Explained with ayahs 15–16
علمی بددیانت
فرماتا ہے کہ رب العلی نے اپنے عالی قدر رسول حضرت محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کر کے دوسرے مطلب بنا لئے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپالیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول ﷺ بےنقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے۔ مستدرک حاکم میں ہے " جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا " چناچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے، پھر…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 37
یعنی تمہاری بعض چوریاں اور خیانتیں کھول دیتا ہے جن کا کھولنا دین حق کو قائم کرنے لیے ناگزیر ہے، اور بعض سے چشم پوشی اختیار کرلیتا ہے جن کے کھولنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
خلاصہ تفسیر
اے اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ) تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (محمد ﷺ آئے ہیں (جن کے کمال علمی کا تو یہ حال ہے کہ) کتاب (کے مضامین) سے جن چیزوں کو تم چھپالیتے ہو، ان میں سے بہت سی باتوں کو (جن کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت ہو ظاہراً تحصیل علوم نہ فرمانے کے باوجود خالص وحی کے ذریعہ واقف ہوکر) تمہارے سامنے صاف صاف کھول دیتے ہیں اور (کمال علمی و اخلاقی کا یہ عالم ہے کہ جن چیزوں کو تم نے چھپالیا تھا ان میں سے) بہت سے امور کو (جاننے اور باخبر ہونے کے باوجود اخلاقاً ان کے اظہار سے) درگزر فرماتے ہیں (جبکہ ان کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت نہ ہو، صرف تمہاری رسوائی ہی ہوتی ہو۔ اور یہ کمال علمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آگے کا مضمون۔ آیات 15۔ 19:۔ یہود اور نصاریٰ کے لیے نجات کی راہ : آگے یہود اور نصاریٰ دونوں کو بانداز تنبیہ توجہ دلائی ہے کہ تم اللہ کے عہد کو توڑ کر اور اس کی کتابیں ضائع کرکے جس تاریکی اور جس مذہبی جنگ و جدل میں پھنس گئے ہو اس سے نکالنے اور سلامتی کی راہ پر لانے کے لیے اللہ نے تمہیں پھر روشنی دکھائی ہے اور ایک واضح کتاب بھیجی ہے۔ اب اس کتاب اور اس رسول کے بعد تمہارے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اگر اس اتمامِ حجت کے بعد بھی تم اسی تاریکی میں پڑے رہے تو یاد رکھو، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی گرفت سے باہر کوئی نہیں نکل سکتا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے :
تفسیر آیات 15 تا 16: لفظ خفاء تحریف کی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15۔ 1 یعنی انہوں نے تورات و انجیل میں جو تبدیلیاں اور تحریفات کیں، انہیں طشت ازبام کیا اور جن کو وہ چھپاتے تھے، ظاہر کیا، جیسے سزائے رجم۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
15۔ 2 نور اور کِتَابُ مُّیْن دونوں سے مراد قرآن کریم ہے، ان کے درمیان واو مغایرت مصداق نہیں مغایرت معنی کے لیے ہے اور یہ عطف تفسیری ہے جس کی واضح دلیل قرآن کریم کی اگلی آیت ہے جس میں کہا جا رہا ہے اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہدایت فرماتا ہے اگر نور اور کتاب یہ الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ (یَّھدِیبِھِمَا اللّٰہَ) ہوتے، یعنی اللہ تعالیٰ ان دونوں کے ذریعے سے ہدایت فرماتا ہے، قرآن کریم کی اس خاص آیات سے واضح ہوگیا کہ نور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
17: مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری نے یوں تو اپنی آسمانی کتابوں کی بہت سی باتوں کو چھپا رکھا تھا ؛ لیکن آنحضرت ﷺ نے صرف ان باتوں کو ظاہر فرمایا جن کی وضاحت دینی اعتبار سے ضروری تھی، بہت سی باتیں ایسی بھی تھیں جو انہوں نے چھپائی ہوئی تھیں مگر ان کے پوشیدہ رہنے سے کوئی عملی یا اعتقادی نقصان نہیں تھا اور اگر ان کو ظاہر کیا جاتا تو یہود و نصاری کی رسوائی کے سوا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا، آنحضرت ﷺ نے ایسی باتوں سے درگزر فرمایا ہے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 15 تا 19۔
