Explained with ayahs 83–86
ایمان والو کی پہچان
اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
سورة الْمَآىِٕدَة 103
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلہ وحی و رسالت کو مانتے ہوں۔ لیکن یہ یہودی عجیب قسم کے اہل کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھلم کھلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں، اقرار نبوت اور انکار نبوت کی لڑائی میں علانیہ ان کی ہمدردیاں منکرین نبوت کے ساتھ ہیں، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ربط آیات
اوپر یہود کا مشرکین سے دوستی رکھنا مذکور تھا، آگے ان کا مع مشرکین کے مسلمانوں سے عداوت رکھنا مذکور ہے جو اس دوستی کا اصلی سبب تھا اور چونکہ ہر معاملہ ایک درجہ میں شمار نہیں کیا، جس میں کوئی بڑا داعی ہے اس لئے یہود و نصاریٰ میں بھی سب کو ایک درجہ میں شمار نہیں کیا۔ جس میں کوئی خوبی تھی اس کا بھی اظہار کیا گیا، مثلاً نصاریٰ کی ایک خاص جماعت میں یہ بسنت ان یہود کے تعصب کا کم ہونا۔ اور ان نصاریٰ میں جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا ان کا مستحق حسن ثناء و حسن جزا ہونا مذکور ہے۔ اور یہ خاص جماعت حبشہ کے نصاریٰ کی ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو جبکہ ہجرت مدینہ کے قبل اور وہ اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
تفسیر آیات 83 تا 86:۔ وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰٓي اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَـقِّ ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ۔ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَاۗءَنَا مِنَ الْحَقِّ ۙ وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ۔ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭوَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْمُحْسِنِيْنَ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــحِيْمِ۔
قرآن کے بارے میں اچھے نصاریٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
82۔ 1 اس لئے کہ یہودیوں کے اندر عناد و جحود، حق سے اعراض و استکبار اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کا قتل اور ان کی تکذیب ان کا شعار رہا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے رسول اللہ کے قتل کی بھی کئی مرتبہ سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم سعی کی۔ اور اس معاملہ میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔
82۔ 2 رُھْبَانُ سے مراد نیک، عبادت گزار اور گوشہ نشین لوگ قَسِّیْسِیْنَ سے مراد علما وخطبا ہیں، یعنی ان عیسائیوں میں علم و تواضع ہے، اس لئے ان میں یہودیوں کی طرح حجود و استکبار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دین مسیح میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو امتیازی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
57: جب مسلمانوں کو حبشہ سے نکالنے کا مطالبہ لے کر مشرکین مکہ کا وفد نجاشی کے پاس آیا تھا تو اس نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلاکر ان کا موقف سنا تھا، اس موقع پر آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر ابن ابی طالب نے اس کے دربار میں بڑی مؤثر تقریر کی تھی جس سے نجاشی کے دل میں مسلمانوں کی عظمت اور محبت بڑھ گئی اور اسے اندازہ ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ وہی آخری نبی ہیں جن کی پیشینگوئی تورات اور انجیل میں کی گئی تھی، چنانچہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو نجاشی نے اپنے علماء اور راہبوں کا ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا، آنحضرت ﷺ نے ان کے سامنے سورة یسین کی تلاوت فرمائی جسے سن کر ان لوگوں کی آنکھوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(آیت) ” نمبر 83 تا 84 ۔
