہ بن کثیر اور ابو مالک کی روایات سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر ؓ کو ساتھ لے کر نکلے۔ الحدیث۔ اس روایت میں حضرت…
Read the full tafseer →(11) نیز رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو ! اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو جو اس نے تمہارے دشمنوں کو تم سے دور کرکے تم پر کیا ہے، یاد کرو جب کہ بنی قریظہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کیا تھا اور اوامر خداوندی سے ڈرتے رہو اور اہل ایمان پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ کریں۔
شان نزول : (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؓ اور یزید بن ابی زیاد سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نکلے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عثمان، ؓ حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ، ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ تھے، حتی کہ کعب بن اشرف اور بنی نضیر کے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ۔۔۔۔ عمومی انعامات کے بعد اب خصوصی انعام کا ذکر ہے۔ (رازی)
اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ۔۔ : جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ میں ساتھ تھے، جب رسول اللہ ﷺ واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹے۔ دوپہر کے آرام کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں بہت سے خاردار درخت تھے۔ رسول اللہ ﷺ اتر پڑے اور لوگ درختوں کے سائے کے لیے درختوں (کی تلاش) میں بکھر گئے۔ رسول اللہ ﷺ ایک کیکر کے درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس کے ساتھ لٹکا دی۔ جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 11۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم اذھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم “۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ یہ غزوہ ذات الرقاع میں اعرابی کے فعل کے سبب نازل ہوئی جب اس نے نبی مکرم ﷺ پر تلوار سونت لی تھی اور کہا تھا : اے محمد ﷺ تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ جیسا کہ سورة النساء میں گزر چکا ہے، بخاری میں ہے نبی مکرم ﷺ نے لوگوں کو بلایا وہ جمع ہوئے جب کہ وہ شخص نبی مکرم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا، آپ ﷺ نے اسے کوئی سزا نہ دی، واقدی اور ابن ابی حاتم نے ذکر کیا ہے کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا، ایک قوم نے ذکر کیا ہے کہ اس نے اپنا سردرخت کے تنے پر مارا حتی کہ مرگیا، بخاری نے…
Read the full tafseer →ایک دیہاتی کا آپ ﷺ پر تلوار اٹھانا
(1) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور امام بیہقی نے دلائل میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ ایک منزل پر اترے لوگ چھوٹے درختوں کے نیچے متفرق ہوگئے۔ ان کے نیچے سایہ لے رہے تھے۔ نبی ﷺ نے اپنا اسلحہ ایک درخت کے ساتھ لٹکا دیا ایک دیہاتی آپ کی تلوار کی طرف آیا اور اس کو لے لہرانے لگا۔ پھر وہ نبی ﷺ پر متوجہ ہو کر کہنے لگا۔ آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا اللہ۔ دیہاتی نے دو مرتبہ کہا کہ مجھ سے کون بچائے گا ؟ اور نبی ﷺ فرماتے رہے۔ اللہ (بچائے گا) پھر دیہاتی نے تلوار کو میان میں رکھ دیا۔ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو بلایا۔ اور اس دیہاتی کے طرز عمل…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوجو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَتَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ اِذْ : جب ] [ هَمَّ : ارادہ کیا ] [ قَوْمٌ: ایک قوم نے ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّبْسُطُوْٓا : وہ لوگ پھیلائیں ] [ اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف ] [ اَيْدِيَهُمْ : اپنے ہاتھوں کو ] [ فَكَفَّ : تو اس نے روکا ] [ اَيْدِيَهُمْ : ان کے ہاتھوں کو ] [ عَنْكُمْ ۚ: تم سے ] [ وَاتَّقُوا : اور تقوی کرو ] [ اللّٰهَ ۭ : اللہ کا ] [ وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ] [ فَلْيَتَوَكَّلِ : چاہیے کہ بھروسہ کریں ] [ الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن لوگ ]
