Explained with ayahs 76–77
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو ؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بےسمع و بصر، بےضرر و بےنفع و بےقدر اور بےقدرت چیزوں کے پیچھے پڑجانا یہ کون سی عقلمندی ہے ؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
سورة الْمَآىِٕدَة 101
اشارہ ہے ان گمراہ قوموں کی طرف جن سے عیسائیوں نے غلط عقیدہ اور باطل طریقے اخذ کیے۔ خصوصاً فلاسفہ یونان کی طرف، جن کے تخیلات سے متاثر ہو کر عیسائی اس صراط مستقیم سے ہٹ گئے جس کی طرف ابتداءً ان کی رہنمائی کی گئی تھی۔ مسیح کے ابتدائی پیرو جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انہوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم ان کے ہادی و رہنما نے ان کو دی تھی۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف مسیح کی عقیدت اور تعظیم میں غلو کر کے، اور دوسری طرف ہمسایہ قوموں کے اوہام اور فلسفوں سے متاثر ہو کر، اپنے عقائد کی مبالغہ آمیز فلسفیانہ تعبیریں شروع کردیں اور ایک بالکل…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان نصاریٰ سے) فرمائیے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین (کے معاملہ) میں ناحق کا غلو (اور افراط) مت کرو اور اس (افراط کے باب) میں ان لوگوں کے خیالات (یعنی بےسند باتوں) پر مت چلو جو (اس وقت سے) پہلے خود بھی غلطی میں پڑچکے ہیں اور (اپنے ساتھ) اور بہتوں کو (لے کر ڈوبے ہیں اور) غلطی میں ڈال چکے ہیں اور (وہ ان کی غلطی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ حق مفقود ہوگیا ہو اس کا پتہ نہ لگتا ہو بلکہ) وہ لوگ راہ راست (کے ہوتے ہوئے قصداً اس) سے دور (اور علیحدہ) ہوگئے تھے (یعنی جب ان کی غلطی دلائل سے ثابت ہوگئی پھر ان کا اتباع کیوں نہیں چھوڑتے) بنی اسرائیل میں جو لوگ کافر تھے ان پر (اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ۔
نصاری کا غلو : خطاب اگرچہ ظاہر میں عام اہل کتاب سے ہے لیکن اس کا رخ نصاریٰ ہی کی طرف ہے۔ ان کے۔ غلو۔ پر سورة نساٗ کی آیت 171 کے تحت مفصل بحث ہوچکی ہے۔ جس طرح یہود کی عام بیماری دین کے معاملے میں تفریط کی رہی ہے اسی طرح نصاریٰ کی عام بیماری افراط اور غلو کی رہی ہے اور یہ افراط وتفریط دونوں ہی چیزیں دین کو برباد کرنے والی ہیں۔ اسی غلو کا کرشمہ ہے کہ نصاری نے حضرت مسیح کو رسول سے خدا بنا ڈالا۔ پھر ان…
Read the full tafseer →77۔ 1 یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جن کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اس میں مبالغہ کر کے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الویت پر فائز مت کرو، جیسے حضرت مسیح ؑ کے معاملے میں تم نے کیا۔ غلو ہر دور میں شرک اور گمرہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ انسان کو جس سے عقیدت اور محبت ہوتی ہے، وہ اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے۔ وہ امام اور دینی قائد ہے تو اس کو پیغمبر کی طرح معصوم سمجھنا اور پیغمبر کو خدائی صفات سے متصف ماننا عام بات ہے، بدقسمتی سے مسلمان بھی اس غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ انہوں نے بعض ائمہ کی شان میں بھی غلو کیا اور ان کی رائے اور قول، حتٰی کہ ان کی طرف منسوب فتویٰ اور فقہ کو بھی…
