یہودیوں کا تاریخی کردار
یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں حضرت جعفر بن ابو طالب نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور حضرت جعفر کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ کے حالات وصفات دیکھیں اور آپ کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ سے ملے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہوگئے بہت روئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
سورة الْمَآىِٕدَة 103
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلہ وحی و رسالت کو مانتے ہوں۔ لیکن یہ یہودی عجیب قسم کے اہل کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھلم کھلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں، اقرار نبوت اور انکار نبوت کی لڑائی میں علانیہ ان کی ہمدردیاں منکرین نبوت کے ساتھ ہیں، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ربط آیات
اوپر یہود کا مشرکین سے دوستی رکھنا مذکور تھا، آگے ان کا مع مشرکین کے مسلمانوں سے عداوت رکھنا مذکور ہے جو اس دوستی کا اصلی سبب تھا اور چونکہ ہر معاملہ ایک درجہ میں شمار نہیں کیا، جس میں کوئی بڑا داعی ہے اس لئے یہود و نصاریٰ میں بھی سب کو ایک درجہ میں شمار نہیں کیا۔ جس میں کوئی خوبی تھی اس کا بھی اظہار کیا گیا، مثلاً نصاریٰ کی ایک خاص جماعت میں یہ بسنت ان یہود کے تعصب کا کم ہونا۔ اور ان نصاریٰ میں جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا ان کا مستحق حسن ثناء و حسن جزا ہونا مذکور ہے۔ اور یہ خاص جماعت حبشہ کے نصاریٰ کی ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو جبکہ ہجرت مدینہ کے قبل اور وہ اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ…
Read the full tafseer →لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۔
" قسیس " اور " رہبان " سے مراد : " قسیس " اور " رہبان " کے الفاظ عرب کے نصاری اپنے علماء اور زاہدوں کے لیے بولتے تھے جس طرح یہود اپنے علماء اور فقہاء کے لیے " رِبی "، " ربانی " اور احبار استعمال کرتے تھے۔ یہ الفاظ اہل کتاب ہی کے واسطہ سے عربی میں آئے۔ چونکہ عرب کے یہود و نصاریٰ کی عام زبان عربی تھی، ان میں بڑے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
82۔ 1 اس لئے کہ یہودیوں کے اندر عناد و جحود، حق سے اعراض و استکبار اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کا قتل اور ان کی تکذیب ان کا شعار رہا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے رسول اللہ کے قتل کی بھی کئی مرتبہ سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم سعی کی۔ اور اس معاملہ میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔
82۔ 2 رُھْبَانُ سے مراد نیک، عبادت گزار اور گوشہ نشین لوگ قَسِّیْسِیْنَ سے مراد علما وخطبا ہیں، یعنی ان عیسائیوں میں علم و تواضع ہے، اس لئے ان میں یہودیوں کی طرح حجود و استکبار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دین مسیح میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو امتیازی…
Read the full tafseer →56:: مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں چونکہ بہت سے لوگ دنیا کی محبت سے خالی ہیں، اس لئے ان میں قبول حق کا مادہ زیادہ ہے اور کم از کم انہیں مسلمانوں سے اتنی سخت دشمنی نہیں ہے، کیونکہ دنیا کی محبت وہ چیز ہے جو انسان کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے، اس کے برعکس یہودیوں اور مشرکین مکہ پر دنیا پرستی غالب ہے، اس لئے وہ سچے طالب حق کا طرز عمل اختیار نہیں کرپاتے، عیسائیوں کے نسبۃً نرم دل ہونے کی دوسری وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے ؛ کیونکہ انسان کی انا بھی اکثر حق قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے، عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے محبت میں قریب تر فرمایا گیا ہے اسی کا اثر یہ تھا کہ جب…
Read the full tafseer →سورة المائدہ کا آخری حصہ ایک نظر میں :
