Explained with ayahs 78–81
امر معروف سے گریز کا انجام
ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
سورة الْمَآىِٕدَة 101
اشارہ ہے ان گمراہ قوموں کی طرف جن سے عیسائیوں نے غلط عقیدہ اور باطل طریقے اخذ کیے۔ خصوصاً فلاسفہ یونان کی طرف، جن کے تخیلات سے متاثر ہو کر عیسائی اس صراط مستقیم سے ہٹ گئے جس کی طرف ابتداءً ان کی رہنمائی کی گئی تھی۔ مسیح کے ابتدائی پیرو جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انہوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم ان کے ہادی و رہنما نے ان کو دی تھی۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف مسیح کی عقیدت اور تعظیم میں غلو کر کے، اور دوسری طرف ہمسایہ قوموں کے اوہام اور فلسفوں سے متاثر ہو کر، اپنے عقائد کی مبالغہ آمیز فلسفیانہ تعبیریں شروع کردیں اور ایک بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
بنی اسرائیل کا انجام بد
دوسری آیت میں ان بنی اسرائیل کا انجام بدذکر کیا گیا ہے جو اس افراط وتفریط کی گمراہی میں مبتلا تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوئی، اول داؤد ؑ کی زبان سے جس کے نتیجے میں ان کی صورتیں مسخ ہو کر خنزیر بن گئے، پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی زبان سے یہ لعنت ان پر مسلط ہوئی، جس کا اثر دنیا میں یہ ہوا کہ مسخ ہو کر بندر بن گئے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ بتقاضائے مقام صرف دو پیغمبروں کی زبانی ان پر لعنت ہونے کا ذکر کیا گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پر لعنت کی ابتداء حضرت موسیٰ ؑ سے ہوئی اور انتہا حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر ہوئی۔ اس طرح مسلسل چار پیغمبروں کی زبانی ان لوگوں پر لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
تفیسر آیات 78 تا 81:۔ لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۭذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ۔ كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۔ تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭلَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِـــطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ۔
یہود پر…
Read the full tafseer →78۔ 1 یعنی زبور میں جو حضرت داؤد ؑ پر اور انجیل میں جو حضرت عیسیٰ ؑ پر نازل ہوئی اور اب یہی لعنت قرآن کریم کے ذریعے سے ان پر کی جا رہی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا۔ لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت اور خیر سے دوری ہے۔
78۔ 2 یہ لعنت کے اسباب ہیں۔ 1۔ عصیان۔ یعنی واجبات کا ترک اور محرمات کا ارتکاب کر کے۔ انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی۔ 2۔ اور اعتداء، یعنی دین میں غلو اور بدعات ایجاد کر کے انہوں نے حد سے تجاوز کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
54: یعنی اس لعنت کا ذکر زبور میں بھی تھا جو حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی تھی اور انجیل میں بھی تھا جو حضرت عیسیٰ ؑ پر اتری تھی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” 78 تا 81۔
نظر آتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ کفر ‘ معصیت اور لعنتی افعال سے اٹی پڑی ہے اور ان کی ہدایت اور ان کی نجات کے لئے جن انبیاء کو بھیجا گیا تھا انہیں نے آخر کار ان پر لعنت کی بارش کردی اور ان کو اللہ کی راہ ہدایت سے دھتکار دیا ۔ اللہ نے بھی انکی اس دعاء اور پکار کو قبول کرلیا ۔ اور ان پر لعنت لکھ دی اور قیامت تک وہ ملعون قرار پائے ۔
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ‘ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں کے اندر تحریف کی ۔ یہ وہی لوگ تھے جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرتے تھے جیسا کہ اس سورة میں اور دوسرے مقامات پر قرآن مجید نے تصریح کی ہے ۔ یہ وہی لوگ تھے…
