Explained with ayahs 83–86
ایمان والو کی پہچان
اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
سورة الْمَآىِٕدَة 103
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلہ وحی و رسالت کو مانتے ہوں۔ لیکن یہ یہودی عجیب قسم کے اہل کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھلم کھلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں، اقرار نبوت اور انکار نبوت کی لڑائی میں علانیہ ان کی ہمدردیاں منکرین نبوت کے ساتھ ہیں، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ربط آیات
اوپر یہود کا مشرکین سے دوستی رکھنا مذکور تھا، آگے ان کا مع مشرکین کے مسلمانوں سے عداوت رکھنا مذکور ہے جو اس دوستی کا اصلی سبب تھا اور چونکہ ہر معاملہ ایک درجہ میں شمار نہیں کیا، جس میں کوئی بڑا داعی ہے اس لئے یہود و نصاریٰ میں بھی سب کو ایک درجہ میں شمار نہیں کیا۔ جس میں کوئی خوبی تھی اس کا بھی اظہار کیا گیا، مثلاً نصاریٰ کی ایک خاص جماعت میں یہ بسنت ان یہود کے تعصب کا کم ہونا۔ اور ان نصاریٰ میں جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا ان کا مستحق حسن ثناء و حسن جزا ہونا مذکور ہے۔ اور یہ خاص جماعت حبشہ کے نصاریٰ کی ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو جبکہ ہجرت مدینہ کے قبل اور وہ اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
تفسیر آیات 83 تا 86:۔ وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰٓي اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَـقِّ ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ۔ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَاۗءَنَا مِنَ الْحَقِّ ۙ وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ۔ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭوَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْمُحْسِنِيْنَ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــحِيْمِ۔
قرآن کے بارے میں اچھے نصاریٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
84۔ 1 حبشے میں، جہاں مسلمان مکی زندگی میں دو مرتبہ ہجرت کر کے گئے۔ اصحمۃ نجاشی کی حکوت تھی، یہ عیسائی مملکت تھی، یہ آیات حبشے میں رہنے والے عیسائیوں کے بارے میں ہی نازل ہوئیں ہیں تاہم روایات کی رو سے نبی ﷺ حضرت عمرو بن امیہ ضمری ؓ علیہ کو اپنا مکتوب دیکر نجاشی کے پاس بھیجا تھا، جو انہوں نے جاکر سنایا، نجاشی نے وہ مکتوب سن کر حبشے میں موجود مہاجرین اور حضرت جعفر بن ابی طالب کو اپنے پاس بلایا اور اپنے علماء اور عباد و زباد کو بھی جمع کرلیا پھر حضرت جعفر کو قرآن پڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت جعفر نے سورة مریم پڑھی جس پر حضرت عیسیٰ ؑ کی اعجازی ولادت اور ان کی عبدیت و رسالت کا ذکر ہے جسے سن کر وہ بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
57: جب مسلمانوں کو حبشہ سے نکالنے کا مطالبہ لے کر مشرکین مکہ کا وفد نجاشی کے پاس آیا تھا تو اس نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلاکر ان کا موقف سنا تھا، اس موقع پر آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر ابن ابی طالب نے اس کے دربار میں بڑی مؤثر تقریر کی تھی جس سے نجاشی کے دل میں مسلمانوں کی عظمت اور محبت بڑھ گئی اور اسے اندازہ ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ وہی آخری نبی ہیں جن کی پیشینگوئی تورات اور انجیل میں کی گئی تھی، چنانچہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو نجاشی نے اپنے علماء اور راہبوں کا ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا، آنحضرت ﷺ نے ان کے سامنے سورة یسین کی تلاوت فرمائی جسے سن کر ان لوگوں کی آنکھوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(آیت) ” نمبر 83 تا 84 ۔
یہ ایک زندہ منظر ہے اور اس میں اس گروہ کی مکمل تصویر نظر آتی ہے ۔ یہ گروہ جو اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں دوسرے کے مقابلے میں قریب تر ہے ۔ یہ ایسا گروہ ہے کہ جب قرآن مجید کا تازہ ترین حصہ نازل ہوتا ہے تو اس گروہ کے جذبات جوش میں آجاتے ہیں ۔ ان کے دل نرم ہوجاتے اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتی ہیں ۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس قرآن سے نہایت ہی گہرا اثر لیتے ہیں ۔ وہ اس تاثر کا اظہار صرف آنسوؤں کی زبان میں کرتے ہیں اور اس قسم کا اظہار اس وقت کیا جاتا ہے جب انسان کے لئے الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
