Al-Maaida 5:76

Al-Maaida · from ayah 76

5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ؕ— وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟قُلۡ اَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمۡلِكُ لَـكُمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا ‌ؕ وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Do you worship besides Allah that which holds for you no [power of] harm or benefit while it is Allah who is the Hearing, the Knowing?"

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 10 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:76

اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے، اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : کیا تم اللہ کے سوا ایسی مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے اور نہ فائدہ پہنچانے کی جبکہ اللہ ہر بات کو سننے والا، ہر چیز کو جاننے والا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو تمہارے نقصان کا مالک نہ نفع کا اور اللہ ہی سنتا جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: کیا تم اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے لئے کسی نقصان کا مالک ہے نہ نفع کا، اور اﷲ ہی تو خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی، اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے اور نہ نفع کا۔ اور اللہ ہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہو کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع پر اختیار نہیں رکھتی اور سننے والا اور جاننے والا تو بس اللہ ہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ کیا تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر اس کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے لئے نہ کسی نقصان کا مالک ہے نہ نفع کا، اور اللہ ہی ہے ہر کسی کی سنتا، سب کچھ جانتا،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے کہ کیا اللہ کے سوا ایسے کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نقصان پہنچا سکے نہ نفع اور اللہ ہی (سب کی) سننے والا (سب کچھ) جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہیے کیا تم پوجتے ہو اللہ کے سوا انہیں جو تمہارے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نفع کا ؟ جبکہ اللہ ہی سبب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع پہنچا سکتا ؟ حالانکہ (سب کی) سننے والا اور (سب کچھ) جاننے والا تو صرف اللہ ہی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'Do you serve, beside Allah, that which has no power either to harm or benefit you, whereas Allah alone is All-Hearing, All-Knowing?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Do you worship, besides Allah, what has no power to do you harm or bring you benefit? Allah is the All-Hearing, the All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Do you worship, besides Allah, what has no power to do you harm or bring you benefit? Allah is the All-Hearing, the All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "How do you worship besides Allah something which has no power either to harm or to benefit you But it is Allah Who is the All-Hearer, All-Knower."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Serve ye in place of Allah that which possesseth for you neither hurt nor use? Allah it is Who is the Hearer, the Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Do you worship besides Allah that which holds for you no [power of] harm or benefit while it is Allah who is the Hearing, the Knowing?"

— Saheeh International

(Muhammad), say to them, "Do you worship things besides God which can neither harm or benefit you?" It is only God who is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

Say: Do you serve besides Allah that which does not control for you any harm, or any profit? And Allah-- He is the Hearing, the Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: worship ye, beside Allah, that which availeth you not for hurt nor for profit! whereas Allah! He is the Hearer, the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Will ye worship, besides Allah, something which hath no power either to harm or benefit you? But Allah,- He it is that heareth and knoweth all things."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 76–77

معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو ؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بےسمع و بصر، بےضرر و بےنفع و بےقدر اور بےقدرت چیزوں کے پیچھے پڑجانا یہ کون سی عقلمندی ہے ؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 75–76

سورة الْمَآىِٕدَة 100 ان چند لفظوں میں عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی ایسی صاف تردید کی گئی ہے کہ اس سے زیادہ صفائی ممکن نہیں ہے۔ مسیح کے بارے میں اگر کوئی یہ معلوم کرنا چاہے کہ فی الحقیقت وہ کیا تھا تو ان علامات سے بالکل غیر مشتبہ طور پر معلوم کرسکتا ہے کہ وہ محض ایک انسان تھا۔ ظاہر ہے کہ جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا، جس کا شجرہ نسب تک موجود ہے، جو انسانی جسم رکھتا تھا، جو ان تمام حدود سے محدود اور ان تمام قیود سے مقید اور ان تمام صفات سے متصف تھا جو انسان کے لیے مخصوص ہیں، جو سوتا تھا، کھاتا تھا، گرمی اور سردی محسوس کرتا تھا، حتٰی کہ جسے شیطان کے ذریعہ سے آزمائش میں بھی ڈالا گیا، اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–76