Read the full tafseer →2 یوں تو تمام کتب سماویہ میں کافروں پر لعنت کی گئی ہے لیکن بنی اسرائیل کے کافروں پر جب وہ عصیان و تمرد میں حد سے گزر گئے کہ نہ مجرم کسی طرح ارتکاب جرائم سے باز آتا تھا اور نہ غیر مجرم مجرم کو روکتا تھا بلکہ سب شیر و شکر ہو کر بےتکلف ایک دوسرے کے ہم پیالہ و ہم نوالہ بنے ہوئے تھے۔ منکرات و فواحش کا ارتکاب کرنے والوں پر کسی طرح کے انقباض، تکدر اور تر شروئی کا اظہار بھی نہ ہوتا تھا۔ تب خدا نے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ جیسے گناہوں پر ان کی جسارت حد سے گزر چکی تھی۔ یہ لعنت بھی جو ایسے جلیل القدر انبیاء کے توسط سے کی گئی، غیر معمولی طور پر تباہ کن…
Read the full tafseer →آیت 78 لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ط
بنی اسرائیل کا جو کردار رہا ہے اس پر ان کے انبیاء ان کو مسلسل لعن طعن کرتے رہے ہیں۔ Old` Testament میں حضرت داؤد علیہ السلام کے حوالے سے اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ New` Testament گوسپلز میں حضرت مسیح علیہ السلام کے تنقیدی فرمودات بار بار ملتے ہیں ‘ جن میں اکثر ان کے علماء ‘ احبار اور صوفیاء مخاطب ہیں کہ تم سانپوں کے سنپولیے ہو۔ تمہارا حال ان قبروں جیسا ہے جن کے اوپر تو سفیدی پھری ہوئی ہے ‘ مگر اندر گلی سڑی ہڈیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ تم نے اپنے اوپر صرف مذہبی لبادے اوڑھے ہوئے…
Read the full tafseer →124 بندر اور خنزیر والے کون لوگ تھے ؟ داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ بعثت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کم و بیش ایک ہزار سال پہلے کا ہے اس لیے آیت میں لفظ کفر کا اطلاق صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ بنی اسرائیل جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائے تھے وہ کافر ہوگئے بلکہ یہاں ان کے کفر سے مراد ان کی نافرمانیاں۔ عہد شکنیاں اور حدود اللہ سے تجاوز کرنا ہے۔ اور انہیں جرائم کی بنا پر انہیں کافر کہا گیا ہے اور ایسے لوگ زبور میں بھی ملعون قرار دیئے گئے ہیں اور انجیل میں بھی۔ اور یہ اسی لعنت کا اثر تھا کہ ان میں سے کچھ لوگ بندر بنا دیئے گئے تھے اور کچھ خنزیر۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ داؤد (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →261 ۔ ان دونوں لعنتوں کا ذکر عہد عتیق کے صحیفہ زبور اور عہد جدید کے صحیفہ متی میں علی الترتیب موجود ہے۔ چناچہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان سے :۔ ” خداوند نے سنا اور نہایت غصہ ہوا۔ اس لیے یعقوب میں ایک آگ بھڑکائی گئی، اور اسرائیل پر قہر بھی اٹھا۔ کیونکہ انہیں نے خدا پر اعتماد کیا، اور اس کی قیامت پر اعتماد نہ رکھا “۔ (زبور۔ 78:2 1، 22، 23) اور حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے :۔ ” غرض اپنے باپ دادوں کا پیمانہ بھردو، اے سانپو، اے افعی کے بچو، تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے “ ! (متی۔ 23:3 1، 32) (آیت) ” الذین کفروا “۔ اسرائیلیوں کا یہ کفر اپنے اپنے پیغمبروں کے مقابلہ میں چناچہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
آیت نمبر 78 تا 82
ترجمہ : بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی یعنی ان کے لئے بددعا کی گئی، جس کی وجہ سے ان کو بندر کی شکل میں مسخ کردیا گیا، اور وہ ایلہ کے باشندے تھے، اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کی زبانی لعنت کی گئی اس طریقہ پر کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کیلئے بددعاء کردی جس کے نتیجے میں ان کو سور کی شکل میں مسخ کردیا گیا، اور وہ اصحاب مائدہ تھے، یہ لعنت اس وجہ سے کی گئی کہ وہ نافرمانی کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر گئے تھے، انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، ان کا یہ طرز عمل برا تھا، جو انہوں نے اختیار کیا، اے محمد آپ ان…
