Al-Maaida 5:7

Al-Maaida · from ayah 7

5:7

وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَمِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ ۙ— اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ؗ— وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۟وَاذْکُرُوْ انِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِهٖ ۙ اِذْقُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللهَ ؕ اِنَّ اللهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And remember the favor of Allah upon you and His covenant with which He bound you when you said, "We hear and we obey"; and fear Allah. Indeed, Allah is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:7

اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اور اُس پختہ عہد و پیمان کو نہ بھولو جو اُس نے تم سے لیا ہے، یعنی تمہارا یہ قول کہ، "ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی" اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم پر اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں یاد رکھو اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہده ہوا ہے جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کا جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے تم پر جو انعام فرمایا ہے اسے اور اس عہد کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا کہ : ہم نے (اللہ کے احکام کو) اچھی طرح سن لیا ہے، اور اطاعت قبول کرلی ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقینا سینوں کے بھید سے پوری طرح باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ کی (اس) نعمت کو یاد کرو جو تم پر (کی گئی) ہے اور اس کے عہد کو (بھی یاد کرو) جو اس نے تم سے (پختہ طریقے سے) لیا تھا جب کہ تم نے (اقراراً) کہا تھا کہ ہم نے (اﷲ کے حکم کو) سنا اور ہم نے (اس کی) اطاعت کی اور اﷲ سے ڈرتے رہو، بیشک اﷲ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جانتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو اس نے تم سے مضبوط باندھا، جب تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سینوں کی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا اور اس پختہ عہد کو بھی (یاد رکھو) جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے سَمِعنَا وَ اَطَعنَا (ہم نے سن لیا اور اطاعت قبول کی) کہا تھا۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو (کیونکہ) اللہ دلوں کی باتیں بھی خوب جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو اور اس کے اس میثاق کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا، جب کہ تم نے اقرار کیا کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سینوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یاد کرو تم اللہ کے اس احسان کو جو اس نے فرمایا تم لوگوں پر، اور اس کے اس پختہ عہد (و پیمان) کو جو اس نے تم سے لیا، جب کہ تم نے (اس کو قبول کرتے ہوئے) کہا تھا کہ ہم نے سنا، اور مانا، اور ہمشہ ڈرتے رہا کرو تم لوگ اللہ سے، بیشک اللہ خوب جانتا سینوں میں چھپے بھیدوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو یاد کرلیاکرو۔ اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا اس نے تم سے معاہدہ کیا ہے (یہ اس وقت) جب تم نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ سینوں کے اندر تک کا علم رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ نے تمہیں جو اپنی نعمت عطا کی ہے اس کو یاد رکھو اور اس معاہدے کو بھی جو اس نے تم سے باندھ لیا ہے (یا جس میں اس نے تمہیں باندھ لیا ہے) جب تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یقیناً اللہ تعالیٰ سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے جو نعمت تم کو عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اور اس پکے عہد کو نہ بھولو جو اس نے تم سے لیا ہے۔ یعنی تمہارا یہ قول کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اللہ سے ڈرو اللہ دلوں کی باتوں کو جانتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Remember Allah's favour upon you and His covenant which He made with you when you said: 'We have heard and we obey.' So do fear Allah. Allah has full knowledge even of that which is hidden in the breasts of people.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Remember Allah‘s favour upon you and His covenant that He has taken from you when you said, :We have listened and obeyed. Fear Allah. Allah is all-Aware of what lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

Remember Allah‘s favour upon you and His covenant that He has taken from you when you said, :We have listened and obeyed. Fear Allah. Allah is all-Aware of what lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And remember Allah's favor to you and His covenant with which He bound you when you said: "We hear and we obey." And have Taqwa of Allah. Verily, Allah is All-Knower of that which is in the breasts.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Remember Allah's grace upon you and His covenant by which He bound you when ye said: We hear and we obey; And keep your duty to Allah. Lo! He knoweth what is in the breasts (of men).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And remember the favor of Allah upon you and His covenant with which He bound you when you said, "We hear and we obey"; and fear Allah. Indeed, Allah is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

Remember God's favors to you and the firm covenant that He has made with you. You said because of this covenant, "We have heard (the words of the Lord) and have obeyed Him." Have fear of God; He knows well all that the hearts contain.

— Muhammad Sarwar

And remember the favor of Allah on you and His covenant with which He bound you firmly, when you said: We have heard and we obey, and be careful of (your duty to) Allah, surely Allah knows what is in the breasts.

— Muhammad Habib Shakir

And remember Allah's favour on you and His bond wherewith He bound you firmly when ye said: we hearken and we obey. And fear Allah: verily Allah is Knower of that which is in the breasts.