یہ ایک زندہ منظر ہے اور اس میں اس گروہ کی مکمل تصویر نظر آتی ہے ۔ یہ گروہ جو اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں دوسرے کے مقابلے میں قریب تر ہے ۔ یہ ایسا گروہ ہے کہ جب قرآن مجید کا تازہ ترین حصہ نازل ہوتا ہے تو اس گروہ کے جذبات جوش میں آجاتے ہیں ۔ ان کے دل نرم ہوجاتے اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتی ہیں ۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس قرآن سے نہایت ہی گہرا اثر لیتے ہیں ۔ وہ اس تاثر کا اظہار صرف آنسوؤں کی زبان میں کرتے ہیں اور اس قسم کا اظہار اس وقت کیا جاتا ہے جب انسان کے لئے الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
1 ان آیات میں بتلایا گیا کہ یہود کا مشرکین سے دوستی کرنا محض اسلام اور مسلمانوں کی عداوت و بغض کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کو جن اقوام سے زیادہ سابقہ پڑتا تھا ان میں یہ دونوں قومیں یہود اور مشرکین علی الترتیب اسلام و مسلمین کی شدید ترین دشمن تھیں۔ مشرکین مکہ کی ایذا رسانیاں تو اظہر من الشمس ہیں۔ لیکن ملعون یہود نے بھی کوئی کمینہ سے کمینہ حرکت اٹھا کر نہیں رکھی۔ حضور ﷺ کو بیخبر ی میں پتھر کی چٹان گرا کر شہید کرنا چاہا، کھانے میں زہر دینے کی کوشش کی، سحر اور ٹوٹکے کرائے، غرض غضب پر غضب اور لعنت پر لعنت حاصل کرتے رہے۔ اس کے بالمقابل نصاریٰ باوجودیکہ وہ بھی کفر میں مبتلا تھے، اسلام سے جلتے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت 83 وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِ ج
یہ ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ مکی دورّ میں جب صحابہ رض ہجرت کر کے حبشہ گئے تھے تو ان کے ذریعے سے وہاں کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ پھر جب مدینہ منورہ میں اسلام کا غلبہ ہوگیا اور عرب میں امن قائم ہوگیا تو ان کا ایک وفد مدینہ آیاجوستر 70 افراد پر مشتمل تھا اور اس میں کچھ نو مسلم بھی شامل تھے۔ آیت زیر نظر میں اس وفد کے ارکان کا ذکر ہے کہ جب انہوں نے قرآن سناتو حق کو پہچان لینے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
129 ہجرت حبشہ اور نجاشی کا کردار :۔ مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں سے تنگ آ کر 5 ھ نبوی میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ شاہ حبشہ کے ساتھ قریش مکہ کے تجارتی مراسم تھے۔ ان کا ایک وفد ان کو واپس لانے کے لیے وہاں پہنچا۔ اور چند درباریوں سے مل کر انہیں تحفے اور تحائف دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ کل جب ہم نجاشی کے سامنے اپنی عرضداشت پیش کریں تو وہ ہماری ہاں میں ہاں ملا دیں اور سفارش بھی کریں۔ دوسرے دن اس وفد نے دربار میں حاضر ہو کر کہا کہ ہمارے کچھ لوگ وہاں سے بھاگ کر آپ کے ملک میں آگئے ہیں۔ وہ ہمیں واپس کر دیجئے۔ رشوت لینے والے درباریوں نے بھی ہاں میں ہاں ملا دی۔ لیکن نجاشی بڑا انصاف پسند بادشاہ…
Read the full tafseer →271 ۔ یہ تصدیق کرنے کون لوگ تھے ؟ حدیث وسیر کی کتابیں اس پر متفق ہیں، کہ اس سے مراد نجاشی شاہ حبشہ (متوفی 9 ہجری) اور اس کے درباری ہیں۔ یہ لوگ سچے مسیحی تھے، قبل ہجرت نبوی جب آپ ﷺ نے مکہ معظمہ سے صحابیوں کی ایک جماعت کی ہجرت ملک حبشہ کو کرائی تھی تو ایک موقع پر حضرت جعفر طیار ؓ نے نجاشی کی فرمائش پر سردربار سورة مریم کی آیتیں پڑھ کر سنائیں، اس پر نجاشی اور اہل دربار متا ثر ہو کر روپڑے۔ قال ابن عباس ؓ یرید النجاشی و اصحابہ (کبیر) عن عبداللہ بن زبیر قال نزلت ھذہ الایۃ فی النجاشی و اصحابہ (ابن کثیر) فبکی واللہ النجاشی حتی اخضلت لحیتہ وبکت اساقفتہ حتی اخضلوا مصاحفھم حین سمعوا ما تلا علیھم وثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
آیت نمبر 83 تا 86
ترجمہ : (آئندہ آنے والی آیات) حبشہ سے آنے والے نجاشی کے وفد کے متعلق نازل ہوئیں حضور ﷺ نے ان کے سامنے سورة یسیٰن پڑھی تو وہ رونے لگے اور اسلام لے آئے اور انہوں نے کہا کہ اس (آپ ﷺ پر نازل ہونے والالے کلام) کی اس (کلام) سے کتنی مشابہت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اللہ نے فرمایا اور جب وہ اس کلام قرآن کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے (یعنی) تیرے نبی اور اس کی کتاب کی تصدیق کی، تو، تو ہم کو بھی تصدیق کرنے والوں کے ساتھ لکھ لے (یعنی) ان…
