Explained with ayahs 72–75
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے
نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
سورة الْمَآىِٕدَة 99
دیکھئے سورة بقرہ آیت 62 و 80
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
معارف و مسائل
(قولہ تعالیٰ) اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ، یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذ باللہ) ان میں ایک حصہ دار اللہ ہوا، پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں، عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہے، اور اس خلاف عقل و ہدایت عقیدہ کو گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں، اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں (قوائد عثمانی رحمة اللہ علیہ)
مسیح ؑ کی الوہیت کی تردید
(قولہ تعالیٰ) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، یعنی جس طرح اور انبیاء دنیا میں آئے اور کچھ دن رہ کر چل بسے، ان کو دوام اور بقاء حاصل نہ تھا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
تفسیر آیات 73 تا 76:۔ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭوَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ ۭكَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ ۭاُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ۔ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
73۔ 1 یہ عیسائیوں کے دوسرے فرقے کا ذکر ہے جو تین خداؤں کا قائل ہے، جن کو وہ اقانیم ثلاثہ کہتے ہیں۔ ان کی تعبیر و تشریح میں اگرچہ خود ان کے مابین اختلاف ہے۔ تاہم صحیح بات یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ، انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو بھی اللہ قرار دے لیا، جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن حضرت عیسیٰ ؑ سے پوچھے گا۔ " ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ " (کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا ؟) (المائدۃ 112) اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ اور مریم (علیہما السلام) ان دونوں کو عیسائیوں نے اللہ بنایا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
49: یہ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کی طرف اشارہ ہے، اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ خدا تین اقانیم (presons) کا مجموعہ ہے، ایک باپ (یعنی اللہ) ایک بیٹا (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) اور ایک روح القدس اور بعض فرقے اس بات کے بھی قائل تھے کہ تیسری حضرت مریم ؓ ہیں وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تینوں مل کر ایک ہیں، یہ تینوں مل کر ایک کس طرح ہیں، اس معمے کا کوئی معقول جواب کسی کے پاس نہیں ہے، اس لئے ان کے متکلمین (theologians) نے اس عقیدے کی مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں۔
بعض نے تو یہ کہا کہ حضرت مسیح ؑ صرف خدا تھے انسان نہیں تھے، آیت نمبر 72 میں ان کے عقیدے کو کفر قرار دیا گیا ہے، اور بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” أَفَلاَ یَتُوبُونَ إِلَی اللّہِ وَیَسْتَغْفِرُونَہُ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(74)
” پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہا گیا کہ توبہ کا دروازہ بندنہ ہو اور ہر کسی کو وقت ختم ہونے سے پہلے واپسی کا موقع ہو ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کا حقیقی مقام کیا ہے ؟ تو مضبوط منطقی انداز میں بتایا جاتا ہے کہ مسیح کون ہیں اس امید سے کہ شاید انکی فطرت سلیمہ مقام مسیح کے ادارک میں انکی مدد کرے ۔ اور مسیح کی حقیقت بتانے کے بعد اللہ تعالیٰ تعجب خیز انداز میں کہتے ہیں کہ اس کے باوجود یہ لوگ…
Read the full tafseer →3 یہ اسی غفور رحیم کی شان ہے کہ ایسے ایسے باغی اور گستاخ مجرم بھی جب شرمندہ ہو کر اور اصلاح کا عزم کر کے حاضر ہوں تو ایک منٹ میں عمر بھر کے جرائم معاف فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
آیت 72 لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَا لُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَم ط
یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے اسی سورة کی آیت 17 میں آچکی ہے ‘ یعنی اللہ ہی نے مسیح علیہ السلام کی شخصیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔
اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰٹہ النَّارُط وَمَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ
اب عیسائیوں کے شرک کی ایک دوسری شکل کا ذکر ہو رہا ہے۔ ان کا ایک عقیدہ تو
God incarnate کا تھا۔ یہ ان میں سے ایک فرقے Jacobites کا عقیدہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ ہی نے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں انسانی روپ دھار لیا ہے۔ اوپر اسی عقیدے کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
120 عقیدہ تثلیث اور اس کا رد :۔ متی، مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے الٰہ ہونے کی گنجائش نہیں خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیشہ اپنے آپ کو ایک انسان ہی کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ تثلیث اور الوہیت مسیح کا عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا۔ اس عقیدہ کی بنیاد تو یونانی فلسفہ کے افکار و نظریات پر اٹھائی گئی تھی جیسا کہ آج کل بعض مسلمان بھی اسی فلسفہ کے مسئلہ عقول عشرہ پر محمد ﷺ کو اللہ کے نور کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے نظریات عموماً پیروں فقیروں میں فروغ پاتے ہیں۔ انبیاء کے متعلق ایسے نظریات عموماً ان کی عقیدت و محبت میں افراط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو انسان کو…
Read the full tafseer →251 ۔ ان لوگوں کی حماقت دکھائی ہے کہ ابھی مہلت باقی ہے، اور پھر ایسے غفور ورحیم خدا کے سامنے توبہ و استغفار ہو (آیت) ” رحیم “۔ اس کے حق میں جو طالب رحمت ہو۔ مسیحیوں کے رد کے موقع پر ان صفات کے لانے میں شاید یہ بھی ایک مصلحت ومناسبت ہو کہ اللہ تعالیٰ تو خود غفور ورحیم ہے۔ اس کے ان صفات کو بروئے کار لانے کے لیے اس کی کوئی ضرورت تھوڑے ہی ہے کہ کوئی ’‘’ ابن اللہ “ اپنے کو سب کی طرف سے کفارہ کے لیے پیش کرے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…
Read the full tafseer →افلا یتوبون الی اللہ ویستغفرون الی اللہ ویستغفرونہ واللہ غفور رحیم تو کیا وہ (شرک کو چھوڑ کر) اللہ کی طرف رجوع اور (گزشتہ شرک کی) معافی کی طلب نہیں کریں گے اور اللہ تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے اگر وہ توبہ کرلیں گے تو ان پر رحم فرمائے گا اور بخش دے گا۔ یعنی تعجب ہے کہ اللہ کے غفور و رحیم ہونے کے باوجود وہ توبہ و استغفار نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(73۔ 74) اور مرتوسیہ فرقہ کہتا ہے کہ خدا تین میں کا ایک ہے، یعنی باپ، بیٹا، روح قدس، حالانکہ تمام آسمان و زمین والوں کے لیے بجز ایک معبود حقیقی کے اور کوئی معبود نہیں، جو وحدہ لاشریک ہے اور اگر یہود ونصاری اپنی خرافات سے توبہ نہیں کریں گے تو ان پر اللہ کی طرف سے ایسا درد ناک عذاب مسلط کیا جائے گا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور توبہ ہی پر مرجائے تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
Read the full tafseer →اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ۔۔ : یہ بظاہر سوال ہے مگر اصل میں امر (حکم دینے) کی ایک صورت ہے۔ (کبیر) یعنی ان کا یہ جرم انتہائی سنگین اور صریحاً شرک کی حد تک پہنچا ہوا ہے، تاہم اگر توبہ کرلیں تو ان کا یہ قصور معاف ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت نمبر : 73۔ 74
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلٰثۃ یعنی تین میں سے ایک۔ اور زجاج وغیرہ سے روایت ہے کہ ثالث میں تنوین جائز نہیں۔ اور اس میں عربوں کا ایک اور مذہب بھی ہے کہتے ہیں رابع ثلاثۃ اس بنا پر جر اور نصب جائز ہے، کیونکہ وہ جس نے تین کو چار بنایا ان میں سے ہونے کی وجہ سے۔ اسی طرح جب تو نے کہا : ثالث اثنین تو تنوین جائز ہے۔ یہ نصاری کے تینوں فرقوں ملکیۃ، نسطوریہ اور یعقوبیہ کا قول تھا وہ کہتے تھے : اب، ابن اور روح القدس ایک خدا ہے وہ تین خدا نہیں کہتے تھے۔ یہ ان کے مذہب کا مفہوم ہے، وہ عبادت سے انکار کرتے تھے حالانکہ وہ ان کو لازم ہے جو اس طرح ہوا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
