Al-Maaida 5:6

Al-Maaida · from ayah 6

5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَیْدِیَكُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَی الْكَعْبَیْنِ ؕ— وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا ؕ— وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ ؕ— مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضَىٰۤ اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ مِّنۡهُ‌ ؕ مَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّلٰـكِنۡ يُّرِيۡدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَ لِيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, when you rise to [perform] prayer, wash your faces and your forearms to the elbows and wipe over your heads and wash your feet to the ankles. And if you are in a state of janabah, then purify yourselves. But if you are ill or on a journey or one of you comes from the place of relieving himself or you have contacted women and do not find water, then seek clean earth and wipe over your faces and hands with it. Allah does not intend to make difficulty for you, but He intends to purify you and complete His favor upon you that you may be grateful.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:6

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے، اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو، اور اپنے سروں کا مسح کرو، اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو) اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو سارے جسم کو (غسل کے ذریعے) خوب اچھی طرح پاک کرو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کر کے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے جسمانی ملاپ کیا ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس (مٹی) سے مسح کرلو۔ اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا، لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک صاف کرے، اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت تمام کردے، تاکہ تم شکر گزار بنو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤ ں دھوؤ اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک (دھو لو) اور اگر جنبی ہو تو غسل کرلو اور اگر تم بیمار ہو، یا کسی سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے اور لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! جب نماز ادا کرنے کے لیے اٹھو تو پہلے اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھوں کو دھو لو، اپنے سروں کا مسح کرلو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر طہارت حاصل کرو۔ ہاں اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو، پھر تمہیں پانی نہ مل رہا ہو تو پاک مٹی سے کام لو۔ پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرلو۔ اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم اسکے شکرگزار بنو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو و اور اگر حالت جنابت میں ہو تو غسل کرلو، اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی جائے ضرور سے آیا ہو یا عورتوں سے ملاقات کی ہو، پھر پانی نہ پاؤ تو پاک جگہ دیکھ کر اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر اس سے مسح کرلو، اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے تاکہ تم اس کے شکر گزار رہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، جب تم اٹھو نماز کیلئے تو دھو لیا کرو اپنے چہروں کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک، اور مسح کرلیا کرو تم، اپنے سروں کا، اور (دھو لیا کرو تم) اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک، اور اگر تم جنبی ہوا کرو تو اچھی طرح پاک ہو لیا کرو (غسل کر کے) اور اگر تم بیمار ہو، یا کسی سفر پر ہوا کرو، یا تم میں سے کوئی (فارغ ہو کر) آیا ہوجائے ضرورت سے، یا تم نے صحبت کی ہو اپنی عورتوں سے، پھر تمہیں پانی نہ مل سکے، تو (ان تمام صورتوں میں) تم تیمم کرلیا کرو پاک مٹی سے، سو تم اس (پر ہاتھ مار کر اس) سے مسح کرلیا کرو اپنے چہروں، اور اپنے ہاتھوں کا، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے، لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کر دے (ہر ناپاکی سے) اور تم پر پورا کر دے اپنی نعمت کو، تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو،

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھو۔ تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولیا کرو اور اپنے سروں پر مسح کرلیا کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت (دھولیا کرو) ۔ اور اگر تم حالت جنابت میں ہو تو (سارا جسم) پاک صاف کرلو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی استنجا سے آئے یا تم نے عورت سے صبحت کی ہو۔ پھر تم کو پانی نہ ملے۔ تو پاک مٹی سے تیمم کرلیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کرلیا کرو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تمہارے اوپر کوئی تنگی ڈالے۔ بلکہ وہ (تو یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں خوب پاک صاف رکھے۔ اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم شکر گزاری کرو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! جب تم کھڑے ہو نماز کے لیے تو دھو لیا کرو اپنے چہرے اور دونوں ہاتھ بھی کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرلیا کرو اور (دھو لیاکرو) اپنے دونوں پاؤں بھی ٹخنوں تک اور اگر تم حالت جنابت میں ہو تو پھر تم اور زیادہ پاکی حاصل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی کسی نشیبی جگہ سے ہوکرآئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو اور تمہیں پانی دستیاب نہ ہو تو ارادہ کرلو پاک مٹی کا تو اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو مل لو اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کر دے) اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے تاکہ تم شکر گزار بن سکو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر مسح کرلو اور پاؤ ں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر ناپاکی کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہوجاؤ۔ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اللہ تم پر زندگی تنگ نہیں کرنا چاہتا۔ اگر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو، بس اس پر ہاتھ مار کر اپنے مونہوں اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو اللہ تم پر زندگی کو مشکل نہیں بنانا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تمہارے لیے پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بنو