اہل کتاب اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ ان کو اسلام کی طرف دعوت ایک ایسا نبی دے جو ان میں سے نہ ہو ۔ پھر یہ ان کوکب گوارا تھا کہ ان کے پاس نبی ایک ایسی امت سے آجائے جو ایک امی امت ہے اور جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو برتر اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ عالم سمجھتے تھے ۔ اس لئے کہ وہ اہل کتاب تھے اور یہ عرب امی تھے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان امیوں کو سربلند کرنا چاہا تو ان میں ایک نبی مبعوث فرمایا ‘ اے خاتم النبین اور آخری رسول قرار دیا اور اس کی رسالت کو خاتم الرسالات قرار دیا ۔ اسے تمام انسانیت کے لئے عام رسالت قرار دیا گیا ۔ اللہ نے ان ان پڑھ لوگوں کو تعلیم دی اور…
Read the full tafseer →10 یہ سب " یہود " و " نصاریٰ " کو خطاب ہے کہ وہ نبی آخر الزمان ﷺ جن کی آمد کی بشارت تمہاری کتابوں میں اس قدر تحریف ہونے پر بھی کسی نہ کسی عنوان سے موجود ہیں۔ تشریف لے آئے جن کے منہ میں خدا نے اپنا کلام ڈالا ہے اور جنہوں نے ان حقائق کی تکمیل کی جو حضرت مسیح ناتمام چھوڑ گئے تھے " تورات " و " انجیل " کی جن باتوں کو تم چھپاتے تھے اور بدل سدل کر بیان کرتے تھے ان میں ان کی سب ضروری باتیں اس نبی آخر الزمان نے ظاہر فرما دیں اور جن باتوں کی اب چنداں ضرورت نہ تھی ان سے درگزر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت 15 یٰٓاَ ہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍط قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ ۔
یہاں نور سے مراد نبی اکرم ﷺ کی شخصیت بھی ہوسکتی ہے۔ سورة النساء آیت 174 میں جو فرمایا گیا : وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا اور نازل کردیا ہے ہم نے تمہاری طرف ایک روشن نور وہاں نور سے مراد قرآن ہے ‘ اس لیے کہ حضور ﷺ کے لیے فعل اَنْزَلْنَادرست نہیں۔ لیکن یہاں زیادہ احتمال یہی ہے کہ نور سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ ہے ‘ یعنی آپ ﷺ کی روح پر نور ‘ کیونکہ آپ ﷺ کی روح اور…
Read the full tafseer →41 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے بیشمار آیات کی یا تو تاویل کر ڈالی تھی یا پھر انہیں لوگوں سے چھپایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی آیات کا علم عطا کیا ہوا تھا۔ پھر ان میں بہت سی آیات ایسی تھیں جن کا آپ نے یہود سے ذکر ہی نہیں کیا۔ کیونکہ انہیں بتانے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تھی اور جن آیات کا ذکر کیا وہ بھی بہت تھیں تھوڑی نہیں تھیں جن کا بتانا دین حق کے قیام کے لیے ناگزیر تھا۔ جیسا کہ انہوں نے رجم کی آیت کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور یہ بات درج ذیل حدیث سے صاف واضح ہے۔
یہود کا آیات اللہ کو چھپانا :۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت کو لایا گیا…
Read the full tafseer →71 ۔ (اور یہ بجائے خود ایک شہادت ہے ان کے پیغمبرانہ علم کی) مطلب یہ ہوا کہ یہ پیغمبر امی ہونے کے باوجود، توریت وانجیل کے اصل مضامین کو تمہاری کوشش اخفاء کے باوجود وحی الہی سے معلوم کرکے ظاہر کردیتے ہیں۔ (آیت) ” یاھل الکتب “۔ اب خطاب یہود ونصاری دونوں سے ہے۔
72 ۔ (اور یہ حلم وعفو بجائے خود ایک شہادت ہے ان کے پیغمبرانہ اخلاق کی) (آیت) ” یعفوا عن کثیر “۔ یہ مضامین جہنیں آپ ﷺ نظر انداز کرجاتے ہیں وہ ہیں، جن کے اظہار سے بجز مجرموں کی تفضیح کے اور کوئی شرعی غرض وابستہ نہیں، انما لم یظھرہ لانہ لا حاجۃ الی اظہارہ فی الدین (کبیر) لایبینہ اذا لم تضطر الیہ مصلحۃ دینیۃ وما فیہ احیاء الشریعۃ واماتۃ بدعۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیت نمبر 12 تا 19
ترجمہ : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے آئندہ مذکور باتوں کے بارے میں یہ پختہ عہد لیا تھا، اور ان میں سے ہم نے بارہ نقیب مقرر کئے تھے، اس میں غیبت سے (تکلم کی جانب) التفات ہے، (بَعَثْنَا بمعنی اقمنا ہے نہ کہ بمعنی ارسلنا) ہر قبیلہ سے ایک نقیب (نگراں) کہ وہ اپنی قوم پر ایفاء عہد کی تاکید رکھے اور ان سے کہا تھا کہ میں اعانت اور نصرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں قسم ہے اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی مدد کی اور راہ خدا میں خرچ کرکے خدا کو قرض حسن دیتے رہے تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا، اور تم کو ایسے باغوں میں…
