Explained with ayahs 72–75
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے
نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
سورة الْمَآىِٕدَة 100
ان چند لفظوں میں عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی ایسی صاف تردید کی گئی ہے کہ اس سے زیادہ صفائی ممکن نہیں ہے۔ مسیح کے بارے میں اگر کوئی یہ معلوم کرنا چاہے کہ فی الحقیقت وہ کیا تھا تو ان علامات سے بالکل غیر مشتبہ طور پر معلوم کرسکتا ہے کہ وہ محض ایک انسان تھا۔ ظاہر ہے کہ جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا، جس کا شجرہ نسب تک موجود ہے، جو انسانی جسم رکھتا تھا، جو ان تمام حدود سے محدود اور ان تمام قیود سے مقید اور ان تمام صفات سے متصف تھا جو انسان کے لیے مخصوص ہیں، جو سوتا تھا، کھاتا تھا، گرمی اور سردی محسوس کرتا تھا، حتٰی کہ جسے شیطان کے ذریعہ سے آزمائش میں بھی ڈالا گیا، اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
معارف و مسائل
(قولہ تعالیٰ) اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ، یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذ باللہ) ان میں ایک حصہ دار اللہ ہوا، پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں، عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہے، اور اس خلاف عقل و ہدایت عقیدہ کو گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں، اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں (قوائد عثمانی رحمة اللہ علیہ)
مسیح ؑ کی الوہیت کی تردید
(قولہ تعالیٰ) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، یعنی جس طرح اور انبیاء دنیا میں آئے اور کچھ دن رہ کر چل بسے، ان کو دوام اور بقاء حاصل نہ تھا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
تفسیر آیات 73 تا 76:۔ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭوَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ ۭكَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ ۭاُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ۔ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ…
Read the full tafseer →75۔ 1 صِدِّ یْقَۃُ کے معنی مومنہ اور ولیہ کے ہیں یعنی وہ بھی حضرت مسیح ؑ پر ایمان لانے والوں اور ان کی تصدیق کرنے والوں میں سے تھیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ (پیغمبر) نہیں تھیں۔ جیسا کہ بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے اور انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) سمیت، حضرت سارہ (ام اسحاق علیہ السلام) اور موسیٰ ؑ کی والدہ کو بھی پیغمبر قرار دیا ہے، قرآن نے صراحت کی ہے کہ ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ مرد تھے (سورة یوسف۔ 19)۔
75۔ 2 یہ حضرت مسیح ؑ اور حضرت مریم (علیہا السلام) دونوں کی الوہیت کی نفی اور بشریت کی دلیل ہے۔ کیونکہ کھانا پینا، یہ انسانی حوائج و ضروریات میں سے ہے۔ جو الٰہ ہو، وہ تو ان چیزوں سے ماوراء بلکہ…
Read the full tafseer →50: صدیقہ صدیق کا مونث کا صیغہ ہے، اس کے لفظی معنی ہیں بہت سچا، یا راست باز، اصطلاح میں صدیق عام طور سے ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی پیغمبر کا افضل ترین متبع ہوتا ہے اور نبوت کے بعد یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے۔ حضرت مسیح ؑ اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم (علیہا السلام) دونوں کے بارے میں یہاں قرآن کریم نے یہ حقیقت بتلائی ہے کہ وہ کھانا کھاتے تھے۔ کیونکہ تنہا یہ حقیقت اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ خدا نہیں تھے۔ ایک معمولی سمجھ کا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا تو وہی ذات ہوسکتی ہے جو ہر قسم کی بشری حاجتوں سے بےنیاز ہو۔ اگر خدا بھی کھانا کھانے کا محتاج ہو تو وہ خدا کیا ہوا۔
51: قرآن کریم نے یہاں…
