Al-Maaida 5:13

Al-Maaida · from ayah 13

5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً ۚ— یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ— وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۚ— وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۟فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّيۡثَاقَهُمۡ لَعَنّٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً‌ ۚ يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ‌ۙ وَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوۡا بِهٖۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنۡهُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So for their breaking of the covenant We cursed them and made their hearts hard. They distort words from their [proper] usages and have forgotten a portion of that of which they were reminded. And you will still observe deceit among them, except a few of them. But pardon them and overlook [their misdeeds]. Indeed, Allah loves the doers of good.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:13

پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں (پس جب یہ اِس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرمادی اور ان کے دل سخت کردیئے کہ وه کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے، ان کی ایک نہ ایک خیانت پر تجھے اطلاع ملتی ہی رہے گی ہاں تھوڑے سے ایسے نہیں بھی ہیں پس توانہیں معاف کرتا جا اور درگزر کرتا ره، بےشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر یہ ان کی عہد شکنی ہی تو تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا، اور ان کے دلوں کو سخت بنادیا۔ وہ باتوں کو اپنے موقع محل سے ہٹا دیتے ہیں۔ اور جس بات کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ بھلا چکے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر تمہیں آئے دن ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ لہذا (فی الحال) انہیں معاف کردو اور درگزر سے کام لو بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان کی کیسی بد عہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور بُھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے سوا تھوڑوں کے تو انہیں معاف کردو اور ان سے درگزرو بیشک احسان والے ا لله کو محبوب ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ان کی اپنی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی (یعنی وہ ہماری رحمت سے محروم ہوگئے)، اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا (یعنی وہ ہدایت اور اثر پذیری سے محروم ہوگئے، چنانچہ) وہ لوگ (کتابِ الٰہی کے) کلمات کو ان کے (صحیح) مقامات سے بدل دیتے ہیں اور اس (رہنمائی) کا ایک (بڑا) حصہ بھول گئے ہیں جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی، اور آپ ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے سوائے ان میں سے چند ایک کے (جو ایمان لا چکے ہیں) سو آپ انہیں معاف فرما دیجئے اور درگزر فرمائیے، بیشک اﷲ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ان کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ ہی سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا کہ وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور وہ اس میں سے ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی اور تو ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پاتا رہے گا، سوائے ان کے تھوڑے سے لوگوں کے، سو انھیں معاف کردے اور ان سے درگزر کر۔ بیشک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر چونکہ انہوں نے اپنے عہد کو توڑ ڈالا لہذا ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیئے (اب انکا حال یہ ہے کہ) کتاب اللہ کے کلمات کو ان کے موقع و محل سے بدل ڈالتے ہیں اور جو ہدایات انہیں دی گئی تھیں انکا اکثر حصہ بھول چکے ہیں۔ اور ماسوائے چند آدمیوں کے آپکو آئے دن انکی خیانتوں کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ لہذا انہیں معاف کیجئے اور ان سے درگزر کیجئے۔ اللہ تعالیٰ یقینا احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ان کے اپنے عہد کو توڑ دینے کے سبب سے ہم نے ان پر لعنت کردی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ کلام کو اس کے موقع و محل سے ہٹاتے ہیں اور جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاد دہانی کی گئی تھی اس کا ایک حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ اور تم برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہ ہوتے رہوگے۔ پس تھوڑے سے ان میں سے اس سے مستثنی ہیں۔ پس ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو۔ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس بوجہ توڑ دینے کے ان لوگوں کے اپنے عہد (وپیمان) کو، ہم نے لعنت کردی ان پر، اور سخت کردیا ان کے دلوں کو، (اب ان کا حال یہ ہے کہ) وہ بدل دیتے ہیں کلام الٰہی کو اس کے اصل موقع سے، اور انہوں نے بلا دیا ایک بڑا حصہ اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی، اور تم ہمیشہ مطلع ہوتے رہو گے ان کی کسی نہ کی خیانت (و بددیانتی) پر، بجز ان میں کے معدودے چند لوگوں کے، پس معاف کردو تم ان کو اور درگزر رہی سے کام لو ان کے بارے میں، بیشک اللہ محبت رکھتا ہے احسان کرنے والوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

غرض ان کی پیمان شکنی ہی کی بنا پر ہم نے انہیں رحمت سے دور کردیا۔ اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ کلام کو اس کے موقع ومحل سے بدل دیتے ہیں اور جو کچھ انہیں نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک (بڑا) حصہ بھلا بیٹھے ہیں۔ اور ان میں سے بجز معدودے چند کے آپ کو ان کی خیانت کی اطلاع آئے دن ہوتی رہتی ہے۔ سو آپ ان کو معاف کردیجیے اور (ان سے) درگزر کیجئے۔ بیشک اللہ نیک کاروں کو پسند کرتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس ان کے اپنے اس عہد کو توڑنے کے باعث ہم نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا وہ کلام کو اس کے اصل مقام سے ہٹاتے تھے اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا نصیحت کے طور پر اس کے اکثر حصے کو وہ بھول گئے اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمیشہ ان کی طرف سے خیانت کی اطلاع پاتے رہیں گے سوائے ان میں سے چند ایک کے لہٰذا (ابھی) آپ ﷺ انھیں معاف کرتے رہیں اور درگزر سے کام لیں یقیناً اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ان کے اپنے عہد کو توڑ ڈالنے کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کردیے۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ انہیں معاف کردو ان کی حرکتوں سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Then, for their breach of the covenant We cast them away from Our mercy and caused their hearts to harden. (And now they are in such a state that) they pervert the words from their context and thus distort their meaning, and have forgotten a good portion of the teaching they were imparted, and regarding all except a few of them you continue to learn that they committed acts of treachery. Pardon them, then, and overlook their deeds. Surely Allah loves those who do good deeds.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, because they broke their pledge, We cursed them and made their hearts hardened. They change words from their places, and they have overlooked a good deal of the Advice they were given. Every now and then you come across a certain treachery from all of them, except a few. So, forgive them and forego. Indeed, Allah loves those who are good in deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