Read the full tafseer →53: ”غلو“ کا مطلب ہے کسی کام میں اس کی معقول حدود سے آگے بڑھ جانا۔ عیسائیوں کا غلو یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی تعظیم میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہیں خدا قرار دے دیا، اور یہودیوں کا غلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے محبت کا جو اظہار کیا تھا اس کی بنا پر یہ سمجھ بیٹھے کہ دنیا کے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر بس وہی اللہ کے چہیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ جو چاہیں کریں، اللہ تعالیٰ ان سے ناراض نہیں ہوگا، نیز ان میں سے بعض نے حضرت عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا قرار دے لیا تھا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 77۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم میں غلو کرنے کی وجہ سے نصاری کے عقائد کے اندر خرافات داخل ہوئے اور اس کے بعد جب سلطنت روما کے حکمران عیسائیت میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی بت پرستی کو عیسائیت کے اندر داخل کردیا ۔ اس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو کانفرنسیں منعقد ہوئیں ان کے مندوبین نے بھی اللہ کے دین میں یہ غلط معقولات شامل کردیئے حالانکہ حضرت مسیح کو اللہ نے جو دین دے کر بھیجا تھا اور جس کی تبلیغ آپ ﷺ نے فرمائی تھی وہ بالکل صاف تھا ۔ قرآن مجید میں ہے ” اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہار سب کا رب ہے ‘ بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت کا…
Read the full tafseer →8 عقیدہ کا مبالغہ یہ ہے کہ ایک مولود بشری کو خدا بنادیا۔ اور عمل میں غلو وہ ہے جسے رہبانیت کہتے ہیں (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ ) 57 ۔ الحدید :27) یہود کی جو قبائح بیان کی جا چکیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پرستی میں غرق ہونے کی وجہ سے دین اور دینداروں کی ان کے یہاں کوئی عظمت و وقعت نہ تھی حتٰی کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اہانت و قتل وغیرہ ان کا خاص شعار تھا۔ برخلاف اس کے نصاریٰ نے تعظیم انبیاء میں اس قدر غلو کیا کہ ان میں سے بعض کو خدا یا خدا کا بیٹا کہنے لگے اور ترک دنیا کر کے رہبانیت اختیار کرلی۔
1 یعنی اصل انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں اس عقیدہ شرکیہ کا کہیں…
Read the full tafseer →آیت 77 قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ
یہ تم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محبت اور عقیدت کی وجہ سے جو کچھ بنا دیا ہے ‘ وہ سراسر مبالغہ ہے۔ حضور ﷺ کی شان میں بھی مبالغہ آرائی اگر لوگ کرتے ہیں تو محبت کی وجہ سے کرتے ہیں ‘ عشق رسول ﷺ کے نام پر کرتے ہیں ‘ عقیدت کے غلو کی وجہ سے کرتے ہیں۔ تو غلو مبالغہ درحقیقت انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ چناچہ اس سے منع کیا جا رہا ہے۔ َ
وَلاَ تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ
جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ‘ یہ تثلیث مصر میں زمانۂ قدیم سے موجود تھی ‘ اسی کو انہوں نے اختیار کیا
Read the full tafseer →123 فلسفہ گمراہی ؟ یہ لوگ وہی یونانی فلاسفر ہیں جن کے افکار و نظریات سے متاثر ہو کر عیسائیوں کے علماء و مشائخ نے چوتھی صدی عیسوی میں تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا۔ پھر حکومت کی سرپرستی کی بنا پر اس عقیدہ کو فروغ حاصل ہوگیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فلاسفر قسم کے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مسلمانوں میں غلو کی مثالوں کے لیے (دیکھئے سورة فرقان کا حاشیہ نمبر 2)
اور سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : بال کی کھال اتارنے والے (فرقہ پرستی کی بنا پر) تباہ ہوئے۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب العلم۔ باب النہی عن اتباع متشابہ القرآن)
Read the full tafseer →258 ۔ (بلکہ اپنے اصل دین اور عقائد حق پر قائم رہو) (آیت) ” اھل الکتب “۔ سے یہاں مراد مسیحی ہیں۔ اور (آیت) ” الکتب “ سے انجیل۔ یعنی بالکتب الانجیل (ابن جریر) قل یا محمد لھؤلاء الغالیۃ من النصاری فی المسیح (ابن جریر) قیل الخطاب للنصاری خاصۃ (بیضاوی) (آیت) ” لا تغلوا فی دینکم “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 846 ۔ 853 سورة نساء۔