Read the full tafseer →لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل لعنت کی گئی ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا تھا بنی اسرائیل میں سے۔ یعنی یہودیوں پر۔
علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبانی۔ یعنی داؤد کی زبانی زبور میں اور عیسیٰ کی زبانی انجیل میں۔ اوّل الذکر کافروں سے اہل ایلہ مراد ہیں کہ سینچر کے دن کی حرمت کی انہوں نے خلاف ورزی کی تھی اور حضرت داؤد نے ان کے لئے بددعا کی تھی اور کہا تھا الٰہی ان پر لعنت کر اور ان کو عبرت بنا دے چناچہ ان کی شکلیں بندروں کی طرح کردی گئیں اور اصحاب مائدہ جب ایمان نہ لائے تو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کو بددعا دی اور کہا الٰہی ان پر لعنت کر اور ان کو عبرت کی نشانی بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(78۔ 79) بنی اسرائیل میں جو کافر ہیں وہ حضرت داؤد ؑ کی دعا سے بندر اور حضرت عیسیٰ ؑ کی بددعا سے سور ہوگئے ہیں اور یہ لعنت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ ہو ہفتہ کے روز میں اور اکل مائدہ میں اور انبیاء کرام کے قتل کرنے اور معاصی کو حلال سمجھنے میں اللہ کی نافرمانی کرتے تھے اور جو کچھ وہ نافرمانیاں اور حد سے تجاوز کرتے تھے، اس سے توبہ بھی نہیں کرتے تھے۔
Read the full tafseer →لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۔۔ : اسرائیلیوں کا یہ کفر اپنے اپنے پیغمبروں کے مقابلے میں تھا، چناچہ داؤد ؑ کے زمانے میں انھوں نے قانون ”سبت“ کو توڑا اور عیسیٰ ؑ کے زمانے میں معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی نبوت سے انکار کردیا۔ داؤد ؑ کی زبانی لعنت کے لیے دیکھیے زبور (78 : 21، 22، 23) اور مسیح ؑ کی زبانی لعنت کے لیے دیکھیے انجیل متی (23 : 31، 32) لعنت کا معنی اللہ کی رحمت اور بھلائی سے دوری ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 78
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لعن الذین کفروا۔۔۔ الخ۔
اس میں ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ کافروں پر لعنت کرنا جائز ہے اگرچہ وہ انبیاء کی اولاد سے ہوں، کیونکہ نسب کا شرف ان کے حق میں لعنت کے اطلاق کو مانع نہیں۔ آیت : علی لسان داود و عیسیٰ ابن مریم کا معنی یہ ہے کہ وہ زبور اور انجیل میں لعنت کیے گئے، کیونکہ زبور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان تھی اور انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان تھی یعنی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کتابوں میں ان پر لعنت کی۔ ان دونوں کا اشتقاق گزر چکا ہے۔ مجاہد اور قتادہ وغیرہ نے کہا : لعنھم کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں بندروں اور خنازیر میں مسخ کردیا۔ ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لا تغلوا فی دینکم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم نئی نئی باتیں نہ گھڑ لیا کرو۔
(2) امام ابن ابی حاتم سے روایت ہے کہ ابن زید (رح) نے لفظ آیت لا تغلوا فی دینکم کے بارے میں فرمایا کہ غلو سے مراد ہے حق کو چھوڑ دینا۔ انہوں نے جو غلبہ کیا تھا وہ یہ تھا کہ وہ اللہ کے لئے بیوی اور اولاد کو تجویز کرتے تھے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ربیع بن ابس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی تھا جو لوگوں کا حاکم بن گیا اس نے ایک زمانے تک کتاب وسنت پر عمل کیا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور وہ کہنے لگا۔ تو اس بات اور اس پر…
Read the full tafseer →لُعِنَ [ لعنت کی گئی ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل میں سے ] عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ [ داؤد کی زبان پر (یعنی سے ) وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۭ [ اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِمَا [ اس سبب سے کہ ] عَصَوْا [ انھوں نے نافرمانی کی ] وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ [ اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ]