— Abdul Majid Daryabadi

And call in remembrance the favour of Allah unto you, and His covenant, which He ratified with you, when ye said: "We hear and we obey": And fear Allah, for Allah knoweth well the secrets of your hearts.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–11

" اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 28 یعنی یہ نعمت کہ زندگی کی شاہراہ مستقیم تمہارے لیے روشن کردی اور دنیا کی ہدایت و رہنمائی کی منصب پر تمہیں سرفراز کیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

ربط آیات پچھلی آیات میں کچھ احکام شرعیہ وہ ذکر کر کیے گئے جن کا تعلق انسان کی دنیوی زندگی اور کھانے پینے سے ہے۔ اس آیت میں چند احکام شرعیہ متعلق عبادات کے ذکر کئے گئے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو (یعنی نماز پڑھنے کا ارادہ کرو اور تم کو اس وقت وضو نہ ہو) تو (وضو کرلو یعنی) اپنے چہروں کو دھوؤ اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت (دھوؤ) اور اپنے سروں پر (بھیگا) ہاتھ پھیرو۔ اور اپنے پیروں کو بھی ٹخنوں سمیت (دھوؤ) اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو (نماز سے پہلے) سارا بدن پاک کرلو اور اگر تم بیمار ہو (اور پانی کا استعمال مضر ہو) یا حالت سفر میں ہو (اور پانی نہیں ملتا جیسا آگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔ اب یہ اس اتمام نعمت کا حق بتایا ہے کہ اللہ نے اپنی آخرت اور کامل شریعت تم پر نازل کر کے جو فضل و انعام فرمایا ہے اور تم کو جو عزت و سرفرازی بخشی ہے، یہود کی طرح اس کو بھول نہ جانا بلکہ اس کو ہمیشہ یادرکھنا۔ " یاد رکھنا " اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ یعنی ظاہراً و باطناً ہر پہلو سے اس کا حق ادا کرنا۔ اس کے بعد اس ذمہ داری کی نوعیت واضح فرمادی کہ یہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ایک مضبوط میثاق کی حیثیت رکھتی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

6۔ 1 منہ دھوؤ، یعنی ایک ایک دو دو یا تین تین مرتبہ دونوں ہتھیلیاں دھونے، کلی کرنے، ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کے بعد۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ منہ دھونے کے بعد ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے۔ 6۔ 2 مسح پورے سر کا کیا جائے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے اپنے ہاتھ آگے سے پیچھے گدی تک لے جائے اور پھر وہاں سے آگے کو لائے جہاں سے شروع کیا تھا۔ اسی کے ساتھ کانوں کا مسح کرلے۔ 6۔ 3 ارجلکم کا عطف وجوھکم پر ہے یعنی اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ ! 6۔ 4 جنابت سے مراد وہ ناپاکی ہے جو احتلام یا بیوی سے ہم بستری کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی حکم میں حیض اور نفاس بھی داخل ہے۔ جب حیض اور نفاس کا خون بند ہوجائے تو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–10