اس پارے میں سورة مائدہ کا بقیہ حصہ ہے ‘ اس کے ابتدائی حصوں کے بارے میں تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔ نیز اس میں سورة انعام کے آغاز سے لے کر آیت (آیت) ” ولو اننانزلنا الیھم الملئکۃ) تک کا حصہ بھی مذکور ہے جس کے بارے میں تفصیلی بحث سورة انعام کے آغاز میں ہوگی ۔ یہاں صرف اس حصے پر تبصرہ کیا جا رہا ہے جو سورة مائدہ سے رہ گیا تھا ۔
پارہ ششم میں اس سورة کے تعارف میں ہم نے کہا تھا :
” اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک پر اس لئے نازل فرمایا کہ اس کے ذریعے وہ ایک امت کو برپا کریں ‘ وہ امت ایک مملکت کی بنیاد رکھے ‘ ایک معاشرے کو منظم کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
1 ان آیات میں بتلایا گیا کہ یہود کا مشرکین سے دوستی کرنا محض اسلام اور مسلمانوں کی عداوت و بغض کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کو جن اقوام سے زیادہ سابقہ پڑتا تھا ان میں یہ دونوں قومیں یہود اور مشرکین علی الترتیب اسلام و مسلمین کی شدید ترین دشمن تھیں۔ مشرکین مکہ کی ایذا رسانیاں تو اظہر من الشمس ہیں۔ لیکن ملعون یہود نے بھی کوئی کمینہ سے کمینہ حرکت اٹھا کر نہیں رکھی۔ حضور ﷺ کو بیخبر ی میں پتھر کی چٹان گرا کر شہید کرنا چاہا، کھانے میں زہر دینے کی کوشش کی، سحر اور ٹوٹکے کرائے، غرض غضب پر غضب اور لعنت پر لعنت حاصل کرتے رہے۔ اس کے بالمقابل نصاریٰ باوجودیکہ وہ بھی کفر میں مبتلا تھے، اسلام سے جلتے تھے،…
Read the full tafseer →آیت 82 لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا ج
یہ بہت اہم آیت ہے۔ مکہ کے مشرکین بھی مسلمانوں کے دشمن تھے ‘ لیکن ان کی دشمنی کم از کم کھلی دشمنی تھی ‘ ان کا دشمن ہونا بالکل ظاہر و باہر تھا ‘ وہ سامنے سے حملہ کرتے تھے۔ لیکن مسلمانوں سے بد ترین دشمنی یہود کی تھی ‘ وہ آستین کے سانپ تھے اور سازشی انداز میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں مشرکین مکہ سے کہیں آگے تھے۔ آج بھی یہود اور ہنود مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے آگے ہیں ‘ کیونکہ اس قسم بت پرستی کا شرک تو اب صرف ہندوستان میں رہ گیا ہے ‘ اور کہیں نہیں رہا۔ ہندوستان کے بھی اب یہ صرف نچلے طبقے…
Read the full tafseer →128 یہود و نصاریٰ کے کردار کا تقابل :۔ عیسائیوں کی مسلمانوں سے کم تر دشمنی اور قریب تر دوستی کی اللہ نے تین وجوہ بیان فرمائیں۔ ایک یہ کہ ان میں عالم لوگ موجود ہیں۔ (یاد رہے عالم سے مراد ہمیشہ عالم باعمل ہوتا ہے) دوسرے ان میں مشائخ موجود ہیں اور تیسرے یہ عیسائی لوگ متکبر نہیں ہوتے بلکہ متواضع اور منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ اب ان کے مقابلہ میں یہود کے حالات دیکھئے ان کے علماء آیات اللہ کو بیچ کھانے والے آیات کو اور حق بات کو چھپا جانے والے اور سازشیں کرنے والے، ان میں رہبان یا مشائخ نام کو نہیں تھے بلکہ پوری قوم حب دنیا میں اس قدر مبتلا تھی کہ سود خوری اور حرام خوری سے باز نہیں آتے تھے اور ہر جائز…
Read the full tafseer →268 ۔ یعنی اسلام سے مخالفت وعداوت تو ہر غیر مسلم کو ہے۔ لیکن اس عموم میں مرتبہ خصوص مشرکین و یہود کو حاصل ہے کہ وہ شدید تیرن دشمنان اسلام ہیں۔
269 ۔ (آیت) ” قالو انا نصری “۔ آیت پر اشکالات متعدد وارد ہوئے ہیں، اور جوابات بھی متعدد دیئے جاچکے ہیں۔ مثلا ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں مراد صرف رسول اللہ ﷺ کے معاصر مسیحی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ پر صحیح ہے لیکن بنیادی اشکال صرف اس لیے پیدا ہوا ہے کہ آیت کے لفظ نصاری پر کافی غور نہ کیا گیا اور اسے ” مسیحیوں “ کا مرادف سمجھ لیا گیا، آیت میں مسیحی یا عیسائی سرے سے مراد ہی نہیں، بلکہ نصاری سے مراد نصاری ہی ہیں۔ جو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی ماننے…
Read the full tafseer →لَتجدَنَّ اشد الناس عداوۃً للذین آمنوا الیھود (الآیۃ) ، اہل ایمان سے یہود کی شدید ترین عداوت کی وجہ عناد اور حجود حق ہے، حق سے اعراض اور استکبار اور اہل علم و ایمان کی تنقیص و تحقیر کا جذبہ ان میں بہت پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبیوں کا قتل اور ان کی تکذیب ان کا شعار رہا ہے، حتی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کی بھی کئی مرتبہ سازش کی آپ ﷺ پر جادو کیا، کھانے میں زہر دیا، پتھر گرا کر ہلاک کرنے کی مذموم کوشش کی غرضیکہ نقصان و ایذاء رسانی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا، اور یہی صورت حال مشرکین مکہ کی تھی۔