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! When you stand up for Prayer wash your faces and your hands up to the elbows, and wipe your heads, and wash your feet up to the ankles. And if you are in the state of ritual impurity, purify yourselves (by taking a bath). But if you are either ill, travelling, have satisfied a want of nature or have had contact with women and find no water then have recourse to clean earth and wipe your faces and your hands therewith. Allah does not want to lay any hardship upon you; rather He wants to purify you and complete His favours upon you so that you may give thanks.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, when you rise for Salah, (prayer) wash your faces and your hands up to the elbows, and make MasH (wiping by hands) of your heads and (wash) your feet up to the ankles. If you are in a state of major impurity, cleanse yourselves well (by taking bath). If you are sick, or on a journey, or if one of you has come after relieving himself, or you have had sexual contact with women, and you find no water, then, go for some clean dust and wipe your faces and hands with it. Allah does not like to impose a problem on you; He, rather likes to cleanse you and to complete His favour upon you, so that you may be grateful.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, when you rise for Salah, (prayer) wash your faces and your hands up to the elbows, and make MasH (wiping by hands) of your heads and (wash) your feet up to the ankles. If you are in a state of major impurity, cleanse yourselves well (by taking bath). If you are sick, or on a journey, or if one of you has come after relieving himself, or you have had sexual contact with women, and you find no water, then, go for some clean dust and wipe your faces and hands with it. Allah does not like to impose a problem on you; He, rather likes to cleanse you and to complete His favour upon you, so that you may be grateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! When you stand (intend) to offer the Salah (the prayer), then wash your faces and your hands (forearms) up to the elbows, rub (by passing wet hands over) your heads, and (wash) your feet up to the ankles. If you are in a state of Janaba, purify yourselves (bathe your whole body). But if you are ill or on a journey or any of you comes from the Gha'it (toilet) or you have touched women and you find no water, then perform Tayammum with clean earth and rub therewith your faces and hands. Allah does not want to place you in difficulty, but He wants to purify you, and to complete His Favor to you that you may be thankful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! When ye rise up for prayer, wash you faces, and your hands up to the elbows, and lightly rub your heads and (wash) your feet up to the ankles. And if ye are unclean, purify yourselves. And if ye are sick or on a journey, or one of you cometh from the closet, or ye have had contact with women, and ye find not water, then go to clean, high ground and rub your faces and your hands with some of it. Allah would not place a burden on you, but He would purify you and would perfect His grace upon you, that ye may give thanks.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, when you rise to [perform] prayer, wash your faces and your forearms to the elbows and wipe over your heads and wash your feet to the ankles. And if you are in a state of janabah, then purify yourselves. But if you are ill or on a journey or one of you comes from the place of relieving himself or you have contacted women and do not find water, then seek clean earth and wipe over your faces and hands with it. Allah does not intend to make difficulty for you, but He intends to purify you and complete His favor upon you that you may be grateful.

— Saheeh International

Believers, when you are about to pray, wash your face and your hands along with the elbows and wipe your head and your feet to the ankles. If you experience a seminal discharge, manage to take (the required) bath. If you are sick, or on a journey, or have just defecated, or have had intercourse with women and cannot find any water, perform a tayammum by: touching clean natural earth with both palms and wiping (the upper part) of your face and (the back of) your hands. God does not want you to suffer hardship. He wants you to be purified. He wants to complete His favors to you so that perhaps you would give Him thanks.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! when you rise up to prayer, wash your faces and your hands as far as the elbows, and wipe your heads and your feet to the ankles; and if you are under an obligation to perform a total ablution, then wash (yourselves) and if you are sick or on a journey, or one of you come from the privy, or you have touched the women, and you cannot find water, betake yourselves to pure earth and wipe your faces and your hands therewith, Allah does not desire to put on you any difficulty, but He wishes to purify you and that He may complete His favor on you, so that you may be grateful.

— Muhammad Habib Shakir

O ye who believe! when ye stand up for the prayer wash your faces and your hands unto the elbows, and wipe your heads, and wash your feet unto the ankles. And if ye be polluted, then purify yourselves And if ye be ailing or on a journey or one of you cometh from the privy or ye have touched women, and ye find not water, then betake yourselves to clean earth and wipe your faces and hands therewith. Allah intendeth not to lay upon you a hardship, but intendeth to purify you and to complete His favour upon you, that haply ye may return thanks.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! when ye prepare for prayer, wash your faces, and your hands (and arms) to the elbows; Rub your heads (with water); and (wash) your feet to the ankles. If ye are in a state of ceremonial impurity, bathe your whole body. But if ye are ill, or on a journey, or one of you cometh from offices of nature, or ye have been in contact with women, and ye find no water, then take for yourselves clean sand or earth, and rub therewith your faces and hands, Allah doth not wish to place you in a difficulty, but to make you clean, and to complete his favour to you, that ye may be grateful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

وضو اور غسل کے احکامات اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب کہ آدمی بےوضو ہو۔ ایک جماعت کہتی ہے جب تم کھڑے ہو یعنی نیند سے جاگو یہ دونوں قول تقریباً ایک ہی مطلب کے ہیں اور حضرات فرماتے ہیں آیت تو عام ہے اور اپنے عموم پر ہی رہے گی لیکن جو بےوضو ہو اس پر وضو کرنے کا حکم وجوباً ہے اور جو باوضو ہو اس پر استحباباً۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر صلوۃ کے وقت وضو کرنے کا حکم تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے، فتح مکہ والے دن آپ نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں، یہ دیکھ کر حضرت عمر نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 24 نبی ﷺ نے اس حکم کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے، بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور کان چونکہ سر کا ایک حصہ ہیں اس لیے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی و بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہییں تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 25 جنابت خواہ مباشرت سے لاحق ہوئی ہو یا خواب میں مادہ منویہ خارج ہونے کی وجہ سے، دونوں صورتوں میں غسل واجب ہے۔ اس حالت میں غسل کے بغیر نماز پڑھنا یا قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔ (مزید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

ربط آیات پچھلی آیات میں کچھ احکام شرعیہ وہ ذکر کر کیے گئے جن کا تعلق انسان کی دنیوی زندگی اور کھانے پینے سے ہے۔ اس آیت میں چند احکام شرعیہ متعلق عبادات کے ذکر کئے گئے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو (یعنی نماز پڑھنے کا ارادہ کرو اور تم کو اس وقت وضو نہ ہو) تو (وضو کرلو یعنی) اپنے چہروں کو دھوؤ اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت (دھوؤ) اور اپنے سروں پر (بھیگا) ہاتھ پھیرو۔ اور اپنے پیروں کو بھی ٹخنوں سمیت (دھوؤ) اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو (نماز سے پہلے) سارا بدن پاک کرلو اور اگر تم بیمار ہو (اور پانی کا استعمال مضر ہو) یا حالت سفر میں ہو (اور پانی نہیں ملتا جیسا آگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 6 تا 11:۔ اوپر طعام و نکاح کے باب کے طیبات و خبائث کا ذکر فرما کر ان کی تطہیر فرمائی۔ اب نماز کی طہارت کا بیان آرہا ہے۔ نماز کی طہارت وضو ہے اور بصورتِ جنابت غسل۔ اسی ذیل میں پانی نہ ملنے یا کسی عذر کی صورت میں تیمم کی اجازت مرحمت فرمائی جو اس امت پر اتمامِ نعمت ہے اور یہ اس باب کا تکمیلی حکم ہے۔ اس کے بعد اس سلسلے میں جو اتمام نعمت فرمایا ہے اس کی یاد دہانی کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ تم " سمعنا واطعنا " کہہ کر خدا کے ساتھ جس عہد میں شریک ہوئے ہو اس کو برابر یاد رکھنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا۔ خدا سے کوئی بات بھی ڈھکی چھپی رہنے والی نہیں ہے۔ وہ دلوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح باخبر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