Read the full tafseer →(آیت) ” مَّا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَأُمُّہُ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَأْکُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ کَیْْفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الآیَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّی یُؤْفَکُونَ (75)
مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا ‘ اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ‘ اس کی ماں راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے ساتھ حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں ‘ پھر دیکھو یہ کدھرالٹے پھرے جاتے ہیں ۔
حضرت مسیح (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ صدیقہ کی زندگی میں کھانا ایک واقعی امر تھا ۔ زندوں کی خصوصیات میں سے ایک اہم…
Read the full tafseer →4 یعنی اسی مقدس و معصوم جماعت کے یہ بھی ایک فرد ہیں، نہیں خدا بنا لینا تمہاری سفاہت ہے۔
5 جمہور امت کی تحقیق یہ ہی ہے کہ خواتین میں نبوت نہیں آئی یہ منصب رجال ہی کے لئے مخصوص رہا ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 12 ۔ یوسف :109) حضرت مریم بتول بھی ایک ولی بی بی تھیں۔ نبی نہیں۔
6 غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہے وہ تقریباً دنیا کی ہر چیز کا محتاج ہے۔ زمین، ہوا، پانی، سورج، حیوانات حتٰی کہ میلے اور کھاد سے بھی اسے استغنا نہیں ہوسکتا۔ غلہ کے پیٹ میں پہنچنے اور ہضم ہونے تک خیال کرو بالواسطہ یا بلاواسطہ کتنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
آیت 75 مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ الاَّ رَسُوْلٌ ج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط
یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو سورة آل عمران آیت 144 میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آئے ہیں : وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط محمد ﷺ اس کے سوا کیا ہیں کہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور آپ ﷺ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ تو اسی طرح فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت اللہ کے ایک رسول کی ہے ‘ جس طرح ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔
وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ ط
قبل ازیں ہم سورة النساء آیت 69 میں پڑھ چکے ہیں کہ نبیوں کے بعد سب سے اونچا درجہ صدیقین کا ہے۔ خواتین کو اگرچہ…
Read the full tafseer →121 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کی تردید میں تین واضح دلائل پیش فرمائے ہیں جو درج ذیل ہیں :
(1) عیسیٰ کی الوہیت کی تردید میں دلائل :۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے، اللہ نہیں تھے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک ہی ذات اللہ بھی ہو اور اللہ کا رسول بھی۔ علاوہ ازیں یہ کہ ان سے پہلے کئی رسول انہیں جیسے گزر چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان رسولوں کے بعد آئے بالفاظ دیگر وہ حادث تھے قدیم نہ تھے جبکہ اللہ کی ذات قدیم ازلی، ابدی اور حوادث زمانہ یا اس کے تغیرات سے ماوراء ہے لہذا جو چیز یا جو ذات حادث ہو وہ الٰہ یا اللہ نہیں ہوسکتی۔
(2) الوہیت مسیح اور والدہ مسیح کی تردید میں…
Read the full tafseer →252 ۔ (نہ کہ خدایا فرزند خدا۔ یا معاذ اللہ دشمن خدا) یہ عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کا صحیح مرتبہ بیان کردیا۔ اس میں رد آگیا ایک طرف مسیحی افراط کا جو آپ کو مظہر خدایا اوتار سمجھتے تھے، اور دوسری طرف یہودی تفریط کا، جو معاذاللہ آپ کو ایک شعبدہ باز ساحر قرار دیتے تھے۔ سورة نساء کے حواشی نمبر 846، نمبر 85 1 وغیرہ بھی ایک بار پھر ملاحظہ کرلیے جائیں۔ (آیت) ” ابن مریم “۔ ابن مریم (علیہ السلام) لاکر مسیح (علیہ السلام) کو یہ یاد دلادیا کہ مسیح (علیہ السلام) تو ایک عورت، فانی عورت کے بطن سے تھے، بشر کے سوا اور ہو کیا سکتے تھے۔