بہ نسبت یہود کے، نصاریٰ میں حجود و استکبار کم ہے : یعنی نصاریٰ میں علم و تواضع ہے یہی…
Read the full tafseer →لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا آپ اہل ایمان کا سب سے سخت دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے۔ ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت ابی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی جب بھی مسلمان کو تنہائی میں پاتا ہے تو اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ مسلمان کو قتل کر دوں۔
مشرکوں سے مراد ہیں عرب کے مشرک کیونکہ وہ خواہشات نفسانی میں غرق تھے۔ اسلاف کے اندھے پیروکار تھے۔ تحقیق سے ان کا دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ انبیاء کی تکذیب اور عداوت کے ہمیشہ سے عادی تھے۔
ولتجدن اقربہم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا ان نصاری اور جو لوگ اپنے نصاری ہونے کے قائل ہیں ان کو آپ اہل ایمان کی دوستی کے…
Read the full tafseer →(82) اس کے ساتھ ساتھ ان کو رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے جو دشمنی ہے اللہ تعالیٰ اس کو بیان فرماتا ہے کہ محمد ﷺ ان لوگوں میں سب سے زیادہ آپ ﷺ سے اور صحابہ کرام ؓ سے دشمنی رکھنے والے آپ بنی قریظہ، بنی نضیر، فدک، خیبر اور مشرکین مکہ کو پائیں گے جو کفر وشرک میں بہت پختہ ہیں۔
اور آپ کے ساتھ اور صحابہ کرام ؓ کے ساتھ دوستی رکھنے کے قریب آپ حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کو پائیں گے جن کی تعداد بتیس ہے یا چالیس ہے جن میں سے بتیس تو حبشہ کے ہیں اور آٹھ شام کے ہیں، بحیرا راہب اور اس کے ساتھی اور ابرہی، اشرف، ادریس، تمیم، تمام، درید، ایمن اور یہ دوستی اس بنا پر ہے کہ بہت سے ان میں سے تارک الدنیا عابد…
Read the full tafseer →لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً۔۔ : اس لیے کہ یہودیوں میں عناد و انکار، حق سے دشمنی، تکبر اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کو جھٹلانا بلکہ قتل کردینا ان کا شعار رہا ہے، حتیٰ کہ انھوں نے کئی مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی۔ اس معاملے میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ یہ واقعی ایک حقیقت ہے جس کا اس زمانے میں بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، آج بھی جو دشمنی یہودیوں اور مشرکوں (گائے اور بتوں کے پجاری ہندوؤں، دہریوں اور کمیونسٹوں) کو مسلمانوں سے ہے وہ بہرحال نصرانیوں کو نہیں ہے، ہاں جن نصرانیوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 82
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لتجدن اشد الناس عداوۃ للذینی امنوا الیھود۔ یہ لام، لام قسم ہے اور نون داخل ہوا حال اور مستقبل کے درمیان فرق کرنے کے لیے۔ یہ خلیل اور سیبویہ کے قول کے مطابق ہے۔ عداوۃ پر نصب بیان کے لیے ہے۔ اسی طرح آیت : ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری کی آیت ہے۔ یہ آیت نجاشی اور اس کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی، جب مسلمان پہلی ہجرت میں ان کے پاس آئے، جیسا کہ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں مشہور ہے، مشرکین کے خوف اور فتنہ کی وجہ سے یہ بہت سے افراد ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تو وہ آپ کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
(1) امام ابن مردویہ اور ابو الشیخ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تنہا ہوتا کوئی یہودی کسی مسلمان کے ساتھ مگر وہ اس کے قتل کا ارادہ کرتا ہے۔ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے۔ مگر اس کا نفس اس کو قتل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن مردویہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری سے مراد وہ وفد ہے جو جعفر اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ حبشہ سے آیا تھا۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جن نصاری کا ذکر فرمایا وہ حبشہ کے لوگ مراد ہیں۔ جو ایمان لائے…
