Explained with ayahs 12–14
عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟
اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة الْمَآىِٕدَة 31
نقیب کے معنی نگرانی اور تفتیش کرنے والے کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قبیلہ پر ایک ایک نقیب خود اسی قبیلہ سے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں بےدینی و بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ بائیبل کی کتاب گنتی میں بارہ ”سرداروں“ کا ذکر موجود ہے، مگر ان کی وہ حیثیت جو یہاں لفظ ”نقیب“ سے قرآن میں بیان کی گئی ہے، بائیبل کے بیان سے ظاہر نہیں ہوتی۔ بائیبل انہیں صرف رئیسوں اور سرداروں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور قرآن ان کی حیثیت اخلاقی و دینی نگران کار کی قرار دیتا ہے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 32
یعنی جو رسول بھی…
Read the full tafseer →اس آیت میں مسلمانوں سے عہد و میثاق لینے اور ان کے ایفاء عہد پر دنیا و آخرت میں اس کے بیش بہا نتائج کا ذکر کرنے کے بعد معاملہ کا دوسرا رخ سامنے لانے کے لئے دوسری آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ عہد و میثاق لینا صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں، بلکہ ان سے پہلے دوسری امتوں سے بھی اسی قسم کے میثاق لئے گئے تھے۔ مگر وہ اپنے عہد و میثاق میں پورے نہ اترے۔ اس لئے ان پر طرح طرح کے عذاب مسلط کئے گئے۔ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی ایک عہد لیا تھا۔ اور ان سے عہد لینے کی یہ صورت اختیار کی گئی تھی کہ پوری قوم بنی اسرائیل جو بارہ خاندانوں پر مشتمل تھی انہیں سے ہر خاندان سے ایک سردار چنا…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 12 تا 14:َ یہود و نصاری سے جو عہد لیا گیا تھا آگے اس کا ذکر فرمایا ہے اور اس عہد کو توڑ کر وہ جن نتائج سے دوچار ہوئے بالاجمال ان کی طرف بھی اشارہ ہے۔ مقصود اس سے مسلمانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ اب تم سے جو عہد لیا جارہا ہے یہ بھی اسی نوعیت کا عہد ہے اور اگر تم نے اس عہد کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو یہود و نصاری نے کیا تو تمہارے سامنے بھی وہی نتیجہ آئے گا جو ان کے سامنے آیا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۭوَقَالَ اللّٰهُ اِنِّىْ مَعَكُمْ ۭلَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيْتُمُ…
Read the full tafseer →1۔ 12 جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو وہ عہد اور میثاق پورا کرنے کی تاکید کی جو اس نے حضرت محمد ﷺ کے ذریعے سے لیا اور انہیں قیام حق اور شہادت عدل کا حکم دیا اور انہیں وہ انعامات یاد کرائے جو ان پر ظاہرا و باطنا ہوئے اور بالخصوص یہ بات کہ انہیں حق وثواب کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی تو اب اس مقام پر اس عہد کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا اور جس میں وہ ناکام رہے۔ یہ گویا بالواسطہ مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ تم بھی کہیں بنو اسرائیل کی طرح عہد ومیثاق کو پامال کرنا شروع نہ کردینا۔
2۔ 12 اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ جبابرہ سے قتال کے لیے تیار ہوئے تو انہوں نے اپنی قوم کے بارہ…
Read the full tafseer →13: بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ چنانچہ جب ان سے یہ عہد لیا گیا تو ہر قبیلے کے سردار کو اپنے قبیلے کا نگران بنایا گیا تاکہ وہ عہد کی پابندی کی نگرانی کریں۔
14: اچھے قرض یا قرض حسن کا مطلب تو وہ قرض ہے جو کوئی شخص کسی کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دے، لیکن اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی غریب کی مدد کی جائے یا کسی اور نیک کام میں پیسے خرچ کئے جائیں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 12 تا 14 ۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ دو فریقوں کے درمیان معاہدہ تھا ۔ اس معاہدے کی عبارت شرط اور جزائے شرط کے انداز میں تھی ۔ قرآن کریم نے اس معاہدے کی شرط اور اجزاء کو بعینہ نقل کیا ہے ۔ یہ اصل عبارت عہد کے حالات اور واقعہ عقد کے ذکر کے بعد دی گئی ہے ۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے 12 نمائندوں کے درمیان ہوا تھا ۔ یہ نمائندے بنی اسرائیل کے 12 قبائل کے نمائندے تھے ۔ یہ 12 قبائل حضرت یعقوب (علیہ السلام) (جن کا نام اسرائیل تھا) کے پوتے اور ان کی اولاد تھے ۔ ان نمائندوں کی تعداد 12 تھی اور اس معاہدے کی عبارت یہ تھی :
