Explained with ayahs 78–81
امر معروف سے گریز کا انجام
ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
سورة الْمَآىِٕدَة 103
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلہ وحی و رسالت کو مانتے ہوں۔ لیکن یہ یہودی عجیب قسم کے اہل کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھلم کھلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں، اقرار نبوت اور انکار نبوت کی لڑائی میں علانیہ ان کی ہمدردیاں منکرین نبوت کے ساتھ ہیں، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
بنی اسرائیل کا انجام بد
دوسری آیت میں ان بنی اسرائیل کا انجام بدذکر کیا گیا ہے جو اس افراط وتفریط کی گمراہی میں مبتلا تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوئی، اول داؤد ؑ کی زبان سے جس کے نتیجے میں ان کی صورتیں مسخ ہو کر خنزیر بن گئے، پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی زبان سے یہ لعنت ان پر مسلط ہوئی، جس کا اثر دنیا میں یہ ہوا کہ مسخ ہو کر بندر بن گئے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ بتقاضائے مقام صرف دو پیغمبروں کی زبانی ان پر لعنت ہونے کا ذکر کیا گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پر لعنت کی ابتداء حضرت موسیٰ ؑ سے ہوئی اور انتہا حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر ہوئی۔ اس طرح مسلسل چار پیغمبروں کی زبانی ان لوگوں پر لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
تفیسر آیات 78 تا 81:۔ لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۭذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ۔ كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۔ تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭلَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِـــطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ۔
یہود پر…
Read the full tafseer →81۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر صحیح معنوں میں ایمان ہوگا، وہ کافروں سے کبھی دوستی نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
55: یہ ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو مدینہ منورہ میں آباد تھے اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے معاہدہ بھی کیا ہوا تھا، اس کے باوجود انہوں نے درپردہ مشرکین مکہ سے دوستیاں گانٹھی ہوئی تھیں، اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے، بلکہ ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ان سے یہ تک کہہ دیتے تھے کہ ان کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے اچھا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللہ والنَّبِیِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مَا اتَّخَذُوہُمْ أَوْلِیَاء وَلَـکِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (81)
” اگر فی الواقعہ یہ لوگ اللہ اور پیغمبر اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے بیشتر تو خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔
یہ ہے اصل سبب کہ وہ اللہ اور نبی اخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ ان کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا ہے ۔ یہ اپنے شعور اور اپنے رخ کے اعتبار سے کفار کے ہم جنس ہیں ۔ اس لئے یہ لوگ کفار کے دوست ہوگئے ہیں اور اہل ایمان سے دوستی نہیں کرتے ۔
اس قرآنی تبصرے سے ہمیں…
Read the full tafseer →6 " النبی " سے بعض مفسرین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور بعض نے رسول کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر ان یہود کو واقعی یقین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت اور تعلیمات پر ہوتا تو نبی آخرالزمان کے مقابلہ میں جن کی بشارت خود موسیٰ (علیہ السلام) دے چکے ہیں مشرکین سے دوستی نہ کرتے یا یہ اگر نبی کریم ﷺ پر مخلصانہ ایمان لے آتے تو ایسی حرکت ان سے سر زد نہ ہوتی کہ دشمنان اسلام سے ساز باز کریں۔ اس دوسری تقدیر پر آیت منافقین یہود کے حق میں ہوگی۔
7 خدا کی اور خود اپنے تسلیم کردہ پیغمبر کی نافرمانی کرتے کرتے یہ حالت ہوگئی کہ اب موحدین پر مشرکین کو ترجیح دیتے ہیں۔ افسوس کہ آج ہم بہت سے نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
آیت 80 تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط۔
خود کافروں کے حمایتی بنتے ہیں اور اپنے لیے ان کی حمایت تلاش کرتے ہیں۔
لَبِءْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ اَنْفُسُہُمْ
یہ ان کے جو کرتوت ہیں وہ سب آگے اللہ کے ہاں جمع ہو رہے ہیں اور ان کا وبال ان پر آئے گا۔