معارف و مسائل (قولہ تعالیٰ) اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ، یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذ باللہ) ان میں ایک حصہ دار اللہ ہوا، پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں، عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہے، اور اس خلاف عقل و ہدایت عقیدہ کو گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں، اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں (قوائد عثمانی رحمة اللہ علیہ) مسیح ؑ کی الوہیت کی تردید (قولہ تعالیٰ) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، یعنی جس طرح اور انبیاء دنیا میں آئے اور کچھ دن رہ کر چل بسے، ان کو دوام اور بقاء حاصل نہ تھا جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 73–76

تفسیر آیات 73 تا 76:۔ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭوَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ ۭكَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ ۭاُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ۔ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

76۔ 1 یہ مشرکوں کی کم عقلی کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ ایسوں کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے جو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، بلکہ نقصان پہنچانا تو کجا، وہ تو کسی کی بات سننے اور کسی کا حال جاننے کی ہی قدرت نہیں رکھتے۔ یہ قدرت صرف اللہ ہی کے اندر ہے۔ اس لئے حاجت روا مشکل کشا بھی صرف وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

52: حضرت مسیح ؑ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے، لیکن کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی ذاتی صلاحیت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اگر وہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے پہنچا سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً وَاللّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (76) ” ان سے کہو تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لئے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا ؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے ۔ یہاں قرآن کریم نے لفظ ” ما “ استعمال کیا ہے ۔ حالانکہ یہاں مسیح کے لئے لفظ من استعمال کی جانا چاہئے تھا ‘ تاکہ اس میں وہ تمام مخلوقات آجائیں جن چیزوں کی پوجا کی گئی ۔ ان میں ذوی العقول بھی شامل ہیں ۔ اور لفظ ” ما “ اس عام چیز کی اصل ماہیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان معبود اشیاء کی اصل ماہیت مخلوق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جب مسیح کو خدا کہا تو لازم ہے کہ معبود بھی کہو مگر معبود بننا صرف اسی ذات کے ساتھ مختص ہے جو ہر قسم کی نفع و ضرر کا مالک اور پورا با اختیار ہو کیونکہ عبادت انتہائی تذلل کا نام ہے اور انتہائی تذلل اسی کے سامنے اختیار کرسکتے ہیں جو انتہائی عزت اور غلبہ رکھنے والا ہر آن سب کی سننے والا اور سب کے احوال کا پوری طرح جاننے والا ہو اس میں تثلیث کے عقیدہ شرکیہ کے ساتھ تمام مشرکین کا رد ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 75–76

آیت 75 مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ الاَّ رَسُوْلٌ ج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو سورة آل عمران آیت 144 میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آئے ہیں : وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط محمد ﷺ اس کے سوا کیا ہیں کہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور آپ ﷺ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ تو اسی طرح فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت اللہ کے ایک رسول کی ہے ‘ جس طرح ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ ط قبل ازیں ہم سورة النساء آیت 69 میں پڑھ چکے ہیں کہ نبیوں کے بعد سب سے اونچا درجہ صدیقین کا ہے۔ خواتین کو اگرچہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

122 اس آیت میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی الوہیت کی تردید میں چوتھی دلیل بیان کی گئی ہے یعنی وہ دونوں اپنے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔ یہود نے انہیں ایذائیں اور دکھ پہنچائے وہ از خود ان کی مدافعت بھی نہ کرسکتے تھے۔ یہود نے سیدہ مریم پر زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بریت بیان فرمائی اور ان کی معجزانہ پیدائش کو واضح طور پر بیان کیا لیکن یہود پھر بھی باز نہ آئے۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی بھر ان کے درپے آزار رہے حتیٰ کہ حکومت سے ساز باز کر کے انہیں سولی پر چڑھوا دیا۔ لیکن یہ دونوں نہ اپنے آپ کی مدافعت کرسکے نہ یہود کا کچھ بگاڑ سکے پھر کیا وہ اللہ یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