11: ”قضائے حاجت کی جگہ سے آنا“ در حقیقت اس چھوٹی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان پر نماز وغیرہ پڑھنے کے لیے صرف وضو واجب ہوتا ہے اور عورتوں سے ملاپ، اس بڑی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس کو جنابت کہتا ہے اور جس میں غسل واجب ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے اور دونوں صورتوں میں اسکا طریقہ ایک ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 7۔ جن لوگوں کو سب سے پہلے قرآن نے خطاب کیا تھا وہ اس دین کی قدروقیمت کو اچھی طرح جانتے تھے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں اس لئے کہ وہ اس دین کی حقیقت اپنی ذات اور شخصیت کے اندر زندہ طور پر دیکھ رہے تھے ۔ یہ دین ان کی زندگی ‘ ان کی سوسائٹی اور ان کے اردگرد پوری بشریت میں اس کے مقام کے حوالے سے ان کی آنکھوں کے سامنے تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسمت کی طرف صرف اشارہ ہی ان کے لئے کافی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ بسہولت اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکتے تھے جو ان کی زندگی اور ماحول میں موجود تھی ۔ اسی طرح اس میں اس میثاق کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ اور یہاں اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 غالباً یہ عہد وہ ہی ہے جو سورة بقرہ کے آخر میں مومنین کی زبان سے نقل فرمایا تھا۔ (وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ ) 2 ۔ البقرۃ :285) جب صحابہ ؓ آنحضرت ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کرتے تھے اس وقت بھی یہ اقرار کرتے تھے کہ ہم اپنی استطاعت کے موافق آپ کی ہر بات کو سنیں گے اور مانیں گے خواہ ہمارے منشاء اور طبیعت کے موافق ہو یا خلاف۔ یہ تو عام عہد تھا۔ اس کے بعد بعض ارکان اسلام یا مناسب حال اہم چیزوں کے متعلق خصوصیت سے بھی عہد لیا جاتا تھا گویا اس سورت کے شروع میں جو " اَوْفُوْا بِا لْعُقُوْدِ " فرمایا تھا، درمیان میں بہت سے احسانات کا ذکر کر کے جن کو سن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ ایک میثاق وہ تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا ‘ اب ایک میثاق یہ ہے جو اہل ایمان سے ہو رہا ہے۔ چونکہ یہ سورة شروع ہوئی تھی یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآسے ‘ یعنی اہل ایمان سے خطاب ہے ‘ لہٰذا اس میثاق میں بھی اہل ایمان ہی مخاطب ہیں۔ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاز سورۃ البقرۃ کی آخری آیت سے پہلے والی آیت میں اہل ایمان کا یہ اقرار موجود ہے : سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاز غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ۔ اب جو مسلمان بھی سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاکہتا ہے وہ گویا ایک میثاق اور ایک ‘ بہت مضبوط معاہدے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ قبائلی عصبیتوں نے تمہیں عداوتوں اور لڑائیوں میں پھنسا کر تمہاری زندگی تم پر حرام کردی تھی اور تم ان حالات سے نجات کی راہ سوچتے تھے مگر ایسی کوئی راہ تمہیں نظر نہیں آتی تھی۔ پھر اللہ نے تم پر پے در پے کئی احسانات کیے۔ تمہیں اسلام کی توفیق بخشی پھر اسی اسلام کی وجہ سے تمہاری دیرینہ اور مسلسل عداوتوں کا خاتمہ کر کے تمہیں ایک دوسرے کا مونس و غمخوار اور بھائی بھائی بنادیا۔ 30 بیعت عقبہ کا عہد :۔ یعنی وہ پختہ عہد جو تم نے عقبہ کی رات کو رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا کہ ہم ہر حال میں آپ کی فرمانبرداری کریں گے واضح رہے کہ آپ نے بیعت عقبہ کے بعد بھی جس شخص سے بیعت لی اسی عہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44 ۔ (اور اس کی بڑی نعمت یہی ہے کہ اس نے فلاح دنیوی واخروی کے طریقے اس تفصیل اور اس تکمیل کے ساتھ تمہیں بتا دیئے ہیں) (آیت) ” النعمۃ ھنا الاسلام (بحر) وھی نعمۃ الاسلام (روح) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ (آیت) ” نعمۃ اللہ “۔ سے یہاں مراد ان نعمتوں کی تعداد نہیں بلکہ جنس نعمت ہے۔ (آیت) ” نعمۃ “۔ بہ طور اسم جنس مستعمل ہوا ہے۔ اس لیے ضرورت صیغہ جمع کی نہیں پڑی۔ 45 ۔ (آیت) ” میثاقکم “۔ اس سے کون سا عہد مراد ہے ؟ ایک گروہ کا خیال ہے کہ اس سے مراد عالم ارواح کا وہ عہد ہے جو سارے بنی آدم سے اقرار ربوبیت کی بابت لیا گیا تھا، قال مجاہد وکلبی ومقاتل ھو المیثاق الذی اخذہ اللہ تعالیٰ منہم حین اخرجھم من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–10