6۔ 1 منہ دھوؤ، یعنی ایک ایک دو دو یا تین تین مرتبہ دونوں ہتھیلیاں دھونے، کلی کرنے، ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کے بعد۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ منہ دھونے کے بعد ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے۔ 6۔ 2 مسح پورے سر کا کیا جائے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے اپنے ہاتھ آگے سے پیچھے گدی تک لے جائے اور پھر وہاں سے آگے کو لائے جہاں سے شروع کیا تھا۔ اسی کے ساتھ کانوں کا مسح کرلے۔ 6۔ 3 ارجلکم کا عطف وجوھکم پر ہے یعنی اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ ! 6۔ 4 جنابت سے مراد وہ ناپاکی ہے جو احتلام یا بیوی سے ہم بستری کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی حکم میں حیض اور نفاس بھی داخل ہے۔ جب حیض اور نفاس کا خون بند ہوجائے تو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–10

11: ”قضائے حاجت کی جگہ سے آنا“ در حقیقت اس چھوٹی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان پر نماز وغیرہ پڑھنے کے لیے صرف وضو واجب ہوتا ہے اور عورتوں سے ملاپ، اس بڑی ناپاکی کی طرف اشارہ ہے جس کو جنابت کہتا ہے اور جس میں غسل واجب ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے اور دونوں صورتوں میں اسکا طریقہ ایک ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اسلام میں نماز کی حیثیت اللہ کے ساتھ ملاقات کی ہے ۔ انسان اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوتا ہے ‘ اللہ سے دعا کرتا ہے ۔ اللہ کے ساتھ راز ونیاز ہوتا ہے اس لئے اس مقام پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب تیاری کی ضرورت ہے ۔ روحانی تطہیر سے پہلے اس بات کی ضرورت تھی کہ جسمانی پاکیزگی بھی ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ وضو کا حکم دیا گیا ۔ جہاں تک ہم سمجھے ہیں اصل حکمت تو اللہ کے علم میں ہے ۔ بہرحال وضو میں درج ذلیل چیزیں شامل ہیں چہرے کا دھونا ‘ ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور سر کا مسح کرنا اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا ۔ ان فرائض کے بارے میں معمولی فقہی اختلافات بھی ہیں ۔ اہم اختلاف یہ ہے کہ آیا یہ فرائض وضو اسی طرح ادا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 6 امت محمدیہ پر جو عظیم الشان احسانات کئے گئے ان کا بیان سن کر ایک شریف اور حق شناس مومن کا دل شکر گزاری اور اظہار وفاداری کے جذبات سے لبریز ہوجائے گا اور فطری طور پر اس کی یہ خواہش ہوگی کہ اس منعم حقیقی کی بارگاہ رفیع میں دست بستہ حاضر ہو کر جبین نیاز خم کرے اور اپنی غلامانہ منت پذیری اور انتہائی عبودیت کا عملی ثبوت دے۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ جب ہمارے دربار میں حاضری کا ارادہ کرو یعنی نماز کے لئے اٹھو تو پاک و صاف ہو کر آؤ۔ جن لذائذ دینوی اور مرغوبات طبیعی سے متمتع ہونے کی آیت وضو سے پہلی آیت میں اجازت دی گئی (یعنی طیبات اور محصنات) وہ ایک حد تک انسان کو ملکوتی صفات سے دور اور بہیمیت سے نزدیک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصّلٰوۃِ یعنی نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو۔ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ط یہاں پر واضح رہے کہ اَرْجُلَکُمْ اور اَرْجُلِکُمْ دونوں قراءتیں مستند ہیں ‘ لہٰذا اہل تشیّع اس کو مستقلاً ‘ اَرْجُلِکُمْپڑھتے ہیں اور ان کے نزدیک اس میں پاؤں پر مسح کا حکم ہے۔ چناچہ وہ وَامْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُم وَاَرْجُلِکُمْ کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں : اور مسح کرلیا کرو اپنے سروں پر بھی اور اپنے پاؤں پر بھی۔ لیکن اہل سنت کے نزدیک یہ اَرْجُلَکُمہے اور اِلَی الْکَعْبَیْنِکے اضافے سے یہاں پاؤں کو دھونے کا حکم بالکل واضح ہوگیا ہے۔ اگر صرف مسح کرنا مطلوب ہوتا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 حلت وحرمت کے احکام سے مقصود نفس کی طہارت تھا۔ اب جسم کی طہارت کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔ اس آیت میں وضو، تیمم اور غسل جنابت کا ذکر آیا ہے۔ تیمم اور غسل جنابت کے متعلق احادیث تو پہلے سورة نساء کی آیت نمبر 3۔ 4 کے تحت درج کی جا چکی ہیں وہاں سے دیکھ لی جائیں اور وضو اور طہارت کے متعلق احادیث یہاں درج کی جا رہی ہیں : 1۔ ایک دفعہ سیدنا عثمان ؓ نے پانی کا برتن منگوایا۔ پھر پہلے اپنی ہتھیلیوں پر تین بار پانی ڈال کر انہیں دھویا پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا، پھر کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا منہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھوئے، پھر ایک ہی بار سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