257 ۔ اس ایک عالم کل ہمہ دان بین کے سوا عبادت وپرستش کے قابل اور ہے کون ؟ (آیت) ” قل اتعبدون من “۔ الخ۔ یہ سارا خطاب مسیحیوں ہی سے ہے، اور ان کے مشرک ہونے پر نص قرآنی کی مہر لگا رہا ہے۔ مسیحیوں کی مشہور وضخیم ومستند انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس میں ایک جگہ فخر کے ساتھ درج ہے کہ کلیسا نے اپنی طویل تاریخ میں ” کبھی ایسا نہیں کیا کہ خدا کے ساتھ ساتھ مسیح سے بھی دعا نہ کی ہو “۔ (جلد اول۔ صفحہ 104) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں رد ہے مشائخ کو مستقل متصرف سمجھنے والے جاہلوں کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–77

قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔ قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضرا ولا نفعا آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان پر قابو رکھتی ہیں نہ نفع پر یعنی کیا عیسیٰ کی پوجا کرتے ہو۔ عیسیٰ کے تمام افعال دوسرے انسانوں کی طرح اللہ ہی کے پیدا کئے ہوئے تھے اس لئے حقیقت میں کچھ بھی اپنا نہ تھا۔ سب کچھ خداداد تھا جس طرح دنیا میں اللہ دکھ اور مصیبت میں مبتلا کرنے اور آخرت میں عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے ویسا عیسیٰ کو قابو نہیں اور جس طرح اللہ دنیا میں جسمانی صحت اور روزی کی وسعت اور آخرت میں جنت دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ ویسا اختیار عیسیٰ کو نہیں۔ ماکی وضع لغوی ان چیزوں کے لئے ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(76) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کہ کیا ان بتوں کو پوجتے ہو جو دنیا وآخرت میں نقصان سے بچانے اور نفع حاصل کرنے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کے بارے میں جو کچھ تم کہتے ہو، اس کو وہ ذات سننے والی اور تمہارے عذاب کو جاننے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ۔۔ : یہ نصاریٰ کے عقیدے کی تردید پر دوسری دلیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو ان میں الوہیت (معبود ہونے) کا کوئی وصف بھی نہیں ہے، ان کا دوسروں کو نفع پہنچانا یا نقصان سے بچانا تو کجا وہ تو خود اپنے سے دشمنوں کے ظلم کو دفع کرنے کے لیے اللہ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کرتے رہے کہ اے اللہ ! مجھ سے مصیبت کا یہ وقت ٹال دے۔ پھر اس کے بعد اگر اس سمیع وعلیم کو چھوڑ کر عیسیٰ ؑ کو اپنا معبود بناؤ تو اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 67 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضراولا نفعا۔ بیان میں زیادتی اور ان پر حجت کا قائم کرنا ہے یعنی تم خود اقرار کرتے ہو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی ماں کے پیٹ میں جنین تھے وہ کسی کے نفع اور نقصان کے مالک نہیں تھے اور جب تم نے اقرار کرلیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کبھی ایسی حالت میں بھی تھے کہ نہ سنتے تھے، نہ دیکھتے تھے، نہ جانتے تھے، نہ نفع دیتے تھے نہ نقصان دیتے تھے، پھر تم نے اسے کیسے الہ بنا لیا ؟ آیت : واللہ ھو السمیع العلیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ سے سمیع علیم ہے نقصان اور نفع کا مالک ہے جس کی یہ صفت ہو وہ حقیقت میں الہ ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–76