Read the full tafseer →127 انہیں چاہیے تو یہ تھا کہ وہ کسی اہل کتاب سے ہی دوستی لگاتے۔ تاکہ کسی نہ کسی حد تک ان میں عقائد کی ہم آہنگی ہوتی جو ان کی دوستی کی بنیاد بن سکتی لیکن وہ اسلام دشمنی میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں مشرکین کو دوستی کے لیے چنتے ہیں اور زبانی بھی مشرکوں سے کہتے ہیں کہ دین کے لحاظ سے تم مسلمانوں سے اچھے ہو۔
Read the full tafseer →266 ۔ (بلکہ ایسی صورت میں تو وہ اسلام کے جان نثاروں میں ہوتے) (آیت) ” النبی “ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہے یصدقون نبیہ محمدا ﷺ (ابن جریر) (آیت) ’ ’ وما انزل الیہ “۔ یعنی قرآن۔ ویقرون بما انزل الی محمد ﷺ (ابن جریر) (آیت) ” النبی “۔ سے اشارہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور (آیت) ” ماانزل الیہ “۔ سے توریت کی جانب بھی سمجھا گیا ہے۔
267 ۔ اور اسی نافرمانی کے آثار میں سے انکی عداوت اسلام ومسلمین کے ساتھ اور ان کی موالات مشرکین عرب کے ساتھ ہے۔ (آیت) ” فسقون “۔ فاسق یہاں محض بدعمل کے معنی میں نہیں بلکہ خارج از ایمان کے معنی میں ہے۔ ای خارجون عن الایمان (قرطبی جلالین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
آیت نمبر 78 تا 82
ترجمہ : بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی یعنی ان کے لئے بددعا کی گئی، جس کی وجہ سے ان کو بندر کی شکل میں مسخ کردیا گیا، اور وہ ایلہ کے باشندے تھے، اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کی زبانی لعنت کی گئی اس طریقہ پر کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کیلئے بددعاء کردی جس کے نتیجے میں ان کو سور کی شکل میں مسخ کردیا گیا، اور وہ اصحاب مائدہ تھے، یہ لعنت اس وجہ سے کی گئی کہ وہ نافرمانی کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر گئے تھے، انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، ان کا یہ طرز عمل برا تھا، جو انہوں نے اختیار کیا، اے محمد آپ ان…
Read the full tafseer →ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء اور اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان رکھتے اور پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو پیغمبر کے پاس بھیجی گئی تھی تو انکو (کبھی) دوست نہ بناتے۔ یعنی اگر یہودی یا منافق ایماندار ہوتے تو مکہ کے کافروں سے (مسلمانوں کے مقابلہ میں) دوستی نہ کرتے یا یہ مطلب کہ اگر منافق ایماندار ہوتے تو یہودیوں سے دوستی نہ کرتے کیونکہ اللہ اور آسمانی کتابوں پر ایمان اس سے روکتا ہے۔ (تقاضائے ایمان کے خلاف ہے کہ اللہ کے دشمنوں سے اللہ کے دوستوں کے مقابلہ میں دوستی کی جائے ‘ 12)
ولکن کثیرا منہم فاسقون لیکن ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ کے احکام کی پابندی سے باہر ہیں۔
Read the full tafseer →(81) اور اگر یہ منافقین اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان رکھتے اور یہود کو اپنا مددگار اور دوست نہ بناتے مگر یہ اہل کتاب منافق ہیں یا یہ کہ اگر یہ یہودی توحید خداوندی اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لاتے اور ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو دوست نہ بناتے مگر ان اہل کتاب میں زیادہ کافر ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ۔ : یعنی اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ پر اور اپنے نبی (موسیٰ و عیسیٰ ؑ پر اور ان پر نازل شدہ کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے، کیونکہ تورات میں اس کام کو حرام کہا گیا ہے، یا یہ کہ اگر وہ کفار صدق دل سے ایمان لائے ہوتے، نفاق کے مریض نہ ہوتے تو پھر یہ کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 80
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیائ۔
اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ جس نے کافر کو ولی بنایا وہ مومن نہیں جب وہ اس کے اعتقاد پر یقین رکھتا ہے اور اس کے افعال سے خوش ہو۔ آیت : ولکن کثیرا منھم فسقون ( یعنی اپنے نبی پر ایمان لانے سے خارج ہیں، کیونکہ انہوں نے تحریف کی یا حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے سے خارج ہوگئے ہیں، کیونکہ یہ ان کی منافقت ہے۔