آیت نمبر 6 تا 11 ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کیلئے اٹھو یعنی اٹھنے کا ارادہ کرو حال یہ کہ تم بےوضو ہو تو اپنے چہرت اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھولیا کرو یعنی مع کہنیوں کے، جیسا کہ اس کو سنت نے بیان کیا ہے، اور سروں پر ہاتھ پھیرلیا کرو باء الصاق کے لئے ہے، یعنی مسح کو سروں سے بغیر پانی بہائے متعلق کردو مسح اسم جنس ہے لہٰذا جس پر مسح صادق آئے اس کا کم سے کم کافی ہے، اور وہ سر کے بعض بالوں کا مسح ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور ٹخنوں سمیت پیر دھولیا کرو جیسا کہ سنت نے بیان کیا ہے (اَرْجُلَکم) نصب کے ساتھ ہے اَیْدِیَکم پر عطف کرتے ہوئے اور جر پڑوس کی رعایت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذکروا نعمۃ اللّٰہ علیکم اور تم پر جو اللہ کا انعام ہے اس کو یاد کرو کہ اس نے اپنا پیغمبر ﷺ : بھیجا ‘ کتاب نازل کی تم کو اسلام کی توفیق دی اور دوسرے احسانات کئے ان سب کو یاد کرو تاکہ اس سے تم کو انعام دینے والے کی یاد اور اس کا شکر ادا کرنے کی رغبت ہو۔ ومیثاقہ الذی واثقکم بہ اذ قلتم سمعنا واطعنا اور اللہ سے کئے ہوئے اس عہد کو بھی یاد کرو جو اللہ نے تم سے پختہ طور پر لے لیا تھا جب کہ تم نے کہا تھا ہم نے حکم سنا لیا ہم فرمانبرداری کریں گے۔ میثاق سے مراد وہ میثاق ہے جو بیعت کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ان سے لیا تھا کہ تنگی ہو یا فراخی دل چاہے نہ چاہے بہرحال اطاعت کریں گے۔ حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(7) اللہ تعالیٰ اس احسان کو جو ایمان کے ذریعے تم پر ہوا ہے اور عہد کو جو میثاق کے دن تم سے لیا ہے محفوظ رکھو اور جن کاموں کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا اور جن باتوں سے منع کیا ہے اس کی بجا آوری میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ دلوں میں جو کچھ ہے، اس سے وہ بخوبی واقف ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ۔۔ : اس آیت میں نعمت سے مراد اسلام ہے، میثاق اور اقرار سے مراد وہ عہد ہے جو رسول اللہ ﷺ ہر آدمی سے مسلمان ہونے پر لیا کرتے تھے، چونکہ وہ اللہ کے حکم سے تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا (منکرین حدیث کو غور کرنا چاہیے)۔ اس سے مراد وہ عہد بھی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی اولاد سے لیا تھا، جو ان کی فطرت میں داخل ہے اور یہ بھی کہ یہود کو متنبہ فرمایا ہو کہ آخری نبی کی پیروی کا جو عہد تم سے لیا گیا ہے اسے پورا کرو، مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر مسئلہ نمبر : (25) اس شخص کے بارے اختلاف ہے جس نے خفین اتارے جب کہ اس نے ان پر مسح کیا ہوا تھا، علماء کے تین اقوال ہیں۔ (1) اسی جگہ اپنے پاؤں دھوئے اگر تاخیر کی تو نئے سرے سے وضو کرے یہ امام مالک (رح) اور لیث (رح) کا قول ہے اسی طرح امام شافعی (رح) امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے اصحاب نے کہا : اوزاعی (رح) اور نخعی (رح) سے مروی ہے اور انہوں نے اس مکان کا ذکر نہیں کیا۔ ا (2) نئے سرے سے وضو کرے یہ حسن بن حی (رح) کا قول ہے، اوزاعی (رح) اور نخعی (رح) سے مروی ہے۔ (3) اس پر کچھ نہیں ہے اور جیسے ہے نماز پڑھے، ابن ابی لیلی اور حسن بصری (رح) کا یہ قول ہے، یہ ابراہیم نخعی (رح) سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر اور طبرانی (رح) نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت واذکروا نعمۃ اللہ علیکم ومیثاقہ الذی واثقکم بہ اذقلتم سمعنا واطعنا کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو بھیجا اور ان پر کتاب کو اتارا۔ صحابہ ؓ نے کہا ہم نبی ﷺ پر اور کتاب پر ایمان لائے۔ اور ہم نے اقرار کیا ان باتوں کا جو تورات میں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ وعدہ یاد دلایا جس کا انہوں نے اپنے اوپر اقرار کیا تھا اور ان کو وہ وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر مجاہد (رح) سے لفظ آیت واذکروا نعمۃ اللہ علیکم کے بارے میں فرمایا کہ نعم سے مراد اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاذْكُرُوْا : اور یاد کرو ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کو ] [ عَلَيْكُمْ : اپنے اوپر ] [ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ : اور اس کے اس پختہ عہد کو ] [ وَاثَقَكُمْ : اس نے معاہدے میں جکڑا تم لوگوں کو ] [ بِهٖٓ ۙ: جس سے ] [ اِذْ : جب ] [ قُلْتُمْ : تم لوگوں نے کہا ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ وَاَطَعْنَا ۡ: اور ہم نے اطاعت کی ] [ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ: اور تقوی کرو اللہ کا ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ عَلِيْمٌۢ: جاننے والا ہے ] [ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (باتوں ) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو پھر فرمایا (وَ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ) کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو جن سے اس نے تمہیں نوازا ہے یہ نعمتیں ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی، جسمانی بھی ہیں اور روحانی بھی، مزید فرمایا (وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ) کہ اللہ کے عہد کو یاد کرو جو تم نے مضبوطی کے ساتھ عہد کیا جب تم سے عہد لیا تو تم نے (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا) کہہ کر پکا اور مضبوط عہد کرلیا۔ صاحب روح المعانی ج 6 ص 8 لکھتے ہیں اس سے وہ عہد مراد ہے جو 13 نبوی میں لیلتہ العقبہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے لیا تھا جو حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی روایت میں مذکور ہے حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ستذکیر انعام وعہد خدا واند نام۔ قال تعالیٰ واذکرو نعمۃ اللہ علیکم۔۔ الی۔۔ بذات الصدور۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں اللہ نے اپنے احکام بیان کیے اب اس آیت میں اپنی نعمتوں اور عہدوں کو یاد دلاتے ہیں کہ اپنے عہدوں کو پورا کرو اور اپنے منعم اور مھسن کی ناسپاسی سے بچو اور ازل میں جو اللہ کی اطاعت کا عہد کرچکے ہو اور جس امانت کا بوجھ تم کو اٹھا چکے ہو اب اس کے ایفاء اور اداء کا وقت آگیا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اللہ کے احسان اور انعام کو جو تم پر ہو اور یاد کرو خدا کے اس عہد اور پیمان کو جو اس نے تم سے پختہ کیا ہے جب کہ تم نے اسی عہد کو قبول کیا کہ ہم نے حکم خداوندی کو سنا اور دل وجان سے اس کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