259 ۔ اس میں صاف اشارہ اس حقیقت کا آگیا کہ مسیحیوں کی گمراہیاں اور بدعقیدگیاں کسی اور کجر اور گمراہ قوم کی ریس اور تقلید سے پیدا ہوئی ہیں۔ (آیت) ” اھوآء “۔ لغو وبے بنیاد خیالات، من گھڑت عقائد، خیالی ڈھکوسلے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ان رسول کا ابطال ہے جو شریعت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…
Read the full tafseer →قل یاہل الکتب لا تغلوا فی دینکم آپ کہہ دیجئے اے حاملان کتاب اپنے دین (کے معاملہ) میں مبالغہ سے کام نہ لو یعنی حد اعتدال سے ہٹ کر افرا ط وتفریط میں مبتلا نہ ہو۔ عیسیٰ کے عبداللہ اور رسول اللہ ہونے کا یقین رکھنا صحیح دین الٰہی ہے (اس عقیدہ سے تجاوز نہ کرو) یہودیوں نے اپنے دین میں تفریط کی اور حضرت عیسیٰ کی رسالت کے منکر ہوگئے اور عیسائیوں نے عیسیٰ کے معاملہ میں افراط سے کام لیا اور انکے الٰہ ہونے کے مدعی ہوگئے۔ بعض علماء کے نزدیک یا اہل الکتاب سے صرف نصاریٰ کو خطاب ہے۔
غیر الحق ناحق۔ یعنی افراط وتفریط نہ کرو ناحق۔ اس لفظ سے مفہوم غلو کی تاکید ہوگئی کیونکہ غلو تو ناحق ہوتا ہی ہے یا غیر الحق…
Read the full tafseer →(77) نصاری اہل نجران دین میں ناحق غلو مت کرو اور ایسی قوم کے دین اور ان کی باتوں پر مت چلو جو خود تم سے پہلے ہدایت سے بےراہ ہیں اور وہ قوم کے سردار اور رؤساء ہیں جنہوں نے بہت سے لوگوں کو بےراہ کردیا۔
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ۔۔ : یہود و نصاریٰ کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مخاطب فرمایا ہے۔ (کبیر) نصاریٰ نے مسیح ؑ کے معاملہ میں غلو کیا اور ایک بشر جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کاملہ کی نشانی قرار دیا تھا (دیکھیے زخرف : 59۔ مومنون : (50) اسے معبود کے مقام پر کھڑا کردیا۔ دوسری طرف یہودیوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا، ان سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا، ان پر اور ان کی والدہ پر تہمت طرازی کی اور ان کے قتل کے درپے ہوئے، بلکہ بقول یہود و نصاریٰ یہود نے مسیح ؑ کو سولی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ (کبیر، ابن کثیر) حقیقت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 77
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل یاھل الکتب لا تغلوا فی دینکم غیر الحق۔ یعنی اس طرح حد سے تجاوز نہ کرو جس طرح یہود ونصاری نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا تھا۔ یہود کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو اور افراط یہ تھا کہ انہوں نے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر نکاح کے پیدا ہوئے ہیں اور نصاری کا غلویہ تھا کہ انہوں نے کہا : وہ الہ ہے، الغلو کا معنی حد سے تجاوز کرنا ہے سورة نساء میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولا تتبعوا اھواء قوم، اھواء جمع ہے ھوی کی سورة بقرہ میں یہ لفظ گزر چکا ہے الھوی ویہ نام اس لیے دیا جاتا ہے، کیونکہ ھوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لا تغلوا فی دینکم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم نئی نئی باتیں نہ گھڑ لیا کرو۔