35 ۔ یعنی نماز کا ارادہ کرو اور حالت وضو میں نہ ہو، ای اذا اردتم (قرطبی) ای اذا ارتم القیام عبرعن ارادۃ الفعل بالفعل المسبب عنھا للایجاز (بیضاوی) اتنا فقرہ کہ حالت وضو میں نہ ہو، یا محدث ہو، محذوف مانا گیا ہے، اجمالا، اسی لیے وضو پر وضو نماز کے نماز کے لیے ضروری نہیں، وظاہر الایۃ یوجب الوضوء علی کل قائم الی الصلوۃ وان لم یکن محدثا والاجماع علی خلافہ (بیضاوی) مطلق ارید بہ التقیید والمعنی اذا قمتم الی الصلوۃ محدثین (بیضاوی) وقدروی نفی ایجاب الوضوء بکل صلاۃ من غیر حدث عن ابن عمر وابی موسیٰ و جابر بن عبداللہ وعبیدۃ السلمانی وابی العالیۃ و سعید بن المسیب و ابراہیم والحسن ولا خلاف بین الفقہاء فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–10

آیت نمبر 6 تا 11 ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کیلئے اٹھو یعنی اٹھنے کا ارادہ کرو حال یہ کہ تم بےوضو ہو تو اپنے چہرت اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھولیا کرو یعنی مع کہنیوں کے، جیسا کہ اس کو سنت نے بیان کیا ہے، اور سروں پر ہاتھ پھیرلیا کرو باء الصاق کے لئے ہے، یعنی مسح کو سروں سے بغیر پانی بہائے متعلق کردو مسح اسم جنس ہے لہٰذا جس پر مسح صادق آئے اس کا کم سے کم کافی ہے، اور وہ سر کے بعض بالوں کا مسح ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور ٹخنوں سمیت پیر دھولیا کرو جیسا کہ سنت نے بیان کیا ہے (اَرْجُلَکم) نصب کے ساتھ ہے اَیْدِیَکم پر عطف کرتے ہوئے اور جر پڑوس کی رعایت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یا ایہا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ اے ایمان والو ! جب تم نماز کو اٹھنے لگو۔ بخاری نے قاسم کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ہم مدینہ کو آ رہے تھے کہ میرا ہار کہیں صحرا میں گرپڑا اس لئے رسول اللہ ﷺ : کو پڑاؤ کرنا پڑا اور آپ فروکش ہوگئے (لوگ ہار کی تلاش کرنے لگے) حضور ﷺ : فروکش ہونے کے بعد میری گود میں سر رکھ کر سو گئے۔ اتنے میں ابوبکر ؓ : آئے اور میرے مکہ مارنے لگے اور فرمانے لگے تو نے ایک ہار کے لئے لوگوں کو روک رکھا ہے کچھ دیر کے بعد رسول اللہ ﷺ بیدار ہوگئے اور صبح کی نماز کا وقت آگیا۔ وضو کے لئے پانی تلاش کیا گیا مگر پانی نہیں ملا اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی اسید بن حضیر ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(6) جب نماز کے وقت تم بےوضو ہو تو اللہ تعالیٰ نے وضو کرنے کا طریقہ سکھلا دیا نیز اپنے پیروں کو بھی ٹخنوں سمیت دھوؤ اور غسل کی حاجت پر غسل کرلو، یہ آیت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے بارے میں نازل ہوئی یعنی پانی کا استعمال نقصان دہ ہو یا زخم وغیرہ یا اس کے علاوہ پیشاب یا پاخانہ کی حاجت سے فارغ ہوا ہو یا ہم بستری کی ہو اور پھر پانی میسر نہ ہو سکے تو دو ضربوں کے ساتھ پاک مٹی سے تیمم کرلو وہ اللہ تمہیں تیمم کے ذریعے حدث اصغر (چھوٹی ناپاکی جس سے وضو ٹوٹ جائے جیسے پاخانہ، پیشاب کا آنا، خون اور ہوا کا نکلنا وغیرہ) اور حدث اکبر (بڑی ناپاکی جس کے بعد غسل کرنا واجب اور ضروری ہوجاتا ہے جیسے جنابت، احتلام، حیض…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ۔۔ : اوپر کی آیات میں ”اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ“ کے تحت حلال و حرام چیزیں بتائی گئی تھیں، اب اس آیت میں اسی کے تحت وضو اور تیمم کے احکام بیان فرمائے ہیں جو عقود میں شامل ہیں اور سہولت پر مشتمل ہونے کے اعتبار سے اتمام نعمت (نعمت پوری کرنا) بھی ہیں۔ (کبیر، قرطبی) غزوۂ مریسیع (5 یا 6 ہجری) میں عائشہ ؓ کا ہار گم ہوگیا تھا، ہار کی تلاش میں صبح ہوگئی اور پانی موجود نہ تھا، لوگ فکر مند ہوئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ بخاری، التیمم، باب : 334 ] اس آیت سے چونکہ صحابہ ؓ کو پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی رخصت ملی، اس لیے علماء نے اس آیت کو آیت وضو کے بجائے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 6۔ اس آیت میں بتیس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر : (1) قشیری اور ابن عطیہ نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عائشہ ؓ کے واقعہ میں نازل ہوئی جب غزوہ المریسیع میں آپ کا ہار گم ہوگیا تھا یہ آیت وضو ہے ابن عطیہ (رح) نے کہا : لیکن اس حیثیت سے کہ وضو ان کے نزدیک ثابت تھا اور مستعمل تھا تو اس آیت نے اس میں ان کے لیے کچھ زیادتی نہ کی مگر اس کی تلاوت انہیں تیمم میں رخصت کا فائدہ دیا (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 160 دارالکتب العلمیہ) ہم نے سورة النساء کی آیت میں اس کے خلاف ذکر کیا۔ واللہ اعلم۔ اس آیت کا مضمون داخل ہے جو عہد کی وفا اور احکام شرع کی تابعدار کا حکم دیا گیا ہے اور جو اس میں نعمت کو مکمل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ علقمہ بن صفوان (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کرتے تھے تو ہم آپ سے باتیں کرتے مگر آپ ہم سے باتیں نہیں کرتے تھے۔ ہم آپ کو سلام کرتے مگر آپ ہم کو سلام کا جواب نہیں دیتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ اپنے گھر والوں کے پاس آتے وضو فرماتے جیسے نماز کے لئے وضو ہوتا ہے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے آپ سے بات کی لیکن آپ نے ہم سے بات نہیں کی، ہم نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے ہم کو جواب نہیں دیا یہاں تک کہ رخصت والی ایک آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ موزوں پر مسح کرنا (2) امام مسلم، ابو داؤو،…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگوں جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اِذَا : جب کبھی ] [ قُمْتُمْ : تم لوگ اٹھو ] [ اِلَى الصَّلٰوةِ : نماز کی طرف ] [ فَاغْسِلُوْا : تو دھولو ] [ وُجُوْهَكُمْ : اپنے چہروں کو ] [ وَاَيْدِيَكُمْ : اور اپنے ہاتھوں کو ] [ اِلَى الْمَرَافِقِ؛ کہنیوں تک ] [ وَامْسَحُوْا : اور مسح کرو ] [ بِرُءُوْسِكُمْ : اپنے سروں کا ] [ وَاَرْجُلَكُمْ : اور (دھولو) اپنے پیروں کو ] [ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ: دونوں ٹخنوں تک ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [ جُنُبًا : ناپاک ] [ فَاطَّهَّرُوْا ۭ : تو خود کو پاک کرو ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ كُنْتُمْ : تو لوگ ہو ] […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