29 امر مصلح کے بعد سورت کے ابتدائی مضمون یعنی اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ کا اعادہ فرمایا پہلے بطور تمہید اپنی نعمت کی یاد دہانی کرائی۔ نعمت سے نعمت اسلام مراد ہے۔ وھی نعمۃ الاسلام (روح ج 6 ص 82 ابو السعود ج 3 ص 530) اسلام اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ تمام بنی آدم کی دینی اور دنیوی بہبود اور بہتری اسی سے وابستہ ہے وَمِیْثَاقَہ الخ اس سے وہی عہد و میثاق مراد ہے جو ہر مسلمان اللہ کے حدود و احکام اس کے فرائض و واجبات اور اس کے حلال و حرام کو بجا لانے کے لیے اللہ سے باندھتا ہے۔ یہ آیت قرینہ کہ اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ سے تمام احکام و حدود کی پابندی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–7

ربط آیات گذشتہ دردس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا قانون بتایا۔ نکاح اور اکل و شرب میں حلال و حرام کو واضح کیا ، یہ دراصل طہارت ہی کا بیان ہے۔ انسان کے لیے ظاہری اور باطنی طہارت ضروری ہے ۔ عبادت سے بھی انسان کو باطنی طہارت حاصل ہوتی ہے اور عبادت کرنے سے پہلے ظاہری طہارت کی ضرورت ہوتی ہے ، کیونکہ اس کے بغیر نماز بھی ادا نہیں ہوسکتی۔ اور نماز کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں طہارت صغریٰ یعنی وضو کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے ۔ اب آج کے درس میں طہارت کبریٰ کا بیان ہے یعنی جنابت کی حالت طاری ہوجائے تو کس طرح طہارت حاصل کرنی چاہیے۔ حدث اکبر بےوضو ہونا حدث اصغر ہے جب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَہُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِہٖٓ۝ 0ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝ 0ۡوَاتَّقُوا اللہَ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ 7 وثق وَثِقْتُ به أَثِقُ ثِقَةً : سکنت إليه واعتمدت عليه، وأَوْثَقْتُهُ : شددته، والوَثَاقُ والوِثَاقُ : اسمان لما يُوثَقُ به الشیء، والوُثْقَى: تأنيث الأَوْثَق . قال تعالی: وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] ، حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] والمِيثاقُ : عقد مؤكّد بيمين وعهد، قال : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] ، وَإِذْ أَخَذْنا مِنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–8

ترکیب : اذقلتم ظرف ہے واثقکم کا۔ قوامین للّٰہ خبر ہے کونوا کی۔ شہداء سورة نساء میں اس کی ترکیب آچکی ہے کی ضمیرا عدلوا سے جو عدل سمجھا جاتا ہے اس کی طرف پھرتی ہے۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ یہ احکام بیان فرما چکا تو اس کے بعد وہ بات بیان فرماتا ہے کہ جس سے ان احکام پر ثابت قدمی ہوتی ہے۔ اس کی دو قسم ہیں : اول اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کس لئے کہ نعمت احسانات کا ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے کہ جو انسان کے دل کو اپنے منعم کی طرف باندھ لاتا ہے۔ اس بات کو اذکروا نعمۃ اللّٰہ میں ذکر فرمایا اور چونکہ خدا کی نعمتوں کی تعداد اور شمار ممکن نہیں کس لئے کہ حیات اور تندرستی اور عقل اور ہدایت اور بلائوں سے محفوظ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ لا اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ز وَاتَّقُوا اللہ َ ط اِنَّ اللہ َ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (المائدہ : 7) (اور اللہ نے جو تم پر احسان کیے ہیں ‘ ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم نے قول (اقرار) کیا تھا۔ جب تم نے کہا تھا ! ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا اور قبول کرلیا اور اللہ سے ڈرو ‘ کچھ شک نہیں کہ اللہ دلوں کی باتوں تک سے واقف ہے) مسلمانوں پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت اس کے بعد فرمایا : تم یاد رکھو اللہ کی اس نعمت کو جو اس نے تم پر کی ہے۔ وہ نعمت تکمیلِ شریعت کی نعمت ہے۔ یہ اللہ کی وہ نعمت ہے جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : دین اسلام کی تکمیل، حلال چیزوں کی فہرست میں وسعت و کشادگی، پاکیزگی کے احکامات، نعمتوں کی یاد دہانی کے بعد وہ عہد یاد کروایا ہے جو انسانیت نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں اپنی تخلیق کے وقت کیا تھا، کلمۂ طیبہ اس عہد کی تائید ہے کیونکہ انسان اس میں یہ اقرار کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اس کی عبادت اور اس کے حکم میں شریک نہیں کروں گا۔ وہی عبادت کے لائق اور احکم الحاکمین ہے بندہ اس میں یہ بھی اقرار کرتا ہے کہ میرے قائد اور پیشوا حضرت محمد ﷺ ہیں۔ میں انہی کے فرمان اور طریقہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت اور زندگی کے تمام معاملات طے کرتا رہوں گا۔ مفسرین نے اس عہد سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