So, because they broke their pledge, We cursed them and made their hearts hardened. They change words from their places, and they have overlooked a good deal of the Advice they were given. Every now and then you come across a certain treachery from all of them, except a few. So, forgive them and forego. Indeed, Allah loves those who are good in deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, because of their breach of their covenant, We cursed them and made their hearts grow hard. They changed the words from their (right) places and have abandoned a good part of the Message that was sent to them. And you will not cease to discover deceit in them, except a few of them. But forgive them and overlook (their misdeeds). Verily, Allah loves the doers of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And because of their breaking their covenant, We have cursed them and made hard their hearts. They change words from their context and forget a part of that whereof they were admonished. Thou wilt not cease to discover treachery from all save a few of them. But bear with them and pardon them. Lo! Allah loveth the kindly.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So for their breaking of the covenant We cursed them and made their hearts hard. They distort words from their [proper] usages and have forgotten a portion of that of which they were reminded. And you will still observe deceit among them, except a few of them. But pardon them and overlook [their misdeeds]. Indeed, Allah loves the doers of good.

— Saheeh International

For their disregard of their solemn covenant with God, We condemned the Israelites and made their hearts hard as stone. Now they displace the words of God and have forgotten their share of the guidance that they had received. Still you receive news of the treachery of all but a few of them. Forgive and ignore them. God loves the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

But on account of their breaking their covenant We cursed them and made their hearts hard; they altered the words from their places and they neglected a portion of what they were reminded of; and you shall always discover treachery in them excepting a few of them; so pardon them and turn away; surely Allah loves those who do good (to others).

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore for their breach of their bond We accursed them and We made their hearts hard. They pervert the words from the meanings thereof and have abandoned a good portion of that wherewith they were admonished. And thou wilt not cease to light upon defrauding on their part, save a few of them; yet pardon thou them and overlook them, verily Allah loveth the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

But because of their breach of their covenant, We cursed them, and made their hearts grow hard; they change the words from their (right) places and forget a good part of the message that was sent them, nor wilt thou cease to find them- barring a few - ever bent on (new) deceits: but forgive them, and overlook (their misdeeds): for Allah loveth those who are kind.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–14

عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–13

سورة الْمَآىِٕدَة 31 نقیب کے معنی نگرانی اور تفتیش کرنے والے کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قبیلہ پر ایک ایک نقیب خود اسی قبیلہ سے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں بےدینی و بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ بائیبل کی کتاب گنتی میں بارہ ”سرداروں“ کا ذکر موجود ہے، مگر ان کی وہ حیثیت جو یہاں لفظ ”نقیب“ سے قرآن میں بیان کی گئی ہے، بائیبل کے بیان سے ظاہر نہیں ہوتی۔ بائیبل انہیں صرف رئیسوں اور سرداروں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور قرآن ان کی حیثیت اخلاقی و دینی نگران کار کی قرار دیتا ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 32 یعنی جو رسول بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (لیکن بنی اسرائیل نے عہد مذکورہ کو توڑا ڈالا، اور توڑنے کے بعد طرح طرح کے عقوبات میں جیسے مسخ اور ذلت وغیرہ گرفتار ہوئے۔ پس یہ جو ان کو عنایت و الطاف الہیہ سے بعد ہوا) تو صرف ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت (یعنی اس کے آثار) سے دور کردیا (اور یہی حقیقت ہے لعنت کی) اور (اسی لعنت کے آثار سے یہ ہے کہ) ہم نے ان کے قلوب کو سخت کردیا (کہ حق بات کا ان پر اثر ہی نہیں ہوتا اور اس سخت دلی کے آثار سے یہ ہے کہ) وہ لوگ (یعنی ان میں کے علماء) کلام (الہٰی یعنی توریت) کو اس کے (الفاظ یا مطالب کے) مواقع سے بدلتے ہیں (یعنی تحریف لفظی یا تحریک معنوی کرتے ہیں) اور (اس تحریف کا اثر یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔ یہود کی عہد شکنی کے نتائج : یہود پر لعنت، ان کی قسوت اور ان کی تحریفات پر تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر میں گفتگو ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ معاہدہ کر کے اس کو جس درجے کی عزت و سرفرازی بخشتا ہے، معاہدہ توڑ دینے کی صورت میں وہ اس کو اسی درجے کی ذلت کے ساتھ دھتکار بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یعنی اتنے انتظامات عہد موعید کے باوجود بنو اسرائیل نے عہد شکنی کی کہ جس کی بنا پر کہ وہ لعنت الٰہی کے موجب بنے، اس لعنت کے دینوی نتائج یہ سامنے آئے کہ ایک، ان کے دل سخت کردیئے گئے جس سے ان کے دل اثر پزیری سے محروم ہوگئے اور انبیاء کے وعظ و نصیحت ان کے لیے بےکار ہوگئے، دوسرے یہ کہ وہ کلمات الٰہی میں تحریف کرنے لگ گئے۔ اسی طرح اپنی بدعلت، خود ساختہ مزعومات اور اپنے تاویلات باطلہ کے اثبات کے لیے کلام الٰہی میں تحریف کر ڈالتے ہیں۔ 13۔ 2 یہ تیسرا نتیجہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنے میں انہیں کوئی رغبت اور دلچسپی نہیں رہی بلکہ بےعملی اور بدعملی ان کا شعار بن گئی اور وہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: یعنی اس قسم کی شرارتیں تو ان کی پرانی عادت ہے ؛ لیکن آپ کو فی الحال سارے بنی اسرائیل کو کوئی اجتماعی سزا دینے کا حکم نہیں ہے جب وقت آئے گا اللہ تعالیٰ خود سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” فَبِمَا نَقْضِہِم مِّیْثَاقَہُمْ لَعنَّاہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَہُمْ قَاسِیَۃً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہِ وَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ ۔ ” پھر یہ انکو اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور انکے دل کو سخت کردیا ، اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ۔ جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں ‘ ‘ اللہ کا فرمان کس قدر سچا ہے ۔ آج بھی یہودیوں کی خصوصیات یہی ہیں ۔ یہ وہ لعنت ہے جو ان کے ماتھے سے ہو ہر وقت عیاں ہے ۔ اس سے ان کی اصل فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 " لَـــعْـــن " کے معنی طرد و ابعاد کے ہیں۔ یعنی عہد شکنی اور غداری کی وجہ سے ہم نے اپنی رحمت سے انہیں دور پھینک دیا۔ اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ ) 5 ۔ المائدہ :13) کے لفظ سے ظاہر فرما دیا کہ ان کے ملعون اور سنگدل ہونے کا سبب عہد شکنی اور بےوفائی ہے جو خود انہی کا فعل ہے۔ اسباب پر مسبب کا مرتب کرنا چونکہ خدا ہی کا کام تھا اس لحاظ سے ( وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ) 5 ۔ المائدہ :13) کی نسبت اسی کی طرف کی گئی۔ 13 یعنی خدا کے کلام میں تحریف کرتے ہیں کبھی اس کے الفاظ میں، کبھی معنی میں، کبھی تلاوت میں۔ تحریف کی یہ سب اقسام قرآن کریم اور کتب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ لَعَنّٰہُمْ میں نے سورة النساء آیت 155 میں لَعَنّٰہُمْ محذوف قرار دیا تھا ‘ لیکن یہاں پر یہ واضح ہو کر آگیا ہے کہ ہم نے ان کے اس میثاق کو توڑنے کی پاداش میں ان پر لعنت فرمائی۔ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ قٰسِیَۃًج ۔ جیسے سورة البقرہ آیت 74 میں فرمایا : ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس کے بعد ‘ پتھروں کی طرح بلکہ پتھروں سے بھی بڑھ کر سخت۔ یہاں پر وہی بات دہرائی گئی ہے۔ یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ لا ‘ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ ج اور انہوں نے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 بنی اسرائیل کی اپنے عہد کی ایک ایک شق کی خلاف ورزی :۔ بنی اسرائیل نے اپنے اس مضبوط عہد کی چنداں پروا نہ کی۔ قیام صلٰوۃ اور ایتائے زکوٰۃ میں غفلت برتی۔ زکوٰۃ کے بجائے بخل کی راہ اختیار کی اور قرضہ حسنہ دینے کی بجائے سود خوری اور حرام خوری شروع کردی۔ اللہ کے رسولوں پر ایمان لانا تو درکنار، جی بھر کر ان کی مخالفت کی اور بعض انبیاء کو ناحق قتل بھی کرتے رہے غرض یہ کہ اس عہد کی ایک ایک شق کو توڑنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی جس کے عوض ہم نے ان پر لعنت کی اور انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا اور دوسری سزا یہ دی کہ ان کے دل سخت بنا دیئے جس کی وجہ سے ایک تو راہ حق قبول کرنے سے قاصر ہوگئے دوسرے آپس میں الفت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

61 ۔ چناچہ خود توریت بنی اسرائیل کی مسلسل نافرمانی، عہد شکنی اور ملعونیت کی داستان سے لبریز ہے۔ (آیت) ” فبما نقضھم “۔ ب سببیہ ہے۔ اورنے یہ صاف کردیا کہ یہ ساری فہمائشیں بیکار گئیں۔ اور بنی اسرائیل خود اپنے عہدہ واقرار کے توڑنے پر تل گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ روز بہ روز لعنت الہی میں گرفتار ہوتے گئے۔ لعنت کے مفہوم یعنی رحمت الہی سے محرومی پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ لعناھم ای طردنا ھم وابعد نا ھم من الرحمۃ قالہ عطاء والزجاز (بحر) (آیت) ” بما “۔ میں ما نے معنی تاکید کے پیدا کردیئے ہیں۔ مازائدۃ للتوکید عن قتادۃ وسائر اھل العلم وذلک انھا موکد الکلام بمعنی تمکنہ فی النفس من جھۃ حسن النظم ومن جھۃ تکثیرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 12–19