وضو اور غسل کا حکم اور تیمم کی مشروعیت ان آیات میں وضو کا حکم اور اس کا طریقہ بیان فرمایا ہے، اول تو وضو کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے جہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور سروں کا مسح کرلو اور پاؤں کے ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اِذا قُمْتُمْ کا مطلب چونکہ عام طور پر بیٹھے ہوئے اور کام کاج میں لگے ہوئے باوضو نہیں رہتے اس لئے یہ فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو منہ اور ہاتھ اور پاؤں دھونے اور سر کا مسح کرنے کا عمل کرلیا کرو۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے سے وضو ہو تب بھی وضو کرو۔ غالب احوال کے پیش نظریوں فرمایا کہ جب نماز کی طرف کھڑے ہو تو یہ عمل کرو، رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم ہشتم۔ ونہم۔ ودہم۔ فرضیت وضوء، وفرضیت غسل، ومشروعیت تیمم۔ قال تعالیٰ یا ایھا الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔ تشکرون۔ ربط) ابتداء سورت میں اجمالی طور پر عقود اور عہود کے ایفاء کا حکم دیا پھر اس کی تفصیل شروع فرمائی تو سب سے پہلے کھانے کی چیزوں کی اباحت اور حلت کو بیان فرمایا پھر حلال عورتوں کا ذکر کیا جن سے نکاح کی اجازت دی گئی اور چونکہ انسانی حاجتیں اور کھانے پینے کی ضرورتیں بہ نسبت نکاح کے زیادہ ہیں اس لیے ان کو مقدم فرمایا اور نکاح کو ان کے بعد بیان کیا ان عقود کا تعلق دنیا سے تھا اب ان عقود اور عہود کو بیان کرتے ہیں جو دین اور عبودیت سے متعلق ہیں اور چونکہ اکل حلال اور وطی حلال خداوند ذوالجلال کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

26 ایفائے عقود کے عام حکم کے بعد چاروں مسائل (تحریمات اللہ، تحریمات غیر اللہ، اللہ کی نذریں اور غیر اللہ کی نذریں) بیان فرمائے اور آپس میں بغض وعداوت رکھنے سے منع فرمایا۔ اب یہاں ایک امر مصلح (نماز) کا ذکر کیونکہ نماز سے ظاہر و باطن کی تطہیر ہوتی ہے۔ اس طرح نماز ایفائے عقود، محرمات کو حرام سمجھنے، حلال کو حلال سمجھنے اور باہمی بغض و عداوت کو دور کرنے میں ممد و معاون ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اِنَّ الصلوۃ تَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْکَرِ (عنکبوت ع 5) اور صحیح حدیث میں ہے سووا صفوفکم او لیخالفن اللہ بین قلوبکم یعنی نماز میں صفیں سیدھی کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–7