1 ان آیات میں بتلایا گیا کہ یہود کا مشرکین سے دوستی کرنا محض اسلام اور مسلمانوں کی عداوت و بغض کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کو جن اقوام سے زیادہ سابقہ پڑتا تھا ان میں یہ دونوں قومیں یہود اور مشرکین علی الترتیب اسلام و مسلمین کی شدید ترین دشمن تھیں۔ مشرکین مکہ کی ایذا رسانیاں تو اظہر من الشمس ہیں۔ لیکن ملعون یہود نے بھی کوئی کمینہ سے کمینہ حرکت اٹھا کر نہیں رکھی۔ حضور ﷺ کو بیخبر ی میں پتھر کی چٹان گرا کر شہید کرنا چاہا، کھانے میں زہر دینے کی کوشش کی، سحر اور ٹوٹکے کرائے، غرض غضب پر غضب اور لعنت پر لعنت حاصل کرتے رہے۔ اس کے بالمقابل نصاریٰ باوجودیکہ وہ بھی کفر میں مبتلا تھے، اسلام سے جلتے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت 83 وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِ ج
یہ ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ مکی دورّ میں جب صحابہ رض ہجرت کر کے حبشہ گئے تھے تو ان کے ذریعے سے وہاں کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ پھر جب مدینہ منورہ میں اسلام کا غلبہ ہوگیا اور عرب میں امن قائم ہوگیا تو ان کا ایک وفد مدینہ آیاجوستر 70 افراد پر مشتمل تھا اور اس میں کچھ نو مسلم بھی شامل تھے۔ آیت زیر نظر میں اس وفد کے ارکان کا ذکر ہے کہ جب انہوں نے قرآن سناتو حق کو پہچان لینے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
129 ہجرت حبشہ اور نجاشی کا کردار :۔ مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں سے تنگ آ کر 5 ھ نبوی میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ شاہ حبشہ کے ساتھ قریش مکہ کے تجارتی مراسم تھے۔ ان کا ایک وفد ان کو واپس لانے کے لیے وہاں پہنچا۔ اور چند درباریوں سے مل کر انہیں تحفے اور تحائف دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ کل جب ہم نجاشی کے سامنے اپنی عرضداشت پیش کریں تو وہ ہماری ہاں میں ہاں ملا دیں اور سفارش بھی کریں۔ دوسرے دن اس وفد نے دربار میں حاضر ہو کر کہا کہ ہمارے کچھ لوگ وہاں سے بھاگ کر آپ کے ملک میں آگئے ہیں۔ وہ ہمیں واپس کر دیجئے۔ رشوت لینے والے درباریوں نے بھی ہاں میں ہاں ملا دی۔ لیکن نجاشی بڑا انصاف پسند بادشاہ…
Read the full tafseer →272 ۔ یعنی ہماری اس آرزو کا پورا ہونا موقوف ہی ہے اسلام لانے پر۔ استفھام انکار واستبعاد لانتفاء الایمان مع قیام الداعی وھو الطمع فی الانخراط مع الصالحین (بیضاوی) مع مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بغیر عمل کے محض آرزو یا طمع مفید یا معتدبہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
آیت نمبر 83 تا 86
ترجمہ : (آئندہ آنے والی آیات) حبشہ سے آنے والے نجاشی کے وفد کے متعلق نازل ہوئیں حضور ﷺ نے ان کے سامنے سورة یسیٰن پڑھی تو وہ رونے لگے اور اسلام لے آئے اور انہوں نے کہا کہ اس (آپ ﷺ پر نازل ہونے والالے کلام) کی اس (کلام) سے کتنی مشابہت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اللہ نے فرمایا اور جب وہ اس کلام قرآن کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے (یعنی) تیرے نبی اور اس کی کتاب کی تصدیق کی، تو، تو ہم کو بھی تصدیق کرنے والوں کے ساتھ لکھ لے (یعنی) ان…
Read the full tafseer →وما لنا لا نؤمن باللہ وما جآء نا من الحق ولا نطمع ان یدخلنا ربنا مع القوم الصلحین۔ اور کیا وجہ کہ ہم اللہ پر اور اس حق پر جو ہمارے پاس آگیا ہے ایمان نہ لائیں اور اس بات کی امید نہ کریں کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کے گروہ میں شامل کر دے۔
القوم الصلحین سے مراد ہیں ایماندار مسلمان جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے (وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزُّبْورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ) ہم نے نصیحت کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔
نَطْمَعُکا عطف نُؤمِنُپر ہے (یعنی حرف نفی کے تحت ہے اسی کے موافق ہم نے ترجمہ کیا ہے) یعنی کیا عذر ہے کہ…
