Explained with ayahs 12–14
عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟
اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 36
لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ ”نصاریٰ“ کا لفظ ”ناصرہ“ سے ماخوذ ہے جو مسیح ؑ کا وطن تھا۔ دراصل اس کا ماخذ ”نصرت“ ہے، اور اس کی بنا وہ قول ہے جو مسیح ؑ کے سوال مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللہِ (خدا کی راہ میں کون لوگ میرے مددگار ہیں ؟) کے جواب میں حواریوں نے کہا تھا کہ نَحْنُ اَنْصَار اللہِ (ہم اللہ کے کام میں مددگار ہیں)۔ عیسائی مصنفین کو بالعموم محض ظاہری مشابہت دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کہ مسیحیت کی ابتدائی تاریخ میں ناصریہ (Nazarenes) کے نام سے جو ایک فرقہ پایا جاتا تھا، اور جنہیں حقارت کے ساتھ ناصری اور ایبونی کہا جاتا تھا، انہی کے نام کو قرآن نے تمام عیسائیوں کے لیے استعمال…
Read the full tafseer →(آیت) وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ۔ اس آیت سے پہلی آیت میں یہود کی عہد شکنی اور عذاب کا ذکر تھا، اس آیت میں کچھ نصاریٰ کا حال بیان فرمایا ہے۔
عیسائی فرقوں میں باہمی عداوت
اس آیت میں حق تعالیٰ نے عیسائیوں کی عہد شکنی کی یہ سزا بیان کی ہے کہ ان کے آپس میں افتراق اور بغض و عداوت ڈال دیا گیا جو قیامت تک چلتا رہے گا۔
اس پر آج کل کے عیسائیوں کے حالات سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ تو سب باہم متحد نظر آتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہ حال ان لوگوں کا بیان کیا گیا ہے جو واقعی عیسائی ہیں۔ اور عیسائی مذہب کے پابند ہیں اور جو خود اپنے مذہب کو بھی چھوڑ کر دہریئے بن گئے۔ وہ…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۠ فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ۔
نصاری کی عہد شکنی کے نتائج : یہود کے نقض عہد کے بعد اب یہ نصاری کے نقض عہد کا ذکر ہورہا ہے اور ان کے ذکر کی تمہید ہی اس انداز سے ٹھائی ہے جس سے متشرح ہورہا ہے کہ یہ نصاری قرآن کے نزدیک نصاری نہیں بلکہ صرف نصاری ہونے کے مدعی ہیں۔ چناچہ واقعہ یہی ہے کہ پال کے متبعین کو نہ صرف یہ کہ اصل نصرانیت سے کوئی علاقہ نہیں ہے بلکہ انہوں نے تو اپنا نام بھی…
Read the full tafseer →14۔ 1 نصاری نصرۃ مدد سے ہے یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے سوال من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین میں کون میرا مددگار ہے ؟ کے جواب میں ان کے چند مخلص پیروکاروں نے جواب دیا تھا (نحن انصار اللہ) ہم اللہ کے مددگار ہیں اسی سے ماخوذ ہے۔ یہ بھی یہود کی طرح اہل کتاب ہیں۔ ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے عہد لیا، لیکن انہوں نے بھی اس کی پرواہ نہیں کی، اس کے نتیجے میں ان کے دل بھی اثر پزیری سے خالی اور ان کے کردار کھوکھلے ہوگئے۔
14۔ 2 یہ عہد الٰہی سے انحراف اور بےعملی کی وہ سزا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قیامت تک کے لئے مسلط کردی گئی۔ چناچہ عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں جو ایک دوسرے سے شدید نفرت وعناد رکھتے ہیں اور ایک…
Read the full tafseer →16: عیسائی مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے تھے اور ان کے مذہبی اختلافات نے دشمنی اور خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلی تھی یہ اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَی أَخَذْنَا مِیْثَاقَہُمْ فَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ فَأَغْرَیْْنَا بَیْْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَسَوْفَ یُنَبِّئُہُمُ اللّہُ بِمَا کَانُواْ یَصْنَعُونَ (14)
” اسی طرح ہم نے ان لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے فراموش کردیا ۔ آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کیلئے دشمنی اور آپس میں بغض وعناد کا بیج بو دیا اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ یہ دنیا میں کیا کیا بناتے رہے ہیں ۔ ‘