(1) امام ابن منذر نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا تو بنی اسرائیل کے علماء میں سے سو آدمی جمع ہوئے۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں، دس آدمی نکال دو تو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں گروہ بندی کا۔ دس اور نکال دو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو تو انہوں نے دس اور نکال دیئے۔ اور انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو یہاں تک کہ دس باقی رہ گئے پھر انہوں نے کہا تم اب بھی زیادہ ہو پھر اور نکال دو (اب) چار باقی رہ گئے بعض نے کہ تم لوگ عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے…
Read the full tafseer →اَفَلَا [ تو کیوں نہیں ] يَتُوْبُوْنَ [ یہ لوگ پلٹتے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭ [ اور معافی مانگتے اس سے ] وَ [ جبکہ ] اللّٰهُ [ اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہامعاف کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰہِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَہٗ ) (کیا یہ اپنے عقائد باطلہ کو چھوڑ کر اللہ کے حضور میں توبہ نہیں کرتے اور اس سے مغفرت نہیں چاہتے) یعنی انہیں کفریہ عقائد پر برابر اصرار ہے ان عقائد کو چھوڑیں اور اللہ کے حضور میں توبہ کرلیں اور مغفرت طلب کریں اگر ایسا کریں گے تو اللہ مغفرت فرما دے گا اللہ غفور رحیم ہے کافر و مشرک توبہ کرے اور ایمان قبول کرے تو جو اللہ کے یہاں معتبر ہے تو اس کی بھی بخشش ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ابطال عقیدہ تثلیث۔
قال اللہ تعالی، لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ثالث۔۔۔ الی۔۔۔ العلیم۔
گذشتہ آیات میں نصاری کے اس فرقہ کا رد تھا جو یہ کہتا تھا کہ اللہ یہی مسیح کی صورت میں آیا ہے یہ فرقہ ملکانیہ تھا اور یعقوبیہ تھا جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے اب آئندہ آیات میں نصاری کے ان فرقوں کا رد ہے جو تثلیث کے قائل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ خدا تین حصہ ہوگیا اور ایک اللہ رہا اور ایک مسیح اور ایک روح القدس اور بعض نصاری بجائے روح القدس کے حضرت مریم کو تثلیث میں شامل کرتے ہیں۔ اور مسیح کے ساتھ ان کی والدہ مریم کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ پہلے قول کی طرح یہ تثلیث کا قول بھی صریح کفر ہے چناچہ فرماتے…
Read the full tafseer →133 یہ مشرکین نصاریٰ کو مشرکانہ عقائد و اعمال سے توبہ کرنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی تہدید آمیز ترغیب ہے۔ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ یہ توبہ قبول کرنے اور معافی دینے کا وعدہ ہے۔ یعنی اگر وہ شرک و کفر سے سچی توبہ کرلیں اور اپنے کیے کی اللہ سے معافی مانگیں تو وہ اس کو معاف کرنے والا اور مہربان پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی خرابیاں بیان کرتے ہوئے ان کے تعصب عماد ، سرکشی ، تحریف ، انبیاء کی مخالفت ، حق پرستوں سے مخاصمت اور فساد فی الارض کا ذکر کیا۔ پھر پیغمبر عل یہ السلام ، حق پرستوں سے مخاصمت اور فساد فی الارض کا ذکر کیا۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے متبعین کو تسلی بھی دی کہ آپ تبلیغ دین کا کام کرتے ہیں اور کوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ خود تمہاری حفاظت کریگا۔ اللہ جل جلالہ نے یہ بھی حکم دیا کہ اہل کتاب کو برملا کہہ دیں کہ جب تک وہ تورات ، انجیل اور اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو قائم نہیں کرتے ان کا عقیدہ باطل ہے اور ان کے دین کی کچھ حیثیت نہیں اللہ نے یہ بھی بتلا…
Read the full tafseer →اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللہِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَہٗ 0ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 74
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