Read the full tafseer →واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینہم تفیض من الدمع اور جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو رسول ﷺ کے پاس بھیجا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو آنسو بہاتے دیکھتے ہیں۔ طبرانی نے بھی نسائی کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ہے مگر واقعہ کو ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے۔
میں کہتا ہوں نجاشی یا وفد نجاشی کے متعلق آیت کا نزول حکم کی تخصیص کو نہیں چاہتا کہ انہی کے ساتھ حکم مخصوص ہو کیونکہ الفاظ کا عموم معتبر ہوتا ہے واقعہ کی خصوصیت ناقابل اعتبار ہے۔
واذا سمعوا کا عطف لا یستکبرون پر ہے رونے کا ذکر کرنے سے مقصود ہے ان کے دلوں کی رقت کا خوفِ الٰہی کی شدت کا قبول حق کی طرف سبقت کرنے کا اور پیام حق سے سرکشی نہ…
Read the full tafseer →(83) اور جب وہ حضرات جعفر ؓ بن ابی طالب سے اس کلام کو سنتے ہیں جو کہ ان کے رسول ﷺ پر نازل کیا گیا ہے، کیوں کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت سے اچھی طرح واقف ہیں تو ان کی آنکھوں سے بےساختہ آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول محمد ﷺ پر ایمان لے آئے لہٰذا رسول اکرم ﷺ کی امت میں جو مومن حضرات ہیں ہمیں ان کے ساتھ شامل فرمالیجیے۔
شان نزول : (آیت) ”واذا سمعوا“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؒ سے روایت کیا ہے کہ حضرت نجاشی ؓ نے اپنے ساتھیوں میں سے تیس پسندیدہ حضرات کو رسول اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیجا، آپ ﷺ…
Read the full tafseer →وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ۔۔ : مفسرین کے بیان کے مطابق ان سے مراد نصاریٰ کے وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، سلمان ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے کھانا تیار کیا اور اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا : ”سلمان ! یہ کیا ہے ؟“ میں نے کہا : ”صدقہ ہے۔“ تو آپ نے اپنے اصحاب سے کہا کھاؤ اور خود نہیں کھایا۔ چناچہ میں واپس آگیا، پھر کچھ کھانا اکٹھا کیا اور اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا : ”سلمان ! یہ کیا ہے ؟“ میں نے کہا : ”ہدیہ ہے۔“ تو آپ ﷺ نے ہاتھ بڑھایا اور کھایا اور (ساتھ ہی) اپنے ساتھیوں سے بھی فرمایا کہ کھاؤ۔ میں نے کہا : ”آپ مجھے نصاریٰ کے متعلق…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 83
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینھم تفیض من الدمع، من الدمع سے مرادبالدمع ہے یعنی انسوؤں کے ساتھ۔ یہ حال واقع ہو رہا ہے اسی طرح یقولون ہے۔ امرؤ القیس نے کہا :
ففاجت دموع العین منی صبابۃ علی النحر حتی بل دمعی محملی
خبر مستفیض، مشہور خبر کو کہتے ہیں جب وہ پھیل جائے اور مشہور ہوجائے۔ جیسے پانی کی کثرت ہو تو کہتے ہیں : فاض المائ۔ یہ علماء کے احوال ہیں جو روتے ہیں اور چنگھاڑتے نہیں، سوال کرتے ہیں اور چلاتے نہیں، پریشان ہوتے ہیں اور مرنے کا تکلف نہیں کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : اللہ نزل احسن الحدیث (الزمر : 23) اللہ تعالیٰ نے نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
(1) امام ابن مردویہ اور ابو الشیخ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تنہا ہوتا کوئی یہودی کسی مسلمان کے ساتھ مگر وہ اس کے قتل کا ارادہ کرتا ہے۔ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے۔ مگر اس کا نفس اس کو قتل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن مردویہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری سے مراد وہ وفد ہے جو جعفر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ حبشہ سے آیا تھا۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جن نصاری کا ذکر فرمایا وہ حبشہ کے لوگ مراد ہیں۔ جو ایمان لائے…