Read the full tafseer →یا اہل الکتب اے حاملان کتاب یہ لفظ یہودیوں اور عیسائیوں کو شامل ہے اور لفظ کتاب چونکہ جنس ہے اس لئے اس کو واحد ذکر کیا گیا (اگرچہ یہودیوں کی کتاب جدا اور عیسائیوں کی کتاب جدا تھی)
قد جآء کم رسولنا ہمارا پیغمبر تمہارے پاس آپہنچا یعنی محمد ﷺ مبعوث ہوگئے۔
یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتاب جو کتاب کی بہت باتیں جن کو تم چھپایا کرتے تھے کھول کر تمہارے سامنے بیان کر رہا ہے یعنی توریت و انجیل کی صراحتیں جو تم چھپایا کرتے تھے مثلاً آیت رجم اور محمد ﷺ کے اوصاف کا بیان جو توریت میں مذکور تھا اور محمد ﷺ کے متعلق بشارت جو انجیل میں مذکور تھی۔ یہودی اور عیسائی پوشیدہ رکھتے تھے۔
ویعقو عن کثیر اور بہت…
Read the full tafseer →(15) اے اہل کتاب تم ہمارے رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت اور آیت رجم وغیرہ کو چھپاتے ہو حالانکہ ہم تمہارے بہت سے گناہ معاف کردیتے ہیں جو تم سے بیان نہیں کرتے۔
شان نزول : (آیت) ”یاھل الکتب قد جآئکم رسولنا“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہود کے پاس رجم کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے اور ان سے پوچھا کہ تم میں سب سے بڑا عالم کون ہے سب نے ابن صوریا کی طرف اشارہ کیا، آپ نے اس کو اس ذات کی قسم دے کر جس نے توریت کو موسیٰ ؑ پر نازل کیا اور اور کوہ طور کو ان پر اٹھایا اور ان سے تمام عہد لیے۔ (آپ ﷺ نے زنا کی سزا کے حوالے سے) پوچھا تو کہنے لگا جب زنا ہم میں زیادہ ہوتا ہے تو سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا۔۔ : یہود و نصاریٰ کے عہد توڑنے اور حق سے منہ موڑنے کا ذکر کرنے کے بعد اب ان کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ (کبیر) اس آیت میں آپ ﷺ کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ بہت سے احکام جو وہ چھپایا کرتے تھے آپ ﷺ ان کو بیان کرتے ہیں، جیسے رجم کی آیت، سبت والوں کا قصہ جن کی صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا گیا تھا، اسی طرح رسول کریم ﷺ کی صفات سے متعلق آیات، الغرض ! یہود ان تمام باتوں کو چھپایا کرتے تھے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت کو لایا گیا، جنھوں نے زنا کیا تھا، آپ ﷺ نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
آیت نمبر : 13 تا 16۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن الذین قالوا انا نصری اخذنا میثاقھم “۔ یعنی ہم نے نصاری سے توحید اور حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا، کیونکہ وہ انجیل میں مکتوب ہے۔ (آیت) ” فنسو احظا “۔ سو انہوں نے بھلا دیا بڑا حصہ اور وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا ہے یعنی جو انہیں حکم دیا گیا تھا انہوں نے اس پر عمل نہ کیا اور انہوں نے اس خواہش نفس اور تحریف کو حضرت محمد ﷺ کے انکار کا سبب بنایا (آیت) ” اخذنا میثاقھم “۔ کا معنی اس طرح ہے جیسے تیرا قول ہے : اخذت من زید ثوبہ ودرھمہ، میں نے زید سے کپڑا اور درہم لیا، یہ اخفش کا قول ہے۔ الذین “ کا مقام ” اخذنا “ کے بعد ہے اور میثاق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(1) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) نے فرمایا کہ جب سموئل بن صوریا نے یہ بتلایا کہ نبی ﷺ نے رجم کے بارے میں سچ فرمایا ہے جو ان کی کتاب میں موجود ہے اور اس نے کہا ہم اس (حکم) کو چھپاتے تھے تو وہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب اور وہ سفید رنگ کا نوجوان تھا لمبے قد کا فدک والوں میں ہے۔
توراۃ اور قرآن کریم کی مشترکہ باتیں
