Explained with ayahs 7–11
" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار
اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
سورة الْمَآىِٕدَة 29
ملاحظہ ہو سورة نساء، 164 و 165۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو اللہ تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے (احکام کی) پوری پابندی کرنے والے (اور شہادت کی نوبت آوے تو) انصاف کی شہادت ادا کرنے والے رہو، اور کسی خاص گروہ کی عداوت تم کو اس پر باعث نہ ہوجاوے کہ تم (ان کے معاملات میں) عدل نہ کرو (ضرور ہر معاملہ میں) عدل کیا کرو وہ (یعنی عدل کرنا) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (یعنی اس سے تقویٰ کے ساتھ موصوف کہلاتا ہے) اور (تقویٰ اختیار کرنا تم پر فرض ہے، چناچہ حکم ہوا ہے کہ) اللہ تعالیٰ (کی مخالفت) سے ڈرو (یہی حقیقت ہے تقویٰ کی پس عدل جو کہ اس فرض تقویٰ کا موقوف علیہ ہے نیز فرض ہوگا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تمہارے سب اعمال کی پوری اطلاع ہے (پس مخالفین…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ۡ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔
میثاقِ شریعت کی ذمہ داری امت مسلمہ پر : كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ، تھوڑے سے تغیر الفاظ کے ساتھ یہ ٹکڑا سورة نساء کی آیت 35 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہ اسی میثاق کی اجتماعی ذمہ داری واضح کی گئی ہے کہ مسلمانوں پر بحیثیت امت مسلمہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق و عدل کے علم بردار بنیں جو اس آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8۔ 1، 2 پہلے جملے کی تشریح سورة نساء آیت نمبر 135 میں دوسرے جملے کی سورة المائدۃ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے نزدیک عادلانہ گواہی کی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جو حدیث میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا تو میری والدہ نے کہا، اس عطیے پر آپ جب تک اللہ کے رسول کو گواہ نہیں بنائیں گے میں راضی نہیں ہوں گی۔ چناچہ میرے والد انکی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ' اللہ سے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو ' اور فرمایا کہ میں ' ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا '…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
11: ”قضائے حاجت کی جگہ سے آنا“ در حقیقت اس چھوٹی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان پر نماز وغیرہ پڑھنے کے لیے صرف وضو واجب ہوتا ہے اور عورتوں سے ملاپ، اس بڑی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس کو جنابت کہتا ہے اور جس میں غسل واجب ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے اور دونوں صورتوں میں اسکا طریقہ ایک ہی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 8۔
اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات سے روکا تھا کہ وہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا تھا ‘ بےانصاف کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھیں ضبط نفس اور رواداری کی یہ انتہا تھی جہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو پہنچانا چاہتے تھے اور یہ اللہ کا نہایت ہی مضبوط منہاج تربیت تھا ۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات سے روکتے ہیں کہ وہ دشمنی کی وجہ سے عدل سے رک نہ جائیں ۔ یہ ایک نہایت ہی اعلی چوٹی ہے اور اس قدر مشکل اور دشوار گزار راہ ہے کہ اس پر چلنا نفس کے لئے نہایت ہی باعث مشقت ہے۔ پہلی آیت میں تھا کہ تم دشمنی کی…