یہاں…
Read the full tafseer →5 " نصاریٰ " کا ماخذ یا تو " نصر " ہے جس کے معنی مدد کرنے کے ہیں اور " ناصرہ " کی طرف نسبت ہے جو ملک شام میں اس بستی کا نام ہے جہاں حضرت مسیح (علیہ السلام) رہے تھے۔ اسی لئے ان کو " مسیح ناصری " کہتے ہیں۔ جو لوگ اپنے کو " نصاریٰ " کہتے تھے وہ گویا اس بات کے مدعی تھے کہ ہم خدا کے سچے دین اور پیغمبروں کے حامی و ناصر اور حضرت مسیح ناصری کے متبع ہیں اس زبانی دعوے اور لقبی تفاخر کے باوجود دین کے معاملہ میں جو رویہ تھا وہ آگے ذکر کیا گیا ہے۔
6 یعنی یہود کی طرح ان سے بھی عہد لیا گیا لیکن یہ بھی عہد شکنی اور بےوفائی میں اپنے پیشرو وں سے کچھ کم نہیں رہے۔ انہوں نے بھی ان بیش بہا نصائح سے جن پر نجات و…
Read the full tafseer →آیت 14 وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّا نَصٰرآی اَخَذْنَا مِیْثَاقَہُمْ فَنَسُوْاحَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ
وہ اس نصیحت سے فائدہ اٹھانا بھول گئے۔
فَاَغْرَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط ‘
یہاں ایک اہم نکتہ تو یہ ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان پورے انیس سو برس شدید دشمنی رہی ہے۔ موجودہ دور میں صورت حال عارضی طور پر کچھ تبدیل ہوگئی ہے۔ عیسائی جنھیں اللہ کا بیٹا بلکہ خدا سمجھتے ہیں ‘ یہودیوں نے انہیں ولد الزنا قرار دیا اور کافر و مرتد کہتے ہوئے واجب القتل ٹھہرایا۔ یہ بنیادی اختلاف دونوں مذاہب کے پیروکاروں میں اس قدر اہم اور شدید ہے کہ اس کی…
Read the full tafseer →40 نصاریٰ سے بھی اسی قسم کا پختہ عہد لیا گیا تھا تو انہوں نے بھی وہی کچھ کیا جو یہود نے کیا تھا۔ انہوں نے بھی کتاب اللہ سے ہدایت حاصل کرنا چھوڑ دیا اور فلسفیانہ اور راہبانہ قسم کی موشگافیوں میں لگ گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگے اور مستقل طور پر ان میں منافرت اور دشمنی کا بیج پرورش پانے لگا۔ پھر اسی پر ہی معاملہ ختم نہ ہوا بلکہ نصاریٰ اور یہود میں مستقل طور پر عداوت اور دشمنی چل نکلی۔ اور جہاں کہیں نصاریٰ کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے یہودیوں پر جی بھر کر ظلم ڈھائے اور ان کی یہ دشمنی تاقیامت جاری رہے گی۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں تحریف ہوچکی…
Read the full tafseer →67 ۔ (ویسا ہی عہد جس کا ذکر ابھی بنی اسرائیلی کے سلسلہ میں اوپر آچکا ہے) (آیت) ” قالوا انا نصری “۔ انداز بیان کی احتیاط ملاحظہ ہو۔ یہ ارشاد نہیں ہوا کہ ہم نے نصاری سے عہد لیا بلکہ یہ ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے نصاری کہتے ہیں، ان سے ہم نے عہد لیا ، (آیت) ” نصری “۔ نصرانی کی جمع ہے۔ اور اس لفظ پر حاشیے پ 1 میں گزر چکے۔ زیر (آیت) ” وقالت النصری لیست الیھود “ الخ۔
68 ۔ (اور اسی بھلائے ہوئے بڑے حصہ میں توحید الہی بھی شامل ہے اور تصدیق رسالت محمدی ﷺ بھی) یہ قرآن کا ایک عجیب معجزہ ہے، کہ آج جو صحیفے انجیلوں کے نام سے مسیحی ہاتھوں میں موجود ہیں، صدگونہ تحریفات کے بعد بشارات محمدی ان میں اب تک باقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے آئندہ مذکور باتوں کے بارے میں یہ پختہ عہد لیا تھا، اور ان میں سے ہم نے بارہ نقیب مقرر کئے تھے، اس میں غیبت سے (تکلم کی جانب) التفات ہے، (بَعَثْنَا بمعنی اقمنا ہے نہ کہ بمعنی ارسلنا) ہر قبیلہ سے ایک نقیب (نگراں) کہ وہ اپنی قوم پر ایفاء عہد کی تاکید رکھے اور ان سے کہا تھا کہ میں اعانت اور نصرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں قسم ہے اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور راہ خدا میں خرچ کرکے خدا کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا، اور تم کو ایسے باغوں میں…
Read the full tafseer →ومن الذین قالوا انا نصری اخذنا میثاقہم اور بعض لوگوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے (بھی) میثاق لیا تھا یعنی انجیل میں اور عیسیٰ کی زبانی ہم نے نصاریٰ کا میثاق (پختہ وعدہ) لیا تھا کہ انجیل جو توریت کی تصدیق کرتی ہے اور ایک آنے والے رسول کی بشارت دے رہی ہے جن کا نام محمد ﷺ ہوگا اور وہ عیسیٰ کے بعد آئیں گے تم انجیل کے اس حکم کی تعمیل کرنا۔ حسن نے کہا اس آیت سے یہ بات نکل رہی ہے کہ عیسائیوں کا لقب ” نصاریٰ “ اللہ نے نہیں رکھا بلکہ خود انہوں نے اپنے کو نصاریٰ کہا۔