(2) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ پھر فرمایا لفظ آیت یبین لکم کثیرا یعنی بہت باتوں کو تمہارے لئے محمد ﷺ نے بیان فرمایا…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ : اے اہل کتاب ] [ قَدْ جَاۗءَكُمْ : آچکا ہے تمہارے پاس ] [ رَسُوْلُنَا : ہمارا رسول ] [ يُبَيِّنُ : جو واضح کرتا ہے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ كَثِيْرًا : بہت کچھ ] [ مِّمَّا : اس میں سے جو ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ] [ تُخْفُوْنَ : چھپاتے ہو ] [ مِنَ الْكِتٰبِ : کتاب میں سے ] [ وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے ] [ عَنْ كَثِيْرٍ : بہتوں سے ] [ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ : آچکا ہے تمہارے پاس ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف ) سے ] [ نُوْرٌ: ایک نور ] [ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ : اور ایک واضح کتاب ]
ت ر : (ن) فتورا ۔ تیزی کے بعد ساکن ہونا یعنی آنا یا سست پڑنا ۔ يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
نصاریٰ سے عہد لینا اور ان کا اس کو بھول جانا
ان آیات میں نصاریٰ کی طرف سے روئے سخن ہے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں ان سے بھی ہم نے پختہ عہدلیا وہ لوگ بھی عہد پر قائم نہ رہے جو کچھ انکو نصیحتیں کی گئی تھیں ان میں سے ایک بہت بڑا حصہ بھول گئے ان کے اس عہد کو توڑنے اور جو نصیحتیں کی گئی تھیں ان کے بھولنے کی وجہ سے ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض کو ڈال دیا وہ قیامت تک آپس میں دشمن رہیں گے اور ایک دوسرے سے بغض رکھیں گے۔ نصاریٰ میں متعدد فرقے تھے اور اب بھی ہیں ان میں سے بعض کا یہ کہنا تھا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے، اس طرح سے اتحاد ذاتی کے قائل تھے اور ایک فرقہ کہتا تھا کہ تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
خطاب نصیحت ماب بسوئے جمیع اہل کتاب برائے تصدیق رسالت محمد علی صاحبہا الف الف صلوۃ والف الف تحیہ۔
قال تعالی، یا اھل الکتاب۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔
ربط) گذشتہ آیات میں یہود اور نصاری کے نقض عہد کا الگ الگ ذکر تھا اب اس آیت میں یہود اور نصاری دونوں کو جمع کرکے تمام اہل کتاب سے خطاب موعظت اور نصیحت فرماتے ہیں اور نبی ﷺ پر ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں کہ اے علماء یہود اور نصاری دیکھو یہ ہمارے پیغمبر محمد رسول اللہ تمہارے پاس آگئے جن کا تمہیں انتظار تھا اور جن کی توریت اور انجیل میں بشارت دی گئی تھی اور جن کی اطاعت کا تم سے عہد لیا گیا اب وہ آگئے اور ان کی نبوت و رسالت کے براہین اور دلائل ان کے ساتھ ہیں…
Read the full tafseer →40 حصہ اول۔ مضمون ثانی۔ شرک اعتقادی یا شرک فی التصرف کی نفی۔ یَا اَھْلَ الْکِتٰبِ الخ یہاں سے پہلے حصے کے دوسرے مضمون (شرک فی التصرف کی نفی) کا بیان شروع ہوتا ہے۔ پہلے بطور تمہید اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ اہل کتاب سے یہاں یہود و نصاریٰ دونوں فریق مراد ہیں۔ اس آیت میں حضور ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے۔ اول یُبَیِّنُ لَکُمْ الخ یعنی تورات و انجیل کی بہت سی باتیں جنہیں تم چھپاتے ہو وہ انہیں کھول کر بیان کرتا ہے۔ دوم وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ اور بہت سی باتوں سے در گذر کرتا ہے یعنی جن مسائل کو تم چھپاتے ہو ان میں سے بہت سے مسائل ایسے ہیں جنہیں وہ ظاہر نہیں کرتا کیونکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ربط آیات
گذشتہ دروس میں اہل کتاب کے دونوں فرقوں کی نقض عہد کی خرابی بیان ہوچکی ہے۔ یہودیوں کے متعلق خصوصی طور پر بیان ہوچکا ہے کہ یہ لوگ توڑنے کی وجہ سے ملعون ٹھہرے اور ان کے دل سخت کردیے گیے ۔ پھر اس کے نتیجے میں انہوں نے کتاب اللہ میں تحریف کی اور دین میں بگاڑ پیدا کیا اور جو نصیحت ان کو کی گئی تھی ‘ اس کو فراموش کر بیٹھے پھر نصاری کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے بھی عہد کا پاس نہ کیا اور جو نصیحت کی گئی تھی اس کو بھول گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ا س دنیا میں ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیا گیا ‘ وہ فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور ان کے درمیان انفرادی عداوت بھی پیدا ہوگئی۔ بہرحال…