Read the full tafseer →(1) مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ قول نقل کیا ہے کہ لفظ آیت ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیاء ولکن کثیرا منھم فسقون کا مصداق منافق ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] كَانُوْا [ وہ لوگ ہوتے ] يُؤْمِنُوْنَ [ کہ ایمان لاتے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالنَّبِيِّ [ اور ان نبی پر ] وَمَآ [ اور اس پر جو ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَيْهِ [ ان کی طرف ] مَا اتَّخَذُوْهُمْ [ تو نہ بناتے ان کو ] اَوْلِيَاۗءَ [ دوست ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] كَثِيْرًا [ اکثر ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] فٰسِقُوْنَ [ نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ لَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ النَّبِیِّ ) (الایۃ) (اور اگر وہ لوگ نبی کریم ﷺ پر اور اس چیز پر ایمان لاتے جو آپ پر نازل کی گئی تو کافروں کو دوست نہ بناتے) اس میں منافقوں کی طرف بھی اشارہ ہے جو کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں ان کا دعوائے ایمان غلط تھا، اگر آپ پر ایمان لاتے تو آپ کے دشمنوں سے کیوں دوستی کرتے (وَ لٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ) (لیکن ان میں بہت سے وہ ہیں جو نافرمان ہیں) ان میں سے تھوڑے ہی افراد نے اسلام قبول کیا اور باقی اشخاص نے سرکشی اور نافرمانی کو اختیار کیا اور برابر کفر پر اڑے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
تنبیہ اہل کتاب برسبب گمراہی ایشان، وممانعت از اتباع گمراہان پیشینان۔
قال اللہ تعالی، قال یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ یستکبرون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں نصاری کے عقائد باطلہ اورا ن کی طمراہی کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل کتاب کی گمراہی اور تباہی کا سبب بیان کرتے ہیں اور گمراہوں کی پیروی سے منع فرماتے ہیں اہل کتاب کی گمراہی کا سبب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے دین میں غلو کیا اور افراط اور تفریط سے کام لیا نصاری نے حضرت عیسیٰ کے حق میں یہ غلو کیا کہ ان کو خدا ٹھہرایا یہ افراط ہوا اور یہود نے ان کو ایسا گھٹایا کہ ان کی نبوت کو بھی نہ مانا اور انکو ساحر اور کذاب بتلایا اور ان کی والدہ ماجدہ…
Read the full tafseer →141 یہ ان کے دعوائے ایمان کی تکذیب ہے۔ یعنی اگر وہ واقعی دل وجان سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاچکے ہوتے تو کافروں سے دوستانہ تعلقات ہرگز نہ رکھتے۔ اس لیے ان کا دعوی ایمان سراسر جھوٹا اور محض منافقانہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی خرابیوں اور ان کے باطل اعتقادات کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے عقائد باطلہ کی تردید فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) کو بعینہ خدا ماننا یا ان کو تین خدائوں میں سے تیسرا تسلیمہ کرنا یا انہیں متصرف فی الامور خیال کرنا ، سب گمراہ کن عقائد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) تو خلاص توحید کی تبلیغ کرتے تھے کفر اور شرک سے روکتے تھے کیونکہ مشرک ابدی جہنمی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کی پوزیشن بھی صاف کی کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک نیک اور راست باز خاتون تھی اور وہ یہود کی طرف سے تفریط…
Read the full tafseer →وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالنَّبِيِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مَا اتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ 81
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ترکیب : مالا یملک مانکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی مفعول تعبدون لا تغلوا فعل لازم ہے اور غیر الحق صفت ہے مصدر محذوف کی اے غلو غیر الحق اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر فاعل سے ای لاتغلوا مجاوزین الحق من بنی اسرائیل حال ہے الذین کفروا سے علی لسان داؤد متعلق ہے لعنوا سے۔
تفسیر : اب ایک اور دلیل یہود و نصاریٰ و مشرکین کے مقابلہ میں ایسی ذکر فرماتا ہے کہ جس سے اللہ کے سوا تمام چیزوں کا معبود ہونا باطل ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ معبود وہ ہونا چاہیے جو نفع و ضرر کا مالک ہو اور یہی بات ہے کہ جس سے کسی کی عبادت اور اطاعت کی جاتی ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور مشرکین کے فرضی خدا نہ کسی کو نفع…
Read the full tafseer →وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَالنَّبِیِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْھُمْ اَوْلِیَآئَ وَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 81)
” اور اگر یہ اللہ پر ‘ نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف اترا ‘ ایمان رکھنے والے ہوتے تو ان کفار کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے تو اکثر نافرمان ہیں۔