Read the full tafseer →10 اس سے پہلی آیت میں مومنین کو حق تعالیٰ کے احسانات اور اپنا عہد و پیمان یاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہاں بتلا دیا کہ صرف زبان سے یاد کرنا نہیں بلکہ عملی رنگ میں ان سے اس کا ثبوت مطلوب ہے اس آیت میں اسی پر تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تم نے خدا کے بیشمار احسانات اور اپنے عہد و اقرار کو بھلا نہیں دیا تو لازم ہے کہ اس محسن حقیقی کے حقوق ادا کرنے اور اپنے عہد کو سچا کر دکھانے کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہو اور جب کوئی حکم اپنے آقائے ولی نعمت کی طرف سے ملے فوراً تعمیل حکم کے لئے کھڑے ہوجاؤ اور خدا کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق ادا کرنے میں بھی پوری جدو جہد اور اہتمام کرو۔ چناچہ " قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ " میں "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیت 8 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز
یہاں پر سورة النساء کی آیت 135 کا حوالہ ضروری ہے۔ سورة النساء کی آیت 135 اور زیر مطالعہ آیت المائدۃ : 8 میں ایک ہی مضمون بیان ہوا ہے ‘ فرق صرف یہ ہے کہ ترتیب عکسی ہے دونوں سورتوں کی نسبت زوجیت بھی مدّ نظر رہے۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُہَدَاءَ لِلّٰہِ اور یہاں الفاظ ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِ ز۔ ایک حقیقت تو میں نے اس وقت بیان کردی تھی کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ گویا اللہ اور قسط…
Read the full tafseer →31 دشمن قوم پر بھی گواہی میں انصاف :۔ پہلے سورة نساء کی آیت نمبر 135 میں اس سے ملتا جلتا مضمون گزر چکا ہے کہ تم اللہ کی خاطر انصاف پر قائم رہتے ہوئے گواہی دیا کرو خواہ یہ گواہی تمہارے اپنے خلاف جا رہی ہو یا تمہارے والدین اوراقرباء کے خلاف جا رہی ہو۔ یہاں اس آیت میں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تم سابقہ دشمنیوں اور قبائلی عصبیتوں سے بالکل بےنیاز ہو کر انصاف کی گواہی دیا کرو۔ کسی شخص کی یا کسی قوم کی دشمنی تمہاری گواہی پر یا تمہارے عدل و انصاف پر ہرگز اثر انداز نہ ہونی چاہیے اس کی واضح مثال تو اس انصاری کا واقعہ ہے جس نے کسی مسلمان کی ایک زرہ چرا لی اور ایک یہودی کے پاس امانت رکھ آیا تھا (یہ واقعہ…
Read the full tafseer →47 ۔ (آیت) ” قومین للہ “۔ یعنی اللہ کے احکام کی پوری پابندی کرتے رہو “۔ معناہ کونوا قوامین للہ بالحق فی کل ما یلزمکم القیام بہ من الامر بالمعروف والعمل بہ والنھی عن المنکر واجتنابہ (جصاص) والمراد حثھم علی الانقیاد لتکالیف اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” للہ “۔ یعنی کی رضاجوئی کے لیے لاجل ثواب اللہ (قرطبی) مطلب یہ ہوا کہ حقوق اللہ کی ادائی میں ہمہ وقت مستعد رہو۔ اشارۃ الی التعظیم لا مرا للہ (کبیر) (آیت) ” شہدآء بالقسط “۔ یعنی ہر معاملہ میں مرتبہ انصاف کا لحاظ رکھو، یہ تاکید ہوئی حقوق العباد کی ادائی ہوئی۔ اشارۃ الی الشفقۃ علی خلق اللہ (کبیر)
48 ۔ گویا ادائے حقوق ہی کا دوسرا نام تقوی ہے (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت نمبر 6 تا 11
ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کیلئے اٹھو یعنی اٹھنے کا ارادہ کرو حال یہ کہ تم بےوضو ہو تو اپنے چہرت اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھولیا کرو یعنی مع کہنیوں کے، جیسا کہ اس کو سنت نے بیان کیا ہے، اور سروں پر ہاتھ پھیرلیا کرو باء الصاق کے لئے ہے، یعنی مسح کو سروں سے بغیر پانی بہائے متعلق کردو مسح اسم جنس ہے لہٰذا جس پر مسح صادق آئے اس کا کم سے کم کافی ہے، اور وہ سر کے بعض بالوں کا مسح ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور ٹخنوں سمیت پیر دھولیا کرو جیسا کہ سنت نے بیان کیا ہے (اَرْجُلَکم) نصب کے ساتھ ہے اَیْدِیَکم پر عطف کرتے ہوئے اور جر پڑوس کی رعایت کی…