میثاق سے مراد : آیت 7 : وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ( اور اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرو جو تم پر اسلام کے ذریعہ کیا) وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا (اور اس کا وہ پختہ وعدہ جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور اطاعت کی) یعنی تم نے پکا وعدہ کیا اور اس سے مراد وہ میثاق ہے جو مسلمان سے لیا گیا جب کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی۔ کہ آپ کی ہر بات سنیں گے۔ اور عسرویُسر میں آپ کی اطاعت کریں گے۔ اور ہر خوشی اور غمی میں آپ کا حکم مانیں گے۔ تو صحابہ کرام ؓ نے قبول کیا اور کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ بعض نے کہا کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 7–9

آیت نمبر 9, 8, 7 تفسیر :(واذکروانعمۃ اللہ علیکم اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر) یعنی تمام نعمتوں کا یاد کرو (ومیثاقہ الذی والقکم بہ اور عہد اس کا جو تم سے ٹھہرایا تھا) یعنی وہ وعدہ جو تم سی کیا تھا اے مومنو ! (اذ قلتم سمعنا واطعنا جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا) اور اس وقت کی بات ہے جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی۔ ہر چیز کی اطاعت پر خواہ پسند ہو یا ناپسند اور یہی اکثر مفسرین کا قول ہے اور مجاہد ، مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی وہ وعدہ جو تم سے اس وقت لیا تھا جب تم کو آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکالا تھا۔ ( واتقوا اللہ ان اللہ علیم بذات الصدور اور تم ڈرتے رہو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–10

) 7 ۔ 10) ۔ اوپر تیمم کے حکم کو قابل شکر ایک نعمت فرما کر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عام نعمتوں اور احسانوں کو یاد دلایا ہے اور ان نعمتوں اور احسانوں کے شکریہ کا طریقہ بھی جتلایا ہے کہ ان نعمتوں اور احسانوں کے یاد کرنے کے وقت اس عہد کو یاد کیا کرو جو اللہ کے رسول کی معرفت تم نے اللہ تعالیٰ سے ٹھیرا کر اس عہد کو پورا کرنے کا پھر اقرار کیا ہے یہ عہد وہی بیعت اسلام کا معاہدہ ہے جو ہر مرد و عورت سے اسلام کے قبول کرنے کے وقت اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ ٹھیرایا کرتے تھے۔ شریعت میں جن باتوں کا حکم ہے رنج و خوشی ہر حال میں ان کے موافق عمل کرنے کا اور جان باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کا یہ معاہدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 7 اللہ تبارک و تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کی عطا کردہ دینی اور دنیاوی نعمتوں کا قلب اور زبان سے ذکر کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دائمی ذکر میں اس کے لئے شکر اور محبت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور بندے کا دل اس کے احسان کی معرفت سے لبریز ہوجاتا ہے، دینی نعمتوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے بارے میں فنس کی خود پسندی زائل ہوتی ہے۔ (ومیثاقۃ) ”(اور یاد کرو) اس عہد کو بھی۔ “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے میثاق کو یاد کرو (الذی و اثقکم) ” جس کا تم سے قول لیا تھا۔ “ یعنی وہ عہد جو اس نے تم سے لیا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بندوں نے اپنے نطق زبان سے اس عہد و میثاق کا اقرار کیا تھا بلکہ اس سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

(آیت 6 کی بقیہ تفسیر) جو لوگ سارے سر کے مسح کے قائل ہیں وہ اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جس میں مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے سر کے اگلے اور پچھلے دونوں حصوں کا مسح کیا تھا۔ اگر سر کے ایک حصے کا مسح فرض ہوتا تو آپ سارے سر کا مسح نہ فرماتے اور سارے سر کا مسح کرنے والا لازمی طور پر حد سے تجاوز کرنے والا کہلاتا کیونکہ حضور ﷺ سے منقول ہے کہ آپ نے وضو کے اعضاء تین تین دفعہ دھوئے اور فرمایا (من زاد فقد اھتدیٰ و ظلم جو شخص اس سے زائد دفعہ دھوئے گا وہ حد سے تجاوز کرے گا اور ظالم قرار پائے گا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس میں کوئی امتناع نہیں کہ سر کے بعض حصے کا مسخ تو فرض ہو اور سارے سر کا مسح مسنون ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