(1) امام ابن منذر نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا تو بنی اسرائیل کے علماء میں سے سو آدمی جمع ہوئے۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں، دس آدمی نکال دو تو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں گروہ بندی کا۔ دس اور نکال دو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو تو انہوں نے دس اور نکال دیئے۔ اور انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو یہاں تک کہ دس باقی رہ گئے پھر انہوں نے کہا تم اب بھی زیادہ ہو پھر اور نکال دو (اب) چار باقی رہ گئے بعض نے کہ تم لوگ عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اَتَعْبُدُوْنَ [ کیا تم لوگ عبادت کرتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کی جو ] لَا يَمْلِكُ [ مالک نہیں ہے ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] ضَرًّا [ کسی نقصان کا ] وَّلَا نَفْعًا ۭ [ اور نہ ہی کسی نفع کا ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جو شخص نفع و ضرر کا مالک نہ ہو اس کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ اس کے بعد فرمایا (قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا) (آپ فرما دیجئے ! کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لئے ضرر اور نفع کا مالک نہیں) یہ نصاریٰ کو خطاب ہے لیکن الفاظ کا عموم تمام مشرکین کو شامل ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا ان کی والدہ ہوں یا ان کے علاوہ مخلوق میں سے کوئی بھی شخصیت ہو نبی ہو یا ولی ہو کوئی بھی کسی کے لیے نفع نقصان کا مالک نہیں۔ نفع ضرر اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ اور قدرت میں ہے جب تمام انبیاء عظام (علیہ السلام) اور اولیاء کرام اور دیگر تمام انسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–76

ابطال عقیدہ تثلیث۔ قال اللہ تعالی، لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ثالث۔۔۔ الی۔۔۔ العلیم۔ گذشتہ آیات میں نصاری کے اس فرقہ کا رد تھا جو یہ کہتا تھا کہ اللہ یہی مسیح کی صورت میں آیا ہے یہ فرقہ ملکانیہ تھا اور یعقوبیہ تھا جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے اب آئندہ آیات میں نصاری کے ان فرقوں کا رد ہے جو تثلیث کے قائل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ خدا تین حصہ ہوگیا اور ایک اللہ رہا اور ایک مسیح اور ایک روح القدس اور بعض نصاری بجائے روح القدس کے حضرت مریم کو تثلیث میں شامل کرتے ہیں۔ اور مسیح کے ساتھ ان کی والدہ مریم کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ پہلے قول کی طرح یہ تثلیث کا قول بھی صریح کفر ہے چناچہ فرماتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

136 یہ چوتھی بات ہے جو بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ کے تحت داخل ہے۔ تَعْبُدُوْنَ میں خطاب نصاریٰ سے ہے اور مِنْ دُوْنِ اللہِ سے حضرت مسیح اور ان کی والدہ مراد ہے۔ والخطاب للنصاریٰ نہاھم عن عبادۃ عیسیٰ ۔۔۔ (بحر ج 3 ص 538) والمراد بما لا یملک عیسیٰ او ھو وامہ علیہما الصلوہ والسلام (روح ج 6 ص 209) یہ نصاری کے عقیدہ الوہیت مسیح و مریم کے بطلان پر ایک اور دلیل ہے۔ مطلب یہ کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور جن کو غائبانہ پکارتے ہو وہ تو تمہارے کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ وہ عالم الغیب ہیں کہ تمہارا حال جان لیں اور تمہاری پکار سن لیں۔ یہ صفتیں صرف اللہ ہی میں ہے ہیں۔ وَاللہُ ھُوَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 76–77

ربط آیات گزشتہ دروس میں اہل کتاب کے باطل عقائد اور ان کی خرابیوں کا ذکر ہوتا رہا ہے اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے مختلف فرقوں کی تکفیر کا ذکر کیا جو یا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بعینیہ خدا مانتے ہیں یا پھر تین خدائوں میں سے تیسرا تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کف یہ عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے بلکہ خود انبیاء کی تعلیم کے بھی منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو تلقین کی کہ وہ اس باطل عقیدہ سے باز آجائیں ورنہ عذاب الیم کے مستحق ٹھہریں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا کہ آپ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بھی بہت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا۝ 0ۭ وَاللہُ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ 76 عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–82