ق س س : (ن) قسا ۔ رات میں کسی چیز کی جستجو کرنا ۔ قسیس۔ رات میں علم کی جستجو کرنے والا ۔ نصاری کا عالم پادری ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
د م ع : (ف) دمعا ۔ آنسو جاری ہونا ۔ دمع ۔ اسم ذات بھی ہے ۔ آنسو ۔ آیت زیر مطالعہ ۔
ترکیب : و…
Read the full tafseer →معاصی کا ارتکاب کرنے اور منکرات سے نہ روکنے کی وجہ سے بنی اسرائیل کی ملعونیت
ان آیات میں بنی اسرائیل کی ملعونیت اور مغضوبیت بیان فرمائی ہے اور ان کی بد اعمالیوں کا تذکرہ فرمایا ہے، ان بد اعمالیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو گناہ کے کام سے نہیں روکتے تھے، تفسیر ابن کثیر میں مسند احمد سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑگئے تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا وہ لوگ گناہوں سے باز نہ آئے پھر یہ منع کرنے والے ان کے ساتھ مجلسوں میں اٹھتے بیٹھتے رہے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے (اور اس میل جول اور تعلق کی وجہ سے انہوں نے گناہوں سے روکنا چھوڑ دیا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
تنبیہ اہل کتاب برسبب گمراہی ایشان، وممانعت از اتباع گمراہان پیشینان۔
قال اللہ تعالی، قال یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ یستکبرون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں نصاری کے عقائد باطلہ اورا ن کی طمراہی کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل کتاب کی گمراہی اور تباہی کا سبب بیان کرتے ہیں اور گمراہوں کی پیروی سے منع فرماتے ہیں اہل کتاب کی گمراہی کا سبب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے دین میں غلو کیا اور افراط اور تفریط سے کام لیا نصاری نے حضرت عیسیٰ کے حق میں یہ غلو کیا کہ ان کو خدا ٹھہرایا یہ افراط ہوا اور یہود نے ان کو ایسا گھٹایا کہ ان کی نبوت کو بھی نہ مانا اور انکو ساحر اور کذاب بتلایا اور ان کی والدہ ماجدہ…
Read the full tafseer →138 یہ مشرکین اہل کتاب کے لیے تخویف دنیوی ہے حضرت داود (علیہ السلام) کی زبان پر جو لوگ ملعون ہوئے ان سے مراد اصحاب السبت ہیں۔ انہیں ہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے سے منع کیا گیا مگر وہ باز نہ آئے اور اللہ کے حکم کی پروا نہ کی تو حضرت داود (علیہ السلام) نے ان پر بد دعا کی اللہم العنھم واجعلھم ایۃ اے اللہ ان کو اپنی رحمت سے دور ہٹا دے اور انہیں آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کی نشانی بنا دے۔ تو ان کو اللہ تعالیٰ نے مسخ کر کے بندر بنا دیا۔ اور جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے ملعون ہوئے ان سے اصحاب مائدہ مراد ہیں جنہوں نے آسمان سے دسترخوان اتارنے کا مطالبہ کیا تھا جب دستر خوان اترا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی خرابیوں اور ان کے باطل اعتقادات کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے عقائد باطلہ کی تردید فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) کو بعینہ خدا ماننا یا ان کو تین خدائوں میں سے تیسرا تسلیمہ کرنا یا انہیں متصرف فی الامور خیال کرنا ، سب گمراہ کن عقائد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) تو خلاص توحید کی تبلیغ کرتے تھے کفر اور شرک سے روکتے تھے کیونکہ مشرک ابدی جہنمی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کی پوزیشن بھی صاف کی کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک نیک اور راست باز خاتون تھی اور وہ یہود کی طرف سے تفریط…
Read the full tafseer →لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ 0ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ 78