Read the full tafseer →لَتَجِدَنَّ [ تو لازما پائے گا ] اَشَدَّ النَّاسِ [ لوگوں میں سب سے سخت ] عَدَاوَةً [ بلحاظ عداوت کے ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] اٰمَنُوا [ ایمان لائے ] الْيَھُوْدَ [ یہودیوں کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کو جنھوں نے ] اَشْرَكُوْا ۚ [ شرک کیا ] وَلَتَجِدَنَّ [ اور تو لازما پائے گا ] اَقْرَبَهُمْ [ ان میں سب سے قریب ] مَّوَدَّةً [ بلحاظ دوستی کے ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] اٰمَنُوا [ ایمان لائے ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ] اِنَّا [ کہ ہم ] نَصٰرٰى ۭ [ نصرانی ہیں ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّ [ اس سبب سے کہ ] مِنْهُمْ [ ان میں ] قِسِّيْسِيْنَ [ علماء ہیں ] وَرُهْبَانًا [ اور…
Read the full tafseer →اہل ایمان سے یہودیوں اور مشرکوں کی دشمنی
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ آپ اہل ایمان کے سب سے زیادہ سخت ترین دشمن یہودیوں کو اور ان لوگوں کو پائیں گے جو مشرک ہیں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے، مشرکین مکہ نے جو حضرات صحابہ ؓ پر ظلم وستم ڈھائے وہ معروف و مشہور ہیں اور جہاں کہیں بھی مشرکین ہیں وہ اب بھی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں اور تاریخ کے ہر دور میں ان کی دشمنی بڑھ چڑھ کر رہی ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی تو یہودیوں نے سخت دشمنی کا مظاہرہ کیا۔ یہ لوگ بہت سے مدینہ منورہ رہتے تھے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی نعوت اور صفات جو انہیں پہلے سے معلوم تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
تنبیہ اہل کتاب برسبب گمراہی ایشان، وممانعت از اتباع گمراہان پیشینان۔
قال اللہ تعالی، قال یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ یستکبرون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں نصاری کے عقائد باطلہ اورا ن کی طمراہی کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل کتاب کی گمراہی اور تباہی کا سبب بیان کرتے ہیں اور گمراہوں کی پیروی سے منع فرماتے ہیں اہل کتاب کی گمراہی کا سبب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے دین میں غلو کیا اور افراط اور تفریط سے کام لیا نصاری نے حضرت عیسیٰ کے حق میں یہ غلو کیا کہ ان کو خدا ٹھہرایا یہ افراط ہوا اور یہود نے ان کو ایسا گھٹایا کہ ان کی نبوت کو بھی نہ مانا اور انکو ساحر اور کذاب بتلایا اور ان کی والدہ ماجدہ…
Read the full tafseer →142 نزول قرآن کے وقت تین جماعتیں اسلام کی مخالف تھیں یہود و نصاریٰ اور مشرکین، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے خلاف شدت عداوت کے اعتبار سے ان کی درجہ بندی فرما دی۔ شدتِ عداوت میں یہودی سب سے پہلے درجہ پر ہیں اور وہ دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ دوسرے درجے پر مشرکین ہیں۔ دو جماعتوں کا صراحت سے ذکر فرمایا۔ اور تیسری جماعت یعنی نصاریٰ کا حال خود بخود معلوم ہوگیا کہ تیسرے درجے پر نصاریٰ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔
143 ھُمْ ضمیر اَلنَّاس کی طرف راجع ہے۔ مسلمانوں کے دشمنوں کی درجہ بندی کرنے کے بعد مسلمانوں سے محبت اور دوستی کرنیوالوں کا ذکر فرمایا۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ربط آیات
گزشتہ درس میں اہل کتاب کے دو گروہوں کے متعلق ذکر آ چکا ہے کہ ان کی نافرمانیوں ، عصیان اور تعدی کی وجہ سے اللہ نے اپنے دو نبیوں کی زبان سے ان پر لعنت بھیجی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں یہودیوں نے مچھلی کے شکار سے متعلق اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور حیلے بہانے سے ہفتے کے دن بھی شکار کرنے لگے۔ اس نافرمانی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور وہ لوگ خنزیروں اور بندروں کی شکلوں میں تبدیل ہوگئے دوسرا گروہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کا ہے جن کو منع کیا گیا تھا کہ آسمان سے نازل ہونے والے مائدہ کو کھائو پیو مگر اس کا ذخیرہ نہ کرو۔ انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی…