Read the full tafseer →یا ایہا الذین امنوا کونوا قوامین للّٰہ شہدآء بالقسط (اے ایمانووالو ! اللہ تعالیٰ کے لئے پوری پابندی کرنے والے ‘ انصاف کے ساتھ شہادت ادا کرنے والے رہو ‘ یعنی خود اپنی ذات اور دوستوں کے خلاف بھی عدل اور سچائی کی شہادت دینے کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔
ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا اور کسی خاص لوگوں کی عداوت تم کو اس پر باعث نہ ہوجائے کہ تم عدل نہ کرو۔
جَرْمٌاور اجترامٌکمانا جَرَمَ لِاَہْلِہٖاپنے گھر والوں کے لئے کمایا۔ (قاموس) اس جگہ لاَیَجْرمَنَّاپنے اندر ابھارنے آمادہ اور برانگیختہ کرنے کا مفہوم رکھتا ہے اس لئے لفظ حَمَلَکے بعد جو حرف جار (علی) آتا ہے اس کا استعمال یجرمن کے بعد کیا گیا گویا یہ…
Read the full tafseer →(8) اور عدل و انصاف پر جمے رہو اور شریح بن شرجیل کا بغض تمہیں بکر بن وائل کے حاجیوں کے ساتھ ناانصافی پر آمادہ نہ کرے عدل و انصاف کرنا پرہیزگاروں کے لیے تقوی سے زیادہ قریب ہے اور عدل وظلم میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کیوں کہ وہ ان باتوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بالْقِسْطِ ۡ کی تشریح سورة نساء (135) میں گزر چکی ہے، اسی طرح (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ۔۔) کی تشریح سورة مائدہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اکثر کافروں نے مسلمانوں سے بڑی دشمنی کی تھی، جب وہ مسلمان ہوئے تو فرمایا کہ ان سے وہ دشمنی نہ نکالو اور ہر جگہ یہی حکم ہے، حق بات میں دوست اور دشمن برابر ہیں۔“ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیت نمبر : 8 تا 10۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین “۔ اس کا معنی سورة النساء میں گزر چکا ہے معنی یہ ہے کہ میں نے تم پر اپنی نعمت مکمل کی پس ہوجاؤ مضبوطی سے قائم رہنے، اللہ کے ثواب کے لیے اس کے حق کو قائم کرو، اور اپنے اقارب کی طرف جھکاؤ کیے بغیر حق کی گواہی دو اور دشمن پر ظلم کیے بغیر حق کی گواہی دو ۔
(آیت) ” ولا یجرمنکم شنان قوم “۔ عدل کے ترک اور حق پر ظلم و زیادتی کو ترجیح پر کسی قوم کی عداوت تمہیں نہ اکسائے، اس میں دلیل ہے کہ دشمن کا حکم دشمن پر نافذ ہوگا جب کہ وہ اللہ کی رضا میں کسی سے دشمنی کرنے والا ہو اور اس کی شہادت اس کے خلاف نافذ ہوگی، کیونکہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(1) ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے نقل کیا ہے کہ عبد اللہ بن کثیر نے لفظ آیت یایھا الذین امنوا کونوا قومین للہ شھداء بالقسط کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) خیبر کے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ ایک دیت کے بارے میں ان کے پاس تشریف لے گئے لیکن انہوں نے آپ کو قتل کردینے کا ارادہ کیا۔ اس لئے یہ فرمایا لفظ آیت ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا (الآیتہ) واللہ اعلم
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ كُوْنُوْا : تم لوگ ہوجاؤ] [ قَوّٰمِيْنَ : خوب نگرانی کرنے والے ] [ لِلّٰهِ : اللہ کی خاطر ] [ شُهَدَاۗءَ : گواہی دینے والے ] [ بِالْقِسْطِ ۡ: انصاف کی ] [ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ : اور تم کو ہرگز آمادہ نہ کرے ] [ شَنَاٰنُ قَوْمٍ : کسی قوم کی عداوت ] [ عَلٰٓي : اس پر ] [ اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭ: کہ تم لوگ عدل نہ کرو ] [ اِعْدِلُوْا ۣ: (بلکہ ) تم لوگ عدل کرو ] [ هُوَ اَقْرَبُ : یہ زیادہ قریب ہے ] [ لِلتَّقْوٰى ۡ: تقوی کے لیے ] [ وَاتَّقُوا : اور ڈرو تم ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ ۭاِنَّ اللّٰهَ : یقینا اللہ ] [ خَبِيْرٌۢ : باخبر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
انصاف پر قائم ہونے کا حکم