Read the full tafseer →يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُـبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ 0ۥۭ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ 15ۙ
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
اس کے بعد تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ سے خطاب کرکے فرماتا ہے قدجاء کم رسولنا الخ کہ تمہارے پاس ہمارا وہ رسول آچکا جو تم پر ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے کہ جن کو تم چھپایا کرتے تھے یعنی آنحضرت ﷺ کے ظہور کے متعلق اور نیز رجم وغیرہ احکام کے متعلق اور جن باتوں کے ظاہر کرنے میں کچھ حرج نہیں ان میں تم سے درگذر کرتا ہے یا یوں کہو کہ احکام فطرت اور ملت میں جس قدر تم نے تحریفات کر رکھی ہیں وہ سب کی اصلاح کرتا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو نور اور قرآن کو کتاب مبین بیان فرما کر یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ قرآن نے جو کچھ مذہب انبیاء میں تحریفات واقع ہوگئی تھیں سب کی اصلاح کردی ہر بات کو جس کی ضرورت تھی بیان کردیا…
Read the full tafseer →یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْجَآئَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ 5 ط قَدْ جَآئَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنُٗ ۔ (المائدہ : 15)
(اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول (محمد۔ ) آگیا ہے۔ (دیکھو ! ) وہ باتیں جو تم اپنی کتاب میں سے چھپاتے رہے ہو ‘ وہ سب باتیں وہ بیان کررہا ہے اور زیادہ تر باتوں سے درگزر کر رہا ہے۔ جان لو ! تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور کتاب مبین آگئی)
فرمایا : اے اہل کتاب ! تم نے جو کچھ اپنے دین اور اپنی کتاب کا حشر کیا سو کیا ‘ اب تمہارے پاس ایک نادر موقع ہے جو پھر کبھی نہ آئے گا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کے بعد عیسائیوں کے کردار کا بیان۔
اہل کتاب اور بنی اسرائیل سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں لیکن کبھی کبھی اہل کتاب اور بنی اسرائیل سے مراد صرف یہودی ہوتے ہیں۔ یہ فرق متعلقہ آیات کے سیاق وسباق دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے، یہاں پہلی آیات میں یہودیوں کو مخاطب کیا گیا تھا اور اب عیسائیوں سے خطاب ہو رہا ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو عہد یہودیوں سے لیا گیا تھا وہی عہد عیسائیوں سے بھی لیا گیا۔ انجیل سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان ہے کہ میں تورات کی تکمیل اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کے لیے آیا ہوں۔ اس بنا پر یہاں فرمایا گیا…
Read the full tafseer →آیت 15 : یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ (اے اہل کتاب) یہ یہود و نصاریٰ کو خطاب ہے۔ اور الکتاب جنس ہے اس لیے واحد لائے۔ قَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلُنَا (تحقیق آیا تمہارے پاس ہمارے رسول) سول سے مراد محمد ﷺ ہیں یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ (وہ کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تمہارے سامنے وہ بہت سی باتیں جو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے) جیسے رسول اللہ ﷺ کی صفات اور حکم رجم وغیرہ۔ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ (اور وہ بہت سے امور سے اعراض کرلیتا ہے) ان میں سے جن کو تم چھپالیتے ہو۔ وہ بیان نہیں کرتے یا تم میں سے بہت سے لوگوں سے درگزر کرتے ہیں مواخذہ نہیں کرتے۔
نور کی مراد :
قَدْ جَآئَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت نمبر 17, 16, 15