Read the full tafseer →لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا 0ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى 0ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُہْبَانًا وَّاَنَّہُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 82
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ترکیب : مالا یملک مانکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی مفعول تعبدون لا تغلوا فعل لازم ہے اور غیر الحق صفت ہے مصدر محذوف کی اے غلو غیر الحق اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر فاعل سے ای لاتغلوا مجاوزین الحق من بنی اسرائیل حال ہے الذین کفروا سے علی لسان داؤد متعلق ہے لعنوا سے۔
تفسیر : اب ایک اور دلیل یہود و نصاریٰ و مشرکین کے مقابلہ میں ایسی ذکر فرماتا ہے کہ جس سے اللہ کے سوا تمام چیزوں کا معبود ہونا باطل ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ معبود وہ ہونا چاہیے جو نفع و ضرر کا مالک ہو اور یہی بات ہے کہ جس سے کسی کی عبادت اور اطاعت کی جاتی ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور مشرکین کے فرضی خدا نہ کسی کو نفع…
Read the full tafseer →لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَھُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا ج وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰیط ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُھْبَانًا وَّ اَنَّھُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ (المائدہ : 82)
” تم ایمان والوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائو گے اور اہل ایمان کی دوستی سے قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان کے اندر عالم اور راہب ہیں اور یہ تکبر نہیں کرتے “۔
نصاریٰ کون تھے ؟
قسیس اور رہبان کے الفاظ عرب کے نصاریٰ اپنے علماء اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب میں اچھے لوگوں کا کردار۔
قرآن مجید کا کمال یہ ہے کہ جب وہ اہل کتاب کی غالب اکثریت کی برائی اور کمزوری کا ذکر کرتا ہے تو ان میں سے اچھے لوگوں کی تعریف کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے اسی اصول کے پیش نظر یہودیوں اور مشرکوں کے بارے میں وضاحت کردی گئی کہ یہ عیسائیوں کی نسبت مسلمانوں کے بارے میں زیادہ متشدد ہیں ان کے مقابلے میں عیسائی مسلمانوں کے بارے میں نرم واقع ہوئے ہیں مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے یہاں عیسائیوں سے مراد سب عیسائی نہیں بلکہ عیسائیوں کا وہ فرقہ مراد ہے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کے نام سے منسوب کرتا ہے یہ مدینہ اور خیبر کے درمیان میں آباد تھے اور…
Read the full tafseer →علماء و رھبان کا وجود عداوت میں کمی کا باعث ہے :
آیت 82 : لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ ٰامَنُوا الْیَہُوْدَ ۔ (تم ضرور یہود کو ایمان والوں کی دشمنی میں سخت تر پائو گے) ۔
: الیہود یہ تجدن کا مفعول ثانی ہے۔ اور عداوۃً یہ تمیز ہے۔ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْایہ یہود پر عطف کیا گیا ہے۔ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ ٰامَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰیلام عداوت ومودت کے متعلق ہے۔ اس میں یہود کی سخت دشمنی کو بیان کیا گیا اور نصاریٰ کی نرمی کو ذکر کیا گیا۔ اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں یہود کو مشرکین کا ساتھی قرار دیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
آیت نمبر 82, 81, 80
تفسیر :(تریٰ کثیراً منھم) بعض نے کہا کہ یہود میں سے کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی مراد ہیں (یتولون الذین کفروا دوستی کرتے ہیں کافروں سے) مکہ کے مشرکین مراد ہیں سے جب وہ نبی کریم ﷺ کے خلاف لشکر نکالتے تھے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد ، حسن رحمہما اللہ نے فرمایا کہ ” منھم “ سے وہ منافقین مراد ہیں جو یہود سے دوستی کرتے تھے۔ (لبئس ماقدمت لھم انفسھم کیا ہی برا سامان بھیجا انہوں نے اپنے واسطے) یعنی آخرت کے لیے انہوں نے برا عمل بھیجا (ان سخط اللہ علیھم وہ یہ کہ اللہ کا غضب ہوا ان پر ( وفی العذاب ھم خلدون اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں)