سورة نساء میں فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ ) کہ اللہ کے لئے خوب انصاف کے ساتھ قائم رہنے والے بنو اگرچہ انصاف تمہاری اپنی جانوں یا تمہارے ماں باپ یا تمہارے رشتہ داروں کے خلاف پڑجائے اور یہاں فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآء بالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا) (یعنی ہوجاؤ اچھی طرح سے کھڑے ہوجانے والے اللہ کے لئے، گواہی دینے والے انصاف کے ساتھ، اور تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
حکم یازدھم۔ وجوب عدل و انصاف واداء شہادت حق۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنو کو نو قوامین۔۔۔ الی۔۔۔ الجحیم۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں عبادات اور ان احکام کا ذکر تھا جو مکلف کی ذات کے ساتھ مخصوص تھے اب ان ایات میں عدل و انصاف وشہادت حق کا حکم بیان کرتے ہیں جو دوسروں سے متعلق ہے نظام عالم کا دارومدار عدل و انصاف اور شہادت پر ہے اس لیے کہ عدل اور انصاف اور سچی شہادت سے تمام مظالم اور مفاسد کا دروازہ بند ہوجاتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو تمہارے ایمان کا مقتضی استقامت علی الحق ہے لہذا ہوجاؤ تم کھڑے ہونے والے اللہ کے لیے یعنی حقوق اللہ کی ادائیگی کے لیے مستعد اور تیار کھڑے رہو اور جب حقوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
30 ۔ یہ بھی پہلے مضمون کا اعادہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عقود و حقوق کو اپنی امکانی طاقت کے مطابق بجا لانے کی کوشش کرو۔ عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو اور بغض و عداوت کی بنا پر حق و انصاف سے روگردانی مت کرو۔ اس میں وَلَا اٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ کے مضمون کا اعادہ ہے۔ وَعَدَ اللہُ الخ احکام و حدود بیان کرنے کے بعد ان لوگوں کو اخروی بشارت دی گئی جو ان کو بجا لائینگے اور اللہ کی حدود کو قائم کرینگے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ یہ ان لوگوں کے لیے وعید اور تخویف اخروی ہے جو اللہ کے احکام کو پامال کریں اور اس کی حدود کو توڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ربط آیات پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کا حکم دیا ہے ۔ انسانی سوسائٹی میں عہد و پیمان کو پورا کرنا بڑی قدروقیمت رکھتا ہے۔ عہد و پیمان مخلوق کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی ۔ اللہ عہد میں اس کی وحدانیت کو ماننا ، جزائے عمل پر یقین رکھنا ۔ تمام احکام کی تعمیل کرنا اور حلت و حرمت کے ان قوانین پر عمل کرنا جو اس سورة تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں محرمات نکاح اور محرمات اکل و شرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اللہ نے شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم بھی دیا ہے ۔ طہارت کے اصول بیان فرمائے ہیں ان میں ظاہری اور باطنی ہر دو قسم کی طہارت شامل ہے۔ نماز کے لیے طہارت کو شرط قرار…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلہِ شُہَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ 0ۡوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا 0ۭ اِعْدِلُوْا 0ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى 0ۡوَاتَّقُوا اللہَ 0ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 8
قيام
والْقِيَامُ علی أضرب : قيام بالشّخص، إمّا بتسخیر أو اختیار، و قیام للشیء هو المراعاة للشیء والحفظ له، و قیام هو علی العزم علی الشیء، فمن القِيَامِ بالتّسخیر قوله تعالی: مِنْها قائِمٌ وَحَصِيدٌ [هود/ 100] ، وقوله : ما قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوها قائِمَةً عَلى أُصُولِها [ الحشر/ 5] ، ومن القِيَامِ الذي هو بالاختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ترکیب : اذقلتم ظرف ہے واثقکم کا۔ قوامین للّٰہ خبر ہے کونوا کی۔ شہداء سورة نساء میں اس کی ترکیب آچکی ہے کی ضمیرا عدلوا سے جو عدل سمجھا جاتا ہے اس کی طرف پھرتی ہے۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ یہ احکام بیان فرما چکا تو اس کے بعد وہ بات بیان فرماتا ہے کہ جس سے ان احکام پر ثابت قدمی ہوتی ہے۔ اس کی دو قسم ہیں : اول اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کس لئے کہ نعمت احسانات کا ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے کہ جو انسان کے دل کو اپنے منعم کی طرف باندھ لاتا ہے۔ اس بات کو اذکروا نعمۃ اللّٰہ میں ذکر فرمایا اور چونکہ خدا کی نعمتوں کی تعداد اور شمار ممکن نہیں کس لئے کہ حیات اور تندرستی اور عقل اور ہدایت اور بلائوں سے محفوظ…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِ ز وَلَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلیٰٓ اَلَّا تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْا قف ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُو اللہ َ ط اِنَّ اللہ َ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 8)
(اے ایمان والو ! اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کو کھڑے ہوجایا کرو اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے)
بحیثیت امت مسلمہ ہماری اصل ذمہ داری
مسلمانو ! تم انصاف کے علمبردار بن کر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : تکمیل دین کی خوش خبری درحقیقت اسلامی انقلاب کے غلبہ کی نوید ہے اس لیے صحابہ ؓ اور مسلمانوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اہل مکہ اور دیگر قبائل نے جس جس انداز سے نبی ﷺ اور آپ کے رفقاء پر جو رواستبداد کیا تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ صحابہ ] جب اہل کفر پر غالب آتے تو ان سے گن گن کر بدلے لیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت یہ ہدایت فرمائی کہ ” اے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والو ! تمہیں ہر حال میں اپنے رب کی رضا کے لیے عدل و انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔ “ (النساء : 135) میں اس سے ملتا جلتا حکم پہلے گزر چکا ہے وہاں گواہی کے بارے میں اپنی ذات اور اعزاء و…
Read the full tafseer →کفار سے بھی عدل کرو :
آیت 8 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِ (اے ایمان والو ! تم اللہ کے لیے پوری پابندی کرنے والے اور شہادت ادا کرنے والے ہوجائو انصاف کے ساتھ) وَلَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا (اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو) یہاں یجرمنکم کو عَلٰی سے متعدی بنایا گیا۔ حالانکہ یہ حمل کا صلہ ہے۔ جو یجرمنکم کا معنی ہے۔ تاکہ بتلا دیا جائے کہ کسی قوم کا بغض و عداوت تمہیں د اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل کو چھوڑ بیٹھو۔ اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی (تم انصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 9, 8, 7
تفسیر :(واذکروانعمۃ اللہ علیکم اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر) یعنی تمام نعمتوں کا یاد کرو (ومیثاقہ الذی والقکم بہ اور عہد اس کا جو تم سے ٹھہرایا تھا) یعنی وہ وعدہ جو تم سی کیا تھا اے مومنو ! (اذ قلتم سمعنا واطعنا جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا) اور اس وقت کی بات ہے جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی۔ ہر چیز کی اطاعت پر خواہ پسند ہو یا ناپسند اور یہی اکثر مفسرین کا قول ہے اور مجاہد ، مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی وہ وعدہ جو تم سے اس وقت لیا تھا جب تم کو آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکالا تھا۔ ( واتقوا اللہ ان اللہ علیم بذات الصدور اور تم ڈرتے رہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