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا ایک خاص واقعہ اور اللہ کی نعمت کی یاد ہانی
اسباب النزول ص 186 میں حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک شخص جس کا نام غورث تھا اس نے اپنی قوم بنی غطفان اور بنی محارب سے کہا کہ کیا میں محمد ﷺ کو قتل نہ کردوں ؟ وہ لوگ کہنے لگے کہ تو کیسے قتل کرے گا اس نے کہا کہ اچانک ایسی صورت بنا کر قتل کردوں گا کہ اس کی طرف دھیان بھی نہ جائے۔ یہ کہہ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کی گود میں آپ کی تلوار تھی۔ یہ شخص کہنے لگا اے محمد ! ﷺ کیا میں آپ کی تلوار دیکھ سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں دیکھ لے ! اس نے تلوار لے لی اور نیام سے باہر نکال لی وہ ہاتھ…
Read the full tafseer →تذکیربعض انعامات خاصہ دنیویہ۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنو۔۔۔ الی۔۔۔ المومنون۔
ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے اپنے عام احسانات کو یاد دلایا اب اس آیت میں ایک خاص دنیوی انعام کو یاد دلاتے ہیں تاکہ نعمت کو یاد کرکے دل میں منعم کی محبت اور اطاعت کا داعیہ پیدا ہو حضرت جابر سے مروی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں نبی کریم ﷺ ایک منزل میں اترے اور لوگ متفرق ہوگئے اور درختوں کے سایوں میں جا کر آرام کرنے لگے نبی ﷺ نے اپنی تلوار ایک درخت میں لٹکا دی اور لیٹ گئے اتنے میں اعرابی آیا اور تلوار اتار کر میان سے اس کو کھینچا اور آپ کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہنے لگا کہ من یمنعک منی اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا آپ نے…
Read the full tafseer →31: حکم سابق کا دوبارہ اعادہ ہے اللہ کا انعام یاد رکھو اور آمر بالقسط بنو، عدل و انصاف کی راہ پر چلو، اللہ سے کیے ہوئے تمام عہد پورے کرو اور شعائر اللہ کی بےحرمتی کرنے والوں کو بےحرمتی مت کرنے دو یہودیوں میں سے جو شعائر اللہ کی بےحرمتی کرتے ہیں تمہیں کچھ ڈر خطرہ ہو تو اس کی پرواہ نہ کرو اور اسے خاطر میں نہ لاؤ۔ اللہ سے ڈرو، اس کی نافرمانی سے بچو اور اس پر بھروسہ رکھو جس طرح اس نے ایک موقعہ پر کافروں کے حملے اور ان کی شرارت سے تمہیں محفوظ رکھا وہ اب بھی یہودیوں کی شرارت سے تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اِذْ ھَمَّ قَوْمٌ یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ربط آیات پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کا حکم دیا ہے ۔ انسانی سوسائٹی میں عہد و پیمان کو پورا کرنا بڑی قدروقیمت رکھتا ہے۔ عہد و پیمان مخلوق کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی ۔ اللہ عہد میں اس کی وحدانیت کو ماننا ، جزائے عمل پر یقین رکھنا ۔ تمام احکام کی تعمیل کرنا اور حلت و حرمت کے ان قوانین پر عمل کرنا جو اس سورة تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں محرمات نکاح اور محرمات اکل و شرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اللہ نے شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم بھی دیا ہے ۔ طہارت کے اصول بیان فرمائے ہیں ان میں ظاہری اور باطنی ہر دو قسم کی طہارت شامل ہے۔ نماز کے لیے طہارت کو شرط قرار…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَہُمْ فَكَفَّ اَيْدِيَہُمْ عَنْكُمْ 0ۚ وَاتَّقُوا اللہَ 0ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 11ۧ
نعم
النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18]
( ن ع م ) النعمۃ