آیت نمبر 12 تا 19 ترجمہ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے آئندہ مذکور باتوں کے بارے میں یہ پختہ عہد لیا تھا، اور ان میں سے ہم نے بارہ نقیب مقرر کئے تھے، اس میں غیبت سے (تکلم کی جانب) التفات ہے، (بَعَثْنَا بمعنی اقمنا ہے نہ کہ بمعنی ارسلنا) ہر قبیلہ سے ایک نقیب (نگراں) کہ وہ اپنی قوم پر ایفاء عہد کی تاکید رکھے اور ان سے کہا تھا کہ میں اعانت اور نصرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں قسم ہے اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور راہ خدا میں خرچ کرکے خدا کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا، اور تم کو ایسے باغوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبما نقضہم میثاقہم لعنہم پھر ان کے مضبوط عہد کو توڑ دینے کے سبب سے ہی ہم نے ان پر لعنت بھیج دی۔ مازائد ہے جو عظمت نقض عہد کو ظاہر کر رہا ہے۔ لعنت سے عطاء کے نزدیک رحمت سے خارج کر دینامراد ہے اور حسن و مقاتل کے نزدیک صورتیں مسخ کردینا۔ بعض علماء کے نزدیک جزیہ مقرر کرنا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ چونکہ نصاریٰ نے محمد ﷺ کی تکذیب کی اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور رسول اللہ ﷺ اور بعض دوسرے انبیاء کو سچا نہ مانا اور اللہ کی کتابوں کو پس پشت پھینک دیا اور فرائض الٰہیہ سے منہ موڑا اس لئے ہم نے بھی ان پر لعنت بھیج دی۔ وجعلنا قلوبہم قاسیۃ اور ان کے دلوں کو سخت کردیا کہ نہ اللہ کے ذکر سے ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) عہد شکنی کرنے والوں کی سزا کا ذکر فرماتے ہیں کہ ہم نے اس عہد شکنی کی بنا پر ان پر جزیہ کی سزا مسلط کردی اور ان کے کے دلوں کو اتنا سخت کردیا کہ ان میں نور ایمان ہی نہ رہا۔ چناچہ رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت اور آیت رجم کا توریت میں ذکر ہونے کے باوجود وہ اس میں تبدیلی کرنے لگے اور توریت میں رسول اکرم ﷺ کی پیروی اور نعت وصفت کے اظہار کا جو حکم دیا گیا تھا اس حصہ کو بالکل بھلا دیا گیا۔ اے نبی کریم ﷺ یہ بنی قریظہ والے آپ ﷺ کے ساتھ جو خیانت کرتے اور آپ کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں اس کی آپ ﷺ کو اطلاع ہوتی رہتی ہے، ماسوا عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں کے آپ ﷺ ان سے درگزر کیجیے اور کسی قسم کی کوئی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ۔۔ : یعنی انھوں نے اپنے عہد و میثاق کی پاس داری کے بجائے سمع و طاعت کا وہ عہد توڑ دیا، نماز کو ضائع کرنا شروع کردیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔ (دیکھیے مریم : 59) زکوٰۃ اور قرض حسنہ (صدقہ وغیرہ) کے بجائے بخل اور کمینگی کی انتہا کو پہنچ گئے اور سود لینا شروع کردیا، رسولوں اور ان کی کتابوں پر ایمان لانے۔ بنی إسرائیل : 107 اور جہاد کے ساتھ انھیں قوت دینے کے بجائے کتابوں میں تحریف کی اور جہاد میں جانے ہی سے صاف انکار کردیا، تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کردیا، جس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں میں نفاق بھر گیا۔ ”قَسِیَّۃٌ“ یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 12۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبما نقضھم میثاقھم “۔ یعنی ان کے عہد کو توڑنے کی وجہ سے، ماتاکید کے لیے زائدہ ہے، یہ قتادہ اور تمام اہل علم سے مروی ہے یہ کلام کو مؤکد کرتا ہے اس معنی سے کہ حسن نظم کی جہت سے نفس میں معنی راسخ ہوجاتا ہے، اور کثرت کی جہت سے تاکید کے لیے ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : لشی مایسودمن یسود : پس تاکید علامت موضوعہ کے ساتھ تکریر کے ساتھ تاکید کی طرح ہے۔ (آیت) ” لعنھم “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم نے انہیں جزیہ کے ساتھ عذاب دیا، حسن اور مقاتل نے کہا : ہم نے مسخ کے ساتھ انہیں عذاب دیا، عطا نے کہا : اس کا معنی ہے ہم نے انہیں دور کردیا، اللعن کا معنی رحمت سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فبما نقضھم میثاقھم سے وہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تورات والوں سے لیا لیکن انہوں نے اس کو توڑ دیا۔ (2) امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا شعبہ نے لفظ آیت فما نقضھم کے بارے میں فرمایا یعنی ان کو توڑنے کی وجہ سے (وعدہ کو ) (3) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے لفظ آیت فبما نقضھم میثاقھم لعنھم کے بارے میں فرمایا کہ وعدہ توڑنے سے بچو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس میں وعید اور وعدہ کو ذکر فرمایا اور اس کو قرآن میں سے کئی آیتوں میں ذکر فرمایا بطور مقدمہ کے بطور نصیحت کے اور بطور حجت کے اور یہ بات مسلم ہے سمجھ والوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَبِمَا نَقْضِهِمْ : پس بسبب اس کے جو ان کا توڑنا ہے ] [ مِّيْثَاقَهُمْ : اپنے عہد کو ] [ لَعَنّٰهُمْ : ہم نے لعنت کی ان پر ] [ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنادیا ] [ قُلُوْبَهُمْ : ان کے دلوں کو ] [ قٰسِـيَةً ۚ: سخت ہونے والا ] [ يُحَرِّفُوْنَ : وہ لوگ پھیرتے ہیں ] [ الْكَلِمَ : کلاموں کو ] [ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ: ان کے رکھنے کی جگہوں سے ] [ وَنَسُوْا : اور انہوں نے بھلادیا ] [ حَظًّا : ایک حصہ ] [ مِّمَّا : اس میں سے ] [ ذُكِّرُوْا : ان کو نصیحت کی گئی ] [ بِهٖ ۚ: جس سے ] [ وَلَا تَزَالُ : اور ہمیشہ ] [ تَطَّلِعُ : آپ آگاہ ہوں گے ] [ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ : کسی بڑے وعدہ خلاف پر ] [ مِّنْهُمْ؛ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بنی اسرائیل کی عہد شکنی کا وبال : پھر بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور اس کے وبال کا تذکرہ فرمایا (فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً ) یعنی چونکہ انہوں نے عہد کو توڑ دیا اس لئے ہم نے ان پر لعنت کردی یعنی اپنی رحمت سے دور کردیا اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا جن میں حق ماننے اور حق کی طرف متوجہ ہونے اور حق قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی، اس ملعونیت اور قساوت قلب کی وجہ سے وہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب بھی کرتے تھے اور انہیں قتل بھی کرتے تھے، اپنی اسی عادت کے مطابق انہوں نے خاتم النبیین ( علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی اور یہ جانتے ہوئے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–14