Read the full tafseer →وَاِذَا [ اور جب ] سَمِعُوْا [ وہ سنتے ہیں ] مَآ [ اس کو جو ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَى الرَّسُوْلِ [ ان رسول کی طرف ] تَرٰٓي [ تو ، تو دیکھتا ہے ] اَعْيُنَهُمْ [ ان کی آنکھوں کو ] تَفِيْضُ [ بھر آتی ہیں ] مِنَ الدَّمْعِ [ آنسوں سے ] مِمَّا [ اس سے جو ] عَرَفُوْا [ انھوں نے پہچانا ] مِنَ الْحَـقِّ ۚ [ حق میں سے ] يَقُوْلُوْنَ [ وہ کہتے ہیں ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب !] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] فَاكْتُبْنَا [ پس تو لکھ دے ہم کو ] مَعَ الشّٰهِدِيْنَ [ گواہی دینے والوں کے ساتھ ]
Read the full tafseer →کتاب اللہ کو سن کر حبشہ کے نصاریٰ کا رونا اور ایمان لانا
جب آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اسلام کی دعوت دینا شروع کیا (جس کے اولین مخاطبین اہل مکہ تھے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے) تو اہل مکہ دشمنی پر اتر آئے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرح طرح سے ستاتے تھے اور جو لوگ اسلام قبول کرلیتے تھے انہیں بہت زیادہ دکھ دیتے تھے اور مارتے پیٹتے تھے، اس وجہ سے بہت سے صحابہ کرام ؓ (جن میں مرد عورت سبھی تھے) حبشہ کیلئے ہجرت کر گئے حبشہ اس وقت قریب ترین ملک تھا جہاں ایمان محفوظ رکھتے ہوئے عافیت کے ساتھ رہنے کا امکان تھا جب یہ حضرات وہاں پہنچ گئے تو اہل مکہ نے وہاں بھی پیچھا کیا اور شاہ حبشہ کے پاس شکایت لے کر گئے لیکن اس نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
حکایت حال اسلام طائفہ نصرانیان گوشہ نشینان۔ وبیان کیفیت وجد ایشان بوقت سماع قرآن۔
قال اللہ تعالی، واذاسمعوا ماانزل۔۔۔ الی۔۔۔ الجحیم۔
ربط) ۔ اس آیت میں بھی نصاری کی ایک خاص جماعت کا ذکر ہے جو قرآن کریم کو سن کو وجد اور طرب میں آگئے اور قرآن کریم کی لذت سے اس درجہ محفوظ ہوئے کہ آنکھوں سے بےاختیار آنسو رواں ہوگئے اور روتے ہوئے ڈاڑھیاں تر ہوگئیں اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے ربنا امنا فاکتبنا مع الشاہدین۔ آیت۔ اور غیر اختیاری طور پر کسی پسندیدہ حالت اور کیفیت کے طاری ہوجانے ہی کا نام وجد ہے۔
شان نزول۔
یہ آیت نجاشی شاہ حبشہ اور اسکے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی جب حضرت جعفر نے سورة مریم پڑھ کر…
Read the full tafseer →145 یہ ان کی نرم دلی اور خدا خوفی کا بیان ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کی آیتیں پڑھی گئیں تو وہ خدا کے خوف سے رونے لگے اور انہوں نے حق کو پہچان کر فورا قبول کرلیا کیونکہ وہ خود تورات وانجیل کے عالم تھے اور آخر الزمان پیغمبر ﷺ کے اوصاف سے واقف تھے۔ یَقُوْلُوْن الخ قرآن کی آیتیں سن کر روتے جا رہے تھے۔ اے ہمارے پروردگار ہم تیری توحید پر اور تیرے آخری پیغمبر پر ایمان لے آئے اب ہمیں بھی حضرت محمد ﷺ کی امت میں لکھ لے اور اس میں شامل فرما لے۔ اَلشَّاھِدِیْنَ سے امت محمدیہ مراد ہے کیونکہ وہ قیامت کے دن انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں حق تبلیغ ادا کرنے گواہی دیں گے۔ مع امۃ محمد (علیہ السلام) الذین ھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ربط آیات
گزشتہ درس میں اہل کتاب کے دو گروہوں کے متعلق ذکر آ چکا ہے کہ ان کی نافرمانیوں ، عصیان اور تعدی کی وجہ سے اللہ نے اپنے دو نبیوں کی زبان سے ان پر لعنت بھیجی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں یہودیوں نے مچھلی کے شکار سے متعلق اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور حیلے بہانے سے ہفتے کے دن بھی شکار کرنے لگے۔ اس نافرمانی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور وہ لوگ خنزیروں اور بندروں کی شکلوں میں تبدیل ہوگئے دوسرا گروہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کا ہے جن کو منع کیا گیا تھا کہ آسمان سے نازل ہونے والے مائدہ کو کھائو پیو مگر اس کا ذخیرہ نہ کرو۔ انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی…