اچھی حالت کو کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترکیب : وعد کا فاعل اللّٰہ۔ الذین الخ مفعول اول لہم مغفرۃ جملہ دوسرے مفعول محذوف کے قائم مقام اذھم ظرف نعمۃ اللّٰہ علیکم کا اور علی اللہ فلیتوکل سے متعلق ہے۔
تفسیر : اوامرِ الٰہی کے بجا لانے کے اسباب ذکر فرما کر دو اور سبب ذکر کرتا ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کی اطاعت و محبت پر ابھارتے اور اس کی منہیات سے باز رکھتے ہیں۔ گویا یہ جملہ کلام سابق کے لئے تتمہ ہے۔ اول سبب اطاعت و محبت کا آیندہ خیر کا امیدوار کرنا ہے کس لئے کہ احسانات سابقہ ہی پر انسان کی نظر بس نہیں کرتی بلکہ آیندہ کی بھلائی اور امید پر بہ نسبت انعام سابق کے زیادہ تر آمادہ اطاعت ہوتا ہے۔ پس اس بات کو وعد اللّٰہ الذین سے اجر عظیم تک…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ھَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَھُمْ فَکَفَّ اَیْدِیَھُمْ عَنْکُمْ ج وَاتَّقُوا اللہ َ ط وَ عَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔
(المائدہ : 11)
” اے ایمان والو ! اللہ نے جو تم پر احسان کیا ہے ‘ اسے یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کرے تو اس ( اللہ) نے ان کے ہاتھ روک دئیے ‘ اور اللہ (ہی) سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو (صرف) اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے “۔
توکل علی اللہ رکھنے والوں سے اللہ کا وعدہ
دیکھئے ! یہاں اللہ نے بار بار جس نعمت کا ذکر کیا ہے ‘ وہ ہے تکمیلِ دین کی نعمت۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نعمتوں کی یاد دہانی اور ان کی قدر شناسی کے بعد دو قسم کے انجام کا ذکر ہوا۔ اب دشمن کے مقابلہ میں تحفظ فراہم کرنے کا انعام یاد کرایا جا رہا ہے۔
علامہ ابن کثیر نے اس آیت کا شان نزول ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ رسول محترم ﷺ چند صحابہ ؓ کے ساتھ یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر کے ہاں پہنچے آپ کسی معاملہ کے بارے میں گفتگو فرمار ہے تھے۔ یہودیوں نے عمرہ بن جحش کو کہا کہ تم مکان کی چھت سے ایک بھاری پتھر نبی کے اوپر گراؤ تاکہ اس کا خاتمہ ہوجائے۔ کچھ اہل علم نے تنعیم کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار کی ایک جماعت نے صحابہ پر شب خون مارنے کی سازش کی۔…
Read the full tafseer →بنو قریظہ کی غداری :
آیت 11 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْہَمَّ قَوْمٌ (اے ایمان والو اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو جب ایک جماعت نے ارادہ کیا) روایات میں وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کے ہاں تشریف لے گئے۔ اور آپ کے ساتھ شیخین ابوبکر و عمر اور دونوں داماد علی و عثمان ؓ تھے۔ اور ان سے دو مسلمانوں کے قتل کی دیت میں مدد لیں یہ مسلمان قبیلہ بنو سلیم سے تھے۔ جو مسلمانوں کا معاہد تھا۔ اور حضرت عمرو بن امیہ الضمری سے خطاً قتل ہوئے تھے۔ انہوں نے ان کو مشرکین میں سے سمجھا تھا۔ جب یہود کے ہاں تشریف لے گئے تو یہود نے کہا ! ہاں اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت نمبر 11, 10
تفسیر : (والذین کفروا وکذبوا بایتا اولتک الجحیم) ( اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلائیں ہماری آیتیں وہ ہیں دوزخ والے)
(یایھا الذین امنوا اذکرو انعمت اللہ علیکم ) ( اے ایمان والو ! یاد رکھو احسان اللہ کے اپنے اوپر) جو تم سے دشمن کو ہٹا کر احسان کیا۔ ( اذھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم) (جب قصد کیا لوگوں نے کہ تم پر ہاتھ چلادیں) قتل کے ساتھ۔
اذھم قوم ان یبسطوا کا شان نزول اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ بطن نخل میں تھے تو بنو ثعلبہ اور بنو محارب نے ارادہ کیا کہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ جب نماز میں م شغول ہوں تو ان کو قتل کردیں گے تو اللہ…