) 7 ۔ 10) ۔ اوپر تیمم کے حکم کو قابل شکر ایک نعمت فرما کر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عام نعمتوں اور احسانوں کو یاد دلایا ہے اور ان نعمتوں اور احسانوں کے شکریہ کا طریقہ بھی جتلایا ہے کہ ان نعمتوں اور احسانوں کے یاد کرنے کے وقت اس عہد کو یاد کیا کرو جو اللہ کے رسول کی معرفت تم نے اللہ تعالیٰ سے ٹھیرا کر اس عہد کو پورا کرنے کا پھر اقرار کیا ہے یہ عہد وہی بیعت اسلام کا معاہدہ ہے جو ہر مرد و عورت سے اسلام کے قبول کرنے کے وقت اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ ٹھیرایا کرتے تھے۔ شریعت میں جن باتوں کا حکم ہے رنج و خوشی ہر حال میں ان کے موافق عمل کرنے کا اور جان باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کا یہ معاہدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8
(یایھا الذین امنوا) ” اے ایمان والو ! “ یعنی اے وہ لوگو جو ان امور پر ایمان لائے ہو جن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے ایمان کے لوازم کو قائم کرو ! (کونوا قومین للہ شھدآء بالقسط) ” اللہ کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ “ یعنی انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے گواہی دینے کے لئے کھڑے ہونے والے بن جاؤ۔ تمہاری ظاہری اور باطنی حرکات قیام انصاف میں نشاط محسوس کریں اور یہ قیام عدل دنیاوی اغراض کی خاطر نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو اور صرف (قسط) یعنی عدل تمہارا مقصد ہو۔ تمہارے اقوال وا فعال میں کسی قسم کی افراط وتفریط نہ ہو اور تم قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 6 کی بقیہ تفسیر)
اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے (وانزلنا من السماء مآء طھوراً (a) اور ہم نے آسمان سے طہورپانی اتارا) طہور کے معنی مطہر یعنی پاک کرن والا کے ہیں اس لئے جس طرح بھی وہ ملے اس کے لئے اس حکم کا ہونا واجب ہوگا۔ اگر ہم تفریق کی وجہ سے اعضائے وضو دولینے کے باوجود حصول طہارت کی ممانعت کردیں تو اس کی بنا پر ہم پانی سے مطہر ہونے کی وہ صفت سلب کرلیں گے جس کے ساتھ اللہ نے اسے موصوف کیا ہے۔
اس پر وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جو ہمیں عبدالباقی بن قانع نے بیان کی، انہیں علی بن محمد بن ابی الشوارب نے، انہیں مسدد نے، انہیں ابو الاحوص نے ، انہیں محمد بن عبید اللہ نے حسین بن سعد سے،…
Read the full tafseer →34 عدل و انصاف کی اہمیت اور اس کی تاکید و تلقین : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ خبردار تم لوگوں کو ابھارنے اکسانے نہ پائے کسی قوم کی دشمنی اس بات پر کہ تم انصاف چھوڑ دو کہ تمہارا کام اور تمہاری شان تو بہرحال انصاف کرنا ہی ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسا عظیم ہے یہ دین اور کیسی عمدہ اور پاکیزہ ہیں اس کی یہ تعلیمات کہ دشمن، اور وہ بھی وہ دشمن جس نے تم سے زیادتی اور بےانصافی بھی کی ہو اس سے بھی بےانصافی کرنا تمہارے لئے روا نہیں۔ اور جو دین دشمنوں کے ساتھ بھی بےانصافی روا نہ رکھتاہو بلکہ وہاں بھی عدل و انصاف ہی کی تعلیم دیتا ہو اس کے نزدیک اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ عدل و انصاف کے برتاؤ…
Read the full tafseer →حقوق العباد میں انصاف کرو
تشریح : اس آیت میں حقوق العباد میں سے ایک حق کی بات ہورہی ہے وہ ہے گواہی دینا۔ جب بھی زندگی میں کبھی گواہی دینے کا موقع آئے تو صرف یہ سوچو کہ اللہ کے ڈر سے یا اس کے حکم سے سچی گواہی دینی ہے اس میں نہ تو کسی کا لحاظ شامل ہو نہ کسی طاقت ور کی طاقت کا ڈر ہو اور نہ ہی کسی رشتہ دار ہی کا خیال ہو بلکہ صرف یہ خیال ہو کہ غلط گواہی دینے سے اللہ ناراض ہوجائے گا۔ اور پھر یہ بھی خیال مت کرو کہ یہ گواہی دینے سے دشمن کا بھلا اور دوست کا نقصان ہوجائے گا بیشک بندہ دشمن کے گروہ سے تعلق رکھتا ہو اگر تم جانتے ہو کہ سچا ہے تو دوست قبیلہ کے خلاف گواہی دے دو اللہ کا ڈر ہر دوستی، دشمنی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 6 تا 11:
اسرار و معارف :
کفر اور آخرت کی ناکامیوں سے بچنے کے لیے پاکیزگی ضروری ہے کفر دل کی نجاست اور آلودگی کا نام ہے ہر گناہ دل کو آلودہ کردیتا ہے حتی کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب آلودگی کفر کی حد کو پہنچ جاتی ہے اب دل کی طہارت اور پکیزگی کے لیے اس کو نجاست سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بدن بھی پاک رکھا جائے اور اللہ کریم کے ساتھ عبادت کا تعلق قائم رکھا جائے ہر حال اور ہر صورت میں ، بلکہ فرائض کو چھوڑنا تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے فرائض کے ساتھ حسب ہمت نوافل اور اذکار کو شامل رکھنا چاہئے اب فرائض کی ادائیگی کے لیے جسم کا پاک ہونا شرط ہے اور اگر پاک بھی ہے تو وضو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 1 اس آیت میں نعمت سے مرا اسلام ہے اور میثاق (اقرار) سے مراد وہ عہد ہے جو آنحضرت ﷺ ہر آدمی سے مسلمان ہونے پر لیا کرتے تھے کہ وہ خوشی اور رنج ہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سمع و اطاعت کرے گا یہ عہد اگرچہ نبی ﷺ لیاکر تے تھ لیکن چونکہ وہ اللہ کے حکم سے تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا فتبا لمنکر السنتہ اور اس سے مراد وہ عہد بھی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذریت آدم سے لیا تھا اور یہ بھی کہ یہود کی متنبہ فرمایا ہو کہ آخری نبی آنحضر ﷺ کی متابعت کا جو عہد تم سے لیا گیا ہے اس کو پورا کرو مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے (ابن کثیر)2 آیت کریمہ میں اللہ سے حقوق الہیٰ کی نگہداشت کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
(5:8) قوامین۔ جمع منصوب قوام واحد۔ اگرچہ مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن اسم فاعل کے معنی میں ہے انصاف کے لئے کھڑے ہونے والے۔ اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہونے والے۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہونے والے
للہ میں مضاف محذوف ہے اس کی تقدیر یوں ہے قوامون لحقوق اللہ۔ اولا وامر اللہ اولدین اللہ۔ او لعھد اللہ۔
شھداء بالقسط۔ حال من الضمیر فی قوامین بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا مومنو ! انصاف کی گواہی دیتے ہوئے اللہ کے دین کے لئے یا اس کے حقوق کی ادائیگی کے لئے کمربستہ ہوجاؤ۔ یا پہلے فقرہ پر عطف ہوسکتا ہے۔ کونوا شھداء بالقسط اور انصاف کے ساتھ سچی گواہی دینے والے بن جاؤ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
آیت نمبر 8-10
لغات القرآن : قوامین کھڑے ہونے والے۔ (قوام کی جمع) ۔ شھدآء (شھید) ۔ گواہی دینے والے) ۔ الا تعدلوا (یہ کہ تم انصاف نہ کرو) ۔ اقرب (زیادہ قریب) ۔ اصحب الجحیم (جہنم والے)
تشریح : ” شھدا “ یا ” قوامین “ کے الفاظ جمع آئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ۔ انصاف کرنے اور کروانے کیلئے ایک جماعت کی ضرورت ہے جو اللہ کی راہ میں مضبوطی سے ڈٹ جائے۔ نہ کوئی خوف اسے ڈرا سکے نہ کوئی امید اسے کرید سکے۔ شہادت کے معنی صرف گواہی کے ہی نہیں ہیں جو عدالت کے کٹہرہ میں کسی مقدمہ کے لئے دی جاتی ہے۔ شہادت کے معنی سچائی پر قائم رہنے کے وہ سارے اعمال ہیں جن سے قوم کا کردار بنتا ہے۔ جن سے سچائی قائم ہوتی ہے، جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ معاہدہ کی تاکید میں فرمایا کہ شریعت میں اللہ اور اللہ کی مخلوق کے جو حقوق ٹھر چکے انصاف سے ادا کرنے میں ہر ایماندار کو ثابت قدم اور وقت پر تیار اور کھڑا ہونا چاہئے کہ یہی معاہدہ کے پورا کرنے کی باتیں ہیں ۔ یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ وہ تمام ایمانداروں کے دشمن تھے لیکن فتح مکہ کے بعد جب وہ بھی اسلام میں داخل ہوگئے تو اب اس پہلی دشمنی کا کچھ خیال دل میں نہ رکھنا چاہئے کیونکہ یہی انصاف کا طریقہ، متقی بننے کا ایک بہتر راستہ ہے ۔ اسکے خلاف چلنے پر خدا کا خوف کرنا چاہئے کہ وہ ہر شخص کے نیک و بد سب کاموں سے واقف ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