اولیٰ مطلب اس طرح ہے کہ انہوں نے خود اپنے کو نصاریٰ کہا یعنی اللہ کی مدد کرنے کا دعویٰ کیا ‘ واقع میں ایسا نہیں ‘ درحقیقت اس…
Read the full tafseer →(14) نصاری نجران یہ دعوے کرتے رہتے ہیں ہم نے ان سے بھی انجیل میں عہد لیا تھا کہ رسول اکرم ﷺ کی پیروی کریں گے اور آپ کی نعت وصف کو بیان کریں گے اور اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں گے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے لیکن انہوں نے بھی جس چیز کا حاکم دیا تھا، اس میں سے ایک بڑے حصے کو فراموش کردیا۔
چناچہ ہم نے یہود اور نصاری کے درمیان یا اہل نجران کے نصاری یعنی نسطوریہ، یعقوبیہ، سرقومیہ اور ملکانیہ کے درمیان قتل وہلاکت اور دشمنی ڈال دی اور ان کی یہ مخالفت، خیانت اور عداوت ودشمنی اللہ تعالیٰ ان کو روز قیامت جتلا دیں گے۔
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى۔۔ : یعنی ”اللہ کے مدد گار“ چونکہ یہ لوگ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے نصاریٰ سے اقرار لیا، بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں سے اقرار لیا جو اپنے آپ کو ”نصاریٰ“ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح نصاریٰ سے بھی ہم نے توحید اور نبی آخر الزماں پر ایمان لانے کا عہد لیا مگر انھوں نے بھی اس عہد کو توڑ ڈالا۔ (کبیر، قرطبی)
فَاَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ : یعنی ہم نے اس وقت سے لے کر قیامت تک ان کے درمیان دشمنی اور کینہ وری بھڑکا دی، چناچہ اس وقت بھی ان میں آپس میں مذہبی عداوت پائی جاتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
آیت نمبر : 13 تا 16۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن الذین قالوا انا نصری اخذنا میثاقھم “۔ یعنی ہم نے نصاری سے توحید اور حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا، کیونکہ وہ انجیل میں مکتوب ہے۔ (آیت) ” فنسو احظا “۔ سو انہوں نے بھلا دیا بڑا حصہ اور وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا ہے یعنی جو انہیں حکم دیا گیا تھا انہوں نے اس پر عمل نہ کیا اور انہوں نے اس خواہش نفس اور تحریف کو حضرت محمد ﷺ کے انکار کا سبب بنایا (آیت) ” اخذنا میثاقھم “۔ کا معنی اس طرح ہے جیسے تیرا قول ہے : اخذت من زید ثوبہ ودرھمہ، میں نے زید سے کپڑا اور درہم لیا، یہ اخفش کا قول ہے۔ الذین “ کا مقام ” اخذنا “ کے بعد ہے اور میثاق سے…
Read the full tafseer →(1) امام عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ومن الذین قالوا انا نصری کے بارے میں فرمایا یہ لوگ ایک بستی میں تھے جس کو ناصرہ کہا جاتا تھا۔ عیسیٰ بن مریم وہاں تشریف لے جاتے تھے۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن الذین قالوا انا نصری کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک بستی تھی جس کو ناصرہ کہا جاتا تھا عیسیٰ وہاں تشریف لے گئے یہ ایسا ہی نام ہے جو خود انہوں نے اپنے لئے رکھا تھا حالانکہ ان کو اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول لفظ آیت میثاقھم فنسوا حظا مما ذکروا بہ کے بارے…
Read the full tafseer →[ وَمِنَ الَّذِيْنَ : اور ان میں وہ بھی ہیں جنھوں نے ] [ قَالُوْٓا : کہا ] [ اِنَّا : کہ ہم ] [ نَصٰرٰٓى: نصاری ہیں ] [ اَخَذْنَا : ہم نے لیا ] [ مِيْثَاقَهُمْ : ان سے عہد ] [ فَنَسُوْا : تو انھوں نے بھلا دیا ] [ حَظًّا : ایک حصہ ] [ مِّمَّا : اس میں سے ] [ ذُكِّرُوْا : ان کو نصیحت کی گئی ] [ بِهٖ ۠: جس سے ] [ فَاَغْرَيْنَا : تو ہم نے چپکا دیا ] [ بَيْنَهُمُ : ان کے مابین ] [ الْعَدَاوَةَ : عداوت کو ] [ وَالْبَغْضَاۗءَ : اور بغض کو ] [ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭ: قیامت کے دن تک ] [ وَسَوْفَ : اور عنقریب ] [ يُنَبِّئُهُمُ : جتادے گا ان کو ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِمَا : وہ جو ] [ كَانُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