ذکر عہود امم سابقہ و بدعہدی اور شان ونتیجہ آن۔ قال تعالی۔ ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ یصنعون۔ آیت۔ ربط) ابتداء سورت یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ ومیثاقہ۔ میں اہل اسلام کے عہد اور میثاق کا ذکر تھا اب اللہ ان عہود کا ذکر کرتے ہیں کہ جو امم سابقہ سے لیے گئے تھے اور ایفاء عہد پر ان سے تکفیر سیئات اور ادخال جنات کا وعدہ کیا گیا تھا اور جن کی خلاف ورزی پر خدا کی جانب سے ان پر قہر آیا اور طرح طرح کی بلاؤں میں مبتلا کیے گئے۔ مقصود مسلمانوں کو ڈرانا ہے کہ تم بنی اسرائیل کی طرح بدعہدی نہ کرنا مبادا کہ ان کی طرح تم کو بھی روز بد دیکھنا پڑے اور اے مسلمانوں تم یہ نہ سمجھنا کہ عہد خاص تمہیں سے لیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

36 اس سے پہلے نقضو محذوف ہے ای فنقضوا عہد اللہ من بعد میثاقہ۔ یعنی یہود نے اللہ سے پختہ عہد کرنیکے بعد اسے توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے محض نقض عہد کیوجہ سے ان کو حسب ذیل سزائیں دیں۔ لعَنّٰھُمْ ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر کے ذلیل و خوار کردیا۔ وَجَعلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً اور ان کے دلوں سخت کردیا یہاں تک کہ ان سے قبول حق کی استعداد سلب کرلی کہ وہ حق بات کے لیے نرم نہ ہوسکیں۔ یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعہٖ ۔ یہ ما قبل کے لیے صفت کا شفہ ہے استئناف لبیان مرتبۃ قساوۃ قلوبھم فانہ لا مرتبۃ اعظم ما ینشا عنہ الاجتراء علی تحریف کلام رب العلمین والافتراء علیہ عز و جل (روح ج 6 ص 89) ان کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–14

ربط آیات ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایفائے عہد کی تلقین کی تھی وافو بالعقود اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عہد صرف تمہیں سے نہیں لیا گیا بلکہ تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیے گئے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے توسط سے ان میں سے بارہ نقیب مقرر کیے گئے بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں کے لیے ایک ایک نقیب تھا جو اپنے قبیلے کی نگرانی اور حفاظت کا ذمہ دار تھا۔ اللہ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میری مدد تمہارے ساتھ ہوگی اگر تم نماز قائم کرتے رہو کے زکوۃ ادا کرتے رہو گے رسولوں پر ایمان لائو گے اور ان کی تاکید کرتے رہو گے۔ پھر اللہ کو قرض حسن دو گے یعنی محتاجوں پر خرچ کرتے رہو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّيْثَاقَہُمْ لَعَنّٰہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ قٰسِـيَۃً۝ 0ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ۝ 0ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِہٖ۝ 0ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَاۗىِٕنَۃٍ مِّنْہُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْہُمْ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاصْفَحْ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 13 نقض النَّقْضُ : انْتِثَارُ العَقْدِ مِنَ البِنَاءِ والحَبْلِ ، والعِقْدِ ، وهو ضِدُّ الإِبْرَامِ ، يقال : نَقَضْتُ البِنَاءَ والحَبْلَ والعِقْدَ ، وقد انْتَقَضَ انْتِقَاضاً ، والنِّقْضُ المَنْقُوضُ ، وذلک في الشِّعْر أكثرُ ، والنَّقْضُ كَذَلِكَ ، وذلک في البِنَاء أكثرُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–13