Read the full tafseer →(84) اس پر انکی قوم نے انھیں ملامت کی تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے پاس کوئی سا عذر ہے کہ جو حق ہمارے پاس آیا ہے یعنی قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ ہم اس پر ایمان نہ لائیں اور آخرت میں امت محمدیہ ﷺ کے پرہیزگاروں کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا، یعنی ہمارا حشر مسلمانوں کے ساتھ فرمائے گا۔ اس صورت میں ”وَنَطْمَعُ“ کا عطف ”لَا نُؤْمِنُ“ پر ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”نَطْمَعُ“ کا جملہ ”لَا نُؤْمِنُ ‘ کی ضمیر سے حال ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم کیوں ایمان نہ لائیں، حالانکہ ہم طمع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ داخل کرے، یعنی ہمیں ضرور ایمان لانا چاہیے، ایمان لائے بغیر قیامت کے دن نیک بندوں کے ساتھ داخل ہونے کی توقع اور طمع سراسر جہالت اور حماقت ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 85
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وما لنا لا نومن باللہ وما جاء نا من الحق دین میں ان لوگوں کی بصیرت کو بیان فرمایا یعنی وہ کہتے ہیں : کیا وجہ ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں ؟ یعنی ہم ایمان کو ترک کریں۔ نومن حال واقع ہو رہا ہے۔ آیت : ونطمع ان یدخلنا ربنا مع القوم الصلحین یعنی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ساتھ۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : آیت : ان الارض یرثھاعبادی الصلحون ( الانبیائ) اس سے مراد بھی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے، اس کلام میں اضمار ہے یعنی نطمع ان یدخلنا ربنا الجنۃ۔ اور بعض علماء نے فرمایا : مع بمعنی فی ہے جیسا کہ فی بمعنی مع ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
(1) امام ابن مردویہ اور ابو الشیخ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تنہا ہوتا کوئی یہودی کسی مسلمان کے ساتھ مگر وہ اس کے قتل کا ارادہ کرتا ہے۔ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے۔ مگر اس کا نفس اس کو قتل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن مردویہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری سے مراد وہ وفد ہے جو جعفر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ حبشہ سے آیا تھا۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جن نصاری کا ذکر فرمایا وہ حبشہ کے لوگ مراد ہیں۔ جو ایمان لائے…
Read the full tafseer →[ وَمَا لَنَا : اور کیا ہے ہم کو ] [ لَا نُؤْمِنُ : (کہ ) ہم ایمان نہ لائیں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَمَا : اور اس پر جو ] [ جَاۗءَنَا : آیا ہمارے پاس ] [ مِنَ الْحَقِّ ۙ : حق میں سے ] [ وَنَطْمَعُ : اور ہم امید کرتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّدْخِلَنَا : داخل کرے گا ہم کو ] [ رَبُّنَا : ہمارا رب ] [ مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ : صالح لوگوں کے ساتھ ]
Read the full tafseer →جن نصاریٰ نے قرآن مجید سنا اور حق کے پہچاننے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے انہوں نے فوراً اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور کھلے دل سے کہنے لگے (وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ باللّٰہِ وَ مَا جَآءَ نَا مِنَ الْحَقِّ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ ) (ہمیں کیا ہو جو ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں اور اس پر ایمان نہ لائیں جو ہمارے پاس حق آیا اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالحین کے ساتھ داخل فرما دے گا) یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں شامل فرمادے اور ان کو جو انعامات ملیں گی ہمیں بھی ان میں شریک فرما دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
حکایت حال اسلام طائفہ نصرانیان گوشہ نشینان۔ وبیان کیفیت وجد ایشان بوقت سماع قرآن۔
قال اللہ تعالی، واذاسمعوا ماانزل۔۔۔ الی۔۔۔ الجحیم۔
ربط) ۔ اس آیت میں بھی نصاری کی ایک خاص جماعت کا ذکر ہے جو قرآن کریم کو سن کو وجد اور طرب میں آگئے اور قرآن کریم کی لذت سے اس درجہ محفوظ ہوئے کہ آنکھوں سے بےاختیار آنسو رواں ہوگئے اور روتے ہوئے ڈاڑھیاں تر ہوگئیں اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے ربنا امنا فاکتبنا مع الشاہدین۔ آیت۔ اور غیر اختیاری طور پر کسی پسندیدہ حالت اور کیفیت کے طاری ہوجانے ہی کا نام وجد ہے۔