ربط آیات گذشتہ دردس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا قانون بتایا۔ نکاح اور اکل و شرب میں حلال و حرام کو واضح کیا ، یہ دراصل طہارت ہی کا بیان ہے۔ انسان کے لیے ظاہری اور باطنی طہارت ضروری ہے ۔ عبادت سے بھی انسان کو باطنی طہارت حاصل ہوتی ہے اور عبادت کرنے سے پہلے ظاہری طہارت کی ضرورت ہوتی ہے ، کیونکہ اس کے بغیر نماز بھی ادا نہیں ہوسکتی۔ اور نماز کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں طہارت صغریٰ یعنی وضو کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے ۔ اب آج کے درس میں طہارت کبریٰ کا بیان ہے یعنی جنابت کی حالت طاری ہوجائے تو کس طرح طہارت حاصل کرنی چاہیے۔ حدث اکبر بےوضو ہونا حدث اصغر ہے جب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ۝ 0ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوْا۝ 0ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْہُ۝ 0ۭ مَا يُرِيْدُ اللہُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَہِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : اذ شرطیہ فاغسلوا جواب الی المرافق الی بمعنی مع متعلق ہے اغسلوا سے برؤسکم بازائد ہے وقیل للا لصاق وارجلکم بالنصب اس لئے کہ اس کا عطف وجوھکم پر ہے ای فاغسلوا ارجلکم اور بالجر اس طور سے کہ اس کو رئوس پر معطوف کیا جاوے اور حکم دونوں کا مختلف ہو اور اس کو جر جوار کہتے ہیں یعنی سر کا مسح ہو اور پائوں دھونے چاہییں اور اس قسم کا جر جو قرآن مجید اور کلام شعراء میں واقع ہے وان کنتم شرط فتیموا الخ جواب۔ تفسیر : اس سورة میں اول اوفوا بالعقود کہہ کے وفائِ عہد کا حکم دیا گیا تھا مگر اس سے ضمناً یہ بات بھی نکلتی تھی کہ جب تم بندے ہو کر عہد کو پورا کرنے پر مجبور کئے جاتے ہو تو میں رب العالمین زیادہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُوْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ط وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا ط وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ ط مَا یُرِیْدُ اللہ ُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : غذائی پاکیزگی کے بعد جسمانی طہارت کا حکم۔ سورۃ النساء کی آیت 43 میں غسل اور تیمم کا مسئلہ بیان کیا گیا تھا۔ اب حکم ہوا ہے کہ اے صاحب ایمان لوگو ! جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو۔ اپنے سروں کا مسح کیا کرو اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا کرو۔ اگر حالت جنابت میں ہو تو غسل کرکے پاک ہوجاؤ۔ کوئی شخص بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو یا اس نے اپنی بیوی سے مجامعت کی ہو اور اسے پانی نہ ملے تو پاک مٹی پر ہاتھ مار کر منہ اور چہرے کا مسح کرو۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سختی کا ارادہ نہیں رکھتا وہ تمہیں پاک کرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ارادہ فعل فعل ہے : آیت 6 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ (اے ایمان والو جب تم نماز کے لئے اٹھنے لگو تم اپنے چہروں کو دھوئو) قُمْتُمْ سے مراد ارادہ کرنا ہے جیسا کہ دوسری آیت اذا قرأت القرٰان النحل آیت 98۔ میں ہے کہ جب تم قراءت قرآن کا ارادہ کرو۔ گویا ارادئہ فعل کو فعل سے تعبیر فرمایا گیا۔ کیونکہ فعل ارادے کا مسبب ہے پس مسبب کو قائم مقام سبب کے ذکر کردیا۔ کیونکہ ان کے درمیان ملابست پائی جاتی ہے اور کلام میں اختصار کے لیے ایسا کیا گیا۔ جیسا کہتے ہیں کما تدین تدان۔ فعل ابتدائی جو جزاء کا سبب ہے اس کو لفظ جزاء سے تعبیر کردیا۔ جو کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 6 تفسیر : (یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ اے ایمان والو ! جب تم اٹھو نماز کو) یعنی جب تم ارادہ کرو نماز کی طرف کھڑا ہونے کا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے جب تو قرآن کی قرأت کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ اور آیت کا ظاہر تقاضا کرتا ہے کہ جب بھی نماز کے قیام کا ارادہ ہو تو وضو واجب ہے لیکن سنت کے بیان اور نبی کریم ﷺ کے فعل سے یہ بات ہمیں معلوم ہوئی کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ جب تم نماز کی طرف کھڑے ہو اور تم پاکی پر نہ ہو تو وضو کرو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی نماز ناپاکی کی حالت میں قبول نہیں کرتے جب تک وہ وضو نہ کرے۔ (البخاری کتاب الحیل، الترمذی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کی راحت کی چیزیں اس لئے پیدا کی ہیں کہ انسان ان سختیوں سے راحت اٹھا کر اس راحت کے شکریہ میں اللہ کی کچھ عبادت کرے اسی واسطے اوپر کی آیتوں میں انسان کی راحت کی حلال چیزوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ہر روز کی پانچ وقت کی عبادت نماز کا ذکر فرمایا اور نماز کے لئے طہارت ضروری ہے۔ اس واسطے نماز کے ذکر کے ساتھ وضو غسل اور تیمم کے حکم کی تفصیل فرمائی۔ نماز پڑہنے کے لئے کھڑے ہونے کا ارادہ جب کوئی مسلمان شخص کرے اور وہ بےوضو ہو تو اس پر وضو فرض ہے اور با وضو ہو کر پھر دوسرا وضو کرے تو مستحب ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 6 یہ آیت عظیمہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ان کو بیان کرنے کی جتنی آسانی عطا فرمائی ہم ان کو بیان کریں گے۔ (1) جو کچھ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے ان پر عمل کرنا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اس طرح صادر ہوتا ہے (یایھا الذین امنوا۔۔۔ ) یعنی اے ایمان والے لوگو ! اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق ان امور پر عمل کرو جو ہم نے تمہارے لئے مشروع کئے ہیں۔ (2) اللہ تعالیٰ کے ارشاد (اذا قمتم الی الصلوۃ) ” جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو۔ “ سے نماز کو قائم کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ (3) اس میں نماز کے لئے نیت کے حکم کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

نماز کے لئے طہارت کا بیان قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم، اے ایمان لانے والو ! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے چہرے دھو لو) تا اخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت نماز کے لئے اٹھنے کے بعد وجوب طہارت کا مقتضی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے لئے اٹھنے کو طہارت کے عمل کے لئے شرط قرار دیا ہے۔ نحوی لحاظ سے جزا کا حکم یہ ہوتا ہے کہ وہ شرط سے متاخر ہو۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص اپنی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ ” اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق “ تو اس صورت میں گھر کے اندر داخل وہنے کے بعد اس پر طلاق واقع ہوگی۔ جب کسی سے یہ کہا جائے کہ ” جب زید سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26 وضو میں غَسْلِ رِجْلَیْن کا حکم : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور دھویا کرو تم لوگ اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک۔ یعنی { َارْجُلَکُم } کا عطف مغسول { وُجُوْھَکُمْ } پر ہے نہ کہ مجرور { برُؤسِکُم } پر۔ جیسا کہ شیعہ امامیہ کا کہنا ہے۔ اور اس کی بڑی دلیل سنت مطہرہ اور سلف صالحین کا قولی اور عملی اجماع و تواتر ہے۔ یعنی صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہ سب کا ۔ عَلَیِہِمُ الرَّحمۃُ والرضِوان ۔ چناچہ محقق ابن امبر الجاح لکھتے ہیں کہ تیس سے زیادہ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ کے وضو کو روایت کیا ہے۔ اور یہ سب اس پر متفق ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ پاؤں کو دھویا ہے مسح کا ذکر کسی ایک روایت میں بھی نہیں آیا۔ (تحریر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