253 ۔ (اور انہی کے سے ایک رسول یہ بھی ہیں، نہ وہ اوتار یا دیوتا ہیں)
254 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…
Read the full tafseer →ما المسیح ابن مریم الا رسول مسیح بن مریم تو اور کچھ نہ تھے صرف رسول تھے یعنی مسیح کے اندر صرف رسالت بھی صفت ربوبیت نہ تھی (آیت میں حصر حقیقی نہیں کیونکہ مسیح کے اندر سوائے وصف رسالت کے اور اوصاف بھی تھے) ایک وصف خصوصی یہ ہی تھا کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے بلکہ حصر اضافی ہے) یعنی نصاریٰ جو الوہیت مسیح کے قائل ہیں عیسیٰ میں یہ وصف نہ تھا صرف رسالت تھی (رسالت سے اونچا کوئی مرتبہ نہ تھا) ۔
قد خلت من قبلہ الرسل مسیح سے پہلے (بھی) پیغمبر گزر چکے ہیں۔ یہ بھی گزر جائیں گے یعنی مسیح بھی پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں اور (ہر رسول ممکن حادث تھا جس کا عدم جائز تھا اس لئے یہ بھی) ممکن جائز العدم ہیں۔…
Read the full tafseer →(75) ان کی والدہ بھی ایک ولی بی بی ہیں، دونوں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، کھانا وغیرہ کھاتے ہیں، محمد ﷺ غور کیجیے کہ ہم کیسے واضح اور شاندار دلائل بیان کررہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت مریم دونوں خدا نہیں پھر دیکھیے کہ یہ نصاری جھوٹ میں کس طرف جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ۔۔ : مسیح ؑ ایک رسول کے سوا کچھ نہیں، یعنی تم جو کچھ کہتے ہو خدا یا خدا کا بیٹا، وہ ہرگز نہیں، وہ تو صرف اللہ کا رسول ہے۔ اسے قصرا ضافی کہتے ہیں۔ اس میں یہود کی تردید بھی ہوگئی جو معاذ اللہ مریم اور مسیح ؑ کے متعلق گستاخی کا ارتکاب کرتے رہتے تھے۔
ۭوَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ : یعنی بندگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں، جو نبوت کے بعد دوسرا درجہ ہے، یعنی نہایت سچی اور اللہ اور اس کے رسولوں کی بہت تصدیق کرنے والی تھیں۔ دیکھیے سورة تحریم (12) اور سورة نساء (69) وہ نبی نہیں تھیں، جیسا کہ ابن حزم وغیرہ کا خیال ہے، کیونکہ انبیاء رجال (مردوں) ہی سے ہوئے ہیں۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 75
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل یہ مبتدا خبر ہیں یعنی مسیح (علیہ السلام) اگرچہ ان کے ہاتھوں پر بہت سے معجزات ظاہر ہوئے ہیں یہ ان معجزات کو اسی طرح لائے ہیں جیسے دوسرے رسل لائے تھے اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رسول ہیں تو پھر ہر رسول کو الہ ہونا چاہیے۔ یہ ان کے قول کا رد ہے ان پر حجت قائم کرنا ہے پھر حجت میں مبالغہ فرمایا۔ ارشاد فرمایا : آیت : وامہ صدیقۃ یہ مبتدا خبر ہیں۔ آیت : کا نا یاکلن الطعام یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مولود اور مربوب ہیں جس کو عورتیں جنم دیں کھانا کھائے وہ مخلوق اور حادث ہے جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
(1) امام ابن منذر نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا تو بنی اسرائیل کے علماء میں سے سو آدمی جمع ہوئے۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں، دس آدمی نکال دو تو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں گروہ بندی کا۔ دس اور نکال دو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو تو انہوں نے دس اور نکال دیئے۔ اور انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو یہاں تک کہ دس باقی رہ گئے پھر انہوں نے کہا تم اب بھی زیادہ ہو پھر اور نکال دو (اب) چار باقی رہ گئے بعض نے کہ تم لوگ عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے…