(2) امام ابن ابی حاتم سے روایت ہے کہ ابن زید (رح) نے لفظ آیت لا تغلوا فی دینکم کے بارے میں فرمایا کہ غلو سے مراد ہے حق کو چھوڑ دینا۔ انہوں نے جو غلبہ کیا تھا وہ یہ تھا کہ وہ اللہ کے لئے بیوی اور اولاد کو تجویز کرتے تھے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ربیع بن ابس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی تھا جو لوگوں کا حاکم بن گیا اس نے ایک زمانے تک کتاب وسنت پر عمل کیا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور وہ کہنے لگا۔ تو اس بات اور اس پر…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب ] لَا تَغْلُوْا [ تم لوگ زیادتی مت کرو ] فِيْ دِيْنِكُمْ [ اپنے دین میں ] غَيْرَ الْحَقِّ [ ناحق کی ] وَلَا تَتَّبِعُوْٓا [ اور پیروی مت کرو ] اَهْوَاۗءَ قَوْمٍ [ ایک ایسی قوم کی خواہشات کی ] قَدْ ضَلُّوْا [ جو بھٹک چکے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَاَضَلُّوْا [ اور جنھوں نے گمراہ کیا ] كَثِيْرًا [ بہتوں کو ] وَّضَلُّوْا [ اور گمراہ ہوئے ] عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ [ راستے کے بیچ سے ]
Read the full tafseer →اہل کتاب کو غلو کرنے کی ممانعت
اس کے بعد اہل کتاب کو غلو فی الدین سے بچنے کا حکم دیا، ارشاد ہے (قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ ) (آپ فرما دیجئے اے اہل کتاب ! تم اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو) اہل کتاب نے اپنے دین میں غلو کر رکھا تھا، حد سے زیادہ بڑھ جانے کو غلو کہتے ہیں اور یہ غلو ناحق ہوتا ہے کیونکہ حق کی حد کے اندر رہنا ہی حق ہے، نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا آگے بڑھایا کہ خدا اور خدا کا بیٹا بنا دیا اور ان کی والدہ کو بھی معبود مان لیا۔ اور یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا حالانکہ خالق اور مخلوق میں رشتہ نہیں ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
تنبیہ اہل کتاب برسبب گمراہی ایشان، وممانعت از اتباع گمراہان پیشینان۔
قال اللہ تعالی، قال یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ یستکبرون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں نصاری کے عقائد باطلہ اورا ن کی طمراہی کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل کتاب کی گمراہی اور تباہی کا سبب بیان کرتے ہیں اور گمراہوں کی پیروی سے منع فرماتے ہیں اہل کتاب کی گمراہی کا سبب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے دین میں غلو کیا اور افراط اور تفریط سے کام لیا نصاری نے حضرت عیسیٰ کے حق میں یہ غلو کیا کہ ان کو خدا ٹھہرایا یہ افراط ہوا اور یہود نے ان کو ایسا گھٹایا کہ ان کی نبوت کو بھی نہ مانا اور انکو ساحر اور کذاب بتلایا اور ان کی والدہ ماجدہ…
Read the full tafseer →137 یہ اہل کتاب کے لیے زجر ہے۔ دین میں غلو سے اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا مراد ہے مثلاً حضرت مسیح اور ان کی والدہ کو اور حضرت عزیر (علیہم السلام) کو الوہیت کا درجہ دینا اور ان کو حاجات میں غائبانہ طور پر پکارنا وغیرہ۔ غَیْرَ الْحَقِّ ، اٰخِذِیْنَ مقدر کا مقو لہ ہے جو اَلَا تَغْلُوْا کے فاعل سے حال ہے۔ اَھْوَاءَ قَوْمٍ میں قوم سے یہود و نصاریٰ کے اسلاف اور ان کے آباء وا جداد مراد ہیں۔ فرمایا تم اپنے ان گذشتہ عالموں اور پیروں اور اپنے باپ دادا کی پیروی میں حق کا انکار نہ کرو۔ جو خود گمراہ تھے اور جنہوں نے ہزاروں لاکھوں بندگانِ خدا کو توحید اور صراط مستقیم سے گمراہ کیا ای اسلافکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ربط آیات
گزشتہ دروس میں اہل کتاب کے باطل عقائد اور ان کی خرابیوں کا ذکر ہوتا رہا ہے اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے مختلف فرقوں کی تکفیر کا ذکر کیا جو یا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بعینیہ خدا مانتے ہیں یا پھر تین خدائوں میں سے تیسرا تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کف یہ عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے بلکہ خود انبیاء کی تعلیم کے بھی منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو تلقین کی کہ وہ اس باطل عقیدہ سے باز آجائیں ورنہ عذاب الیم کے مستحق ٹھہریں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا کہ آپ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بھی بہت…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَاۗءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ 77ۧ