اس آیت کریمہ میں نبی سے مراد ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں “ اور مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ سے مراد ” تورات “ ہے یعنی ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں اور تورات کو بھی مانتے ہیں۔ گویا یہ مذہب سے قدیمی تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے باوجود ان کو ایک موقع اور دیا گیا ہے کہ اگر ایمان لائیں تو آخرت کے عذاب اور دنیا کی ذلت سے بچ سکتے ہیں۔
اہل کتاب پھٹکار کے مستحق قرار دیے گئے ہیں تو یہ ان کے عقیدہ اور کردار کا نتیجہ ہے تاہم اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر خالص ایمان لائیں۔ قرآن کی اتباع کریں، خدا کے باغیوں اور منکروں سے محبت کرنے کی بجائے مسلمانوں سے محبت واخوت کا رشتہ جوڑیں تو لعنت کی بجائے اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں گے یہاں اللہ، اس کے رسول اور قرآن مجید پر ایمان کے ساتھ تیسری شرط یہ بیان ہوئی ہے کہ ان کی ہمدردیاں، رشتہ داریاں کفار کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →موالاتِ مشرکین علامت نفاق ہے :
آیت 81 : وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ یعنی خالص ایمان جو نفاق کی ملاوٹ سے پاک ہوتا ہے۔ وَالنَّبِیِّسے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِیعنی قرآن مَااتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَآئَ وہ کافروں کو دوست نہ بنائے۔ یعنی مشرکین کی موالات ان کے نفاق پر دلالت کرتی ہے۔ وَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ فٰسِقُوْن جو کہ اپنے کفر و نفاق پر ہمیشگی اختیار کرنے والے ہیں۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ یہود ایمان لاتے اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور تورات پر یقین رکھتے ہوتے تو مشرکین کو دوست نہ بناتے۔ جیسا کہ مسلمان ان سے موالات کرنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اکثر ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
آیت نمبر 82, 81, 80
تفسیر :(تریٰ کثیراً منھم) بعض نے کہا کہ یہود میں سے کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی مراد ہیں (یتولون الذین کفروا دوستی کرتے ہیں کافروں سے) مکہ کے مشرکین مراد ہیں سے جب وہ نبی کریم ﷺ کے خلاف لشکر نکالتے تھے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد ، حسن رحمہما اللہ نے فرمایا کہ ” منھم “ سے وہ منافقین مراد ہیں جو یہود سے دوستی کرتے تھے۔ (لبئس ماقدمت لھم انفسھم کیا ہی برا سامان بھیجا انہوں نے اپنے واسطے) یعنی آخرت کے لیے انہوں نے برا عمل بھیجا (ان سخط اللہ علیھم وہ یہ کہ اللہ کا غضب ہوا ان پر ( وفی العذاب ھم خلدون اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں)
(ولو کانوا یومنون باللہ والنبی اور اگر وہ یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(78 ۔ 81) ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس بات کے جتلانے کو نازل فرمائی ہے کہ بنی اسرائیل خاص کر کچھ اب قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانے میں ایسی نافرمانی نہیں کرتے جس کے سبب سے قرآن شریف میں اکثر آیتیں ان پر لعنت کی اتری ہیں بلکہ ہمیشہ سے ان کا یہی حال ہے کہ سابق کے انبیاء کے زمانہ میں سابق کی آسمانی کتابوں میں بھی ان کی نافرمانی کے سبب سے ان پر لعنت اتر چکی ہے مسند امام احمد ترمذی، ابوداؤد ابن ماجہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں جب طرح طرح کے گناہ پھیلے تو ان کے علماء نے پہلے تو کچھ منع کیا پھر عالم لوگ بھی جاہلوں سے مل جل گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
آیت 77
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : (قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق) ” اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو “ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انہوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا (ولاتتبعوآ اھوآء قوم قد ضلوا من قبل) ” اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔ “ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ (واضلوا کثیراً ) ” اور (دوسرے) بہت سوں کو…