نصاریٰ سے عہد لینا اور ان کا اس کو بھول جانا
ان آیات میں نصاریٰ کی طرف سے روئے سخن ہے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں ان سے بھی ہم نے پختہ عہدلیا وہ لوگ بھی عہد پر قائم نہ رہے جو کچھ انکو نصیحتیں کی گئی تھیں ان میں سے ایک بہت بڑا حصہ بھول گئے ان کے اس عہد کو توڑنے اور جو نصیحتیں کی گئی تھیں ان کے بھولنے کی وجہ سے ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض کو ڈال دیا وہ قیامت تک آپس میں دشمن رہیں گے اور ایک دوسرے سے بغض رکھیں گے۔ نصاریٰ میں متعدد فرقے تھے اور اب بھی ہیں ان میں سے بعض کا یہ کہنا تھا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے، اس طرح سے اتحاد ذاتی کے قائل تھے اور ایک فرقہ کہتا تھا کہ تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ذکر عہود امم سابقہ و بدعہدی اور شان ونتیجہ آن۔
قال تعالی۔ ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ یصنعون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ ومیثاقہ۔ میں اہل اسلام کے عہد اور میثاق کا ذکر تھا اب اللہ ان عہود کا ذکر کرتے ہیں کہ جو امم سابقہ سے لیے گئے تھے اور ایفاء عہد پر ان سے تکفیر سیئات اور ادخال جنات کا وعدہ کیا گیا تھا اور جن کی خلاف ورزی پر خدا کی جانب سے ان پر قہر آیا اور طرح طرح کی بلاؤں میں مبتلا کیے گئے۔ مقصود مسلمانوں کو ڈرانا ہے کہ تم بنی اسرائیل کی طرح بدعہدی نہ کرنا مبادا کہ ان کی طرح تم کو بھی روز بد دیکھنا پڑے اور اے مسلمانوں تم یہ نہ سمجھنا کہ عہد خاص تمہیں سے لیا…
Read the full tafseer →38 ۔ وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّا نَصٰرٰی الخ یہ نقض عہد کی سزا کا دوسرا نمونہ ہے۔ یعنی ہم نے نصاریٰ میں عہد توڑنے کی وجہ سے عداوت ڈال دی اور ان کے دلوں میں باہمی بغض پیدا کردیا۔ اگر تم بھی نقض عہد کرو گے تو تمہیں بھی ہی یہی سزا ملے گی۔ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ جس طرح بنی اسرائیل سے توحید و رسالت اور دیگر احکام کی بجا آوری کا عہد لیا تھا اسی طرح نصاریٰ سے بھی لیا مگر انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح عہد توڑا اور اللہ کے اوامر کو پامال کیا۔ آنحضرت ﷺ کی تکذیب کی حالانکہ انجیل میں آپ پر ایمان لانے کا حکم تھا اور انہوں نے یہودیوں کی طرح انجیل میں تحریف بھی کی۔ ای فی التوحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ربط آیات
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایفائے عہد کی تلقین کی تھی وافو بالعقود اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عہد صرف تمہیں سے نہیں لیا گیا بلکہ تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیے گئے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے توسط سے ان میں سے بارہ نقیب مقرر کیے گئے بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں کے لیے ایک ایک نقیب تھا جو اپنے قبیلے کی نگرانی اور حفاظت کا ذمہ دار تھا۔ اللہ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میری مدد تمہارے ساتھ ہوگی اگر تم نماز قائم کرتے رہو کے زکوۃ ادا کرتے رہو گے رسولوں پر ایمان لائو گے اور ان کی تاکید کرتے رہو گے۔ پھر اللہ کو قرض حسن دو گے یعنی محتاجوں پر خرچ کرتے رہو…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَہُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِہٖ 0۠ فَاَغْرَيْنَا بَيْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ 0ۭ وَسَوْفَ يُنَبِّئُہُمُ اللہُ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 14
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
والقَوْلُ يستعمل علی أوجه :
أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما…