وضو، غسل اور تیمم کا طریقہ تشریح : اس آیت میں پاک صاف ہو کر نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکیزگی انسانی صحت اور روح کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی خوراک۔” پاک صاف رہنا نصف ایمان ہے۔ “ ( مسلم) اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جب بھی تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرلو۔ وضو کرنے میں ہمارے جسم کی صفائی ہوجاتی ہے کیونکہ پہلے دونوں ہاتھ دھلتے ہیں، پھر منہ میں پانی ڈال کر اچھی طرح کلی ہوتی ہے، پھر ناک کی صفائی خوب اچھی طرح، پھر منہ کا دھونا اس کے بعد دونوں بازو کہنیوں تک، پھر ہاتھ تر کرکے سر کا مسح اور آخر میں ٹخنوں تک پاؤں اچھی طرح دھوئے جاتے ہیں یہ ساراکام انسان کو نہ صرف صاف ستھرا کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 6–11

رکوع نمبر 2 ۔ آیات نمبر 6 تا 11: اسرار و معارف : کفر اور آخرت کی ناکامیوں سے بچنے کے لیے پاکیزگی ضروری ہے کفر دل کی نجاست اور آلودگی کا نام ہے ہر گناہ دل کو آلودہ کردیتا ہے حتی کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب آلودگی کفر کی حد کو پہنچ جاتی ہے اب دل کی طہارت اور پکیزگی کے لیے اس کو نجاست سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بدن بھی پاک رکھا جائے اور اللہ کریم کے ساتھ عبادت کا تعلق قائم رکھا جائے ہر حال اور ہر صورت میں ، بلکہ فرائض کو چھوڑنا تو موت کو دعوت دینے والی بات ہے فرائض کے ساتھ حسب ہمت نوافل اور اذکار کو شامل رکھنا چاہئے اب فرائض کی ادائیگی کے لیے جسم کا پاک ہونا شرط ہے اور اگر پاک بھی ہے تو وضو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اوپر کی آیات میں افو بالعقود کے تحت حلال اور حرام چیزیں بتائی گئی تھیں اب اس آیت میں اس کے تحت وضو اور تیمم کے احکام بیان فرمائے ہیں جو کہ عقود میں داخل ہیں اور سہولت پر مشتمل ہونے کا اعتبار سے اتمام نعمت بھی ہیں (کبیر، قرطبی) غزوہ مریسیع (5 ھ) میں حضرت عائشہ ؓ کا ہار گم ہوگیا تھا ہا رکی تلاش میں صبح ہوگئی اور پانی موجود نہ تھا صحانہ ؓ نے پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی رخصت حاصل کی ہے کیونکہ وضو تو پہلے بھی معلوم تھا، اس لیے علما نے اس آیت کو آیت وضو کہنے کی بجائے آیت تیمم بھی کہا ہے (قرطبی) اور بےوضو ہو کی قید جمور اہ علم نے لگا یہ ہے کہ کیونکہ اگر انسان پہلے سے باوضو ہو تو دوبارہ وضو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:6) المرافق۔ جمع المرفق المرفق۔ واحد کہنیاں۔ المرفق وہ چیز جس سے سہارا لیں۔ وہ چیز جس سے نفع اٹھایا جائے۔ اسی سے ہے مرافق الدار۔ گھر کے منافع کی چیزیں۔ لوازمات خانہ۔ جیسے کنواں ۔ نلکا۔ باورچی خانہ۔ پائخانہ وغیرہ۔ ارجلکم۔ منصوب ہے لہٰذا اس کا عطف ایدیکم پر ہے۔ جنبا۔ دور۔ اجنبی۔ جنبی ۔ جنب سے بمعنی دور رہنا۔ دور کرنا۔ جنبی جسے جنابت لاحق ہو یعنی جس پر ونحوہ بل کا یا اس جیسے سینگوں والے جانور کا سینگ سے مارنا۔ السبع۔ درندہ۔ واحد اسبع وسباع وسبوع جمع۔ ذکیتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے ذبح کیا۔ ذکی الذبیحۃ اس نے جانور کو ذبح کیا ۔ الا ما ذکیتم (سوائے اس کے جسے تم ذبح کرلو) یہ استثناء یا تو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت نمبر 6 – 7 لغات القرآن : قمتم (تم کھڑے ہوئے) ۔ وجوہ (وجہ) ، چہرے) ۔ ایدی (دونوں ہاتھ۔ (یہاں نون گرگیا) ۔ المرافق (مرفق) ۔ کہنیاں) ۔ امسحوا (تم مسح کرو۔ (سر پر ہاتھ پھیرنے کو مسح کہتے ہیں) ۔ رءوس (راس) ۔ سر) ۔ ارجل (رجل) ۔ پاؤں) ۔ الکعبین (الکعب) ۔ ٹخنے (پاؤں کی ابھری ہوئی ہڈی) ۔ جنبا (جنابت) ۔ ایسی حالت جس میں غسل واجب ہوتا ہے) ۔ اطھروا (تم اچھی طرح پاک ہوجاؤ) ۔ الغآئط (رفع حاجت کی جگہ۔ (نیچی جگہ) ۔ لمستم (لمس، ملامسۃ) ۔ تم نے چھوا۔ ہاتھ لگایا (مراد ہے صحبت کرنا) ۔ مآء (پانی) ۔ تیمموا (تیمم کرو۔ (ارادہ کرو) ۔ صعیدا (مٹی) ۔ طیبا (پاک۔ صاف ستھری) ۔ حرج (گناہ۔ تنگی) ۔ لیتم (تاکہ وہ پورا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے ذکر کے ساتھ وضو غسل اور تیمم کے حکم کی تفصیل فرمائی ۔ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہونے کا ارادہ جب کوئی مسلمان کرے اور وہ بےوضو ہو اس پر وضو فرض ہے، اور باوضو ہوکر پھر دوسرا وضو کرے تو مستحب ہے ۔ فرائض وضو کے یہ چار ہیں : (1) اول منہ دھونا (2) دوم دونوں ہاتھوکو کہنیوں سمیت دھونا (3) تیسرے چوتھائے سر کا مسح کرنا۔ (4) چوتھے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھونا یہ چار فرض ہیں ۔ پھر طہارت کے لفظ سے ستھرائی مراد ہے یعنی غسل جس کی دس سنتیں ہیں : (1) اول نیت) (2) دوم دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھونا (3) تیسرے بسم اللہ پڑھنا (4) چوتھے غسل سے پہلے اپنی شرمگاہ دھونا خواہ نجاست ہو یا نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–10