غلا
الغُلُوُّ : تجاوز الحدّ ، يقال ذلک إذا کان في السّعر غَلَاءٌ ، وإذا کان في القدر والمنزلة غُلُوٌّ وفي السّهم : غَلْوٌ ، وأفعالها جمیعا : غَلَا يَغْلُو قال تعالی: لا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ [ النساء/ 171] . وَالغَلْيُ والغَلَيَانُ يقال في القدر إذا طفحت، ومنه استعیر قوله : طَعامُ الْأَثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ [ الدخان/ 44- 46] ، وبه شبّه غلیان الغضب والحرب،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ترکیب : مالا یملک مانکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی مفعول تعبدون لا تغلوا فعل لازم ہے اور غیر الحق صفت ہے مصدر محذوف کی اے غلو غیر الحق اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر فاعل سے ای لاتغلوا مجاوزین الحق من بنی اسرائیل حال ہے الذین کفروا سے علی لسان داؤد متعلق ہے لعنوا سے۔
تفسیر : اب ایک اور دلیل یہود و نصاریٰ و مشرکین کے مقابلہ میں ایسی ذکر فرماتا ہے کہ جس سے اللہ کے سوا تمام چیزوں کا معبود ہونا باطل ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ معبود وہ ہونا چاہیے جو نفع و ضرر کا مالک ہو اور یہی بات ہے کہ جس سے کسی کی عبادت اور اطاعت کی جاتی ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور مشرکین کے فرضی خدا نہ کسی کو نفع…
Read the full tafseer →قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لاَ تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعُوْآ اَھْوَٓئَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِ ۔ (المائدہ : 77)
” کہہ دو اے اہل کتاب اپنے دین میں بےجا غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہوئے اور جنھوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور جو راہ راست سے بھٹک گئے “۔
نصاریٰ کی اصل بیماری ” غلو “
آخری آیت میں اگرچہ خطاب عام اہل کتاب سے ہے لیکن اس کا رخ نصاریٰ ہی کی طرف ہے اور ان کی اصل بیماری کی خبر دی گئی ہے جو کہ اسی غلو کا نتیجہ ہے کہ نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
فہم القرآن
ربط کلام : عقیدۂ تثلیث کی تردید کرنے کے بعد اہل کتاب اور ان کے حوالے سے تمام لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔
عبادت کا معنٰی ہے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی غلامی اختیار کرنا ہے، انسان بڑا کمزور اور عاجز واقع ہوا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر انعام کرتے ہوئے اجازت ہی نہیں دی بلکہ حکم دیا ہے کہ اے انسان مجھے اپنی حاجات کے لیے پکارا کر۔ میں تیری دستگیری اور دادرسی بھی کروں گا اور یہ پکار میری بارگاہ میں تیری عبادت بھی سمجھی جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ میرے سوا کسی…
Read the full tafseer →اہل کتاب کو غلو کی ممانعت :
آیت 77 : قُلْ یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ ۔ (اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو) غلو حد سے تجاوز کو کہتے ہیں۔ نصاریٰ کا غلو یہ تھا کہ ان کو ان کے مرتبے سے اٹھا کر الوہیت کے تخت پر بٹھا دیا تھا۔ اور یہود کا غلو یہ تھا کہ ان کو استحقاق نبوت سے ہی گرا دیا۔ غَیْرَ الْحَقِّیہ مصدر محذوف کی صفت ہے تقدیر عبارت یہ ہے غلوًا غیر الحق یعنی باطل غلو۔ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَآئَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُیعنی تمہارے وہ اسلاف اور وہ مقتداء جو بعثت نبوی ﷺ سے پہلے گمراہی پر تھے۔ وَاَضَلُّوْا کَثِیْرًاان کو جو ان کا ساتھ دینے والے تھے۔ وَّضَلُّوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