ترکیب : مالا یملک مانکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی مفعول تعبدون لا تغلوا فعل لازم ہے اور غیر الحق صفت ہے مصدر محذوف کی اے غلو غیر الحق اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر فاعل سے ای لاتغلوا مجاوزین الحق من بنی اسرائیل حال ہے الذین کفروا سے علی لسان داؤد متعلق ہے لعنوا سے۔ تفسیر : اب ایک اور دلیل یہود و نصاریٰ و مشرکین کے مقابلہ میں ایسی ذکر فرماتا ہے کہ جس سے اللہ کے سوا تمام چیزوں کا معبود ہونا باطل ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ معبود وہ ہونا چاہیے جو نفع و ضرر کا مالک ہو اور یہی بات ہے کہ جس سے کسی کی عبادت اور اطاعت کی جاتی ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور مشرکین کے فرضی خدا نہ کسی کو نفع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–76

مَاالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلاَّ رَسُوْلٌج قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط وَ اُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌط کَانَا یَاْکُلٰنِ الطَّعَامَط اُنْظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَھُمْ الاْٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ۔ (المائدہ : 75) ” مسیح ابن مریم تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں اور ان کی ماں ایک صداقت شعار بندی تھیں۔ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ! کس طرح ہم ان کے سامنے اپنی آیتیں کھول کر بیان کر رہے ہیں ‘ پھر دیکھو ! وہ کس طرح اوندھے ہوئے جا رہے ہیں “۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اصل حیثیت اس آیت کریمہ میں حضرت مسیح ابن مریم کی اصل حیثیت کو واضح کرنے کے لیے مختلف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 76–77

فہم القرآن ربط کلام : عقیدۂ تثلیث کی تردید کرنے کے بعد اہل کتاب اور ان کے حوالے سے تمام لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ عبادت کا معنٰی ہے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی غلامی اختیار کرنا ہے، انسان بڑا کمزور اور عاجز واقع ہوا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر انعام کرتے ہوئے اجازت ہی نہیں دی بلکہ حکم دیا ہے کہ اے انسان مجھے اپنی حاجات کے لیے پکارا کر۔ میں تیری دستگیری اور دادرسی بھی کروں گا اور یہ پکار میری بارگاہ میں تیری عبادت بھی سمجھی جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ میرے سوا کسی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ذرہ بھر نفع و نقصان پر قدرت نہ رکھنے والا قادر مطلق کیسے بن گیا : آیت 76 : قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَا یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا۔ (کیا تم اللہ کے سواء ان چیزوں کو پوجتے ہو جو ذرہ بھر نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے) من دون اللّٰہ سے مراد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی چیزیں جو تمہیں نقصان پہنچانے کی طاقت نہ رکھتی ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ بلاء و مصائب تمہارے انفس و اموال میں اتارتے ہیں۔ اور نہ ہی وہ چیزیں جو تمہیں نفع دے سکیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ بدن میں صحت اور وسعت رزق اور خوشحالی عنایت فرماتے ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ انسان جس نفع و نقصان کی طاقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 76–79

آیت نمبر 79, 78, 77, 76 تفسیر : (قل اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضرا ولا نفعاط واللہ ھوالسمیع العلیم آپ کہہ دیں کیا تم ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر جو مالک نہیں تمہارے برے کی اور نہ بھلے کی اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والا) (قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیرالحق آپ کہہ دیجئے اے اہل کتاب مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں ناحق کا) یعنی حد سے تجاوز نہ کرو اور بڑائی اور کوتاہی میں سے ہر ایک دین میں برا ہے اور اللہ کا فرمان ” غیرالحق “ یعنی تمہارے دین میں جو حق کے مخالف بات ہو کیونکہ انہوں نے اپنے دین میں حق کی مخالفت کی۔ پھر اس پر ڈٹ کر غلو کیا (اور مت چلو خیالات پر ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 76–77