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ترکیب : مالا یملک مانکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی مفعول تعبدون لا تغلوا فعل لازم ہے اور غیر الحق صفت ہے مصدر محذوف کی اے غلو غیر الحق اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر فاعل سے ای لاتغلوا مجاوزین الحق من بنی اسرائیل حال ہے الذین کفروا سے علی لسان داؤد متعلق ہے لعنوا سے۔
تفسیر : اب ایک اور دلیل یہود و نصاریٰ و مشرکین کے مقابلہ میں ایسی ذکر فرماتا ہے کہ جس سے اللہ کے سوا تمام چیزوں کا معبود ہونا باطل ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ معبود وہ ہونا چاہیے جو نفع و ضرر کا مالک ہو اور یہی بات ہے کہ جس سے کسی کی عبادت اور اطاعت کی جاتی ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور مشرکین کے فرضی خدا نہ کسی کو نفع…
Read the full tafseer →تمہید
سابقہ رکوع میں جو پیغام بنی اسرائیل کو اتمامِ حجت کے طور پر دینا مقصود تھا ‘ اس کی تفصیل ہم پڑھ چکے ہیں۔ پھر اس پیغام کے ردعمل کے طور پر جو رویہ بنی اسرائیل کا سامنے آیا ‘ قرآن کریم نے اس کی توجیہہ کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کے مجموعی طرز عمل کو اعتقادات اور اعمال کی صورت میں بیان کر کے اہل کتاب پر حجت تمام کی اور امت محمدیہ کے لیے مستقبل کے خطرات کی نشاندہی کی۔ پھر نصاریٰ کے عقائد کو بیان کرتے ہوئے ان کے عقیدے کی دو بنیادی خرابیوں کا بطور خاص تذکرہ کیا اور بتایا کہ یہ وہ خرابیاں ہیں ‘ جن کی وجہ سے ان کے اندر وہ غلط عقائد پیدا ہوئے جن کا ذکر کیا گیا ہے اور امت اسلامیہ کو بھی اس بات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
فہم القرآن
ربط کلام : دین میں غلو کرنے، خود گمراہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بننے کی وجہ سے اہل کتاب لعنت کے سزاوار ٹھہرے۔
امام رازی (رح) نے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ اہل کتاب پر موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء ( علیہ السلام) نے لعنت کی یہاں تک کہ قرآن مجید نے بھی انہیں مغضوب، گمراہ اور لعنت کا مستحق قرار دیا ہے اس مقام پر حضرت داوٗد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خصوصی ذکر کرنے کا مفہوم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا مستحق لعنت ٹھہرنا :
آیت 78 : لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ کہا جاتا ہے کہ جب ایلہ کے لوگوں نے ہفتہ کے سلسلہ میں حد سے تجاوز کیا۔ تو دائود ( علیہ السلام) نے فرمایا : اللہم العنہم واجعلہم ٰایۃً اے اللہ تو ان پر لعنت کر اور ان کو عبرت کا نشان بنا دے۔ اس پر ان کو مسخ کر کے بندر بنادیا گیا۔ اور جب عیسیٰ کے ساتھیوں نے مائدہ کے بعد کفر اختیار کیا تو عیسیٰ نے ان الفاظ میں دعا کی اللہم عذب من کفر بعد ما اکل من المائدۃ عذابًا لم تعذبہ احدًا من العالمین۔ والعنہم کما لعنت اصحٰب السبت۔ اے اللہ ان کو عذاب دے جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
آیت نمبر 79, 78, 77, 76
تفسیر : (قل اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضرا ولا نفعاط واللہ ھوالسمیع العلیم آپ کہہ دیں کیا تم ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر جو مالک نہیں تمہارے برے کی اور نہ بھلے کی اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والا)
(قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیرالحق آپ کہہ دیجئے اے اہل کتاب مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں ناحق کا) یعنی حد سے تجاوز نہ کرو اور بڑائی اور کوتاہی میں سے ہر ایک دین میں برا ہے اور اللہ کا فرمان ” غیرالحق “ یعنی تمہارے دین میں جو حق کے مخالف بات ہو کیونکہ انہوں نے اپنے دین میں حق کی مخالفت کی۔ پھر اس پر ڈٹ کر غلو کیا (اور مت چلو خیالات پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(78 ۔ 81) ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس بات کے جتلانے کو نازل فرمائی ہے کہ بنی اسرائیل خاص کر کچھ اب قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانے میں ایسی نافرمانی نہیں کرتے جس کے سبب سے قرآن شریف میں اکثر آیتیں ان پر لعنت کی اتری ہیں بلکہ ہمیشہ سے ان کا یہی حال ہے کہ سابق کے انبیاء کے زمانہ میں سابق کی آسمانی کتابوں میں بھی ان کی نافرمانی کے سبب سے ان پر لعنت اتر چکی ہے مسند امام احمد ترمذی، ابوداؤد ابن ماجہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں جب طرح طرح کے گناہ پھیلے تو ان کے علماء نے پہلے تو کچھ منع کیا پھر عالم لوگ بھی جاہلوں سے مل جل گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