Read the full tafseer →ترکیب : ومن الذین الخ اخذنا سے متعلق ہے بینھم اغرینا کا ظرف ہے۔ یبین جملہ حال ہے رسولنا سے۔ سبل السلام مفعول ثانی ہے یہدی کا من اتبع مفعول اول اور یخرجہم کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے۔ اس کا عطف یہدی پر ہے۔ ان اراد شرط فمن یملک جملہ دال برجزا۔
تفسیر : یہ بارہ نقیب جبرون تک آئے اور وہاں سے ملک کی سرسبزی اور خوبی اور وہاں کے لوگوں کی خصوصاً بنی اعناق اور عموری اور عمالیق اور حتی اور بیوسی لوگوں کی قد آوری اور بہادری دیکھ کر واپس آئے اور بنی اسرائیل کو نہایت تشویش اور خوف میں ڈال کر ڈرایا مگر کالب اور یوشع بن نون نے لوگوں کو تسلی اور خدا کی مدد کا بھروسہ دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓی اَخَذْنَا مِیْثَاقَھُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖص فَاَغْرَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط وَسَوْفَ یُنَبِّئُھُمُ اللہ ُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ۔ (المائدہ : 14)
” وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘ ہم نے ان سے بھی عہد لیا ‘ لیکن انھوں نے بھی اس کا بیشتر حصہ بھلا دیا ‘ اس کتاب سے جس سے ان کو نصیحت کی گئی تھی۔ تب ہم نے ان میں بھڑکا دی بغض اور عداوت قیامت کے دن تک کے لیے اور عنقریب اللہ ان کو بتائے گا جو کرتوت وہ کرتے رہے “۔
لفظ نصاریٰ کی تاریخ
جس طرح کا عہد و پیمان ہم سے اور یہود سے لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کے بعد عیسائیوں کے کردار کا بیان۔
اہل کتاب اور بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں لیکن کبھی کبھی اہل کتاب اور بنی اسرائیل سے مراد صرف یہودی ہوتے ہیں۔ یہ فرق متعلقہ آیات کے سیاق وسباق دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے، یہاں پہلی آیات میں یہودیوں کو مخاطب کیا گیا تھا اور اب عیسائیوں سے خطاب ہو رہا ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو عہد یہودیوں سے لیا گیا تھا وہی عہد عیسائیوں سے بھی لیا گیا۔ انجیل سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان ہے کہ میں تورات کی تکمیل اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کے لیے آیا ہوں۔ اس بنا پر یہاں فرمایا گیا…
Read the full tafseer →آیت 14 :
وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓ ا اِنَّا نَصٰرٰٓی اَخَذْنَا مِیْثَاقَہُمْ (اور بعض نصاریٰ نے کہا کہ بیشک ہم نصاری ہیں ہم نے ان سے پختہ عہد لیا) یہاں مِن، اخذنا کے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اخذنا من الذین قالوا انا نصاری میثاقہم۔ میثاق سے مراد ایمان باللہ والرسل اور افعال خیر کا عہد ہے۔ جار مجرور کو فعل سے مقدم کیا گیا ہے اور اس طرح نہیں فرمایا من النصاری کیونکہ انہوں نے یہ نام اللہ تعالیٰ کی مدد کے دعوے دار بن کرلیا تھا۔ اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نحن انصار اللہ کہا تھا پھر انہوں نے بعد میں اختلاف کیا اور یعقوبیہ ٗ نسطوریہ اور ملکانیہ۔ شیطان کے انصاری بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 14, 13
تفسیر :(فیما نقضھم) (سو ان کے توڑنے پر) ان کے توڑنے کی وجہ سے اور ماصلہ ہے ( میثاقھم ) ( اپنے عہد کو) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ انہوں نے کئی طرح سے عہد کو توڑا اس لیے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تمام رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کے بھیجے ہوئے انبیاء کو قتل کیا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل چھوڑ دیا اور اس کے فرائض کو ضائع کردیا (لعناھم) (ہم نے ان پر لعنت کی) عطاء (رح) فرماتے ہیں لعنت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ حسن اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کو شکلیں مسخ کرکے عذاب دیا۔ (وجعلنا قلوبھم قاسیۃ) ( اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(12 ۔ 14) ۔ اوپر کی آیتوں میں اہل اسلام کی عہد اور اس عہد پر قائم رہنے کی تاکید کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل کتاب کی عہد شکنی اور اس کے وبال کا ذکر ہے تاکہ مسلمان اس بات سے آگاہ ہوجاویں کہ عہد شکنی بڑے وبال کی بات ہے۔ ان آیتوں میں یہود کی دو بد عہدیوں کا ذکر ہے۔ اول بدعہدی کے قصے کا حاصل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانے سے بنی اسرائیل نے ملک شام کی سکونت چھوڑ کر مصر کی سکونت اختیار کرلی تھی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کی نبوت کے زمانے میں فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ملک شام کو جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14
یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا (ومن الذین قالوا انا نصریٰ ) ” اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں۔ “ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰ کے مددگار ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا۔ (فنسوا حظاً مما ذکروا بہ) ” پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی “ یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہوگئے (فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضآء الی یوم القیمۃ) ” پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک “ یعنی ہم نے انہیں ایک دوسرے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
نصاریٰ کی حقیقت
قول باری ہے (ومن الذین قالوا انا نصاری اخذنا میتا قھم اور ان لوگوں سے ہم نے عہد لیا تھا جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں)
حسن سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (قالوا انا نصاری) فرمایا اور یہ نہیں فرمایا کہ ” ہم نصاریٰ میں سے ہیں “ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان لوگوں نے نصرانیت کے عقائد گھڑے تھے اور اپنے آپ کو اس نام سے موسوم کیا تھا۔ یہ لوگ ان لوگوں کے طریقے پر نہیں چلتے تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں ان کی پیروی کرتے اور حواری کہلاتے تھے۔
یہی حواری حقیقت میں نصاریٰ تھے۔ شام کے ایک گائوں ناصرہ کی طرف ان کی نسبت تھی بعد میں آنے والے لوگوں نے جو درحقیقت نصرانیت کے پرستار…
Read the full tafseer →45 نصاریٰ کے عہد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان لوگوں سے بھی عہد لیا جو کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں۔ سو ان سے اس بات کا عہد لیا گیا کہ تم نے عبادت و بندگی صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی کی کرنی ہے۔ اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہرانا کہ اس کا کوئی شریک وسہیم ہے ہی نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہ کہ جو دین و شریعت حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں اس کی حفاظت و پابندی کرنا تم پر لازم ہے۔ (محاسن التاویل للعلامۃ الشامی القاسمی ) ۔ اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے بعد تمام سابقہ ادیان منسوخ ہوگئے۔ اور اب نجات کی راہ صرف دین حق اسلام سے…
Read the full tafseer →عیسا ئیوں کا حال
تشریح : مسلمانوں کو عبرت دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ یہود ونصارٰی کی مثال دے رہے ہیں۔ یہود نے بھی عہد سے منہ موڑ لیا اور نصارٰی نے بھی عہد سے منہ موڑ لیا اور اللہ کے غصہ، عذاب اور غضب کے شکار ہوئے۔ اسی طرح اگر مسلمان بھی اپنے عہد جو کہ کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کیا جاتا ہے ہٹ گئے، پھرگئے یا سست ہوگئے تو ان کا انجام بھی یہود و نصارٰی جیساہی ہوگا یہ نہ سمجھیں کہ اللہ رب العزت ان سے رعایت کریں گے یا ان کے نبی ان کو بچالیں گے یا ان کے باپ دادا ان کو بچالیں گے ہرگز نہیں۔ پہلی کتابوں میں بھی اور قرآن مجید میں بھی بار بار تاکید اور وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ تم لوگ مرجاؤ گے مٹی کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 12 تا 19 ۔
اسرار و معارف :