ترکیب : منہم نقیبا کی صفت ‘ لئن شرط لاکفرن جملہ جواب۔ فبما نقضہم ب لعنا سے متعلق ہے اور مامصدریہ ہے یحر فون جملہ مستانفہ اور ممکن ہے کہ حال ہو الا قلیلا استثناء ہے خائنۃ سے۔ تفسیر : پہلے ذکر ہوا تھا واذکروا نعمۃ اللّٰہ علیکم ومیثاقہ الذین واثقکم بہ کہ اے اہل اسلام خدا کے عہد کو یاد کرو۔ اب یہاں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ یہ عہد کچھ تم ہی سے نہیں لیا گیا تھا کہ جس کی پابندی کی تم کو تاکید کی جاتی ہے بلکہ تم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین سے بھی ایسا کیا گیا تھا۔ عادۃ اللہ یوں ہی جاری ہے اور نیز یہ بھی بتلایا جاتا ہے کہ عہد خدائی کے برخلاف کرنے سے بنی اسرائیل نے نہایت سختی اور ذلت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً ج یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ لا وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ ج وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خآئِنَۃٍ مِّنْھُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْھُمْ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاصْفَحْ ط اِنَّ اللہ َ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 13) ” ان کی عہد شکنی کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ لوگ کلام کو اس کے مواقع سے بدلتے ہیں۔ اور انھوں نے اس نصیحت کا بیشتر حصہ بھلا دیا ہے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی۔ آپ ﷺ کو ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہی ہوتی رہے گی۔ مگر (ان میں) تھوڑے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بار بار عہد لینے، اور بارہ نگران مقرر کرنے کے باوجود بنی اسرائیل کو جو نہی کچھ ڈھیل حاصل ہوتی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی ایک ایک شق کو نہ صرف ٹھکراتے بلکہ اس کے مفہوم کو بدل دیتے یہاں تک کہ الفاظ بھی تبدیل کرکے ہر نصیحت اور سرزنش کو فراموش کردیتے۔ جس کا بنیادی سبب ان کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر پڑنے والی لعنت اور پھٹکار تھی۔ لعنت کا معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور اور محروم ہونا ہے۔ جو شخص یا قوم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوجائے ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ جس کے سبب اپنے آپ کو بدلنے کی بجائے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بدلنے کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ (پس ان کے وعدہ توڑ دینے کی وجہ سے) ما زائدہ ہے۔ معاملے کی عظمت کو بڑھانے کے لئے لایا گیا۔ لَعَنّٰہُمْ (ہم نے انکو ہانک دیا اور اپنی رحمت سے نکال دیا) یا ہم نے اسکو مسخ کردیا یا ان پر جزیہ مقرر کردیا۔ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ قٰسِیَۃً (اور ہم نے انکے دلوں کو سخت کردیا) قاسیہ کا مطلب ہے ایسے سخت جن میں ذرا رحمت نہ تھی۔ اور نہ نرمی پائی جاتی تھی۔ قراءت : حمزہ اور علی نے اس کو قسیَّۃ پڑھا ہے۔ اس کا معنی ردی ہے۔ جیسا کہتے ہیں درہم قسی۔ ردی درہم۔ دِلوں کی قساوت : یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ (وہ کلمات کو ان کے مقام سے بدلتے ہیں) یعنی ان کی تفسیر اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 13–14

آیت نمبر 14, 13 تفسیر :(فیما نقضھم) (سو ان کے توڑنے پر) ان کے توڑنے کی وجہ سے اور ماصلہ ہے ( میثاقھم ) ( اپنے عہد کو) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ انہوں نے کئی طرح سے عہد کو توڑا اس لیے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تمام رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے بھیجے ہوئے انبیاء کو قتل کیا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل چھوڑ دیا اور اس کے فرائض کو ضائع کردیا (لعناھم) (ہم نے ان پر لعنت کی) عطاء (رح) فرماتے ہیں لعنت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ حسن اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کو شکلیں مسخ کرکے عذاب دیا۔ (وجعلنا قلوبھم قاسیۃ) ( اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–14

(12 ۔ 14) ۔ اوپر کی آیتوں میں اہل اسلام کی عہد اور اس عہد پر قائم رہنے کی تاکید کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل کتاب کی عہد شکنی اور اس کے وبال کا ذکر ہے تاکہ مسلمان اس بات سے آگاہ ہوجاویں کہ عہد شکنی بڑے وبال کی بات ہے۔ ان آیتوں میں یہود کی دو بد عہدیوں کا ذکر ہے۔ اول بدعہدی کے قصے کا حاصل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانے سے بنی اسرائیل نے ملک شام کی سکونت چھوڑ کر مصر کی سکونت اختیار کرلی تھی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کی نبوت کے زمانے میں فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ملک شام کو جائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 13 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا پھر اس میثاق اور عہد کا صوف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انہوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل) ” اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔ “ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا (وبعثنا منھم اثنی عشر نقیباً ) ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کردیئے جو ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (یحرفون الکلم عن مواضعہ اور ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں) وہ دو طرح سے کلام اللہ کی تحریف کرتے تھے۔ ایک تو غلط تاویل کر کے اور غلط مفہوم لے کر اور دوسری الفاظ میں الٹ پھیر کر کے، جو چیز کلام یا کتاب کی صورت میں لوگوں کے اندر عام ہوجانے اور لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائے اس کے الفاظ میں الٹ پھیرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ ایسی بات پر تمام لوگوں کا متفق ہوجانا ممتنع ہوتا ہے۔ لیکن جس کتاب کی لوگوں کے درمیان اشاعت نہ ہوئی ہو بلکہ اس کا علم صرف ایک خاص طبقے تک محدود ہو جس سے الٹ پھیر اور تغیر و تبدل متوقع بھی ہو اس صورت میں ایسی کتاب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

38 اللہ تعالیٰ کی معیت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان سے فرمایا کہ یقینا میں تم لوگوں کے ساتھ ہوں اپنے علم وقدرت اور اپنی مدد و نصرت کے اعتبار سے۔ سو اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے تو اللہ سب کے ساتھ ہے پس اس کے باوجود اس سے منہ موڑنا اور اس کے سوا اوروں کی طرف جھکنا اور جھانکنا کس قدرظلم اور بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ تو اس کی معیت عامہ ہے جو سب کے لئے عام ہے۔ جبکہ اس کی دوسری معیت معیت خاصہ ہے۔ جو اس کے خاص بندوں کے لئے ہے۔ اور جو عبارت ہے اس کی نصرت و امداد سے۔ سو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ اور ان کے اندر بارہ نقیب مقرر فرمائے اور ان سے ارشاد فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