Read the full tafseer →مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ [ مریم کے بیٹے مسیح نہیں ہیں ] اِلَّا [ مگر ] رَسُوْلٌ ۚ [ ایک رسول ] قَدْ خَلَتْ [ گزرچکے ہیں ] مِنْ قَبْلِهِ [ ان سے پہلے ] الرُّسُلُ ۭ [ بہت سے رسول ] وَاُمُّهٗ [ اور ان کی والدہ ] صِدِّيْقَةٌ ۭ [ سچی ہیں ] كَانَا يَاْكُلٰنِ [ وہ دونوں کھاتے تھے ] الطَّعَامَ ۭ [ کھانا ] اُنْظُرْ [ تو دیکھو ] كَيْفَ [ کیسے ] نُبَيِّنُ [ ہم واضح کرتے ہیں ] لَهُمُ [ ان کے لیے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] ثُمَّ انْظُرْ [ پھر دیکھو ] اَنّٰى [ کہاں سے ] يُؤْفَكُوْنَ [ یہ لوگ پھیرے جاتے ہیں ]
Read the full tafseer →حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عہدہ
اس کے بعد حضرت مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کا عہدہ بتایا کہ (مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّارَسُوْلٌ) کہ مسیح ابن مریم صرف رسول ہیں، رسول وہ ہوتا ہے جو پیغام لیکر آئے، اللہ کے رسول مخلوق کی طرف اللہ کا پیغام لے کر آتے تھے اور یہ ان کا بہت بڑا منصب اور عہدہ تھا جو ان کے لئے بہت بڑی فضیلت کا باعث ہے، اللہ تعالیٰ نے جو پیغام بھیجے وہ پیغام لے کر آئے اور مخلوق تک پہنچا دیئے۔
ظاہر ہے کہ ان میں ایک دوسرے کا عین نہیں ہوسکتا یعنی دونوں ایک ہی ذات نہیں ہوسکتے پیغام بھیجنے والا وحدہ لا شریک ہے جس کو اس نے پیغام دیکر بھیجا وہ پیغام بھیجنے والے کی خدائی میں کیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ابطال عقیدہ تثلیث۔
قال اللہ تعالی، لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ثالث۔۔۔ الی۔۔۔ العلیم۔
گذشتہ آیات میں نصاری کے اس فرقہ کا رد تھا جو یہ کہتا تھا کہ اللہ یہی مسیح کی صورت میں آیا ہے یہ فرقہ ملکانیہ تھا اور یعقوبیہ تھا جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے اب آئندہ آیات میں نصاری کے ان فرقوں کا رد ہے جو تثلیث کے قائل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ خدا تین حصہ ہوگیا اور ایک اللہ رہا اور ایک مسیح اور ایک روح القدس اور بعض نصاری بجائے روح القدس کے حضرت مریم کو تثلیث میں شامل کرتے ہیں۔ اور مسیح کے ساتھ ان کی والدہ مریم کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ پہلے قول کی طرح یہ تثلیث کا قول بھی صریح کفر ہے چناچہ فرماتے…
Read the full tafseer →134 یہاں چونکہ ان عیسائیوں کا رد مقصود ہے جو حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہما السلام) کو الٰہ (معبود) اور متصرف مانتے تھے اور ان کو حاجات و مشکلات میں غائبانہ پکارتے تھے۔ اس لیے ان دونوں کا خصوصیت سے ذکر فرمایا اور باقی رسولوں کا اجمالی ذکر کیا۔ مسیح (علیہ السلام) جس کو عیسائی خدا کا اوتار اور خدائی صفات کا حامل اور مختار و متصرف مانتے ہیں۔ وہ نہ خدا تھا نہ خدا کا اوتار وہ تو مریم کا بیٹا تھا جو کسی کا بیٹا ہو وہ حادث اور اپنے وجود میں محتاج ہوتا ہے۔ وہ الٰہ نہیں بن سکتا۔ نیز وہ اللہ کا رسول تھا جس کا کام ہی یہ تھا کہ وہ لوگوں کو توحید سکھائے اور شرک سے ان کو روکے۔ اسی طرح ان سے پہلے بھی بہت…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے اہل کتاب کے عقائد باطلہ کی تردید ہو رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ نقض عہد کی وج ہ سے یہ معلون ٹھہرے۔ انہوں نے اللہ کی کتابوں میں تحریف کی۔ ان کی اکثریت نافرمانوں کی تھی مگر ان میں بعض باصلاحیت لوگ بھی موجود تھے۔ وہ حق بات کو قبول کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نصاری کے مختلف فرقوں کے عقائد بطلہ کا رد فرمایا اور حضور خاتم النبین ﷺ اور آپ کے رفقاء کو یہ بات سمجھا دی کہ وہ اہل کتاب کی مخالفت سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ وہ لوگ پکے کافر ہوئے جنہوں نے کہا ” ان اللہ ھو المسیح ابن مریم یعنی…
Read the full tafseer →مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ 0ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ 0ۭ وَاُمُّہٗ صِدِّيْقَۃٌ 0ۭ كَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ 0ۭ اُنْظُرْ كَيْفَ نُـبَيِّنُ لَہُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 75
خلا