شان نزول۔
یہ آیت نجاشی شاہ حبشہ اور اسکے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی جب حضرت جعفر نے سورة مریم پڑھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
146 یعنی جب ہماری خواہش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں ہمیں نیک لوگوں کی معیت اور سنگت عطا فرمائے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں اور ان تمام سچی باتوں کو نہ مانیں جو اللہ کی طرف سے ہم کو پہنچی ہیں۔ فَاَثَابَھُمْ یہ ان کے لیے بشارت اخروی ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ یہ منکرین اور مکذبین کے لیے تخویف اخروی ہے یہاں تک نفی شرک فی التصرف کا بیان تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ربط آیات
گزشتہ درس میں اہل کتاب کے دو گروہوں کے متعلق ذکر آ چکا ہے کہ ان کی نافرمانیوں ، عصیان اور تعدی کی وجہ سے اللہ نے اپنے دو نبیوں کی زبان سے ان پر لعنت بھیجی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں یہودیوں نے مچھلی کے شکار سے متعلق اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور حیلے بہانے سے ہفتے کے دن بھی شکار کرنے لگے۔ اس نافرمانی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور وہ لوگ خنزیروں اور بندروں کی شکلوں میں تبدیل ہوگئے دوسرا گروہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کا ہے جن کو منع کیا گیا تھا کہ آسمان سے نازل ہونے والے مائدہ کو کھائو پیو مگر اس کا ذخیرہ نہ کرو۔ انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی…
Read the full tafseer →وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللہِ وَمَا جَاۗءَنَا مِنَ الْحَقِّ 0ۙ وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ 84
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ترکیب : ان سخط ان بتاویل مصدر خبر ہے مبتداء محذوف کی جو ھو ہے اور ممکن ہے کہ یہ بدل ہو ما قدمت کا جو محلاً منصوب ہوگا وھذا رجح ما اتخذوھم جواب ہے ولو کانوا یؤمنون کا ‘ عداوۃ منصوب ہے بوجہ تمیز ہونے کے اشد سے ‘ للذین آمنوا متعلق ہے عداوۃ سے ‘ الیہود معطوف علیہ والذین اشرکوا معطوف مجموعہ مفعول ہے لتجدن کا ‘ للذین متعلق ہے مودۃ سے ‘ الذین قالوا انا نصریٰ جملہ مفعول ثانی ہے لتجدن کا ‘ بان ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے ذلک کی ‘ واذا اسمعوا معطوف ہے خبر ان پر جو لایستکبرون ہے اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو گو معنیً اس کو ماسبق سے علاقہ ہو۔ تری کو اگر رویۃً عین سے لیا جاوے تو تفیض حال ہوگا ونطمع حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ ج یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِ اللہ ِ وَمَا جَآئَ نَا مِنَ الْحَقِّ لا وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (المائدہ : 83۔ 84)
” اور جب انھوں نے سنا اس چیز کو جو رسول کی طرف اتاری گئی ہے تو تم دیکھ رہے ہو کہ حق کو پہچان لینے کے سبب سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے ‘ تو ہمیں اس کی گواہی دینے والوں میں لکھ لے “۔ ” اور آخر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں یہودیوں کے مقابلہ میں عیسائیوں کی نرمی کی بات کی گئی تھی۔ اب اس کا عملی ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی سمجھا دیا کہ تکبر سے اجتناب اور اللہ کے خوف کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی قرآن مجید کی تلاوت سنے تو حق کو پہچانتے ہوئے اپنے رب سے عاجزانہ درخواست کرے کہ اسے اس کا رب توحید اور حق کی شہادت دینے والوں میں شامل فرمائے۔
مکہ معظمہ میں جوں جوں اسلام کی ترویج ہو رہی تھی۔ اسی رفتار سے اہل مکہ کے جو رواستبداد میں اضافہ ہوتاجا رہا تھا ان کی ایذا رسانیوں سے تنگ آکر نبوت کے پانچویں سال مسلمانوں کے 83 آدمی اور 18 عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔…
Read the full tafseer →اللہ کے انعام کی طمع موجبات ایمان سے ہے :