آیت 77
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : (قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق) ” اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو “ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انہوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا (ولاتتبعوآ اھوآء قوم قد ضلوا من قبل) ” اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔ “ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ (واضلوا کثیراً ) ” اور (دوسرے) بہت سوں کو…
Read the full tafseer →قول باری ہے لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان دائود و عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔
حسن ، مجاہد ، سدی اور قتادہ کا قول ہے کہ ان پر حضرت دائود (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی اور یہ بندر بن گئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی جس کے نتیجے میں یہ خنزیر بن گئے۔ ایک قول یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح انہیں جتلا دیا گیا کفر اور معاصی پر ڈٹے رہنے کی صورت میں انہیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور بخشش سے بالکلیہ مایوس جانا چاہیے اس لیے…
Read the full tafseer →198 بنی اسرائیل کے منکروں پر لعنت کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بنی اسرائیل میں کے منکروں پر چاروں آسمانی کتابوں میں لعنت کی گئی۔ سو ان پر زبور میں بھی لعنت کی گئی ہے اور انجیل میں بھی۔ اَصحاب السبت پر لعنت ہوئی تو وہ مسنح ہو کر بندر اور خنزیر بنا دیے گئے۔ اور اسی طرح اصحاب مائدہ پر بھی لعنت ہوئی تو وہ بھی اپنے اس برے انجام سے دوچار ہوئے جو ان کے لائق تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (صفوۃ التفاسیر، تفسیر القاسمی وغیرہ) ۔ سو بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت قدیم ہے۔ زبور، انجیل، تورات اور قرآن حکیم سب ہی میں ان پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ حضرات اہل علم سے مروی ہے کہ یہود نے فخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے بنی اسرائیل پر لعنت کا سبب
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہود و نصارٰی کو خبردار کر رہے ہیں کہ تمہاری بری عادتوں کی وجہ سے تنگ آکر تم پر دو بڑے معتبر رسول سیدنا داود اور سیدنا عیسیٰ (علیہما السلام) لعنت بھیج چکے ہیں۔ اگر تم اس لعنت سے نکلنا چاہو تو اسلام قبول کرلو اور سیدھا راستہ اختیار کرلو۔ لعنت بھیجنے کی تین وجوہات تھیں۔
1 گناہوں میں بری طرح پھنس چکے تھے۔
2 دین کی مقرر کی ہوئی تمام حدوں کو توڑ چکے تھے۔
3 نہ خود گناہوں سے بچتے تھے اور نہ ہی دوسروں کو برے کاموں سے روکتے تھے۔
جب بھی کوئی قوم ان بری عادات کی عادی ہوجاتی ہے تو پھر اس کی بربادی یقینی ہوجاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 78 تا 86 ۔
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کے کفار پر تو ہر عہد کے نبی نے اللہ کی ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ان پر لعنت کی گئی حضرت داود (علیہ السلام) سے انہیں وہی پیغام دلوایا گیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) نے دہرایا اور یہ مسلسل اظہار نا رضا مندی کسی نسلی امتیازیا ذاتی تعصب یا رنگ کے فرق پر نہ تھا بلکہ اس کی وجہ ان کا کفر تھا اور اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور حدود الہی سے تجاوز کرنا اس کا باعث تھا یہ ایسے بد نصیب تھے کہ کسی کو برائی سے روکتے بھی نہ تھے خواہ خود نہ بھی کرتے ہوں یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو خود برائی نہیں کرتے تھے مگر انہیں دوسرے کی برائی سے دکھ نہیں ہوتا تھا اسے…