الخلاء : المکان الذي لا ساتر فيه من بناء ومساکن وغیرهما، والخلوّ يستعمل في الزمان والمکان، لکن لما تصوّر في الزمان المضيّ فسّر أهل اللغة : خلا الزمان، بقولهم : مضی الزمان وذهب، قال تعالی: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144]
( خ ل و ) الخلاء
۔ خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو اور الخلو کا لفظ زمان و مکان دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
ترکیب : ثالث ثلثہ ای احد ثلثۃ اور ایسے موقع میں بجز اضافت کے اور کوئی صورت جائز نہیں وما من الہ من زائد اور الٰہ موضع مبتداء میں ہے اور خبر محذوف ہے اے وما للخلق الہ الا اللہ۔ الٰہ واحد بدل ہے الٰہ سے لیمسن جواب ہے قسم محذوف کا اور یہ قائم مقام ہے جواب شرط کے جو ان لم ینتہوا ہے منہم موضع حال میں ہے الذین سے قد خلت موضع رفع میں صفت رسول کی کان یاکلان الخ اس کا اعراب میں کوئی محل نہیں۔
تفسیر : ابطال الوہیت مسیح : بلغ ما انزل کے بعد مجملاً اہل کتاب کو لستم علی شیء حتی تقیموا التوراۃ والانجیل کہہ کر پھر تفصیلاً ہر ایک عقیدہ فاسدہ پر کلام کرتا ہے۔ چونکہ عیسائی اپنے دین کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
مَاالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلاَّ رَسُوْلٌج قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط وَ اُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌط کَانَا یَاْکُلٰنِ الطَّعَامَط اُنْظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَھُمْ الاْٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ۔
(المائدہ : 75)
” مسیح ابن مریم تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں اور ان کی ماں ایک صداقت شعار بندی تھیں۔ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ! کس طرح ہم ان کے سامنے اپنی آیتیں کھول کر بیان کر رہے ہیں ‘ پھر دیکھو ! وہ کس طرح اوندھے ہوئے جا رہے ہیں “۔
حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اصل حیثیت
اس آیت کریمہ میں حضرت مسیح ابن مریم کی اصل حیثیت کو واضح کرنے کے لیے مختلف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو اللہ کا جزو قرار دیا جو صریح کفر کرنے کے مترادف ہے حالانکہ عیسائیوں اور دنیا کے مشرکوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانے کی کوئی دلیل نہیں۔ الٰہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کبریا ہے جو ایک ہی ہے عیسائیوں کو ان کے باطل عقیدہ پر انتباہ کرتے ہوئے متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر یہ توبہ کے بغیر مرگئے تو انہیں اذیت ناک عذاب دیا جائے گا اب عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کے الٰہ نہ ہونے کے طبعی اور فطری دلائل دیے گئے ہیں۔
1۔ عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم [ کے بیٹے ہیں جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت…
Read the full tafseer →آیت 75 : مَاالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلاَّ رَسُوْلٌ اس میں مسیح (علیہ السلام) سے الوہیت کی نفی ہے۔ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ان سے پہلے رسول گزرے۔ یہ رسول کی صفت ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ نہیں ہیں مگر ایک رسول ان رسولوں کی جنس سے جو اس سے پہلے ہو گزرے۔ اور باقی رہا ان کا اندھے اور ابرص کو درست کرنا اور مردوں کو زندہ کرنا۔ وہ خود ان کی اپنی جانب سے نہ تھا۔
مسیح رسول ہیں ان کے معجزات اللہ جل شانہ کی طرف سے ہیں :
کیونکہ وہ خود معبود نہ تھے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر اندھوں کو ڑھیوں کو درست کیا اور مردوں کو زندہ کیا۔ جیسا کہ لاٹھی کو زندہ کر کے موسیٰ کے ہاتھ پر دوڑتا ہوا سانپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
آیت نمبر 75, 74, 73, 72