آیت 84 : وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰہِایمان نہ لانے پر انکار اور استبعاد کا اظہار ہے۔ کہ آخر ہم ایمان قبول کیوں نہ کریں جبکہ موجبات ایمان موجود ہیں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی طمع ہے جو نیک لوگوں کی صحبت سے ان کو میسر آئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب وہ اپنے علاقے میں لوٹ کر گئے تو ان کی قوم نے ان کو ملامت کی تو انہوں نے یہ جواب دیا۔ ومالنا الآیہ یہ مبتداء اور خبر ہے اور لا نومن اس کا حال ہے یعنی غیر مؤمنین جیسے کہتے ہیں مالک قائما تو کیوں کھڑا ہے۔ وَمَا جَآئَ نَا مِنَ الْحَقِّ اس سبب سے کہ ہمارے پاس حق آچکا۔ یعنی محمد ﷺ اور قرآن کی صورت میں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
آیت نمبر 87, 86, 85, 84, 83
تفسیر : (واذا سمعوا مآ انزل الی الرسول اور جب سنتے ہیں اس کو جر اترا رسول پر) یعنی محمد ﷺ پر (تریٰ اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق تو آپ دیکھیں ان کی آنکھوں کو ابلتی ہیں آنسوئوں سے اس وجہ سے کہ انہوں نے پہچان لیا حق بات کو) عطاء کی روایت میں ابن عباس ؓ کا فرمان یہ ہے کہ اس سے نجاشی اور اس کے ساتھی مراد ہیں کیونکہ جب حضرت جعفر ؓ نے حبشہ میں ان پر سورة ” کھیعص “ کی تلاوت کی تو ان کے تلاوت ختم کرنے تک یہ لوگ روتے رہے۔ (یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین کہتے ہیں اے رب ! ہمارے ہم ایمان لائے سو تو لکھ ہم کو ماننے والوں میں سے) یعنی امت محمد ﷺ میں لکھ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
(83 ۔ 86) ۔ یہ آیتیں بھی ولتجدن اقربہم کی شان نزول میں داخل ہیں فاکتبنا مع الشاھدین کا یہی مطلب ہے کہ نصاریٰ کے اس گروہ نے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی شہات میں شریک ہونے کی دعا اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی ہے جس شہادت کا ذکر سورة بقرہ میں ہے حضرت عبد اللہ عباس ؓ کا قول ہے کہ جب یہ پادری لوگ مدینہ سے حبشہ کو واپس گئے تو قوم کے بعض لوگوں نے ان پر یہ اعتراض کیا کہ تم نے اسلام کی صداقت کیوں کی ان پادریوں نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ حق بات کے معلوم ہوجانے کے بعد ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اس کو نہ مانیں اور اس حق بات کے مان لینے سے ہم کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہم کو نیک لوگوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
آیت 83
اس کا ایک سبب یہ بھی ہے (واذا سمعوامآ انزل الی الرسول) ” جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی “ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں، آنسو جاری ہوجاتے ہیں، پس اسی لئے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا : (ربنا امنا فاکتبنا مع الشھدین) ” اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔ “ اور یہ محمد ﷺ کی امت کے لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں۔ نیز تصدیق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
قول باری ہے ولتجدن قوبھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصاری اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں تا آخر آیت ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ، عطاء اور سدی کا قول ہے یہ آیت نجاشی شاہ حبشہ اور اس کے ساتھیوں بارے میں نازل ہوئی جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ آیت کا تعلق اہل کتاب کے ایک گروہ سے تھا جس کے افراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے رہے ۔ پھر جب حضور ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔ جاہلوں کا ایک گروہ بھی ہے جس کا گمان ہے کہ اس آیت میں نصاریٰ کی تعریف کی گئی ہے اور…
Read the full tafseer →210 ِ صدق و اخلاص کا نتیجہ رجوع الی الحق : سو اس سے صحت باطن اور صدق دل کے آثار وثمرات کا ایک عمدہ نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ـسو ایسے لوگ اپنے باطن کے صدق و صفا کی بنا پر کہتے ہیں کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک بخت لوگوں کے ساتھ اپنی رحمت میں داخل فرما دے۔ یعنی انبیاء و مومنین کے ساتھ جنت میں۔ (محاسن التاویل) ۔ یعنی ایسے میں جبکہ ہم یہ طمع بھی رکھتے ہیں اور حق بھی ہمارے پاس پہنچ گیا ہے ہمیں ضرور اس دین حق پر ایمان لے آنا چاہیئے کہ اس کے بعد اس ضمن میں ہمارے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہ جاتا۔ پس جب انسان کی فطرت صحیح ہو تو وہ ندائے حق کے جواب میں ایسے ہی دل و جان سے لبیک کہتا ہے۔ اور حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