آیت نمبر 79, 78, 77, 76
تفسیر : (قل اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضرا ولا نفعاط واللہ ھوالسمیع العلیم آپ کہہ دیں کیا تم ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر جو مالک نہیں تمہارے برے کی اور نہ بھلے کی اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والا)
(قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیرالحق آپ کہہ دیجئے اے اہل کتاب مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں ناحق کا) یعنی حد سے تجاوز نہ کرو اور بڑائی اور کوتاہی میں سے ہر ایک دین میں برا ہے اور اللہ کا فرمان ” غیرالحق “ یعنی تمہارے دین میں جو حق کے مخالف بات ہو کیونکہ انہوں نے اپنے دین میں حق کی مخالفت کی۔ پھر اس پر ڈٹ کر غلو کیا (اور مت چلو خیالات پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(76 ۔ 77) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نصاریٰ میں بعض لوگ مسیح بن مریم کو خدا کہتے تھے اور بعض خدا کا شریک ٹھیراتے تھے ان ہی لوگوں کے سمجھانے کے لئے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو مخاطب ٹھیرا کر فرماتا ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ سوا اللہ تعالیٰ کے جن کو تم اپنا معبود ٹھیراتے ہو نہ ان کو تمہارے برے بھلے کا کچھ اختیار ہے نہ تمہارے حاضر و غائب سب کی التجا سن لینے کی ان میں کچھ قدرت ہے نہ ہر ایک کی دلی التجا کا انہیں کچھ حال معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے کہ وہ ہر ایک کی التجا سنتا ہے ہر ایک کے دلی مقصد کو خوب جانتا ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ بنی اسرائیل بڑی ذلت و خواری سے فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
آیت 77
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : (قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق) ” اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو “ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انہوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا (ولاتتبعوآ اھوآء قوم قد ضلوا من قبل) ” اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔ “ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ (واضلوا کثیراً ) ” اور (دوسرے) بہت سوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
قول باری ہے ما السیح ابن مریم الا رسول فد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یا کلان الطعام مسیح ابن مریم اسکے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ آیت میں عیسائیوں کے عقیدہ ٔالوہیت مسیح کی تردید کی واضح ترین دلالت موجود ہے۔ اس لیے کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہو تو اسے تمام دوسرے انسانوں کی طرح ایک صانع اور خالق کی ضرورت ہو ، کیونکہ جس ذات کے اندر حدوث کی علامت موجود ہو وہ قدیم نہیں ہوسکتی اور جو شخص خود دوسرے کا محتاج ہو وہ اس طرح قادر نہیں ہوسکتا کہ کوئی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہ رہ…
Read the full tafseer →196 دین میں غلو اور حد سے بڑھنے کی ممانعت : سو اہل کتاب سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے دین کے بارے میں غلو مت کرو کہ یہ جڑ ہے فساد و انحراف کی۔ اور اسی کی بنا پر تم لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدئہ ماجدہ کو خدائی منصب پر بٹھا دیا۔ اور اس شرک کو تم نے اپنے دین میں داخل کردیا جس کو مٹانے ہی کے لئے یہ دین آیا تھا۔ اور جس فریضہ کی ادائیگی کیلئے حضرت عیسیٰ تشریف لائے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ افسوس کہ غلو اور افراط کا یہ مرض آج مسلمانوں کے اندر بھی موجود ہے۔ اور اس سے جنم لینے والے فساد کے نت نئے مظاہر جگہ جگہ اور طرح طرح سے سامنے آتے رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