تفسیر : (لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا) یہ یہود کا فرقہ ملکانیہ اور یعقوبیہ ہے (وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم ط انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وما وہ النار ط وما للظلمین من انصار اور مسیح (علیہ السلام) نے کہا ہے کہ اے بنی اسرائیل بندگی کرو اللہ کی رب ہے میرا اور تمہارا۔ بیشک جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا سو حرام کی اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی نہیں گنہگاروں کی مدد کرنے والا) ۔
(لقد کفرا الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
(72 ۔ 75) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود و نصاریٰ دونوں کو ملا کر یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب تک یہ لوگ تورات و انجیل پر پورے قائم نہ ہوں گے تو گویا یہ کسی دین پر بھی قائم نہیں اس کے بعد یہود نے تورات کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال رکھی تھیں ان کا ذکر فرمایا اب ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابند میں جو خرابیاں تھیں ان کا ذکر ہے۔ لیکن ان آیتوں کی تفسیر ذرا قصہ طلب ہے۔ اسلامی اور عیسائی تاریخ کی کتابوں میں یہ قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عیسائیوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یہود کو اس پر حسد ہوا اور اس حسد کے سبب سے یہود کا ایک بادشاہ جس کا نام بولس تھا اس وقت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 74-75
اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے (ان اللہ ھو المسیح ابن مریم) ” بیشک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے “ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے۔۔۔ دراں حالیکہ عیسیٰ نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : (یبنی اسرآئیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم) ” اے نبی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے “ مسیح نے اپنے لئے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لئے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ (انہ من یشرک باللہ) ” جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
قول باری ہے ما السیح ابن مریم الا رسول فد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یا کلان الطعام مسیح ابن مریم اسکے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ آیت میں عیسائیوں کے عقیدہ ٔالوہیت مسیح کی تردید کی واضح ترین دلالت موجود ہے۔ اس لیے کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہو تو اسے تمام دوسرے انسانوں کی طرح ایک صانع اور خالق کی ضرورت ہو ، کیونکہ جس ذات کے اندر حدوث کی علامت موجود ہو وہ قدیم نہیں ہوسکتی اور جو شخص خود دوسرے کا محتاج ہو وہ اس طرح قادر نہیں ہوسکتا کہ کوئی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہ رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
190 حضرت عیسیٰ صرف اللہ کے رسول تھے اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ عیسیٰ نہیں تھے مگر ایک رسول۔ یعنی خدائی کی ان میں نہ کوئی صفت تھی نہ شائبہ۔ یعنی یہ حصر اضافی ہے۔ اس لئے اس سے آنجناب کی باقی صفات کی نفی لازم نہیں آتی۔ سو قرآن حکیم کے اسی ایک مختصر سے ارشاد سے کہ مسیح بن مریم صرف ایک رسول تھے آنجناب کے بارے میں یہود و نصاریٰ کے دونوں گروہوں کے ان تمام کفریہ عقائد و نظریات کی جڑ نکل جاتی ہے جو ان لوگوں نے ازخود گھڑ رکھے تھے۔ اور جو افراط وتفریط کی انتہاؤں پر مبنی تھے۔ کیونکہ اس ارشاد عالی سے یہ امر واضح ہوگیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
سیدنا مسیح اور مریم کی حیثیت