(ولو کانوا یومنون باللہ والنبی اور اگر وہ یقین…
Read the full tafseer →سورة بقرہ کی آیت { وَلَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ } (2: 96) کی تفسیر میں گزرچکا ہے کہ جس طرح مشرک لوگوں کا دارو مدار فقط دنیا کی زندگی پر ہے۔ عقبیٰ کے یہ لوگ بالکل منکر ہیں اسی طرح یہود ہیں کہ انبیاء کے قتل اور علاوہ اس کے اور بڑے بڑے گناہوں کے کرنے سے مشرکوں کی طرح یہ بھی سخت دل ہو کر عقبیٰ کو بالکل بھول گئے ہیں اور فقط دنیا کی زیست پر ہی ان کا بھی دارو مدار ہے۔ اسلام میں اس عادت کے لوگوں کی بڑی مذمت آئی ہے۔ اس لئے ایک دل ہو کر یہ دونوں فریق اسلام کے سخت دشمن ہیں بخلاف نصاریٰ کے ان میں بعض عبادت پسند اور تارک الدنیا ہیں یہود جیسی دنیا پرستی ان کے جی میں نہیں ہے اسلئے اسلام…
Read the full tafseer →آیت 82
اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے (لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا) ” آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو “ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لئے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر وعناد رکھتے ہیں۔ (ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوآ انا نصریٰ ) ” اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
قول باری ہے ولتجدن قوبھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصاری اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پائو گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں تا آخر آیت ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ، عطاء اور سدی کا قول ہے یہ آیت نجاشی شاہ حبشہ اور اس کے ساتھیوں بارے میں نازل ہوئی جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ آیت کا تعلق اہل کتاب کے ایک گروہ سے تھا جس کے افراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے رہے ۔ پھر جب حضور ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔ جاہلوں کا ایک گروہ بھی ہے جس کا گمان ہے کہ اس آیت میں نصاریٰ کی تعریف کی گئی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
205 مسلمانوں کے سب سے بڑے اور سخت دشمنوں کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے اور سخت دشمن یہود اور مشرکین ہیں ـ کہ مسلمانوں کے خلاف بغض وعناد میں یہ دونوں گروہ باہم متفق ہیں۔ نیز یہ دونوں گروہ تکبر، ہٹ دھرمی، ظلم و زیادتی، ایذا رسانی، مادہ پرستی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے جیسے خصال بد میں باہم شریک اور ایک ہی جیسے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اللہ کے رسول اور ان کے ساتھیوں کو دکھ دینے، انکو تکلیف پہنچانے اور ان کی ایذا رسانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے گھر سے بےگھر کردیا۔ ہجرت پر مجبور کیا۔ اور آپ ﷺ کے قتل تک کے منصوبے ان لوگوں…
Read the full tafseer →یہود و نصارٰی کا مقابلہ
تشریح : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو یہود و نصارٰی کا فرق بتایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کیونکہ اسلام برائیوں، خود غرضی اور آپس میں دشمنی سے منع کرتا ہے اور امن و سلامتی کا حکم دیتا ہے اور یہ سب تعلیمات یہودیوں کی فطرت کے بالکل خلاف تھیں کفار مکہ تو تھے ہی جاہل، اس لیے ان دونوں گروہوں نے سمجھا کہ اسلام تو ان سے ان کی سرداری چھین لے گا، لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کی اور رسول اکرم ﷺ کی خوب مخالفت کی اور ان کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کی۔ کئی دفعہ نبی ﷺ کو ختم کردینے کی کوشش بھی اسی دشمنی کی وجہ سے کی۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ عیسائی اتنے زیادہ دشمن نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 78 تا 86 ۔