سیدنا مسیح اور مریم کی حیثیت
تشریح : ان آیات میں عیسائیوں کے عقائد کو خوب واضح کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان نصارٰی کو سمجھائو کہ تم اگر تھوڑی سی عقل بھی رکھتے ہو تو تم بڑی آسانی سے اپنے تمام عقائد کو چھوڑ کر ایک ٹھیک اور سیدھا عقیدہ، یعنی عقیدہ توحید کو اپنا سکتے ہو اور پھر تاکید ًا ان کو سمجھایا کہ تمہارے رسول نے تو تمہیں توحید کی ہی تعلیم دی تھی تم نے خواہ مخواہ گمراہ قوموں کے کہنے پر سیدھے راستے کو چھوڑ دیا ہے۔ یہاں اشارہ ان گمراہ قوموں کی طرف ہے جنہوں نے عیسائیوں پر بھی اثر ڈالا۔ ان میں قدیم مصری شرک جو یونانیوں میں پوری طرح رچ بس چکا تھا۔ بڑے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔
اسرار و معارف :
یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ف 12 یہود و نصاری کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مظاطب فرمایا ہے (کبیر) نصاری نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے معاملہ میں غلو کیا ہے اور ایک بشر جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کا ملعہ کی نشانی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کرڈالا (کبیر، ابن کثیر) یہ حقیقت ہے کہ دین جو بھی خرابی آئی ہے وہ اسی غلو (یعنی راہ اعتدال کو چھوڑنے) کی وجہ سے آتی ہے اسی لیے آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو باربار نصیحت فرمائی کہ میرے معاملہ میں حد سے نہ بڑھنا اور مجھے بشریت کے مقام سے اٹھاکر خدائی کے مرتبہ تک نہ پہنچا دینا ( ماخوذ از وحیدی)
1 پہلے فرمایا کہ گمراہ ہوئے پھر فرمایا کہ سیدھی راہ سے بہک…
Read the full tafseer →(5:77) لا تغلوا تم مبالغہ نہ کرو۔ تم زیادتی نہ کرو۔ تم غلو مت کرو۔ غلو (نصر) کے معنی ہیں حد سے گزرنا۔ مضارع نہی جمع مذکر حاضر
ضلوا۔ فعل لازم ۔ وہ گمراہ ہوگئے۔ وہ گمراہ ہوئے۔ اضلوا۔ فعل متعدی ۔ انہوں نے (دوسروں کو) گمراہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
آیت نمبر 76 تا 77
لغات القرآن : السمیع (اللہ کی صفت۔ بہت سننے والا) ۔ لاتغلوا (حد سے نہ نکلو۔ غلو نہ کرو) ۔ ضلوا (وہ بھٹک گئے) ۔ اضلوا کثیرا (بہت سوں کو بھٹکا دیا) ۔
تشریح : ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ذرا ان نادانوں سے پوچھئے کیا تم اسے معبود مان رہے ہو جو اپنی ذات تک پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ وہ بھلا تمہیں کیا نقصان اور کیا نفع پہنچا سکتا ہے۔ اے اہل کتاب ! تم میں جو بنی اسرائیل ہیں انہوں نے پیغمبروں کو اتنا گھٹایا کہ سب کو ناحق تکلیفیں دیں اور چند کو جان سے مار ڈالا۔ اور جو نصاریٰ ہیں انہوں نے اپنے پیغمبر کو اتنا بڑھایا کہ لے جا کر الوہیت میں شریک کردیا۔ گھٹانا اور بڑھانا دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ) کو مخاطب ٹھراکر فرماتا ہے کہ اے رسول اللہ کے ! آپ ان لوگوں سے کہ سیجئے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے جن کو تم اپنا معبود ٹھراتے ہو، نہ ان کو تمہارے برے بھلے کا کچھ اختیار ہے اور نہ تمہاری التجا سن لینے کی قدرت ہے۔ نہ دل کا حال ان کو کچھ معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے کہ وہ ہر ایک کی التجا سنتا ہے۔ ہر ایک کے دلی مقصد کو خوب جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ مبالغہ کی سب باتیں ان کے بڑوں کی تراشی ہوئی ہیں جو خود بھی بےراہ ہوئے، اور لوگوں کو بھی بےراہ کیا۔ حال کے لوگ بھی اگر ان بےراہ بڑوں کی پیروی میں عمر بھر لگے رہیں گے اور عقبیٰ میں اپنی بہبودی کی توقع اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