31 تذکیر نعمت برائے شکر نعمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو تم لوگ اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر فرمایا کہ اس نے تمہیں جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کی عظیم الشان روشنی سے بہرہ ور فرمایا اور توحید کے کلمہ حق پر جمع کرکے تم سب کو ایک جسم و جاں بنادیا۔ سو اس عظیم الشان نعمت کا تقاضا ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اپنے خالق ومالک کا شکر ادا کرو اور اس کی تعلیمات کو دل و جان سے اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔ لیکن شکر گزاری کی توفیق کم ہی لوگوں کو ملتی ہے۔ جیسا کہ سورة سبا میں ارشاد فرمایا گیا { وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرِ } ( سبا : 13) ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اللہ سے کیا گیا وعدہ تشریح : آیت 6 اور 7 میں عبادات کے بارے میں بتایا جارہا ہے جبکہ اس سے پہلے چند آیات میں دنیاوی زندگی کے بہترین اصول انسان کو بتائے گئے ہیں۔ اس آیت میں اس عہد کا ذکر کیا جارہا ہے جو انسان کلمہ پڑھتے ہی اللہ رب العزت سے کرلیتا ہے کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کا اقرار کرتا ہے اور یہ اقرار کرتا ہے کہ سیدنا محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، یعنی قرآن وسنت کے تمام احکامات چاہے اس کا تعلق دنیاوی کاروبار سے ہو یا عبادت سے ہو، سب پر عمل کرنا اس پر ضروری ہوگیا ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ قرآن انسان کے لیے رحمت، برکت اور روشنی ہے کسی کا ڈر، خوف یا دباؤ انسان کو اپنے عہد سے، یعنی اسلام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 6–11

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 6 تا 11: اسرار و معارف : کفر اور آخرت کی ناکامیوں سے بچنے کے لیے پاکیزگی ضروری ہے کفر دل کی نجاست اور آلودگی کا نام ہے ہر گناہ دل کو آلودہ کردیتا ہے حتی کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب آلودگی کفر کی حد کو پہنچ جاتی ہے اب دل کی طہارت اور پکیزگی کے لیے اس کو نجاست سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بدن بھی پاک رکھا جائے اور اللہ کریم کے ساتھ عبادت کا تعلق قائم رکھا جائے ہر حال اور ہر صورت میں ، بلکہ فرائض کو چھوڑنا تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے فرائض کے ساتھ حسب ہمت نوافل اور اذکار کو شامل رکھنا چاہئے اب فرائض کی ادائیگی کے لیے جسم کا پاک ہونا شرط ہے اور اگر پاک بھی ہے تو وضو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 1 اس آیت میں نعمت سے مرا اسلام ہے اور میثاق (اقرار) سے مراد وہ عہد ہے جو آنحضرت ﷺ ہر آدمی سے مسلمان ہونے پر لیا کرتے تھے کہ وہ خوشی اور رنج ہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سمع و اطاعت کرے گا یہ عہد اگرچہ نبی ﷺ لیاکر تے تھ لیکن چونکہ وہ اللہ کے حکم سے تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا فتبا لمنکر السنتہ اور اس سے مراد وہ عہد بھی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذریت آدم سے لیا تھا اور یہ بھی کہ یہود کی متنبہ فرمایا ہو کہ آخری نبی آنحضر ﷺ کی متابعت کا جو عہد تم سے لیا گیا ہے اس کو پورا کرو مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے (ابن کثیر)2 آیت کریمہ میں اللہ سے حقوق الہیٰ کی نگہداشت کی طرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

میثاق۔ عہد۔ واثقکم بہ (جس کے پورا کرنے کے لئے) اس نے تم کو پابند کیا تھا۔ واثق مواثقۃ ووثاقا۔ کسی کو کسی معاہدہ کا پابند کرنا۔ وثاق۔ وثاق۔ جمع وثق۔ رسی۔ زنجیر۔ بندش ۔ اخلاقی بندش اس سے وثیقہ (اقرار نامہ۔ تحریری معاہدہ وغیرہ) اور وثیقہ نویس ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت نمبر 6 – 7 لغات القرآن : قمتم (تم کھڑے ہوئے) ۔ وجوہ (وجہ) ، چہرے) ۔ ایدی (دونوں ہاتھ۔ (یہاں نون گرگیا) ۔ المرافق (مرفق) ۔ کہنیاں) ۔ امسحوا (تم مسح کرو۔ (سر پر ہاتھ پھیرنے کو مسح کہتے ہیں) ۔ رءوس (راس) ۔ سر) ۔ ارجل (رجل) ۔ پاؤں) ۔ الکعبین (الکعب) ۔ ٹخنے (پاؤں کی ابھری ہوئی ہڈی) ۔ جنبا (جنابت) ۔ ایسی حالت جس میں غسل واجب ہوتا ہے) ۔ اطھروا (تم اچھی طرح پاک ہوجاؤ) ۔ الغآئط (رفع حاجت کی جگہ۔ (نیچی جگہ) ۔ لمستم (لمس، ملامسۃ) ۔ تم نے چھوا۔ ہاتھ لگایا (مراد ہے صحبت کرنا) ۔ مآء (پانی) ۔ تیمموا (تیمم کرو۔ (ارادہ کرو) ۔ صعیدا (مٹی) ۔ طیبا (پاک۔ صاف ستھری) ۔ حرج (گناہ۔ تنگی) ۔ لیتم (تاکہ وہ پورا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–10