Read the full tafseer →وَاِذَاسَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰٓي اَعْيُنَہُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَـقِّ 0ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِيْنَ 83
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ترکیب : ان سخط ان بتاویل مصدر خبر ہے مبتداء محذوف کی جو ھو ہے اور ممکن ہے کہ یہ بدل ہو ما قدمت کا جو محلاً منصوب ہوگا وھذا رجح ما اتخذوھم جواب ہے ولو کانوا یؤمنون کا ‘ عداوۃ منصوب ہے بوجہ تمیز ہونے کے اشد سے ‘ للذین آمنوا متعلق ہے عداوۃ سے ‘ الیہود معطوف علیہ والذین اشرکوا معطوف مجموعہ مفعول ہے لتجدن کا ‘ للذین متعلق ہے مودۃ سے ‘ الذین قالوا انا نصریٰ جملہ مفعول ثانی ہے لتجدن کا ‘ بان ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے ذلک کی ‘ واذا اسمعوا معطوف ہے خبر ان پر جو لایستکبرون ہے اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو گو معنیً اس کو ماسبق سے علاقہ ہو۔ تری کو اگر رویۃً عین سے لیا جاوے تو تفیض حال ہوگا ونطمع حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ ج یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِ اللہ ِ وَمَا جَآئَ نَا مِنَ الْحَقِّ لا وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (المائدہ : 83۔ 84)
” اور جب انھوں نے سنا اس چیز کو جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو تم دیکھ رہے ہو کہ حق کو پہچان لینے کے سبب سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے ‘ تو ہمیں اس کی گواہی دینے والوں میں لکھ لے “۔ ” اور آخر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں یہودیوں کے مقابلہ میں عیسائیوں کی نرمی کی بات کی گئی تھی۔ اب اس کا عملی ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی سمجھا دیا کہ تکبر سے اجتناب اور اللہ کے خوف کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی قرآن مجید کی تلاوت سنے تو حق کو پہچانتے ہوئے اپنے رب سے عاجزانہ درخواست کرے کہ اسے اس کا رب توحید اور حق کی شہادت دینے والوں میں شامل فرمائے۔
مکہ معظمہ میں جوں جوں اسلام کی ترویج ہو رہی تھی۔ اسی رفتار سے اہل مکہ کے جو رواستبداد میں اضافہ ہوتاجا رہا تھا ان کی ایذا رسانیوں سے تنگ آکر نبوت کے پانچویں سال مسلمانوں کے 83 آدمی اور 18 عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔…
Read the full tafseer →رقت قلب میں حضرت نجاشی ؓ اور وفد نجاشی کی تعریف :
آیت 83 : وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ اس میں رقت قلب سے نصاریٰ کی تعریف کی۔ اور یہ بیان کیا کہ وہ قرآن سن کر روتے ہیں۔ جیسا کہ مروی ہے کہ نجاشی ؓ نے حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کو کہا۔ جب اس کی مجلس میں مہاجرین اور مشرکین جمع ہوئے اور مسلمان قرآن پڑھتے تھے۔ کہ تمہاری کتاب میں مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے۔ جعفر ؓ نے کہا اس میں ایک سورت ایسی ہے جس کا نام ان کے نام پر ہے۔ چناچہ حضرت جعفر ؓ نے سورة مریم ذلک عیسیٰ بن مریم آیت 34۔ تک اور سورة طہٰ وہل اتاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
آیت نمبر 87, 86, 85, 84, 83
تفسیر : (واذا سمعوا مآ انزل الی الرسول اور جب سنتے ہیں اس کو جر اترا رسول پر) یعنی محمد ﷺ پر (تریٰ اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق تو آپ دیکھیں ان کی آنکھوں کو ابلتی ہیں آنسوئوں سے اس وجہ سے کہ انہوں نے پہچان لیا حق بات کو) عطاء کی روایت میں ابن عباس ؓ کا فرمان یہ ہے کہ اس سے نجاشی اور اس کے ساتھی مراد ہیں کیونکہ جب حضرت جعفر ؓ نے حبشہ میں ان پر سورة ” کھیعص “ کی تلاوت کی تو ان کے تلاوت ختم کرنے تک یہ لوگ روتے رہے۔ (یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین کہتے ہیں اے رب ! ہمارے ہم ایمان لائے سو تو لکھ ہم کو ماننے والوں میں سے) یعنی امت محمد ﷺ میں لکھ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