بنی اسرائیل کے لیے عذاب تشریح : اس آیت میں یہود کی بری حالت اور نا لائقی کی مثال دی جارہی ہے۔ کہ وہ لوگ اپنی تمام نعمتوں، برکتوں اور فضیلتوں کو بالکل بھول گئے ہیں اس لیے اللہ نے ان پر لعنت بھیج دی، یعنی اپنی رحمتوں کا نزول بند کردیا ہے مسلمانوں کو ان سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کے الفاظ بدل دیے، کہیں ان کے مطلب بدل دیے غرض ہر نیکی کے کام سے دور ہوگئے ہیں، اس لیے ان کے دل نیکی سے بالکل خالی ہوچکے ہیں کبھی بھی ان کے دلوں میں نرمی، تقوٰی اور انصاف کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ یہ اسی طرح ہے کہ جب انسان ایک برا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر (نفس یا دل) اس کو بار بار کہتا ہے کہ یہ برا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–19

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 12 تا 19 ۔ اسرار و معارف : پہلی قوموں سے بھی عہد لیے گئے تھے کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ انسان کو شعور بخشا اور عقل سے نوازا۔ عقل وہ قوت ہے جو دماغ میں ہے اور جسم کی ضرورتوں کا احساس کرنا انہیں پورا کرنے کے اسباب تلاش کرنا ، اس کا کام ہے شعور وہ قوت ہے جو دل میں ہے اور جو عظمت الہی کو اپنی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت کے مطابق ہر جاندار کو دی گئی ہے جس کا استعمال ہم روز مرہ زندگی مٰں دیکھتے ہیں۔ رہا شعور و آگہی یہ صرف انسان کی صفت ہے۔ اب باقی جانداروں کی طرح اس کی عقل بھی اسے پیٹ بھرنے یا دنیا کے لذائذ سے فائدہ اٹھانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو گے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اس کا کئی گنا بدلہ عنایت فرمائے گا اس لیے قرآن کی متعدد آیات میں اس مال خرچ کرنے کو قرض کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یہ خطاب یا تو بنی اسرائیل سے ہے اور یا اس کے مخاطب صرف نقبا ہیں (کبیر)2 یعنی ان کے دلوں میں نفاق بھر گیا ہے قسیتہ یا قا سیتہ اصل میں اس سکے کو کہتے ہیں جس میں ملاوٹ ہو، یہ قسوۃ سے جس کے معنی شدت اوسختی کے ہیں خالص سونا اور چاندی نرم ہوتے ہیں اور جتنی ان میں ملاوٹ زیادہ ہو اتنا ہی وہ زیادہ سخت ہوجاتے ہیں اس تشبیہ کی رعایت سے ان کے دلوں کو جن میں نفاق بھرا ہوتا ہے قاسیتہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:13) فبما میں ب سببیہ ہے اور ما الفظا زائد اور معنا کلام میں قوت و زور پیدا کرنے کے لئے ہے۔ نقضہم ان کا (عہد شکنی کرنا) نقض مصدر۔ نقض ینقض (نصر) توڑ دینا۔ لعنھم۔ ماضی جمع متکلم ۔ ھم ضمیر مفو ول جمع مذکر غائب لعن مصدر (باب فتح) ہم نے لعنت کی ہم نے رحمت سے دور کردیا۔ اللعن الابعاد من الرحمۃ۔ لعنت رحمت سے دور کرنے کو کہتے ہیں۔ قسیۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ سخت سل۔ سنگدل۔ ایسے کو ایمان کے لئے نرم نہیں پڑتے۔ حائنۃ اس کی مندرجہ ذیل ہوسکتی ہیں (1) یہ مصدر ہے بمعنی خیانت ، دغاء ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ تمہیں متواتران کی طرف سے خیانت کے ارتکاب کی اطلاد ہتی رہیگی (2) یہ اسم فاعل ہے اصل میں خائن تھا۔ ۃ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–13

آیت نمبر 12-13 لغات القرآن : بعثنا (ہم نے بھیجا) اثنی (اثنین) ۔ دو ۔ (نون گرگیا) ۔ اثنی عشر (بارہ) ۔ نقیباً (نگرانی کرنے والے سردار) ۔ عزرتموھم (تم نے ان کی مدد کی) ۔ اقرضتم (تم نے قرض دیا) ۔ قرضا حسنا (قرض حسن (جس میں اپنا لالچ نہ ہو اور دوسرے کو فائدہ پہنچے) ۔ لاکفرن (میں دور کر دوں گا) ۔ سیئات (سیئۃ) برائی) ۔ ادخلن (میں ضرور داخل کروں گا) ۔ ضل (بھٹک گیا) ۔ سوآء السبیل (سیدھا راستہ) ۔ نقض (توڑنا) ۔ لعنا (ہم نے لعنت کی۔ دور کیا ہم نے) ۔ قاسیۃ (سخت) ۔ یحرفون (وہ پھیرتے ہیں (تحریف۔ جگہ سے بےجگہ کرنا۔ تبدیل کرنا) ۔ مواضع (جگہیں) ۔ نسوا (وہ بھول گئے) ۔ ذکروا (یاد دلائے گئے۔ نصیحت کئے گئے) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–14