Read the full tafseer →اگرچہ مفسرین نے چند قصہ اس آیت کی شان نزول میں بیان کئے ہیں۔ لیکن غورث بن حارث کا قصہ جس کو عبد الرزاق نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے اپنی تفسیر میں اس آیت کا شان نزول قرار دیا ہے اس کی سند معتبر ہے اور بہ نسبت اور قصوں کے اس قصہ کی اصل صحیح روایت سے ثابت ہے 2 ؎۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ بخاری نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ جنگ ذات الرقاع کے جاتے وقت ایک جنگل میں پیڑوں کے سایہ میں ہم سب لوگ ٹھہر گئے۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں میں بھی ذرا سوگیا اور لوگوں کی بھی ذرا آنکھ جھپک گئی۔ تو آنحضرت کی تلوار جو ایک پیڑ میں آپ نے لٹکا دی تھی غورث بن حارث نے چپکے سے آن کر اتنے میں اتار لی اور تلوار کو میان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انہیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں، انہی پر لوٹا دیا۔ اس لئے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کی خلاف اس…
Read the full tafseer →(آیت 6 کی بقیہ تفسیر)
46۔ چھیالیسویں بات یہ کہ آیت میں ان لوگوں کے استدلال کے لئے بھی احتمال موجود ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قول باری (فلم تجدجا ماء فتیموا) میں پانی کے ہر جز کی عدم موجودگی کا ذکر ہے اس لئے کہ ماء کے لفظ کو نکرہ کی صورت میں لایا گیا ہے۔ اس بنا پر جب پانی کا ہر جز غیر موجود ہوگا تو پھر تیمم کا جواز ہوگا اگر اسے تھوڑا سا بھی پانی مل جائے تو صرف تیمم پر اقتصاء کرنا جائز نہیں ہوگا بلکہ اعضاء بھی دھوئے گا اور باقی ماندہ اعضاء کا تیمم بھی کرے گا۔
47۔ سینتالیسویں بات یہ کہ پانی کی تلاش اور طلب کے سقوط پر بھی آیت دلالت کرتی ہے اور اس سے طلب کو واجب قرار دینے والوں کے قول کا بطلان ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →36 ایمان وسیلہ امن وامان ہے : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یاد کرو اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو جو اس نے اس وقت تم لوگوں پر فرمایا جبکہ ایک قوم نے تم پر دست درازی کی ٹھان لی تھی۔ تو اس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک لیا تھا۔ اور اس نے اپنے کرم سے تم کو ان لوگوں کے شر سے بچا لیا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو ان کے صدق ایمان کی برکت سے اللہ پاک اس دنیا میں بھی شرور وفتن سے بچاتا اور ان کی حفاظت فرماتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فلَہُ الْحَمدُ وَلَہُ الشّکرُ ۔ سو ایمان وسیلہ امن وامان ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہان میں بھی۔ اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →اللہ کی مہربانی
تشریح : یوں تو بیشمار ایسے واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ رب العزت نے ہر مشکل وقت میں غیبی امداد سے مسلمان کی مدد کی۔ یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جسے سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے خاص خاص صحابہ کو دعوت پر بلایا تھا اور خفیہ طور یہ سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے لیکن عین وقت پر اللہ کے فضل سے نبی اکرم ﷺ کو سازش کا حال معلوم ہوگیا اور آپ ﷺ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ ( تفہیم القرآن )
مطلب یہ ہے کہ جب اللہ رب العزت نے وعدہ کرلیا کہ وہ مسلمانوں کا حامی وناصر ہے اور کئی بار یہ بات ثابت بھی ہوچکی ہو تو پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 6 تا 11:
اسرار و معارف :