پہلی قوموں سے بھی عہد لیے گئے تھے کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ انسان کو شعور بخشا اور عقل سے نوازا۔ عقل وہ قوت ہے جو دماغ میں ہے اور جسم کی ضرورتوں کا احساس کرنا انہیں پورا کرنے کے اسباب تلاش کرنا ، اس کا کام ہے شعور وہ قوت ہے جو دل میں ہے اور جو عظمت الہی کو اپنی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت کے مطابق ہر جاندار کو دی گئی ہے جس کا استعمال ہم روز مرہ زندگی مٰں دیکھتے ہیں۔ رہا شعور و آگہی یہ صرف انسان کی صفت ہے۔ اب باقی جانداروں کی طرح اس کی عقل بھی اسے پیٹ بھرنے یا دنیا کے لذائذ سے فائدہ اٹھانے کے لیے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اللہ کے مددگار چونکہ یہ لوگ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے نصاری سے اقرار لیا بلکہ یہ فرمایا کہ ہم نے ان لوگوں سے اقرار لیا جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح نصاری ٰ سے بھی ہم نے توحید اور نبی آخرالزمان پر ایمان لانے کا عہد لیامگر انہوں نے بھی اس عہد کو توڑ ڈالا (کبیر، قرطبی)9 چناچہ اس وقت بھی ان میں باہم مذہبی عداوت پائی جاتی ہے اور پھر خود عیسائیوں کے بھی بہت سے فرقے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں (کبیر)10 یعنی دنیا میں اس سزا کے علاوہ آخرت میں ان کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔…
Read the full tafseer →(5:14) فاغرینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے لگا دی۔ ہم نے چسپاں کردی۔ ہم نے ڈال دی۔ اغراء سے جس کے معنی لگا دینے ۔ ڈالنے۔ رغبت دلانے اور چسپاں کرنے کے ہیں۔ مادہ غری اغری بین القوم۔ ای افسد اور اغری العداوۃ بینہم ای القی العداوۃ بینہم۔
قرطبی نے الاغراء بالشیٔ کا مطلب الالصاق من جھۃ التسلیط علیہ لکھا ہے کسی چیز کا اس طرف سے چسپاں کرنا جس طرف جوڑنے والی چیز لگی ہوئی ہو۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 14
لغات القرآن : خطا (حصہ) ۔ اغرینا (اغراء) ۔ ہم نے بھڑکا دیا۔ ڈال دیا) ۔ البغضآء (کینہ۔ نفرت۔ بغض) ۔ ینبی (وہ بتائے گا۔ خبردار کرے گا) ۔ یصنعون (وہ کرتے ہیں۔ بناتے ہیں) ۔
تشریح : یہودیوں اور عیسائیوں کا قصور ایک ہے۔ دونوں نے تحریفیں کی ہیں۔ ایک نے توریت میں اور ایک نے انجیل میں۔ چناچہ اب نہ اصلی توریت ہے نہ اصلی انجیل۔ جو نیک باتیں ان آسمانی کتابوں میں لکھی تھیں۔ اس تحریف کی وجہ سے ان کا فائدہ وہ نہ اٹھا سکے اور اس طرح سیدھی راہ سے دور بھٹک کر گمراہی میں جا پڑے ہیں۔
یہودیوں کو سزا یہ دی گئی کہ وہ ملعون ہوئے۔ ان کے دل پتھر کی طرح سخت کر دئیے گئے جو نیک باتوں کو قبول نہ کرسکے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
یہد کی بد عہدی کا نتیجہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان کی قوم کو ارض مقدسہ کا وارث بنائے گا ۔ جس میں کنعانی جبار رہتے تھے، تو فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم الہی ہوا کہ :'' بنی اسرائیل کو ارض مقدسہ کی طرف لے جائیں ۔ میں نے اس کو تمہارے لئے دارالقرآن بنایا ہے وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں ان پر جہاد کرو میں تمہاری مدد کروں گا، اور اے موسیٰ تم اپنی قوم کے ہر ہر سبط (گروہ) میں سے ایک ایک سردار بناؤ ، اس طرح بارہ سردار مقرر کرو ان میں سے ہر ایک اپنی قوم کے حکم ماننے اور عہد وفا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ حضرت…
Read the full tafseer →[17] عیسائیوں نے بھی ایمان و عمل کا عہد فراموش کردیا اور راہ راست سے بھٹک گئے۔ وہ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر فرقہ دوسرے فرقے کی دشمنی میں سرگرم ہوگیا۔ چناچہ عیسائیوں میں صدیوں تک مذہبی فرقہ آرائی قائم رہی اور جس فرقے کی بن پڑی اس نے دوسرے فرقے کو خاک و خون میں ملایا۔ اب سیاسی اور اقتصادی فرقہ آرائی ہے اور باہمی بغض و عداوت میں یہ فرقہ آرائی پچھلی فرقہ آرائی سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ عیسائیوں کی فرقہ آرائیوں سے عبرت حاصل کرتے اور فرقہ آرائی کی گمراہی سے اپنی نگہداشت کرتے لیکن افسوس کہ مسلمان بھی اس گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اغراء عداوت :