(83 ۔ 86) ۔ یہ آیتیں بھی ولتجدن اقربہم کی شان نزول میں داخل ہیں فاکتبنا مع الشاھدین کا یہی مطلب ہے کہ نصاریٰ کے اس گروہ نے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی شہات میں شریک ہونے کی دعا اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی ہے جس شہادت کا ذکر سورة بقرہ میں ہے حضرت عبد اللہ عباس ؓ کا قول ہے کہ جب یہ پادری لوگ مدینہ سے حبشہ کو واپس گئے تو قوم کے بعض لوگوں نے ان پر یہ اعتراض کیا کہ تم نے اسلام کی صداقت کیوں کی ان پادریوں نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ حق بات کے معلوم ہوجانے کے بعد ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اس کو نہ مانیں اور اس حق بات کے مان لینے سے ہم کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہم کو نیک لوگوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
آیت 83
اس کا ایک سبب یہ بھی ہے (واذا سمعوامآ انزل الی الرسول) ” جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی “ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں، آنسو جاری ہوجاتے ہیں، پس اسی لئے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا : (ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین) ” اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔ “ اور یہ محمد ﷺ کی امت کے لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں۔ نیز تصدیق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
قول باری ہے ولتجدن قوبھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصاری اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں تا آخر آیت ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ، عطاء اور سدی کا قول ہے یہ آیت نجاشی شاہ حبشہ اور اس کے ساتھیوں بارے میں نازل ہوئی جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ آیت کا تعلق اہل کتاب کے ایک گروہ سے تھا جس کے افراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے رہے ۔ پھر جب حضور ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔ جاہلوں کا ایک گروہ بھی ہے جس کا گمان ہے کہ اس آیت میں نصاریٰ کی تعریف کی گئی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
205 مسلمانوں کے سب سے بڑے اور سخت دشمنوں کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے اور سخت دشمن یہود اور مشرکین ہیں ـ کہ مسلمانوں کے خلاف بغض وعناد میں یہ دونوں گروہ باہم متفق ہیں۔ نیز یہ دونوں گروہ تکبر، ہٹ دھرمی، ظلم و زیادتی، ایذا رسانی، مادہ پرستی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے جیسے خصال بد میں باہم شریک اور ایک ہی جیسے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اللہ کے رسول اور ان کے ساتھیوں کو دکھ دینے، انکو تکلیف پہنچانے اور ان کی ایذا رسانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے گھر سے بےگھر کردیا۔ ہجرت پر مجبور کیا۔ اور آپ ﷺ کے قتل تک کے منصوبے ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
نصارٰی کے ایک گروہ کی کیفیت ایمان اور ان کی جزا
تشریح : پچھلی آیات میں نصارٰی کو یہود سے بہتر کہا گیا ہے۔ ان آیات کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے کچھ لوگ حبشہ ہجرت کر گئے تھے تو وہاں مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہ دی گئی بلکہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی اور اس کے ساتھی قرآن سن کر روئے، پھر ستر نو مسلم آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے قرآن پاک سن کر ان کے دل اس قدر نرم ہوئے اور متاثر ہوئے کہ سب کے سب رونے لگے۔ یہی وہ پیارے لوگ ہیں جنہوں نے خوبصورت اور حق کی باتیں کیں، جیسا کہ آیات میں بتایا گیا ہے۔ رب کریم نے ان کو بہشت کی خوشخبری دی کیونکہ انہوں نے دل سے توحید کو قبول کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 78 تا 86 ۔