Read the full tafseer →قول باری ہے ولو کانوا یومنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیاء اگر یہ لوگ اللہ ، نبی اور نبی پر نازل شدہ کتاب پر ایمان رکھتے تو انہیں ہرگز اپنا دوست نہ بناتے۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے یہ آیت ان منافقین کے بارے میں ہے جو یہود میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ لوگ اللہ پر ، اس کے نبی پر ایمان نہیں رکھتے تو انہیں ہرگز اپنا دوست نہ بناتے حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں ہے جو یہود میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ لوگ اللہ پر ، اس کے نبی پر ایمان نہیں رکھتے اگرچہ ایمان کا اظہار بھی کرتے ہیں ایک قول ہے کہ نبی سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →202 یہود کا اپنی کتاب پر بھی ایمان نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہوتے اس کتاب پر جو ان لوگوں کی طرف اتاری گئی۔ یعنی تورات پر جو کہ ان کے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ پر اتاری گئی تھی۔ (محاسن التاویل وغیرہ) تو یہ لوگ ایسا کبھی نہ کرتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان کا دراصل اپنے دین اور اپنی کتاب اور اپنے پیغمبر پر بھی ایمان نہیں ہے۔ ورنہ یہ ایسے کافر لوگوں کو اپنا دوست کبھی نہ بناتے۔ سو اہل ایمان کے مقابلے میں اہل کفر و باطل اور شرک و مشرکین سے محبت و دوستی رکھنے کا ان لوگوں کا یہ طرز عمل اس بات کا ایک کھلا اور واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں کا خود اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب پر بھی ایمان نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
غلط دوستی کا برا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں یہود و نصارٰی کی بدعملی کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی وہ کفار کی دوستی سے باز نہ آئے۔ ان آیات میں اہل کتاب اور تمام انسانوں کو مخاطب کر کے جو ہدایات دی گئی ہیں وہ دین و مذہب کی مضبوطی اور ایمان کی سلامتی کے لیے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کو سمجھنا، یاد رکھنا اور عمل کرنا بےحد ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ بےایمان، برے اور کافر لوگوں سے دوستی کرنا گویا اپنے آپ کو تباہ کرنے کے برابر ہے کیونکہ برے دوستوں کی دوستی برے ہی راستے پر لے جاسکتی ہے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی گمراہی کی وجہ غلط ماحول اور کفار سے دوستی تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 78 تا 86 ۔
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کے کفار پر تو ہر عہد کے نبی نے اللہ کی ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ان پر لعنت کی گئی حضرت داود (علیہ السلام) سے انہیں وہی پیغام دلوایا گیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) نے دہرایا اور یہ مسلسل اظہار نا رضا مندی کسی نسلی امتیازیا ذاتی تعصب یا رنگ کے فرق پر نہ تھا بلکہ اس کی وجہ ان کا کفر تھا اور اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور حدود الہی سے تجاوز کرنا اس کا باعث تھا یہ ایسے بد نصیب تھے کہ کسی کو برائی سے روکتے بھی نہ تھے خواہ خود نہ بھی کرتے ہوں یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو خود برائی نہیں کرتے تھے مگر انہیں دوسرے کی برائی سے دکھ نہیں ہوتا تھا اسے…
Read the full tafseer →ف 6 یا یہ کہ اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ پر اور اپنے نبی حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) یا حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور ان پر نازل شدہ کتاب توراۃ انجیل پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے کیونکہ توراۃ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے اور یا یہ کہ اگر وہ کفار اسلام لے آتے تو پھر کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے ( کبیر۔ ابن کثیر )
Read the full tafseer →(5:81) النبی۔ سے یہاں مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ جنہوں نے صریحاً حضرت رسول اکرم ﷺ کے متعلق پیشنگوئی فرمائی تھی۔ اگر یہودی صحیح طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم کو مانتے تو وہ کبھی بھی مخالفین رسول اکرم سے محبت یا تعلق نہ رکھتے۔
اتخذوھم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب الذین کفروا (آیۃ ماقبل) کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
آیت نمبر 78 تا 81
لغات القرآن : لعن (لعنت کی گئی) ۔ لسان (زبان) ۔ لایتناھون (وہ منع نہ کرتے تھے) ۔ عن منکر (برائی سے) ۔
فعلوہ (وہ جو انہوں نے کیا) ۔ بئس (برا ہے) ۔ تری (آپ نے دیکھا) ۔ قدمت (آگے بھیجا) ۔ سخط (اللہ نے) غصہ کیا) ما اتخذوا (وہ نہ بناتے تھے) ۔
تشریح : یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معبود نہ ہونے کے بارے میں ایک اور دلیل دی گئی ہے ۔ جو لوگ انہیں الوھیت میں شریک مانتے ہیں ان پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے (اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بھی) لعنت فرمائی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نصاریٰ کے پیغمبر ہیں۔ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بنی…