(76 ۔ 77) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نصاریٰ میں بعض لوگ مسیح بن مریم کو خدا کہتے تھے اور بعض خدا کا شریک ٹھیراتے تھے ان ہی لوگوں کے سمجھانے کے لئے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو مخاطب ٹھیرا کر فرماتا ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ سوا اللہ تعالیٰ کے جن کو تم اپنا معبود ٹھیراتے ہو نہ ان کو تمہارے برے بھلے کا کچھ اختیار ہے نہ تمہارے حاضر و غائب سب کی التجا سن لینے کی ان میں کچھ قدرت ہے نہ ہر ایک کی دلی التجا کا انہیں کچھ حال معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے کہ وہ ہر ایک کی التجا سنتا ہے ہر ایک کے دلی مقصد کو خوب جانتا ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ بنی اسرائیل بڑی ذلت و خواری سے فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 76 (قل) یعنی اے رسول ﷺ ان سے کہہ دیجیے ! (اتعبدون من دون اللہ) کیا تم اللہ کے سوا مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو محتاج اور فقیر ہیں ؟ (مالا یملک لکم ضراً ولا نفعاً ) ” جو تمہارے لئے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے “ اور تم اس ہستی کو چھوڑ دیتے ہو جس اکیلی کے قبضہ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور صرف وہی ہستی ہے جو عطا کرتی اور محروم کرتی ہے۔ (واللہ ھو السمیع) ” اور اللہ، وہی سننے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اختلافات زبان اور تنوع حاجات کے باوجود سب آوازیں سنتا ہے (العلیم) ” جاننے والا ہے۔ “ وہ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور ماضی اور مستقبل کے امور کو جانتا ہے۔ پس صاحب کمال ہستی جو ان اوصاف کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 75–77

قول باری ہے ما السیح ابن مریم الا رسول فد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یا کلان الطعام مسیح ابن مریم اسکے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ آیت میں عیسائیوں کے عقیدہ ٔالوہیت مسیح کی تردید کی واضح ترین دلالت موجود ہے۔ اس لیے کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہو تو اسے تمام دوسرے انسانوں کی طرح ایک صانع اور خالق کی ضرورت ہو ، کیونکہ جس ذات کے اندر حدوث کی علامت موجود ہو وہ قدیم نہیں ہوسکتی اور جو شخص خود دوسرے کا محتاج ہو وہ اس طرح قادر نہیں ہوسکتا کہ کوئی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہ رہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–76

190 حضرت عیسیٰ صرف اللہ کے رسول تھے اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ عیسیٰ نہیں تھے مگر ایک رسول۔ یعنی خدائی کی ان میں نہ کوئی صفت تھی نہ شائبہ۔ یعنی یہ حصر اضافی ہے۔ اس لئے اس سے آنجناب کی باقی صفات کی نفی لازم نہیں آتی۔ سو قرآن حکیم کے اسی ایک مختصر سے ارشاد سے کہ مسیح بن مریم صرف ایک رسول تھے آنجناب کے بارے میں یہود و نصاریٰ کے دونوں گروہوں کے ان تمام کفریہ عقائد و نظریات کی جڑ نکل جاتی ہے جو ان لوگوں نے ازخود گھڑ رکھے تھے۔ اور جو افراط وتفریط کی انتہاؤں پر مبنی تھے۔ کیونکہ اس ارشاد عالی سے یہ امر واضح ہوگیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ کے بارے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–77

سیدنا مسیح اور مریم کی حیثیت تشریح : ان آیات میں عیسائیوں کے عقائد کو خوب واضح کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان نصارٰی کو سمجھائو کہ تم اگر تھوڑی سی عقل بھی رکھتے ہو تو تم بڑی آسانی سے اپنے تمام عقائد کو چھوڑ کر ایک ٹھیک اور سیدھا عقیدہ، یعنی عقیدہ توحید کو اپنا سکتے ہو اور پھر تاکید ًا ان کو سمجھایا کہ تمہارے رسول نے تو تمہیں توحید کی ہی تعلیم دی تھی تم نے خواہ مخواہ گمراہ قوموں کے کہنے پر سیدھے راستے کو چھوڑ دیا ہے۔ یہاں اشارہ ان گمراہ قوموں کی طرف ہے جنہوں نے عیسائیوں پر بھی اثر ڈالا۔ ان میں قدیم مصری شرک جو یونانیوں میں پوری طرح رچ بس چکا تھا۔ بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–77

رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔ اسرار و معارف : یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 76–77