(آیت) ” ً وَقَالَ اللّہُ…
Read the full tafseer →4 یعنی کچھ امت محمدیہ ہی کی خصوصیت نہیں پہلی امتوں سے بھی عہد لئے جا چکے ہیں۔
5 بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے بارہ سردار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چن لئے تھے جن کے نام بھی مفسرین نے تورات سے نقل کئے ہیں، ان کا فرض یہ تھا کہ وہ اپنی قوم پر عہد پورا کرنے کی تاکید اور ان کے احوال کی نگرانی رکھیں۔ عجب اتفاق یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے جب " انصار " نے " لیلۃ العقبہ " میں نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تو ان میں سے بھی بارہ ہی " نقیب " نامزد ہوئے۔ ان ہی بارہ آدمیوں نے اپنی قوم کی طرف سے حضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔ جابر بن سمرہ کی ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اس امت کے متعلق جو بارہ خلفاء کی…
Read the full tafseer →اب یہاں سے بنی اسرائیل کی تاریخ کے چند واقعات آ رہے ہیں۔
آیت 12 وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ج
یعنی اے مسلمانو ! جس طرح آج تم سے یہ میثاق لیا گیا ہے اور اللہ نے تمہیں شریعت کے میثاق میں باندھ لیا ہے ‘ بالکل اسی طرح کا میثاق اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی لیا تھا۔
وَبَعَثْنَا مِنْہُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا ط۔
بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ‘ ہر قبیلے میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک نقیب مقرر کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی انصار میں بارہ نقیب فرمائے تھے ‘ نو خزرج میں سے اور تین اوس سے۔
وَقَال اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْ ط۔
میری مدد ‘ میری تائید ‘ میری نصرت…
Read the full tafseer →33 بنی اسرائیل کے بارہ نقیب اور ان کی ذمہ داریاں :۔ نقیب کے معنی ہیں نگرانی اور تفتیش کرنے والا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں موجود تھے۔ بنی اسرائیل نے جب موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فلاں پتھر پر اپنا عصا مارو تو بارہ چشمے پھوٹ پڑیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور ہر قبیلہ نے اپنا اپنا چشمہ یا پانی پینے کی جگہ پہچان لی اور اس پر قابض ہوگیا۔ انہیں بارہ قبائل میں سے ہر قبیلہ سے ایک ایک نقیب مقرر کیا گیا۔ جس کا کام یہ تھا کہ وہ لوگوں کے اخلاق و کردار کی نگرانی کرے اور انہیں بےدینی اور بداخلاقی سے…
Read the full tafseer →56 ۔ (ان کی اطاعت ووفاداری کا، ان کے پیغمبروں کے واسطے سے) ابھی تاکید اللہ پر اعتماد اور اس کے احکام کی تعمیل کی آچکی ہے، اس شہادت بنی اسرائیل کی تاریخ سے لائی جارہی ہے کہ دیکھو اس موحد قوم نے جب نافرمانی اختیار کی کیسے کیسے وبال میں پڑنے لگی۔
57 ۔ (ان کے قبیلوں کی تعداد کے مطابق) قوم اسرائیل 12 قبیلوں میں تقسیم تھی، اور ہر ہر قبیلہ کا ایک ایک سردار تھا۔ 12 سرداروں کا قرآنی عدد، توریت کے بیان کے عین مطابق ہے۔ تو ریت میں ہے کہ مصر سے نکلنے کے دوسرے برس خداوند نے موسیٰ کو خطاب کرکے فرمایا :۔ ” تو بنی اسرائیل کی ساری جماعت کا، مطابق ان کے فرقوں کے اور ان کے آبائی خاندانوں کے اسم شماری کے ساتھ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے آئندہ مذکور باتوں کے بارے میں یہ پختہ عہد لیا تھا، اور ان میں سے ہم نے بارہ نقیب مقرر کئے تھے، اس میں غیبت سے (تکلم کی جانب) التفات ہے، (بَعَثْنَا بمعنی اقمنا ہے نہ کہ بمعنی ارسلنا) ہر قبیلہ سے ایک نقیب (نگراں) کہ وہ اپنی قوم پر ایفاء عہد کی تاکید رکھے اور ان سے کہا تھا کہ میں اعانت اور نصرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں قسم ہے اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور راہ خدا میں خرچ کرکے خدا کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا، اور تم کو ایسے باغوں میں…