Read the full tafseer →جس طرح مشرک لوگوں کا کا دارومدار فقط دنیا کی زندگی پر ہے۔ عقبیٰ کے یہ لوگ بالکل منکر ہیں اسی طرح یہود ہیں کہ انبیا کے قتل اور علاوہ اس کے بڑے بڑے گناہوں کے کرنے سے مشرکوں کی طرح یہ بھی سخت دل ہوکر عقبیٰ کو بالکل بھول گئے ہیں اور فقط دنیا کی زیست پر ہی ان کا دارومدار ہے۔ اسلا میں اس عادت کے لوگوں کی بڑی مذمت آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
[50] یعنی موسیٰ (علیہ السلام) پر۔
[51] یعنی تورات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(ف 3) ان دو آیتوں میں بیان فرمایا ہے کہ یہودی باوصف اہل کتاب ہونے کے اور بہت سی باتوں میں مسلمانوں کے ساتھ اشتراک رکھنے کے کفار کے زیادہ دوست ہیں ، حالانکہ ان کے تعلقات مسلمانوں سے کہیں مضبوط ہونے چاہئیں ۔
بات یہ ہے کہ یہود کو اسلام کی دشمنی نے اندھا کر رکھا تھا وہ بغض وحسد سے برے اور بھلے میں کوئی تمیز نہ کرسکتے تھے اور فسق وفجور کی وجہ سے انکی مذہبی حس مردہ ہوچکی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کی ناراضگی اور عذاب مخلد کے مستحق ٹھہرے ۔
حل لغات :
سوآء السبیل : صرط مستقیم ۔ جادہ معتدل ۔ سیدھی اور آسان راہ ، یتناھون : مادہ تناھی ، رکنا ۔ باز رہنا ۔
Read the full tafseer →ف 2 اے پیغمبر آپ ان یہود میں سے اکثر لوگوں کو ملاحظہ فرمائیں گے کہ وہ منکرین یعنی مشرکین سے مسلمانوں کے خلاف دوستی کرتے ہیں البتہ یہ چیز جو وہ آگے بھیج رہے ہیں بہت ہی بری ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوا اور ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور وہ ہمیشہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے اور اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور پیغمبر پر ایمان رکھتے اور جو کتاب اس پیغمبر پر نازل کی گئی اس پر ایمان رکھتے تو ان مشرکین کو سمجھی دوست نہ بناتے اور مسلمانوں کے خلاف کبھی ان سے مل کر سازش نہ کرتے لیکن ان میں اکثر لوگ ایمان سے خارج اور کافر ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے جو ولگ اسلام قبول کرچکے ہیں ان کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →ف 2۔ کثیر کا مصداق دونوں جگہ ایک ہی ہے یعنی غیر مومن اور یہ قید اخراج مومنین کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل اگر موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان رکھتے تو کفار کو مدگار کیوں بناتے ؟
203: زیر نظر آیت میں ” اللہ کے نبی “ سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور ” جو چیز ان پر اتاری گئی “ سے مراد تورات ہے کیونکہ تورات ہی موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ مطلب کیا ہوا ؟ یہ کہ اگر وہ لوگ ” اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے دعویٰ میں سچے ہوتے تو مشرکوں کو اپنا دوست اور ہم راز کیوں بناتے ؟ ان کے سامنے دعوت پیش کرنے کا حق تو تھا لیکن اسلام کے خلاف ان کے ساتھ مل کر سازش کرنے کا حق ان کو کس طرح حاصل ہوگیا ؟ سازش کرنا تو سازشیوں کا کام ہے اللہ کا رسول اور اللہ کی کتاب تو کسی کے خلاف بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
The Sad End of Bani Isra'Il
Mentioned in the second verse (78) is the sad end of those from the Bani Isra'il who were involved in this error of excess and deficiency. On them fell the curse of Allah Almighty. Firstly, it came through the tongue of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) as result of which they were transformed into swines. Then, this curse fell upon them through the tongue of Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) the temporal effect of which was that they were transformed into monkeys. Some commentators have pointed out that the reference to the curse mentioned here as coming through only two…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–86
103. It seems natural that those who believe in God and the Prophets and the Scriptures, compared with the polytheists, would naturally be more sympathetic to those who at least share with them belief in God, in prophethood and in .revelation (whatever their disagreements on other religious issues). It was ironic, therefore, that the Jews should openly support the polytheists in the struggle between polytheism and monotheism, and that their sympathies in the conflict between those who rejected prophethood and those who believed in it should lie expressly with the former. Despite all this,…
Read the full tafseer →