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کے کفار پر تو ہر عہد کے نبی نے اللہ کی ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ان پر لعنت کی گئی حضرت داود (علیہ السلام) سے انہیں وہی پیغام دلوایا گیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) نے دہرایا اور یہ مسلسل اظہار نا رضا مندی کسی نسلی امتیازیا ذاتی تعصب یا رنگ کے فرق پر نہ تھا بلکہ اس کی وجہ ان کا کفر تھا اور اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور حدود الہی سے تجاوز کرنا اس کا باعث تھا یہ ایسے بد نصیب تھے کہ کسی کو برائی سے روکتے بھی نہ تھے خواہ خود نہ بھی کرتے ہوں یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو خود برائی نہیں کرتے تھے مگر انہیں دوسرے کی برائی سے دکھ نہیں ہوتا تھا اسے…
Read the full tafseer →ف 7 یہ ایک دائمی حقیقت ہے جس کا اس زمانہ میں کبھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے آج بھی جو دشمنی دیہودیوں اور مشرکوں ( گو سالہ پرست اور موتیوں کے پچاریوں) کو مسلمانوں وہ بہر حال عیسائیوں کو نہیں ہے ہاں جن عیسایئوں پر یہود غالب ہے وہ واقعی مسلمانوں ج کے سخت دشمن ہیں (م۔ ع )
8 یہود اور نصاری کے درمیان جو تفاوت مذکوہ ہوا ہے یہ اس کی علت ہے جس طرح یہود کی عالم کو حبر کہا جاتا ہے جس کی جمع احبار ہے اسی طرح نصاری کے رائیس اور عالم قسیسین کہلاتے ہیں کہ نصاری میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔ آنحضرت ﷺ نے لا رھبقا نیتہ فی الا سلام فرماکر اسے ممنوع قراردے دیا بیشک یہود کی قساوت قلبی کی کے مقابلہ…
Read the full tafseer →(5:82) لتجدن۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ۔ تو ضرور پائے گا۔ لتجدن۔ فعل بافاعل۔ الیھود۔ والذین اشرکوا دونوں مفعول۔ اشد الناس ۔۔ امنوا۔ حال یعنی تو ضرور پائے گا اہل یہود اور مشرکین کا ایمان والوں کی عداوت میں تمام لوگوں سے سخت ترین۔ اسی طرح دوسرے فقرہ کا بھی ترجمہ ہوگا۔ اور تو ضرور پائے گا ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ایمان والوں کی دوستی میں ان سب سے قریب ترین۔
قسیسین۔ جمع منصوب۔ قسیسون۔ جمع مرفوع۔ اس کی واحد قس اور قتیس ہے۔ بمعنی عیسائی عالم۔ یا درویش۔ یہ سریانی لفظ ہے۔
رھبان۔ زاہدان اہل کتاب۔ اہل کتاب کے درویش۔
راھب۔ واحد۔ جیسے فارس کی جمع فرسان اور راکب کی جمع رکبان ہے۔ راہب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
آیت نمبر 82 تا 86
لغات القرآن : لتجدن (البتہ تو ضرور پائے گا) ۔ اشد الناس (لوگوں میں سخت) اقرب (زیادہ قریب) ۔ مودۃ (محبت ۔ دوستی۔ تعلق) ۔ قسیسین (قسیس) ۔ عالم۔ عیسائیوں کے پادری) ۔ رھبانا (راھب) ۔ دنیا کو چھوڑ کر عبادت کرنے والے) لایستکبرون (وہ تکبر نہیں کرتے ہیں) ۔ اذا سمعوا (جب وہ سنتے ہیں) ۔ اعینھم (عین) ۔ ان کی آنکھیں) ۔ تفیض (بہنے لگتے ہیں) ۔ الدمع (آنسو) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔
تشریح : اچھے اور برے لوگ کس جماعت میں نہیں ہوتے۔ چناچہ یہود و نصاریٰ دونوں میں اچھے برے لوگ تھے۔ ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ یہود میں اچھے لوگ بہت کم تھے۔ اس لئے ان کا کچھ خاص وزن نہ تھا۔ اس کے برخلاف نصاریٰ…
Read the full tafseer →ہجرت حبشہ
شان نزول : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ منورہ کی ہجرت سے پہ ؛ ے عورتوں بچوں کے علاوہ اسی آدمی کے قریب حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے، اور قریش نے نجاشی بادشاہ حبشہ سے ان لوگوں کے مکہ معظمہ واپس کردینے کی خواہش حبشہ جاکر کی تھی، اور نجاشی نے ان لوگوں کا اصل حال دریافت کرنے کی غرض سے ان لوگوں کو اپنے روبرو بلایا تھا اور آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ذیل میں نجاشی نے حضرت جعفر ؓ سے کہا تھا کہ تمہارے نبی پر جو کلام اترتا ہے اس میں سے کچھ مجھ کو سناؤ تو حضرت جعفر ؓ نے سورة مریم پڑھی تھی جس کو سن کر نجاشی اور پادری لوگ روئے تھے۔ اس پر یہ آیتیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں۔ اگرچہ یہ آیتیں نصاریٰ کے ایک خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
[50] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) پر۔
[51] یعنی تورات۔
Read the full tafseer →(ف 1)