Read the full tafseer →ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل اور (امر فرعون سے فراغت کے بعد جب اللہ نے توریت نازل فرمائی تو) اللہ نے بنی اسرائیل سے ایک پختہ وعدہ لیا تھا۔ میثاق لینے کا قصہ سورة بقرہ میں آیت وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطور کے ذیل میں گزر چکا ہے۔
وبعثنا منہم اثنی عشر نقیبا اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار بھیجے۔ نقیب سے مراد ہے ہر خاندان کا ایک سردار جو اپنی قوم کے احوال کا نگران تھا اور سب کی طرف سے ذمہ دار تھا کہ سب لوگ حکم کی تعمیل کریں گے اور اپنے پیغمبر کے حکم کے مطابق وہ اپنی قوم کو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور برائی سے بازداشت کرتا تھا۔
وقال اللہ انی معکم اور اللہ نے فرمایا…
Read the full tafseer →(12) بنی اسرائیل سے رسول اکرم کی رسالت کے بارے میں توریت میں اقرارلیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور بارہ قاصد یا بارہ سردار مقرر کیے تھے، ہر ایک قبیلہ کے لیے ایک سردار اور ان سرداروں سے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا تھا کہ میری مدد تمہارے ساتھ ہے۔
اگر تم ان نمازوں کو جو میں نے تم پر فرض کی ہیں ادا کرتے رہو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دیتے رہو، اور جو رسول تمہارے پاس آئیں، ان کی تصدیق کرتے رہو اور بذریعہ تلوار ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرتے رہو تو میں کبیرہ کے علاوہ صغیرہ گناہوں کو بھی معاف کردوں گا اور ایسے باغات میں داخل کروں گا،…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ۔۔ : پیچھے آیت (7) میں گزرا ہے کہ مسلمانو ! اپنے آپ پر اللہ کی نعمت اور اپنے اس عہد کو یاد کرو جب تم نے سمع و طاعت کا پختہ عہد کیا تھا، اب فرمایا کہ یہ عہد صرف تم ہی سے نہیں لیا گیا بلکہ تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی اسی قسم کا عہد لیا گیا تھا، مگر انھوں نے عہد توڑ دیا اور ذلت و مسکنت کا شکار ہوئے، لہٰذا تم ان جیسے مت بنو۔ (کبیر) بنی اسرائیل کے کل بارہ قبیلے تھے، اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ان پر بارہ سردار مقرر کردیے، تاکہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھیں اور انھیں اپنے عہد پر قائم رہنے کی تلقین کرتے رہیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ نقیب…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 12۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولقد اخذاللہ میثاق بنی اسرائیل وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا “۔
اس آیت میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) ابن عطیہ نے کہا : یہ آیات اس خبر کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عہدوں کو توڑا یہ آیت تائید کرتی ہے کہ سابقہ آیت کف الایدی، بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی، اہل تاویل کا ان سرداروں کے بھیجنے کی کیفیت میں اختلاف ہے، اس بات پر تو اجماع ہے کہ النقیب سے مراد قوم کا بڑا ہے ان کے حالات سے پوری طرح باخبر ہو اور ان کے امور ومصالح کا ذمہ دار ہو، النقاب وہ عظیم شخص جو لوگوں میں اس طریقہ پر ہوتا ہے، اسی وجہ سے حضرت عمر ؓ کے بارے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت نقل کی ہے لفظ آیت ولقد اخذ اللہ میثاق نبی اسرائیل کے بارے میں فرمایا اللہ نے ان سے پکے وعدے لئے کہ وہ خالص اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں گے فرمایا لفظ آیت وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا یعنی اس طرح ہم نے ان میں سے بارہ نقیب بنائے اور ان کو ان پر اس بات کا ضامن بنایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان وعدوں پر وفا کریں گے۔ ان سے وعدہ لئے تھے۔