Read the full tafseer →ف 3 پہلے حضرت دواد نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا اور پھر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اصحاب مائدہ پر لعنت فرمائی جو یہ معجزہ دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائے بعض علمانے نے لکھا ہے کہ یہود اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہونے کا دعوی کرتے تھے قرآن نے فرمایا کہ تم تو انبیا کی زبان پر معلون ہو اور فرمایا کہ یہ لعنت نافرمانی میں حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہوئی تھی (کبیر۔ ابن کثیر) یہ ان کی معصیت ور اعتدال کی تفسیر ہے (کبیر) یعنی وہ امر بالمعرو ونہی عن المنکر کا فریضہ بھلا بیٹے تھے اور ان کے نیک لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اگر کچھ لوگ برے کا کر رہے ہیں تو کرتے رہیں انکا وبال خود ان پر ہوگا…
Read the full tafseer →(5:78) علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم۔ حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کی زبان پر۔ یعنی حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) نے اپنی اپنی زبان سے ان کے لئے بددعا کی۔ اور وہ ملعون ہوئے۔ یعنی اللہ کی پھٹکاران پر پڑی۔
عصوا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔
کانوا یعتدون۔ وہ حد سے بڑھ جایا کرتے تھے۔ زیادتیاں کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
آیت نمبر 78 تا 81
لغات القرآن : لعن (لعنت کی گئی) ۔ لسان (زبان) ۔ لایتناھون (وہ منع نہ کرتے تھے) ۔ عن منکر (برائی سے) ۔
فعلوہ (وہ جو انہوں نے کیا) ۔ بئس (برا ہے) ۔ تری (آپ نے دیکھا) ۔ قدمت (آگے بھیجا) ۔ سخط (اللہ نے) غصہ کیا) ما اتخذوا (وہ نہ بناتے تھے) ۔
تشریح : یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معبود نہ ہونے کے بارے میں ایک اور دلیل دی گئی ہے ۔ جو لوگ انہیں الوھیت میں شریک مانتے ہیں ان پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے (اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بھی) لعنت فرمائی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نصاریٰ کے پیغمبر ہیں۔ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ یہود حد سے بڑھ کر طرح طرح کے گناہ کرتے تھے اور ان گناہوں پر آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ سب ایک دل ہوگئے تھے۔ یہ اعمال تو ان کے برے تھے علاوہ اس کے یہ بھی تھا کہ اہل کتاب ہوکر اسلام کی مخالفت میں مکہ کے مشرکوں سے انہوں نے دوستی پیدا کی تھی۔ جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ کے غصہ اور عذاب کے یہ لوگ مستحق ٹھر گئے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کرکے نالائق پھٹکار قراردیا۔ یہ معنی اللہ تعالیٰ کی لعنت کے ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کے دل میں بھی کتاب آسمانی کا ایسا ہی یقین ہوتا جس طرح سے یہ لوگ کتاب آسمانی کی پابندی ظاہر کرتے ہیں،…
Read the full tafseer →[47] ان دونوں لعنتوں کا ذکر عہد عتیق کے صحیفہ زبور اور عہد جدید کے صحیفہ متیٰ میں علی الترتیب موجود ہے۔ داؤد (علیہ السلام) نے قانون سبت توڑنے پر اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی نبوت کا انکار کرنے پر بنی اسرائیل پر لعنت بھیجی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ناز بےجا :
(ف 2) بنی اسرائیل کو سب سے بڑا غرور اس بات پر تھا کہ ہماری رگوں میں انبیاء اور صلحاء کا خون دوڑ رہا ہے اور ہم (آیت) ” ابنآء اللہ واحبآء ہ “۔ کے لقب سے متفخر ہیں ۔