[13] منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے، بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی اور کان کیونکہ سر کا حصہ ہیں اس لئے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئے تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔
[14] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ نمبر 35 صفحہ 238
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(ف 2) ان آیات میں احصائے نعمت کے بعد مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بندے بنے رہیں اور یہ کہ کسی حالت میں بھی عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ دیں ۔
حل لغات :
شنان : بغض وعداوت :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 2 اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو بھی یاد کرو جس کا اس نے تم سے اس وقت پختہ قول لیا تھا جب کہ تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور مان لیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ دل کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے (تیسیر)
اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات اور اس کی بےانتہا نعمتیں ہیں انہی نعمتوں میں سے یہ نعمت بھی ہے کہ اس نے تمہارے شرعی احکام کی تکمیل کردی تمہارے دین میں آسانیاں رکھیں دینی اور دنیوی فلاح و بہبود کے طریقے تعلیم کئے اور دنیا کی ہدایت و رہنمائی کے منصب پر تم کو فائز کیا عہد جس کا تم سے پختہ قول لیا یا تو وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 6۔ ایسی آیت ختم پارہ والمحصنت کے قریب بھی آچکی ہے اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ بےانصافی کی وجہ سے دوچیزیں ہوتی ہیں یا تو ایک فریق کی رعایت اور یا کسی فریق کی عداوت۔ وہاں اول سبب مذکور ہے یہاں دوسرا سبب مذکور ہے چناچہ وہاں یہ الفاظ ولو علی انفسکم اوالوالدین الخ۔ اور یہاں لفظ شناٰن اس کی صاف دلیل ہے پس اس فرق کے بعد تکرار نہ رہا۔
Read the full tafseer →پچھلا سبق یاد ہے تو ” چشم ماروشن دل ماشاد “ ورنہ ورق گردانی کرو :
54: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِٞ تک آیت حصہ پیچھے گذر چکا ہے ۔ تفسیر دیکھنا مطلوب ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة النساء آیت 135 دیکھ لو۔ یہ بات قبل ازیں کئی دفعہ عرض کی گئی ہے کہ کسی ایک آیت کا بار بار نزول بےمقصد اور اضاعت نہیں بلکہ حالات کو ساتھ ساتھ مطلع کرنا مقصود تھا ۔ اب مسلمانوں کی حالت بدل چکی ہے اور ان کے جان و مال کے نہایت ظالم اور بےرحم دشمن ان کے سامنے پیش آنے والے ہیں ایسے وقت میں ان کی اس آیت میں دوبارہ راہنمائی فرمادی کہ کہیں تم جوش غضب میں زیادتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
Commentary
The subject of the first of the three verses given above has appeared earlier in Surah al-Nis-a' in almost the same words. The only difference is that the arrangement of words there (4:135) was: كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ while, here (5:8), it has been said: كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ (be steadfast for Allah as witnesses for justice). A delicate reason for the alternation in words appearing earlier and later in these two verses has been given by Abu Ha-an in his Tafsir Al-Bahr al-Muhit a gist of which is given below.
There are…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
29. See Surah 4, nn. 164-5 above.
Read the full tafseer →