تشریح : ان آیات میں عیسائیوں کے عقائد کو خوب واضح کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ان نصارٰی کو سمجھائو کہ تم اگر تھوڑی سی عقل بھی رکھتے ہو تو تم بڑی آسانی سے اپنے تمام عقائد کو چھوڑ کر ایک ٹھیک اور سیدھا عقیدہ، یعنی عقیدہ توحید کو اپنا سکتے ہو اور پھر تاکید ًا ان کو سمجھایا کہ تمہارے رسول نے تو تمہیں توحید کی ہی تعلیم دی تھی تم نے خواہ مخواہ گمراہ قوموں کے کہنے پر سیدھے راستے کو چھوڑ دیا ہے۔ یہاں اشارہ ان گمراہ قوموں کی طرف ہے جنہوں نے عیسائیوں پر بھی اثر ڈالا۔ ان میں قدیم مصری شرک جو یونانیوں میں پوری طرح رچ بس چکا تھا۔ بڑے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔
اسرار و معارف :
یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…
Read the full tafseer →ف 7 اور ان کی ذات سے بھی ایسے ایسے معجزات کا ظہور ہوا جو انسانی طاقت سے باہر تھے تو جس طرح یہ تمام انبیا اپنے ان معجزات کی بنا پر خدا نہیں ہوگئے مسیح ( علیہ السلام) بھی محض بن باپ کے پیدا ہونے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ اور بیماروں کو شفا یاب کرنے کی وجہ سے خدا نہیں بن سکتے (کبیر، قرطبی)8 یعنی عبودیت کے اعلی مقام پر فائز تھیں جو نبوت کے بعد دوسرا درجہ ہے (دیکھئے التحریم آیت 12 ۔ النسا :69) بنیہ نہیں تھیں ج جیسا ابن حزم وغیرہ کا خیال ہے کیونکہ جمہور علما کے نزدیک انبیا رجال سے ہوئے ہیں (دیکھئے سورت یوسف :109 ۔ النحل 43، الا نبیا :7) ابو الحسن اشعری نے اس پر اجماع نقل کیا ہے (ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(5:75) انی یؤفکون ۔ انی جہاں۔ کیونکر ۔ جب ۔ اسم ظرف زمان و مکان۔ ظرف زمان ہو تو بمعنی متی (جب۔ جس وقت) ظرف مکان ہو تو بمعنی این۔ (جہاں ۔ کہاں)
اور استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف۔ (جیسے۔ کیونکر۔ یؤفکون مضارع مجہول جمع مذکر غائب افک سے۔ (باب ضرب) پھیرے جاتے ہیں۔ بھٹک رہے ہیں۔ الٹے پھر رہے ہیں۔ افک۔ جھوٹ۔ بہتان۔ کسی شے کا اس کی اصلی جانب سے منہ پھیرنے کا نام افک ہے۔ پس جو بات اپنی اصلی صورت سے پھر گئی اس کو افک کہیں گے۔ جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ تم موجود ہے اس لئے ان کو افک کہا گیا ہے۔
بعض دفعہ فعل مجہول اس لئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ظاہر کیا جاسکے کہ فاعل نے فعل کو اس تیزی سے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
آیت نمبر 72 تا 75
لغات القرآن : اعبدوا (تم عبادت و بندگی کرو) ۔ من یشرک (جو بھی شرک کرے گا) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ ماوی (ٹھکانہ) ۔ ثالث ثلاثۃ (تین میں کا تیسرا) ۔ لم ینتھوا (وہ نہ رکے۔ باز نہ آئے) ۔ لیمسن (البتہ ضرور پہنچے گا) ۔ لایتوبون (وہ توبہ نہ کریں گے) ۔ یستغفرون (وہ گناہ بخشواتے ہیں) ۔ قد خلت (یقیناً گزرگئے) ۔ امہ (اس کی ماں) ۔ صدیقۃ (سچی۔ پاکباز عورت) ۔ کانا یا کلان (وہ دونوں کھاتے تھے) ۔ الطعام (کھانا) ۔ انظروا (دیکھو) ۔ نبی ن (ہم بیان کرتے ہیں۔ کھولتے ہیں) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یؤفکون (وہ الٹے چلے جا رہے ہیں) ۔
تشریح : ” اللہ ھو المیسح ابن مریم “ اس کے دو معنی ہیں۔ (1) اللہ دنیا میں مسیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت نصاریٰ کی غلط فہمی
ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال دی تھیں ان کا ذکر ہے۔ یعنی وہ تین خدا مانتے ہیں : ایک تو اللہ دوسرے مریم، تیسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ ی تینوں ملاکر روح القدس نعوذ باللہ من ذالک، اللہ ہیں اور یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہما السلام) کی تصویریں اپنے عبادت خانوں میں رکھتے اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے نام کی ایک نماز بھی ٹھرا رکھی ہے جس کو یہ لوگ پڑھا کرتے ہیں۔ آخر کے دونوں فرقے تثلیثی فرقے کہلاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تین خدا کے ماننے والے یہ فرقے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