ف 12 یہود و نصاری کی الگ الگ تردید کے بعد اب دونوں کو مظاطب فرمایا ہے (کبیر) نصاری نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے معاملہ میں غلو کیا ہے اور ایک بشر جسے اللہ تعالیٰ نے نبوت بخشی تھی اور اسے اپنی قدرت کا ملعہ کی نشانی دے دی اور ان کی پسلیوں کو ریزہ ریزہ کرڈالا (کبیر، ابن کثیر) یہ حقیقت ہے کہ دین جو بھی خرابی آئی ہے وہ اسی غلو (یعنی راہ اعتدال کو چھوڑنے) کی وجہ سے آتی ہے اسی لیے آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو باربار نصیحت فرمائی کہ میرے معاملہ میں حد سے نہ بڑھنا اور مجھے بشریت کے مقام سے اٹھاکر خدائی کے مرتبہ تک نہ پہنچا دینا ( ماخوذ از وحیدی) 1 پہلے فرمایا کہ گمراہ ہوئے پھر فرمایا کہ سیدھی راہ سے بہک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 75–76

(5:75) انی یؤفکون ۔ انی جہاں۔ کیونکر ۔ جب ۔ اسم ظرف زمان و مکان۔ ظرف زمان ہو تو بمعنی متی (جب۔ جس وقت) ظرف مکان ہو تو بمعنی این۔ (جہاں ۔ کہاں) اور استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف۔ (جیسے۔ کیونکر۔ یؤفکون مضارع مجہول جمع مذکر غائب افک سے۔ (باب ضرب) پھیرے جاتے ہیں۔ بھٹک رہے ہیں۔ الٹے پھر رہے ہیں۔ افک۔ جھوٹ۔ بہتان۔ کسی شے کا اس کی اصلی جانب سے منہ پھیرنے کا نام افک ہے۔ پس جو بات اپنی اصلی صورت سے پھر گئی اس کو افک کہیں گے۔ جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ تم موجود ہے اس لئے ان کو افک کہا گیا ہے۔ بعض دفعہ فعل مجہول اس لئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ظاہر کیا جاسکے کہ فاعل نے فعل کو اس تیزی سے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 76–77

آیت نمبر 76 تا 77 لغات القرآن : السمیع (اللہ کی صفت۔ بہت سننے والا) ۔ لاتغلوا (حد سے نہ نکلو۔ غلو نہ کرو) ۔ ضلوا (وہ بھٹک گئے) ۔ اضلوا کثیرا (بہت سوں کو بھٹکا دیا) ۔ تشریح : ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ذرا ان نادانوں سے پوچھئے کیا تم اسے معبود مان رہے ہو جو اپنی ذات تک پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ وہ بھلا تمہیں کیا نقصان اور کیا نفع پہنچا سکتا ہے۔ اے اہل کتاب ! تم میں جو بنی اسرائیل ہیں انہوں نے پیغمبروں کو اتنا گھٹایا کہ سب کو ناحق تکلیفیں دیں اور چند کو جان سے مار ڈالا۔ اور جو نصاریٰ ہیں انہوں نے اپنے پیغمبر کو اتنا بڑھایا کہ لے جا کر الوہیت میں شریک کردیا۔ گھٹانا اور بڑھانا دونوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 76–77

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ) کو مخاطب ٹھراکر فرماتا ہے کہ اے رسول اللہ کے ! آپ ان لوگوں سے کہ سیجئے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے جن کو تم اپنا معبود ٹھراتے ہو، نہ ان کو تمہارے برے بھلے کا کچھ اختیار ہے اور نہ تمہاری التجا سن لینے کی قدرت ہے۔ نہ دل کا حال ان کو کچھ معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی ذات ہے کہ وہ ہر ایک کی التجا سنتا ہے۔ ہر ایک کے دلی مقصد کو خوب جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ مبالغہ کی سب باتیں ان کے بڑوں کی تراشی ہوئی ہیں جو خود بھی بےراہ ہوئے، اور لوگوں کو بھی بےراہ کیا۔ حال کے لوگ بھی اگر ان بےراہ بڑوں کی پیروی میں عمر بھر لگے رہیں گے اور عقبیٰ میں اپنی بہبودی کی توقع اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–77