تفسیر :(یاھل الکتاب) ( اے کتاب والو ! ) یہاں دونوں اہل کتاب کو خطاب ہے۔ ( یاھل الکتب قد جاء کم ومولنا یبئن لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب) ( تحقیق آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے) یعنی تورات و انجیل میں جو باتیں چھپاتے ہو جیسے نبی کریم ﷺ کی صفات اور رجم کی آیت وغیرہ ۔ ( ویعفواعن کثیر) ( اور درگزر کرتا ہے بہت چیزوں سے) یعنی بہت ساری چیزیں جو تم چھپاتے ہو ان سے درگزر کرتا ہے اور کوئی مواخذہ نہیں کرتا۔ ( قدجاء کم من اللہ نور وکتب مہین) ( بیشک تمہارے پاس آئی ہے اللہ کی طرف سے روشنی) یعنی محمد ﷺ اور بعض نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(15 ۔ 16) ۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں عکرمہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے رجم کی آیت تورات میں ہے جب یہود کو بتلائی جس کو وہ چھپاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ صحیح بخاری و مسلم اور مسند امام احمد میں عبد اللہ بن عمر ؓ وغیرہ سے اس قصہ کے باب میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود بیا ہے ہوئے ایک عورت اور مرد کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے جس مرد و عورت نے بدکاری کی تھی آپ نے ان یہودیوں سے پوچھا کہ تورات میں ایسے مرد و عورت کے لئے کیا حکم ہے ان یہودیوں نے جواب دیا کہ تورات کے حکم کے موافق ہم تو ایسے مردو عورت کا کالامنہ کر کے انہیں بستی میں پھراتے ہیں آپ نے فرمایا یہ سزا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14
یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا (ومن الذین قالوا انا نصریٰ ) ” اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں۔ “ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰ کے مددگار ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا۔ (فنسوا حظاً مما ذکروا بہ) ” پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی “ یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہوگئے (فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضآء الی یوم القیمۃ) ” پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک “ یعنی ہم نے انہیں ایک دوسرے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
نصاریٰ کی حقیقت
قول باری ہے (ومن الذین قالوا انا نصاری اخذنا میتا قھم اور ان لوگوں سے ہم نے عہد لیا تھا جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں)
حسن سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (قالوا انا نصاری) فرمایا اور یہ نہیں فرمایا کہ ” ہم نصاریٰ میں سے ہیں “ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان لوگوں نے نصرانیت کے عقائد گھڑے تھے اور اپنے آپ کو اس نام سے موسوم کیا تھا۔ یہ لوگ ان لوگوں کے طریقے پر نہیں چلتے تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں ان کی پیروی کرتے اور حواری کہلاتے تھے۔
یہی حواری حقیقت میں نصاریٰ تھے۔ شام کے ایک گائوں ناصرہ کی طرف ان کی نسبت تھی بعد میں آنے والے لوگوں نے جو درحقیقت نصرانیت کے پرستار…
Read the full tafseer →47 اہل کتاب کے جرم کتمان کی پردہ دری کا ذکر وبیان : ۔ سو اہل کتاب کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یقینا آ چکے ہیں تمہارے پاس ہمارے رسول جو کھول کر بیان کرتے ہیں خود تمہاری کتاب کی بہت سی ان باتوں کو جو تم لوگ چھپاتی تھے۔ سو اہل کتاب کے اخفا کردہ حقائق کو بیان کرنا نبی اکرم ﷺ کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ مثلاً رجم کا حکم، عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی حضرت نبی آخر الزمان سے متعلق بشارت اور دوسری پیشگوئیاں۔ (صفوۃ، محاسن، مراغی اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو یہ آنحضرت ﷺ کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے کہ آپ ﷺ نے باوجود اس کے نہ کبھی تورات و انجیل کو کسی سے سیکھا پڑھا، ان کے ان مخفی گوشوں کو اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
قرآن ہدایت کی کتاب ہے