یہد کی بد عہدی کا نتیجہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان کی قوم کو ارض مقدسہ کا وارث بنائے گا ۔ جس میں کنعانی جبار رہتے تھے، تو فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم الہی ہوا کہ :'' بنی اسرائیل کو ارض مقدسہ کی طرف لے جائیں ۔ میں نے اس کو تمہارے لئے دارالقرآن بنایا ہے وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں ان پر جہاد کرو میں تمہاری مدد کروں گا، اور اے موسیٰ تم اپنی قوم کے ہر ہر سبط (گروہ) میں سے ایک ایک سردار بناؤ ، اس طرح بارہ سردار مقرر کرو ان میں سے ہر ایک اپنی قوم کے حکم ماننے اور عہد وفا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–13

[16] یعنی اللہ کی راہ میں نیک کاموں میں اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ خرچ کرتے رہے۔ یہ اللہ کی شان کریمی ہے کہ بندہ اللہ کی راہ میں جو مال خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے حالانکہ مال اللہ ہی کا دیا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) یہودیوں کے مسلسل تمردوطغیان کی وجہ سے دلوں میں بےحسی اور مداہنت کے جذبات پیدا ہوگئے جنہیں قرآن (آیت) ” وجعلنا قلوبھم قاسیۃ “۔ کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے احباء وعلماء نے بےدریغ تورات وصحف انبیاء کو بدلنا شروع کیا اور کوشش کی کہ احکام ونواہی کو حسب اغراض ڈھال لیا جائے (آیت) ” لا تزال تطلع علی خآئنۃ “ کے معنی یہ ہیں کہ عہد نبوی ﷺ میں ایسے لوگ موجود تھے جو دیانت داری کے ساتھ تورات میں خیانت کا ارتکاب کرتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اس دین کی عظیم خدمت بجا لا رہے ہیں ۔ (آیت) ” فاعف عنھم واصفح “ ۔ سے مراد یہ ہے کہ محمد ﷺ چونکہ پیکر عفو ورحم ہیں ، اس لئے باوجود ان کی غداریوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 ان بنی اسرائیل نے اس عد مذکور کو توڑ ڈالا پھر ان لوگوں کے اس اپنے عہد کو توڑ دینے اور ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ان کے دلوں کو سخت کردیا اور اس سنگدلی کا اثر یہ ہے کہ یہ لوگ کلام الٰہی یعنی توریت کو اس کے حقیقی مواقع سے بدل دیتے ہیں یعنی کبھی الفاظ اور کبھی مطلب بدلتے رہتے ہیں اور اس تحریف کا اثر یہ ہے کہ جو نصیحت ان کو توریت میں کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ یہ لوگ فراموش کر بیٹھے اور بھول چکے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے سوائے چند آدمیوں کے جو مسلمان ہوچکے ہیں۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کو روز مرہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ لگتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی تحریف لفظی یاتحریف معنوی کرتے ہیں۔ 4۔ نئی خیانت یہ کہ ایک بار مثلا رجم کے حکم کو چھپالیا ایک بار نبی ﷺ کے دریافت فرمانے پر تورات کا ایک مضموں غلط بیان کردیا جس پر آیت لاتحسبن الذین نازل ہوئی تھی اور جیسے تحریم طیبات کے قدیم ہونے کا ایک بار غلط دعوی کیا تھا جس پر شروع پارہ لن تنالوا میں آیت قل فاتو بالتوراة نازل ہوئی۔ اور تمام تر وہ غلط بیانیاں جن کی حکایت مع ان کے ابطال کے قرآن مجید میں جابجا مذکور ہے اس میں داخل ہیں جیسے لن تمسناالنار اور لن یدخل الجنةالخ اور نحن ابناء اللہ واحباوہ و مثال ذالک۔ 5۔ اوپر یہود کا ذکر تھا آگے کچھ نصاری کا حال بیان فرما رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل اللہ کی رحمت کی جگہ اللہ کی لعنت کے مستحق کیوں ہوئے ؟ : 66: زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل سے جو عہد و مثیاق لیا گیا تھا اس کی انہوں نے اپنی بدبختی کے باعث مطلاق پروانہ کی اور ہدایت الٰہی پر مطلق کان دھرا جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوگئے اور اللہ کی رحمت سے دوری ہی کا نام لعنت الٰہی کا مستحق ہونا ہے ۔ قرآن کریم نے باربار بنی اسرائیل کے انعامات کا ذکر بھی کیا ہے اور اللہ کی رحمت سے دوری کا بھی ، کیوں ؟ اس کی لعنت کا باعث کیا ہے ؟ پھر یہ بھی کہ ایک قدم ہدایات الٰہی کے مطابق عمل کر کے انعامات الٰہی کا مستحق اور ہدایات الٰہی سے بغاوت کر کے اس کی لعنت کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The first verse is telling us that Bani Isra'il were heedless to clear instructions given to them. Then, they broke the pledge for which they were punished. There were two kinds of punishment which visited Bani Isra'il because of their misdeeds and contumacy: 1. Manifest and perceptible, like the hail of stones and rocks or the overturning of land mass, which find mention in several verses of the Qur'an. 2. Intellectual and spiritual, as if their very minds and hearts were transformed in punishment for their contumacy which made them incapable of thinking and feeling and they went…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

31. The word naqib in Arabic denotes supervisor and censor. There were twelve tribes among the Israelites and each tribe was required to appoint one of its members as a naqib, to look after their affairs and try to prevent them from becoming victims of irreligiousness and moral corruption. Although the Book of Numbers in the Bible does mention these twelve men, it does not seem to convey the sense of their being religious and moral mentors, as the term naqib employed by the Qur'an does. The Bible simply mentions them as the chiefs and dignitaries of their tribes. 32. The assurance of God's…

Read the full tafseer →