نصارٰی کے ایک گروہ کی کیفیت ایمان اور ان کی جزا
تشریح : پچھلی آیات میں نصارٰی کو یہود سے بہتر کہا گیا ہے۔ ان آیات کا شان نزول یوں بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے کچھ لوگ حبشہ ہجرت کر گئے تھے تو وہاں مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہ دی گئی بلکہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی اور اس کے ساتھی قرآن سن کر روئے، پھر ستر نو مسلم آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے قرآن پاک سن کر ان کے دل اس قدر نرم ہوئے اور متاثر ہوئے کہ سب کے سب رونے لگے۔ یہی وہ پیارے لوگ ہیں جنہوں نے خوبصورت اور حق کی باتیں کیں، جیسا کہ آیات میں بتایا گیا ہے۔ رب کریم نے ان کو بہشت کی خوشخبری دی کیونکہ انہوں نے دل سے توحید کو قبول کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 78 تا 86 ۔
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کے کفار پر تو ہر عہد کے نبی نے اللہ کی ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ان پر لعنت کی گئی حضرت داود (علیہ السلام) سے انہیں وہی پیغام دلوایا گیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) نے دہرایا اور یہ مسلسل اظہار نا رضا مندی کسی نسلی امتیازیا ذاتی تعصب یا رنگ کے فرق پر نہ تھا بلکہ اس کی وجہ ان کا کفر تھا اور اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور حدود الہی سے تجاوز کرنا اس کا باعث تھا یہ ایسے بد نصیب تھے کہ کسی کو برائی سے روکتے بھی نہ تھے خواہ خود نہ بھی کرتے ہوں یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو خود برائی نہیں کرتے تھے مگر انہیں دوسرے کی برائی سے دکھ نہیں ہوتا تھا اسے…
Read the full tafseer →یعنی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل فرما (دیکھئے سورت بقرہ 143) یا یہ کہ انبیا اور مومنین جو توحید کی گواہی دیتے ہیں ان کی جماعت میں شمار فرما (کبیر)3 یعنی ہمارا مسلمان کے ساتھ حشر فرمائے۔ اس صورت میں ونطع کا عطف نومن کی ضمیر سے حال ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم کیوں ایمان لائیں حلان کہ ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا پر وردگا اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے یعنی ہیں ایمان ضرور لانا چاہیے ورنہ اس قسم کی توقع سراسر جہالت اور حماقت ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(5:83) تفیض۔ فاض یفیض فیضا (ضرب) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ بہتی ہے ۔ وہ جاری ہوتی ہے۔ فاض الماء کے معنی ہیں کسی جگہ سے پانی کا اچھل کر بہ نکلنا۔ یہاں آنسوؤں کے آنکھوں سے بہنے کے لئے آیا ہے۔
الدمع۔ آنسو۔ اشک ۔ واحد ۔ وموغ وادمح جمع۔
ربنا سے جو کلام شروع ہوا تھا وہ آیۃ 84 کے اختتام پر الصلحین پر ختم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
آیت نمبر 82 تا 86
لغات القرآن : لتجدن (البتہ تو ضرور پائے گا) ۔ اشد الناس (لوگوں میں سخت) اقرب (زیادہ قریب) ۔ مودۃ (محبت ۔ دوستی۔ تعلق) ۔ قسیسین (قسیس) ۔ عالم۔ عیسائیوں کے پادری) ۔ رھبانا (راھب) ۔ دنیا کو چھوڑ کر عبادت کرنے والے) لایستکبرون (وہ تکبر نہیں کرتے ہیں) ۔ اذا سمعوا (جب وہ سنتے ہیں) ۔ اعینھم (عین) ۔ ان کی آنکھیں) ۔ تفیض (بہنے لگتے ہیں) ۔ الدمع (آنسو) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔
تشریح : اچھے اور برے لوگ کس جماعت میں نہیں ہوتے۔ چناچہ یہود و نصاریٰ دونوں میں اچھے برے لوگ تھے۔ ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ یہود میں اچھے لوگ بہت کم تھے۔ اس لئے ان کا کچھ خاص وزن نہ تھا۔ اس کے برخلاف نصاریٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