نبی اسرائیل کے لئے بارہ چشمے پھوٹنا
(2) عبد بن حمید ابن جریر نے مجاہد ؓ سے روایت نقل ہے کہ لفظ آیت اثنی عشر نقیبا سے مراد ہے کہ بنی اسرائیل کے ہر قبیلہ میں ایسے لوگ ہوتے جن کو موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →[ وَلَقَدْ اَخَذَ : اور بیشک لیا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ ۚ: بنی اسرائیل سے عہد ] [ وَبَعَثْنَا : اور ہم نے اٹھائے (یعنی مقرر کیے )] [ مِنْهُمُ : ان میں سے ] [ اثْنَيْ عَشَرَ : بارہ ] [ نَقِيْبًا ۭ: نقیب ] [ وَقَالَ : اور کہا ] [ اللّٰهُ؛اللہ نے ] [ اِنِّىْ : کہ میں ] [ مَعَكُمْ ۭ: تمہارے ساتھ ہوں ] [ لَىِٕنْ : بیشک اگر ] [ اَقَمْــتُمُ؛تم لوگ قائم کروگے ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَاٰتَيْتُمُ : اور پہنچاؤ گے ] [ الزَّكٰوةَ : زکوۃ کو ] [ وَاٰمَنْتُمْ : اور ایمان لاؤگے ] [ بِرُسُلِيْ : میرے رسولوں پر ] [ وَعَزَّرْتُمُوْهُمْ؛اور تقویت دوگے ان کو ] […
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل سے عہد لینا پھر ان کا عہد توڑ دینا
اس سے پہلے مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ سے عہد کیا ہے اور (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا) کہہ کر جو فرمانبرداری کرنے کی ذمہ داری لے لی ہے اس کو پورا کرو۔ ان آیات میں بنی اسرائیل سے جو عہد لیا تھا اس عہد کو پورا کرنے پر جس انعام کا وعدہ فرمایا تھا اس کا ذکر پھر اس عہد شکنی پر جو انہیں سزا ملی اس کا تذکرہ فرمایا۔ اس میں مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ عہد پورا نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوجاتی ہے ایسا نہ کرو کہ عہد شکنی کر کے اپنے اوپر وبال آنے کا ذریعہ بن جاؤ۔
اول یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ذکر عہود امم سابقہ و بدعہدی اور شان ونتیجہ آن۔
قال تعالی۔ ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ یصنعون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ ومیثاقہ۔ میں اہل اسلام کے عہد اور میثاق کا ذکر تھا اب اللہ ان عہود کا ذکر کرتے ہیں کہ جو امم سابقہ سے لیے گئے تھے اور ایفاء عہد پر ان سے تکفیر سیئات اور ادخال جنات کا وعدہ کیا گیا تھا اور جن کی خلاف ورزی پر خدا کی جانب سے ان پر قہر آیا اور طرح طرح کی بلاؤں میں مبتلا کیے گئے۔ مقصود مسلمانوں کو ڈرانا ہے کہ تم بنی اسرائیل کی طرح بدعہدی نہ کرنا مبادا کہ ان کی طرح تم کو بھی روز بد دیکھنا پڑے اور اے مسلمانوں تم یہ نہ سمجھنا کہ عہد خاص تمہیں سے لیا…
Read the full tafseer →32 ابتدائے سورت میں ایفائے عقود اور اسلام کے حدود و احکام کی پابندی کا حکم دیا اس کے بعد تحلیل و تحریم کی کچھ حدود بیان فرمائیں اور آخر میں ماننے والوں اور مذکورہ عہود پورا کرنے والوں کو اخروی بشارت اور نہ ماننے والوں اور نقص عہد کرنے والوں کو اخروی عذاب کی وعید سنائی۔ اب یہاں سے نقض عہد (عہد توڑنے) کی سزا کے دو نمونے بیان فرمائے تاکہ مسلمان ان سے عبرت حاصل کریں اور نقض عہد سے بچیں پہلے بنی اسرائیل (یہود) سے عہد لینے کا ذکر فرمایا۔ میثاق سے یہاں اللہ کی توحید کو قائم کرنے، شرک سے بچنے اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے اور اس کے احکام کی پیروی کرنے کا عہد مراد ہے اس کی طرف لَئِنْ اَقَمْتُمُ…
Read the full tafseer →ایفائے عہد
سورۃ کی پہلی آیت میں ہی ایفائے عہد کی تلقین کی گئی تھی یا یھا الذین امنوآ افوا بالعقود “ یعنی اے ایمان والو ! اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو۔ اس کے بعد دیگر آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے پابندی عہد کا حکم دیا ہے اور پھر اہل اسلام کو فرمایا کہ یہ ایفائے عہد کا قانون صرف تمہارے لیے ہی نہیں ہے بلکہ یہ قانون بنی اسرائیل پر بھی نافذ تھا اور ان کو بھی عہد و پیمان کا پابند کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” واو فو بالعھد ان العھد کان مسئولا عہد کو پورا کرو کیونکہ اس کے متعلق باز پرس ہوگی۔ ایفائے عہد انسانی سوسائٹی کی ترقی کے لیے ضروری ہے ۔ عہد و پیمان اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہو یعنی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 0ۚ وَبَعَثْنَا مِنْہُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا 0ۭ وَقَالَ اللہُ اِنِّىْ مَعَكُمْ 0ۭ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَيْتُمُ الزَّكٰوۃَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِيْ وَعَزَّرْتُمُوْہُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَلَاُدْخِلَـنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ 0ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ 12
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ترکیب : منہم نقیبا کی صفت ‘ لئن شرط لاکفرن جملہ جواب۔ فبما نقضہم ب لعنا سے متعلق ہے اور مامصدریہ ہے یحر فون جملہ مستانفہ اور ممکن ہے کہ حال ہو الا قلیلا استثناء ہے خائنۃ سے۔
تفسیر : پہلے ذکر ہوا تھا واذکروا نعمۃ اللّٰہ علیکم ومیثاقہ الذین واثقکم بہ کہ اے اہل اسلام خدا کے عہد کو یاد کرو۔ اب یہاں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ یہ عہد کچھ تم ہی سے نہیں لیا گیا تھا کہ جس کی پابندی کی تم کو تاکید کی جاتی ہے بلکہ تم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین سے بھی ایسا کیا گیا تھا۔ عادۃ اللہ یوں ہی جاری ہے اور نیز یہ بھی بتلایا جاتا ہے کہ عہد خدائی کے برخلاف کرنے سے بنی اسرائیل نے نہایت سختی اور ذلت…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَخَذَ اللہ ُ مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ج وَ بَعَثْنَا مِنْھُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا ط وَ قَالَ اللہ ُ اِنِّیْ مَعَکُمْ ط لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْھُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللہ َ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ج فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ ۔ (المائدہ : 12)
” اسی طرح اللہ نے بنی اسرائیل سے بھی ایک عہد لیا تھا اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب (نگران) اٹھائے اور اللہ نے فرمایا : بیشک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دین کے بنیادی اصول ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ انہی کا بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا۔ جس کے بڑے بڑے اصول یہ ہیں، جن کی پاسداری کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ لہٰذا یہود و نصاریٰ کو انہی پر ایمان لانا چاہیے۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کی اٹھارہ باتوں کا ذکر کیا ہے۔ ان پر عمل درآمد کروانے کے لیے کوہ طور کو ان کے
سروں پر منڈلایا گیا اور ان کے قبائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ان میں بارہ 12 نقیب مقرر کیے۔ نقیب کا معنیٰ ہے کڑی نگرانی اور دوسرے کے معاملات کو کنٹرول کرنے والا۔ ان نقباء کی تعیناتی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →آیت 12 : وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَبَعَثْنَا مِنْہُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا (اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے) نقیب اس شخص کو کہتے ہیں جو قوم کے حالات کی نگہبانی اور جانچ پڑتال کرے۔ جب بنی اسرائیل مصر میں مضبوط ہوگئے اس کے بعد کہ فرعون ہلاک ہوچکا۔ (مگر یہ بات محل نظر ہے کیونکہ بنی اسرائیل تو عرصہ دراز کے بعد مصر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سرزمین شام کے مقام اریحا کی طرف جانے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس کو تمہارے لئے رہائش وقرار کی جگہ قرار دیا ہے پس نکل کر تم ان کنعانیوں سے جہاد کرو۔ میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 12
بارہ نقیبوں کی تفصیل