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کے کفار پر تو ہر عہد کے نبی نے اللہ کی ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ان پر لعنت کی گئی حضرت داود (علیہ السلام) سے انہیں وہی پیغام دلوایا گیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) نے دہرایا اور یہ مسلسل اظہار نا رضا مندی کسی نسلی امتیازیا ذاتی تعصب یا رنگ کے فرق پر نہ تھا بلکہ اس کی وجہ ان کا کفر تھا اور اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور حدود الہی سے تجاوز کرنا اس کا باعث تھا یہ ایسے بد نصیب تھے کہ کسی کو برائی سے روکتے بھی نہ تھے خواہ خود نہ بھی کرتے ہوں یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو خود برائی نہیں کرتے تھے مگر انہیں دوسرے کی برائی سے دکھ نہیں ہوتا تھا اسے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی وہ روتے ہیں سمعوا کی ضمیر ان علما و رہبان کی طرف پلتی ہے جو ان میں سے مسلمان ہوگئے تھے حضرت ابن عباس ؓ اور عبد اللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ قصہ یہ ہے کہ کچھ مسلمان مکہ سے ہجرت کرک کے حبشہ کے عیسائی بادشاہ اصفحہ (رح) نجاشی کے پاس چلے گئے کفار مکہ نے باشاہ کو اکسایا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی اہانت کرتے ہیں اور ان کو عبد (غلام) کہتے ہیں اس پر نجاشی نے مسلمونوں کو اپنے دو بار میں بلایا اور منجملہ دوسرے سوالات کے ایک سوال حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے متعلق بھی کیا اس حضرت جعفر ؓ طیار نے سو رہ مریم ( علیہ السلام) پڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(5:83) تفیض۔ فاض یفیض فیضا (ضرب) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ بہتی ہے ۔ وہ جاری ہوتی ہے۔ فاض الماء کے معنی ہیں کسی جگہ سے پانی کا اچھل کر بہ نکلنا۔ یہاں آنسوؤں کے آنکھوں سے بہنے کے لئے آیا ہے۔
الدمع۔ آنسو۔ اشک ۔ واحد ۔ وموغ وادمح جمع۔
ربنا سے جو کلام شروع ہوا تھا وہ آیۃ 84 کے اختتام پر الصلحین پر ختم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
آیت نمبر 82 تا 86
لغات القرآن : لتجدن (البتہ تو ضرور پائے گا) ۔ اشد الناس (لوگوں میں سخت) اقرب (زیادہ قریب) ۔ مودۃ (محبت ۔ دوستی۔ تعلق) ۔ قسیسین (قسیس) ۔ عالم۔ عیسائیوں کے پادری) ۔ رھبانا (راھب) ۔ دنیا کو چھوڑ کر عبادت کرنے والے) لایستکبرون (وہ تکبر نہیں کرتے ہیں) ۔ اذا سمعوا (جب وہ سنتے ہیں) ۔ اعینھم (عین) ۔ ان کی آنکھیں) ۔ تفیض (بہنے لگتے ہیں) ۔ الدمع (آنسو) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔
تشریح : اچھے اور برے لوگ کس جماعت میں نہیں ہوتے۔ چناچہ یہود و نصاریٰ دونوں میں اچھے برے لوگ تھے۔ ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ یہود میں اچھے لوگ بہت کم تھے۔ اس لئے ان کا کچھ خاص وزن نہ تھا۔ اس کے برخلاف نصاریٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
نجاشی بادشاہ : یہ ان کی رقت قلب کا بیان ہے کہ جو دل میں اثر کرنے والے قرآن شریف کے مضامین سن کر روپڑتے ہیں۔ چناچہ جب نجاشی بادشاہ کی درخواست پر حضرت جعفر ؓ نے اس کے دربار میں سورة مریم کی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی بادشاہ اور اس کے درباری جن میں اس کی قوم کے علماء بھی موجود تھے۔ سب زاروقطار رونے لگے۔ اسی طرھ نجاشی کی قوم کے ستر آدمی جو آنحضرت ﷺ کی حدمت میں حاضر ہوئے تھے، حضور سے سورة یا سین سن کر بہت روئے اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ عالیہ وسلم کے نبی اور برحق ہونے کی شہادت ہم نے دی، اور آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہوئے جو روز قیامت میں تمام امتوں کے گواہ ہوں گے۔ جب یہ لوگ مشرف باسلام ہوکر واپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
[50] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) پر۔
[51] یعنی تورات۔
Read the full tafseer →جادواثر قرآن :