نجاشی بادشاہ : یہ ان کی رقت قلب کا بیان ہے کہ جو دل میں اثر کرنے والے قرآن شریف کے مضامین سن کر روپڑتے ہیں۔ چناچہ جب نجاشی بادشاہ کی درخواست پر حضرت جعفر ؓ نے اس کے دربار میں سورة مریم کی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی بادشاہ اور اس کے درباری جن میں اس کی قوم کے علماء بھی موجود تھے۔ سب زاروقطار رونے لگے۔ اسی طرھ نجاشی کی قوم کے ستر آدمی جو آنحضرت ﷺ کی حدمت میں حاضر ہوئے تھے، حضور سے سورة یا سین سن کر بہت روئے اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ عالیہ وسلم کے نبی اور برحق ہونے کی شہادت ہم نے دی، اور آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہوئے جو روز قیامت میں تمام امتوں کے گواہ ہوں گے۔ جب یہ لوگ مشرف باسلام ہوکر واپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
[50] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) پر۔
[51] یعنی تورات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ قرآن ایمان باللہ اور حق کے دعوت ہے اس لیے اقرار و اعتراف نہ کرنا ، شقاوت وہ بدبختی کے متراوف ہے ۔
حل لغات : تفیض ، مادہ فیض پانی کافراوانی کی وجہ سے چھلک جانا ، فاثاب : مصدر ثواب ، بمعنی اجر ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
اور یہ کہ جب یہ لوگ اس قرآن کو سنتے ہیں جو محمد ﷺ کی طرف بھیجا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو ملاحظہ کرتے ہیں کہ وہ آنسوئوں سے بہہ رہی ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے دین حق کو پہچان لیا اور وہ اسلام سے واقف ہوگئے وہ اس حالت میں متاثر ہو کر یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم مسلمان ہوگئے اور ایمان لے آئے لہٰذا ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجیے اور ان کے ساتھ شامل کر لیجیے جو دین حق کی تصدیق کرنے اور دین حق کی گواہی دینے والے ہیں اور ہمارے لئے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس دین حق پر ایمان نہ لائیں جو ہم کو پہنچا ہے اور ہمارے پاس آیا ہے اور امید یہ رکھیں کہ ہمارا پروردگار ہم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ف 5۔ مطلب یہ کہ حق کو سن کرمتاثر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →وہ پکار اٹھے کہ سچائی سے انکار ایمان کے تقاضا کے خلاف ہے :
209: بہت بڑی بات ہے جو انہوں نے برملا کہہ دی اور بےخوف وخطر کہہ دی کہ ” ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس کے کلام پر جو سچائی کے ساتھ ہمارے پاس آیا ایمان نہ لائیں “ بلاشبہ ایمان کا تقاضا آج بھی وہی ہے جو اس وقت تھا اور اسی چیز کا نام ” ایمان “ ہے جو انہوں نے بیان کی پھر انہوں نے دعوت اسلام کو قبول کر کے مسیح (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیم ہی کی تصدیق کی اور اس طرح وہ زمرہ صالحین میں داخل ہوگئے اور یہی ان کی آرزو تھی اور وہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ ہمیں کیا ہے کہ ہم ” اللہ سے اس کی توقع نہ رکھیں کہ وہ ہمیں نیک کردار انسانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
Sequence of Verses
Mentioned earlier was the friendliness of Jews with disbelievers. Mentioned now is their hostility towards Muslims in tandem with the disbelievers - which was the real cause of that friendship (the enemy of my enemy is my friend! ). And since the Qur'an upholds justice universally, it has not counted everyone even among Jews and Christians as being in the same lot. Whoever among them had some good quality, that was acknowledged openly - for example, the presence of a particular group among the Christians which did not have the kind of prejudice the Jews were known for, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
103. It seems natural that those who believe in God and the Prophets and the Scriptures, compared with the polytheists, would naturally be more sympathetic to those who at least share with them belief in God, in prophethood and in .revelation (whatever their disagreements on other religious issues). It was ironic, therefore, that the Jews should openly support the polytheists in the struggle between polytheism and monotheism, and that their sympathies in the conflict between those who rejected prophethood and those who believed in it should lie expressly with the former. Despite all this,…
Read the full tafseer →