تفسیر : (ولقد اخد اللہ میثاق بنی اسرائیل بوعثنا منھم اثنی عشرنقیبا) (اور لے چکا ہے اللہ عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں بارہ سردار) اور یہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو اور ان کی قوم کو مقدس زمین یعنی شام کا وارث بنائیں گے۔ اس سے پہلے وہاں کنعانی رہتے تھے جب بنی اسرائیل کے لیے ٹھکانہ مصر میں بن گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ شام کے علاقہ ریحاء کی طرف کوچ کریں یہی ارض مقدس ہے۔ اس ارض مقدس کی ایک ہزار بستیاں تھیں ہر بستی میں ایک ہزار باغ تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! میں نے اس علاقہ کو تمہارے لیے گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(12 ۔ 14) ۔ اوپر کی آیتوں میں اہل اسلام کی عہد اور اس عہد پر قائم رہنے کی تاکید کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل کتاب کی عہد شکنی اور اس کے وبال کا ذکر ہے تاکہ مسلمان اس بات سے آگاہ ہوجاویں کہ عہد شکنی بڑے وبال کی بات ہے۔ ان آیتوں میں یہود کی دو بد عہدیوں کا ذکر ہے۔ اول بدعہدی کے قصے کا حاصل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانے سے بنی اسرائیل نے ملک شام کی سکونت چھوڑ کر مصر کی سکونت اختیار کرلی تھی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کی نبوت کے زمانے میں فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ملک شام کو جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت 11
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انہیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں، انہی پر لوٹا دیا۔ اس لئے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کی خلاف اس…
Read the full tafseer →قول باری ہے (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل و بعثنا منھم اثنی عشو نقیب۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب مقرر کئے تھے) اس مقام پر نقیب سے کیا مراد ہے اس میں اختلاف ہے حسن کا قول ہے کہ اس سے ضمین یعنی کفیل اور ذمہ دار مراد ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو اپنی قوم کا نگران ہو۔
ایک قول ہے کہ لفظ نقیب نقب سے ماخوذ ہے جس کے معنی بڑے سوراخ کے ہیں۔ کسی کو نقیب القوم اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے احوال پر نظر رکھتا ہے اور ان کے پوشیدہ خیالات و امور سے مطلع رہتا ہے۔ اسی مفہوم کی بنا پر قوم کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والوں کے سردار کو نقیب کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
38 اللہ تعالیٰ کی معیت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان سے فرمایا کہ یقینا میں تم لوگوں کے ساتھ ہوں اپنے علم وقدرت اور اپنی مدد و نصرت کے اعتبار سے۔ سو اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے تو اللہ سب کے ساتھ ہے پس اس کے باوجود اس سے منہ موڑنا اور اس کے سوا اوروں کی طرف جھکنا اور جھانکنا کس قدرظلم اور بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ تو اس کی معیت عامہ ہے جو سب کے لئے عام ہے۔ جبکہ اس کی دوسری معیت معیت خاصہ ہے۔ جو اس کے خاص بندوں کے لئے ہے۔ اور جو عبارت ہے اس کی نصرت و امداد سے۔ سو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ اور ان کے اندر بارہ نقیب مقرر فرمائے اور ان سے ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل سے اللہ کا وعدہ اور نافرمانی پر سزا
تشریح : اسی سورة کی آیت نمبر 7 میں مسلمانوں کا اللہ سے عہد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب یہاں مثال بیان کرنے کے لیے بنی اسرائیل کا قصہ دوبارہ شروع کیا جارہا ہے صرف اس لیے کہ ہم مسلمانوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور اس سے کیا ہوا وعدہ یاد رکھتے ہوئے اس کے تمام احکامات پر عمل کرنا اور نیکی و پاکیزگی کی راہ پر چلنے سے ہی نجات ملے گی آخرت میں انعامات ملیں گے اور دنیا میں ترقی، کامیابی اور عزت واحترام ملے گا ورنہ یہود کی طرح ہمارا انجام دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں اور آخرت میں جہنم کا عذاب مقرر کردیا جائے گا۔ جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 12 تا 19 ۔