(ف 1) عیسائی بھی یہودیوں کی طرح اصل پیغام کو چھوڑ بیٹھے اور لاطائل بت پرستانہ مسائل میں الجھ گئے اور مذہب یہ قرار دیا کہ یہودیوں کی مخالفت کی جائے نتیجہ یہ ہوا کہ یہودی بھی عیسائیوں کے خلاف دل میں کینہ اور بغض رکھنے لگے ۔
قرآن کریم نے اس آویزش کا نام اغراء عداوت وبغض رکھا ہے ۔
(آیت) ” الی یوم القیمۃ “ ۔ سے مراد یہ نہیں کہ یہ دونوں قیامت تک باقی بھی رہیں گے بلکہ مدت سے کنایہ ہے کیونکہ (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “ کے ماتحت ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام کی عالم افروزروشنی ساری دنیا کو جگمگا دے گی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 3 اور ہم نے ان لوگوں سے بھی ان کا عہد لیا تھا جو یوں کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں پھر انہوں نے بھی اس نصیحت آمیز تعلیم کا ایک بہت بڑا حصہ فراموش کردیا جو ان کو دی گئی تھی اور اپنی بےعملی کے باعث ثواب کا ایک بہت بڑا حصہ فوت کر بیٹھے لہٰذا ہم نے ان کے مابین قیامت تک کے لئے باہمی دشمنی اور بغض ڈال دیا اور آگے چل کر یعنی قیامت میں اللہ تعالیٰ ان کو ان کاموں سے آگاہ کر دے گا اور ان کو جتا دے گا جو وہ کہا کرتے تھے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہود سے عہد لیا تھا اسی طرح ان لوگوں سے بھی جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں عہد لیا تھا یہ عہد انجیل کے واسطے سے یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے لیا گیا اور عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 6۔ اوپر یہود و نصاری کا الگ الگ ذکر تھا آگے دونوں کو جمع کرکے نصیحت کا خطاب فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →پہلے بنی اسرائیل کی شاخ یہود سے خطاب تھا اور اب نصاریٰ سے خطاب ہے :
72: اس سے پہلی آیت یعنی آیت نمبر 13 میں اہل کتاب کی قوم یہود کو مخاطب کیا گیا تھا اور اب نصاریٰ کی طرف کلام کا رخ پھیرا جا رہا ہے کہ نصاریٰ سے ہم نے عہد لیا تھا لیکن انہوں نے بھی یہود کی طرح اس کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور ہم نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو بد عہد قوموں کے ساتھ کرنے کا ہم اعلان کرچکے تھے اور پھر یہ بات بھی ان لوگوں کی بیان کی جا رہی ہے جو صحیح معنوں میں عیسائی تھے لیکن اپنے آپ کو عیسائی کہنے کے باوجود وہ اپنے اندر مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ بیماری بہت پرانی ہے کوئی قوم بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دی…
Read the full tafseer →From the first verse, 5:13, which dealt with the breach of trust by Jews and their punishment for it, we now move to the next verse, 5:14, which refers to Christians: وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ. In this verse, the punishment described for Christians is mutual dissension. Being for their breach of trust, this wi11 continue right upto the Last Day.
Looking at the contemporary scene, one may have doubts about Christians who seem to be united. The answer is that the present statement covers genuine Christians, observing and abiding. As for those who have moved away from their own…
Read the full tafseer →36. Some are of the opinion that the word Nasara (meaning Christians) is derived from Nasirah (Nazareth), the birth-place of the Messiah. In fact this word is not derived from Nasirah (Nazareth) but from the word nusrah, and the basis of this derivation is the question posed by the Messiah to his disciples: 'Who are my supporters (ansari) in the way of God?' In response to this they had said: 'We are the supporters (ansar) (in the way) of God.' Christian authors have been misled by the resemblance between the words Nasirah and Nasara into believing that the name of the sect founded in the…
Read the full tafseer →