ترکیب : ثالث ثلثہ ای احد ثلثۃ اور ایسے موقع میں بجز اضافت کے اور کوئی صورت جائز نہیں وما من الہ من زائد اور الٰہ موضع مبتداء میں ہے اور خبر محذوف ہے اے وما للخلق الہ الا اللہ۔ الٰہ واحد بدل ہے الٰہ سے لیمسن جواب ہے قسم محذوف کا اور یہ قائم مقام ہے جواب شرط کے جو ان لم ینتہوا ہے منہم موضع حال میں ہے الذین سے قد خلت موضع رفع میں صفت رسول کی کان یاکلان الخ اس کا اعراب میں کوئی محل نہیں۔
تفسیر : ابطال الوہیت مسیح : بلغ ما انزل کے بعد مجملاً اہل کتاب کو لستم علی شیء حتی تقیموا التوراۃ والانجیل کہہ کر پھر تفصیلاً ہر ایک عقیدہ فاسدہ پر کلام کرتا ہے۔ چونکہ عیسائی اپنے دین کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →اَفَلاَ یَتُوْبُوْنَ اِلَی اللہِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَہٗ ط وَ اللہ ُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (المائدہ : 74)
” کیا یہ اللہ کی طرف رجوع اور اس سے مغفرت طلب نہیں کرتے ‘ حالانکہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے “۔
یعنی مسیح کو اللہ قرار دینایا اللہ کو تین میں تقسیم کر کے ‘ اس کو تین میں تیسرے کا درجہ دینا ‘ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسا جرم کا کرنے والا کسی رحم کا مستحق نہیں رہتا۔ لیکن پروردگار اتمامِ حجت کے طور پر فرما رہے ہیں کہ ہم نے نصاریٰ کے اتنے بڑے جرم کے بعد بھی توبہ کا دروازہ بند نہیں کیا۔ اس لیے اب بھی اگر کوئی اس راستے سے داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو ہم اس کی قدر افزائی کریں گے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی تردید اور انہیں اس عقیدہ سے توبہ کی تلقین کی گئی ہے۔
آدمی جب حقائق دیکھنے سے اندھا اور دلائل سننے سے بہرہ ہوجائے تو وہ کفر کی وادیوں میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے عیسائی اس جرم کے مرتکب ہوئے تو حقائق جاننے کے باوجود عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت میں اندھے ہو کر یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوئے کہ اللہ، عیسیٰ اور مریم ایک دوسرے سے ہیں اور اللہ اس مثلث میں سے ایک ہے۔
توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے شرک تمام گناہوں کا منبع، آخری درجے کا ظلم اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے…
Read the full tafseer →اصرار کفر پر تعجب :
آیت 74 : اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰہِ وَیَسْتَغْفِرُوْنَہٗ وہ کیوں توبہ نہیں کرتے اس کے بعد کہ ان کے متعلق کفر پر دوہری گواہی مل چکی۔ در حقیقت یہ سخت وعید ہے۔ ان کی اس حالت پر جس پر وہ تھے۔ اور اس میں ان کے اپنے کفر پر اصرار کرنے پر تعجب کیا گیا۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌاللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توبہ کرنے پر بخش دیں گے۔ اور دوسروں کو بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
آیت نمبر 75, 74, 73, 72
تفسیر : (لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا) یہ یہود کا فرقہ ملکانیہ اور یعقوبیہ ہے (وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم ط انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وما وہ النار ط وما للظلمین من انصار اور مسیح (علیہ السلام) نے کہا ہے کہ اے بنی اسرائیل بندگی کرو اللہ کی رب ہے میرا اور تمہارا۔ بیشک جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا سو حرام کی اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی نہیں گنہگاروں کی مدد کرنے والا) ۔
(لقد کفرا الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
(72 ۔ 75) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود و نصاریٰ دونوں کو ملا کر یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب تک یہ لوگ تورات و انجیل پر پورے قائم نہ ہوں گے تو گویا یہ کسی دین پر بھی قائم نہیں اس کے بعد یہود نے تورات کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال رکھی تھیں ان کا ذکر فرمایا اب ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابند میں جو خرابیاں تھیں ان کا ذکر ہے۔ لیکن ان آیتوں کی تفسیر ذرا قصہ طلب ہے۔ اسلامی اور عیسائی تاریخ کی کتابوں میں یہ قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عیسائیوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یہود کو اس پر حسد ہوا اور اس حسد کے سبب سے یہود کا ایک بادشاہ جس کا نام بولس تھا اس وقت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 74-75
اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے (ان اللہ ھو المسیح ابن مریم) ” بیشک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے “ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے۔۔۔ دراں حالیکہ عیسیٰ نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : (یبنی اسرآئیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم) ” اے نبی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے “ مسیح نے اپنے لئے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لئے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ (انہ من یشرک باللہ) ” جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–74
قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔
اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا…
Read the full tafseer →189 اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے۔ سو اس میں سرکشوں اور نافرمانوں کیلئے بخشش و مہربانی کا مژدئہ جانفزا ہے کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا اور انتہائی مہربان ہے۔ اور اتنا بڑا مہربان اور اس قدر بخشنہار کہ نہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی کنارہ ہے اور نہ اس کی رحمت و عنایت کی کوئی حد و انتہا۔ سچی توبہ پر وہ زندگی بھر کی تمام خطاؤں کو یکسر معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس باغی و سرکش اور اس کے نافرمان بندوں کے لئے موقع ہے کہ وہ اس کے حضور رجوع ہو کر اور سچے دل سے توبہ و استغفار کر کے اپنے گناہوں کو معاف کرا لیں۔ قبل اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
نصارٰی کا غلط عقیدہ ” تین خدا “
تشریح : اس آیت میں عیسائیوں کے تثلیث کے عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے تثلیث کا مطلب ہے تین الٰہ یعنی باپ، بیٹا، روح القدس۔ اس وقت بھی نصارٰی کا یہی عقیدہ ہے کہ یہی تینوں اللہ ہیں یا علیحدہ علیحدہ اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن پاک نے صاف الفاظ میں اس عقیدے کو کفر کہا ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ صرف اور صرف ایک ہے کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہوسکتا جو اللہ وحدہ لاشریک لہ نہیں مانتا تو اس کو دردناک عذاب دیا جائے گا۔ لیکن توبہ کا دروازہ ان لوگوں کے لیے کھلا ہے۔ اللہ بےحد رحم کرنے والا، معاف کرنے والا اور بڑا درگزر کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔
اسرار و معارف :
یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…
Read the full tafseer →ف 6 مر کا لفظ الا ستفہام ( کبیر) یعنی ان کا یہ جرم انتہائی سنگین اور صریحا شرک کی حدتک پہنچا ہوا ہے تاہم اگر توبہ کرلیں تو ان کا یہ قصور معاف ہوسکتا ہے ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(5:73) ثالث ثلاثۃ۔ تین (خداؤں) میں سے تیسرا (خدا) ہے۔ تین خدا ۔ اللہ ۔ دوسرا مسیح۔ تیسرا۔ حضرت مریم یا روح القدس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
آیت نمبر 72 تا 75
لغات القرآن : اعبدوا (تم عبادت و بندگی کرو) ۔ من یشرک (جو بھی شرک کرے گا) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ ماوی (ٹھکانہ) ۔ ثالث ثلاثۃ (تین میں کا تیسرا) ۔ لم ینتھوا (وہ نہ رکے۔ باز نہ آئے) ۔ لیمسن (البتہ ضرور پہنچے گا) ۔ لایتوبون (وہ توبہ نہ کریں گے) ۔ یستغفرون (وہ گناہ بخشواتے ہیں) ۔ قد خلت (یقیناً گزرگئے) ۔ امہ (اس کی ماں) ۔ صدیقۃ (سچی۔ پاکباز عورت) ۔ کانا یا کلان (وہ دونوں کھاتے تھے) ۔ الطعام (کھانا) ۔ انظروا (دیکھو) ۔ نبی ن (ہم بیان کرتے ہیں۔ کھولتے ہیں) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یؤفکون (وہ الٹے چلے جا رہے ہیں) ۔
تشریح : ” اللہ ھو المیسح ابن مریم “ اس کے دو معنی ہیں۔ (1) اللہ دنیا میں مسیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت نصاریٰ کی غلط فہمی
ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال دی تھیں ان کا ذکر ہے۔ یعنی وہ تین خدا مانتے ہیں : ایک تو اللہ دوسرے مریم، تیسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ ی تینوں ملاکر روح القدس نعوذ باللہ من ذالک، اللہ ہیں اور یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہما السلام) کی تصویریں اپنے عبادت خانوں میں رکھتے اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے نام کی ایک نماز بھی ٹھرا رکھی ہے جس کو یہ لوگ پڑھا کرتے ہیں۔ آخر کے دونوں فرقے تثلیثی فرقے کہلاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تین خدا کے ماننے والے یہ فرقے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
[45] یعنی اطاعت الٰہی اور اطاعت انبیاء کا عہد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ثالث ثلثۃ :
(ف 2) عقیدہ تثلیث کے معنی یا تو یہ ہیں کہ عیسائی مریم (علیہا السلام) ، مسیح (علیہ السلام) اور خدا کو لاہوت کے اقانیم مانتے ہیں جیسے قرآن حکیم نے فرمایا (آیت) ” انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ “۔
اور یا یہ مقصود ہے کہ باپ بیٹا اور روح القدس یہ تینوں مل کر اقانیم بنتے ہیں ۔
دونوں صورتوں میں عقیدہ غیر منطقی گمراہ کن اور غلط ہے ، اس لئے فرمایا لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ ۔ یعنی خڈا کے متعلق تثلیث کا عقیدہ رکھنا اس کی تفریط و توحید کی توہین کرنا ہے جو بدترین قسم کا کفر ہے ۔
بات یہ ہے کہ خدا کی ذات والا صفات کا تقاضا یہ ہے کہ سوائے توحید و تفرید کے کوئی عقیدہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
ف 1 بلاشبہ وہ لوگ کفر کے مرتکب ہوئے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ تو یہی مسیح مریم کے بیٹے ہیں اور مسیح ابن مریم عین خدا ہے حالانکہ مسیح (علیہ السلام) تو خود بنی اسرائیل سے کہہ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں کسی دوسرے کو شریک کرے گا تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہوگا اور ایسے مشرکوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہوچکے جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں کا تیسرا ہے اور تین معبود میں سے ایک وہ بھی ہے حالانکہ بجز ایک معبود برحق…
Read the full tafseer →ف 2۔ اوپر الورہیت مسحیہ کا ابطال مضمون عام سے بیان فرمایا تھا آگے ایک خاص دلیل سے فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →وہ من گھڑت عقیدے سے باز آنے اور مغفرت طلب کرنے میں عار کیوں سمجھتے ہیں ؟
194: عوام تو کالانعام ہوتے ہیں ان کو جس عقیدہ پر لگا دیا جائے وہ لگے ہی رہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو عقیدہ انہوں نے باپ دادا سے پایا اس کو وہ چھوڑنے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے حسن وقبح پر کبھی ان کی نظر جاتی ہے اسلئے کہ ان کے پاس علم نام کی کوئی شے موجود نہیں افسوس تو ان لوگوں پر ہے جن کو علماء اور مذہبی راہنماسمجھاجاتا ہے کہ وہ بھی ایسے غفور ورحیم خدا کے سامنے توبہ استغفار کر کے اسکی مغفرت ورحمت سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور اپنے من گھڑت عقیدوں کی سچائی ثابت کرنے پر سارا زور خرچ کرتے ہیں اور ان کی سمجھ میں یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
Commentary
1. The words: إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ in verse 72, translated here literally as ` Allah is the third of the three,' refers to Sayyidna Masih (Jesus Christ), Ruhul-Quds (The Holy Spirit) and Allah, or to Masih, Maryam (Mary) and Allah - with all three taken as God (Refuge with Allah). Thus, Allah becomes a one-third partner with them, then all three of them become one, and that one is three. This unity in trinity, with three persons in one godhead, is the common belief of Christians. They explain this belief which is supported by neither reason nor revelation with a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
99. See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 2, verse 62, and n 80.
Read the full tafseer →