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ معاہدہ کی تاکید میں فرمایا کہ شریعت میں اللہ اور اللہ کی مخلوق کے جو حقوق ٹھر چکے انصاف سے ادا کرنے میں ہر ایماندار کو ثابت قدم اور وقت پر تیار اور کھڑا ہونا چاہئے کہ یہی معاہدہ کے پورا کرنے کی باتیں ہیں ۔ یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ وہ تمام ایمانداروں کے دشمن تھے لیکن فتح مکہ کے بعد جب وہ بھی اسلام میں داخل ہوگئے تو اب اس پہلی دشمنی کا کچھ خیال دل میں نہ رکھنا چاہئے کیونکہ یہی انصاف کا طریقہ، متقی بننے کا ایک بہتر راستہ ہے ۔ اسکے خلاف چلنے پر خدا کا خوف کرنا چاہئے کہ وہ ہر شخص کے نیک و بد سب کاموں سے واقف ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–10

[13] منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے، بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی اور کان کیونکہ سر کا حصہ ہیں اس لئے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئے تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔ [14] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ نمبر 35 صفحہ 238

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–7

ٹخنوں تک : (ف 1) وضو کی تفصیلات اس لئے بیان کی ہیں کہ سابقہ مذاہب میں عبادت کے لئے یہ طریق نظافت مذکور نہیں ، وضو سے جس طرح میں بالیدگی اور ایک خاص نوع کی روحانی مسرت محسوس ہوتی ہے یہ مقتضی تھی کہ اسے شرط عبادت قرار دیا جائے ، پانچ وقت وضو کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان حد سے زیادہ پاک اور ستھرا رہنے پر مجبور ہے ۔ اعضاء ظاہر کے ہر وقت پاک رہنے سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جراثیم اثر نہیں کرتے ۔ شرط عبادت اس لئے قرار دیا ، تاکہ طبیعت میں ایک خاص قسم کی آمادگی پیدا ہوجائے اور مسلمان ظاہر و باطن کے ساتھ خدا کے سامنے جھک جائے ، وضو کے مسائل میں اہم اختلاف یہ ہے پاؤں دھوئے جائیں یا ان پر مسح کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 7–9

ف 2 اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو بھی یاد کرو جس کا اس نے تم سے اس وقت پختہ قول لیا تھا جب کہ تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور مان لیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ دل کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے (تیسیر) اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات اور اس کی بےانتہا نعمتیں ہیں انہی نعمتوں میں سے یہ نعمت بھی ہے کہ اس نے تمہارے شرعی احکام کی تکمیل کردی تمہارے دین میں آسانیاں رکھیں دینی اور دنیوی فلاح و بہبود کے طریقے تعلیم کئے اور دنیا کی ہدایت و رہنمائی کے منصب پر تم کو فائز کیا عہد جس کا تم سے پختہ قول لیا یا تو وہی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ اس لیے جو کام کرو اس میں اخلاص و اعتقاد بھی ہونا چاہیے صرف منافقانہ امتثال کافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انعام الٰہی کو یاد رکھو اور اپنے مضبوطء سے باندھے ہوئے عہد و پیمان کو مت بھولو : 51: اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے انعامات کی اس قدر بارش برسائی ہے کہ اگر کوئی انسان ان کو گننا چاہے تو گن نہیں سکتا۔ قرآن کریم میں بھی دوسری جگہ یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ : اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ہرگز شمار نہیں کر پاؤ گے۔ اس جگہ کونسی نعمت کا ذکر فرمایا گیا جس پر یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ اس نعمت الٰہی کو یاد رکھو عقل سلیم اس طرف راہنمائی کرتی ہے کہ اس نعمت سے مراد نبی اعظم و آخر ﷺ کا وجود اقدس ہے اس لیے کہ ساری دنیا کے لیے اور خصوصاً مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی ساری نعمتوں سے اعلیٰ وارفع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

Some injunctions of the Shariah concerning the conduct of worldly life, choices in marriage and food appeared in the previous verses. This verse mentions some injunctions relating to ` Ibadat, acts of worship like Salah, Wudu, Mash مسح ، Tayammum, Ghusl and Taharah

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28. The 'favour' mentioned here denotes illuminating the Straight Way, and entrusting to the believers the task of guidance and leadership of the whole world.

Read the full tafseer →