[46] یعنی اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ جس کو زندہ رہنے کے لئے غذا کی احتیاج ہو وہ اللہ کیسے ہوسکتا ہے۔ اللہ تو سب چیزوں سے بےنیاز ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں الوہیت مسیح (علیہ السلام) کے عقیدے پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ وہ مسیح (علیہ السلام) جو لوازم بشری کے ساتھ متصف ہے کیونکر فکر خدا ہو سکتا ہے اور وہ مریم (علیہا السلام) جو حوائج انسانی کی حاصل ہے ، کس طرح لاہوت کا ایک اقنوم قرار دی جاسکتی ہے ۔
یعنی جسے بھوک بےقرار کر دے ، جو پیاس کی شدت کو برداشت نہ کرسکے اور قدرت کے تمام قواعد کے سامنے بےبس وبے کس ہو کس طور سے خدائی کا مستحق ٹھہر سکتا ہے ؟
مسیح (علیہ السلام) بھی گزشتہ رسولوں کی طرح ایک رسول ہے جو انسان ہے اور تمام بشری اوصاف و لواحق سے وابستہ پھر کیونکر اور کس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ خدائے مجسم ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
ف 1 بلاشبہ وہ لوگ کفر کے مرتکب ہوئے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ تو یہی مسیح مریم کے بیٹے ہیں اور مسیح ابن مریم عین خدا ہے حالانکہ مسیح (علیہ السلام) تو خود بنی اسرائیل سے کہہ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں کسی دوسرے کو شریک کرے گا تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہوگا اور ایسے مشرکوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہوچکے جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں کا تیسرا ہے اور تین معبود میں سے ایک وہ بھی ہے حالانکہ بجز ایک معبود برحق…
Read the full tafseer →ف 3۔ یہ دلیل باعتبار استدلال بالمادیت کے روح القدس کے ابطال الوہیت کے لیے بھی کافی ہے اس لیے بالا استقلال اس کا ذکر ضروری نہ ہوا۔
Read the full tafseer →مسیح (علیہ السلام) کیا تھے ؟ ایک انسان ہی تو تھے جو رسول بنا کر بھیجے گئے تھے :
195: اے قوم نصاریٰ مسیح (علیہ السلام) کو تم نے خدا بنا دیا حالانکہ وہ اللہ کے رسولوں میں سے ایک رسول تھے۔ ان میں اور دوسرے رسولوں میں کوئی امتیازی فرق نہیں تھا۔ ان سے پہلے بھی بیشمار رسول گزر چکے ہیں جس طرح وہ اللہ کے رسول تھے اسی طرح ” ابن مریم “ بھی اللہ کے رسول تھے ۔ انسانیت ، پیدائش ، مزاج ، کردار ، دعوت عبدیت اور خشیت ہرچیز میں دوسرے رسولوں کے مشابہ تھے پھر اس سارے گروہ میں سے ایک فرد کو خدائی میں شریک کردینے کے کیا معنی ؟ ان کی والدہ محترمہ جنہوں نے ان کو جنا وہ اللہ کی فرمانبرداربندوں میں سے ایک بندہ تھیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
Commentary
1. The words: إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ in verse 72, translated here literally as ` Allah is the third of the three,' refers to Sayyidna Masih (Jesus Christ), Ruhul-Quds (The Holy Spirit) and Allah, or to Masih, Maryam (Mary) and Allah - with all three taken as God (Refuge with Allah). Thus, Allah becomes a one-third partner with them, then all three of them become one, and that one is three. This unity in trinity, with three persons in one godhead, is the common belief of Christians. They explain this belief which is supported by neither reason nor revelation with a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
100. In these few words the Christian doctrine of the divinity of Christ is repudiated. The nature of the Messiah is clear from the indications given here; he was merely a human being. He was one born from the womb of a woman, who had a known genealogy, who possessed a physical body, who was subject to all the limitations of a human being and who had all the attributes characteristic of human beings. He slept, ate, felt the discomfort of heat and cold and was so human that he was even put to the test by Satan. How could any reasonable person believe that such a being was either God or a…
Read the full tafseer →