[46] یعنی اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ جس کو زندہ رہنے کے لئے غذا کی احتیاج ہو وہ اللہ کیسے ہوسکتا ہے۔ اللہ تو سب چیزوں سے بےنیاز ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) آیت کا مطلب یہ ہے کہ عقیدہ تثلیث محض غلو فی الدین کا نتیجہ ہے جسے حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ گمراہ قوموں سے ماخوذ ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ف 2 سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسیح مریم کے بیٹے ایک رسول ہیں بلاشبہ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول ہوچکے ہیں اور ان کی ماں بہت راست باز عورت تھی یہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے اور جو کھانا کھائے وہ خدا کس طرح ہوسکتا ہے ۔ اے پیغمبر ذرا دیکھیے ہم کس طرح ان کے لئے اپنے دلائل صاف اور واضح طور پر بیان کرتے ہیں اور باوجود توضیح دلائل کے پھر ان کو ملاحظہ کیجیے کہ یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں آپ ان سے دریافت کیجیے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کی مالک ہیں اور نہ تمہارے نفع کا کچھ اختیار رکھتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ف 4۔ یا تو یہ نصاری مذکورین عیسیٰ کی پرستش بھی کرتے ہوں گے یا یہ کہ عبادت میں سب سے بڑا درجہ اعتقاد الوہیت کا ہے جب وہ معتقد الوہیت عیسویہ ہوئے تو یقینا ان کی عبادت کی۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کو تنبیہ کہ دین میں غلونہ کرو اور گمراہوں کی راہ کو چھوڑ دو :
198: زیر نظر آیت میں ” الکتب “ سے مراد انجیل اور ” اہل کتاب “ سے مراد مسیحی ہیں اور ” قل “ کا خطاب نبی اعظم و آخر ﷺ کو اور آپ ﷺ کی وساطت سے پوری امت کے ہر فرد کو ہے۔ یعنی آپ مسیحیوں کو کہہ دیں کہ اور آپ ﷺ کی امت کا ہر جاننے والا فرد اپنے اپنے وقت کے مسیحیوں کو کہہ دے کہ ” اپنے دین میں حقیقت کے خلاف غلو نہ کرو “ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ کے الفاظ سورة النساء کی آیت 171 میں گزر چکے ہیں اس کی تفسیر کے لئے عروۃ الو ثقیٰ جلد دوم میں سورة النساء کی آیت 171 ملاحظہ فرمالیں۔ یاد رہے کہ ” غلو “ حد سے تجاوز کو کہتے ہیں خواہ وہ…
Read the full tafseer →Commentary
The Crookedness of Bani Isra'il : Yet Another Aspect
It will be recalled that, in previous verses, mentioned there was the contumacy of Bani Isra'il along with their tyranny and injustice with reference to what they did to their benefactors, the prophets sent by Allah who had come to show them the way to succeed in this life and in the life to come. But, they mistreated them, by falsifying some and killing others: فَرِيقًا كَذَّبُوا وَفَرِيقًا يَقْتُلُونَ (70)
The present verses expose another aspect of the crooked ways of Bani Isra'il. So astray were they that they, not content…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
101. This refers to those misguided nations from whom the Christians derived their false beliefs and ways, particularly to the Hellenistic philosophers under the spell of whose ideas the Christians had veered from the straight way they had originally followed. The beliefs of the early followers of the Messiah were mainly in conformity with the reality they had witnessed, and conformed to the teachings they had received from their guide and mentor. But they later resorted to an exaggerated veneration of Jesus, and interpreted their own beliefs in the light of the philosophical doctrines and…
Read the full tafseer →