تشریح : ان آیات میں یہود و نصارٰی کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اور ان کی طرف اتاری گئی کتاب دونوں تمہارے پاس آگئے ہیں اور وہ تمام باتیں کھول کھول کر تمہارے سامنے بیان کر رہے ہیں جو تہیں تمہاری کتاب تورات اور انجیل میں بتائی گئی تھیں مگر تم لوگوں کو بتاتے نہیں تھے بلکہ چھپاتے تھے اور تمہاری کرتوت جو لوگوں کو بتانے ضروری ہیں وہ بھی اللہ نے اس کتاب کے ذریعے بتائے ہیں ہاں ! جن کے بتانے سے کوئی فائدہ نہ تھا وہ تمہاری پردہ پوشی کی وجہ سے نہیں بتائے۔ یہاں ایک سبق یہ بھی دیا جارہا ہے کہ بغیر وجہ اور فائدے کے کسی کا کوئی عیب ظاہر نہ کرو بلکہ اس کو چھپا رہنے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 12 تا 19 ۔
اسرار و معارف :
پہلی قوموں سے بھی عہد لیے گئے تھے کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ انسان کو شعور بخشا اور عقل سے نوازا۔ عقل وہ قوت ہے جو دماغ میں ہے اور جسم کی ضرورتوں کا احساس کرنا انہیں پورا کرنے کے اسباب تلاش کرنا ، اس کا کام ہے شعور وہ قوت ہے جو دل میں ہے اور جو عظمت الہی کو اپنی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت کے مطابق ہر جاندار کو دی گئی ہے جس کا استعمال ہم روز مرہ زندگی مٰں دیکھتے ہیں۔ رہا شعور و آگہی یہ صرف انسان کی صفت ہے۔ اب باقی جانداروں کی طرح اس کی عقل بھی اسے پیٹ بھرنے یا دنیا کے لذائذ سے فائدہ اٹھانے کے لیے…
Read the full tafseer →ف 11 یہود و نصاریٰ کے نقض عہد اور اعراض عن الحق کا ذکر کرنے کے بعد اب ان کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے (کبیر) ایک یہ کہ بہت سے احکام جو وہ چھپا یا کرتے تھے ان کو بیان کرتے ہیں جیسے رجم کی آیت سبت والوں کا قصہ جن کو مسخ کرکے بندر خنزیر بنادیا گیا تھا اور ا آنحضرت ﷺ کی صفات سے متعلق آیات الغرض یہود و نصاری ان تمام باتوں کو چھپایا کرتے تھے چناچہ ایک مرتبہ چند یہو دی آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور رجم کے بارے میں سوال کرنے لگے آپ ﷺ نے ان کے سب سے برے علام ابن صوریا کو قسم دلائی اور اس سے دریافت فرمایا کہ رجم کی آیت تورات میں ہے یا نہیں َ ؟ بآلاخر اس کو قسم کی وجہ سے اعتراف کرنا پڑا اس پر یہ…
Read the full tafseer →(5:15) یعفوا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ عفو سے وہ معاف کرتا ہے۔ اس فعل کا فاعل رسولنا ہے۔
نور۔ سے مراد رسول کریم حضرت محمد ﷺ ہیں۔ قرآن بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
آیت نمبر 15 – 19
لغات القرآن : یبین (وہ کھولتا ہے۔ واضح کرتا ہے) ۔ تخفون (تم چھپاتے ہو) ۔ یعفوا (وہ معاف کرتا ہے) ۔ نور (روشنی۔ چمک) ۔ مبین (واضح۔ کھلا ہوا) ۔ رضوان (رضا۔ خوشنودی) ۔ سبل السلام (سلامتی کے راستے) ۔ اذن (اجازت ) ۔ یملک (مالک ہے) ۔ یھلک (وہ ہلاک کرتا ہے ۔ ہلاک کرے گا) ۔ ام (ماں) ۔ یخلق (وہ پیدا کرتا ہے) ۔ ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے ) ۔ احباء (محبوب۔ چہیتے) ۔ لم یعذب (وہ عذاب کیوں دے گا ؟ ) ۔ ذنوب (ذنب) ۔ (گناہ) ۔ یغفر (وہ معاف کردے گا) ۔ المصیر (ٹھکانا۔ لوٹنے کی جگہ) ۔ فترۃ (سلسلہ کا بند ہو جانا۔ ڈھیلا اور سست پڑجانا) ۔ بشیر (خوش خبری دینے والا) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔
تشریح : نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
یہود کی شرارت کا ذکر شان نزول : آنحضرت ﷺ نے رجم کی یہ آیت توریت میں میں سے جب یہود کو بتلائی جس کو وہ چھپاتے تھے تو اس پر یہ آیت نازل فرمائی ۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود بیا ہے ہوئے ایک عورت اور مرد کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے جنہوں نے بدکاری کی تھی ۔ آپ نے ان یہودیوں سے پوچھا کہ توریت میں ایسے مردو عورت کے لئے کیا حکم ہے انہوں نے جواب دیا کہ توریت کے حکم کے موافق ہم ایسے مردو عورت کا کالا منہ کرکے بستی میں پھراتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : '' یہ سزا توریت کے حکم کے موافق نہیں ہے تم جھوٹے ہو ۔ لاؤ توریت اس میں تو ایسے لوگوں کو سنگسار کرنے کا حکم ہے ''۔ آخر تورریت لائی گئی اور ایک شخص ابن صوریا توریت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
[18] یعنی تورات و انجیل۔