[13] منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے، بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی اور کان کیونکہ سر کا حصہ ہیں اس لئے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئے تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہوجائیں۔ [14] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ نمبر 35 صفحہ 238

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–7

ٹخنوں تک : (ف 1) وضو کی تفصیلات اس لئے بیان کی ہیں کہ سابقہ مذاہب میں عبادت کے لئے یہ طریق نظافت مذکور نہیں ، وضو سے جس طرح میں بالیدگی اور ایک خاص نوع کی روحانی مسرت محسوس ہوتی ہے یہ مقتضی تھی کہ اسے شرط عبادت قرار دیا جائے ، پانچ وقت وضو کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان حد سے زیادہ پاک اور ستھرا رہنے پر مجبور ہے ۔ اعضاء ظاہر کے ہر وقت پاک رہنے سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جراثیم اثر نہیں کرتے ۔ شرط عبادت اس لئے قرار دیا ، تاکہ طبیعت میں ایک خاص قسم کی آمادگی پیدا ہوجائے اور مسلمان ظاہر و باطن کے ساتھ خدا کے سامنے جھک جائے ، وضو کے مسائل میں اہم اختلاف یہ ہے پاؤں دھوئے جائیں یا ان پر مسح کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اے ایمان والو ! جب تم نماز پڑھنے کو اٹھو یعنی نماز پڑھنے کا ارادہ کرو اور تم کو وضو نہ ہو تو نماز پڑھنے سے پہلے اپنے چہروں کو دھو لیا کرو یعنی پورے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو یعنی کہنیاں دھونے میں داخل ہوں اور اپنے سروں پر مسح کرلیا کرو یعنی پانی سے ہاتھ تر کر کے اپنے سروں پر پھیرلیا کرو اور اپنے پائوں ٹخنوں تک دھو لیا کرو یعنی ٹخنے دھونے میں داخل ہوں اور اگر تم جنبی ہو یعنی جنابت کی حالت میں ہو تو تمام جسم کو خوب اچھی طرح پاک کرو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا تھا احسانات کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان محسن کا شکر بجا لائے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یہ چار چیزیں فرض ہیں وضو میں باقی امور مسنون ومستحب ہیں۔ 2۔ اوپر احکام طہارت کے مذکور ہیں جن میں رعایت سہولت و مصلحت عباد کی ملحوظ ہے آگے اس طہارت اور رعایت پر منت ظاہر فرماتے ہیں اور تحریک شکر کی دیتے ہیں۔ 3۔ یعنی یہ منظور ہے کہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے چناچہ احکام مذکور میں خصوصا اور جمیع احکام شرعیہ میں عموما رعایت سہولت و مصلحت کی ظاہر ہے۔ 4۔ اس لیے طہارت کے قواعد اور طرق مشروع کیے اور کسی ایک طریق پر بس نہیں کیا کہ اگر وہ نہ ہو تو طہارت ممکن ہی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کے لئے حکم کہ نماز کے لئے کھڑا ہونا واہو تو پہلے وضو کرلیا کرو : 44: قبل ازیں کھانے پینے اور بیاہ شادی کے احکام بتائے تھے جو حدث اصغر اور حدث اکبر کا باعث ہوتے ہیں اب یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ جب تم طبعی تقاضوں کو پورا کرچکے ہو تو عبادت کی طرف آؤ اور عبادات میں سب سے پہلے نمبر نماز ہی کا ہے فرمایا ہے کہ جب تم نماز کے لئے کھڑا ہونا چاہو تو حدیث اصغر کے لئے وضو اور حدث اکبر کے لئے غسل کا حکم دیا رکھو۔ کہا گیا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب آدمی نماز ادا کرنا چاہے اور وہ بےوضو ہو اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب تم نیند سے بیدار ہو تو نماز پڑھنا چاہو تو وضو کرلو۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ آیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

Some injunctions of the Shariah concerning the conduct of worldly life, choices in marriage and food appeared in the previous verses. This verse mentions some injunctions relating to ` Ibadat, acts of worship like Salah, Wudu, Mash مسح ، Tayammum, Ghusl and Taharah

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24. The explanation of this injunction by the Prophet (peace be on him) indicates that washing of the face includes rinsing one's mouth and inhaling water into the nostrils. Unless this is done the washing of the face is not considered complete. Likewise, since the ears are part of the head, 'wiping the head' includes wiping one's hands over the external and internal parts of the ears as well. Moreover, before starting to wash the other parts one should first wash one's hands so that the instruments of washing are themselves clean. 25. Janabah (the state of major ritual impurity) - whether…

Read the full tafseer →