اسرار و معارف :
پہلی قوموں سے بھی عہد لیے گئے تھے کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ انسان کو شعور بخشا اور عقل سے نوازا۔ عقل وہ قوت ہے جو دماغ میں ہے اور جسم کی ضرورتوں کا احساس کرنا انہیں پورا کرنے کے اسباب تلاش کرنا ، اس کا کام ہے شعور وہ قوت ہے جو دل میں ہے اور جو عظمت الہی کو اپنی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت کے مطابق ہر جاندار کو دی گئی ہے جس کا استعمال ہم روز مرہ زندگی مٰں دیکھتے ہیں۔ رہا شعور و آگہی یہ صرف انسان کی صفت ہے۔ اب باقی جانداروں کی طرح اس کی عقل بھی اسے پیٹ بھرنے یا دنیا کے لذائذ سے فائدہ اٹھانے کے لیے…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی سمع وطاعت کا یہ عہد سے نہیں لیا گیا بلکہ تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی اسی قسم کا عہد لیا گیا تھا مگر انہوں عہد شکنی کی اور ذلت ومسکنت میں گرفتا رہو گئے لہذا مسلمانو تم ان جیسے نہ بنو۔ ( کبیر) بنی اسرائیل کے کل بارہ قبیلے تھے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک قبیلہ پر ایک سردار خود ہی اس قبیلہ سے مق ر کرنے کا حک دیا تھا تاکہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں اپنے وعہد پر قائم رہنے کی ہدایت کرتا رہے بعض مفسرین ؓ نے لکھا ہے کہ یہ نقباان جبارین قوم کی خبر لانے کے لیے مقرر کئے تھے جن کا ذکر آگے آرہا ہے (ابن کثیر) ظاہر الفاظ سے پہلی بات صحیح معلوم ہوتی ہے آنحضرت ﷺ نے بھی لیلہ اعقبہ میں…
Read the full tafseer →(5:12) بعثنا۔ ہم نے بھیجے۔ ہم نے مقرر کئے۔ ہم نے اٹھائے۔
نقیبا۔ اسم منصوب۔ سردار۔ قوم کی طرف سے ایفائے عہد کے ذمہ دار۔ قوم کے حالات کی تفتیش کرنے والا۔ ہر ایک کی پوچھ گچھ کرنے والا۔ نقیب اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی قوم کے صحیح حالات سے باخبر ہو۔ اور ان کی بہتری اور برتری کا ذمہ دار اور ان کے کردار پر کڑی نظر رکھنے والا ہو۔
وقال اللہ انی معکم۔ یہ خطاب نقیبوں سے ہے اس کی تقدیر یوں ہے وقال اللہ للنقباء انی معکم۔ اور بعض کے نزدیک اس کی مخاطب بنی اسرائیل کی ساری قوم ہے۔ لیکن پہلا قول صحیح ہے۔ کیونکہ ضمیر اکثر قریب ترین اسم ما سبق مذکور کی طرف راجع ہوتی ہے۔ اس کے بعد کلام کی نئے سرے سے ابتداء ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت نمبر 12-13
لغات القرآن : بعثنا (ہم نے بھیجا) اثنی (اثنین) ۔ دو ۔ (نون گرگیا) ۔ اثنی عشر (بارہ) ۔ نقیباً (نگرانی کرنے والے سردار) ۔ عزرتموھم (تم نے ان کی مدد کی) ۔ اقرضتم (تم نے قرض دیا) ۔ قرضا حسنا (قرض حسن (جس میں اپنا لالچ نہ ہو اور دوسرے کو فائدہ پہنچے) ۔ لاکفرن (میں دور کر دوں گا) ۔ سیئات (سیئۃ) برائی) ۔ ادخلن (میں ضرور داخل کروں گا) ۔ ضل (بھٹک گیا) ۔ سوآء السبیل (سیدھا راستہ) ۔ نقض (توڑنا) ۔ لعنا (ہم نے لعنت کی۔ دور کیا ہم نے) ۔ قاسیۃ (سخت) ۔ یحرفون (وہ پھیرتے ہیں (تحریف۔ جگہ سے بےجگہ کرنا۔ تبدیل کرنا) ۔ مواضع (جگہیں) ۔ نسوا (وہ بھول گئے) ۔ ذکروا (یاد دلائے گئے۔ نصیحت کئے گئے) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
یہد کی بد عہدی کا نتیجہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان کی قوم کو ارض مقدسہ کا وارث بنائے گا ۔ جس میں کنعانی جبار رہتے تھے، تو فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم الہی ہوا کہ :'' بنی اسرائیل کو ارض مقدسہ کی طرف لے جائیں ۔ میں نے اس کو تمہارے لئے دارالقرآن بنایا ہے وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں ان پر جہاد کرو میں تمہاری مدد کروں گا، اور اے موسیٰ تم اپنی قوم کے ہر ہر سبط (گروہ) میں سے ایک ایک سردار بناؤ ، اس طرح بارہ سردار مقرر کرو ان میں سے ہر ایک اپنی قوم کے حکم ماننے اور عہد وفا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[16] یعنی اللہ کی راہ میں نیک کاموں میں اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ خرچ کرتے رہے۔ یہ اللہ کی شان کریمی ہے کہ بندہ اللہ کی راہ میں جو مال خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے حالانکہ مال اللہ ہی کا دیا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں اسی حقیقت کا اعادہ ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام گروہوں سے نصرت واعانت کا وعدہ تھا بشرطیکہ وہ دین قیم کی اطاعت اختیار کریں اور ایمان وعمل کی سیدھی راہ سے بھٹک نہ جائیں ۔