کفر اور آخرت کی ناکامیوں سے بچنے کے لیے پاکیزگی ضروری ہے کفر دل کی نجاست اور آلودگی کا نام ہے ہر گناہ دل کو آلودہ کردیتا ہے حتی کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب آلودگی کفر کی حد کو پہنچ جاتی ہے اب دل کی طہارت اور پکیزگی کے لیے اس کو نجاست سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بدن بھی پاک رکھا جائے اور اللہ کریم کے ساتھ عبادت کا تعلق قائم رکھا جائے ہر حال اور ہر صورت میں ، بلکہ فرائض کو چھوڑنا تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے فرائض کے ساتھ حسب ہمت نوافل اور اذکار کو شامل رکھنا چاہئے اب فرائض کی ادائیگی کے لیے جسم کا پاک ہونا شرط ہے اور اگر پاک بھی ہے تو وضو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 3 عمومی انعامات کے بیان کے بعد اب خصوصی انعامات کا ذکر ہے۔ (کبیر) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک سفر کے دوران میں غزوہ ذات الرقاع میں) آنحضرت ﷺ نے ایک جنگ میں پڑا و فرمایا صحابہ کرام ؓ سائے کی تلاش میں ادھر ادھر بکھر گئے آپ ﷺ بھی ایک درخت کے سائے میں لیٹ گئے اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔ اتنے میں ایک بدو (غورثبن حارث) آیا اور تلوار سونت کر کہنے لگا اب آپ کو مجھ سے کون بچاسکتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی آپ ﷺ نے اسے اٹھا لیا اور اس بدو سے فرمایا اب بتاو تمہیں کو ب بچائے گا وہ کہنے لگا آپ بہترین پکڑنے والے نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی…
Read the full tafseer →(5:11) ھم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم مصدر۔ باب نصر۔ اس نے ارادہ کیا۔ ہم بمعنی ارادہ غم۔ جمع ھموم۔
فکف۔ اس نے روک دیا۔ کف مصدر باب نصر۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 11
لغات القرآن : ھم، ارادہ کیا۔ ان یبسطوا (یہ کہ وہ بڑھائیں ۔ کھولیں) ۔ کف (روک دیا) ۔ یتوکل (بھروسہ کرتا ہے)
تشریح : مفسرین میں ایک جماعت کہتی ہے کہ اس آیت کا تعلق پچھلی آیات سے ہے ۔ سورة المائدہ کی آیت نمبر 6 میں خاص طور پر مشرکین مکہ کا ذکر ہے ۔ آیت نمبر 7 میں کہا گیا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم انصاف کا دامن ہی چھوڑ بیٹھو۔ فرمایا گیا کہ اللہ احسان کو یاد کرو۔ یہاں پر اللہ کے احسان سے مراد یہ ہے کہ کبھی تم انتہائی کمزور تھے ۔ اس وقت بھی مشرکین مکہ کا زور تم پر چلنے نہیں دیا ورنہ تم تباہ وبر باد ہوجاتے ۔
مفسرین کی دوسری جماعت اس آیت کا رشتہ اگلی آیت سے…
Read the full tafseer →داللہ پر بھروسہ کرنے سے بھلائی شان نزول : ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ایک منزل میں قیام فرمایا ۔ اصحاب جدا جدا درختوں کے سایہ میں آرام کرنے لگے ۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی تلوار ایک درخت میں لٹکادی ایک اعرابی موقع پاکر آیا اور چھپ کر اس نے تلوار کی اور کھینچ کر کہنے لگا اے محمد ! اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ۔ حضوع نے فرمایا :'' اللہ !'' یہ فرمانا تھا کہ فورا حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اس کے ہاتھ سے تلوار گرادی اور نبی کریم ﷺ نے تلوار اٹھا کر فرمایا کہ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا ۔ کہنے لگا : '' کوئی نہیں '' پھر کہا : '' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں '' پھر کہا '' میں گواہی دیتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →[15] یہودیوں کے ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خاص خاص صحابہ کو دعوت طعام دی تھی اور خفیہ طور پر سازش کی تھی کہ اچانک آپ پر ٹوٹ پڑیں گے اور کام تمام کردیں گے اور اس طرح اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا۔ لیکن وقت پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کو یہودیوں کے ناپاک ارادوں سے مطلع کردیا اور آپ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ یہاں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →توکل کی حیران کن قوت تاثیر :
(ف 1) مسلمان جب تک مسلمان رہیں اور خدا پر زبردست اعتماد رکھیں ، غیب سے ان کی اعانت کی جاتی ہے اور قدرت اپنے سارے انتظام کے ساتھ ان کی مدد پر کمر بستہ ہوجاتی ہے ۔