(ف 1) ۔ اہل کتاب میں حق وصداقت کے شیدائی جب قرآن حکیم کی آیات کو سنتے تو سینوں میں عرفان و حقیقت کا دریا مؤجزن ہوجاتا اور آنکھیں بادہ کیف ، سے چھلکنے لگتیں ، یا قرآن کی جادو اثر ہی اس درجہ مسلم ہے کہ کوئی ذی ہوش اور خرد مند انسان اسے سن کر غیر متاثر نہیں رہ سکتا ، شاہ حبشہ نے جب پہلے پہل حضرت جعفر ؓ تیار کی زبان فیض ترجمان سے کلام اللہ کی چند آیتیں سنیں تو بےقرار ہوگیا ، اور دیر تک رقت وانفعال کے تاثرات میں مستغرق رہا ، بات یہ ہے کہ خدا کی باتیں حقیقت سادگی اور جمال کا مرقع ہوتی ہیں ، ناممکن ہے کہ ان کے جلوہ ہائے عریاں کو دیکھا جائے اور (آیت) ” خر موسیٰ صیعقا “۔ کا منظر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
اور یہ کہ جب یہ لوگ اس قرآن کو سنتے ہیں جو محمد ﷺ کی طرف بھیجا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو ملاحظہ کرتے ہیں کہ وہ آنسوئوں سے بہہ رہی ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے دین حق کو پہچان لیا اور وہ اسلام سے واقف ہوگئے وہ اس حالت میں متاثر ہو کر یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم مسلمان ہوگئے اور ایمان لے آئے لہٰذا ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجیے اور ان کے ساتھ شامل کر لیجیے جو دین حق کی تصدیق کرنے اور دین حق کی گواہی دینے والے ہیں اور ہمارے لئے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس دین حق پر ایمان نہ لائیں جو ہم کو پہنچا ہے اور ہمارے پاس آیا ہے اور امید یہ رکھیں کہ ہمارا پروردگار ہم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ف 5۔ مطلب یہ کہ حق کو سن کرمتاثر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →نصاریٰ بنسبت یہود کی علم و حلم اور عقل و فکر میں بہت آگے ہیں :
207: قرآن کریم کی آیات پر جتنا غور و فکر کرو گے یہ بات صاف ہوتی جائے گی کہ یہی وہ کلام ہے جس میں صداقت کے سوا کچھ نہیں۔ وہ ہر سچ کو سچ اور ہر جھوٹ کو جھوٹ کہنے میں ذرا توقف نہیں کرتا۔ اس نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کہنے والا کون ہے ؟ اور یہی اس کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ کاش کہ ہمارے مذہبی راہنما بھی اس بات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے اور جو بات سچ ہے اس کو سچ کہتے اس کے کرنے والا خو اہ کوئی ہوتا۔ اس جگہ نصاریٰ کے تسیسین اور رہبان کی تعریف کی جارہی ہے کہ ان علماء اور زاہدوں کی ایسی جماعت موجود ہے جو باوجود بنی اسرائیل کی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
Sequence of Verses
Mentioned earlier was the friendliness of Jews with disbelievers. Mentioned now is their hostility towards Muslims in tandem with the disbelievers - which was the real cause of that friendship (the enemy of my enemy is my friend! ). And since the Qur'an upholds justice universally, it has not counted everyone even among Jews and Christians as being in the same lot. Whoever among them had some good quality, that was acknowledged openly - for example, the presence of a particular group among the Christians which did not have the kind of prejudice the Jews were known for, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
103. It seems natural that those who believe in God and the Prophets and the Scriptures, compared with the polytheists, would naturally be more sympathetic to those who at least share with them belief in God, in prophethood and in .revelation (whatever their disagreements on other religious issues). It was ironic, therefore, that the Jews should openly support the polytheists in the struggle between polytheism and monotheism, and that their sympathies in the conflict between those who rejected prophethood and those who believed in it should lie expressly with the former. Despite all this,…
Read the full tafseer →