قرآن حکیم نے جہاں یہودیوں کی قساوت قلبی کا تذکرہ کیا ہے اور مشرکین مکہ کی عداوتوں کو بیان کیا ہے وہاں نہایت فراخ دلی کیی ساتھ عیسائیوں کی تعریف بھی کی ہے ، فرمایا ہے کہ یہودی اور مشرک مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں ، مگر عیسائیوں میں ایسے فقیر اور صلح جو لوگ موجود ہیں جو کبر وپندار کے مرض سے آلودہ نہیں ہوتے اور جن کے تعلقات مسلمانوں کے ساتھ زیادہ دوستانہ اور محبانہ ہیں ۔
وجہ یہ تھی کہ یہودی مال و دولت کے نشے میں مخمور تھے دینداری اور تورع کے لئے ان کے دلوں میں کوئی جذبہ نہ تھا ، اس لئے وہ طبعا ہر اس تحریک سے متنفر تھے جو انہیں پاکبازی کی دعوت دے اور عیسائی چونکہ رہبانیت کی طرف مائل تھے…
Read the full tafseer →ف 3 اے پیغمبر ! یقینا آپ غیر مسلموں میں مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور عداوت کے اعتبار سے یہود کو اور مشرکین کو بہت سخت پائو گے یعنی یہود اور مشرکین مسلمانوں کے ساتھ بڑی دشمنی اور عداوت کا برتائو کر رہے ہیں اور بلاشبہ آپ غیر مسلموں میں سے مسلمانوں کی دوستی کے اعتبار سے قریب تر ان لوگوں کو پائوں گے جنہوں نے یوں کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ نصاریٰ کہنے والوں کا دوستی قریب تر ہونا اور یہود اور مشرکین کا عداوت میں سخت تر ہونا اس کی وجہ یہ ہے کہ الذین قالوا انا نصاری میں بہت سے علماء اور گوشہ نشین زاہد و راہب ہیں اور نیز اس سبب سے کہ یہ لوگ تکبر نہیں کرتے۔ (تیسیر)
ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کو تین قسم کے…
Read the full tafseer →ف 3۔ قریب ترکایہ مطلب ہے کہ دوست وہ بھی نہیں مگر دوسرے مذکورین سے غنیمت ہیں۔
4۔ یہ آیت تمام ازمنہ وامکنہ کے نصاری کے باب میں نہیں ہے جو نصاری ان اوصاف جو کہ سبب اور مسبب میں موصوف ہوں وہی مراد ہیں پس بعض اہل تملق کا دنیوی غرض سے اس میں عموم مطلق کا دعوی کرنا محض ہواپرستی ہے۔ تنبیہ۔ مقصود آیت میں مدح نصاری کی نہیں بلکہ تقریر میں انصاف ہے اور مقصود مودت کا قرب کامل نہیں بلکہ قریب انصافی ہے۔
Read the full tafseer →سچائی کی حدود سے باہر نکل جانے والے لوگ چاہیں جو کہیں وہ مادر پدر آزاد ہیں :
204: دنیا کی ہرچیز کے لئے کچھ حدود مقرر ہیں اور ان سے تجاوز کرنے والے ان کو اوپر نیچے کرتے رہتے ہیں۔ سچائی کیلئے بھی کچھ حدود متعین ہیں۔ جس چیز کو جس بات کو دل چاہے ” سچ “ کہہ دیا جائے تو اس طرح وہ ” سچ “ نہیں ہوجاتا سچ ہی ہمیشہ سچ ہے ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو بات یہود کے لئے ” سچ “ تھی وہ اہل اسلام کے لئے ” جھوٹ “ ہوجائے یا اہل کتاب کے لئے تو ” جھوٹ “ تھی لیکن اہل اسلام کے لئے وہ ” سچ “ ہوجائے ۔ مادرپدر آزاد لوگ جو کسی ضابطہ کے پابند نہیں چاہے جو کچھ کہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو بات اہل کتاب کے لئے ناجائز تھی اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
Sequence of Verses
Mentioned earlier was the friendliness of Jews with disbelievers. Mentioned now is their hostility towards Muslims in tandem with the disbelievers - which was the real cause of that friendship (the enemy of my enemy is my friend! ). And since the Qur'an upholds justice universally, it has not counted everyone even among Jews and Christians as being in the same lot. Whoever among them had some good quality, that was acknowledged openly - for example, the presence of a particular group among the Christians which did not have the kind of prejudice the Jews were known for, and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
103. It seems natural that those who believe in God and the Prophets and the Scriptures, compared with the polytheists, would naturally be more sympathetic to those who at least share with them belief in God, in prophethood and in .revelation (whatever their disagreements on other religious issues). It was ironic, therefore, that the Jews should openly support the polytheists in the struggle between polytheism and monotheism, and that their sympathies in the conflict between those who rejected prophethood and those who believed in it should lie expressly with the former. Despite all this,…
Read the full tafseer →