[19] یعنی اُمّی ہونے کے باوجود تورات و انجیل کے مضامین جنہیں تم چھپانے کی کوشش کرتے ہو وہ وحی الٰہی سے معلوم کر کے ظاہر کردیتا ہے اور یہ بجائے خود اس کے پیغمبر ہونے کی ایک شہادت ہے۔
[20] یعنی وہ امور جن کے اظہار سے مجرموں کی فضیحت و رسوائی کے سوا کوئی شرعی غرض وابستہ نہیں۔ یہ عفو و حلم بجائے خود اس کے پیغمبرانہ اخلاق کی شہادت ہے۔
[21] مراد ہدایت ہے۔
[22] یعنی قرآن مجید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اغراء عداوت :
(ف 1) عیسائی بھی یہودیوں کی طرح اصل پیغام کو چھوڑ بیٹھے اور لاطائل بت پرستانہ مسائل میں الجھ گئے اور مذہب یہ قرار دیا کہ یہودیوں کی مخالفت کی جائے نتیجہ یہ ہوا کہ یہودی بھی عیسائیوں کے خلاف دل میں کینہ اور بغض رکھنے لگے ۔
قرآن کریم نے اس آویزش کا نام اغراء عداوت وبغض رکھا ہے ۔
(آیت) ” الی یوم القیمۃ “ ۔ سے مراد یہ نہیں کہ یہ دونوں قیامت تک باقی بھی رہیں گے بلکہ مدت سے کنایہ ہے کیونکہ (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “ کے ماتحت ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام کی عالم افروزروشنی ساری دنیا کو جگمگا دے گی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 3 اور ہم نے ان لوگوں سے بھی ان کا عہد لیا تھا جو یوں کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں پھر انہوں نے بھی اس نصیحت آمیز تعلیم کا ایک بہت بڑا حصہ فراموش کردیا جو ان کو دی گئی تھی اور اپنی بےعملی کے باعث ثواب کا ایک بہت بڑا حصہ فوت کر بیٹھے لہٰذا ہم نے ان کے مابین قیامت تک کے لئے باہمی دشمنی اور بغض ڈال دیا اور آگے چل کر یعنی قیامت میں اللہ تعالیٰ ان کو ان کاموں سے آگاہ کر دے گا اور ان کو جتا دے گا جو وہ کہا کرتے تھے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہود سے عہد لیا تھا اسی طرح ان لوگوں سے بھی جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں عہد لیا تھا یہ عہد انجیل کے واسطے سے یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے لیا گیا اور عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 6۔ اوپر یہود و نصاری کا الگ الگ ذکر تھا آگے دونوں کو جمع کرکے نصیحت کا خطاب فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کے دونوں گروہوں سے مخاطب ہو کر قرآن کریم دو ٹوک بات کرتا ہے :
73: اہل کتاب ! یعنی اے گروہ یہود اور اے گروہ نصاریٰ پہلے تو تم کو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے نبی ” خاتم النّبیین “ کے متعلق خبر دی جاتی تھی لیکن اب وہ وقت آگیا کہ وہ ” نبی “ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس آہی گیا اور تم کو معلوم ہے کہ آشکارا ہوجانے والی بات کبھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ اب تک تم جن جن باتوں کو مخفی رکھے ہوئے تھے وہ ” نبی “ ان ساری باتوں کو تم پر کھول کر بیان کرتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وحی الٰہی اس کو تمہاری پویدہ باتوں سے آگاہ کردیتی ہے اسلئے وہ تمہاری ساری کارستانیوں سے واقف ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
Commentary
Refuted here in this verse is only one saying of the Christians - which is the belief of a sect among them - that Sayyidna Masih (علیہ السلام) is God. But, the argument employed in the refutation virtually covers the false beliefs of all sects against the inalienable principle of Tauhid, that is the Oneness of Allah. This may be a belief in a son of God or a belief in one of the three Gods - the argument refutes all of them.
That Sayyidna Masih (علیہ السلام) and his blessed mother have been mentioned here jointly could be because of two wise considerations. Firstly, it is the…
Read the full tafseer →37. God discloses some of the dishonest and treacherous dealings of theirs where He deems it necessary in order to strengthen the cause of the true religion, and ignores the disclosure of those which are not truly indispensable.
Read the full tafseer →