[46] یعنی اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ جس کو زندہ رہنے کے لئے غذا کی احتیاج ہو وہ اللہ کیسے ہوسکتا ہے۔ اللہ تو سب چیزوں سے بےنیاز ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ سمع اور علم کی تمام قدرتیں خدا کو حاصل ہیں وہی ہے جو مضطر اور بےقرار انسانوں کی سنتا ہے اور حاجت روائی کرتا ہے وہی ہے جو ضرر ونفع کا مالک ہے اور جس کے اختیارات وسیع ہیں پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایسے قادر وعلیم خدا کو چھوڑ کر ان کی عبادت میں مصروف ہو جو تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان کے اختیار میں ہے کہ تمہارا کچھ بگاڑ سکیں ۔ حل لغات : قد خلت : خلو کے معنی مطلقا ہو گزرنے کے ہیں موت کے نہیں ۔ لا تغلوا : مادہ غلوا ، زیادتی ۔ افراط ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 74–76

ف 1 بلاشبہ وہ لوگ کفر کے مرتکب ہوئے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ تو یہی مسیح مریم کے بیٹے ہیں اور مسیح ابن مریم عین خدا ہے حالانکہ مسیح (علیہ السلام) تو خود بنی اسرائیل سے کہہ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں کسی دوسرے کو شریک کرے گا تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہوگا اور ایسے مشرکوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہوچکے جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں کا تیسرا ہے اور تین معبود میں سے ایک وہ بھی ہے حالانکہ بجز ایک معبود برحق…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–77

ف 4۔ یا تو یہ نصاری مذکورین عیسیٰ کی پرستش بھی کرتے ہوں گے یا یہ کہ عبادت میں سب سے بڑا درجہ اعتقاد الوہیت کا ہے جب وہ معتقد الوہیت عیسویہ ہوئے تو یقینا ان کی عبادت کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے سوا عبادت و پرستش کے قابل اور کون ہے ؟ : 197: ” اے پیغمبر اسلام ! تم کہو کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی بندگی کرتے ہو جن کے اختیار میں نہ تمہارا نفع ہے اور نہ نقصان ، اللہ تو سننے والا علم رکھنے والا ہے ۔ غور کرو کہ یہ سارا خطاب کس سے ہے ؟ صاف اور سیدھا جواب تویہی ہے کہ مسیحیوں کو ہے۔ ہاں ! بلاشبہ مسیحیوں ہی کو ہے۔ پھر تم ہی بتاؤ کہ ان مسیحیوں پر اللہ نے مشرک ہونے کی مہر لگائی ہے یا نہیں ؟ کیا میحہ اپنے اس شرک سے باز آئے ؟ بالکل نہیں بلکہ مسیحیوں کی مشہور ومعروف اور مستند کتاب انسائیکلوپیڈیا آف ریلی جینس اینڈ ایتھکس میں فخریہ انداز میں یہ درج ہے کہ کلب نے اپنی طویل تاریخ میں ”…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–76

Commentary 1. The words: إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ in verse 72, translated here literally as ` Allah is the third of the three,' refers to Sayyidna Masih (Jesus Christ), Ruhul-Quds (The Holy Spirit) and Allah, or to Masih, Maryam (Mary) and Allah - with all three taken as God (Refuge with Allah). Thus, Allah becomes a one-third partner with them, then all three of them become one, and that one is three. This unity in trinity, with three persons in one godhead, is the common belief of Christians. They explain this belief which is supported by neither reason nor revelation with a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

100. In these few words the Christian doctrine of the divinity of Christ is repudiated. The nature of the Messiah is clear from the indications given here; he was merely a human being. He was one born from the womb of a woman, who had a known genealogy, who possessed a physical body, who was subject to all the limitations of a human being and who had all the attributes characteristic of human beings. He slept, ate, felt the discomfort of heat and cold and was so human that he was even put to the test by Satan. How could any reasonable person believe that such a being was either God or a…

Read the full tafseer →