کفار نے ہمیشہ کوشش کی کہ اسلام کے چراغ ہدایت کو بجھا دے ، مگر اللہ نے اس کی روشنی کو اور زیادہ پرانوار بنا دیا ۔
بنی نضیر کے یہودیوں نے ایک دفعہ حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ اجمعین کو فریب سے مار ڈالنا چاہا ، مگر آپ پیغمبرانہ فراست سے معاملہ کی اصلیت کو پاگئے اور بچ گئے ،
مقام عسفان میں ایک دفعہ آپ ﷺ وظیفہ نماز میں مشغول تھے کہ اہل شرک کے تیور بدلے مگر اس وقت بھی تدبیر الہی نے ان کو ناکام رکھا ،
غزوہ ذات…
Read the full tafseer →ف 2 اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو جو تم پر اس وقت ہوا جب کہ کفار کے ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیا تھا اور وہ اس فکر میں تھے کہ تم کو بالکل ختم کردیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور ان کو اتنا موقع نہ دیا کہ وہ تم کو ختم کرسکیں اور دیکھو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کے حقوق نعمت کی رعایت رکھو اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہمیشہ بھروسہ کیا کریں۔ (تیسیر)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کی بعض جماعت نے نبی کریم ﷺ کو یا مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے آپ کو اور آپ کی جماعت کو محفوظ…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی کفار قریش ابتدائے اسلام میں جبکہ مسلمان ضعیف تھے۔
8۔ شروع سورت سے یہاں تک اکثر آیتوں میں اللہ نے ڈرنے کا حکم فرمایا ہے ایک جگہ لفظ خشیت سے باقی جگہ لفظ تقوی سے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو امتثال میں بہت دخل ہے چناچہ ظاہر بھی ہے۔
Read the full tafseer →ناسازگار حالات کو ساز گار بنادینا اس اللہ کا کام ہے جس کے دست قدرت میں کائنات کا نظام ہے :
59: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا ذکر کیا ہے جس میں دشمنوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ اور اہل اسلام کو مٹا دینے اور قتل و غارت کرنے کے منصوبے بنایے اور تیاریاں کیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا کر انہیں خائب و خاسر کیا جیسا کہ ارشاد ہے کہ ” جب ایک گروہ نے پورا ارادہ کرلیا تھا کہ تم پر ہاتھ بڑھائے تو اللہ نے ایسا کیا کہ اس کے ساتھ تمہارے خلاف بڑھنے سے رک گئے۔ “ اس طرح کے کئی بار ارادے دشمنوں نے کئے جن میں قریش مکہ کے ارادے جو انہوں نے ہجرت سے پہلے کئے ہجرت کے موقعہ پر کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
Commentary
The subject of the first of the three verses given above has appeared earlier in Surah al-Nis-a' in almost the same words. The only difference is that the arrangement of words there (4:135) was: كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ while, here (5:8), it has been said: كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ (be steadfast for Allah as witnesses for justice). A delicate reason for the alternation in words appearing earlier and later in these two verses has been given by Abu Ha-an in his Tafsir Al-Bahr al-Muhit a gist of which is given below.
There are…
Read the full tafseer →30. This alludes to the incident reported by Ibn 'Abbas when a group of Jews invited the Prophet (peace be on him) and a number of his close Companions to dinner. They had in fact hatched a plot to pounce upon the guests and thus undermine the very foundation of Islam. But by the grace of God the Prophet (peace be on him) came to know of the plot at the eleventh hour and did not go. Since the following section is addressed to the Children of Israel, this incident is alluded to here in order to mark the transition to a new subject.
The discourse which begins here has two purposes. The first is…
Read the full tafseer →