حل لغات :
نقیب : صاحب اسرار سردار ، قوم میں ذمہ دار آدمی ۔
وعزرتموھم : مادہ تعزیر ، تائید کرنا ، اور قوت بازو رہنا ۔
Read the full tafseer →ف 1 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیا تھا اور ہم نے ان میں سے ان کے قائل کی تعداد کے موافق بارہ سردار یعنی بارہ آدمیوں کو ذمہ دار مقرر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تاکید کے طور پر یہ بھی فرما دیا تھا کہ دیکھو میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز کی پابندی رکھو گے اور زکوۃ ادا کرتے رہو گے اور میرے سب رسولوں پر جو آئندہ آتے رہیں گے ایمان لائو گے اور ان سب رسولوں کی مدد کرو گے اور اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہو گے تو میں یقینا تمہاری خطائیں تم سے دور کر دوں گا اور تمہارے گناہ تم سے زائل کر دوں گا اور یقینا تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے پائیں نہریں بہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ خٰر میں صرف کرنے کو مجازا قرض اس لیے فرمایا کہ جس طرح قرض لازم الادا ہوتا ہے اسی طرح اللہ اس کا بدلہ ضرور دیں گے۔
2۔ یہاں اس شخص کا حال بیان نہیں فرمایا جو کفر نہ کرے لیکن اعمال کی پوری پابندی بھی نہ کرے اور اکثر جگہ قرآن میں یہی عادت ہے کہ اطاعت میں جو کامل ہوا وہ مخالفت میں جو کامل ہو زیادہ ذکر انہیں کا ہوتا ہے وجہ یہ ہے کہ طرفین کے حلال سے بین بین کا حال عقلاء کو خود مقائسہ سے معلوم ہوجاتا ہے نہ ان کی ایسی جزاء ہوگی نہ ایسی سزا ہوگی پھر حدیثوں میں تفصیل معلوم ہوگئی۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیا تھا اور ان کے بارہ سردار چن لئے تھے :
61: اس عہد و پیمان کے ذکر کے بعد جو مسلمانوں سے لیا گیا تھا مسلمانوں کو سمجھنے کے لئے بنی اسرائیل سے لئے گئے عہد کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ اللہ کا عہد و پیمان پورا نہ کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ فرمایا کہ ان سے عہد لینے کی یہ صورت اختیار کی گئی تھی کہ پوری قوم بنی اسرائیل جو بارہ خاندانوں پر مشتمل تھی ان کے ہر خاندان سے ایک ایک سردار چنا گیا اور ہر خاندان کی طرف سے اس کے سردار نے ذمہ داری اٹھا لی کہ میں اور میرا پورا خاندان اس میثاق الٰہی کی پابندی کرے گا۔ اس طرح ان بارہ سرداروں نے…
Read the full tafseer →Commentary
In the seventh verse of Surah al-Ma'idah which appeared earlier Allah Almighty has asked Muslims to remember the pledge taken from them to which they professed belief and obedience:
وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ
And remember Allah's favour upon you and His Covenant that He has taken from you when you said, "We have listened and obeyed." And fear Allah ... (5:7)
This pledge is the pledge of obedience to Allah and His Messenger and the pledge of practical adherence to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
31. The word naqib in Arabic denotes supervisor and censor. There were twelve tribes among the Israelites and each tribe was required to appoint one of its members as a naqib, to look after their affairs and try to prevent them from becoming victims of irreligiousness and moral corruption. Although the Book of Numbers in the Bible does mention these twelve men, it does not seem to convey the sense of their being religious and moral mentors, as the term naqib employed by the Qur'an does. The Bible simply mentions them as the chiefs and dignitaries of their tribes.
32. The assurance of God's…
Read the full tafseer →