قرآن حکیم نے متعدد مواقع پر اس ناز بےجا کا جواب دیا ہے اس آیت میں بھی ان کے طلسم پندار کو توڑا ہے اور کہا ہے کہ کیا تم وہی نہیں جنہوں نے سبت کے معاملہ میں خدا کی صریح نافرمانی کی اور اس کی پاداش میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان فیض ترجمان سے ملعون کا خطاب ملا ، اور کیا یہ واقعہ نہیں کہ تم نے نزول مائدہ کی درخواست کی ، اور اس کے بعد پھر روگردانی کی جس کی وجہ سے حضرت مسیح (علیہ السلام) نے تمہیں لعنتی ٹھہرایا ۔
جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ف 2 سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسیح مریم کے بیٹے ایک رسول ہیں بلاشبہ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول ہوچکے ہیں اور ان کی ماں بہت راست باز عورت تھی یہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے اور جو کھانا کھائے وہ خدا کس طرح ہوسکتا ہے ۔ اے پیغمبر ذرا دیکھیے ہم کس طرح ان کے لئے اپنے دلائل صاف اور واضح طور پر بیان کرتے ہیں اور باوجود توضیح دلائل کے پھر ان کو ملاحظہ کیجیے کہ یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں آپ ان سے دریافت کیجیے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کی مالک ہیں اور نہ تمہارے نفع کا کچھ اختیار رکھتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ف 5۔ یعنی زبور اور انجیل میں کافروں پر لعنت لکھی تھی جیسے قرآن مجید میں بھی ہے فلعنة اللہ علی الکافرین۔ چونکہ یہ کتابیں حضرت داود حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل ہوئیں اس لیے یہ مضمون ان کی زبان سے ظاہرہوا۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کے کفار داؤد (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ملعون قرار پائے :
199: قرآن کریم کی زیر نظر آیت نے بنی اسرائیل کے ان لوگوں کا ہاتھ پکڑا جو سیدنا داؤد (علیہ السلام) اور سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ملعون قرار دیئے جا چکے تھے اور انکی انگلی ان مقام پر رکھ دی جس مقام کے انکار سے وہ ملعون قرار پاتے تھے ۔ پھر بزبان حال ان سے کہا کہ یہ ہیں وہ عزیر (علیہ السلام) اور یہ ہیں وہ مسیح (علیہ السلام) جو اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول تھے لیکن تم نے ان کی رسالت کو بدل کر اللہ کے ” بندوں “ کی بجائے اللہ کے ” بیٹے “ بنا لیا۔ عہد نامہ عتیق میں زبور نامی کتاب کی نسبت داؤد (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
The Sad End of Bani Isra'Il
Mentioned in the second verse (78) is the sad end of those from the Bani Isra'il who were involved in this error of excess and deficiency. On them fell the curse of Allah Almighty. Firstly, it came through the tongue of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) as result of which they were transformed into swines. Then, this curse fell upon them through the tongue of Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) the temporal effect of which was that they were transformed into monkeys. Some commentators have pointed out that the reference to the curse mentioned here as coming through only two…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
101. This refers to those misguided nations from whom the Christians derived their false beliefs and ways, particularly to the Hellenistic philosophers under the spell of whose ideas the Christians had veered from the straight way they had originally followed. The beliefs of the early followers of the Messiah were mainly in conformity with the reality they had witnessed, and conformed to the teachings they had received from their guide and mentor. But they later resorted to an exaggerated veneration of Jesus, and interpreted their own beliefs in the light of the philosophical doctrines and…
Read the full tafseer →